احتشام الحق
پروفیسر شاکر
خلیق کی شاعری‘‘ احساس جنوں ’’ کے تناظر
میں
پروفیسر شاکر خلیق کا
تعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے۔ ان کے والد عبد الخالق خلیق بھی شاعر و ادیب
تھے اورشفیع مسلم اسکول ، دربھنگہ میں درس
وتدریس سے وابستہ تھے۔ تذکرہ آل تراب اور حاضری (سفرنامہ حج بیت اللہ) ان کی کتابیں
ہیں۔ خود پروفیسر شاکر خلیق نے زمانہ طالب علمی سے ہی بڑی متحرک اور فعال زندگی گزاری ہے۔ عظیم آباد
اور بہار کے بڑے بڑے اور استاد شعرا کی صحبت انہیں حاصل رہی ہے۔ قومی سطح پر انہوں
نے ملک کے کئی نامور شعرا کے ساتھ مشاعروں
میں شرکت کی ہے۔ صوبہ کے کئی عظیم سیاست دانوں کو بھی انہوں نے قریب سے دیکھا ہے
اور ان کے ساتھ سیاسی و سماجی مسائل کی
گتھی سلجھاتے رہے ہیں۔ ملی قیادت کرنے والے کئی مشاہیر علمائے کرام کے ساتھ بھی ان
کی نشست وبرخاست رہی ہے۔مسلمانوں کے اندر ذات پات اور مسالک و مشارب کی بنیاد پر
قائم تفریقات کو ختم کرنے اور ہم آہنگی پیدا کرنے
سعی بھی کرتے رہے ہیں۔ بین المذاہب خیرسگالی کے ماحول کو سازگار بنانے کے
لیے بھی انہوں نے کام کیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند اور امارت شرعیہ پٹنہ بہار و اڑیسہ
و جھارکھنڈ کے پلیٹ فارم سے کی جانے والی جد وجہد اور مساعی میں ان کی فعال شرکت
رہی ہے۔ ریاستی سطح پر اردو کو دوسری زبان کا درجہ دلانے اور قومی سطح پر اردو
فروغ دینے کی جو تحریکیں اٹھی ہیں ان کا حصہ بھی وہ بنتے رہے ہیں۔ پٹنہ ہائی کورٹ
میں بحیثیت وکیل کام کرنے کا تجربہ رہا ہے۔ سی ایم کالج دربھنگہ میں مسند تدریس پر فائز رہے ہیں اور متھلا
یونیورسٹی دربھنگہ کے پی جی ڈپارٹمنٹ آف اردو میں استاد اور صدر کی حیثیت سے بھی
انہوں نے اپنی شناخت قائم کی۔یونیورسٹی کے کئی انتظامی عہدوں پر بھی کام کیا ہے۔
الغرض پروفیسر شاکر خلیق علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شعبہ جات میں اتنے سرگرم
اور فعال رہے ہیں کہ ان حوالوں سے ان کی شخصیت کا احاطہ مستقل مضامین کا
متقاضی ہے۔ انہوں نے امریکہ اور دیگر کئی ممالک کا سفر بھی کیا ہے۔ اس طرح ایک
کامیاب انسان کی طرح بھر پور زندگی جی ہے اور زمانے کے سرد و گرم سے آشنا ہوئے
ہیں۔ زندگی کے ان تجربات نے انہیں پختہ شعور عطا کیا ہے اور ان کی شخصیت کو بالیدہ
بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
شعور
کی یہ پختگی ، فکر کی بالیدگی اور تجربات کی فراوانی ان کی شاعری میں بھر پور نظر
آتی ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کا مطالعہ قاری کو ایک پر لطف احساس سے گزارتا ہے۔ یہ احساس
مسرت کی ترنگ کی شکل میں ظاہر ہونے کے ساتھ بصیرت کی رو بھی پیدا کرتا ہے۔ قاری کو طرب اور امنگ کا احساس کراتا ہے۔ ان کی شاعری
میں مٹتی ہوئی تہذیب کا المیہ بھی ہے مگر
نئی زندگی اور نئے تقاضوں کا جوش و
مسرت کے ساتھ استقبال کرنے کی تحریک
دیتا ہے۔ ان کی شاعری قاری کو حالات سے نبرد آزما ہونا اور آنکھ سے آنکھ ملا کر آگے بڑھنا سکھاتی ہے۔
ان کے کلام میں یہ خوبیاں جا بہ جا اور وافر
