مشمولات

Sunday, 25 August 2013

قدیم غزل

لمحۂ سفا ک ہے اک داستاں میرے لیے
ہر نفس ہستی کا ہے اک امتحاں میرے لیے

انگلیوں کو اپنی کیا ہوں خار سے شکوے گلے
گل یا غنچے شاخ گل کچھ بھی کہاں میرے لیے

رائیگاں جاتا مرا خوں ایسا ممکن تھا نہیں
دامن قاتل کی چھینٹیں کہکشاں میرے لیے

شہر جاں چھوڑ کر کیسے کہاں جاؤں بھی
ہو شہادت گاہ کوئے دوستاں میرے لیے

چاند سورج ، کہکشاں اور آسماں تاروں بھرا
ان سے دل پائے سکوں ایسا کہاں میرے لیے

اپنے ہی گھر میں ہوں جب میں اجنبی اے شاذ تو
کیسے ہوگا غیر کا پھر آستاں میرے لیے


Wednesday, 10 July 2013

دہشت گردی کی سیاست اور سیاست کی دہشت گردی


دہشت گردی کی سیاست اور سیاست کی دہشت گردی

                اس وقت پورے ملک میں مسلمان بطور خاص دہشت گردی کی سیاست کے شکار ہیں اور یہ سیاست بھیانک ہو کر خود دہشت گردی کی صورت اختیار کرچکی ہے جس سے ہندوستانی مسلمان اپنے نوجوانوں کے تئیں ہراساں اور خوف زدہ رہنے لگے ہیں۔ کیونکہ اس سیاست کی دہشت گردی نے ہمارے نوجوانوں کو ملک کی دولت میں اضافہ کرنے، اپنی معاشی حالت میں سدھار لا کر اچھی اور معیاری زندگی گزارنے ، خود اعلی تعلیم یافتہ ہونے اور اپنی آنے والی نسلوں کو اعلی تعلیم یافتہ بنانے سے دور کردیا ہے۔ زندگی کا جو وقت ان کے اسٹیبلشمنٹ کا تھا وہ جیل کی کال کوٹھریوں میں اکارت جارہا ہے اور ان کے ماں باپ اور بال بچے مفلسی اور بد حالی کے شکار ہوتے جا رہے ہیں اس میں اگر اضافہ ہوتا رہا تو چند گھرانوں کے بجائے پوری امت متاثر ہوگی۔اگر اس پر بر وقت قابو نہیں پایا گیا کہ وہ دن بھی دور نہیں کہ لوگ ایسا اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ لیں گے لیکن اس وقت ان کا احساس اور شعور مردہ ہو چکا ہوگا۔ اس وقت وہ ایک سسٹم کا حصہ ہوچکے ہوں گے اور جس کے خلاف ان کے دل کی آواز بھی نہیں اٹھے گی۔ وہ ذلیل ہوں گے مگر اس ذلت کو اپنا فریضہ سمجھیں گے۔
                  رمضان کا مہینہ عالم اسلام کے لیے با برکت مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں اللہ تعالی اپنے رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور اپنے بندوں کی دعائیں دوسرے مہینوں سے زیادہ سنتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس مہینہ میں اپنے ان مظلوم بھائیوں کی رہائی کے لیے دعا ئیں کریں۔ ہمارے جو بچے سیاست اور انتظامیہ کی سیاست کا شکار ہو کر زندگی کے اچھے دنوں کو جیل میں ضائع کرنے پر مجبور ہیں وہ اور ان کے اہل خانہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ہم ان کی بھلائی اور خیر کے لیے دعائیں کریں اور ان کی حمایت کے لیے آگے بڑھیں۔ ہم اپنے آس پاس اگر ایسے افراد کو پاتے ہیں جن کی زندگیاں اس طرح تباہ ہورہی ہیں اور ان کے گھر والے مجبور ہیں تو ہم ان کی مدد کریں تاکہ وہ بہتر زندگی گزار سکیں اور اپنے بیٹے یا باپ کی رہائی کے لیے بہتر قانونی امداد حاصل کرسکیں جس سے ان کی رہائی ممکن ہوسکے۔
                ہمارے جو بچے ناحق پکڑے جارہے ہیں ان سب کی باعزت رہائی ضرور ہوگی مگر اس وقت تک ان کے زندگی کے بہتر دن گزر چکے ہوں گے۔ ہماری سیاست یہی کر رہی ہے کہ وہ ترقی پذیر مسلم نوجوانوں کے اچھے دنوں کا ناکارہ کردیں تاکہ انہیں اٹھنے اور کھڑا ہونے کا موقع نہیں مل سکے۔ کیونکہ جب مسلمان معاشی سطح پر کمزور ہوں گے تو تعلیمی سطح پر بھی پیچھے ہوجائیں گے اور پھر اس کا مزید اثر ان کی معاشیات پر ہوگا۔ اس کے نتیجہ میں وہ سیاست میں بھی پچھڑتے چلیں جائیں گے۔ان سب کے نتیجہ میں سماجی پسماندگی ان کا مقدر ہوگا او ر پھر اس سے نکلنے کے لیے کئی نسلیں جد وجہد کریں گی تب جاکر کہیں ان کے ماتھے سے پسماندگی کا داغ مٹ پائے گا۔ ہمارے ملک کا ایک اکثریتی طبقہ اصل میں یہی چاہتا ہے کہ سیاست میں ان کے متوازی کوئی کھڑا نہیں ہوسکے اور حکومت پر ہمیشہ ان کی ہی بالا دستی قائم رہے۔
                دوسری جانب حالات نے اب کروٹ لی ہے اور سیاسی بالا دست طبقوں نے شودر اور اس طرح کے ذلیل ناموں اور پیشوں سے وابستہ کر کے جن مخصوص قوموں اور طبقوں کو ہمیشہ اپنا رہین منت رکھا تھا، جن کی زندگی بالا دست طبقوں کے رحم و کرم کی محتاج رہی تھی؛ وہ اب جاگ چکی ہیں اور انہوں نے بالا دست طبقوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا سیکھ لیا ہے۔ ایسی حالت میں بالا دست طبقوں کو مزدوری اور چھوٹے طبقوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایک طبقہ کی ضرورت ہر حال میں باقی ہے ؛اور پچھلی ذلیل کردہ قوموں کو کچلنا اب ناممکن ہے؛ یہ طبقہ تبھی ظہور پذیر ہوسکتا ہے جب وہ مستقل طور سے سماجی پسماندگی کا پوری طرح شکار ہو، وہ اپنی زندگی کی بقا کے لیے بالا دست قوموں سے رحم و کرم کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو۔ بالا دست طبقے کی ایک بڑی منصوبہ بندی یہ بھی ہے کہ اس طرح کا طبقہ مسلمانوں سے پیدا کیا جائے۔اس فکر کی ایک نفسیاتی توجیہ یہ بھی ہے کہ ماضی میں ہندوستان میں مسلمان حکمراں طبقہ بن کر رہا ہے اور ان کی یہ سوچ بھی ہے کہ یہ حکمراں طبقہ باہر سے آکر ملک پر قابض ہوا تھا۔ اس لیے وہ مسلمانوں کو اب پسماندہ دیکھنے کی خواہش رکھنے کے ساتھ انہیں کسی بھی حال میں سیاسی سطح پر ابھرنے دینا نہیں چاہتے ہیں۔اس میں کسی پارٹی کی قید نہیں ہے۔اس معاملے میں سب کی فکر ایک ہے اور سب کے سب اسی نظام کے حصے ہیں۔ اس فکر میں انہیں دنیا بھرکے سیاسی بالا دست قوموں کی معاونت بھی حاصل ہے۔ کیونکہ انہوں نے دیکھا ہے کہ ماضی میں مسلمان ایک متحرک قوم رہی ہے اور جہاں گئی ہے وہاں اپنی حکمرانی اور اثر اندازی کی قوت دکھائی ہے۔ان کے پاس اسلحہ کی قوت سے زیادہ دلوں کے مسخر کرنے اور جیتنے کی قوت ہے۔ ان کی آنکھوں میں کوئی جادو ہے جس سے کسی کو نظر بھر کے دیکھ لیے تو وہ اپنی متاع جاں لٹانے کو تیار ہو بیٹھتا ہے۔ انہوں نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے حکومت کے تختے مسلمانوں کی دلبری کے سامنے گھٹنے ٹیک گئے ہیں۔ اس لیے انہیں یہ احساس ہے کہ اگر یہ قوم پھر جاگ گئی، علم کی دولت اور اقتصادی استحکام انہیں حاصل ہوگیا تو سیاسی بالا دستوں کی حکومتوں کے مضبوط تختے مسلمانوں کے سامنے روئی کے گالوں طرح اڑنے لگیں گے۔
                ہمارے پکڑے ہوئے نوجوان مظلوم ہیں۔ مسلمانوں کو ان کے تئیں تمام امتیازات و اختلافات سے اوپر اٹھ کر ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔ ان کی گرفتار ی محض چند افراد کی گرفتاری نہیں بلکہ پوری امت کو نفسیاتی طور پر کمزور کرنے کی سیاست ہے اور مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کو ہندوستان کی تعلیمی، معاشی اور سیاسی سطح پر ابھرنے سے روکنا ہے۔اس لیے تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ان مظلوموں کی حمایت کریں اور رمضان میں ان کے لیے دعائیں کریں۔
                 دہشت گردی کی یہ سیاست سیاست نہیں جنگ ہے۔ اس جنگ کے لیے سیاسی قلا باز دہشت گردی کرتے بھی ہیں اور دہشت کراتے بھی ہیں ۔ عدالتوں میں مسلمانوں کی بے گناہی کا ثبوت اس کی واضح مثالیں ہیں۔ کیونکہ یہ بے قصور مسلمان جن واقعات میں ماخوذ ہوئے تھے وہاں دہشت گردانہ واقعہ تو وقوع پذیر ہوا تھا اور بغیر شواہد وثبوت کے منظم سازش کے تحت قانوں کے رکھوالوں کا ہاتھ بے قصوروں کی جانب بڑھااور قصور وار بے داغ بچ گئے یا بچالیے گئے تو آخر اس کے اصل دہشت گرد تھے کون جو ملک کے اتنے مضبوط سیاسی وانتظامی نظام کے بعد بچ گئے یا بچالئے گئے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان کے سروں پر انہی سیاسی قلابازوں کے دست شفقت رہے ہیں۔ وزارت داخلہ کے سابق انڈر سکریٹری آر وی ایس منی کا ۱۴ جولائی ۲۰۱۳ کو دیا گیا بیان کہ پارلیامنٹ اور ممبئی پر بم دھماکہ دہشت گردی کے خلاف قانون کو مضبوط شکل دینے کے لیے اس وقت کی حکومتوں نے کرایا تھا  اس دعوی کو مزید پختگی بخشتا ہے۔  اور کبھی حالات کو اس رخ پر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں کہ متاثرین دہشت گردی پر آمادہ ہوجائیں۔کچھ عجب نہیں کہ جب سیاسی دہشت گردی کا یہ سلسلہ طویل ہوجائے اور مسلم نوجوان اسی طرح دہشت گردی کی سیاست کے شکار ہوتے رہے تو ان کی آنے والی نسلیں اس ظلم کے خلاف جو راستہ اختیار کریں وہ دہشت گردی کا ہو۔دنیا بھر کے انقلابوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ظلم کے خلاف ہمیشہ تشدد کا راستہ ہی اختیار کیا گیا ہے۔ خود ہمارے ملک میں جو انتہا پسند تنظیمیں ہیں؛ جنہیں دہشت گردی چھوڑ کر دوسرے نام دیئے گئے ہیں؛ کیونکہ دہشت گردی کی علامت مسلمانوں کی لیے مخصوص کردی گئی ہے یا کی جارہی ہے؛ وہ اس لیے پر تشدد ہیں کہ انہیں یہ احساس ہے کہ ان کے خلاف مظالم روا رکھے گئے ہیں۔جب بھی ایسا ہوا ہے وہ ملک کے لیے بہتر رہا ہے نہ انسانیت کے لیے۔ آئندہ بھی اگر ایسا ہوا ؛ جس کی محرک سیاست کی دہشت گردی ہوگی؛ تو نہ ملک کے لیے بہتر ہوگا نہ انسانیت کے لئے۔
                  یہ سیاسی قلاباز اپنی دہشت گردی سے مسلم نوجوانوں کو فکر ، علم ، ہنر اور توانائی کی قوت سے محروم کردینا چاہتے ہیں تاکہ آج ان میں سے جو قوموں کی امامت کا ہنر اور صلاحیت رکھتے ہیں وہ جب لوٹ کر آئیں تب وہ اس لائق ہوجائیں کہ مزدوروں کی صف میں مشین کے کی طرح اپنے کام انجام دیئے جائیں۔ آج جو پائلٹ بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ کل رکشے اور ٹھیلے کھینچنے کے لائق ہوجائیں اور ان میں سے جو لوگوں کو روشنی دکھانے کا کام کر سکتے ہیں وہ لوٹ کر آئیں تو ان کی آنکھیں اتنی بجھ چکی ہوں کہ وہ خود روشنی کے رنگوں کو بھی نہیں پہچان سکیں اور ان کے روزینہ کا انحصار انہی بالا دست طبقوں کی عنایت پر ہو۔تاکہ آج جس طرح گذشتہ پسماندہ قوموں کو تحفظات ومراعات کا احساس دلا کر ان کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اسی طرح مسلمان بھی بالکل کمزور اور ذلیل ہوجائیں گے تب وہ مسلمانوں کو دو کوڑیوں کا تحفظ دے کر حکومتوں میں اپنی نسل در نسل کی بقا کا راستہ ہموار کرتے رہیں ۔

