مشمولات

Monday, 24 February 2014

مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی اور فاطمی کمیٹی کی رپورٹ


مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی اور فاطمی کمیٹی کی رپورٹ

                ’’مسلمانوں کو کمیشن اوراوروں کو ریزرویشن‘‘ یہ ہندوستانی سیاست کی ایک غیر دستوری مگر عملی پالیسی رہی ہے جس پر آزادی سے تا حال بلا انقطاع تسلسل عمل ہوتا رہا ہے۔سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن تو اعداد وشمار پر مبنی حکومت کے تحت تشکیل شدہ معیارومیزان پر جانچی پرکھی سب سے معتبر رپورٹ ہے ۔اس کا اندازہ حکومت کا بھی اس طرح سے نہیں رہا ہوگا جن کا انکشاف ان رپورٹوں کے ذریعہ ہوا۔ ان کے سامنے آنے کے بعد یہ حکومت کے اپنے گلے کا پھندا ضرور بن گیا ہے جس سے اس کو نہ جان چھڑاتے بنتی ہے اور نہ ہی ہندوستانی سیاست میں یہ رنگ بھرا جاسکتا ہے کہ مسلمان اس رپورٹ کی سفارشات کے مطابق ۲۵؍ فیصد بھی مستفید ہوسکیں۔حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ آئین میں اس کی گنجائش نہیں ہے یا نہیںہوسکتی ہے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ اگر مسلمانوں کے فلاح کی کوشش کی جائے تو کسی بھی حکومت میں بل پاس ہونا تو دور کی بات پارلیامنٹ میں اس پر غور کرنے کے اعلان کے دوسرے دن اس حکومت کا ڈانوا ڈول جائے گا۔ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی فلاح کے لیے بات کرکے اقتدار کو پنڈولم بنانا برسر اقتدار جماعت کے لیے کسی بھی طورپر دانشمندی نہیں ہوسکتی ہے۔ بہر کیف ماضی میں بھی مسلمان اور انصاف پسند غیر مسلم دانشوران کی جانب سے مسلمانوں کے تعلیمی، اقتصادی اور سماجی وسیاسی صورتحال کے حوالہ سے ملکی سطح پر دور کی بات صوبائی یا علاقائی سطح پر بھی گفتگو کی گئی ہے تو اعداد وشمار کی روشنی میں بارہا یہ انکشاف ہوتا رہا ہے کہ اس ملک میں مسلمان آئینی طور پر چاہے جس درجہ کے شہری ہوں عملی طور پروہ دوسرے درجہ کے شہری ضرور بنادیئے گئے ہیں اور دن بدن ان کی اقتصادی بنیادوں کو کمزور کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان کی تعلیمی ، سماجی وسیاسی حیثیت تنزل پذیر ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے حوالے حکومتوں کے سامنے بھی جاتے رہے ہیں جن کا فائدہ بھی حکمراں جماعتوں کو الیکشن کے دوران تشہیر اور خوش کن بیانات دینے کی شکل میں ملتا رہا اور سادہ لوح مسلمان ہر مرتبہ کسی نہ کسی پارٹی کو ایک موقع دیتے ہوئے وہاں پہنچے جس کا خاکہ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن نے کھینچا۔ دیگر رپورٹوں کی طرح سچر کمیٹی کی رپورٹ کا سرد خانہ میں چلا جانا کوئی غیر یقینی بات نہ پہلے تھی نہ اب ہے۔ محض اس لیے نہیں کہ حکومت مسلمانوں کے لیے سنجیدہ نہیں بلکہ اس سے زیادہ اس لیے کہ مسلمان اس کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے سب سے حسرت آمیز امر تو یہی ہے کہ آزادی کے ۶۷؍ سال میں بھی مسلمانوں نے اپنا کوئی لیڈر نہیں چنااور اس سے زیادہ حسرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایسا کوئی لیڈر پیدا نہیں ہوا جو گاندھی اور پٹیل تو دور کیجریوال نہیں بن سکا یا کہا جاسکتا کہ نہیں بننے دیا گیا۔ ہمارے یہاں صورتحال یہ ہے کہ کوئی بڑے طمطراق سے اٹھتا ہے۔ اپنے خطابوں میں مسلمانوں کے درد کو بیان کر کے حکومت کو جھنجھوڑتا ہے۔ حکومت اس کو ان کی نمائندگی کا جھانسہ دیتی ہے اور حکومت کے ایوانوں کی ایک کمزور پایہ والی کرسی پر بٹھادیتی ہے پھر اسی دن سے اس کی زبان گنگ ہوجاتی ہے۔ کوئی اپنے قلم سے حکومت کی کارستانیوں کا عوام کے سامنے پردہ فاش کرتا ہے حکومت اسے سیاسی گلیاری میں دو چار مرتبہ بھٹکنے کا موقع دیتی ہے پھر وہ اپنا منشور بھول بیٹھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں نے آزادی کے۶۷ بھی بعد اصلی نقلی میں فرق کرنا نہیں سیکھا ۔عین اس کے برعکس اگر کسی نے ان کی نمائندگی کی کوشش کی تو ان کے نزدیک فوری اور ذاتی نوعیت کی ضرورتیں اتنی اہم ہوجاتی ہیں کہ ان کے عدم تکمیل کی صورت کے پیدا ہوتے ہی اس کے لیے دوبارہ راستہ بند کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتے بلکہ عملا اسے کر دکھاتے ہیں۔اس صورتحال سے ہندوستان کی برہمنی ذہنیت مسلمانوں کی پسند وناپسندسے اتنی واقف ہوچکی ہے کہ وہ جب تک چاہے انہیں اپنی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان کا دانہ بنا رہنے پر مجبور رکھے۔ وہ جان گئے ہیں کہ یہ لالی پاپ کے عادی ہیں۔ اس لیے کیوں نہ انہیں لالی پاپ دے کر دے کر قومی قیادت کی تشکیل سے محروم رکھا جائے۔
                بہر حال سچر کمیٹی نے رپورٹ کے ساتھ چند سفارشات بھی کیں جس کے تحت کہا گیا کہ مسلمانوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں تعلیمی، سماجی اور سیاسی سطح پر بڑھایا جائے۔ ان سفارشات کو روبہ عمل لانے کے لیے دوبارہ وزارت فروغ انسانی وسائل کے وزیر مملکت (اسکول ایجوکیشن اینڈ لیٹریسی) محمد علی اشرف فاطمی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جسے فاطمی کمیٹی کا نام دیا گیا۔ اس رپورٹ کا اندازہ مولانا ولی رحمانی کے اس اقتباس سے کیا جاسکتا ہے :
’’یہ رپورٹ مسلمانوں کی حالت کی بہتری کے لیے ایک منظم کوشش ہے، ملی جماعتوں اور تعلیمی اور سماجی کام کرنے والوں کو اس رپورٹ کا مطالعہ کرنا چاہیے، اس پر بحث ہونی چاہیے اور اس بنے بنائے راہ عمل کو عوامی طاقت فراہم کرنی چاہیے، تاکہ بات آگے بڑھ سکے اور مسلمانوں کا کارواں بھی شاہراہ علم وترقی پر تیزی سے چل پڑے‘‘
                فاطمی کمیٹی کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ فاطمی کمیٹی نے پورے ہندوستان کے گوشہ گوشہ پھیلے مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی حالات کا جائزہ لے کر جو نسخہ تجویز کیا ہے وہ فی الوقت ہندوستانی مسلمانوں کو تعلیمی انقلاب برپا کرنے اور تعلیم کے ذریعہ اپنی سماجی وسیاسی حالت کو مستحکم کرنے کے لیے نسخہ کیمیا ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن اس سے بڑی حسرت کی بات کیا ہوگی کہ عوام تو عوام خواص تک اس رپورٹ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سنجیدہ کوششوں کے لیے تیار نہیں ہیں۔ گوکہ اس رپورٹ کی سفارشات کے چند حصوں پر عمل بھی ہوا ہے لیکن ابھی اس کے ۹۰؍ فیصد حصوں پر عمل ہونا باقی ہے۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت اس بات کے لیے آمادہ ہو۔ اس کے لیے نہ صرف آئینی طریقہ کار کو اپنانا ہوگا بلکہ حکومت میں ایسی قیادت بھی بھیجنی ہوگی جس میں فاطمی جیسا درد مند اور فکر مند اشخاص موجود ہوں۔
                فاطمی کمیٹی نے سچر کمیٹی کے انکشافات کی روشنی میں بطور خاص مسلمانوں کے زمینی حقائق کا پتہ لگاکر جو سفارشات کی ہیں ان کے نفاذ کے لیے ہمیں حکومت میں اپنی نمائندگی مضبوط کرانی ہوگی اور وہ بھی ایسی جو پارٹی کی کاسہ لیسی کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھنے کی بجائے ایک منشور کے تحت آئین کے بموجب اپنے حقوق بازیافت کے لیے رات دن ایک کر سکے۔
                فاطمی کمیٹی نے سب سے زیادہ تعلیم کو اہمیت دی ہے اور مسلمانوں میں تعلیمی انقلاب لانے کے لیے جہاں سرکاری وظائف کو عام کرنے اور آسان کرنے کی سفارش کی ہے اس سے زیادہ تعلیمی اداروں تک ان کی رسائی کو آسان کرنے پر زور دیا ہے ۔ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ مسلم علاقوں میں زیادہ سے زیادہ اسکول قائم کئے جائیں ۔ اس کے علاوہ آئی ٹی آئی ، پالی ٹیکنیک اور دیگر پیشہ وارانہ تعلیمی ادارے کھولنے اور ان کی طرف مسلمانوں کی رغبت بڑھانے کے لیے حوصلہ افزا اقدامات کی سفارش کی ہے۔چنانچہ مجوزہ عمل اور منصوبہ کے تحت عمومی سفارشات، خواندگی اور تعلیم بالغان، پرائمری تعلیم ، ثانوی تعلیم، ہائر ایجوکیشن، پیشہ ورانہ تعلیم ، اعلی تعلیم اور طالبات کے لیے امداد جیسے عناوین کے تحت سفارشات اور گیارہویں پنچ سالہ منصوبے میں ان سفارشات کو شامل کر نے کی سفارش کی ہے۔
                الغرض کمیٹی نے جو سفارشات پیش کی ہیں ان کے ہر شق کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ کم سے کم پڑھا لکھامسلمان بھی اس رپورٹ کو حاصل کر کے پڑھے۔ اس کی ذمہ داری مسلم دانشوران کی ہے کہ وہ کم سے کم پڑھے لکھے لوگوں کو بھی اس رپورٹ سے واقف کرائے تاکہ مسلم عوام آئین میں موجود اپنے حقوق کی معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ان کے حصول کو آسان نے بنانے کی جو ترکیب بتائی گئی ہیں اس کو جان سکیں اور پھر اس پر عمل پیرا ہوسکیں۔
                لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ان سفارشات کے لیے سڑک پر اترنے، ہنگامہ کھڑا کرنے اورریلی نکالنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں ایوانوں میں اپنا مناسب نمائندہ بھیجنے کی ضرورت ہے۔ یہ تب ممکن ہے جب ہم مسلمان اپنی انفرادی اور وقتی ضرورتوں کی جگہ مستقل اور جماعتی ضرورتوں کو ترجیح دیں اور ملک میں سیکولر محاذ کی حکومتوں کے قیام میں اپنے اتحاد کا ثبوت پیش کریں۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ ملک کی ہر جماعت نے مسلمانوں کو ہمیشہ بے وقوف ہی بنایا ہے اور جسے جہاں موقع ملا ہے مسلمانوں کے ساتھ مظالم روا رکھے ہیں۔ ایسے میں ہمارا کام یہ ہے کہ ان میں ہلکے کا انتخاب کریں اور ہم اپنی حیثیت کو تعلیم ، سیاست اقتصادیات اور سماجی ہر سطح پر جلد از جلد مستحکم کرنے کی کوشش کریں۔ ان سب میں سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم تعلیم میں مستحکم ہوں۔ کیونکہ یہی وہ کلید ہے جو ملک میں ہماری دیگر حیثیتوں کو بھی مستحکم کرے گی۔
                اس رپورٹ کے بارے میں ایک اور حقیقت جان لینی چاہیے کہ آزادی اور تقسیم کے بعد مسلمانوں نے اپنے حالات کے بارے میں حکومتوں کے سامنے اپنی بے بسی کا بہت اظہار کیا لیکن وہ کام نہیں کیا جو ان رپورٹوں کے ذریعہ ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی کام اگر ہم آزادی کے فورا بعد کرلیتے تو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔ اب جبکہ آزادی ۶۷۔۶۵ سال بعد اس طرح کا دستاویزی کام ہوپایا ہے ہمیں اس کے نفاذ کے لیے مزید ۶۵ سال کا انتظار نہیں کرناچاہیے بلکہ اب ہم صرف اتحاد کا ثبوت پیش کرتے ہوئے ملک میں کسی کو اپنا لیڈر منتخب کریں جو ہمیں وقتی ، انفرادی مسائل اور مسلک ومشرب کے ذریعہ گمراہ کرنے کے بجائے مستقل حل پیش کرسکے۔ جبکہ یہ کام بھی ہم نے نہیں کیا ہے بلکہ بعض حالات کے در پیش ہونے پر خود حکومت کرانے پر مجبور ہوئی ۔ پھر خوش قسمتی ہے اس کو ایسی قیادت مل گئی جس نے اس پر خوشنما خاکہ کھینچ دیا ہے اور اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس میں رنگ بھرنے کے لیے اپنی عملی جد وجہد کا ثبوت پیش کریں اور ایک بار پھر جبکہ پارلیامانی الیکشن ہمارے سامنے ہے ہم ایک بار عقل مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو ہماری طرف اس میں رنگ بھرنے کی پہل کرسکیں۔
٭٭٭