نظر آتی ہیں۔ نظم متاع جنوں کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
جنوں ہے اپنی پونجی اور خرد ان کا خزانہ ہے
جنوں کے راستے ہی چل کے منزل ہے ٹھکانا ہے
جنوں جب وادی پر خار میں جا پا بہ جولاں ہو
تو سرحد سے نکل کر خوبصورت شامیانہ ہے
کبھی ہے اعتراف اس کا کبھی ہے احتساب اس کا
جنوں کے حوصلے کا معترف دیکھو زمانہ ہے
متاع زندگی اپنی جنوں کے دست رس میں یوں
جنوں ہی ہے حقیقت اور خرد بس اک فسانہ ہے
پروفیسر شاکر خلیق کے
کلام کے دو مجموعے اب تک شائع ہوچکے ہیں۔ پہلا مجموعہ کلام اعتراف جنوں کے نام سے
۱۹۹۴ میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک ان کا کوئی مجموعہ کلام کتابی
شکل میں شائع نہیں ہوا۔ لیکن رسائل و جرائد
کی زینت بھی بنتا رہا۔ اس کی وجہ ان کا تدریسی انہماک رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ رہی کہ
تدریس کے ساتھ ساتھ انتظامی امور سے بھی ان کا تعلق رہا اور سماجی وسیاسی امور میں
بھی ان کی مصروفیت رہی۔ ان کی طبیعت میں
موجود استغنا اور بے نیاز ی کا عنصر اس پر مستزاد ہے۔
زیر نظر مضمون میں پروفیسر شاکر خلیق دوسرے مجموعہ کلام احتساب جنوں پر طائرانہ نظر
ڈالی گئی ہے جو کتاب ۲۰۲۱ میں منظر عام پر آئی ہے۔ احتساب جنوں پروفیسر شاکر خلیق
کے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کلام کا مجموعہ ہے۔ یوں تو انہوں نے اس کتاب کو نظموں کے
مجموعے کا نام دیا ہے اور در حقیقت نظموں کی ایک بڑی تعداد اس میں موجود بھی ہے لیکن نظموں
کے علاوہ غزلیات، قطعات اور شادیات کو بھی وافر جگہ دی گئی ہے۔
شاعر نے اپنی کتاب کا
نام زیر نظر کتاب میں موجود نظم ’’متاع جنوں ‘‘ سے اخذ کیا ہے اور جنوں کو کار زار حیات میں متاع
زندگی قرار دیا ہے۔ اس طرح یہ متاع جنوں
قاری کے لیے زندگی کو انگیز کرنے کا پیغام
بن گیا ہے۔
اس کتاب کے مشمولات کا جائزہ لینے پر ہمیں ان کی
نظمیں متوجہ کرتی ہیں۔ انہوں نے اس کے مشمولات
کو دس ذیلی عناوین کے تحت تقسیم کیا ہے جن میں توشۂ آخرت، احتساب جنوں،
آزاد نظمیں، گلدستہ تبریک، وفیات، بقید صنعت توشیح، غزلیات، امریکہ کی غزلیں،
انگریزی، ہندی اور میتھلی کلام شامل ہیں۔
توشہ آخرت میں بشمول
حمد و نعت اور مناجات اس قبیل کی آٹھ
تخلیقات ہیں۔ایک حمدیہ دوہا بھی ہے۔ مناجات ان کی ایک طویل اور پرانی نظم ہے۔ اسی
نظم سے اس کتاب کی ابتدا ہوئی ہے۔ یہ ایک دل پذیر مناجات ہے جو مثنوی کے فارم میں
لکھی گئی ہے۔ اس میں خدا اور بندے کے رشتے
کا انعکاس ہوا ہے اور ایک خاص کیفیت میں لکھے جانے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے جس کا
اظہار شاعر نے خود بھی کیا ہے۔ پوری نظم ہار کے موتی کی طرح پروئی ہوئی نظر آتی
ہے۔
اس کے بعد وہ حصہ
شروع ہوتا ہے جس سے کتاب معنون ہے یعنی احتساب جنوں۔ پہلی نظم الوداع ہے۔ عام طور پر یہ عنوان حزن و
ملال کے عناصر کو اضطراری طور پر کھینچ لاتا ہےلیکن اس
نظم میں بھی وہ طرب اور ولولہ کا موضوع لے آئے ہیں اور اس کو بخوبی برتنے کی کوشش کی ہے۔
دیکھئے یہ دوسرا بند:
اے مرے ساقیا دور
صہبا چلے
اب اٹھی ہے گھٹا جام و مینا چلے
کیف و مستی ہو مدہوش دنیا چلے