                اس لیے مسلمان حالات کو سمجھیں اور اپنے پکڑے ہوئے نوجوانوں کو گرداب میں پھنسی کشتی کے حوالہ نہ کریں بلکہ ان کی رہائی اور اس سلسلہ کو روکنے کے لی اپنی انتھک کوششیں صرف کریں۔ اس کو فرد کا نہیں پوری امت کا مسئلہ سمجھیں۔


Sunday, 7 July 2013

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

                                ہورے گا نہ کچھ گھبرائیں کیا 

۷؍ جون ۲۰۱۳اتوار کی صبح گیا کے مہا بود ھ مندر پر دہشت گردانہ حملہ ہوگیا۔یہ یا اس جیسا کوئی بھی حملہ کوئی غیر متوقع نہیں تھا۔بس انتظار تھا کہ دہشت پسندوں کو موقع کب ہاتھ آتا ہے اور کس جگہ انجام پاتا ہے۔ کیونکہ دوست سے بڑا دشمن کوئی نہیں ہوتا۔ جب تک انسان دوست رہتا ہے دوست کے لیے اپنی جان نثار کرنے پر بھی اس کے جبین پر شکن نہیں آتی لیکن یہی دوست جب دشمن بن جاتا ہے تو اس کی گزری ہوئی ہر بات اور ہر واقعہ میں دشمنی پسند عناصر کی تفہیم ہونے لگتی ہے۔ ابھی ۲۰ روز قبل تک بہار میں موجود حکومت ایسے دوستوں کے اشتراک سے تھی جس نے ایک دو سال نہیں بلکہ ۱۷ سالوں کی طویل مدت ایک دوسرے کے قدم قدم پر شریک اور وعدہ نبھاتے گزاری تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کی اونچ نیچ کا کبھی برا نہیں مانا۔ لیکن اچانک جب نمو جی انسان دوستی کے مذہبی سبق اور نمو نمہ کے ساتھ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے سامنے آئے اور بی جے پی نے اپنی ۱۷ سالہ رفاقت کی لاج رکھے بغیر اپنے ہم رکاب جد یو کے خیال خاطر کے لیے بھی ان سے ان کی رضا مندی نہیں لی اور نموعرف پھینکو جی کو اس عہدے کے لیے قبول کر لیا ۔ ادھر بہار کی حکومت کے لئے انتہائی کسمپرسی کی حالت تھی کہ حکومت کا کھمبا کہیں نہ کہیں مسلم ووٹوں پر قائم ہے جن کو نمو جی کے ساتھ جد یو کو قبول کرنے میں تردد ہی نہیں انکار بھی ہوسکتا تھا ۔ اس لیے جد یو نے اپنی ۱۷ سالہ دوستی کے شکریہ کے ساتھ ان سے آنکھیں موڑ لیں۔ بہار میں بھلے ہی بی جے پی کے ہی حمایت سے مگر عزت ووقار جد یو کے پالے میں تھااس لیے اب حکومت سے در بدری بی جے پی کے لیے بھی وقار کا مسئلہ تھا۔چنانچہ بی جے پی کارکنان نے بڑے زور و شور سے بہار بند کی حمایت کی اور حتی الامکان اس کو کامیاب بنانے کی کوشش کی۔ اسی دن سے حساس اور با شعور لوگوں کو اس کی توقع تھی کہ ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟ ابھی عدم رفاقت کو دس دن گزرے تھے کہ آئی بی نے پٹنہ کے مہاویر مندر پر دہشت گردانہ حملے کا اشارہ دے دیا۔ حکومت نے اس کے لیے پوری ریاست کو ہائی الرٹ کردیا ۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ ۴ دن قبل سی بی آئی کی تازہ رپورٹ نے گجرات میں فرضی تصادم اور انکاؤنٹر کی شکار عشرت جہاں کو بے قصور قرار دے دیا۔ جو بی جے پی کے لیے شرمندگی کی نہیںتو سبکی کی بات ضرور تھی۔ اس پر سے ان کے پرانے رفیق تازہ رقیب ساتھیوں کو عشرت جہاں کے ظلم کا غم مجبور کرنے لگا اور انہوں نے بہار کی بیٹی اور نہ جانے کس کس ناموں سے اس کو یاد کیا اور مظلوموں کے خلاف اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ ابھی ایک دن کی بات ہے کہ عشرت جہاں کے قاتلوں کے محافظ جناب والا پھینکو جی نے بہار کی سرزمین پر موجود اپنے متوالوں کو صدا بندی وعکاسی کے ذریعہ نہ جانے کیا پاٹھ پڑھائے ۔ اس کے چند گھنٹے بھی نہیں گزرے کہ گیا کے عظیم مہا بودھ مندر پر حملہ ہوگیا۔ حالانکہ سابق کی طرح کچھ بعید نہیں کہ کہیں سے آوارہ برقی خط موصول ہوگا جس میں عشرت جہاں کے بدلہ میں آج کی اس بزدلانہ حرکت کا اعتراف ہوجائے گا اور پھر سابق کی طرح برق گرے گی تو بے چارے مسلمانوں پر۔

