مشمولات

Friday, 8 March 2013

Review Writing - Technique and Opportunity

تبصرہ نگاری -تکنیک اور مواقع
                                                                                                                                                               
                دور حاضر میں تبصرہ نگاری ایک اہم ادبی صنف کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ تنقید و تبصرہ ایک دوسرے سے ملتی جلتی چیزیں ہیں۔ کسی تصنیف ، کلام یا واقعہ کے متعلق سرسری طور پر بحث و مباحثہ کے لیے جب رائے کا اظہار کیا جاتا ہے تو اسے تبصرہ کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد کسی کتاب کے جو ہر کا پتہ لگانا اور اسے اجمال یا تفصیل کے ساتھ پیش کرنا اور جو کچھ کہا جائے اس سے کتاب کی اہم ترین خصوصیتیں واضح ہو جائیں۔ ہر چند کہ تبصرہ نگاری کے لیے ادب کا طالب علم ہونا ضروری نہیں ہے البتہ ادب کے طالب علموں کے لیے زبان پر عبور ہونے کی وجہ سے بمقابلہ دیگر طلبہ زیادہ مواقع ہیں۔ لیکن یہ یاد رہنا چاہیے کہ تبصرہ نگاری میں زبان ہی سب کچھ نہیں ہے ۔ کیونکہ آج تبصرہ نگاری ادب کے احاطہ سے باہر معاشیات اور سماجیات وغیرہ کے میدان میں قدم رکھ چکی ہے۔ذیل میں تبصرہ نگاری کے میدان ، اس کی تکنیک اور اصولوں کے بارے میں چند معلومات درج کی جاتی ہیں۔ صحافت یا طباعت کی تجارت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ان اصولوں کی واقفیت بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔
                تبصروں کی تحریر میں توازن بہت ضروری ہے۔ تبصرے کا انداز دلکش اور عالمانہ ہوتا ہے اور ایک اچھے تبصرہ میں تلخی نہیں پائی جاتی ہے۔ تبصرہ نگار کو وسیع معلومات کا حامل ہونا چاہیے۔ اوسط قاری بہت سے مضامین میں اپنی واقفیت کو بہت محدود سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ مبصر کی رائے پر اعتماد کرتا ہے ۔ لہذا تبصرہ میں صرف حقائق کا بیان ہو اور افترا پردا زی سے حد درجہ پرہیز کرنا چاہیے ۔ کوشش کی جائے تبصرہ معلومات ہو اور اس کا مقصد رہبری ہو۔
                ادبی مجلّا  ت میں تبصرے کے لیے ایک گوشہ مخصوص ہوتا ہے۔ بعض مجلّات ایسے ہوتے ہیں جن میں صرف تبصرے ہی شائع ہوتے ہیں ۔ اس کے لیے وہ مختلف ادیبوں اور دانشوروں سے تبصرے لکھواتے ہیں ۔ صحافت سے دلچسپی رکھنے والوں کو تبصرے بھی لکھنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی آزادانہ طور پر بھی تبصرہ لکھنا چاہے تو لکھ سکتا ہے لیکن ایک مجلّہ کو تبصرہ دینے کے بعد دوسرے مجلّوں کے لیے اس کتاب پر تبصرہ نہیں لکھنا چاہیے۔ تبصرہ کے لیے ہمیشہ نئی کتاب کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اگر کسی پرانی کتاب پر تبصرہ لکھنا ہو تو ضروری ہے کہ یہ منفرد ہوا ور زیر نظر کتاب کو نئے تناظر میں پیش کیا جائے ۔ ایسے اپنی پسند کی کتابوں پر تبصرہ اچھا ہوتا ہے۔
                بعض ادبی  مجلّے تبصرہ کا کام تفویض کرتے وقت ایک ہدایت نامہ بھی ارسال کرتے ہیں جس میں تبصرہ کے اندر الفاظ کی تعداد اور تبصرہ کی پیش کش کے انداز وغیرہ کی ہدایت دی جاتی ہے ۔ ہوسکتا ہے اسی کے ساتھ تبصرہ کی ایک نمونہ کاپی بھی منسلک ہو۔ اگر ایسا ہو تو مبصر کو ان ہدایات کا لحاظ کرتے ہوئے تبصرہ لکھنا چاہیے ۔ تبصرہ کے لیے مجلّوں کو کتاب کی دو کاپیاں موصول ہوتی ہیں۔ ایک کاپی مبصر کو دی جاتی ہے ۔ تبصرہ کے بعد مبصر یہ کتاب اپنے پاس محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ اگر کسی وجہ سے مجلّہ کی ہدایت ہو کہ تبصرہ کے بعد کتاب واپس کردی جائے تو مبصر اخلاقی تقاضا کا لحاظ کرتے ہوئے کتاب واپس کردے۔ اگر مبصر کو مجوزہ کتاب موصول نہیں ہوئی ہے تو جتنا جلد ممکن ہو حاصل کرنا چاہیے ۔ مبصر کے لیے وقت کی پابندی لازمی ہے۔ لازمی طور پر مجلّہ کو متعینہ وقت میں اپنا تبصرہ ارسال کردینا چاہیے، تاکہ مجوزہ شمارہ میں اس کو شامل کیا جاسکے۔ تاخیر کی صورت میں مواد کی تکمیل میں ایڈیٹر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں تبصرہ نگار کی شخصیت اس کی نظر میں مجروح ہو جاتی ہے اور آئندہ اسے یہ کام تفویض کرنے وہ میں احتیاط برتتا ہے۔
                تبصرہ کی اشاعت اس بات پر مبنی ہے کہ اس میں کتاب کی بنیادی بحث کا خاکہ پیش کیا گیا ہو اور کتاب کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ کیا گیا ہو۔ بہتر ہوگا کہ یہ وضاحت بھی کردی جائے کہ یہ کتاب کس طرح کے لوگوں کے لیے زیادہ کار آمد ہے۔ اس کے باوجود مجلّہ کو تبصرہ میں ترمیم یا عدم اشاعت کا پورا اختیار ہوتا ہے۔
                تبصرہ کی بنیادی شرط کتاب کا راست اور ذاتی مطالعہ ہے ۔ اگر کتاب نہیں پڑھی جائے گی تو کتاب کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ ممکن نہیں ہوگا اور تبصرہ میں غیر درست معلومات بیان ہوسکتی ہیں جو مبصر کے لیے مناسب نہیں ہے ۔ کیوں کہ تبصرہ لکھتے ہوئے وہ ایک ذمہ دار شخص ہوتا ہے ۔ تبصرہ لکھنے والے کو نہایت باریک بینی کے ساتھ کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ دوران مطالعہ ذہن میں ابھرنے والے ضروری نکات کتاب کے حاشیے پر بطور یاد داشت قلم بند کر لینا چاہیے تاکہ تبصرہ لکھتے وقت کوئی ضروری نکتہ چھوٹ نہ جائے۔ تبصرہ لکھنے سے قبل چند بنیادی اور لازمی امور کی طرف توجہ دینا بھی ضروری ہے۔
                تبصرہ میں اس کی وضاحت ضروری ہے کہ کتاب کا موضوع کیا ہے؟ ساتھ ہی اگر مصنف کتاب لکھنے کا کوئی خاص مقصد رکھتا ہے تو تبصرہ میں اس کی وضاحت بھی کرنی چاہیے ۔ مقصد کے حصول کے لیے کتاب کے نام ، تمہید اور تعارف کا بغور جائزہ لیا جائے۔ موضوع کے انتخاب میں کوئی خاص پس منظر کار فرما ہوا کرتا ہے جو مصنف یا ادیب کو اختیار پر مجبور کرتا ہے۔
کتاب کا نام: کتاب کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ کتاب کا نام تجویز کرنے کی بھی کوئی مخصوص وجہ ہوا کرتی ہے۔ مبصر کو غور کرنا چاہیے کہ کتاب کا نام موزوں ہے یا غیر موزوں ؟ لیکن اس کا تعین پوری کتاب کے مطالعے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔ بعض اوقات کتاب کے ابتدائی مباحث میں نام کے تعلق سے ابہام پایا جاتا ہے۔ اسی طرح کتاب کے نام سے غلط تاثر بالکل قائم نہیں ہونا چاہیے۔ کبھی کبھی کتاب کا نام دیکھ کر قاری بہت سی امیدیں وابستہ کر لیتا ہے لیکن کتاب میں محض اس کی جھلک ہی دکھائی دیتی ہے ۔ مبصر کو اس پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔
                کتاب کے متن سے گزرتے ہوئے مبصر کو احساس ہوتا ہے کہ کتاب کس انداز کی ہے اور کس رنگ میں لکھی گئی ہے۔ اس کی تشخیص کے لیے مباحث کے عناوین اور ذیلی سرخیوں پر غور کرنا چاہیے۔ دوران مطالعہ کتاب کے مرکزی خیالات پر بھی نظر رہنی چاہیے۔ مصنف چند مخصوص الفاظ یا اصطلاحوں کا استعمال کرتا ہے جن سے اس کے نظریات کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایک اچھی کتاب کے اندر نظریات میں داخلی ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور ایک اچھے مصنف کا نظریہ بتدریج اور منطقی طور پر ارتقا پاتا ہے۔ اچھے مصنف کے خیالات میں تضاد نہیں پایا جاتا ہے۔ خیالات میں تضاد سے مصنف کی خود اعتمادی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے اور یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ اخاذ طبیعت کا مالک نہیں ہے۔ ایسے بہت سے مصنف زیر بحث معاملہ میں کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ پاتے ہیں اور دوسروں کے فیصلہ پر انحصار کرتے ہیں۔ مبصر کو ان کی گرفت کرنی چاہیے۔
                اس کے بعد ان مباحث کا جائزہ لینا ضروری ہے جن کو اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ مبصر کی نظر اس پر رہنی چاہیے کہ مصنف کی فکر سطحی ہے یا عالمانہ۔ اس کے نظریات کس طور پر ارتقا پذیر ہوئے ہیں۔ پھر ان متعلقہ مباحث پر بھی غور کرنا چاہیے جو اس کتاب میں بیان نہیں ہوسکے ہیں۔ مصنف کا یہ طرز عمل کسی خاص مقصد کے پیش نظر بھی ہوسکتا ہے ۔ مبصر کو اس سے دلچسپی ہونی چاہیے کہ اس نے ایسا عمداً کیا ہے یا یہ فرو گذاشت کسی سہو کا نتیجہ ہے۔ ممکن ہے مصنف تعصب سے کام لے رہا ہو۔ اس فرو گذاشت سے کتاب میں اگر کوئی نقص پیدا ہوا ہو تو مبصر کو اس کا اظہار کرنا چاہیے۔ شاید توجہ مبذول ہونے پر اگلے ایڈیشن میں مصنف یہ کمی پوری کردے۔
                اگر کتاب دوبارہ شائع ہوئی ہے تو مبصر کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس ایڈیشن میں کوئی اضافہ ہوا ہے یا نہیں؟ یہ اضافہ کس قسم کا ہے ۔ اس اضافہ سے کتاب میں کیا خوبی پیدا ہو گئی ہے۔
                اگر کتاب کا تعلق ادب سے نہیں ہے تو اس فن کے بنیادی اور ثانوی ذرائع کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھنا چاہیے کہ مصنف نے ان ذرائع سے استفادہ کیا ہے یا نہیں؟ بنیادی ذرائع سے کام لیتے ہوئے اس نے اس میں کیا کوئی جدت پیدا کی ہے؟ اسی طرح ثانوی ذرائع سے اس نے کس طور پر استفادہ کیا ہے ؟ متعلقہ ثانوی ذرائع کا تنقیدی جائزہ لینا چاہیے۔ مبصر کے لیے ضروری ہے کہ وہ متعلقہ فن کی تاریخ ، قوانین و ضوابط اور جدید ارتقا سے ضروری واقفیت رکھے ۔ کتاب میں کوئی Special Featureمثلاً نقشہ جات اور تصاویر وغیرہ ہوں تو اس کی جانب اشارہ کرنا چاہیے۔ اس سے کتاب کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔
