استاد محترم پروفیسر انیس صدری صاحب کم و بیش ایک ماہ کی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ میں نے بی۔ اے۔ میں ان سے سبق پڑھا تھا۔ ایک دن یا دو دن ہی ان سے علم عروض کی مبادیات سیکھ سکا تھا، لیکن اتنی ہی مدت میں انہوں نے ایسی باریکی سکھائی کہ میں ایم۔ اے۔ کے امتحان میں اور اس کے بعد بھی علم عروض کو اتنا جان گیا کہ میرا کام چل جاتا ہے۔ بہت آسان انداز میں تقطیع کرنا سکھا دیا جو میرے بڑے کام آیا۔ اس کے بعد میں نے شمس الرحمن فاروقی کی کتاب ’درس بلاغت‘ سے جو کچھ سیکھاسیکھا باقی انہی کا سکھایا ہوا کام آیا یا بنیاد بنا۔
وہ میرے استاد تھے، لیکن اس سے زیادہ میں انہیں اپنا محسن قرار دیتا ہوں۔
جب وہ متھلا یونیورسٹی میں صدر شعبہ بن کر آئے تو ان سے ملنا جلنا ہوتا رہتا تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ کچھ اساتذہ ہی تھے جو تکمیل نصاب کے بعد شعبے کی طرف ہماری گردش کے محور تھے۔ جب ہمارے چند محبوب اساتذہ سے شعبہ خالی ہو گیا تو پھر ہمارے لیے وہ کشش ثقل بھی ختم ہو گئی جو ہمیں شعبے کی طرف کھینچ کر لانے کا سبب بنتی تھی۔
اس دوران جب بھی ان سے بات چیت ہوتی تو پڑھنے پڑھانے سے متعلق گفت و شنید تو کرتے ہی تھے، زندگی کے مراحل کیسے طے ہوتے ہیں، اس کے گُر بھی وہ سکھاتے تھے۔ زندگی میں کیسے کیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ان سے کس طرح نبرد آزما ہونا ہے، یہ باتیں بھی بتاتے تھے۔
یادش بخیر! انہوں نے اپنی صدارت کے دوران شعبے میں صحافت پر بڑا عمدہ اور کامیاب سیمینار منعقد کرایا تھا۔ میں نے خبروں کا احاطہ کیا اور وہ ’انقلاب‘ میں عمدہ انداز میں لگی۔ بطور خاص میرے تینوں اساتذہ، پروفیسر انیس صدری، پروفیسر ارشد جمیل اور پروفیسر فاراں شکوہ یزدانی نے میری اس خبر کو پسند کیا اور بہت دعائیں دیں۔ شعبے میں رفقا کی یہ تثلیث تھی۔ حالانکہ ان کے علاوہ بھی شعبے کے اساتذہ میں سے کچھ اساتذہ کی مجھے محبت حاصل رہی ہے اور الحمدللہ اب بھی حاصل ہے۔ اللہ ان کی عمر دراز کرے اور صحت و عافیت کے ساتھ رکھے۔
میرے استاد پروفیسر ارشد جمیل صاحب کا انتقال ہو گیا۔ میں جب ان کے جنازے میں شرکت کرکے بھاگلپور سے لوٹا تو پروفیسر ارشد جمیل صاحب کے متعلقین سے گفتگو کے بعد میں نے ایک کتاب کی اشاعت کا منصوبہ بنایا، جس میں ان کی شخصیت اور خدمات کے حوالے سے کچھ تاثراتی گفتگو اور کچھ علمی گفتگو کا احاطہ ہو۔
جب یہ منصوبہ میں نے صدری سر کو بتایا تو وہ بڑے خوش ہوئے۔ انہوں نے پوچھا کہ اس کتاب کی اشاعت کیسے ہوگی یعنی اس کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔ میں نے بتایا کہ لوگوں نے کہا ہے کہ تھوڑا تھوڑا سب لوگ تعاون کریں گے۔ انہوں نے بلا جھجک کہا کہ کسی سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کتاب پر جتنے اخراجات آئیں گے، وہ سب آپ مجھ سے لے لیجیے گا۔
کتاب کی طباعت کا مرحلہ طے ہوا، مضامین جمع ہو گئے۔ میں ان کے پاس گیا کہ سر، آپ کا مضمون؟ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، میں دے دوں گا۔
وہ بڑے رقیق القلب آدمی تھے۔ ارشد جمیل صاحب سے ان کے دوستانہ مراسم بڑے گہرے اور دیرینہ تھے۔ ان کی رقت قلبی ان مراسم کو ضبط تحریر میں لانے میں حارج ہوتی تھی۔ کتاب کے تقریباً تمام مضامین آ چکے تھے اور انہی کا مضمون باقی رہ گیا تھا۔