Thursday, 27 June 2013

Mobile Mania

موبائل مینیا
                                                                                                                                                                                                                               
                ہر جوان کے ساتھ ایک’’ جوانہ‘‘کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔حالانکہ اب چولی ہے نہ دامن۔ لیکن تو قع ہے کہ جلد ہی دونوں لوٹ آئیں گے البتہ اپنی اپنی جگہیں بدل لیں گے۔ جس کو دامن ہوناچاہیے اس کو صرف چولی ہوگی اور جس کو چولی ہونی چاہیے اس کو صرف دامن ہوگا(اگر شرٹ کی چاک کے نیچے کی چار انگلیوں کو دامن کہا جاسکے)۔اور یہ چولی والے چولے بدل بدل کے پاکدامنوں کے دامن کو اتنی مرتبہ داغدار کریں گے کہ بچی عقل کی کچی کے تن نازک پر دامن کم داغ زیادہ ہوں گے۔اتنا کہ ہمہ تن داغ داغ شد۔ حالانکہ ظالم مردوں نے تو انہیں دفتروں اور بازاروں میں دھکے دے دے کر ان کی نزاکت پہلے ہی چھین لی ہے اور وہ کل تک جن ذمہ داریوں سے آزاد تھیں اب ان کابھی پابند بنا دیا ہے۔ خیر میں کہہ رہا تھا کہ ادھر جوانی نے سر ابھارا ادھر ایک دیوانی کی تلاش شروع ہوگئی۔ کسی نیک ساعت میں جوان کے دل سے نکلنے والی لہر(Wave) نکلی اور کسی دیوانی کے دل کے ٹرانسسٹر سے جاٹکرائی کہ عشق کی ریڈیو بج اٹھی اور پھر دیوانہ وار دونوں ایک دوسرے پر مر مٹے۔ جوانی اور دیوانی کی تلاش کب اور کس نے کی یہ تو وثوق کے ساتھ نہیں بتایا جاسکتا تاہم ہر دور میں دونوں کے درمیان رابطہ ہوتا رہا ہے۔ لیکن بقدر ترقی و ایجادات دونوں کے درمیان کنکشن کی الگ الگ تکنیکیںاستعمال ہوتی رہی ہیں۔
                اساطیر سے اتنا تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے لیے کبھی کبوتر کی خدمات بھی لی جاتی رہی ہے۔ ’’جا کبوتر جا‘‘ ۔ یہ بھی معلوم ہے کہ جب جب دیوانی اپنا سینہ خالی خالی اور دل اڑا ہوا محسوس کرتی لب بام پر دوڑی جا تلاش کرنے لگتی ۔ادھر جوان کے سینہ میں دودل سینے کو بوجھل بنائے دیتا تو وہ اپنا دل ہلکا کرنے دیوانی کی گلی اور محلہ کا رخ کرتا۔ نگاہیں چار ہوتیں اور دل کو دل سے راحت ہوتی۔ کبھی اس کے لیے ننھے معصوم ہاتھوں کوبھی آلود ہ کیا گیا تو کبھی اسکول اور کالجوں میں کتابوں کے تبادلہ سے دل کی بے تابیاں نقش تحریر ہوتی رہیں۔ لیکن یہ سب کچھ پرانی باتیں ہیں۔ اب کسی کے پاس اتنی فرصت کہاں کہ جوانی دیوانی کا انتظار کرے۔ ادھر زندگی کے وجود کا احساس ہوا ادھر زندگی کی پٹری پر گاڑی دوڑانے کے لیے پہیے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ حالاں کہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔سچی بات یہ ہے کہ کبھی پڑوس میں یا رشتہ داریوں میں اسکول کے احاطہ میں ؛یا اب ایک اور جگہ ہے جو زمین پر نہیں اسکرین پرہے؛ اچانک کوئی پہیہ آکر فٹ ہوگیا کہ اور اس کی ناگزیریت کا احساس ہوگیا اور یہیں سے زندگی کے وجود کا بھی احساس ہوچلا اور پھر ہوگئی زندگی کی دوڑ شروع۔ یہ اسکرین موبائل کی ہو کہ فیس بک کی۔ حالاں کہ وقت سے پہلے پہیہ فٹ ہونے اور اسے زندگی کی پٹری پر دوڑانے میں اکثرزندگی کی گاڑی کی رفتار تیز ہونے کی بجائے اور بھی سست ہوجا تی ہے بلکہ اس کو جتنا تیز دوڑا نے کی کوشش کی جاتی ہے رفتار اتنی ہی سست ہوتی جاتی ہے اور اس طرح پہلے ہی راؤنڈ میں چاروں خانے چت۔ اس کے بعد حالت یہی کہ دھوبی کا گدھا گھر کا نہ گھاٹ کا۔
                اب اس کے لیے کبوتر کی ضرورت ہے نہ لب بام پر دل لٹکانے کی کہ کبھی اس کو پانے میں پورا تن ہی تہِ بام آجائے اور پھر اس تن کی روح ہمیشہ کے لیے اس تن میں جاگزیں ہوجائے جس کے لیے وہ لب بام پر دل لٹکائے تھی ،تاکہ وہ تن دونوں جان کے ساتھ کسی اور من کو لبھانے اور پانے کی کوشش کرے اور پھر اس تن من اور دھن کو بھی ہمیشہ کے لیے پالے۔ معصوم ہاتھوں کی بات تو جانے دیں اس لیے کہ وہ خود اتنے معصوم نہیں رہے کہ ان کو اس کام کے لیے استعمال کیا جاسکے ۔ اس میں تو یہی خطرہ بنا رہے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ ذریعہ خود مقصد بن جائے۔ اگر ایسا نہ ہو ا تو یہ تو ممکن ہی ہے کہ یہ ذریعہ بڑی خوبصورتی سے اس کا Track Changeکر کے گاڑی کا رخ کسی اور جانب موڑ دے اور اس میں گاڑی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہو کہ اسے جاناکہاں تھا اور وہ پہنچ کہاں گئی۔ وہ بھی بڑی خوشی سے سوچ لیتی ہے اپنا تو کام ہے کہ جلاتے چلو چراغ۔
                بہر کیف زندگی کی گاڑی میں پہیہ چاہے جیسے فٹ ہوا ہو ؛ مستقل ہو یا وقتی یا جز وقتی؛ ایسے اب اکثر جز وقتی ہی فٹ ہوتے ہیں؛ اس کے چلا تے رہنے کے لیے پیسے ہوں نہ ہوں مگر ان پیسوں سے خریدی ہوئی ایک چھوٹی سی مشین ضرور چاہیے جس میں ڈائل کی سہولت ہو نہ ہو فاسٹ ڈائل کی سہولت ضرور ہونی چاہیے۔ کیونکہ خم آئے گا صراحی آئے گی تب جام آئے گا پر کسی کو بھروسہ نہیں رہا۔ اب یہ نام پر جان نچھاور کرنے والے دل مچلنے پر نام کی تلاش یا دس اعداد کو دبانے تک کہاں رک سکتے ہیں ۔ دل مچلا اور ایک ہی بٹن سے محبوب کی رسائی ہوجائے ۔ حالانکہ امکان ہے کہ اس کے ساتھ کے آٹھ مزید بٹن بھی کسی نہ کسی کی نذر ہی ہوں گے اور یہ تو اس دلدار کو بھی نہیں پتا کہ ان میں سے کون ایک سے نو میں زیادہ نزدیک ہے۔اگر ان میں سے کسی نے ناز وادا دکھائے تو بے چارہ جان چھڑکنے والا بھی اپنی جان پر اتنا قابو کہاں رکھتا ہے کہ وہ تیرے ہی نام کا انتظار کرے ۔ وہ تو جھٹ کہہ اٹھتا ہے تو نہیں تو اور سہی اور نہیں تو اور سہی۔
                 ڈھکے چھپے ہو کہ چوری چھپے دل لے کر دل دے کر مر مٹنے والوں نے اس مشین کے پہلے ایڈیشن کابھی استعمال کیا ہوگا ۔ مگراب چوری چھپے کی ضرورت نہیں رہی اس لیے کہ اب وہ چھوٹی سی مشین ہی چور کی طرح چھپ جاتی ہے جو لحاف کے اندر سے محبوب کے دل کو دستک دے دیتی ہے اور پارک کنارے کھڑے ہو کر دندان سبز کی مدد سے بات کیجئے سننے والوں کے لیے مجنوں کی بڑ سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ پہلے زمانے جب کوئی روڈ چلتے بولتے چلتا تھا تو وہ مجنوں ہوتا تھا یا حاضر غائب اور اب اس مشین نے مجنوں کے دماغی توازن کو بھی شبہ میں لا کھڑا دیا ہے کہ وہ بک بک کر رہا ہے یا موبائل پر کسی سے بات کر رہا ہے۔ اس میں عجیب عجیب طرح آلات ملنے لگے ہیں اور جو اس دھندے کو آسان بناتے ہیں۔ پہلے تو ایئر فون ہوتے تھے اور اب آئی فون بھی ہوگیا۔
نا مکمل