Sunday, 16 February 2014

ملحقہ مدارس سے طلبہ کا ختم ہوتا رجحان تشویشناک


ملحقہ مدارس سے طلبہ کا ختم ہوتا رجحان تشویشناک
بہار کی موجودہ حکومت نے ملحقہ مدارس کے اساتذہ کے معاملے میں جو انقلابی قدم اٹھایا وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ تاریخی کہاجاسکتا ہے۔حالانکہ اب بھی ۶ پے رویزن کے نام پر جس تنخواہ کا اعلان کیا گیا ہے اسے کسی بھی طرح ۶ پے کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ یہ اور بات کہ مدارس کے اساتذہ” تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا“ کے مصداق حکومت کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ اس کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ریاست کا جو پیسہ مدارس کے لیے خرچ ہورہا ہے اس کا خاطر خواہ فائدہ نظر نہیں آرہا ہے اور دن بدن لوگوں کا رجحان مدارس اور بطور خاص سرکاری مدارس سے ختم ہورہا ہے۔ اس کی وجہ صرف اسکولی تعلیم کی مقبولیت اور روزگار کے مواقع کی پیداواری نہیں بلکہ مدارس کا گھٹتا ہوا معیار تعلیم بھی ہے۔ بیشتر مدارس میں قابل اور با صلاحیت اساتذہ بحال نہیں کئے جارہے ہیں۔ مدارس میں اساتذہ کی بحالی کے لیے جو اکسپرٹ متعین کئے جاتے ہیں عام طور پر انٹرویو میں معروضیت کا ختم ہوجانا بہت یقینی ہے۔ جبکہ یہ اکسپرٹ خود وہ ہوتے ہیں جو بورڈ میں اپنی چلت پھرت بڑھائے ہوئے ہوتے ہیں اور انٹرویو کے لیے ان کا انتخاب ان کی صلاحیت اور غیر جانب داری کی بنیاد پر نہیں بلکہ بورڈ افسران سے تعلقات اور مہربانی کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔جبکہ مدرسہ بورڈ کے انٹرویو میں حالات یہ ہیں کہ اگر یہ اکسپرٹ مدرسہ انتظامیہ کی خواہش کے مطابق متاثر نہ ہوئے تو بہت ممکن ہے کہ وہ امیدوار سے متاثر ہوجائیں حالانکہ کچھ اچھے لوگ بھی ہیں لیکن انہیں موقع ہی کم مل پاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ماہرین کی رائے یہ ہے کہ بی ٹی ای ٹی یا بی ایس ٹی ای ٹی کی طرز پر مدارس میں تقرری کے لیے بھی ریاستی سطح کا ایک معیاری امتحان منعقد کرایا جائے جس میں مدرسہ بورڈ اور مدارس میں ملازمت کے لیے منظور شدہ مدارس کے فارغین حصہ لیں سکیں اور اس امتحان کے پاس کرنے کے بعد ہی مدارس کے خالی عہدوں کے لیے وہ امیدوار ہوسکیں۔ واضح رہے کہ مدرسہ بورڈ میں ملازمت کے لیے مدارس بورڈ کی سند کے ساتھ ہندوستان کے کچھ مشہور مدارس کی سند کو بھی منظوری دی گئی ہے جس کے فارغین اپنی اسی سند پر یہاں ملازمت کرسکتے ہیں۔ حالانکہ بحالی کا جو اختیار مدارس انتظامیہ کو حاصل ہے اسے بھی برقرار رکھا جانا ضروری ہے۔ اس امتحان کے کامیاب امیدواروں کی بحالی سے ایسا ہوگا کہ کم از کم ایسے لوگ امیدوار ہوں گے کہ اگر اکسپرٹ ان سے یا مدارس انتظامیہ کی ایما پر ان کے بارے میں متاثر ہوجائے تب بھی ان کی صلاحیت قابل اعتبار ہوگی اور مدارس اساتذہ کی بحالی میں لگایا جانے والا کنبہ پروری اور لین دین کا الزام بھی بڑی حد ختم ہوسکتا ہے۔اس سلسلہ میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ تقرری کا اختیار مدارس انتظامیہ کو رہتے ہوئے بھی معیاری اساتذہ مدارس میں خدمت پر مامور ہوں گے اور لوگوں کا ان پر اعتبار قائم ہوگا اور اس سے سرکاری مدرسوں میں پڑھنے کا رجحان بڑھے گاجبکہ مدارس میں ماسٹر کی جگہوں پر بحالی کے لیے بی ٹی ای ٹی امیدواروں کا بھی انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اس طرح کے عمل کو مدارس انتظامیہ اپنی آزادی کے خلاف سمجھیں گے لیکن آج جس طرح لوگوں کا رجحان مدارس کے ختم ہورہا ہے وہ تشویشناک ہے اور جب بچے ہی نہیں ہوں گے تو ان کی نظامت اور صدارت کسی کام کی نہیں رہے گی۔ اس ضمن میںقابل توجہ امر یہ ہے کہ آج مدارس میں جو انفرا اسٹرکچر ہے اس کی نفع بخش صلاحیت کے ضیاع کے ساتھ مدارس میں بچوں کی مناسب تعداد نہیں رہنے کی وجہ اساتذہ کی افرادی قوت اور توانائی ضائع ہورہی ہے۔ جبکہ وسائل کا ضیاع قوم اور ملت کے لیے دونوں کے لیے مہلک ہے۔ اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ وسائل کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے بھی ضروری ہے کہ مدارس کے نظام کی تشکیل نو کی جائے۔ پھر یہ کہ ہندوستان میں مدارس کے ذریعہ ہی مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو بچایا جاسکتا ہے۔ ایسے میں علما اور دانشوران کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ مدارس کے نظام کو درست کر کے مناسب تعداد میں بچوں کو مدارس میں پڑھنے کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ملی تشخص کی بقا کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ واضح رہے کہ ہندوستان جیسے کثیر التہذیب ملک میں اب بھی کوئی ایسی چھوٹے چھوٹے لسانی اور منفرد تہذیب رکھنے والے طبقات ہیں جو اپنی تہذیب کو باقی نہیں رکھنے کی وجہ سے اپنا تشخص کھو رہے ہیں۔ یہ صرف اس طبقہ کے لیے تشویشناک بات نہیں بلکہ ملک میں موجود کثرت میں وحدت کی خصوصیت کو باقی رکھنا بھی ایک مسئلہ ہے جو اس ملک کی انفرادی شان ہے۔