                شعری مجموعہ کا تبصرہ کرتے وقت اس میں شامل مختلف اصناف کا ذکر کرنا چاہیے ۔ تبصرہ کرتے وقت غور کرنا چاہیے کہ اس زبان کی شاعری کی مانوس بحروں یا میٹر س میں کتنی کو شاعر نے اس مجموعے میں استعمال کیا ہے۔ مختلف اصناف میں طبع آزمائی اور مختلف بحروں کا استعمال شاعر کے قادرالکلامی پر دلالت کرتا ہے۔ مبصر کو علم عروض اور علم بیان کے ساتھ زبان کا باریک علم رکھنا ضروری ہے۔روزہ مردہ، محاوروں اور زبان وبیان کی غلطیوں پر گرفت زبان وادب کی کتابوں کے تبصرہ میں نہایت ضروری ہے۔ یہ بھی قابل توجہ ہے کہ شاعر کے خیالات اپنے ہیں یا مستعار۔ اس کے تخیل میں بلند پروازی ہے یا عامیانہ پن؟ شاعر کے تجربات وسیع ہیں یا نہیں؟ تجربات میں صداقت اور اصلیت پائی جاتی ہے یا نہیں؟ مضامین پیش پا افتادہ ہیں یا جدید اس کا انحصار ادیب کے تجربات اور مطالعہ ومشاہدہ پر مبنی ہے۔ نظر میں رکھنا چاہیے کہ اس کے ہاں جذبات کی شاعری ہے یا تصورات کی؟ جذبہ میں صداقت ہے یا نہیں؟ اس کی شاعری فوری اپیل کی شاعری ہے یا قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور بصیرت بخشتی ہے۔ اس کی شاعری میں داخلیت اور خارجیت ، غم دوراںاور غم جاناں کا بیان اور ان کے درمیان امتزاج پیدا ہوا ہے یا نہیں؟ ادبی کتابوں پر تبصرہ کرتے وقت اس ادب کے مختلف ادبی تصورات وتحریکات اور تعبیرات مثلا اردو میں کلاسیکیت ، ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت تجریدیت وغیرہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کے ادبی رویہ کا جائزہ لینا چاہیے۔ لیکن یہ قطعی ضروری نہیں کہ ان ادبی تصورات کے چوکھٹے میں مقید ہوکر ہی ادیب اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ تبصرہ میں اس پر بھی نظر رکھی جاتی ہے کہ ادیب روایات کا پاسدار ہے یا اس سے منحرف ؟ عمدہ انحرافی رنگ میں جدت آمیزی کا غلبہ ہوتا ہے اور اچھی شاعری میں روایت سے انحراف کے باوجود اس کا رشتہ اس سے گہرا اور مضبوط ہوتا ہے۔ تبصرہ میں یہ بھی تلاش کرنا چاہیے کہ شاعر نے اپنی شاعری میں عصری حسیات کو جگہ دی ہے یا اس کا رجحان رومانیت کی جانب ہے ؟ اگر شاعری کا موضوع حسن وعشق ہے تو اس میں پاکبازی ہے یا ابتذال وسوقیانہ پن؟ محبوب کا تصور اس کے ہاں زمینی ہے یا ماورائی؟ اس کے عشقیہ جذبات میں کس حد تک صداقت پائی جاتی ہے؟ اس کے خیالات میں حوصلہ او رولولہ کی بانگ ہے یا اس کا طبعی میلان حرمان ویاس کی طرف ہے؟ بیان میں شگفتگی  ورعنائی ہے یا مشکل پسندی اور ثقالت؟ تخیل کی تازگی اور فرسودگی بھی قابل نظر امر ہے۔ زیر نظر کتا ب میں سنجیدہ شاعری ہے یا مزاحیہ اس کی طرف بھی اشارہ کرنا چاہیے۔شعری نوعیت مثلا پابند، آزاد اور نثری نظم وغیرہ کا اشارہ بھی ہونا چاہیے۔ موضوع کے ساتھ ساتھ مصنف یا ادیب کے ادبی رجحان کا جائزہ بھی لیا جانا ضروری ہے۔ مبصر کو نظر رکھنی چاہیے کہ اس کا رجحان ادب برائے ادب ہے یا ادب برائے زندگی ؟اسی طرح اگر ادب کے مروجہ پیٹرن سے الگ کوئی نیا تجربہ کیا گیا ہے تو اس کے روشن یا تاریک امکانات کی نشاندہی کی جانی چاہیے۔
مصنف کا پس منظر:    تبصرہ میں مصنف کے پس منظر کا جائزہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بطور خاص اگر کتاب کا تعلق تخلیقی کاموں مثلا فکشن، شاعری اور ڈرامے وغیرہ سے ہو۔ پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے مصنف کی نسل ، قومیت اور خاندان سے دلچسپی رکھنا چاہیے۔ ساتھ ہی اس عہد کے ان سماجی ، ثقافتی ،مذہبی اور سیاسی ماحول کو بھی نظر میں رکھنا چاہیے جن میں اس کی پرورش ہوئی اور اس کے افکار وخیالات متاثر ہوئے ہیں۔ مصنف کی سیاسی ، سماجی ، ادبی اور مذہبی وابستگی کے پیش نظراس کی تعلیمی لیاقت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہیں یہ پتہ چلتا ہے کہ موجودہ کام پر ان عوامل کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اگر صاحب کتاب اس سے قبل بھی کتاب لکھ چکا ہے تو اس سے اس کا کیا تعلق ہے۔ اس کا ذکر قاری کے لیے مفید ہوتا ہے۔ تجربہ کار مصنف کی کتابیں پسند کی جاتی ہیں۔ صاحب کتاب کے پس منظر کا جائزہ مبصر کے لیے رائے قائم کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتا ہے اور شعری رویہ کے ارتقا میں تو یہ کار آمد عامل ہے۔
تبصرہ کا خاکہ:              کتاب کے مطالعہ اور تفہیم نیز مصنف کے پس منظر کے جائزہ کے بعد تبصرہ کا خاکہ تیار کرنا چاہیے۔ تبصرہ کی ابتدا میں چند بنیادی معلومات دینا لازمی ہے۔
                نام کتاب:                       مصنف:                       ملنے کا پتہ:                      ناشر:                       
                ایڈیشن:                        صفحات :                      قیمت:
                ان معلومات کے اندراج کے بعد تبصرہ کا پہلا مسودہ تیار کرنا چاہیے۔ تبصرہ کا مضمون تمہید ، ارتقا اور خاتمہ پر مشتمل ہونا چاہیے۔
تمہید: موثر تمہید قاری کی توجہ فورا اپنی جانب مبذول کرلیتا ہے۔ جملہ کی ابتدا ”زیر نظر کتاب“ جیسے بے لطف فقرے کی بجائے ایسی مختصر سی تمہید سے کرنا چاہیے جو کتاب اور صاحب کتاب سے وابستہ ہو۔ گرچہ اس سے قبل کتاب اور صاحب کتاب کے نام درج کیے جا چکے ہیں تاہم تمہید میں بھی انہیں شامل کرنا چاہیے۔ اس سے قاری اور مضمون کے درمیان ایک رشتہ استوار ہوجاتا ہے اور قاری خود کو مبصر کے ہمراہ محسوس کرتا ہے۔
                تمہید ہی میں کتا ب کے مرکزی خیال کو پیش کر دینا چاہیے۔ ساتھ ہی تبصرہ ایسا ہونا چاہیے کہ قاری کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ کتاب کا انتخاب کیوں کرے ۔ اسی طرح کتاب کے نوع کا تعین بھی ابتدا ہی میں ہوتا ہے اور یہ بھی اسی جگہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ کتاب کس انداز کی ہے۔ معماتی ہے ، مہماتی ہے یا رومانی؟ اس کتا ب میں کس طرز کو اپنایا گیا ہے؟ مبصر کی نظر میںاس کتاب کا اسلوب پسندیدہ یا ناپسندیدہ کیوں ہے ؟ کتاب دلچسپ ہے یا نہیں؟ کیا کتاب اپنے مقصد میں کامیاب ہے؟ مصنف کے خیالات کیاہیں؟ ان امور پر غور کرنے کے بعد ہی مبصر کو آگے بڑھنا چاہیے۔ اچھے مصنف کے بیان میں وضاحت اور قطعیت ہوتی ہے۔ بیان میں ابہام اور پیچیدگی پیدا ہونے سے قاری کا ذہن بھی الجھ جاتا ہے ۔ نتیجتاًوہ پوری کتا ب کا مطالعہ نہیں کرپاتا۔ مزید برآں کتاب پر خرچ ہونے والی رقم پر افسوس ظاہر کرتا ہے۔
ارتقا:اچھے تبصرہ میں کتا ب کی صحیح قدروقیمت متعین کی جاتی ہے اور جہاں تک ممکن ہو یہ واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مصنف کا انداز نظر کیا ہے؟ یہ وضاحت بھی ضروری ہوجاتی ہے کہ ذرائع کے اختیار وانتخاب میں مصنف کی شخصیت کا کیا اثر مرتب ہوا ہے؟ ایسا کرنے پر تبصرہ ایک مضمون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ لیکن یہ تفریق قائم رہتی ہے کہ اس میں کتاب کی کوئی بحث یا حصہ شامل نہیں کیا جاتا ۔ البتہ کسی نکتہ کو عیاں کرنے کے لیے بعض اقتباسات شامل کیے جاسکتے ہیں۔ تبصرہ میں کتابیات سے اعتنا نہیں کیاجاتا ہے۔ اچھی تصنیف اپنے فن میں ایک علمی اضافہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
خاتمہ:تبصرہ کا اختتام کتاب کی خوبیوں اور خامیوں کے تجزیہ کے ساتھ ہونا چاہیے۔ لیکن کمپوزنگ کی خامیوں جیسی معمولی فروگذاشت کو نظر انداز کردینا ہی بہتر ہے۔ خوبیوں اور خامیوں کے بیان میں اعتدال اور غیر جانب داری لازمی ہے۔ خامیوں کی نشاندہی میں سنجیدگی کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔ نہ ہی تعریف میں بے جا رطب اللسان ہونا مبصر کے لیے زیبا ہے۔ مصنف کی تضحیک مبصر کو زیب نہیں دیتی کیوں کہ مبصر کی شخصیت سنجیدہ اور پر وقار ہوتی ہے۔ یوں بھی تبصرہ کا مقصد خامیوں کا شمار ہے بھی نہیں اور نہ ہی مبصر کو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرنا چاہیے۔ خاتمہ کو تمہید میں پیش کردہ خیالات سے مربوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور تبصرہ کا اختتام منطقی ہونا چاہیے۔ کتاب کے معنوی تجزیہ کے ساتھ اس کی صوری حالت کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔ مثلا اس کا کاغذ ، حسن ترتیب اور سرورق کی جاذبیت وغیرہ ۔ ان کے جائزہ سے مصنف کے ذوق جمال کا پتہ چلتا ہے۔ تبصرہ میں اس بات کا اظہار ہونا چاہیے کہ کتاب کے تعلق سے مبصر کا احساس کیا ہے اور وہ ایسا کیوں محسوس کررہا ہے۔ اس سے تبصرہ عمیق ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ کتاب صاحب کتاب کے ذہن کی اپج ہے۔
                ایک اچھا تبصرہ مبصر کی گراں قدر رائے ہوتی ہے جس سے قاری کی رغبت کتاب سے بڑھتی ہے یا وہ اس سے باز رہتا ہے۔ مبصر کو ہمیشہ اپنی ذمہ داری ملحوظ رکھنی چاہیے۔ تبصرہ میں کتاب سے متعلق ایسی معلومات دینے سے حد درجہ پرہیز کرنا چاہیے جس سے قاری گمراہ ہوجائے ۔ اس سے مبصرکی شخصیت بھی بری طرح متاثر ہوگی اور ذمہ دار قاریوں کا اعتبار ختم ہوجائے گا۔ پھر اس کی تبصرہ کردہ بہت سی لائق کتابوں سے قاری گریز بھی کرنے لگیں گے۔
                ادبی مجلّا  ت کے لیے لکھے جانے والے تبصرے مختصر ہوا کرتے ہیں۔ لیکن بعض ضخیم کتابوں کے تبصرے طویل بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ایسے تبصرے عام طور پر کتاب کی صورت میں علاحدہ شائع ہوتے ہیں۔
ززز