Wednesday, 5 June 2013

کیوں بکتے ہیں دست ہنر


عجب چیز ھے یہ دست ھنر بھی !!!
پہلے کاٹ لئے جاتے تھے اب خرید لیے جاتے ہیں

 ایک راجا تھا ۔ بہت با ذوق ۔ اچھی اچھی اور خوبصورت عمارتوں کا اسے بڑا شوق تھا۔ اس نے دنیا بھر سے ماہر کاریگر بلائے اور ان سے عمارتوں کے خاکے بنوائے۔ جنہوں نے اچھے سے اچھا نقشہ بنا کر پیش کیا ان کو اپنے دربار میں رکھ لیا ۔ بڑی آؤ بھگت کی اور انہیں عمارت بنانے کا حکم دیا۔ عمارت میں استعمال ہونے والے سامان فراہم کرائے اور ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مزدور بھی دیئے گئے۔ عمارتیں تیار ہوگئیں ۔ بڑی عالیشان۔ دنیا میں انوکھی ۔ دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے ۔ سارے عالم میں ان عمارتوں کی شہرت پھیل گئی۔بہت دور دورسے لوگ دیکھنے آتے اور دیکھ کر اپنی غریبی پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتے۔ لیکن وہ زمانہ بہت پرانا تھا۔ ترقی و ایجادات نے پر نہیں پھیلائے تھے۔ جو چیزیں استعمال میں آجاتیں وہ دوبارہ کام کے لائق نہیں رہتیں۔ ابھی Recycle یعنی استعمال شدہ چیزوں کو شکل بدل کر دوبارہ استعمال کرنے کی تکنیک ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ جب کوئی عمارت بن کر پوری طرح تیار ہو جاتی تو بادشاہ اس عمارت کے اصل معمار کو بلاتا خوب انعام و اکرام سے نوازتا ۔ اس کے بال بچوں اور گھرانوں کی ساری زندگی کے خرچے اٹھالیتا ۔ چونکہ اس معمار کے دست ہنر کا استعمال ہو چکا ہوتا اس لیے ان کو دنیا میں ناکارہ چھوڑ دینے کے بجائے تراشوادیتا۔ لیکن راجا تھا انسان ۔ اسے یہ بات تکلیف دیتی کہ ایک شخص جس نے اسے اتنی خوبصورت عمارت دی، ساری دنیا میں اس کا نام روشن کیا، اسے اس نے ہاتھوں سے محروم کردیا۔ وہ سوچتا رہا کہ کیوں نہ ایسی ترکیب نکالی جائے کہ اس کے ہاتھ بھی بچ جائیں اور ان کو ایسے کاموں میں لگادیا جائے کہ وہ کسی دوسرے شخص کے لیے اس طرح کی عمارت نہ بناسکے۔ایک دن اس نے اپنے دیس کے عقل منددوں، وزیروں اورماتحتوں کو بلایا اور ان کے سامنے اپنی تکلیف بیان کی۔ اس کے ایک وزیر با تدبیر کو ایک دن بہت آسان ترکیب سوجھی اور اس نے Recycle کی تکنیک ایجاد کی اور استعمال شدہ چیزوں کا دوسرا کم تر استعمال کرنے لگے۔یہ نئی تکنیک تھی دست ہنر کو کاٹنے کے بجائے خرید نے کی۔ اب کسی ہنر مند کو اپنے نادر و نایاب فن کے اظہار کے بدلے ہاتھ کی قیمت نہیں دینی پڑتی۔اب جب کوئی شخص اپنے نادر فن کا اظہار کرتا تو دربار میں اسے بلایا جاتا اور اس شرط پر کہ وہ یہ کام کسی دوسرے کے لیے نہیں کرے گا اس کو زر و جواہرات میں تول دیا جاتا ۔
                اس فائز المرام بہشت مقام ظل الٰہی کے اس فلاحی سوچ کے فائدے اس زمانے میں کتنے کو ملے میں نہیں جانتا لیکن اب تو خوب ملتے ہیں۔ جب کوئی ایسا فن کا ر پیدا ہوتا ہے دربار اس کا انتخاب کر لیتا ہے۔ چند دنوں پہلے ہمارے ہاں ایک ہنر مند پیدا ہوئے ۔ ان کا جوہر ان کے قلم میں تھا۔بڑ ابے باک ۔ حق کا طرف دار۔ سچائی کا مظہر۔ ان کے اس بےباک قلم نے ہر قاری کو اپنا گرویدہ بنا لیا ۔ مجبور ں ، مقہوروں اور مظلوموں کی اس نے ایسی حمایت کی ہر شخص ان کے قلم کے در نامدار کو پڑھنے کو بے قرار رہنے لگا۔ اچانک ایک دن ان کا سیفر کا قلم تاریخی سینچوری مارنے والے بلے کی طرح مہنگے داموں خرید لیا گیا۔خدا کو معلوم یہ ان کے دست ہنر کا فیضان تھا یا قلم کی کرامت تھی کہ اس کے بعد ان کا دست ہنر معمولی قلم سے اپنے جوہر کا وہ اظہار نہیں کرسکا ۔یوں کہیے کہ مرگ  ناگہانی کا شکار ہو گیا۔
                حالانکہ موجودہ دور کی بھی یہ کوئی پہلی کہانی نہیں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کا جوہر کھلنے کا بعد اپنی قیمت وصول کرتا ہے اور کچھ کھلنے سے پہلے پرکھ لیے جاتے ہیں اور انہیں اپنے فن کی قیمت ملنے لگتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس لیے ہی اپنے اندر وہ جوہر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دربار کی نظر عنایت ان پر مرکوز ہو اور انہیں ان کے فن کا بھر پور صلہ مل سکے۔ اور صلہ بھی خوب ہے کہ پہلے فن کا اعلی اظہار ہونے پر ہاتھ کاٹ لئے جاتے تھے اور اب فن کا اظہار نہ کرنے پر بخشش ہوتی ہے۔
                لیکن آفریں صد آفریں کہ پہلے فن کار ہاتھ کٹا کر ہمیشہ کے لیے سرخرو ہو جاتا تھا اور اب ہائے بدبختی کہ ہاتھ بچا کر ابھی سرخرو ہو بھی جائے تو ہمیشہ کے لیے رو سیاہ ہو جاتا ہے۔پہلے ہاتھ کے بدلے جاودانی ملتی تھی اب دولت کے عوض گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ پہلے کرنے کا انعام تھا اب نہ کرنے کا صلہ ہے۔ پہلے کوئی کوئی ہوتا تھا اب بہت ہوتے ہیں۔ پہلے قوم کے لیے قابل افتخار ہوتا تھا اب باعث ننگ و عار ہے۔
٭٭٭