Monday, 3 February 2014

Technical Education in Urdu

اردو زبان میں سائنسی ،تکنیکی، حرفتی، پیشہ ورانہ اور اعلی تعلیم کے مسائل

                اردو زبان میں سائنسی ، تکنیکی ، حرفتی، پیشہ ورانہ اور اعلی تعلیم پر کئی پہلؤوں سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ اردو ہندوستان کی مقبول اوراہم زبانوں میں سے ایک ہے۔ ہندوستان کی بہت بڑی آبادی بلا لحاظ مذہب وعلاقہ اسے بولتی اور سمجھتی ہے۔ پاکستان کی تو خیر قومی زبان ہی ہے۔ دنیا کے دوسرے گوشوں حتی کہ یورپین ممالک میں بھی اس زبان کے سمجھنے اور بولنے والے اچھی تعداد میں موجود ہیں۔ لیکن اس موضوع کی مناسبت سے سب سے اہم مسئلہ زبان بحیثیت ذریعۂ تعلیم ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی زبان کے ذریعہ تعلیم ہونے کے لیے اس کا صرف سمجھا جانا ور بولا جانا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے رسم الخط (Script)اور علمی زبان کا جاننا بھی ضروری ہے اور کوئی زبان علمی زبان تب ہوگی جب اس کے اندر دنیا بھر کے مروجہ علوم وافکار کے مسائل وموضوعات کی ہر کیفیت کو اپنی زبان کے مزاج وروایات کے مطابق بیان کرنے کی قدرت موجود ہو۔
                عام طور پر جو زبانیں علمی کہی جاتی ہیں ان میں علوم کی اشاعت میں ایک تسلسل پایا جاتا ہے۔ یہ بھی قدرتی امر ہے کہ اگر کسی زبان میں علوم کی اشاعت کا تسلسل ٹوٹ جائے تو علوم کی ترقی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ ایک وقفہ کے بعد اس کے بیان پر عبور مشکل ترین امر ہوجاتا ہے اور وقفہ جتنا بڑھے گا مشکل اتنی زیادہ بڑھے گی۔
                ماہرین کا خیال ہے کہ مؤثر تعلیم وہی ہوگی جس کا میڈیم مادری زبان ہو۔ چنانچہ ابتدا ہی سے دور رس اور گہر ی نظر رکھنے والے ہمارے اسلاف نے کوشش کی کہ ہماری زبان اردو کو اس لائق بنایا جائے کہ اس میں ہر طرح کے خیالات کا اظہار ہوسکے اور وہ تعلیم کا میڈیم بن سکے۔ اس سلسلے میں چند شخصیتوں اور چند اداروں کی ناقابل فراموش خدمات رہی ہیں۔ خاص طور پر دلی کالج جس میں سائنسی اور علمی مضامین کی تعلیم کا ذریعہ ہندوستانی تھا اور اس وقت ہندوستانی یہی اردو زبان تھی۔ اس ادارے میں ماسٹر رام چندر کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے جہاں بچوں کو اردو زبان کو میڈیم بناکر تعلیم دی وہیں اپنے زیر ادارت نکلنے والے اخبار میں ایسے علمی اور سائنسی مضامین کی اشاعت کی جن سے ہماری زبان علمی اور سائنسی زبان کے اظہار کا ذریعہ بن سکے ۔اس کام کے لیے ورنا کلر سوسائٹی قائم کی گئی تھی اور منصوبہ کے تحت اس کے ذریعہ ادب سے الگ ہوکر علوم وسائنس پر مضامین لکھے گئے۔ اس کے بعد کے زمانہ میں علی گڑھ تحریک اور سرسید کی شخصیت ہے جس نے اس ضرورت کو شدت سے محسوس کیا اور اپنے رفیقوں کے ساتھ خودبھی اس کام کو بخوبی انجام دیا ۔ فورٹ ولیم کالج کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں لیکن وہاں محض زبان سے سروکار تھا۔ان حضرات کی گراں قدر خدمات سے ہماری زبان میں اتنی طاقت آگئی کہ وہ اس وقت کی رائج علمی زبانوں کو بخوبی بیان کرسکے۔ ان کے بعد ایک اہم ادارہ جس نے اردو کو تعلیم کا میڈیم بنانے اور اسے کامیاب طور پر عملی جامہ پہنانے کی نیک خدمات انجام دی جامعہ عثمانیہ حیدرآباد ہے۔ اس ادارے میں دارالترجمہ کا ایک شعبہ ہی اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ دوسری زبانوں کے مفید علمی مضامین کو اردو کے قالب میں ڈھالا جاسکے ۔ اس کا یہ شعبہ اردو کے فروغ میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔
                ان لوگوں نے محسوس کیا کہ کوئی زبان جب تک وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوگی تو زندہ نہیں رہ سکتی ہے اور کوئی زبان محض ادب اور شاعری کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھتی ہے بلکہ اس کی بنیاد علمی ہوتی ہے ۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ ادب ؛علمی زبان کو خیالات کے اظہار کے لیے جن ترسیلی قوتوں کی ضرورت ہے؛ ان کو سہل اور سریع الفہم بناتا ہے ۔ اس میں ایسی لفظیات کا اضافہ کرتا ہے جو پیچیدہ خیالات کی ترسیل میں معاون ہو ں اور ان کی کیفیات کا بخوبی اظہار ہوسکے۔ انہوں نے دیکھا کہ جو قومیں علمی بنیاد پر جتنی ترقی یافتہ ہیں ان کی زبان دوسری زبانوں پر اتنی ہی فوقیت رکھتی ہے۔ لیکن انگریزجو Devide and Rule کی پالیسی پر عمل کرتے تھے زبان کی بنیاد پر بھی ہندوستانیوں کے درمیان تفریق ڈالنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس وجہ سے ہندؤوں کا رجحان سنسکرت کی طرف ہوگیا اور ہندی زبان کو فروغ حاصل ہوا ۔ دوسری طرف تقسیم کا سانحہ ہوگیا اور پاکستان کی زبان اردو ٹھہر ی ۔ اس کے نتیجہ میں ہندوستا ن کی زبان ہندی ہوگئی ۔ پھر یہ کہ اردو بولنے والی ایک بڑی آبادی پاکستان منتقل ہوگئی۔ اس طرح اردو میں جو علمی سرمایہ اور علمی دماغ تھا وہ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ اردو رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہوگئی اور زمانے کے تقاضوں سے اس کا رشتہ ٹوٹ گیااور اس کی ارتقائی کڑی بکھر کر رہ گئی۔ اس طرح ایک علمی زبان میں ترسیل کی جو قوت درکار ہوتی ہے اس میں کمی آگئی ۔
                لیکن ہماری زبان کے علما نے اس فلسفہ پر غور کیا اور اپنی زبان کو علمی اور سائنسی زبان سے جوڑنے کی پوری کوشش کرتے رہے۔ اس سلسلے میں موجودہ دور میں دو اداروں کی خدمات نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ ایک قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان جس کا قیام ۱۹۹۶ میں عمل میں آیا۔ یہ ادارہ جہاں اپنے پرانے سرمائے کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے فروغ واشاعت کے لیے ہر ممکن کوشش کررہا ہے وہیں اپنی زبان کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سائنسی اور تکنیکی علوم کی کتابوں کو ترجمہ کراکر شائع کر رہا ہے۔ ساتھ ہی اس نے اردو والوںکو تکنیکی تعلیم سے قریب لانے کے لیے کمپیوٹر کورس کا آغاز کیا ہے جو بڑی کامیابی سے ملک بھر میں فروغ پارہا ہے۔اس کے ساتھ حرفتی تعلیم سے اردو کو جوڑنے کے لیے ایک کورس اور لانے کی کوشش کر رہا ہے جس کے لیے موجودہ ڈائرکٹر ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین کی اہم پیش رفت ہے۔وہ خود بھی سائبر اسپیس اور اردو کے حوالے سے کام کرنے کے ساتھ ساتھ اردو ٹکنالوجی پر بھی کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت کے ذریعہ ۱۹۹۸میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ایک سنٹرل یونیورسٹی کی حیثیت سے قائم ہوئی جو روایتی اور فاصلاتی دونوں طرز پر اردو میڈیم میں کامیابی کے ساتھ تعلیم دے رہی ہے۔ اس یونیورسٹی میںسماجی اور روایتی علوم کے علاوہ پالی ٹیکنک کے چار برانچ ، آئی ٹی آئی کے تین برانچ ، ڈگری سطح پر بی ایس سی، بی کام اورپیشہ ورانہ تعلیم میں بی ایڈ، ایم ایڈ، جرنلزم اور ماس کمیونی کیشن وغیرہ کے کورس اردو میڈیم میں موجود ہیں۔ ان کورسوں کا اردو آبادی کی طرف سے بھر پور استقبال بھی ہورہا ہے۔
                ذریعہ تعلیم کی زبان اور عام زبان میں قدرے فرق ہوتا ہے۔ ذریعہ تعلیم ایک علمی زبان ہوتی ہے جس میںہر فن سے متعلق اپنی اصطلاحات ہوتی ہیںجو کسی بھی مضمون کو بڑی بڑی تشریحات سے بچاتی ہیں۔وہ اصطلاحات اپنے فن کی نمائندگی کر تی ہیں۔ جب دلی کالج، علی گڑھ تحریک اور جامعہ عثمانیہ نے اس ضمن میں پیش رفت کی تو اصطلاح سازی پر بھی بھر پور توجہ دی گئی۔ اس سلسلے میں عثمانیہ یونیورسٹی کی ناقابل فراموش خدمات رہی ہیں۔ اسی زمانے میں اصطلاح سازی کے لیے کامیاب اصول بھی بنائے گئے۔ الغرض کسی زبان کو علمی زبان بننے کے لیے جس ترسیلی صلاحیت کی ضرورت ہے اس میں اصطلاحات کی اہمیت مسلم ہے۔ بلا شبہ اردو میں یہ صلاحیت موجودرہی ہے۔ البتہ وقت کے ساتھ نہیں چلتے رہنے کی وجہ سے اس میں ایک خلا ضرور پیدا ہوگیاجس نے چند ایسے مسائل کو جنم دیا ہے کہ اگر ان کی جانب توجہ نہیں دی گئی تو امید بھر کامیابی نہیں مل سکتی ہے۔
                موجودہ وقت میں جب کبھی اپنے یا غیر اردو زبان کی خوبیوں پر گفتگو کرتے ہیں تو صرف اس کے رومانی وصف کو بیان کرتے ہیں۔ اردو محبت اورشاعری کی زبان ہے۔ اردو دلوں پر محبت کرتی ہے اور کانوں میں رس گھولتی ہے۔ یہ غزل ، قصیدہ اور مرثیہ (عاشقی، خوشامد اور نوحہ و ماتم ) کی زبان ہے۔ہندوستان کی کامیاب فلموں کا راز بھی اردو زبان کی چاشنی ہے۔اردو زبان کے نغمات مسرور کردیتے ہیں۔ یہ باتیں سننے میں بھلی لگتی ہیں اور ہم خوش ہوجاتے ہیں اور ان کے منفی پہلوؤوں پر غور نہیں کرتے۔ لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ کیا رومانی جذبات دائمی ہوتے ہیں؟ رومانیت ایک قسم کی جذباتیت ہے جو دیر تک قائم نہیں رہتی۔ یہ بات صحیح ہے کہ جس کی زبان میں مٹھاس ہوتی ہے وہ دلوں پر حکومت کرتا ہے لیکن ہمیں دلوں کے ساتھ ساتھ جہاں داری وجہاں بانی کا کام بھی کرنا ہوگا جس میں صرف عاشقی کی زبان بہت دیر تک ہمارا ساتھ نہیں دے سکے گی۔ ہمیں صرف رقص وسرور کی نہیں علم وسائنس کی زبان بھی درکار ہوگی ۔ ہماری زبان کی بد قسمتی یہ بھی رہی ہے کہ اس میں علوم کی اشاعت کا تسلسل بھی ٹوٹا ہے۔ ہماری شاعری اور ادب میں زبان کا ایسا تجربہ بھی اب نہیں ہو رہا ہے جو علوم کے پیچیدہ افکار وخیالات کے بیان پر قادر ہوسکے۔حالانکہ پہلے اردو زبان میں علوم کے فارمولے بھی شعروں میں بیان کیے جاتے تھے۔
                اردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے میں ان سب کے علاوہ بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ مثلاآج لوگوں کا رجحان انگریزی میڈیم کی طرف ہے۔ اس لیے اردو مادری زبان رکھنے والے اردو کی تحریری اور علمی زبان سے نا بلد رہ جاتے ہیں۔ دوسری طرف پرائمری اور مڈل سطح پر اردو میڈیم کے جو اسکول ہیں ان میں مناسب تعلیم نہیں ہونے کی وجہ سے عوام کا رجحان ادھر نہیں ہوتا ہے۔ اکثر ریاستوں میں اردو میڈیم اسکول موجود ہی نہیں ہیں ۔ سیکنڈری سطح کے اسکول کا تو اور بھی فقدان ہے۔ پھر یہ کہ اردو میں نصاب کی کتابیں بھی دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔ اس لیے جو طلبہ ایک زبان کے طور پر پرائمری ، مڈل اور سکنڈری سطح پر کسی طور سے اردو پڑھتے بھی ہیں تو اس میں ان کی لیاقت بس واجبی سی ہوتی ہے۔ سیکنڈری کے بعد سینئر سیکنڈری سطح پر اس میں مزید کمی آجاتی ہے۔ ظاہر ہے ایسے بچے جب تکنیکی تعلیم میں اردو کو ذریعہ تعلیم بنائیں گے تو یہاں پر زبان ان کی سمجھ سے بالاتر ہوگی۔ ایسے میں ان کی یہ تعلیم بھی متاثر ہوگی۔
                جیسا کہ اوپر کہا گیا کہ موجود وقت میں دو اداروں نے اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا ہے ۔ اگر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو نظرمیں رکھتے ہوئے اس موضوع پر بات کی جائے تو سب سے پہلے جوبات سامنے آتی ہے وہ مواد کی فراہمی کا ہے۔ نصاب کے مطابق اب بھی بازار میں اردو زبان میں کتابیں دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے جو کتابیں پڑھائی جارہی ہےں وہ انگریزی میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ طلبہ اس سطح پر اتنی لیاقت تو رکھتے نہیں ہیں کہ وہ بہ آسانی ترجمہ بھی کریں اور مواد کو بھی سمجھیں ۔ ایسی صورت میں لیاقت بھی متاثر ہوگی اور امتحان میں نمبرات بھی نہیں آئیں گے۔ جو اساتذہ مامورکیے گئے ہیں گرچہ ان کے لیے اردو جاننے کی شرط رکھی گئی ہے لیکن خود ان کی تعلیم انگریزی یا دیگر کسی زبان میں ہوئی ہے اورسر دست اردو میں تدریس کے لیے ان کی تربیت کا کوئی نظم بھی نہیں کیا گیا ہے ۔مزید یہ کہ اردو سے ان کا تعلق بس ذریعہ اظہار کی حد تک ہے ۔ وہ بھلا اردو میڈیم میں بخوبی کس طرح تدریس کا کام انجام دے سکتے ہیں۔جبکہ اب تو ایسے اساتذہ بھی بحال کئے گئے ہیں جن کا اردو زبان سے ایسا بھی تعلق نہیں ہے۔ خود یونیورسٹی کی پالیسی یہ ہے کہ بازار کے ڈیمانڈ کو نظر میں رکھتے ہوئے Termsکو انگریز ی ہی میں پڑھا یا جائے اور درمیان کی چیزیں اردو میں ہوں ۔ ایسی زبان کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ نہ اردو ہوتی ہے نہ انگریزی۔ یہ صحیح ہے کہ زندہ زبان نئی ایجادوں کو قبول کرنے سے بھاگتی نہیں ہے لیکن ایک زندہ زبان نئی چیزوں کو اپنے رنگ میں ڈھال کر ہی اسے استعمال میں لاتی ہے۔ اس کے لیے اصطلاح سازی کی ضرورت ہے۔ ایک علمی زبان کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اصطلاح سازی کا کام ہمیشہ جاری رہے ۔ تب ہی ایک زندہ زبان کی اپنی خصوصیتیں باقی رہ سکتی ہیں۔ ہمارے لیے ہندی زبان اس کا نمونہ ہے۔ وہ نئے الفاظ کو اپنی اصطلاح دے کر ہی استعمال کرتی ہے ۔خواہ وہ لفظ سنسکرت سے ماخوذ ہونے کی وجہ سے کتنا ہی ثقیل کیوں نہ ہو۔ان دنوں دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ علمی موضوعات تو درکنار ادبی زبان میں بھی انگریزی الفاظ ہو بہو استعمال کئے جانے لگے ہیں۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ اردو میں انجذابی صلاحیت ہے ۔اگر یوں ہی نئے الفاظ اپنی تمام تر خصوصیتوں کے ساتھ لیے جانے لگیں تو بہت جلد یہ زبان دوسری زبان میں ضم ہو کر رہ جائے گی۔
                مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے جب اس پیمانے پر اردو کو میڈیم بنایا ہے توجامعہ عثمانیہ کے طرز پر اسے بھی شعبہ ترجمہ میں اصطلاح سازی پر توجہ دینی چاہیے۔ اور لازمی طور پر ہر کیمپس میں دار الترجمہ کے تحت ایک فرد مامور کرنا چاہیے جو اصطلاح سازی کی خدمت انجام دے اورتدریس میں آنے والی ترجمہ کی پریشانیوں کو حل کرے۔ گرچہ اصطلاح سازی کا کام گروہی (Group work)ہے انفرادی نہیں۔
                ایک دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مولانا آزاد قومی یونیورسٹی میں اس وقت تکنیکی تعلیم میں ڈپلوما سطح تک تعلیم جاری ہے۔ ظاہر ہے کہ طلبہ تکمیل کے بعد روزگار سے لگ جائیں گے ایسا ضروری تو نہیں ہے۔ ان میں بہت سے طلبہ ڈگری اور پی جی سطح تک بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اردو ذریعہ تعلیم سے پڑھنے کے بعد کیا اس سطح پر ان کے ساتھ مسائل نہیں کھڑے ہوں گے۔ ابھی تو نچلی سطح پر کتابیں مفقود ہیں تو آگے کی سطح کا کیا کہنا۔ مستقبل قریب میں ان کے مواد کی دستیابی ممکن بھی نظر نہیں آتی ہے۔
                پیشہ ورانہ تعلیم کے حوالہ سے بھی بات کی جائے تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ آج صارفیت کا دور ہے ۔ بازار میں اس کی کھپت ہے جو بازار کے لائق ہے۔ تعلیم اب بازار کے تقاضے اور ملازمت پر مبنی (Market Based & Job Oriented)ہے۔ بازار کی زبان عالمی طور پر انگریزی ہے۔ کیا اردو میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بازار میں ان کی کھپت دوسروں کی طرح ہوگی ؟ یونیورسٹی نے اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر کورس کے ساتھ انگریزی کو بھی شامل کیا ہوا ہے۔ لیکن کیا عام طور پر طالب علم اس لائق ہوتے ہیں کہ وہ دو اور تین زبانوں میں بولنے کی مہارت (Communication Skill)پیدا کرسکیں؟ جب ان میں Communicationکی کمی ہوگی تو صارفی مزاج بازار کیا انہیں قبول کرلے گا اور قبول کر بھی لے توکیا ان کی اہمیت بھی دوسروں کی طرح ہی ہوگی؟ ہوسکتا ہے کہ ملازمت ملنے پر ذہین اور با صلاحیت طلبہ اپنی قابلیت ثابت کر لیں ۔ لیکن ابتدا میں ہی اردو میڈیم ہونے کی وجہ سے ملازمت سے انکار ہوگا تو وہ اپنی قابلیت کا اظہار کہاں کریں گے؟ اور جب بازار میں اردو زبان میں تعلیم کی وجہ سے ملازمت میں امتیازی سلوک سہنا پڑا تو اس کے منفی اثرات ظاہر ہوں گے۔ آج جبکہ اعلی اور کم ازکم پیشہ ورانہ اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کا بنیادی مقصدہی کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کا حصول ہے تو کیونکر کوئی محض زبان کی وجہ سے یہ مواقع کھوئے گا۔
                یہ ایک شبہ ہے ۔ لیکن شبہ کی بنیاد پر اس سے منہ موڑا نہیں جاسکتا ۔ ہاں یہ ضروری ہے جن طلبہ نے اس سے رشتہ جوڑا ہے ان کے والدین جن کی مادری زبان اردو ہے اور جن کی تہذیب اس سے وابستہ ہے وہ کو شش کریں کہ ان کے بچے بازار کے تقاضوں پر کھرے اتریں۔ کیوں کہ زمانے سے ہم آہنگ نہ ہوکر ان کی زبان مرجائے گی تو ان کی تہذیب بھی ان کے ہاتھوں سے جاتی رہے گی تب ان کا ہونا اور نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ کیوں کہ قومیں اپنی مخصوص تہذیب ، مسلمات اور عقائد ہی سے پہچانی جاتی ہیں۔
                مختصر یہ کہ اردو میں تکنیکی تعلیم دی جاسکتی ہے ۔ اس راہ میں چند رکاوٹیں ضرور ہیں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ابھی یہ عمل تشکیلی حالت میں ہے۔ آئندہ بھی اسی صورت میں کام جاری رہا ہے تو ان پر قابو پالیا جائے گا۔ اگر ابھی سے ہی شبہات اور مسائل کو دیکھتے ہوئے اس سے فرار اختیار کیا جانے لگے تو ہماری زبان کی ترقی نہیں ہوسکے گی۔
                ان سب کے علاوہ ہمیں زبان کے فروغ کے لیے ایک ہدف مقرر کے اپنی زبان کو تحقیق و ایجادات کی سطح تک لے جانا ہوگا۔ جب ہم اپنی زبان میں نئی تحقیقات اور ایجادات لائیں گے تو دوسرے لوگ بھی ہماری زبان پڑھنے پر مجبور ہوں گے اور تبھی جاکر زبان کو بھی بقائے دوام حاصل ہوسکتا ہے۔ حالانکہ یہ مشکل بھی ہوگا اور وقت طلب بھی۔ خود آمادگی کی ضرورت بھی ہوگی اور ذہن سازی کی بھی۔
                ہمیں اردو زبان میں علمی وسائنسی تحقیقات کو فروغ دینے کے لیے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ایسے رائٹرز گلڈ کلب کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جہاں طلبہ وطالبات، شوقین حضرات وخواتین اور دانشوران ماہانہ یا سہ ماہی طور پر بیٹھ کر ادب کے ساتھ علمی و سائنسی زبانوں پر ٹوٹی پھوٹی زبان میں ہی صحیح پرچے پیش کریں۔جس طرح کہ ہر چھوٹے بڑے شہروں میں شعری نشستوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس سے ہماری زبان میں لکھنے والوں میں تو اضافہ ہوگا ہی۔ انہی میں سے کوئی آئندہ سائنس اور دیگر علوم کا ماہر ہوگا تو اردو زبان میں کوئی علمی خدمت بھی انجام دینے کا حوصلہ رکھے گا۔ اس طرح کی نشستوں میں اگر ان میں ایک شخص ایسا ہو جو زبان کا ماہر ہو اور پرچے پیش کردینے کے بعد زبان کو صحیح کرنے کے قواعد کے نکات بتادے تو رفتہ رفتہ ان کی زبان بھی درست ہوجائے گی۔ انہی پرچوں میں اگر کسی کو اخبارات اور رسالوں میں جگہ مل گئی تو حوصلہ بلند ہوگا اور معیار لانے کی کوشش کرے گا۔
                قابل توجہ امر یہ بھی ہے کہ ہندوستان بھر میں موجود اردو اکاڈمیوں کی جانب سے ہر سال سیکڑوں سیمینار منعقد کئے جاتے ہیں اور کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی تعاون دیا جاتا ہے لیکن ان میں بیشتر ادب سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس میں اکاڈمیوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے پاس سائنس وٹکنالوجی اور دیگر فکری علوم کے لیے منصوبے ہی موصول نہیں ہوتے ۔