Saturday, 2 March 2013

Origin of Indian Mujahedin

کہاں ہے انڈین مجاہدین کا سرچشمہ
                                                                                                                               
پچھلی دو دہائیوں سے ہمارا ملک دہشت گردی کی لعنت سے دوچار ہے۔ یہ دہشت گرد کون ہے اور وہ دہشت گردی پر آمادہ کیوں ہے ملک اپنے پورے نظام کا استعمال کرنے کے باوجود کسی حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکا ہے اور اگر پہنچ بھی گیا ہے تو کم از کم اتنا تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ حکومتیں نہ جانے کیوں اس سچائی کو سامنے لانا چاہتیں یا اس سچائی کا سامنا نہیں کرسکتیں اس لیے اس کا رخ پھیرے ہوئی ہیں۔ اگر ہم موجودہ صورت حال میں بھی دہشت گرد پتا لگانا چاہیں تو کچھ قطعیت کے ساتھ کہنا بے جا ہوگا۔ چونکہ ملک کی ایک تنظیم آر ایس ایس جس کے ایجنڈے میں ہندو راشٹر کا نظریہ ایک اہم بنیاد رہا اور اس فرقہ واری نظریہ کو عملی رخ دینے کے لیے روادار طور اختیار کرنے کے بجائے فرقہ وارانہ اور پر تشدد طریقہ اختیار کیا جاتا رہا ہے اور تنظیم اور اس کے اراکین کئی محاذ پر دہشت گردانہ عمل میں ملوث ر ہے ہیں، جس کی ایک واضح مثال مبلغ اہنسا موہن داس کرم چند گاندھی کے بہیمانہ قتل کا جرم بھی اسی تنظیم کے سر ہے، اور کبھی یہ احساس نہیں ہوسکا ہے کہ تنظیم نے اسے ایک کرتوت سمجھنے کے بجائے کارنامہ نہ سمجھا ہو، مالیگاؤں اور مکہ مسجد دھماکے بھی ان انہی کی کارستانیوں کا نتیجہ ہے، اس لیے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ملک میں جتنی دہشت گردی ہوتی ہے ہر ایک کے پیچھے آر ایس ایس کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم یہ بھی دعوی نہیں کرسکتے کہ کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں ہوسکتا یا دہشت گردانہ مزاج نہیں رکھ سکتا ۔بلاشبہ اسلام میں ناحق قتل نفس حرام ہے (حق و ناحق کی تعیین کسی Established حکومت کے متوازی کسی فرد یا جماعت کو نہیں ہے ) اگر کوئی شخص اسلام کے حرام کردہ امر کو حلال سمجھتا ہے تو وہ مسلمان نہیں ہے ۔ظاہر ہے ایسی صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں ہوسکتا ۔ لیکن ایسا تو ہوہی سکتا ہے کہ کوئی فرد یا جماعت جو مسلمانوں میں سے تعلق رکھے اور بعض سیاسی ، سماجی ونفسیاتی وجوہ سے گمراہی کا شکار ہوجائے اور دہشت گردی کے کرے یا دہشت گردانہ مزاج رکھے۔ اگر ایسا کرتا ہے یقیناً اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ الغرض اصل دہشت گرد کون ہے حکومت اس راز کو افشا کرنے کی یا تو ہمت نہیں جٹا سکی ہے یا اسے عمداً دوسرا رخ دے دیا گیا ہے۔ شروع میں ہر دہشت گردی کے پیچھے سیدھے آئی ایس آئی کا ہاتھ نظر آیا۔ اس کے بعد درمیان میں لشکر طوئبہ ، ہوجی بھی نظر آنے لگی اور اب انڈین مجاہدین کا ۔ گو کہ اب بھی ان کے آقا پاکستان میں ہی بتائے جاتے ہیں لیکن اس کی زد میں سارے ہندوستانی آتے ہیں اور امتیاز ہوتا ہے تو صرف مذہب کا ۔ اس درمیان میں ایک تنظیم غیر قانونی معاملات میں ملوث بتا کر عدالت کے ذریعہ ممنوع قرار دے دی گئی۔ مسلم میرر کی رپورٹ کے مطابق کے اس کے چند افراد تو غیر قانونی معاملات میں ملوث ضرور پائے گئے اس کے باوجود د ان میں سے کسی کے خلاف بھی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث رہنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ الغرض گزشتہ چند سالوں سے جب کوئی دھماکہ ہوتا ہے مسلمانوں سے مشابہ ایک تنظیم کا نام لیا جاتا ہے وہ ہے انڈین مجاہدین (آئی ایم)۔ چونکہ نام مسلمانوں سے مشابہت رکھتا ہے اس لیے اس نام پر مسلمان ہی پکڑے جاتے ہیں۔ حیرت ہے کہ اب تک اس نام پر ہزاروں سے زائد افراد گرفتار کئے گئے ، سینکڑوں سے محض پوچھ تاچھ ہوئی ، گرفتار شدگان میں سینکڑوں نا کردہ گناہوں کی سزائیں کاٹ کر با عزت بری ہوئے لیکن اب تک یہ سراغ نہیں مل سکا کہ اس سرچشمہ کہاں ہیں ؟ اس کے تانے بانے کہاں بنے جاتے ہیں؟دعوے کے ساتھ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے کسی مسلمان کا ہاتھ نہیں ہے لیکن بعض خدشات ایسے ہیں جو غلط بھی ہوسکتے اور یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ صحیح نہیں ہوسکتے، جن کی رو سے یہ کہاجاسکتا ہے کہ یہ تنظیم کسی تشدد پسند تنظیم کی ذیلی شاخ ہو۔ اس سلسلہ میں جب ہم واقعات کے تسلسل پر غور کرتے ہیں صورت حال کچھ اس طرح ظاہر ہر ہوتی ہے۔
۲۰۰۷ میں حیدر آباد کی مکہ مسجد میں اور ۲۰۰۹ میں مالیگاؤں میں دھماکے ہوئے ۔ ان دھماکوں کے بعد اسی انڈین مجاہدین کے نام پر سینکڑوں مسلمان گرفتار ہوئے ۔ عدالت میں مقدمہ چلا ۔ مقدمہ میں یہ بات سامنے آئی کہ پکڑے گئے لوگ بے قصور ہیں ۔ دھماکوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ انڈین مجاہدین کا ہاتھ نہیں ہے۔ ساتھ ہی کچھ ایسے نام آئے اور وہ گرفتار بھی ہوئے جو اس واقعہ کے اصل مجرم ہیں، وہ سب کے سب دیش بھکت تنظیم آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد یہ بات بھی سامنے نہیں آئی کہ چونکہ یہ لوگ کسی الگ تنظیم کے اراکین ہیں اس لیے دھماکہ کے وقت جس انڈین مجاہدین کے ملوث ہونے کا دعوی کیا گیا تھااس میں اس کا ہاتھ نہیں ہے۔ اب اگر انڈین مجاہدین کا بھی ہاتھ ہے اور اس واقعہ کے اصل مجرم نئے گرفتار شدگان ہیں تو اس کا مطلب تو ضرور نکلتا ہے کہ انڈین مجاہدین یا تو نام نہاد تنظیم ہے جس کا کوئی زمینی وجود نہیں ہے یا یہ اسی مادری تنظیم کی ذیلی شاخ ہے جس سے واقعہ کے اصل مجرمین تعلق رکھتے ہیں۔
اس منظر نامہ کا ایک اور رخ ہے جو غلط بھی ہوسکتا ہے اور صحیح نہیں ہے اس کا بھی دعوی نہیں کیا جاسکتا ۔ گزشتہ روز حیدر آباد کے ہی دلسکھ نگر میں ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا جس میں 16لوگ جاں بحق ہوئے اور تقریباً 150 لوگ زخمی ہو گئے ۔ اس واقعہ کے تقریباً ایک ماہ قبل ملک کے وزیر داخلہ نے بیان دیا کہ ملک میں ہو رہے دہشت گردانہ حملوں کے پیچھے اسی دیش بھکت تنظیم آر ایس ایس کا ہاتھ ہے اور اس کے خلاف اس کے پاس پختہ ثبوت ہیں۔ اس بیان کے بعد آر ایس ایس کے پالیٹکل ونگ بی جے پی کے اراکین چراغ پا ہو  گئے ۔ انہوں نے وزیر داخلہ کے اس بیان کو دہشت گردوں (مسلمانوں) کا حمایتی قرار دیا ۔ انہوں نے اعلان کیا مسٹر شنڈے (وزیر داخلہ ) جب تک اپنے بیان پر معافی نہیں مانگتے ہیں پارلیامنٹ نہیں چلنے دی جائے گی۔ بالآخر مسٹر شنڈے معافی مانگ لیتے ہیں۔ معافی مانگنے کے دوسرے روز شام کے وقت دھماکہ ہوتا ہے۔ اسی دن صبح کو مسٹر شنڈے اپنے سراغوں کی روشنی میں ریاستوں کو چوکس کر دیتے ہیں کہ کہیں کوئی حملہ ہونے والا ہے اس کے باوجود حملہ ہوجاتا ہے۔ کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ مسٹر شنڈے کو ایسے کسی دھماکہ کی خبر ہوئی ہو تو انہوں نے معافی مانگی ہو (جبکہ ان کے پاس ان کے بقول پہلے دعوے کے ثبوت موجود ہیں) اور معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ ریاستوں کو چوکس کیا ہو۔ دھماکہ ہونے گھنٹہ دو گھنٹہ کے اندر یہ اعلان ہوتا ہے کہ اس دھماکہ کے پیچھے انڈین مجاہدین کا ہاتھ ہے ۔ حالانکہ کسی نے اس وقت کوئی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی ہے ۔ساتھ ساتھ چند پرانے اور نئے نام مشتبہ سمجھ کر اعلان کئے جاتے ہیں۔ سب سے مضحکہ خیز صورت حال یہ کہ ابھی چند ماہ قبل جو گزشتہ دھماکوں کے سلسلہ میں بری ہو کر واپس آئے ان سے پوچھ تاچھ بھی شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ایسا ہے کہ مسٹر شنڈے کو دھماکوں کی جیسے ہی خبر ہوئی ہو انہوں نے معافی مانگ لی اور اس کے بعد حکومتوں کو متنبہ کیا تو اس واقعہ سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انڈین مجاہدین کا سرچشمہ کہاں ہے؟؟؟
٭٭٭ 