Friday, 8 March 2013

Review Writing - Technique and Opportunity

تبصرہ نگاری -تکنیک اور مواقع
                                                                                                                                                               
                دور حاضر میں تبصرہ نگاری ایک اہم ادبی صنف کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ تنقید و تبصرہ ایک دوسرے سے ملتی جلتی چیزیں ہیں۔ کسی تصنیف ، کلام یا واقعہ کے متعلق سرسری طور پر بحث و مباحثہ کے لیے جب رائے کا اظہار کیا جاتا ہے تو اسے تبصرہ کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد کسی کتاب کے جو ہر کا پتہ لگانا اور اسے اجمال یا تفصیل کے ساتھ پیش کرنا اور جو کچھ کہا جائے اس سے کتاب کی اہم ترین خصوصیتیں واضح ہو جائیں۔ ہر چند کہ تبصرہ نگاری کے لیے ادب کا طالب علم ہونا ضروری نہیں ہے البتہ ادب کے طالب علموں کے لیے زبان پر عبور ہونے کی وجہ سے بمقابلہ دیگر طلبہ زیادہ مواقع ہیں۔ لیکن یہ یاد رہنا چاہیے کہ تبصرہ نگاری میں زبان ہی سب کچھ نہیں ہے ۔ کیونکہ آج تبصرہ نگاری ادب کے احاطہ سے باہر معاشیات اور سماجیات وغیرہ کے میدان میں قدم رکھ چکی ہے۔ذیل میں تبصرہ نگاری کے میدان ، اس کی تکنیک اور اصولوں کے بارے میں چند معلومات درج کی جاتی ہیں۔ صحافت یا طباعت کی تجارت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ان اصولوں کی واقفیت بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔
                تبصروں کی تحریر میں توازن بہت ضروری ہے۔ تبصرے کا انداز دلکش اور عالمانہ ہوتا ہے اور ایک اچھے تبصرہ میں تلخی نہیں پائی جاتی ہے۔ تبصرہ نگار کو وسیع معلومات کا حامل ہونا چاہیے۔ اوسط قاری بہت سے مضامین میں اپنی واقفیت کو بہت محدود سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ مبصر کی رائے پر اعتماد کرتا ہے ۔ لہذا تبصرہ میں صرف حقائق کا بیان ہو اور افترا پردا زی سے حد درجہ پرہیز کرنا چاہیے ۔ کوشش کی جائے تبصرہ معلومات ہو اور اس کا مقصد رہبری ہو۔
                ادبی مجلّا  ت میں تبصرے کے لیے ایک گوشہ مخصوص ہوتا ہے۔ بعض مجلّات ایسے ہوتے ہیں جن میں صرف تبصرے ہی شائع ہوتے ہیں ۔ اس کے لیے وہ مختلف ادیبوں اور دانشوروں سے تبصرے لکھواتے ہیں ۔ صحافت سے دلچسپی رکھنے والوں کو تبصرے بھی لکھنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی آزادانہ طور پر بھی تبصرہ لکھنا چاہے تو لکھ سکتا ہے لیکن ایک مجلّہ کو تبصرہ دینے کے بعد دوسرے مجلّوں کے لیے اس کتاب پر تبصرہ نہیں لکھنا چاہیے۔ تبصرہ کے لیے ہمیشہ نئی کتاب کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اگر کسی پرانی کتاب پر تبصرہ لکھنا ہو تو ضروری ہے کہ یہ منفرد ہوا ور زیر نظر کتاب کو نئے تناظر میں پیش کیا جائے ۔ ایسے اپنی پسند کی کتابوں پر تبصرہ اچھا ہوتا ہے۔
                بعض ادبی  مجلّے تبصرہ کا کام تفویض کرتے وقت ایک ہدایت نامہ بھی ارسال کرتے ہیں جس میں تبصرہ کے اندر الفاظ کی تعداد اور تبصرہ کی پیش کش کے انداز وغیرہ کی ہدایت دی جاتی ہے ۔ ہوسکتا ہے اسی کے ساتھ تبصرہ کی ایک نمونہ کاپی بھی منسلک ہو۔ اگر ایسا ہو تو مبصر کو ان ہدایات کا لحاظ کرتے ہوئے تبصرہ لکھنا چاہیے ۔ تبصرہ کے لیے مجلّوں کو کتاب کی دو کاپیاں موصول ہوتی ہیں۔ ایک کاپی مبصر کو دی جاتی ہے ۔ تبصرہ کے بعد مبصر یہ کتاب اپنے پاس محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ اگر کسی وجہ سے مجلّہ کی ہدایت ہو کہ تبصرہ کے بعد کتاب واپس کردی جائے تو مبصر اخلاقی تقاضا کا لحاظ کرتے ہوئے کتاب واپس کردے۔ اگر مبصر کو مجوزہ کتاب موصول نہیں ہوئی ہے تو جتنا جلد ممکن ہو حاصل کرنا چاہیے ۔ مبصر کے لیے وقت کی پابندی لازمی ہے۔ لازمی طور پر مجلّہ کو متعینہ وقت میں اپنا تبصرہ ارسال کردینا چاہیے، تاکہ مجوزہ شمارہ میں اس کو شامل کیا جاسکے۔ تاخیر کی صورت میں مواد کی تکمیل میں ایڈیٹر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں تبصرہ نگار کی شخصیت اس کی نظر میں مجروح ہو جاتی ہے اور آئندہ اسے یہ کام تفویض کرنے وہ میں احتیاط برتتا ہے۔
                تبصرہ کی اشاعت اس بات پر مبنی ہے کہ اس میں کتاب کی بنیادی بحث کا خاکہ پیش کیا گیا ہو اور کتاب کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ کیا گیا ہو۔ بہتر ہوگا کہ یہ وضاحت بھی کردی جائے کہ یہ کتاب کس طرح کے لوگوں کے لیے زیادہ کار آمد ہے۔ اس کے باوجود مجلّہ کو تبصرہ میں ترمیم یا عدم اشاعت کا پورا اختیار ہوتا ہے۔
                تبصرہ کی بنیادی شرط کتاب کا راست اور ذاتی مطالعہ ہے ۔ اگر کتاب نہیں پڑھی جائے گی تو کتاب کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ ممکن نہیں ہوگا اور تبصرہ میں غیر درست معلومات بیان ہوسکتی ہیں جو مبصر کے لیے مناسب نہیں ہے ۔ کیوں کہ تبصرہ لکھتے ہوئے وہ ایک ذمہ دار شخص ہوتا ہے ۔ تبصرہ لکھنے والے کو نہایت باریک بینی کے ساتھ کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ دوران مطالعہ ذہن میں ابھرنے والے ضروری نکات کتاب کے حاشیے پر بطور یاد داشت قلم بند کر لینا چاہیے تاکہ تبصرہ لکھتے وقت کوئی ضروری نکتہ چھوٹ نہ جائے۔ تبصرہ لکھنے سے قبل چند بنیادی اور لازمی امور کی طرف توجہ دینا بھی ضروری ہے۔
                تبصرہ میں اس کی وضاحت ضروری ہے کہ کتاب کا موضوع کیا ہے؟ ساتھ ہی اگر مصنف کتاب لکھنے کا کوئی خاص مقصد رکھتا ہے تو تبصرہ میں اس کی وضاحت بھی کرنی چاہیے ۔ مقصد کے حصول کے لیے کتاب کے نام ، تمہید اور تعارف کا بغور جائزہ لیا جائے۔ موضوع کے انتخاب میں کوئی خاص پس منظر کار فرما ہوا کرتا ہے جو مصنف یا ادیب کو اختیار پر مجبور کرتا ہے۔
کتاب کا نام: کتاب کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ کتاب کا نام تجویز کرنے کی بھی کوئی مخصوص وجہ ہوا کرتی ہے۔ مبصر کو غور کرنا چاہیے کہ کتاب کا نام موزوں ہے یا غیر موزوں ؟ لیکن اس کا تعین پوری کتاب کے مطالعے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔ بعض اوقات کتاب کے ابتدائی مباحث میں نام کے تعلق سے ابہام پایا جاتا ہے۔ اسی طرح کتاب کے نام سے غلط تاثر بالکل قائم نہیں ہونا چاہیے۔ کبھی کبھی کتاب کا نام دیکھ کر قاری بہت سی امیدیں وابستہ کر لیتا ہے لیکن کتاب میں محض اس کی جھلک ہی دکھائی دیتی ہے ۔ مبصر کو اس پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔
                کتاب کے متن سے گزرتے ہوئے مبصر کو احساس ہوتا ہے کہ کتاب کس انداز کی ہے اور کس رنگ میں لکھی گئی ہے۔ اس کی تشخیص کے لیے مباحث کے عناوین اور ذیلی سرخیوں پر غور کرنا چاہیے۔ دوران مطالعہ کتاب کے مرکزی خیالات پر بھی نظر رہنی چاہیے۔ مصنف چند مخصوص الفاظ یا اصطلاحوں کا استعمال کرتا ہے جن سے اس کے نظریات کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایک اچھی کتاب کے اندر نظریات میں داخلی ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور ایک اچھے مصنف کا نظریہ بتدریج اور منطقی طور پر ارتقا پاتا ہے۔ اچھے مصنف کے خیالات میں تضاد نہیں پایا جاتا ہے۔ خیالات میں تضاد سے مصنف کی خود اعتمادی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے اور یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ اخاذ طبیعت کا مالک نہیں ہے۔ ایسے بہت سے مصنف زیر بحث معاملہ میں کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ پاتے ہیں اور دوسروں کے فیصلہ پر انحصار کرتے ہیں۔ مبصر کو ان کی گرفت کرنی چاہیے۔
                اس کے بعد ان مباحث کا جائزہ لینا ضروری ہے جن کو اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ مبصر کی نظر اس پر رہنی چاہیے کہ مصنف کی فکر سطحی ہے یا عالمانہ۔ اس کے نظریات کس طور پر ارتقا پذیر ہوئے ہیں۔ پھر ان متعلقہ مباحث پر بھی غور کرنا چاہیے جو اس کتاب میں بیان نہیں ہوسکے ہیں۔ مصنف کا یہ طرز عمل کسی خاص مقصد کے پیش نظر بھی ہوسکتا ہے ۔ مبصر کو اس سے دلچسپی ہونی چاہیے کہ اس نے ایسا عمداً کیا ہے یا یہ فرو گذاشت کسی سہو کا نتیجہ ہے۔ ممکن ہے مصنف تعصب سے کام لے رہا ہو۔ اس فرو گذاشت سے کتاب میں اگر کوئی نقص پیدا ہوا ہو تو مبصر کو اس کا اظہار کرنا چاہیے۔ شاید توجہ مبذول ہونے پر اگلے ایڈیشن میں مصنف یہ کمی پوری کردے۔
                اگر کتاب دوبارہ شائع ہوئی ہے تو مبصر کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس ایڈیشن میں کوئی اضافہ ہوا ہے یا نہیں؟ یہ اضافہ کس قسم کا ہے ۔ اس اضافہ سے کتاب میں کیا خوبی پیدا ہو گئی ہے۔
                اگر کتاب کا تعلق ادب سے نہیں ہے تو اس فن کے بنیادی اور ثانوی ذرائع کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھنا چاہیے کہ مصنف نے ان ذرائع سے استفادہ کیا ہے یا نہیں؟ بنیادی ذرائع سے کام لیتے ہوئے اس نے اس میں کیا کوئی جدت پیدا کی ہے؟ اسی طرح ثانوی ذرائع سے اس نے کس طور پر استفادہ کیا ہے ؟ متعلقہ ثانوی ذرائع کا تنقیدی جائزہ لینا چاہیے۔ مبصر کے لیے ضروری ہے کہ وہ متعلقہ فن کی تاریخ ، قوانین و ضوابط اور جدید ارتقا سے ضروری واقفیت رکھے ۔ کتاب میں کوئی Special Featureمثلاً نقشہ جات اور تصاویر وغیرہ ہوں تو اس کی جانب اشارہ کرنا چاہیے۔ اس سے کتاب کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔
                شعری مجموعہ کا تبصرہ کرتے وقت اس میں شامل مختلف اصناف کا ذکر کرنا چاہیے ۔ تبصرہ کرتے وقت غور کرنا چاہیے کہ اس زبان کی شاعری کی مانوس بحروں یا میٹر س میں کتنی کو شاعر نے اس مجموعے میں استعمال کیا ہے۔ مختلف اصناف میں طبع آزمائی اور مختلف بحروں کا استعمال شاعر کے قادرالکلامی پر دلالت کرتا ہے۔ مبصر کو علم عروض اور علم بیان کے ساتھ زبان کا باریک علم رکھنا ضروری ہے۔روزہ مردہ، محاوروں اور زبان وبیان کی غلطیوں پر گرفت زبان وادب کی کتابوں کے تبصرہ میں نہایت ضروری ہے۔ یہ بھی قابل توجہ ہے کہ شاعر کے خیالات اپنے ہیں یا مستعار۔ اس کے تخیل میں بلند پروازی ہے یا عامیانہ پن؟ شاعر کے تجربات وسیع ہیں یا نہیں؟ تجربات میں صداقت اور اصلیت پائی جاتی ہے یا نہیں؟ مضامین پیش پا افتادہ ہیں یا جدید اس کا انحصار ادیب کے تجربات اور مطالعہ ومشاہدہ پر مبنی ہے۔ نظر میں رکھنا چاہیے کہ اس کے ہاں جذبات کی شاعری ہے یا تصورات کی؟ جذبہ میں صداقت ہے یا نہیں؟ اس کی شاعری فوری اپیل کی شاعری ہے یا قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور بصیرت بخشتی ہے۔ اس کی شاعری میں داخلیت اور خارجیت ، غم دوراںاور غم جاناں کا بیان اور ان کے درمیان امتزاج پیدا ہوا ہے یا نہیں؟ ادبی کتابوں پر تبصرہ کرتے وقت اس ادب کے مختلف ادبی تصورات وتحریکات اور تعبیرات مثلا اردو میں کلاسیکیت ، ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت تجریدیت وغیرہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کے ادبی رویہ کا جائزہ لینا چاہیے۔ لیکن یہ قطعی ضروری نہیں کہ ان ادبی تصورات کے چوکھٹے میں مقید ہوکر ہی ادیب اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ تبصرہ میں اس پر بھی نظر رکھی جاتی ہے کہ ادیب روایات کا پاسدار ہے یا اس سے منحرف ؟ عمدہ انحرافی رنگ میں جدت آمیزی کا غلبہ ہوتا ہے اور اچھی شاعری میں روایت سے انحراف کے باوجود اس کا رشتہ اس سے گہرا اور مضبوط ہوتا ہے۔ تبصرہ میں یہ بھی تلاش کرنا چاہیے کہ شاعر نے اپنی شاعری میں عصری حسیات کو جگہ دی ہے یا اس کا رجحان رومانیت کی جانب ہے ؟ اگر شاعری کا موضوع حسن وعشق ہے تو اس میں پاکبازی ہے یا ابتذال وسوقیانہ پن؟ محبوب کا تصور اس کے ہاں زمینی ہے یا ماورائی؟ اس کے عشقیہ جذبات میں کس حد تک صداقت پائی جاتی ہے؟ اس کے خیالات میں حوصلہ او رولولہ کی بانگ ہے یا اس کا طبعی میلان حرمان ویاس کی طرف ہے؟ بیان میں شگفتگی  ورعنائی ہے یا مشکل پسندی اور ثقالت؟ تخیل کی تازگی اور فرسودگی بھی قابل نظر امر ہے۔ زیر نظر کتا ب میں سنجیدہ شاعری ہے یا مزاحیہ اس کی طرف بھی اشارہ کرنا چاہیے۔شعری نوعیت مثلا پابند، آزاد اور نثری نظم وغیرہ کا اشارہ بھی ہونا چاہیے۔ موضوع کے ساتھ ساتھ مصنف یا ادیب کے ادبی رجحان کا جائزہ بھی لیا جانا ضروری ہے۔ مبصر کو نظر رکھنی چاہیے کہ اس کا رجحان ادب برائے ادب ہے یا ادب برائے زندگی ؟اسی طرح اگر ادب کے مروجہ پیٹرن سے الگ کوئی نیا تجربہ کیا گیا ہے تو اس کے روشن یا تاریک امکانات کی نشاندہی کی جانی چاہیے۔