پھر میں نے ایک دن ان سے کہا کہ سر، آپ املا کرائیں اور میں لکھ لوں گا۔ چنانچہ میں لیپ ٹاپ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ برجستہ لکھاتے جاتے تھے اور میں کمپوز کرتا جا رہا تھا۔ درمیان میں کئی بار ایسا ہوا کہ ان پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ کئی منٹ تک گفتگو بند کر دینی پڑتی تھی۔
اس طرح یہ مضمون مکمل ہو سکا بلکہ اسے مکمل نہیں کہنا چاہیے۔ ان سے متعلق کچھ باتیں وہ تحریر کرا سکے ورنہ دونوں کے جو روابط تھے اور ان کے درمیان جو یادداشتیں تھیں، انہیں ان چند صفحات میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔ بہرحال ’ذکر جمیل‘ کے نام سے کتاب شائع ہوئی۔
کتاب کی اشاعت سے پہلے انہوں نے خود بلا کر مجھ سے اخراجات کا تخمینہ لیا۔ جب میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا کہ نہیں، نہیں، اور پیسے لگیں گے۔ میں نے کہا کہ نہیں سر، میری بات ہو گئی ہے، اتنے ہی پیسے لگیں گے۔ پھر انہوں نے وہ پیسے دیے اور یہ کتاب منظر عام پر آئی۔ میں نے احسان مندی کے طور پر اس کتاب کا انتساب صدری سر کے نام کرنا مناسب سمجھا۔ جب انہوں نے کتاب دیکھی تو کہا کہ اس کی کیا ضرورت تھی۔
میں اپنی بہن کا رشتہ تلاش کر رہا تھا۔ انہیں جب معلوم ہوا تو وہ بھی میری مدد کرنے لگے اور رشتہ تلاش کرنے میں بڑی رہنمائی کی۔ بہرحال، اپنے علاقے میں ہم لوگوں نے جب رشتہ تلاش کر لیا اور انہیں یہ خبر دی کہ رشتہ مل گیا ہے تو انہوں نے شادی کے سلسلے میں دریافت کیا کہ اخراجات کا کیا تخمینہ ہے، کیسے اخراجات پورے ہوں گے۔
میری بات چیت ہوئی تو میرے تردد سے انہوں نے کچھ بھانپ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی بات نہیں ہے، سب لوگوں کو ایسا ہی کرنا پڑتا ہے۔ میں نے بھی اپنی بیٹیوں کی شادی کی تو اسی طرح ضرورت پڑی۔
میں نے کہا کہ سر، کہیں سے پورا کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کہیں سے پورا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو جتنے پیسوں کی ضرورت ہے، وہ مجھ سے لے جائیں۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے سر۔ بہرحال، انہوں نے ایک رقم پوچھی۔ میں نے بتایا تو انہوں نے کہا کہ آئیے اور لے جائیے، آپ کا پیسہ رکھا ہوا ہے۔
ہوا یہ کہ شادی سے تھوڑے دن پہلے میری طبیعت خراب ہو گئی۔ انہوں نے جب پوچھا کہ آپ آئے نہیں تو میں نے کہا کہ سر، طبیعت ذرا خراب ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اکاؤنٹ بتائیں، میں پیسہ بھجوا دیتا ہوں۔ بالآخر انہوں نے ایک بڑی رقم میرے کھاتے میں بھجوا دی۔ تھوڑے دنوں بعد، بلکہ ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد، جب میں ان کی خدمت میں پیسے لے کر حاضر ہوا تو انہوں نے کہا کہ کون سا پیسہ ہے؟ میں نے کہا، سر، وہی تو وہ کہنے لگے: جو بھول گئے سو بھول گئے۔
ایک بار میں ان کے یہاں پہنچا۔ میرے ساتھ آفتاب عالم، استاد ایم۔ ایل۔ اکیڈمی، بھی تھے۔ ہم لوگوں نے ملاقات کی، چائے اور ناشتے کے بعد واپس جانے کے لیے ان سے اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ آپ کھانا کھا کے جائیں گے۔