Wednesday, 9 January 2013

یہ خاموشی کیوں ہے؟

یہ خاموشی کیوں ہے؟

یوں تو آزادی کے بعد سے ہی ہندوستانی مسلمان آزمائشوں میں ڈالے جاتے رہے ہیں اور مختلف طرح سے ان کا کردار مشکوک کیا جاتا رہا ہے۔ سیکڑوں مرتبہ مسلمانوں سے خون کی قسطیں لی گئیں ہیں، ان کی آبرو رسوا کی گئی ہے اور ان کے مال تباہ و برباد کئے گئے ہیں،ان سب کے باوجود انہوں نے خود کوہر حال میں اس ملک سے وابستہ رکھا ہے اور ہر موڑ پر اس ملک کے ساتھ اپنی بے لوث وفا داری کا ثبوت دیا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں عالمی سطح پر اسلام اور اہل اسلام کو بدنام کرنے کی جو سازشیں رچی گئی ہیں ہندوستانی مسلمان بھی اس کے شکار ہوئے ہیں۔ اس دوران ہندوستانی مسلمانوں پر سب سے بڑا جو حملہ ہوا ہے وہ دہشت گردی کا الزام ہے۔ چنانچہ اس مدت میں ملک کے مختلف گوشوں سے مسلمان اس نام پر پکڑے جاتے رہے ہیں۔ جب جب گرفتاریاں عمل میں آئیں ہیں خود قوم کے بیشتر افراد بھی اپنی ہی قوم کے ان افراد کو مجرم محسوس کرتے رہے ہیں کیونکہ اس وقت کی گرفتار کرنے والی ایجنسیوں نے میڈیا کی مدد سے جو کہانیاں گھریں اور عوام میں ان کو عام کیا ان سے بظاہر ایسا ہی لگتا تھا۔ لیکن ایک اچھا خاصا عرصہ گزر جانے اور عدلیہ میں اس کی حقیقت کے واشگاف ہونے کے بعد جب مسلمانوں کو اصل صورت حال سے آگاہی ہوئی تو انہیں ملک کی اکثریت کی سیاست سمجھ میں آئی اور انہوں نے پھر محسوس کیا کہ اس نام پر مسلمانوں کو رسوا کرنے کی ایک نا پاک سازش ہے۔ چنانچہ اب جب کہ دسیوں ایسے معاملات کے کیس عدالت میں جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں اور ان میں پکڑے گئے بے قصور مسلمان اپنے ناکردہ گناہوں کی با مشقت سزا کاٹ کر بری ہوئے ہیں، جب ایسے معاملات سامنے آتے ہیں تو مسلمانوں کی جماعتوں ،انصاف پسند ،غیر جانب دار اور حقوق انسانی کے پاسبان برادران وطن صورت حال کی تحقیق کر کے مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے گھناؤنے کھیل کھیلنے والی سرکاری ایجنسیوں کو عدلیہ میں چیلنج کرتے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ایسے سکیڑوں کیس عدالت میں زیر سماعت ہیں اور ان کا جھوٹ کھلتا جارہا اور رفتہ رفتہ ایک نہیں انیک لوگ عدلیہ سے بے قصور ثابت ہو کر با عزت بری ہو رہے۔ جب کبھی ایسا سانحہ پیش آتا ہے کہ مسلم نوجوان دہشت گردی کے الزام میں ملک کے جس کونے سے پکڑے جاتے ہیں لوگوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ماخوذ لوگ بے قصور ہیں تو میڈیا اور سماجی بیداری کے توسط سے رائے عامہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ تمام لوگ متحد ہو کر اس کی حمایت کریں تاکہ وہ با عزت بری ہوسکیں۔ چنانچہ پچھلے برس کے انہی دنوں دربھنگہ اور مدھوبنی کے کئی نوجوان ملک کے مختلف علاقوں سے پے در پے پکڑے گئے۔ اس سلسلہ میں اکثریت کے پالیسی کے حمایتی میڈیا نے سر تال بٹھا کر وہ آواز میں آواز ملائی کہ محسوس ہوا کہ پورا ملک اسی علاقے کے دہشت گردوں کی زد پر ہے اور تقریباً ملک کے ہر دہشت گردانہ حملوں میں ان ماخوذ نوجوانو کی شمولیت ہے۔ اگر انہیں پکڑا نہیں جاتا تو نہ جانے کیا کیا واقعات انجام دئیے جاتے۔ اس واقعہ سے علاقے شریف نوجوان سہم گئے، والدین کے سینوں میں دھڑکا لگ گیا اور ہر والدین کے سامنے اپنے چہیتے کا مستقبل تاریک ہوتا نظر آیا۔ خیر اس موقع پر بر وقت ارباب حل و عقد نے صورت حال کو بھانپا اور انہوں نے ایک تحریک شروع کی۔ دانشوروں نے اخباروں کے ذریعہ عوام کو حالات سے آگاہ کیا اور ماخوذ نوجوانوں کی مظلومیت کو آشکارا کیا۔ انسانی حقوق کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی کئی غیر سرکاری تنظیمیں بھی مظلومین کی داد رسی کے لیے آگے آئیں۔ اس سے عوام میں بھی بیداری آئی انہوں نے ظلم کے خلاف اپنی ہمت بلند کی اور ان کے اندر ایک جرأت مندانہ حوصلہ دیکھنے کو ملا۔کچھ دنوں سے تک یہ سب چلتا رہا لیکن پھر رفتہ رفتہ لوگوں نے خاموشی سادھ لی ہے۔ گنے چنے لوگوں کو چھوڑ کر ہر سطح پر سرد مہری کی چادر ڈالی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے یا تو یہ محسوس کر لیا ہے کہ پکڑے گئے لوگ بے قصور تھے یا انہیں ایسا لگتا ہے کہ اب گرفتاری نہیں ہوگی۔ 
گزشتہ دنوں ممبران پارلیامنٹ کے ایک وفد نے بھی بے قصور گرفتاریوں کے سلسلہ میں وزیر اعظم سے مل کر بات کی۔ وزیر اعظم نے انہیں یقین دلا یا کہ بے قصوروں کی گرفتاریوں کو روکنے اور ان کی رہائی کے لیے ایک مضبوط میکانزم تیار کیا جائے۔ اس سلسلہ میں وزیر اعظم نے تین مہینہ کا وقت دیا ہے۔تقریباً ایک ماہ گزرنے والے ہیں۔ دو مہینہ کے اندر کتنی کارروائی ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا اور یہ وفد کتنا بے لوث تھا یہ بھی اس مدت کے گزر جانے کے بعد ہی پتہ چل پائے گا۔ جب یہ وفد ملا تھا تو اس کی بھی اخبار میں بڑی تعریف ہوئی تھی لیکن اس کے بعد پھر ایک خاموشی چھائی ہوئی ہے۔حالانکہ محض ملنے اور بات کہنے سے بات بننے والی نہیں ہے۔ اس کے لیے لگنا ہوگا ، قربانی دینی ہوگی اور طویل لڑائی ہوگی جو عدالت سے لے کر سیاست کی گلیاروں تک لڑنی ہوگی۔ سیاست دانوں پر بہت زیادہ بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ گرچہ اس معاملہ میں ان کے خلوص پر شک نہیں کرنا چاہیے لیکن موجودہ سیاسی صورت حال میں یہ کہنے میں تامل ہے کہ یہ بے لوث تھا۔
اس سلسلہ میں ایک اچھی بات یہ دیکھنے کو ملی تھی کہ دہلی میں اس سلسلہ میں غیر معینہ مدت کے لیے چند لوگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ۔ اس موقع پر جانب دار میڈیا نے تو انہیں نظر انداز کیا ہی خو مسلمانوں کی طرف سے بھی اچھی حمایت نہیں ہوئی۔ شاید لوگ یہ سمجھ رہے ہوں کہ ان کا کوئی رشتہ دار اب تک اس حملہ کی زد میں نہیں آیا ہے تو انہیں اس سے کیا واسطہ یا پھر یہ کہ یہ ایک بات تھی جو ہوگئی۔ ہمیں اپنے کام میں لگ جانا چاہیے۔ 
حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ یہ آخری حملہ ہے۔ پچھلے واقعات بتاتے ہیں کہ یہ ایجنسیاں الگ الگ وقت میں ملک کے الگ الگ علاقوں کو نشانہ بناتی ہیں اور وہاں کے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرتی ہیں۔ جب تک اس علاقے کے لوگ ذرا چوکنے رہتے ہیں تو اس علاقے کو چھوڑ کر دوسرے علاقے کا رخ کرتی ہیں پھر جب کسی علاقے کے لوگ سوجاتے ہیں انہیں دوبارہ نشانہ بناتی ہیں جیساکہ اس سے کئی سال قبل اعظم گڑھ میں مسلم نوجوانون کو بے تحاشا پکڑا گیا جب ادھر کیلوگ متحرک ہوئے تو ایجنسیوں نے ادھر کا رخ چھوڑ دکر دوسری جانب چارہ تلاش کرنے لگے۔ کچھ عرصہ بعد پھر جب انہیں محسوس ہوا کہ لوگ سرد پڑ چکے ہیں پھر ایک مرتبہ منہ مارنے کی کوشش کی اور پھر دو طالب علموں کو علی گڑھ سے دبوچ لیا۔اس کے فورا بعد جنوبی علاقوں سے ۸۱ گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ چونکہ ایجنسیوں کے نشانہ پر اسلام اور مسلمان ہیں اور اس فکر کی سرپرستی امریکہ اور اسرائیل کر رہے ہیں اس لیے یہ پورے ملک میں ہونا ہے۔ اس کے لیے الگ الگ انداز کے حربے بھی اپنا ئے جاتے ہیں مثلاً کبھی تبلیغی جماعت کو نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ کبھی حملہ ہوتا ہے تو ملک کے اس وقت کے وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ چونکہ فلاں فرقہ فلاں فرقہ کے خلاف اچھی رائے نہیں رکھتا ہے اور وہ متشددقسم کے ہیں ہیں اس لیے انہوں نے ہی ایسا کیا ہے۔ اکثریتی فرقہ مسلمانوں کے داخلی انتشار اور انتشار کی وجوہات سے واقف ہیں اس لیے وہ ایسے طریقے بھی اپناتے ہیں جن کی وجہ سے مسلمان متحد نہیں ہوسکیں۔ لیکن یہ کسی فرقہ کا مسئلہ بلکہ پوری امت کا مسئلہ ہے اور اس سے اوپر انسانیت کا مسئلہ ہے۔ اس سے جمہوریت بھی متاثر ہوگی۔ اس لیے چپی سادھنے کے بجائے جاگتے رہنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہو یہ رہا ہے کہ جب کسی علاقہ میں ایسا واقعہ انجام پذیر ہوتا ہے اس علاقے کے لوگ جاگتے ہیں دوسرے علاقوں کے دانشوران بھی ان کی حمایت کرتے ہیں پھر جلد ان کا زخم بھر جاتا ہے اور وہ خواب غفلت میں چلے جاتے ہیں۔ ایسا ہی دربھنگہ اور مدھوبنی کے علاقوں میں بھی ہوا ہے۔ جب زخم ہرا تھا بہت سے لوگ کچھ کر گزرنے کا جذبہ لیے ہوئے نظر آتے تھے لیکن جلد ہی سویا ہوا دیکھا جارہا ہے۔ لوگوں نے اگر اسے فرد کا مسئلہ سمجھا ہوا ہے تو انہیں ذہن سے یہ بات نکال دینی چاہیے کب کس کی باری آئے گی کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے۔ 
یہ جاگنے ہی ثمرہ ہے کہ اس سے برسوں قبل ٹاڈا کے تحت قید گرفتار نوجوانوں کو جن میں کئی کو عمر قید کی سزا سنائی جاچکی تھی رہائی پاچکے ہیں۔ دلی کے عامر کو ۴۱ سال بعد رہائی ملی ہے۔ جے ٹی ایس اے کی رپورٹ ‘‘ماخوذ، مقہور اور بری’’ ایسے مظلوموں کی داستان ہے جو بے قصور ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے شکار ہوئے ہیں اور بالآخر عدلیہ نے انہیں بے قصور ثابت کیا۔ لیکن ان بے قصوروں کی وہ جوانی جو ملک کی معیشت میں اضافہ اور ان کے اپنے گھرانے کے غربت کے خاتمہ کا سبب بنتی جیل کی کال کوٹھریوں کی نذر ہوگئی اس رہائی کے باوجود دوہ آپ کی داد رسی کے محتاج ہیں۔ ابھی انہیں بھی انصاف ملنا باقی ہے اور جو لوگ اس وقت خفیہ ایجنسیوں کے شکار بنے ہوئے اور جیلوں میں اس امت کے افراد کی قوت یوں ہی ضائع ہورہی ہے انہیں باہر لانا یہ پوری امت کی ذمہ داری ہے۔ 
یہ جاگنے ہی ثمرہ ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے مظالم کے شکار نوجوانوں کے بارے میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے دوارکا عدالت کے فاضل جج نے شواہد کی روشنی میں اپنے تاثرات اس طرح ظاہر کئے:
’’انکاؤ نٹر کی پوری کہانی اسپیشل اسٹاف دہلی کے دفتر میں اس کے خاص مصنف انسپکٹر روندر تیاگی اور اس کے معاونین کے ذریعہ لکھی گئی ہے۔ ‘‘ 
ہمیں خاموشی توڑنی ہوگی اور اس وقت تک جد جہد جاری رکھنی ہوگی جب تک یہ سلسلہ بند نہیں ہو جاتا۔