مصنف کا پس منظر:    تبصرہ میں مصنف کے پس منظر کا جائزہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بطور خاص اگر کتاب کا تعلق تخلیقی کاموں مثلا فکشن، شاعری اور ڈرامے وغیرہ سے ہو۔ پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے مصنف کی نسل ، قومیت اور خاندان سے دلچسپی رکھنا چاہیے۔ ساتھ ہی اس عہد کے ان سماجی ، ثقافتی ،مذہبی اور سیاسی ماحول کو بھی نظر میں رکھنا چاہیے جن میں اس کی پرورش ہوئی اور اس کے افکار وخیالات متاثر ہوئے ہیں۔ مصنف کی سیاسی ، سماجی ، ادبی اور مذہبی وابستگی کے پیش نظراس کی تعلیمی لیاقت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہیں یہ پتہ چلتا ہے کہ موجودہ کام پر ان عوامل کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اگر صاحب کتاب اس سے قبل بھی کتاب لکھ چکا ہے تو اس سے اس کا کیا تعلق ہے۔ اس کا ذکر قاری کے لیے مفید ہوتا ہے۔ تجربہ کار مصنف کی کتابیں پسند کی جاتی ہیں۔ صاحب کتاب کے پس منظر کا جائزہ مبصر کے لیے رائے قائم کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتا ہے اور شعری رویہ کے ارتقا میں تو یہ کار آمد عامل ہے۔
تبصرہ کا خاکہ:              کتاب کے مطالعہ اور تفہیم نیز مصنف کے پس منظر کے جائزہ کے بعد تبصرہ کا خاکہ تیار کرنا چاہیے۔ تبصرہ کی ابتدا میں چند بنیادی معلومات دینا لازمی ہے۔
                نام کتاب:                       مصنف:                       ملنے کا پتہ:                      ناشر:                       
                ایڈیشن:                        صفحات :                      قیمت:
                ان معلومات کے اندراج کے بعد تبصرہ کا پہلا مسودہ تیار کرنا چاہیے۔ تبصرہ کا مضمون تمہید ، ارتقا اور خاتمہ پر مشتمل ہونا چاہیے۔
تمہید: موثر تمہید قاری کی توجہ فورا اپنی جانب مبذول کرلیتا ہے۔ جملہ کی ابتدا ”زیر نظر کتاب“ جیسے بے لطف فقرے کی بجائے ایسی مختصر سی تمہید سے کرنا چاہیے جو کتاب اور صاحب کتاب سے وابستہ ہو۔ گرچہ اس سے قبل کتاب اور صاحب کتاب کے نام درج کیے جا چکے ہیں تاہم تمہید میں بھی انہیں شامل کرنا چاہیے۔ اس سے قاری اور مضمون کے درمیان ایک رشتہ استوار ہوجاتا ہے اور قاری خود کو مبصر کے ہمراہ محسوس کرتا ہے۔
                تمہید ہی میں کتا ب کے مرکزی خیال کو پیش کر دینا چاہیے۔ ساتھ ہی تبصرہ ایسا ہونا چاہیے کہ قاری کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ کتاب کا انتخاب کیوں کرے ۔ اسی طرح کتاب کے نوع کا تعین بھی ابتدا ہی میں ہوتا ہے اور یہ بھی اسی جگہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ کتاب کس انداز کی ہے۔ معماتی ہے ، مہماتی ہے یا رومانی؟ اس کتا ب میں کس طرز کو اپنایا گیا ہے؟ مبصر کی نظر میںاس کتاب کا اسلوب پسندیدہ یا ناپسندیدہ کیوں ہے ؟ کتاب دلچسپ ہے یا نہیں؟ کیا کتاب اپنے مقصد میں کامیاب ہے؟ مصنف کے خیالات کیاہیں؟ ان امور پر غور کرنے کے بعد ہی مبصر کو آگے بڑھنا چاہیے۔ اچھے مصنف کے بیان میں وضاحت اور قطعیت ہوتی ہے۔ بیان میں ابہام اور پیچیدگی پیدا ہونے سے قاری کا ذہن بھی الجھ جاتا ہے ۔ نتیجتاًوہ پوری کتا ب کا مطالعہ نہیں کرپاتا۔ مزید برآں کتاب پر خرچ ہونے والی رقم پر افسوس ظاہر کرتا ہے۔
ارتقا:اچھے تبصرہ میں کتا ب کی صحیح قدروقیمت متعین کی جاتی ہے اور جہاں تک ممکن ہو یہ واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مصنف کا انداز نظر کیا ہے؟ یہ وضاحت بھی ضروری ہوجاتی ہے کہ ذرائع کے اختیار وانتخاب میں مصنف کی شخصیت کا کیا اثر مرتب ہوا ہے؟ ایسا کرنے پر تبصرہ ایک مضمون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ لیکن یہ تفریق قائم رہتی ہے کہ اس میں کتاب کی کوئی بحث یا حصہ شامل نہیں کیا جاتا ۔ البتہ کسی نکتہ کو عیاں کرنے کے لیے بعض اقتباسات شامل کیے جاسکتے ہیں۔ تبصرہ میں کتابیات سے اعتنا نہیں کیاجاتا ہے۔ اچھی تصنیف اپنے فن میں ایک علمی اضافہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
خاتمہ:تبصرہ کا اختتام کتاب کی خوبیوں اور خامیوں کے تجزیہ کے ساتھ ہونا چاہیے۔ لیکن کمپوزنگ کی خامیوں جیسی معمولی فروگذاشت کو نظر انداز کردینا ہی بہتر ہے۔ خوبیوں اور خامیوں کے بیان میں اعتدال اور غیر جانب داری لازمی ہے۔ خامیوں کی نشاندہی میں سنجیدگی کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔ نہ ہی تعریف میں بے جا رطب اللسان ہونا مبصر کے لیے زیبا ہے۔ مصنف کی تضحیک مبصر کو زیب نہیں دیتی کیوں کہ مبصر کی شخصیت سنجیدہ اور پر وقار ہوتی ہے۔ یوں بھی تبصرہ کا مقصد خامیوں کا شمار ہے بھی نہیں اور نہ ہی مبصر کو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرنا چاہیے۔ خاتمہ کو تمہید میں پیش کردہ خیالات سے مربوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور تبصرہ کا اختتام منطقی ہونا چاہیے۔ کتاب کے معنوی تجزیہ کے ساتھ اس کی صوری حالت کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔ مثلا اس کا کاغذ ، حسن ترتیب اور سرورق کی جاذبیت وغیرہ ۔ ان کے جائزہ سے مصنف کے ذوق جمال کا پتہ چلتا ہے۔ تبصرہ میں اس بات کا اظہار ہونا چاہیے کہ کتاب کے تعلق سے مبصر کا احساس کیا ہے اور وہ ایسا کیوں محسوس کررہا ہے۔ اس سے تبصرہ عمیق ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ کتاب صاحب کتاب کے ذہن کی اپج ہے۔
                ایک اچھا تبصرہ مبصر کی گراں قدر رائے ہوتی ہے جس سے قاری کی رغبت کتاب سے بڑھتی ہے یا وہ اس سے باز رہتا ہے۔ مبصر کو ہمیشہ اپنی ذمہ داری ملحوظ رکھنی چاہیے۔ تبصرہ میں کتاب سے متعلق ایسی معلومات دینے سے حد درجہ پرہیز کرنا چاہیے جس سے قاری گمراہ ہوجائے ۔ اس سے مبصرکی شخصیت بھی بری طرح متاثر ہوگی اور ذمہ دار قاریوں کا اعتبار ختم ہوجائے گا۔ پھر اس کی تبصرہ کردہ بہت سی لائق کتابوں سے قاری گریز بھی کرنے لگیں گے۔
                ادبی مجلّا  ت کے لیے لکھے جانے والے تبصرے مختصر ہوا کرتے ہیں۔ لیکن بعض ضخیم کتابوں کے تبصرے طویل بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ایسے تبصرے عام طور پر کتاب کی صورت میں علاحدہ شائع ہوتے ہیں۔
ززز