اس کے انداز ہوں یعنی سب سے جدا
الوداع الوداع الوداع الوداع
البتہ تیسرے اور آخری بند میں الوداعی کیفیت واضح ہوجاتی
ہے۔
ابتدا میں کئی موضوعی
نظمیں ہیں جو موضوع کے اعتبار سے قاری کو مختلف نوعیت کے تجربات زندگی سے گزارتی ہیں۔مشورہ حسن و عشق کی
واردات پر مبنی ایک نظم ہے جس میں فریقین کے لیے وصل کی کوئی صورت نہیں نکلتی تو
اس مشورے پر انجام کو پہنچتی ہے:
صرف ایک یہی وعدہ آؤ
آج ہم کرلیں
ایک دوسرے کو ہم اب
کبھی نہ بھولیں گے
ایک دوسرے ہم بس دلوں
میں پوجیں گے
تیرے ہی دم سے بھی ان کی ایک نظم سے حسن و عشق کی واردات پر
مبنی ہے۔ اس کی ابتدا میں کچھ مایوسی کی کیفیت ہے لیکن جیسے جیسے نظم کا ارتقا نظم
میں رجائی کیفیت بڑھتی جاتی ہے ۔ ملاحظہ
ہو یہ بند:
تو جو میرا ہے تو
دنیا کا مجھے خوف نہیں
تو بھی روٹھے گا کبھی
مجھ سے یہ امید نہیں
تیری یادوں کے سہارے
ہی جیا کرتا ہوں
کلفت دہر کا اب مجھ
کو کوئی خوف نہیں
ہر مصیبت میں ترا نام
لیا کرتا ہوں
تو ہی بس میرے لئے
دہر کی تابانی ہے
ساری دنیا کی عنایات
ہیں قرباں تجھ پر
تیرے ہی دم سے خیاباں
میں بہار آئے گے
تیرے الطاف سے اس
عالم حیوانی میں
ٹوٹتی سانس میں بھی
روح پلٹ آئے گی
ہم تو جیتے ہیں فقط
لطف و کرم پر تیرے
چینی جارحیت ۱۹۶۲ کے
خلاف انہوں نے ترانہ ملی تحریر کیا ہے۔ اس نظم میں انہوں نے نوجوانان وطن کی حوصلہ
افزائی کی ہے اور وطن کے لیے جاں نثاری کا جذبہ پیدا کرنے کی اپیل کی ہے۔
ساز شکستہ محض چار
مصرعوں پر مبنی ایک مکمل نظم ہے: ملاحظہ ہو
رات پھر میں نے سنی
اپنے پڑوسی کے گھر
کرب میں ڈوبی ہوئی
ایک سسکتی آواز
چار چھوٹے چھوٹے
مصرعوں میں شاعر نے جس احساس کا ذکر کیا ہے وہ شاعر کے دل کی کیفیت کو ظاہر تو
کرتے ہیں ساتھ ہی شاعر کی فن پر دسترس کو بھی عیاں کرتے ہیں۔
نظموں کے عنوان
سے شاعری کی وسعت نظری کا اندازہ کیا
جاسکتا ہے۔ کتاب میں جو نظمیں ہیں ان میں خواب و خیال، چند سوال، یاد ماضی، گلہائے
عقیدت (جواہر لعل نہرو کی موت پر)
پاسبانان وطن، باغبانان چمن، رقاصہ، شکستہ ساغر دل، فطرت کی بیٹی، یوم ارض، وقت کی
پکار (اطالیائی صنف کیتو کی طرز پر لکھی گئی)گرونانک کی یادو، پیام مشرق، اپنا
مرثیہ، قصیدہ در مدح مزدور، تحفہ عید -
بڑے بھائی کے نام، پیام تعلیم، وصیت (اپنی بیٹی زینب کےنام جس میں شوہر کے ساتھ
حسن سلوک اور خوشگوار زندگی جینے کی تعلیم دی گئی ہے) ، منظر پس منظر
اس کے بعد کئی آزاد
نظمیں ہیں۔ دونوں حصوں کی کئی نظمیں خاص مواقع کے لیے بھی کہی گئی ہیں۔ کچھ موضوع کی سطح
پر تو کچھ ہیئت کی سطح پر تجربہ کے طور پر
کہی گئی ہیں۔ ان دنوں حصوں کی تخلیقات تقریبا نصف صدی کو محیط ہیں۔ ان کے مطالعہ
سے اندازہ ہوتا ہے کہ پروفیسر شاکر خلیق کو نظم گوئی پر عبور حاصل ہے۔ اس میں
چھوٹی سے چھوٹی نظمیں بھی ہیں اور ایک خاص طوالت
رکھنے والی نظمیں بھی ہیں۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا
کہ پروفیسر شاکر خلیق نے بین المذاہب
خیرسگالی کے جذبات کو فروغ دینے میں بھی عملی طور پر سرگرمی دکھائی ہے۔
چنانچہ زیر نظر کتاب میں فرقہ وارانہ ہم
آہنگی کے حوالے سے بھی کئی نظمیں موجود