آفتاب بھائی نے کہا کہ نہیں سر، نہیں کھائیں گے۔ بہرحال، جب ان کا اصرار بڑھا اور ہم لوگوں کا انکار جاری رہا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ بالآخر میں نے آفتاب بھائی کی کلائی پکڑ کر انہیں روکا اور کہا کہ نہیں سر، ہم لوگ کھا کے جائیں گے۔ اس طرح ہم لوگوں نے کھانا کھایا اور پھر ان سے رخصت ہوئے۔
ہم لوگ جب بھی ان کے ہاں پہنچے تو انہوں نے کھلائے بغیر واپس نہیں کیا۔ وہ کسی طرح کا تکلف نہیں برتتے تھے۔ احباب اور عزیزوں کے لیے ان کا دروازہ والی آسی کے ان اشعار کا مصداق تھا:
مصلی رکھتے ہیں صہبا و جام رکھتے ہیں
فقیر سب کے لیے انتظام رکھتے ہیں
یہ اور بات کہ ملتے نہیں حریفوں سے
مگر دعا کا بڑا اہتمام رکھتے ہیں
میں نے اپنی کتاب ’ہر روز روز عید‘ کے لیے ان سے تاثرات لکھنے کی گزارش کی تو انہوں نے بڑی خوشی سے اسے قبول کیا اور ازراہ ہمدردی و حوصلہ افزائی اپنے تاثرات بھیج دیے۔
وہ مجھے اپنے عزیزوں میں شمار کرتے تھے اور بہت مانتے تھے۔ ان کا دست شفقت میرے سر پر تھا جس سے اب میں محروم ہو گیا۔ غائبانہ میں بھی وہ مجھے اچھے نام سے یاد کرتے تھے اور دعائیں دیتے تھے۔ میرا حال چال دوسروں سے فون کرکے دریافت کرتے رہتے تھے۔ میرے بارے میں تشویش میں بھی مبتلا رہتے تھے۔
وہ ادھر آ کر نسیان اور فراموشی کے شکار ہو گئے تھے۔ اپنے بیٹوں کا نام بھی بھول جاتے تھے، لیکن اس حالت میں بھی انہوں نے کئی بار فون کرکے میرا حال چال دریافت کیا۔ چاہنے والوں سے بات کرکے ان کی طبیعت میں غیر معمولی شگفتگی آ جاتی تھی۔
یہ ان کی بڑی خوبی تھی کہ وہ اپنے عزیزوں کو اس طرح عزیز رکھتے تھے کہ ہر ایک کو یہ احساس ہوتا کہ اس کے ساتھ جو شفقت کا برتاؤ ہے، وہ اسی پر آخری ہے۔ وہ کسی بھی شناسا کا سامنا اس طرح کرتے تھے کہ بجھا سے بجھا دل کھل اٹھے۔ زندہ دلی اور ان کی دل ربائی کا کوئی جواب نہیں تھا۔
زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
وہ اس شعر کی زندہ مثال تھے۔
اگر میں ’ہمکنا‘ کو درست سمجھ پا رہا ہوں تو میرا خیال ہے کہ لفظ ’ہمکنا‘ کی زندہ تصویر اتارنی ہو تو ان کے ملنے کے انداز کی تصویر کشی کی جا سکتی ہے۔
سنا ہے کہ وہ نظامت بھی کرتے تھے اور خوب کرتے تھے لیکن میں نے انہیں صدارت کی عمر میں دیکھا ہے۔ وہ شخصی وجاہت، طبعی نفاست، نشست و برخاست کے وقار، تہذیبی اور علمی شائستگی کے نمونے کی حیثیت سے صدارت کا بہترین انتخاب تھے۔ گفتار پر قدرت تھی۔ دو منٹ میں اپنی بات مکمل کر سکتے تھے اور دو گھنٹے کو بھی ناکافی بنا سکتے تھے۔
شعر پڑھنے اور داد دینے، دونوں کا انداز نرالا تھا۔ شعر اپنا ہو کہ کسی اور شاعر کا، وہ سکتے اور وقفے کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس طرح پڑھتے تھے کہ ہر لفظ سے معانی کے موتی خود ہی جگمگا اٹھتے تھے۔
میرے منجھلے بھائی کی شادی ہونے والی تھی۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ سر، آپ ولیمے میں تشریف لائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ضرور آؤں گا اور وہ ولیمے میں وقت پر شریک ہوئے۔ گھر پر آ کر بڑے خوش ہوئے اور نو عروس جوڑے کو مبارکباد دی۔
میں انہیں کہتا تھا کہ سر، آپ اپنی کتاب چھپوائیے۔ وہ میری باتوں کو نظر انداز کر دیتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کتاب کا سارا کام کروا چکے تھے، کتابت بھی ہو چکی تھی، لیکن کاتب نے اسے بہت زمانے تک غائب کر دیا۔ مسودہ غائب ہو گیا تو ان کی دلچسپی ختم ہو گئی۔ بعد میں جب مسودہ ملا تو ان کی دلچسپی نہیں رہی۔