                 اس سلسلہ میں اکاڈمیوں کی جانب سے یہ اقدام کیا جاسکتا ہے کہ ۵۰ ؍فیصدسائنسی وعلمی سیمیناروں کے انعقاد اور ۵۰؍ فیصد سائنسی وعلمی کتابوں کی اشاعت کے لیے رقم مختص کردی جائے۔ ہر سال سائنس اور علوم کی اعلی تحقیقات پر مبنی عمدہ کتابوں کا ترجمے شائع کرائے جائیں۔ ہر سال اردو میڈیم میں سائنس ، ٹکنالوجی اور علوم کی اشاعت میں نمایاں کار کردگی انجام دینے والوں کو صوبائی اور مرکزی سطح کا کوئی اعلی ایوارڈ دیا جائے۔
                اردو میڈیم اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ عام طور اس طرح کے اسکول بے بسی و بدحالی کی منہ بولتی تصویر ہوتے ہیں اور ان کے بچوں کے چہرے سے مفلسی ٹپکتی ہوتی ہے۔ ان اسکولوں کے طلبہ وطالبات میں نصابی وہم نصابی سرگرمیاں مفقود ہوتی ہیں۔ قومی ریاستی وظیفوں میں ان پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
                اس وقت پری پرائمری تعلیم کے لیے سمعی بصری آلات استعمال کر کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو حروف تہجی، اعداد ، Rhymes اور کہانیوں کے ذریعہ ہلکی پھلکی اور بوجھ ڈالے بغیر تعلیم دی جارہی ہے۔ اردو زبان میں ایسے وسائل انکار کی حد تک محدود و ہیں اور جو ویڈیوز ویب سائٹ پر ملتے ہیں وہ انتہائی ناقص ہوتے ہیں جبکہ دیگر زبانوں کے اتنے خوبصورت دلچسپ اور بہترین ہوتے ہیں کہ جی خوش ہوجاتا ہے اور بچہ ان سے راغب ہوتا ہے۔ انگریزی کے علاوہ عربی وفارسی میں بہت اچھی اچھی ویڈیو موجود ہے۔ اکاڈمیوں کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ بچوں کو دوسری زبانوں کی طرح نئی ٹکنالوجی کے ذریعہ تعلیم دے کر اپنی مادری زبان سے وابستہ وپیوستہ رکھا جاسکے۔ یہ وقت کے تقاضے ہیں اورخود کو باقی رکھنے کے ان تقاضو ںکو بھی پورا کرنا ہوگا۔
یہ مضمون سہ ماہی اسالیب مطبوعہ سرگودھا پاکستان میں جنوری تا رچ ۲۰۱۴ کے شمارے میں شائع ہوا۔

شکر وسپاس

شکر وسپاس
بخدمت
پروگرام انچارج
بی ایڈ فاصلاتی  مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی

جناب!
          تم اس عارف ذات کے سالکان طریقت ہو جس کی ایک شفقت بھری نگاہ نے دانش کدۂ غار حراء کے متردد آگہی متعلم کو معلم کائنات بنادیا ۔
                                                                    پیشکش
                                                                   احتشام الحق

Sunday, 17 November 2013

قدرت کسی کو مایوس نہیں کرتی

یہ گلابوں کا موسم کھلا ہے
پھر کوئی یاد آنے لگی ہے


آفتاب عالم (ساکن نرسرا، دربھنگہ) ریسرچ اسکالرشعبہ اردو ایل این ایم یو، دربھنگہ (جے آر ایف) نے حسب عادت ایس ایم ایس کے ذریعہ مذکورہ شعر بھیجا تو میرے ذہن میں آیا کہ اس کا جواب خط کے ذریعہ دیا جائے۔ یہ خط اسی کا جواب ہے۔


ہمدم دیرینہ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مزاج گرامی بخیر ہوگا!
مختصر پیغام رساں کے ذریعہ آپ کا مسرت آگیں پیغام موصول ہوا۔ خوشی ہوئی کہ آپ کے لیے انبساط کا موسم آرہا ہے ۔ اللہ کرے یہ دارز تر ہو۔
جناب من!
آپ وہ خوش نصیب ہیں جس کی قسمت میں گلاب سی حسین یادیں ہیں۔ حالانکہ یادیں تو ہر شخص کا حصہ ہیں ۔ اجلی یا کالی۔ اب جس کے نصیب میں کالی یادیں ہوں گی اس کے لیے بھی قدرت نے کالے گلاب کھلنے  انتظام کیا ہے۔ قدرت تو قدرت ہے وہ کسی کو مایوس نہیں کرتی ہے۔ یہ اپنی اپنی طبیعت کہ کوئی قدرت کی تقسیم پر قانع ہوگیا اور مست وقلندر رہا اور کوئی قدرت کا شاکی ہوا اور نوحہ و ماتم کرتا رہا۔ مجھے اور بھی خوشی ہوگی جب یہ سرخ یادیں آپ کی زندگی میں رنگ بھر دیں ۔ فی الحال اتنا ہی۔
جواب کا انتظار رہے گا۔
                                                                                                                                                                فقط
                                                                                                                                                       احتشام الحق