Saturday, 22 December 2012

Training of Journalism in Madaris


مدارس میں صحافت کی تربیت -ضرورت واہمیت

مدارس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم صحافت کاجائزہ لیتے ہیں تو مایوسی کا سامنا نہیں ہوتا ہے۔ اہل مدارس نے ابتدا ہی سے اس فن کو اپنے مشن اور مقصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ چونکہ مدارس کا بنیادی مقصد ہی دین اسلام کی حفاظت ، بقا اور اس کا فروغ رہا ہے۔ اس لیے دینی تعلیمات کی اشاعت کے لیے اہل مدارس نے جہاں درس وتدریس سے کام لیا وہیں اپنی بساط بھر کتابچے اور رسالے بھی لکھے اور شائع کیے۔ ظاہر ہے کہ جب فن طباعت کو فروغ حاصل نہیں ہوا تھا اور عام لوگوں کی رسائی وہاں تک بہ آسانی نہیں تھی تو مدارس بھی اس پریشانی کے شکار تھے۔ ایسے وقت میں دین کے فروغ کے لیے اہل مدارس نے خطابت کی صلاحیت پیدا کی ۔ لوگوں کو انفرادی طور پر دین کی تعلیم دی تو عوام کے بڑے طبقے کو خطاب کرنے کے لیے جلسوں کا انعقاد کر کے تبلیغ کا کام جاری رکھا۔ آج بھی اہل مدارس کے لیے پیغام رسانی کا بڑا ذریعہ یہی ہے۔ یہ بات بھی کسی سے مخفی نہیں ہے کہ مدارس میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ابتدا ہی سے خوشخطی کی تعلیم کا نظم بھی رہا ہے ۔ یہ ایک ایسا فن تھا جس میں اہل مدارس کے احساس جمال کا اظہار بھی ہوتا تھا اور یہ ان کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی تھا۔ مدارس میں اس فن کے عام ہونے کی وجہ سے اہل مدارس کو یہ سہولت تھی کہ ان کے پاس اچھے خاصے کاتبین موجود تھے جن کی مدد سے کتابچوں اور رسالوں کے قلمی نسخے بہ آسانی نکالے جاسکتے تھے۔ اہل مدارس نے اس سہولت کا فائدہ اٹھایا اور لوگوں کی اصلاح کے لیے کتابچے اور رسالے شائع کرتے رہے۔ ان رسالوں میں دین کی تعلیمات تو ہوتی ہی تھیں ساتھ ہی زمانے کی کروٹوں ، بطور خاص مسلمانوں کے تناظر میں شہری ، ملکی حالات وکوائف کا بیان بھی رہا کرتا تھا۔
        موجودہ وقت میں ہم مدارس پر نظر ڈالیں تو ہر بڑے مدرسے سے کوئی نہ کوئی مجلہ نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ اردوکو نظر میں رکھیں تو شاید اردو میں نکلنے والے جملہ مجلات میں مدارس سے نکلنے والے رسائل کی تعداد زیادہ ہوگی۔ ان میں ایک طرف دین کے مسائل وموضوعات کا احاطہ ہوتا ہے تو ساتھ ہی موجودہ ملکی اور بین الاقوامی مسائل وموضوعات کے عوامل ومحرکات اور عواقب ونتائج کی تشریح وتعبیر بھی ہوتی ہے۔
        مدارس سے شائع ہونے والے رسائل میں زیادہ تر مضمون نگار کا تعلق مدارس ہی سے ہوتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی مدارس سے باہر کے اسکالر اور دینی حمیت رکھنے والے دانشوران کے مضامین بھی اچھی خاصی تعداد میں شائع ہوتے ہیں بلکہ بعض مجلات تو ایسے ہیں جن میں اکثر مضمون نگار مدارس سے باہر ہی کے ہوتے ہیں۔ بعض اہل مدارس کے مضامین پر نظر ڈالنے پران میں تربیت کی کمی کھٹکتی ہے۔ صحافت کے جو امکانات ہیں اور اس سے جو کام لیے جارہے ہیں یا لیے جاسکتے ہیں اس سے بھر پور واقفیت کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ دوسری طرف مدارس میں ملک وقوم کے لیے بہترین افکار ونظریات رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں ۔ لیکن عدم تربیت یا تربیت کی کمی کی وجہ وہ اپنے خیالات کا اظہار بہترین ڈھنگ سے نہیں کرپاتے ہیں۔ اسی طرح مدارس سے نکلنے والے بعض رسائل میں صحافت کے جو عناصر ہیں ان کی پابندی نہیں پائی جاتی ہے۔ مثلا فیڈ بیک وغیرہ کی کمی ہوتی ہے اور اسی طرح جدید تکنیک کا استعمال نہیں ہوتا ہے اور یہ رسائل ماضی سے جس نہج پر کام کرتے چلے آرہے ہیں اسی پر گامزن ہیں ۔ جبکہ اب صحافت کی تکنیک میں بہت سی جدت آگئی ہے لیکن یہاں اس کا استعمال دکھائی نہیں دیتا ہے۔
        ہر چند کہ یہ دور ٹکنالوجی کا ہے ۔ ہر ملک اپنی اپنی دفاعی قوتوں کو ہر ممکن مضبوط بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے باوجود آج کی جنگ فکر کی جنگ ہے۔ اور اس کا ذریعہ صرف اور صرف میڈیا ہے۔ خواہ وہ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا ۔ چنانچہ آج کی میڈیا پر مضبوط اور سرمایہ دار طاقتوں کا تسلط ہے۔ ان کا وطیرہ یہ ہے کہ جھوٹ کو اتنی مرتبہ دہراؤکہ سچ ہوجائے۔ چنانچہ یہ طاقتیں اس طرح غالب آچکی ہیں کہ میڈیا خواہ کسی قوم یا کسی ملک کو ہو، چھوٹی اور عام خبروں کے بین السطور بھی ان کی فکریں کام کرتی رہتی ہےں۔ آج اس کے ذریعہ سپر پاور ملکوں نے ہر شخص کے ذہن ودل میں وہ بات ڈال دی ہے کہ وہ وہی سوچے جو یہ مضبوط قومیں چاہتی ہیں۔
        اس فکری یلغار میں سب سے زیادہ کسی قوم پر نشانہ ہے تو وہ مسلم قوم ہی ہے۔ بلکہ بیشتر قومیں متحد ہوکر مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنائے ہوئی ہیں۔ ایسے وقت میں اہل مدارس کے لیے صحافت کی تعلیم وتربیت کا حصول نہایت اہم اور ضروری ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ مدارس پر دین کی حفاظت اور اسلام پر پڑنے والے الزامات و اعتراضات اور فکری یلغار کے دفاع کی ذمہ داری خاص طور پر عائد ہوتی ہے۔ اس لیے اہل مدارس کو اس جانب توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔ دوسری خاص بات یہ ہے کہ مدارس نے پیغام رسانی کا بڑا ذریعہ صرف اردو زبان کو بنارکھا ہے۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگر قوموں تک اپنے پیغام پہچانے کے لیے دوسری زبانوں کو بھی ذریعہ بنایا جائے۔ کیونکہ اسلام سے متعلق جو شبہات پیدا کئے جارہے ہیں اس کے لیے دوسری زبانوں ہی کا استعمال ہورہا ہے۔
        اس وقت قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ورکنگ جرنلسٹ کی تربیت کا منصوبہ بنارہی ہے۔ اس منصوبہ میں مدارس کو شامل کیا جائے تو جہاں اردو کے فروغ کے روشن پہلو سامنے آئیں گے وہیں مدارس کے لیے بھی ایک اہم کام ہوگا اور اس طرح مدارس کے طلبہ بھی جدید معلومات کے قریب ہوں گے۔ جس طرح قومی اردو کونسل عربی کے ڈپلوما اور سرٹیفیکیٹ سطح کے کورس چلارہی ہے،یہ کورس مدارس کے طلبہ کو ذہن میں رکھ کر تیار کئے گئے ہیں ۔ ان کے بہت سے سنٹر دینی مدارس میں ہیں اور اور مدارس کے طلبہ بڑی تعداد میں مستفید ہورہے ہیں ، اسی طرح اس کورس کو بھی متعارف کیا جاسکتا ہے۔ اس سے مدارس سے نکلنے والے طلبہ کے معاش کا مسئلہ بھی حل ہوگا اور ظاہر ہے کہ اس حوالہ سے ان کا میدان اردو ہوگا تو اردو کے لیے نیک فال ہوگا۔ مدارس کے طلبہ کے لیے قومی اردو کونسل کی جانب سے اس طرح کا انتظام کرنے کی ایک تجویز کونسل کی جانب سے ملت کالج دربھنگہ میں منعقد سیمینار ” فروغ اردو -نئی حکمت عملی“ میں شکیل احمد سلفی ایڈیٹر الہدی دربھنگہ نے رکھی تھی۔
        اس کے علاوہ ملک کی بہت سی یونیورسیٹیوں میں فاصلاتی طرز پر صحافت کے کورس موجود ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس طرح کا ایک کورس مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں بھی ہے جس کا میڈیم اردو ہے اور جس میں داخلہ کی اہلیت بھی امیدوار کے لیے صرف بارہویں درجہ پاس ہونا ہے۔ ایک کورس یونیورسیٹی آف حیدرآباد میںبھی پی جی ڈپلوما سطح کا موجود ہے۔ اس میں ترجمہ کی تکنیک بھی شامل ہے۔
        البتہ ایک بات جو خاص طور پر نظر میں رکھنے کی ہے ، یہ ہے کہ ان کورسوں سے مدارس میں صحافتی تربیت کا جو مقصد ہے وہ پورا نہیں ہوسکتا ہے۔ یعنی ان کورسوں کے کرنے کے بعد مدارس کے طلبہ میں جو فکر ونظر مطلوب ہے ، وہ پورا نہیں ہوسکتا ہے۔ اور شاید ان کورسوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس مقصد کو پورا کرسکیں۔ الا یہ کہ مدارس کی سطح سے ایسا کورس تشکیل دیا جائے۔ اگر مدارس والے چاہیں تو یہ ناممکن بھی نہیں ہے۔ لیکن موجودہ کورسوں کو اختیار کرتے ہوئے اہل مدارس کو ایسی کتابیں کرانی ہوںگی جو طلبہ پر اسلام کا صحافتی نقطہ نظر واضح کرسکیں۔ یہ کتابیں اس کے ساتھ لازمی طور پر شامل ہوں۔ اس کے لیے مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی سے شائع سید عبدالسلام زینی کی کتاب”اسلامی صحافت“ سے بھی کام لیا جاسکتا ہے۔
        اس طرح کی بات کرتے ہوئے مدارس والوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس سے مدارس کا مقصد فوت ہوجائے گا اور اس کی روح نکل جائے گی۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر مدارس ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اس سے مدارس کا مقصد بالکل فوت نہیں ہوگا بلکہ اس کے مشن اور مقصد کو پر لگ جائیں گے۔
ززز
یہ مضمون اردو دنیا دہلی کے نومبر 2010 کے شمارے میں شائع ہوا۔ 

