ہورے گا نہ کچھ گھبرائیں کیا
۷؍ جون ۲۰۱۳اتوار کی صبح گیا کے مہا بود ھ مندر پر دہشت گردانہ
حملہ ہوگیا۔یہ یا اس جیسا کوئی بھی حملہ کوئی غیر متوقع نہیں تھا۔بس انتظار تھا کہ دہشت پسندوں کو موقع
کب ہاتھ آتا ہے اور کس جگہ انجام پاتا ہے۔ کیونکہ دوست سے بڑا دشمن کوئی نہیں ہوتا۔ جب تک انسان دوست رہتا ہے
دوست کے لیے اپنی جان نثار کرنے پر بھی اس کے جبین پر شکن نہیں آتی لیکن یہی دوست
جب دشمن بن جاتا ہے تو اس کی گزری ہوئی ہر بات اور ہر واقعہ میں دشمنی پسند عناصر کی
تفہیم ہونے لگتی ہے۔ ابھی ۲۰ روز قبل تک بہار میں موجود حکومت ایسے دوستوں
کے اشتراک سے تھی جس نے ایک دو سال نہیں بلکہ ۱۷ سالوں
کی طویل مدت ایک دوسرے کے قدم قدم پر شریک اور وعدہ نبھاتے گزاری تھی۔ دونوں نے ایک
دوسرے کی اونچ نیچ کا کبھی برا نہیں مانا۔ لیکن اچانک جب نمو جی انسان دوستی کے مذہبی
سبق اور نمو نمہ کے ساتھ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے سامنے آئے اور بی جے پی نے اپنی
۱۷ سالہ رفاقت کی لاج رکھے بغیر اپنے ہم رکاب جد یو کے خیال خاطر کے لیے
بھی ان سے ان کی رضا مندی نہیں لی اور نموعرف پھینکو جی کو اس عہدے کے لیے قبول کر
لیا ۔ ادھر بہار کی حکومت کے لئے انتہائی کسمپرسی کی حالت تھی کہ حکومت کا کھمبا کہیں
نہ کہیں مسلم ووٹوں پر قائم ہے جن کو نمو جی کے ساتھ جد یو کو قبول کرنے میں تردد ہی
نہیں انکار بھی ہوسکتا تھا ۔ اس لیے جد یو نے اپنی ۱۷ سالہ
دوستی کے شکریہ کے ساتھ ان سے آنکھیں موڑ لیں۔ بہار میں بھلے ہی بی جے پی کے ہی حمایت
سے مگر عزت ووقار جد یو کے پالے میں تھااس لیے اب حکومت سے در بدری بی جے پی کے لیے
بھی وقار کا مسئلہ تھا۔چنانچہ بی جے پی کارکنان نے بڑے زور و شور سے بہار بند کی حمایت
کی اور حتی الامکان اس کو کامیاب بنانے کی کوشش کی۔ اسی دن سے حساس اور با شعور لوگوں
کو اس کی توقع تھی کہ ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟ ابھی عدم رفاقت کو دس دن گزرے
تھے کہ آئی بی نے پٹنہ کے مہاویر مندر پر دہشت گردانہ حملے کا اشارہ دے دیا۔ حکومت
نے اس کے لیے پوری ریاست کو ہائی الرٹ کردیا ۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ ۴ دن قبل سی بی آئی کی تازہ رپورٹ نے گجرات میں فرضی تصادم اور انکاؤنٹر
کی شکار عشرت جہاں کو بے قصور قرار دے دیا۔ جو بی جے پی کے لیے شرمندگی کی نہیںتو سبکی
کی بات ضرور تھی۔ اس پر سے ان کے پرانے رفیق تازہ رقیب ساتھیوں کو عشرت جہاں کے ظلم
کا غم مجبور کرنے لگا اور انہوں نے بہار کی بیٹی اور نہ جانے کس کس ناموں سے اس کو
یاد کیا اور مظلوموں کے خلاف اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ ابھی ایک دن کی بات ہے کہ عشرت
جہاں کے قاتلوں کے محافظ جناب والا پھینکو جی نے بہار کی سرزمین پر موجود اپنے متوالوں
کو صدا بندی وعکاسی کے ذریعہ نہ جانے کیا پاٹھ پڑھائے ۔ اس کے چند گھنٹے بھی نہیں گزرے
کہ گیا کے عظیم مہا بودھ مندر پر حملہ ہوگیا۔ حالانکہ سابق کی طرح کچھ بعید نہیں کہ
کہیں سے آوارہ برقی خط موصول ہوگا جس میں عشرت جہاں کے بدلہ میں آج کی اس بزدلانہ
حرکت کا اعتراف ہوجائے گا اور پھر سابق کی طرح برق گرے گی تو بے چارے مسلمانوں پر۔
No comments:
Post a Comment