میں نے ایک سفر میں ضد کرکے ان سے مسودہ حاصل کیا اور مسودہ لے کر اپنے یہاں چلا آیا۔ اس کی کمپوزنگ کروا کے بتایا کہ سر، کتاب مکمل ہو گئی ہے۔
انہوں نے یاس بہاری کی حیات و خدمات پر اپنا مقالہ تحریر کیا تھا اور یہی کتاب شائع ہونی تھی۔ اس میں یاس بہاری کے مجموعہ کلام کو جمع کیا گیا تھا جو بہت طویل تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ سر، کلام کا انتخاب شائع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، ٹھیک ہے، اچھی بات ہے۔
تو میں نے کہا کہ سر، آپ وہ کلام منتخب کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ جو انتخاب کریں گے، وہی میرا انتخاب ہوگا۔ اس وقت میرا جو جواب ہو سکتا تھا، وہ جواب میں نے دیا۔ بہرحال، انہوں نے کوئی انتخاب نہیں کیا۔
میں نے جب انتخاب کرکے ان کی خدمت میں مسودہ پیش کیا تو انہوں نے کہا کہ بہت اچھا ہے۔ ظاہر ہے، یہ بات انہوں نے میری حوصلہ افزائی کے لیے ہی کہی، ورنہ وہ ایک اچھے شاعر تھے اور ان کا انتخاب بلا شبہ میرے انتخاب سے بہت اچھا ہوتا۔
بہرحال، یہ کتاب بڑے اہتمام سے انہوں نے شائع کرائی اور اس کے اجرا کے لیے اپنے گھر پر، صدری ولا میں، ایک تقریب کی تاریخ طے کی۔ تقریب میں کون کون مہمان شامل ہوں گے اس پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دو مہمان تو میری ہی تجویز پر رکھے گئے۔ مجھے ہی اس کی نظامت کی ذمہ داری بھی سونپی لیکن اتفاق سے اسی دن میرے ہاں کچھ ضروری مہمان آنے والے ہو گئے۔ میں نے چاہا کہ وہ مہمان دو دن بعد آئیں، لیکن ایسی صورت پیدا نہیں ہو سکی۔
میں نے بڑی لجاجت اور شرمندگی کے ساتھ اپنا عذر پیش کیا تو انہیں تھوڑا افسوس تو ہوا کہ میں اس میں شریک نہیں ہو رہا ہوں لیکن اس مہمان کے آنے کی انہیں بڑی مسرت ہوئی اور انہوں نے مجھے خوشی خوشی اجازت دے دی۔
بڑے اہتمام سے انہوں نے اجرا کرایا اور بہت خوش ہوئے۔ مجھے بھی بہت دعائیں دیں اور لگاتار اس کے لیے دعائیں دیتے رہے۔ انہوں نے مجھ سے میری کمی محسوس ہونے کا اظہار بھی کیا۔
میرا ارادہ تھا کہ ان کا مجموعہ کلام بھی شائع ہو جائے۔ میں نے بارہا ان سے اصرار کیا کہ وہ اپنا مجموعہ کلام شائع کرا لیں، لیکن اس عمر میں شاید اب ان چیزوں سے بڑی رغبت نہیں رہی تھی۔ ورنہ ان پر ایک زمانہ ایسا گزرا کہ ملک کے عمدہ اور وقیع رسالوں میں ان کے مضامین چھپتے تھے۔ ان کی تخلیقات اور ان کے مقالے شائع ہوتے تھے جن کو محفوظ رکھنے کا وہ بڑا اہتمام بھی کرتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ ان کے ذخیرہ کتب میں یہ چیزیں موجود بھی ہیں۔
بہرحال، ایک دن میں ان کی ڈائری لے کر آ گیا اور اس کو کمپوز کرنے لگا، لیکن اس میں اتنا کلام نہیں تھا جسے کتابی شکل دی جا سکے۔ وہ ان کی زندگی کے کچھ آخری کلام تھے۔ میں ان سے اصرار کرتا رہا لیکن انہوں نے بے نیازی برتی۔
میں ان کے فرزند راشد بھائی اور حماد بھائی سے کہتا رہا کہ ان کی تخلیقات کا جو مسودہ ہے، اسے تلاش کرکے مجھے بھیجیں، لیکن سر اپنی مخصوص چیزوں میں بچوں کو بھی ہاتھ لگانے نہیں دیتے تھے اور اس طرح وہ چیز مجھے حاصل نہیں ہو سکی۔
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!