Islamic Education System in respect of Islamic Life System


اسلامی نظام حیات اور اسلامی نظام تعلیم
چند معروضات

        اسلام ایک مکمل، ہمہ گیر، عالمگیر اور ابدی نظام حیات ہے۔ یعنی دیگر مذاہب کی طرح محض اسطور نہیں ہے کہ چند ما بعد الطیعات ہستیوں پر مبہم یقین رکھتے ہوئے چند رسوم عبادت انجام دے دئے جائیں بلکہ اس کی تعلیمات انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو ان تمام تصورات و اعمال کے ساتھ شامل ہیں جو ابتدا سے پیدا ہوتے رہے ہیں اور انسانی تاریخ کی انتہا تک پیدا ہوتے رہیں گے۔ زندگی کا کوئی واقعہ خواہ وہ زندگی کے کسی شعبہ سے متعلق ہو مثبت یا منفی انداز میں اسلامی دائرہ تصور سے باہر نہیں ہے۔
        انسانی زندگی ازل سے مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ ترقی کے ساتھ انسانی زندگی کے سامنے نت نئے مسائل و تصورات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اب انسانی زندگی بے حد متنوع ہونے کے باعث اعمال و تصورات کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف شعبوں میں منقسم ہو چکی ہے۔ ہر شعبہ کے اپنے جداگانہ تصورات ہیں ۔ ان تصورات کے اپنے مسائل اور حل ہیں۔ نسل انسانی کے مختلف گروہ اپنے عقائد و تصورات، تہذیب و ثقافت،جغرافیائی حالات و ماحول ،عصری تقاضوں اور طلب کے اعتبار کے ہر شعبہ میں اپنا منفرد تصور رکھتے ہیں اور اس کے مطابق اس شعبہ کے مسائل سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ زندگی کے یہ شعبے مختلف انسانی طبقات وگر وہ کے لیے مختلف حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض شعبے بعض کے لیے ناگزیر ہیں تو بعض کے لیے متبادل کی حیثیت رکھتے ہیں اور بعض سب کے لیے یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔ شاید باید کسی شعبہ کو چھوڑ کر یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ یہ شعبہ زندگی کے لیے عبث اور بے کار ہے۔ ان کی عدم موجودگی میں کسی بھی طبقہ کی زندگی پر کوئی خاص اثر مرتب نہیں ہوگا۔ بعض شعبے ایسے ہیں جو موجودہ استعمال کی صورت میں اسلام کی نظر میں عبث اور بے کار ٹھہرتے ہیں لیکن ان کی تکنیک اور طریقہ کو بھی استعمال کرکے اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کا کام لیا جاسکتا ہے۔
        چونکہ اسلام ایک نظام حیات ہے اس لیے وہ کسی بھی شعبہ حیات سے بے تعلق نہیں رہ سکتا ہے۔ اسلام کی تکمیل تقریباً 633 ء میں ہو گئی۔ اس وقت انسانی زندگی محدود اور بڑی حد تک سادہ تھی۔ زندگی کے جو محدود شعبے موجود تھے ان کے مسائل بھی محدود تھے۔ خود انسانی آبادی بہت محدود تھی۔ لیکن اس وقت بھی جو محدود شعبے اور محدود مسائل تھے، وہ اپنے وقت میں پیچیدہ ، نئے اور ترقی یافتہ تھے، اسلام نے نہ صرف ان کا ایک واضح، قطعی اور تشفی بخش حل پیش کیا بلکہ انہیں عمل میں لاکر ان کی جامعیت بھی واضح کردی۔ لیکن وہ تعلیمات جو اس وقت کے مخصوص مسائل کے حل میں کامیاب ہوئیں ان میں ایسے اصول بھی موجود تھے جو آج کے اور آنے والے دنوں کے لا محدود مسائل کو حل کرسکیں۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے ترقی کی تواسلامی تعلیمات نے ان تمام مسائل کو حل کیا جو زمانے کے ساتھ وجود پذیر ہوئے۔ حالانکہ مسلمانوں کی ترقی کے ساتھ انسانی زندگی کی رفتار نہایت تیز ہو گئی۔ نئی بستیاں آباد ہوئیں، نئی نئی دریافتیں اور نئی نئی ایجادیں ہوئیں۔ نئی ضرورتوں نے نئے نئے مسائل کو جنم دیا۔ ان تمام مسائل کے حل کے لیے اسلامی تعلیمات سے اصول اخذ کئے جاتے رہے ۔تمام پیش آمدہ مسائل پران اصولوں کا اطلاق کر کے کار آمد حل نکالے گئے۔یہ عمل مسلمانوں کی ترقی تک جاری رہا۔ اس طرح جب تک مسلمان ترقی پر رہے ہر دور کو ان کے تمام مسائل کا حل اسلام نے بحسن و خوبی پیش کیا۔ نئے مسائل پر اسلامی اصولوں کے انطباق سے جہاں مزید ترقی کی راہیں استوار ہوئیں وہیں ایک صالح معاشرہ اور صالح ریاست کی تشکیل ہوئی اور امن و شانتی کو فروغ واستحکام حاصل ہوا۔ اسلامی اصولوں کا انطباق انسانیت کے لیے خیر و برکت اور سکون و راحت کا ذریعہ بنا۔
        ان ادوار میں تعلیمی اداروں میں علم علم مطلق سمجھاجاتا تھا۔ علم کی تقسیم مذہبی اور عصری خانے میں نہیں ہوئی تھی۔بلکہ زندگی اپنی تمام تر وسعتوں کے ساتھ مذہب کے سانچے ہی میں ڈھلتی تھی، اس لیے مذہبی اور عصری خانہ کی تقسیم ہی بے معنی تھی۔ بعد کے ادوار میں جب ترقی و ایجادات اور نئی دریافتوں کے ساتھ علم کی شاخیں بڑھتی چلی گئیں تو اسپشلائزیشن کی بنیاد پڑ گئی۔ساتھ ہی مسلم سلاطین نئے علاقے فتح کرتے چلے گئے جن میں مختلف قومیں اپنے مذہب پر عمل پیرا رہیں ، ان کے ذہین اور تیز افراد کا حکومت میں عہدے حاصل کرنے کے علاوہ اسلامی تعلیم میں ان کی دلچسپی پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی اسلام لائے بغیر اس کا جواز پیدا ہوتا ہے، نیز مروجہ علوم روز بروز کی تحقیق سے اتنی وسعت اختیار کرتے چلے گئے کہ بیک وقت کسی طالب علم کے لیے ان سب کا احاطہ کر لینا ممکن بھی نہیں تھا ۔ اس وقت بھی جن مسلمانوں کی وابستگی صرف مذہبی علوم سے رہی وہ نئے علوم سے ایسے بیگانہ نہیں رہے کہ عصری مسائل و موضوعات ان کی سمجھ سے بالا تر ہوں یا مخصوص شعبہ سے وابستگی کی وجہ سے انہوں نے دوسرے موضوعات کو ایسا غیر ضروری سمجھا کہ اس کے مبادیات کی طرف التفات ہی نہ کریں۔جب مسلمانوں کی ترقی رک گئی تو دوسری قومیں اپنی علمی ترقی ، جستجو، نئی تحقیقات اورعسکری صلاحیتوں کی بنیاد پرمسلمانوں پر غالب آتی چلی گئیں اور مسلمان ہر طرف سے پسپا ہونے لگے ۔ انہوں نے نئی تحقیق سے رشتہ توڑ لیا تو ان کی علمی ترقی بھی رک گئی اور وہ ہر طرح سے مغلوب ہوتے چلے گئے۔ اس مغلوبیت کے بعد انہوں نے تصوف کو اپنا لیا۔ اس کی وجہ سے زندگی کی جد و جہد سے بیزاری بھی آنے لگی۔ رفتہ رفتہ نئے مسائل سے احتراز کے باعث اسلامی تعلیمات عقائد و عبادات کی معلومات تک محدود ہونے لگیں۔ جو اصول اس وقت کے مسائل کے لیے مستخرج ہوئے تھے انہی اصولوں پر نئے مسائل محصور ہوتے چلے گئے۔نئے نئے مسائل کے لیے نئے اصول فرع نہیں ہوئے۔ اس طرح اسلامی تعلیمات کا رشتہ نئے موضوعات سے کٹتا چلا گیا۔ پھرایسے تعلیمی ادارے جو مذہبی تعلیم کے لیے قائم کئے گئے ان میں جو کتابیں شامل کی گئیں وہ انہی گزشتہ اصولوں اور مسائل پر مشتمل تھیں۔دوسری طرف مسلمانوں میں ایسا تصور بھی چلا آیا کہ اب اجتہاد کی راہیں مسدود ہیں۔ علمائے سلف کے بعد کسی زیادتی کا امکان نہیں ہے اور نہ ہی آنے والی نسلوں کے علما میں یہ علمی لیاقت ہے کہ وہ اجتہاد کو راہ دیں۔ ان سب کا بہت برا اثر اسلامی نظام تعلیم پر بھی پڑا۔اسلامی نظام تعلیم محدود ہو کر رہ گیا۔ اس کے نصاب میں وہ تنوع نہیں آسکا جو عہد بہ عہد خود زندگی کے اندر پیدا ہوتا رہا۔