Sunday, 10 November 2013

مراعات کے حصول میں مسلمانوں کا منفی رویہ

مراعات کے حصول میں مسلمانوں کامنفی رویہ
                سرکاریں جو مراعات دیتی ہیں وہ مستفیدین کے لیے خیرات نہیں بلکہ ان کا حق ہے اور حق وہ ہوتا ہے جس کی پامالی پر مستحقین دعوی دائر کرسکیں۔ مخصوص لوگوں کو مراعات اس لیے دیئے جاتے ہیں کہ حکومتیں یہ تسلیم کرتی ہیں ملک کا مخصوص طبقہ یا گروہ وسائل کی قلت؍ فقدان کی وجہ سے ترقی کی دوڑ میں عام دھارا کے لوگوں سے پیچھے رہ گیا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ملک کے شہریوں میں امتیاز اگر زیادہ بڑھ گیا تو ملک کی ترقی کی رفتار سست رہے گی اور شہریوں کے طرز رہائش میں بڑے تفاوت کی وجہ سے عالمی سطح پرملک کی شناخت بھی خراب ہوگی۔ اس لیے جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں انہیں حکومت کی جانب سے مراعات دے کر ترقی دوڑ شامل کیا جائے تاکہ ترقی کی رفتار میں تیزی آئے ۔ ان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہیں اور اس کی طرز حیات میں بھی بہتری آسکے۔
                ہندوستان میں آزادی کے بعد مخصوص طبقوں کو نشان زد کیا گیا کہ یہ لوگ ترقی کی رفتار میں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ اس لیے انہیں خصوصی مراعات دی جائیںتا کہ وہ ترقی کرسکیں کیونکہ ان کی ترقی کے بغیر ملک کے شہریوں کے درمیان عدم مساوات رہے گی جو ملک کے لیے مناسب نہیں ہوگا۔ اس میں مسلمانوں کے بھی بعض طبقے شامل کئے گئے گرچہ ان کے ساتھ وہ انصاف نہیں ہوسکا اور انہیں اس طرح سے مراعات نہیں مل سکیں جو دیگر مذاہب کے نشان زد طبقات کو مل سکیں ۔ حالانکہ آئین میں یہ کہا گیا کہ مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہوگی ۔ اس کے باوجود ایک صورتحال سے دوچار دو الگ الگ مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مراعات کی تخصیص وتقسیم میں امتیازات پیدا ہوگئے ۔ ایک مراعات میں ہندو مذہب کے طبقات شامل کر لیے گئے اور محض ذات کی وجہ سے اسلام کے ماننے والے طبقات شامل نہیں ہوسکے۔ جیسا کہ کہا گیا کہ آئین میں شہریوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر امتیازات کی نفی کی گئی ہے تاہم یہ تلخ حقیقت ہے کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ مختلف سطح پر مختلف ادوار میں اتنے امتیازات برتے گئے کہ حکومت کی تشکیل کردہ کمیشنوں کی تحقیق کے مطابق ابھی ان کی حالت اتنی پسماندہ ہے  کہ وہ ان طبقات سے بھی بدتر حالت میں ہیں جو مخصوص مراعات کے حقدار ٹھہرے تھے۔ چنانچہ حکومت کی جانب سے ایسے گروہوں کوبڑی محدود سطح پر مراعات دے کر ترقی کے راستہ کھولنے کی بات کہی گئی اور چند مراعات جاری بھی کی گئی ۔ تاہم یہ ہمارے ملک کی بد نصیبی رہی ہے کہ جن کے لیے مراعات جاری کی جاتی ہیں عام طور پر وہ اس سے نابلد رہتے ہیں اور ان کا حتی الامکان فائدہ نہیں حاصل کرپاتے۔ جن ذرائعوں سے حکومتیں مراعات کے اشتہارات دیتی ہیں وہ مستحقین کے دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ البتہ رفتہ رفتہ جن طبقات کے لیے مراعات جاری کی گئیں ان کے با شعور افراد نے اپنے طبقات کو ان مراعات کے حصول لیے بیدار کیا اور وہ ان کو پورا پورار حاصل کر رہی ہیں۔غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) نے بھی فعال کار کردگی انجام دی ہے۔ لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے پاس اخبارات اور اس زمرہ کے وسائل کے بغیر رائے عامہ ہموار کرنے اور پیغام رسانی کے ذرائع موجود ہونے کے باوجودانہیں ہدف کے مطابق مراعات حاصل نہیں ہو پارہی ہیں ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ خود بھی مراعات کے تئیں حساس نہیں ہیں اور جس پیمانے پر ان مراعات کے لیے رقم مختص کی جاتی ہیں وہ ہدف پورا نہیں ہوتا ہے۔ ایسا بھی پڑھنے میں آیا ہے کہ رقم تک واپس ہوگئی ہے۔ مسلمانوںجو غیر سرکاری تنظیمیں رجسٹرڈ کر رکھی ہیں ان کی کار کردگی بھی عام طور پر سست دیکھی گئی ہے اور انہیں زیادہ تر ذاتی مفاد کے لیے ہی استعمال کیا جاتا دیکھا گیا ہے۔
                اس کی کئی وجہیں ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ مستحقین اس سے واقف ہی نہیں ہوپاتے ۔ اگر ہو بھی جاتے ہیں تو ان کے حصول میں یا تو دلچسپی نہیں ہوتی ہے یا ان کو حاصل کرنے کے لیے جس طرح کی شرطیں رکھی گئیں ہیں ان کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ بعض لوگ صلاحیت رکھنے کے باوجود کوتاہی برتتے ہیں اوراس کے حصول کے لیے دوڑ بھاگ نہیں کرنا چاہتے ۔ اگر مل گیا تو ٹھیک اور اگر نہیں ملا تو مقامی نمائندوں، حکومت اور افسران کی شکایت کر کے جی کو خوش کرلیا اور خاموش ہوگئے۔
                لیکن یہ بھی حقیت ہے کہ حق ہر دور میں آسانی سے مستحقین کو نہیں ملا ہے۔ مستحقین نے ان کو حاصل کرنے کے لیے مشقتیں اٹھائی ہیں ۔ قانونی لڑائیاں لڑی ہیں۔ حکومت کے سامنے دھرنے دیئے اور مظاہرے کئے ہیں حتی کہ جان کی قربانیاں بھی پیش کی ہیں ۔ اس کا واحد مقصد یہ رہا ہے کہ ان کے طبقہ کے لوگ ترقی کریں اور خوشحال زندگی گزار سکیں ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے زیادتی کر کے اس لائق بنادیا گیا کہ ہے کہ وہ مراعات کے ذریعہ اپنے ترقیاتی سفر کو تیز کریں ۔ اس لیے چاہے نہ چاہے حکومتیں مختلف طرح کی مراعات دینے پر مجبور ہوئی ہیں ۔ لیکن زمین حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ان مراعات کو حاصل کرنے میں اتنے حساس نہیں ہیں جتنا کہ ہونا چاہیے۔
                لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے چاہیے کہ ان مراعات کے ذریعہ انہیں ترقی کے جو مواقع ملے ہیں ان کا فائدہ اٹھائیں وہ ساری مراعات حاصل کریں جن کے وہ مستحق ہیں۔ اس میں مقامی نمائندوں کا تعاون بہت ضروری ہے۔ لیکن اگر نہیں ملتا ہے اپنے حق کو ضائع کردینا دانشمندی نہیں ہے۔ اس کے لیے تگ دو کریں ۔ اخبارات ورسائل کے درمیان اشتہارات پر نظررکھیں۔ اس سلسلہ میں بہت بڑی ذمہ داری جن شخصیات کی ہے وہ ہیں مسجد کے ائمہ ۔ ان کے پاس رائے عامہ ہموار کرنے کا ذریعہ ہے۔ سماج کی فلاح وبہبود ان کی ذمہ داری ہے۔ وہ اگر ذرا بیدار رہیں اور حکومتوں کی اسکیموں سے واقفیت رکھیں اور جب جب اس طرح کے اشتہارات آئیں تو جمعہ کے دن خطبہ کے آخر دو منٹوں میں یا مختلف طرح دینی جلسوں اور سماج میں اٹھتے بیٹھتے اس طرح کی اسکیموں سے لوگوں کو واقف کرادیں تو لوگ خود بھی بیدار ہونے لگیں گے۔ سماج میں خود ان ائمہ کا احترام بڑھنے کے ساتھ ساتھ ضرورت بھی بڑھ جائے گی۔
                بہت سے لوگ مذہبی پیشواؤں کا اس طرح کی چیزوں میں پڑنا غیر مناسب سمجھتے ہیں۔خود علما بھی اس کو ناپسند کریں گے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ جو رہنما ہوتا ہے اس کی ذمہ داری ہمہ جہت ہوتی ہے ۔ اسے قوم کی فلاح کے ہر پہلو کو نظر میں رکھنا چاہیے۔ جن کے رتبے ہیں سوا ان کی مشکل بھی سوا ہوتی ہے۔
                ہمارے یہاں ایک رویہ یہ پایا جاتا ہے کہ لوگ دوسروں کو نقصان پہنچاکر اپنا فائدہ تلاش کرتے ہیں۔ اگر آپ مستحق ہیں تو اپنے حق کے لیے ضرور لڑیں لیکن دوسرے حق کو غصب نہیں کیا جائے ۔ حکومت اگر مراعات کم دے رہی ہے تو آپ حکومت کے پاس اپنا استحقاق ثابت کریں اور مطالبہ جاری رکھیں حکومت کو آپ کی ضرورتیں پوری کرنی ہوں گی۔ آپ کے علاوہ جتنے لوگ مستحق ہوں گے ان کی بھی ضرورتیں پوری ہوں گی۔
                لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان مراعات پر خود منحصر کرلینا اچھی بات نہیں ہے۔ مراعات اس لیے ہیں کہ آپ اضافی امداد کے ذریعہ ترقی کی رفتار کو بڑھاسکیں۔ حقدار ہیں تو مراعات لیں اورمحنت اور روزگار کے حصول کے جتنے مواقع ہوسکتے ہیں انہیں حاصل کر کے مراعات سے خود کو آزاد کرنے کا ہدف بنائیں ۔ اور یہ سوچ رکھیں کہ جو لوگ آپ سے زیادہ مراعات کے حقدار ہیں وہ مراعات لے کر اپنی طرز رہائش کو اونچا کریں۔ کوئی قوم اسی وقت سر بلند ہوسکتی ہے جب مجموعی طور پر اس کے افراد ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ہوں۔ دیہاتوں میں دیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ مراعات پارہے ہیں انہوں نے محنت ومزدوری کرنا بند کردیا ہے اور انہی مراعات پر زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ یہ رویہ خطرناک ہے۔ اس سے ترقی نہیں ہوسکتی ہے۔ ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مراعات کے محنت ومزدوری کا جو وسیلہ میسر ہو اس کو اختیار کیا جائے۔
                ملک میں جو رفاہی اور فلاحی اسکیمیں ہیں اس میں بعض مخصوص ہیں اور بعض میں اقلیت اور اکثریت طبقہ دونوں کے لوگ شامل ہیں۔ جو لوگ ان مراعات کو حاصل کرنے کے اہل ہوں انہیں حاصل کرنا چاہیے۔ یہاں بعض سرکاری اسکیموں کے نام بتائے جاتے ہیں۔ ان کو حاصل کرنے کے لیے بیداری ضروری ہے۔ بعض اسکیمیں ہمیشہ جارہی رہتی ہے۔ بعض موقت ہوتی ہیں اور ان کے حصول کے تاریخوں کا اعلان ہوتا ہے۔ اہل حضرات کو ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اس کے حصول کے لیے تگ ودو کرنی چاہیے۔ اسکیمیں اس طرح ہیں:
نافذ العمل چند اسکیمیں:
                عام آدمی بیمہ یوجنا ، بچت لیمپ یوجنا، مرکزی حکومت ہیلتھ اسکیم، دین دیال معذورین بحالی اسکیم ، گرامین بھنڈارن یوجنا،اندرا آواس، اندرا گاندھی ماترتیا سہیوگ یوجنا ، انٹیگریٹیڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروس، انٹیگریٹیڈ رورل ڈیولپمنٹ پروگرام، زنانہ سرکشا یوجنا، کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ، کشور سائنس داںحوصلہ افزا یوجنا، لائیو اسٹاک انشورنش اسکیم ، مہاتما گاندھی نیشنل دیہی روزگار گارینٹی ایکٹ ، رکن پارلیامنٹ مقامی علاقہ ترقیاتی اسکیم ، مڈ ڈے میل اسکیم ، قومی خواندگی مشن پروگرام ، قومی پنشن اسکیم ، قومی اسکیم برائے فلاح ماہی گیران ، قومی سروس اسکیم ، قومی سماجی تعاون اسکیم ، جمع خزانہ ترقیاتی فنڈ اسکیم ، وزیر اعظم آدرش گرام یوجنا، وزیر اعظم گرام سڑک یوجنا، قومی زرعی ترقی یوجنا، قومی صحت بیمہ یوجنا، آر این ٹی سی پی ، نوجوان لڑکیوں کو با اختیار بنانے کے لیے راجیو گاندھی اسکیم ، سمپوما گرامین روزگار یوجنا، سوابھیمان، سورن جینتی گرام خود روزگار یوجنا، سوے لمبن (ان آرگنائز سیکٹر کے مزدور کے پشن کی اسکیم) ، ادھیشا، والینٹری ڈسکلوزر آف انکم اسکیم ، قومی دیہی روزگار مشن ، طویل العمری پنشن ، نیشنل فیملی بینیفٹ اسکیم، جن شری بیما یوجنا، وظیفہ برائے معذورین، بے روزگاری بھتہ برائے معذورین ، بیوہ پنشن، لاڈلی ، کمزور طبقات کے زچہ کے معالجہ کے لیے مالی تعاون، بیوہ عورتوں کے لیے مالی تعاون تاکہ وہ اپنی لڑکی کی شادی کرسکیں اور شادی کے لیے یتیم لڑکی کو مالی تعاون، اسکیم آف بھاگیہ داری، سپلیمنٹری تغذیہ پروگرام، کشوری شکتی یوجنا،معاشی پسماندہ طبقات کے لیے، وظیفہ؍ مالی تعاون،سماج کے معاشی پسماندہ طبقات کے اہل(قابل) طلبہ کے لیے لال بہادر شاستری وظیفہ ، طلبہ کے اسکول یونیفارم کے لیے سب سیڈی، ٹکسٹ بک کی مفت سپلائی ، روزگار کے لیے ایس سی ؍ ایس ٹی ؍ او بی سی ؍ اقلیات اور معذور کو قرض ، بشمول ایس سی ؍ ایس ٹی ؍ او بی سی ؍ اقلیات معاشی پسماندہ نوجوانوں ہنرمندانہ ٹریننگ وغیرہ ۔
                ان میں کچھ اسکیمیں مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کی گئیں جو قومی سطح کی ہیں جبکہ بعض ریاستی سطح کی ہیں اور ریاست میں موجود مراعات کے حقدار طبقات کے لحاظ سے ہیں۔ جو لوگ جس اسکیم کے اہل ہوں اسے اپنی تمام تر کوششوں سے حاصل کرنا چاہیے۔