Saturday, 2 March 2013

Origin of Indian Mujahedin

کہاں ہے انڈین مجاہدین کا سرچشمہ
                                                                                                                               
پچھلی دو دہائیوں سے ہمارا ملک دہشت گردی کی لعنت سے دوچار ہے۔ یہ دہشت گرد کون ہے اور وہ دہشت گردی پر آمادہ کیوں ہے ملک اپنے پورے نظام کا استعمال کرنے کے باوجود کسی حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکا ہے اور اگر پہنچ بھی گیا ہے تو کم از کم اتنا تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ حکومتیں نہ جانے کیوں اس سچائی کو سامنے لانا چاہتیں یا اس سچائی کا سامنا نہیں کرسکتیں اس لیے اس کا رخ پھیرے ہوئی ہیں۔ اگر ہم موجودہ صورت حال میں بھی دہشت گرد پتا لگانا چاہیں تو کچھ قطعیت کے ساتھ کہنا بے جا ہوگا۔ چونکہ ملک کی ایک تنظیم آر ایس ایس جس کے ایجنڈے میں ہندو راشٹر کا نظریہ ایک اہم بنیاد رہا اور اس فرقہ واری نظریہ کو عملی رخ دینے کے لیے روادار طور اختیار کرنے کے بجائے فرقہ وارانہ اور پر تشدد طریقہ اختیار کیا جاتا رہا ہے اور تنظیم اور اس کے اراکین کئی محاذ پر دہشت گردانہ عمل میں ملوث ر ہے ہیں، جس کی ایک واضح مثال مبلغ اہنسا موہن داس کرم چند گاندھی کے بہیمانہ قتل کا جرم بھی اسی تنظیم کے سر ہے، اور کبھی یہ احساس نہیں ہوسکا ہے کہ تنظیم نے اسے ایک کرتوت سمجھنے کے بجائے کارنامہ نہ سمجھا ہو، مالیگاؤں اور مکہ مسجد دھماکے بھی ان انہی کی کارستانیوں کا نتیجہ ہے، اس لیے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ملک میں جتنی دہشت گردی ہوتی ہے ہر ایک کے پیچھے آر ایس ایس کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم یہ بھی دعوی نہیں کرسکتے کہ کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں ہوسکتا یا دہشت گردانہ مزاج نہیں رکھ سکتا ۔بلاشبہ اسلام میں ناحق قتل نفس حرام ہے (حق و ناحق کی تعیین کسی Established حکومت کے متوازی کسی فرد یا جماعت کو نہیں ہے ) اگر کوئی شخص اسلام کے حرام کردہ امر کو حلال سمجھتا ہے تو وہ مسلمان نہیں ہے ۔ظاہر ہے ایسی صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں ہوسکتا ۔ لیکن ایسا تو ہوہی سکتا ہے کہ کوئی فرد یا جماعت جو مسلمانوں میں سے تعلق رکھے اور بعض سیاسی ، سماجی ونفسیاتی وجوہ سے گمراہی کا شکار ہوجائے اور دہشت گردی کے کرے یا دہشت گردانہ مزاج رکھے۔ اگر ایسا کرتا ہے یقیناً اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ الغرض اصل دہشت گرد کون ہے حکومت اس راز کو افشا کرنے کی یا تو ہمت نہیں جٹا سکی ہے یا اسے عمداً دوسرا رخ دے دیا گیا ہے۔ شروع میں ہر دہشت گردی کے پیچھے سیدھے آئی ایس آئی کا ہاتھ نظر آیا۔ اس کے بعد درمیان میں لشکر طوئبہ ، ہوجی بھی نظر آنے لگی اور اب انڈین مجاہدین کا ۔ گو کہ اب بھی ان کے آقا پاکستان میں ہی بتائے جاتے ہیں لیکن اس کی زد میں سارے ہندوستانی آتے ہیں اور امتیاز ہوتا ہے تو صرف مذہب کا ۔ اس درمیان میں ایک تنظیم غیر قانونی معاملات میں ملوث بتا کر عدالت کے ذریعہ ممنوع قرار دے دی گئی۔ مسلم میرر کی رپورٹ کے مطابق کے اس کے چند افراد تو غیر قانونی معاملات میں ملوث ضرور پائے گئے اس کے باوجود د ان میں سے کسی کے خلاف بھی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث رہنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ الغرض گزشتہ چند سالوں سے جب کوئی دھماکہ ہوتا ہے مسلمانوں سے مشابہ ایک تنظیم کا نام لیا جاتا ہے وہ ہے انڈین مجاہدین (آئی ایم)۔ چونکہ نام مسلمانوں سے مشابہت رکھتا ہے اس لیے اس نام پر مسلمان ہی پکڑے جاتے ہیں۔ حیرت ہے کہ اب تک اس نام پر ہزاروں سے زائد افراد گرفتار کئے گئے ، سینکڑوں سے محض پوچھ تاچھ ہوئی ، گرفتار شدگان میں سینکڑوں نا کردہ گناہوں کی سزائیں کاٹ کر با عزت بری ہوئے لیکن اب تک یہ سراغ نہیں مل سکا کہ اس سرچشمہ کہاں ہیں ؟ اس کے تانے بانے کہاں بنے جاتے ہیں؟دعوے کے ساتھ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے کسی مسلمان کا ہاتھ نہیں ہے لیکن بعض خدشات ایسے ہیں جو غلط بھی ہوسکتے اور یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ صحیح نہیں ہوسکتے، جن کی رو سے یہ کہاجاسکتا ہے کہ یہ تنظیم کسی تشدد پسند تنظیم کی ذیلی شاخ ہو۔ اس سلسلہ میں جب ہم واقعات کے تسلسل پر غور کرتے ہیں صورت حال کچھ اس طرح ظاہر ہر ہوتی ہے۔
۲۰۰۷ میں حیدر آباد کی مکہ مسجد میں اور ۲۰۰۹ میں مالیگاؤں میں دھماکے ہوئے ۔ ان دھماکوں کے بعد اسی انڈین مجاہدین کے نام پر سینکڑوں مسلمان گرفتار ہوئے ۔ عدالت میں مقدمہ چلا ۔ مقدمہ میں یہ بات سامنے آئی کہ پکڑے گئے لوگ بے قصور ہیں ۔ دھماکوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ انڈین مجاہدین کا ہاتھ نہیں ہے۔ ساتھ ہی کچھ ایسے نام آئے اور وہ گرفتار بھی ہوئے جو اس واقعہ کے اصل مجرم ہیں، وہ سب کے سب دیش بھکت تنظیم آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد یہ بات بھی سامنے نہیں آئی کہ چونکہ یہ لوگ کسی الگ تنظیم کے اراکین ہیں اس لیے دھماکہ کے وقت جس انڈین مجاہدین کے ملوث ہونے کا دعوی کیا گیا تھااس میں اس کا ہاتھ نہیں ہے۔ اب اگر انڈین مجاہدین کا بھی ہاتھ ہے اور اس واقعہ کے اصل مجرم نئے گرفتار شدگان ہیں تو اس کا مطلب تو ضرور نکلتا ہے کہ انڈین مجاہدین یا تو نام نہاد تنظیم ہے جس کا کوئی زمینی وجود نہیں ہے یا یہ اسی مادری تنظیم کی ذیلی شاخ ہے جس سے واقعہ کے اصل مجرمین تعلق رکھتے ہیں۔
اس منظر نامہ کا ایک اور رخ ہے جو غلط بھی ہوسکتا ہے اور صحیح نہیں ہے اس کا بھی دعوی نہیں کیا جاسکتا ۔ گزشتہ روز حیدر آباد کے ہی دلسکھ نگر میں ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا جس میں 16لوگ جاں بحق ہوئے اور تقریباً 150 لوگ زخمی ہو گئے ۔ اس واقعہ کے تقریباً ایک ماہ قبل ملک کے وزیر داخلہ نے بیان دیا کہ ملک میں ہو رہے دہشت گردانہ حملوں کے پیچھے اسی دیش بھکت تنظیم آر ایس ایس کا ہاتھ ہے اور اس کے خلاف اس کے پاس پختہ ثبوت ہیں۔ اس بیان کے بعد آر ایس ایس کے پالیٹکل ونگ بی جے پی کے اراکین چراغ پا ہو  گئے ۔ انہوں نے وزیر داخلہ کے اس بیان کو دہشت گردوں (مسلمانوں) کا حمایتی قرار دیا ۔ انہوں نے اعلان کیا مسٹر شنڈے (وزیر داخلہ ) جب تک اپنے بیان پر معافی نہیں مانگتے ہیں پارلیامنٹ نہیں چلنے دی جائے گی۔ بالآخر مسٹر شنڈے معافی مانگ لیتے ہیں۔ معافی مانگنے کے دوسرے روز شام کے وقت دھماکہ ہوتا ہے۔ اسی دن صبح کو مسٹر شنڈے اپنے سراغوں کی روشنی میں ریاستوں کو چوکس کر دیتے ہیں کہ کہیں کوئی حملہ ہونے والا ہے اس کے باوجود حملہ ہوجاتا ہے۔ کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ مسٹر شنڈے کو ایسے کسی دھماکہ کی خبر ہوئی ہو تو انہوں نے معافی مانگی ہو (جبکہ ان کے پاس ان کے بقول پہلے دعوے کے ثبوت موجود ہیں) اور معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ ریاستوں کو چوکس کیا ہو۔ دھماکہ ہونے گھنٹہ دو گھنٹہ کے اندر یہ اعلان ہوتا ہے کہ اس دھماکہ کے پیچھے انڈین مجاہدین کا ہاتھ ہے ۔ حالانکہ کسی نے اس وقت کوئی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی ہے ۔ساتھ ساتھ چند پرانے اور نئے نام مشتبہ سمجھ کر اعلان کئے جاتے ہیں۔ سب سے مضحکہ خیز صورت حال یہ کہ ابھی چند ماہ قبل جو گزشتہ دھماکوں کے سلسلہ میں بری ہو کر واپس آئے ان سے پوچھ تاچھ بھی شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ایسا ہے کہ مسٹر شنڈے کو دھماکوں کی جیسے ہی خبر ہوئی ہو انہوں نے معافی مانگ لی اور اس کے بعد حکومتوں کو متنبہ کیا تو اس واقعہ سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انڈین مجاہدین کا سرچشمہ کہاں ہے؟؟؟
٭٭٭