        اس وقت ہندوستان میں اسلامی تعلیمات کی تدریس کے لیے مدارس کا جو نظام رائج ہے اس کے نصاب میں بنیادی طور پر قرآن و حدیث، تفسیر، فقہ اور عربی ادب شامل ہیں۔ قرآن و حدیث ہی شریعت کی اساس اور بنیادی ماخذات ہیں جن میں وہ تمام اصول اور حل مضمر ہیں جو اب تک پیدا ہوئے ہیں یا ہوتے رہیں گے۔
        نصاب میں سب سے اہم موضوع فقہ ہے ۔کیوں کہ تمام تر مسائل کے حل کی تلاش ،قرآن اورر احادیث و آثار سے نئے اصولوں کا استنباط واستخراج کا عمل اسی میں انجام پاتا ہے اور اسی کے ذریعہ نئے مسائل پر اسلامی اصولوں کا انطباق ہوتا ہے۔ ہندوستان کے پس منظر میں مدارس اسلامیہ کے نصاب میں شامل فقہوں کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں جو کتابیں شامل ہیں ان کی تدوین تقریباساتویں اور آٹھویں صدی ہجری کے درمیان ہوئی ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ کتابیں بڑی حد تک جامع ہیں۔ ان میں ایسے اصول موجود ہیں جن کو نئے مسائل کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان پانچ چھ صدیوں کے دوران دنیا میں عظیم تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں نوعیت کے اعتبار سے بھی ہیں اور کمیت و کیفیت کے اعتبار سے بھی۔ ظاہر ہے کہ ان کتابوں میں جو مسائل اور اصول ہیں وہ ان مسائل کے لیے جن کی نوعیت میں فرق نہیں ، کار آ مد ہوں گے۔ لیکن جو مسائل نوعیت کے اعتبار سے جدا گانہ ہیں ان کو گزشتہ اصولوں سے کیسے دیکھا جاسکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اس وقت نصاب میں جو فقہیں رائج ہیں ان کے ابواب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زندگی کی وسعتوں کا احاطہ نہیں کرتے ہیں۔
        یہاں چند ایسے مسائل کا ذکر کیا جاتا ہے جو اگر مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کے سامنے رکھ دئے جائیں تو بیشتر طلبہ ان کے سمجھنے سے بھی عاری نظر آئیں گے ۔ ان کا حل تو کجا؟ مثلاً:
        اقتصادیات کے نوع بہ نوع مسائل :اسلام کی نظر میں معاشیات کا بنیادی نظریہ، معاشیات کے بنیادی مسائل، دولت کی تقسیم، دولت کا بنیادی نظریہ، ملازمین کے مسائل، بینکنگ کے مسائل، وغیرہ
       سیاست کے مسائل:اسلام کی نظر میں ریاست کی تشکیل کے عناصر، ریاست کے حکمراں کا انتخاب اس کے فرائض، ریاست کے عوام کے مسائل اور ریاست کی ذمہ داریاں، ریاست کا بنیادی نظریہ، غیر اسلامی ریاست میں مسلمانوں کے مسائل ، جمہوری ممالک میں مسلمانوں کے مسائل، زکوة اور Tax کے مسائل ،حکمراں کے فرائض و اختیارات، کیا مسلمان حکمراں (یا اسلامی ریاست کی قانون ساز کمیٹی )کو احکام میں جزوی ترمیم کا اختیار حاصل ہے یا نہیں؟ اور وہ ترمیم کب تک اور کہاں تک قابل عمل ہوگی؟
        سماجی اور عائلی نظام کے مسائل:سماج کی بنیاد، سماج کی تشکیل، سماج میں یگانگت اور امن و شانتی کا قیام، سماجی فلاح و بہبود،تہذیب و ثقافت کے مختلف مسائل اور خواتین کی ملازمت کا مسئلہ ۔
        سائنس کی ترقی سے طب کے میدان میں عظیم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ سے ڈھیر سارے ایسے مسائل ہیں جن سے ایک زندہ شریعت بیگانہ نہیں رہ سکتی ہے۔ مثلاً:عضویاتی تبدیلی کا مسئلہ ،DNA Testسے پیدا ہونے والے مسائلUltrasonographyکے ذریعہ پیدا ہونے والے مسائل، Colon کا مسئلہ ، ٹسٹ ٹیوب بے بی کا مسئلہ اور بہت سے مسائل جو طب سے غیر معمولی شغف کے بعد معلوم ہوسکتے ہیں۔
        یہ چند مسائل مشتے از نمونہ خروارے کے طور پر ہیں ۔ ورنہ ایسے لا تعداد جدید مسائل ہیں جو اسلامی درسیات میں شامل نہیں ہیں۔
        دوسری بات یہ ہے کہ دنیا میں جو تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں تو اصطلاحوں میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔ ان کتابوں میں جو اصطلاحیں استعمال کی گئیں ہیں موجودہ اصطلاحات سے ان میں مطابقت موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ بہت سے مسائل کو سمجھ کر بھی زندگی کے متعلقہ شعبوں پر ان کا انطباق نہیں کرسکتے۔
        اس نظام تعلیم کا ایک المیاتی پہلو یہ ہے کہ نصاب میں عقائد و عبادات کے علاوہ مخصوص ابواب مثلا سماجی مسائل کے لیے کتاب النکاح اور معاشی مسائل کے لیے کتاب البیوع جیسے چند ابواب ہی شامل کیے گئے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ خود تدریس میں ان ابواب پر وہ Stress نہیں ہوتا ہے جو عقائد وعبادات کے باب میں ہے۔ اس باعث طلبہ کی توجہ ان قدیم و جدید اہم موضوعات کی طرف نہیں ہو پاتی ہے جن کا تعلق سماجی و معاشی مسائل ہے اورنہ ہی طلبہ اس زاویہ سے سوچ پاتے ہیں۔ تدریس کا طریقہ یہ ہے کہ بجائے فن کی تعلیم اور طلبہ میں فن کی مہارت اور دسترس پیدا کرنے کے محض عبارت فہمی پر زور ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ طلبہ ان مسائل کے علاوہ ،جن کا تعلق مدرَّسہ عبارت سے نہیں ہے ،سمجھنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔ چہ جائیکہ وہ ان کے حل پر قادر ہوں۔ خود کتابوں کا نقص یہ ہے کہ ان کی عبارتیں انتہائی گنجلک اور پیچیدہ ہیں ۔کیوںکہ اس زمانے میں زبان دانی میں مہارت دکھانے کے لیے ایسی عبارتیں لکھی جاتی تھیں جن میں وضاحت اور قطعیت کی بجائے ابہام اور معنوی تہ داری ہو۔ یہ زمانہ منطق اور علم کلام کا تھا، اس لیے ان کتابوں میں انہی علوم کی اصطلاحات بھی استعمال کی گئیں ہیں اور اب زیادہ تر مدارس نے ان علوم کو نصاب سے خارج کردیا ہے۔ اب ان علوم سے لاعلمی کا نتیجہ مطلوبہ علوم پر پڑتا ہے اور طلبہ عبارت کو بخوبی سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ جب کہ جدید نظام تعلیم میں ایسی کتابیں پسند کی جاتی ہیں اور تدریس کے لیے بہتر سمجھی جاتی ہیں جن میں وضاحت اور قطعیت ہو اور طلبہ کے لیے سریع الفہم ہوں۔
        اسلامی تعلیمات کا بنیادی ماخذ علم قرآن اور علم حدیث ہے۔ مدارس میں قران کی تعلیم دینے کا جو طریقہ رائج ہے اس سے بھی قرآن فہمی کی صلاحیت پیدا نہیں ہوسکتی ہے۔ نصاب میں ایک یا دو پارے ترجمہ کے لیے شامل ہیں اور چند منتخب سورتوں کی تفسیر پڑھائی جاتی ہے۔ اس میں ایسی کوشش نہیں ہوتی ہے کہ طلبہ ترجمہ اور تفسیر پر قادر ہوسکیں اور قرآنی علوم کی تحقیق کرسکیں۔ اصول تفسیر بھی نصاب میں برائے نام ہی شامل ہے ۔ اس کی تدریس اس طور پر نہیں ہوتی کہ طلبہ میں علم قرآن کا فہم پیدا ہو۔ ادھر حدیثوں پر توجہ ضرور دی گئی ہے۔ حدیث کی امہات کتابوں کی تشکیل بجا طور پر اس طرح کی گئی ہے کہ وہ زندگی کے اکثر شعبوں کا احاطہ کریں۔ لیکن ایک تو یہ کہ نصاب میں حدیث کی اتنی کتابیں شامل کی گئیں ہیں کہ موجودہ تعلیمی مراحل میں ان کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مدارس میں حدیث کی دوسرے درجوں کی کتابیں کسی طرح ترجمہ کرادی جاتی ہیں اور اول درجے کی کتابوں کا محض دور ہ ہوتا ہے ۔ پھر جہاں ان کتابوں کا ترجمہ کرایا بھی جاتا وہاں کا طریقہ تدریس ایسا نہیں ہے کہ طلبہ جزئیات سے واقف ہوسکیں۔ اگر جزئیات پر نظر رکھیں گے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ ان کا مکمل احاطہ کیا جاسکے۔ زیادہ ترمدارس میں حدیث کی کتابیں محض برکت کے لیے پڑھائی جاتی ہیں۔