Friday, 6 September 2013

On Eve of Teacher's Day

کیا اساتذہ اپنی کار کردگی سے مطمئن ہیں؟
یوم اساتذہ کو یوم محاسبہ بنائیں

                آج ۵ ستمبر ہے ۔ یوم اساتذہ۔ پیشہ تدریس سے وابستہ تمام اساتذہ کے لیے خصوصی تکریم کا دن۔ یہ دن آپ تمام اساتذہ کو مبارک ہو! اس خصوصی دن میں طلبہ کی جانب سے آپ کی حددرجہ تکریم کی گئی۔ صدر جمہوریہ ہند ، ریاستوں کے گورنروں اور اضلاع کے ضلع مجسٹریٹوں نے بھی تدریس کے شعبہ میں آپ کی گراں قدر خدمات کا اعتراف کیا۔ آپ آج ہی نہیں ہر دن اور ہر لمحہ اپنے طالب علموں کے ذریعہ لائق تکریم ہیں۔حکومت اور سماج کی نوازشوں کے بجا طور پر حقدار ہیں۔اللہ کرے کہ آپ پر ایسی نوازشوں کی بارشیں ہمیشہ ہوتی رہیں۔ لیکن ان نوازشوں کو قبول کرتے ہوئے اپنا محاسبہ کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ کیا آپ اپنی کار کردگی سے خوش ہیں؟ کیا آپ کو اس بات کا اطمینان ہے کہ آپ اپنا فریضہ بحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں؟ آپ کو سادہ لوح طالب علم نے جس تکریم سے نوازا ،وہ طالب علم جب اس لائق ہوجائے گا کہ وہ اپنے برے بھلے کو سمجھ سکے اور اپنے پچھلے دنوں کا محاسبہ کرے تو وہ آپ کو اسی عزت سے نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ عزت سے یاد کرے گا اور کہے گا کہ وہ جو کچھ ہے آپ ہی کے احسانات اور محنتوں کا ثمرہ ہے؟ اگر آپ کو اس کا اطمینان ہے اور آپ کے سینے میں زندگی کے ساتھ دھڑکنے والا دل آپ کی کار کردگی پر مطمئن ہے تو آپ کو یہ دن مبارک !صد بار مبارک!!
                لیکن اگر آپ خود اپنی کار کردگی سے مطمئن نہیں ہیں اور اگر ابھی آپ کے سینے میں موجود زندہ دل آپ سے یہ کہہ رہا ہے کہ تم نے اس گیلی مٹی کو بگاڑ دیا ہے جس میں کچھ بننے کی صلاحیت تھی، اس کے اندر موجود توانائی کو تم ضائع کر رہے ہو اور وہی جو تم ان کے ساتھ کر رہے ہو وہی اگر تمہارے ساتھ ہوتا تو تم اس پر کیا کرتے، تو آپ اپنی کار کردگی میں تبدیلی لے آئیں کیونکہ یہ سادہ لوح آج آپ کی چاہے جتنی نوازش کریں جب یہ با شعور ہوں گے اور ان کا مستقبل تباہ ہوچکا ہوگا تو یہ آپ کو نہیں بخشیں گے۔ یہ آپ کے سامنے سے گزریں گے اور ان کی نظر آپ کے احسان سے جھکے گی نہیں بلکہ ان کا سینہ اکڑا ہوا ہوگا اور یہ نفرت کی نظر سے آپ کی طرف دیکھیں گے۔ سوچئے اس وقت آپ کے دل پر کیا گزرے گی۔آپ کو یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ چیزوں کو بے کار چھوڑدینے کا نقصان صرف یہ نہیں ہے کہ وہ چیز کا م میں نہیں لائی گئی بلکہ اس کے اندر جو توانائی موجود تھی وہ ضائع ہوگئی اور اس توانائی سے خود اس کے ساتھ مخلوق کو جو فائدہ حاصل ہوتا اور دنیا کی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں جو مدد ملتی وہ بھی اکارت چلی گئی۔ جو توانائی ایک بار ضائع ہوجاتی ہے وہ دوبارہ حاصل بھی نہیں ہوپاتی ہے۔
                معاف کیجئے گا اگر آپ اس لائق نہیں ہیں کہ گیلی مٹی کو خوبصورت شکل دے سکیں تو آپ اپنے پیشہ کو چھوڑ دیں۔ کوئی اور کام ڈھونڈ لیں مگر خدا را دنیا میں بھدی مصنوعات تیار کر کے ملک اور سماج کے ذوق جمال کو تباہ نہ کریں۔
                آپ کی حیثیت ایک کمہار کی ہے۔آپ کے سامنے مٹی ہے۔ آپ کو اس مٹی سے برتن بنانا ہے۔ ان سے خراب برتن تیار ہونے سے بہتر ہے کہ نہ بنے۔ اگر آپ خراب برتن بناکر بازار میں اتاریں گے تو یہ نہ بکیں گے۔ اگر آپ کو بنانا ہی ہے تو خراب بنانے سے بہتر ہے کہ بہتر بنائیں۔ اس سے آپ کے دل کو بھی یک گونہ اطمینان ہوگا۔ آپ اپنے ہاتھ سی بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوں گے اور آپ کا دل آپ کو تشفی دلائے گا۔لیکن بہتر تب ہوگا جب آپ چاہیں گے اور جب آپ میں بہتر بنانے کا ہنر ہوگا۔ ہنر کوئی ماں کے پیٹ سے لے کر نہیں آتا ہے۔ وہ سیکھتا ہے اپنی انتھک کوششوں سے۔ آپ کوشش کریں ہنر مند ہوجائیں گے۔ لیکن اگر کوشش نہیں کریں گے تو آپ ہنر مند نہیں ہوسکتے ہیں اور جب ہنر مند نہیں ہوں گے تو آپ بہتر نہیں بناسکتے ہیں۔مٹی بھی الگ الگ قسم کی ہوتی ہے۔ کون مٹی کتنی گیلی ہوگی اور کتنی گودی جائے گی تو برتن اچھے ہوں گے یہ تبھی پتہ چلے گا جب آپ ہنر مند ہوں گے۔بچے بھی اس کچی مٹی کے مانند ہیں جو کچھ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں آپ چاہیں تو سنوار دیں اور چاہیں تو بگاڑ دیں گے۔ اگر سنوار دیں گے تو آپ کے دل کو اطمینان ہوگا اور آپ اپنے پراڈکشن پر خوش ہوں گے اور اچھے پراڈکشن کے لیے آپ کو صارفین کی جانب سے بھی بہترقیمت اور بہتر انعام ملے گا۔
                طالب علم بھی ہر قسم کے ہوتے ہیں۔ ہر قسم کے طالب علم کے لیے ہر قسم کی ہنر مندی ضروری ہے۔ آپ کو ان کی خوبیوں اور خامیوں اور ان کی صلاحیتوں کو پہچاننا ہوگا تبھی آپ انہیں ان کی صلاحیت کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔
                مجھے ایک کہانی یاد آ رہی ہے۔ ایک استاد تھے۔ انتہائی تعلیم یافتہ اور فلسفی۔ وہ اپنے شاگردوں کی بہت زیادہ عزت کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے کسی دوست نے کہا کہ بھائی تم بچوں کی اتنی زیادہ عزت کیوں کرتے ہو؟ اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا کہ تم نہیں جانتے کہ میرے سامنے اپنے وقت کے اپنے اپنے موضوعات کے ماہر بیٹھے ہیں۔ ان میں کوئی ماہر سائنسداں ہوگا۔ کوئی بڑا فلسفی ہوگا۔ کوئی ماہر استاد ہوگا اور کوئی بڑا ڈاکٹر اور کوئی بڑا انجینئر ہوگا۔ کوئی کسی چیز کا موجد ہوگا۔ کسی سے ایک خلق فائدہ اٹھائے گی۔اس وقت شاید میں زندہ نہ رہوں تاکہ ان کی عزت کرسکوں۔ اس لیے میں آج ہی ان کی عزت کرلیتا ہوں۔