ہیں اور غزلوں کے اشعار میں بھی اس طرح کی
مثالیں موجود ہیں۔ خطاب بہ جوانان ہند، ترانہ ملی، گلہائے عقیدت، پاسبانان وطن،
وقت کی پکار، گرونانک کی یاد میں، ایکتا کا سبق (گجرات کا تناظر) یہ وہ نظمیں ہیں
جن میں پیام امن و محبت اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی تحریک موجود ہے۔
وقت کی پکار اطالوی صنف کینٹو کی طرز پر لکھی گئی ہے اور حب
الوطنی کے جذبہ سے معمور ہے۔
پیام مشرق
امریکہ میں منعقد ایک شعری نشست کے
لیے کہی
گئی نظم ہے جو مشرق و مغرب کے تعلق کو آشکار کرتی ہے۔ شاعر کی نظر میں مشرق و مغرب کی تفریق اس سے زیادہ
کچھ نہیں:
اس دھرتی پر رنگ برنگے پھول کھلے ہیں چاروں اور
جن کی خوشبو کی مستی سے ہم سب ہی متوالے ہیں
قدرت نے اپنے ہاتھوں سے ایکسے ایسے رنگ بھرے
جن سے دنیا جگ مگ جگ مگ اور دھرتی پر تارے ہیں
پورب ، پچھم، اتر، دکھن بس سمتوں کا کھیل ہے یہ
ایک لڑی کے سب موتی ہیں جب بکھرے ناکارے ہیں
پروفیسر شاکر خلیق کی نظموں اور کلام میں فطرت کی عکاسی بھی
بھر پور موجود ہے۔ فطرت کی بیٹی اور یوم ارض اس کی بہترین مثالیں ہیں۔
شاعر
نے ایسے ٹھوس موضوعات کونظم کا جزو بناتے ہوئے
بھی اس میں شعریت کو مجروح نہیں
ہونے دیا ہے۔ شعریت کے ساتھ نغمگی، روانی اور کیف ومستی کی فضا پائی جاتی ہے۔
اسی طرح ناسٹلجیا اور
یاد ماضی بھی ان کے کلام کے اوصاف ممیزہ
ہیں نظم خواب و خیال اور یاد ماضی میں یہ ابھر کر سامنے آیا ہے لیکن دیگر کئی
نظموں میں یہ چیزیں نظر آتی ہیں۔
ان کی خوبصورت قابل مطالعہ نظموں میں اپنا مرثیہ (۱۹۷۴) بھی
شامل ہے۔
گلدستہ تبریک کے تحت
شادیات کے علاوہ مختلف مواقع پر منظوم
مبارکبادیاں ہیں۔ وفیات کا بھی حصہ ہے جس میں جواہر لعل نہرو، راجیو گاندھی،
پروفیسر مطیع الرحمن، حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، شمیم فاروقی کی رحلت
پر منظوم تعزیت اور تاثرات ہیں۔ صنعت توشیح کی قید کے ساتھ جو نظمیں ہیں ان میں
بیشتر وفیات سے تعلق رکھتی ہیں۔
اس کے بعد غزلیات کا
حصہ ہے۔اس میں ایک درجن سے زائد وہ غزلیں بھی شامل ہیں جو انہوں نے امریکہ میں
قیام کے دوران کہی ہیں۔ فارسی، میتھلی، انگریزی
اور ہندی میں بھی کلام موجود ہے۔ مشمولات میں قطعات و رباعیات بھی شامل
ہیں۔
کتاب کے اخیر میں ان کی غزلوں کا مجموعہ اعتراف جنوں کی چند غزلوں کا انگریزی ترجمہ شامل ہے جس کو
محمود احمد کریمی نے کیا ہے۔
تخلیقات کے مطالعہ سے
ان کی قادر الکلامی کا بھر پور اندازہ ہوتا ہے۔ موضوع اور ہیئت دونوں سطح پر ان کی
حیثیت ایک استاد شاعر کی ابھرتی ہے۔یہ کتاب اہل ذوق کے لیے سامان تسکین فراہم کرتی ہے۔عرض حال میں مصنف نے مختصر طور پر اپنے
ادبی رجحان شعری برتاؤ کی طرف اشارہ کیا
ہے جس سے ان کی شاعری کی تفہیم کی راہ آسان ہوتی ہے۔
طباعت
اور کاغذ عمدہ ہیں ۔ اخیر میں تصویریں بھی شامل ہیں جن میں کچھ خانگی اور ذاتی قسم
سے تعلق رکھتی ہیں تو کچھ ادب کی بڑی ہستیوں کی موجودگی سے ان کو یادگار اور
تاریخی بناتی ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ
کتاب علمی اور ادبی حلقوں میں پسند کی جائے گی۔