        ان طویل معروضات کا مقصد یہ ہے کہ اگراسلام صرف عقائد وعبادات اور اخلاقیات کا نام نہیں بلکہ ایک نظام حیات ہے اور بجا طور پر ہے ، اس میں شک الحاد اور انکار کفر ہے ، تو ہندوستان میں اس نظام حیات کی تعلیم کے لیے جو درس گاہیں ہیں ،یعنی مدارس اسلامیہ ان کے نصاب سے ہر گز یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ اسلام ایک نظام حیات ہے۔
        لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کا سد باب ممکن ہے ؟
        موجودہ وقت میں ہندوستان میں جو نظام تعلیم رائج ہے اس میں ان حل ڈھونڈنا اور اس نصاب کو بالکل Uptodateکرلینا تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ چلا جاسکے بہت مشکل نظرآتا ہے۔ کیوں کہ اس کے لیے مرکزیت اور اپنا نظام تعلیم چاہیے جو مسلمانوں کے نصب العین سے ہم آہنگ ہو ۔ مدارس کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ بہت سے علوم جو ابتدائی سطح پر ایک مسلمان طالب علم کو پڑھ لینا چاہیے وہ بھی مدارس میں ثانوی سطح تک پڑھانا پڑتا ہے۔ جہاں تک مرکزیت کا تعلق ہے تو یہ ہندوستانی مسلمانوں کا بڑا المیہ ہے کہ اب تک تعلیم کے سلسلہ میں بھی دیگر امور کی طرح ان میں مرکزیت قائم نہیں ہوسکی ہے۔ اس کی کئی وجہیں ہیں ۔ ایک بڑی وجہ مسلکی اختلاف ہے اور اس اختلاف کی وجہ سے ان کا تعلیمی نصب العین اور طریقہ کار بھی الگ ہوگیا ہے۔ پھر بھی اس کا امکان تھا۔ مگر مسلکی بنیاد پر بھی یہ مرکزیت قائم نہیں کرسکے ۔ ہر درس گاہ اپنے طور پر اپنا نصاب تیار کرتی ہے ۔ اس کا اپنا مستقل نظام ہوتا ہے۔ تعلیمی مرحلہ، تعلیمی سال اور طریقہ تدریس میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ عام طور پر انہیں ماہرین تعلیم کی سرپرستی بھی حاصل نہیں ہوتی ہے۔ تعلیم کے سلسلہ میں وہ کوئی نظریہ قائم نہیں کرپاتے ہیں۔ حتی کہ ان کے سامنے اسلام کا تعلیمی نصب العین بھی بالکل واضح نہیں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سے نکلنے والے طلبہ کی علمی لیاقت بس واجبی سی ہوتی ہے۔وہ عوام کی عادات واطوار کی اصلاح کے لیے اخلاقیات کی سطحی تعلیم، عقائد وعبادات کے لیے موٹے موٹے احکام کی معلومات اور اگر انہیں کسی مدرسہ میں پڑھانا پڑے تو شامل نصاب کتابوں کی عبارت فہمی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
        ابھی کچھ دنوں قبل حکومت کی جانب سے مرکزی مدرسہ بورڈ کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ چونکہ اس کے پیچھے جو مقصد کار فرما تھا اس سے ہندوستان میں مدارس کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے ۔ حکومت ان مدارس سے بھی کلرک، چپراسی اور حکومت چلانے کے لیے کارندے چاہتے تھے۔ اس لیے پورے ہندوستان کے علما نے بیک زبان اس تجویز کو مسترد کردیا۔ یہ استرداد بالکل بجا۔ لیکن تعلیم میں مرکزیت کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
         مسلمان حکومت سے اس تجویز کے بالمقابل اپنی یہ تجویز رکھ سکتے تھے کہ ان کو ایسے خود مختار مرکزی ادارے کے قیام کی اجازت ہو ،جیسا کہ آئین میں اقلیات کو یہ حق حاصل بھی ہے، جس کے تحت ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلی علوم تک کے مختلف شعبے قائم کیے جاسکیں اور متعلقہ کونسلوں سے ان کی منظور ی میں حکومت پورا تعاون کرے۔ ان کا نصاب تعلیم مسلمان خود تشکیل دیں جو ان کونسلوں سے ہم آہنگ بھی ہو اور تعلیم کی تمام سطح پر دینیات کا پرچہ بحیثیت لازمی پرچہ شامل ہو۔ ان میں عقائد وعبادات، اخلاقیات، زندگی گزارنے کے لیے اسلامی احکامات ، عائلی اور خانگی زندگی کے مسائل، سماجی اور سیاسی مسائل کے سلسلے کی مرحلہ وار تعلیم دی جائے۔ ان میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کی جائے اور نہ ہی ان اداروں میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت ہو۔
        ابتدائی درجہ سے ہی نصاب اس طرح تشکیل دیا جائے کہ طلبہ مڈل سطح یا سکنڈری سطح کے بعد جس میدان کا انتخاب کرنا چاہیں ادھر جاسکیں۔ مثلا مدارس کا انتخاب کریں تو مدارس میں جانے کے بعد مدرسہ کی تعلیم کے لیے انہیں پھر سے تیار نہ کرنا پڑے جیسا کہ ابھی ہوتا ہے۔
        ان مدارس میں نصاب کی تشکیل اس طرح کی جائے کہ عہد بہ عہد پیدا ہونے والے نئے مسائل وموضوعات کا اسلامی منہج طلبہ کے سامنے واضح ہوسکے۔ عام طور پر طلبہ پیش آمدہ مسائل کو قرآن وحدیث کی روشنی میں حل کرسکیں۔ نصاب میں اسلامی تاریخ وفلسفہ ، تحریکات وتعبیرات کو بھی اس طرح شامل کیا جائے کہ طلبہ کو مسلمانوں کے عروج وزوال کے اسباب کا ادراک ہوسکے ، طلبہ میں تفکر وتدبر کی صلاحیت پیدا ہو اوران سے قوم اور قوموں کی امامت کا کام لیا جاسکے۔
        موجودہ نظام میں جدید عصری علوم کے مسائل کو طلبہ کے سامنے لانے کے لیے ایسے ورک شاپ منعقد کئے جاسکتے ہیں۔ جن میں عصر ی علوم کے کسی ایک موضوع پر اس علم کے عصری اور اسلامی نظریات کے ماہر ین کے ذریعہ توسیعی خطبات کا انتظام کیا جائے ۔ منتخبہ موضوع پر اس علم کے غیر اسلامی افکارو نظریات،اس علم کے بنیادی نظریات ومسائل کو بیان کرکے اسلام کا سچا اور صحیح نظریہ پیش کیا جائے۔اس کے بعد طلبہ کے سامنے اس علم کے جدید مسائل رکھے جائیں اور اس سلسلہ میں اسلامی تعلیمات اور اس کا صحیح حل طلبہ پیش کریں اور اس ورک کی Monitoring اس کے ماہرین کے ذریعہ کی جائے۔ مختلف مدارس الگ الگ موضوعات پرایسے ورک شاپ منعقد کرسکتے ہیں۔ ان کی بہترین ویڈیو رکارڈنگ کرلی جائے ۔ باہمی رابطہ کے ذریعہ بلا اختلاف مسالک مدارس کے درمیان ایسے ورک شاپوں کی تشہیر کی جائے تاکہ کسی ایک موضوع پر ہونے والا ورک شاپ دوسرا مدرسہ منعقد نہ کرے اور انہی ویڈیو سی ڈی سے کام چلائے ۔ اس طرح وقت اور پیسے کی بچت بھی ہوگی اور زیادہ سے زیادہ موضوعات کا احاطہ بھی ہوسکے گا۔
        اگر مسلمان مدارس کے نصاب کو داخلی طور پر Uptodate کرلیتے ہیں تو مدارس پر فرسودگی کے جو الزامات عائد کئے جاتے ہیں وہ خود فرو ہو جائیں گے، مدارس کے طلبہ میں گہری علمی صلاحیت، تحقیقی ملکہ، وسعت ذہنی، کشادہ قلبی، اور فکر و نظر پیدا ہو جائیں گے ۔ یہ طلبہ مختلف عصری علوم و موضوعات کے سلسلہ میں اسلام کا صحیح اور مسائل سے نجات دینے والا نظریہ پیش کرسکیں۔ اس طرح دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح نمائندگی ہوگی اور مدارس کے فارغ ہونے والے یہ طلبہ اپنے لیے، قوم اور ملت کے لیے اور ملک کے لیے کار آمد ہو جائیں گے۔
یہ مضمون مجلہ الہدی دربھنگہ، کے علاوہ نیپال میں شائع ہوچکا ہے