                اس واقعہ میں ایک بہت ہی سامنے کی بات یہ ہے کہ اپنے شاگردوں کی عزت کی جائے تاکہ آپ انہیں دوسروں کی عزت کرنا سکھائیں۔ جب وہ دوسروں کی عزت کریں گے تو آپ کی بھی عزت کریں گے اور وہ اپنی عزت کرنا بھی سیکھ جائیں گے۔ کیونکہ کوئی شخص اپنی عزت کے بغیر سماج میں با عزت نہیں ہوسکتا۔ یہ آپ کے لیے بھی مرتبہ کی بات ہوگی کہ آپ کا طالب علم سماج اور ملک کا معزز شہری ہے۔ لیکن اس میں سب سے اہم نکتہ کی بات یہ ہے کہ اس استاد کے سامنے ہدف کیا تھا؟ وہ اپنے بچوں کو بنانا کیا چاہتا تھا؟اور حقیقت میں وہ جو چاہتا تھا اور جس کی وہ کوشش بھی کرتا تھا وہی اپنے بچوں میں قبل از وقت دیکھتا بھی تھا۔وہ اپنے جس بچے میں جو خوبی دیکھتا تھا اس کو اس کا مرتبہ بھی دیتا تھا۔ایسا اس لیے تھا کہ وہ اپنی کوششوں سے مطمئن تھا ، اس نے اپنی غلطیوں پر قابو پالیا تھا اور مسلسل کوشش سے اپنے کام میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ اب وہ ہر طالب علم کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ کرلیتا تھا اور اسی کے مطابق اس پر اپنی محنت صرف کرتا اور اسے یقین تھا کہ وہ جس کو جو بنانا چاہتا ہے وہ بنے گا ہی۔
                آپ جب تک اپنے بچوں کے لیے اعلی نصب العین متعین نہیں کریں گے اس وقت تک بڑے یا اچھے نتیجہ کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں؟ اگر آپ ابھی سے اپنے بچوں سے مایوس ہوں گے تو کیسے امید کرسکتے ہیں کہ آپ کا طالب اپنے مضمون کا ماہر ہوگا۔ جب آپ کسی بچے سے مایوس ہوجائیں گے تو اس کو جڑوں کو شاداب رکھنے کے لیے تازہ پانی دینا چھوڑ دیں گے۔ جب جڑ ہی سوکھ جائے گی تو اس کی شاخیں کہاں سے ہری ہوں گی۔ آپ اپنے بچوں سے کبھی مایوس نہ ہوں۔ آپ مایوس ہوجائیں گے تو اس کا دل شکست خوردہ ہوجائے گا اور پھر وہ کہاں کامیاب ہوپائے گا۔
                عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ بچوں کے اندر سے ابلتی ہوئی توانائی اس کی تخلیقیت سے مل کر جب کوئی مثبت رخ نہیں پاتی ہے تو نت نئی شرارتوں میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ استاد اس سے جھلا جاتا ہے اور مستقبل میں اس کی ناکامی کا قطعی فیصلہ دے دیتا ہے۔ کبھی آپ نے محسوس کیا کہ اس سے کیا ہوسکتا ہے؟ اس سے طالب علم کے اندر اپنی کمی کے شک کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔ اس کا حوصلہ پست ہوجاتا ہے۔ اس میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ پودا جو گھنا او ر مضبوط تناور ہونے کی صلاحیت رکھتا تھا ابتدا میں ہی مرجھا جاتا ہے۔ آپ انہیں شرارت سے ضرور باز رکھیں لیکن آپ اس کی ایسی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنی توانائی اور تخلیقیت کو مثبت استعمال میں لاکر کوئی نیا کام کرے۔ یہ مثبت استعمال اعلی نصب العین کو پانے کے ہدف کے ساتھ سامنے لایا جاسکتا ہے۔
                آپ نے دیکھا ہوگا کہ کمہار کی چاک پر بسا اوقات کچھ مٹی بے قابو ہوتی رہتی ہے۔ کمہار انہیں اٹھاکر پھینک نہیں دیتا بلکہ وہ مسلسل اسے قابو میں لا کر اسے مجوزہ شکل دینے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ مٹی وہ نہیں بن پاتی جو کمہار چاہتا تھا تو بھی کچھ نہ کچھ بن ہی جاتی ہے۔ طالب علم میں بھی آپ کو اس کا تجربہ ہوگا اور کمہار سے زیادہ ہوگا۔ کیونکہ کے کمہار کے سامنے بے جان اور غیر مختار چیز ہے۔ جبکہ آپ کے سامنے جاندار اور اپنی منفرد خو بو والی ہستی موجود ہے جس کو آپ سے کوئی سیکھ لینے سے زیادہ اپنی آزادی اور خود مختاری عزیز ہے۔ ان سب صورتحال کے باوجود آپ کو انہیں کچھ بنانے کا ہدف رکھنے کی مسلسل کوشش کرتے رہنا ہے۔ تاکہ وہ وہ نہ بن سکیں تو کچھ تو بن ہی جائیں۔
                اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے بچوں کے لیے اعلی نصب العین متعین کریں۔ نصب العین تب متعین ہوگا جب آپ کے دل میں یہ خیال ہو کہ مجھے اپنے پیشہ سے صرف روٹی نہیں کمانی ہے بلکہ ہمارے ہاتھ میں جو خام مال ہے اس سے کوئی نئی اور انوکھی چیز بنانی ہے جو میرے مرنے کے بعد میری نشانی ہو۔ لیکن یہ تب حاصل ہوگا جب آپ خود کو انہی بچوں میں گم کردیں۔ آپ یہ سمجھیں کہ ان کا بہتر نتیجہ ہی آپ کی محنتوں کا ثمرہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ آپ کو ماہر بننا ہوگا اور ماہر بننے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی کمیوں کا احساس کریں۔ جب تک آپ اپنی کمیوں کا احساس نہیں کریں گے اس وقت تک آپ اپنی غلطیوں کی اصلاح نہیں کرسکتے ہیں اور جب تک غلطیوں کی اصلاح نہیں ہوسکتی آپ ماہر نہیں ہوسکتے۔
                آپ کو اپنی کمیوں کو دور کرنے کے لیے اپنے کام کا احتساب کرنا ہوگا۔ آپ جب ایک درجہ سے نکل کر دوسرے درجہ میں داخل ہورہے ہوں اس وقت کو ذہنی آسودگی میں گزارنے کے بجائے احتساب کریں کہ آپ نے درجہ میں کہاں چوک کی۔یا اگر آپ کا حافظہ کمزور نہ ہو تو آپ ایسا بھی کرسکتے ہیں کہ جب اسکول احاطہ سے باہر چلے جائے یا جب اسکول کے کام سے فرصت مل گئی ہو تو اس وقت آپ پورے دن کے کاموں کا جائزہ لیں۔ آپ کو نظر آئے گا کہ آپ کونسا کام کیسے کرتے تو مزید بہتر نتیجہ سامنے آتا۔ جب آپ احتساب کریں گے تو آپ کو اپنی کمیوں کا احساس ہوگا۔ کمیوں کا احساس خامیوں کو دور کرے گا اور خامیوں کی دوری آپ کو ماہر بنادے گی۔تو دیر مت کیجئے ماہر بن جائیے۔ اچھا پراڈکشن تیار کیجئے اپنے دل کو مطمئن کیجئے اور جب دنیا سے جائیے تو اس اطمینان کے ساتھ کے آپ کے ذمہ جو کام دیا گیا تھا تو اس کو آپ نے پورا پورا ا نجام دیا۔
                میرے ہم منصب بھائیو! احتساب کے لیے وقت ، دن اور تاریخ کوئی معنی نہیں رکھتے جس وقت احساس ہوجائے رخ بدلنے کے لیے وہی وقت مسعود وممنون ہے۔اس کے باوجود آج جبکہ آپ کی عزت افزائی ہورہی ہے اپنی ذمہ داریوں کے تئیں احتساب کا اچھا موقع ہے۔ اس لیے ہمیں احتساب کرنا چاہیے اور جب ہمیں احساس ہوجائے گا رویہ میں تبدیلی بہت آسان ہوگی تو احتساب کیجئے اور اپنے رویہ میں تبدیلی لے آئیے۔

٭٭٭