میری یہ خواہش کہ ان کا مجموعہ کلام بھی شائع ہو، ادھوری رہ گئی، لیکن میری یہ کوشش ہوگی کہ ان کا جو ذخیرہ ہے، جو ان کی کتابوں میں موجود ہے، اسے تلاش کرکے شائع کیا جائے۔
اس ذخیرے میں ان کے تحقیقی اور تنقیدی، دونوں طرح کے مقالات بھی شامل ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ان کے الگ الگ مجموعے شائع ہو سکتے ہیں۔
صدری صاحب بہترین تحقیقی مزاج رکھتے تھے۔ انہوں نے عربی فارسی ریسرچ سینٹر میں بھی کام کیا تھا اور خدا بخش لائبریری سے بھی وابستہ رہ کر تحقیق کا کام کرتے رہے تھے۔ ان کی تنقیدی بصیرت بھی بڑی عمدہ اور اعلیٰ تھی۔ ان کی کتاب ’یاس بہاری: حیات و خدمات‘ میں اس کے کچھ نمونے اور عمدہ نمونے موجود ہیں۔
میں ان کے بیٹے حماد بھائی اور راشد بھائی سے یہ امید کرتا ہوں کہ وہ اس کام کو آگے بڑھائیں گے۔
میں چاہتا تھا کہ استاد محترم پروفیسر فاراں شکوہ یزدانی پر کوئی تاثراتی کتاب شائع ہو۔ ان سے جب میں نے اپنی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے بڑی پسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ضرور کیجیے۔ مگر تا امروز یہ خواہش پوری نہیں ہو سکی۔ اگر یہ کتاب چھپتی تو ضرور ان کے تاثرات بھی شامل ہوتے، کیونکہ پٹنہ کے زمانے سے لے کر دربھنگہ تک دونوں کی شناسائی تھی اور رفیق کار بھی رہے تھے۔
ان کو ایک ماہ قبل برین ہیمرج ہوا۔ سٹی ہاسپٹل، دربھنگہ میں ایڈمٹ ہوئے۔ پٹنہ لے جایا گیا۔ پھر اس کے بعد وہ فریدیہ ہسپتال لائے گئے جہاں ڈاکٹر یوسف فیصل نے بڑی محبت سے ان کا علاج نہیں بلکہ ان کی خدمت کی۔
علاج کے دوران مسلسل اذیت اور کرب کے شکار رہتے ہوئے، بالآخر 24 اکتوبر کو رات دو بجے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ان کے فرزند محسن صدری، حماد صدری اور راشد صدری نے بڑی خدمت کی۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اسی میں لگے رہے لیکن ظاہر ہے کہ اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔
انہوں نے بھرپور زندگی جی اور زندگی کا لطف اٹھایا۔ زندگی کی بازیاں کھیلیں، کبھی بازی جیتی، کبھی بازی ہاری، مگر حوصلہ کبھی نہیں ہارا۔ جس مرض میں وہ اللہ کو پیارے ہوئے، اس میں عام لوگ عموماً تین سے پانچ دن کی کشمکش میں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ صدری سر ایک ماہ سے زائد موت و حیات کی رسہ کشی میں مبتلا رہے۔ ہر شب لوگوں کو آخری محسوس ہوتی تھی مگر وہ موت کو مات دے کر صبح جیت لیتے تھے۔ گویا
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا
اور خواہشوں کا تو مجھے پتہ نہیں لیکن ایک خواہش یہ تھی کہ ان کی چھوٹی بچی کو کوئی مناسب رشتہ مل جائے جو ان کی زندگی میں نہیں مل سکا۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی بہتر سبیل پیدا کرے گا۔
میرے لیے یہ بڑے قلق کی بات ہے کہ میں ان کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکا، کیونکہ میں اس وقت ممبئی میں ہوں اور اتفاق سے 23 تاریخ کو میرے والد کی بائی پاس سرجری ہوئی ہے۔ میں ان کی تیمارداری میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ میرے والد کو بھی صحت عاجلہ کاملہ عطا فرمائے۔
دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ صدری صاحب کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ بیماری کی اذیت اور کرب کو ان کی بشری لغزشوں اور کوتاہیوں کا کفارہ اور بلندی درجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
یہ چند جملے میں نے برجستہ لکھے لیکن میں ان کے احسانات کو ان چند جملوں میں بیان نہیں کر سکتا۔
اللهم اغفر له وارحمه واعف عنه۔