سماجی ہم آہنگی اور سیرت رسول کا
مثالی نمونہ
دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو مختلف اسباب و عوامل انسانی آبادی
میں امتیاز و تفریق کی صورتحال پیدا کر
دیتے ہیں۔ جنسی امتیاز، نسلی امتیاز، رنگ کا امتیاز، لسانی امتیاز، اقتصادی
امتیاز، علاقائی امتیاز اور مذہبی امتیاز وغیرہ امتیازات و تفریقات کی چند نمایاں
شکلیں ہیں۔ مذکورہ امتیازات کی بھی کچھ
ذیلی شکلیں ابھرتی رہتی ہیں۔ان میں جتنا زیادہ تنوع ہوتا ہے امتیاز پیدا ہونے کا
امکان اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ جب مذکورہ نوع میں سےکسی نوع کا ایک فریق دوسرے فریق پراپنے تسلط اور
بالا دستی کی کوشش کرنے لگتا ہے تو امتیاز
منفی رخ اختیار کرلیتا ہے۔تسلط و بالا دستی کی اس کوشش پر اگر قابو نہ پایا
جائے اور پر امن بقائے باہم کی پالیسی
اختیار نہ کی جائے تو فتنہ وفسادات رونما ہونے لگتے ہیں۔ حالات مہلک و مضر
ہوجاتے ہیں۔ جس علاقہ یا خطہ میں یہ صورت
برپا ہوتی ہے انتشار اور بدامنی جگہ بنانے لگتی ہے۔ امن وامان زائل ہوجاتا ہے۔ جانی و مالی نقصانات
سامنے آتے ہیں۔ ترقی کی رفتار سست ہوجاتی ہے۔ انسان ترقی کی راہ پر چلنے کی بجائے اپنی ساری صلاحیت
دفع ضرر پر صرف کرنے لگتا ہے۔
ہندوستان تکثیریت پر مبنی سماج ہے۔ یہاں رنگ و نسل، زبان و بولی، اقتصادی طبقات،
منفرد خوبیوں کے ساتھ علاقہ جات، مذاہب
اور افکار ونظریات، تہذیب و ثقافت اور تمدن میں بے انتہا تنوع موجود ہے۔ کہا
جاسکتا ہے کہ ہندوستان کا یہی تنوع در اصل دنیا کی مختلف قوموں کی کشش
کا ذریعہ بھی بنتا رہا ہے۔ہندوستانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس ملک میں دنیا
کی مختلف قومیں مختلف ادوار میں آتی رہی
ہیں۔ اُس وقت انہیں یہاں کی موجود آبادی سے مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ یہ
بھی عجیب اتفاق ہے جو قومیں یہاں آئیں ان میں اکثر کو اس ملک کی کشش نے اپنا
گرویدہ بنا لیا۔
جب کسی فرد ؍ قبیلہ ؍ قوم
کی ایک جگہ سے دوسری جگہ عارضی یا مستقل طور پر نقل مکانی ہوتی ہے تو اس کے
ساتھ محض جسم اور چند اسباب زندگی
کا بوجھ نہیں جاتا بلکہ لباس و پوشاک، کھانا پینا، رہنا سہنا،
اطوار، زبان، بولی اور لہجہ، نشست و
برخواست، مذہب اور افکار و نظریات گویا
تہذیب و تمدن کا ہر عنصر جو انسان کی
شخصیت کا جز و لا ینفک ہے اس کے ساتھ جاتا ہے۔ اسی کے متوازی انسان کی شخصیت میں وہ مقناطیسی عنصر ہے کہ وہ جہاں
جاتا ہے وہاں کی تہذیب و تمدن کے عناصر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ
جیسے جیسے دوسری قومیں ہندوستان آئیں انہوں نے یہاں کی تہذیب کو متاثر کیا تو خود بھی یہاں کے تہذیبی عناصر سے متاثر ہوئے
بغیر نہ رہ سکیں۔اس کے باوجود ہر ایک کا اپنا اپنا تشخص اور منفرد شناختیں واضح
طور پر اس میں موجود رہیں۔ اپنے تشخص اور منفرد شناخت کی بقا کے ساتھ اخذ وقبول کے اس عمل نے ملک کی ثقافت کو سرمایہ
دار بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ اس سے
ہندوستان میں کثرت میں وحدت کا رنگ پیدا ہوا۔
آج ہندوستان میں جو قومیں؍ قبائل؍ لسانی گروہ آباد ہیں وہ صدیوں کے میل جول سے اس طرح
باہم شیر و شکر ہوچکے ہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے نہ الگ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی
ان میں سے کسی کی تہذیب کو مٹایا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان تمام کو ایک رنگ میں رنگنے کی کوشش کامیاب ہوسکتی
ہے۔ کیونکہ آج ہم جس عہد میں جی رہے ہیں اس میں دنیا کے مختلف خطوں اور علاقوں کا
ایک دوسرے سے تعامل اور رابطہ اتنا زیادہ ہے
کہ بفرض محال اگر سب کو ایک رنگ میں رنگ بھی دیا جائے تو اس پر دوسرے رنگوں
کی چھینٹیں پڑنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ دوسرے یہ کہ انسان کی شخصیت میں متاثر
ہونے اور پل پل بدلنے کا عنصرموجود ہے۔
گویا یک رنگی کی یہ کوشش انسانی فطرت اور جبلت کے خلاف جنگ ہے جو کبھی کامیاب نہیں
ہوسکتی۔
ان سب کے باوجود ہندوستان میں بعض عناصر کی جانب سے تہذیبی
تسلط اور مذہبی بالا دستی کے لیے کی جا رہی ناروا کوششوں نے ملک کے حساس، غیر جانبدار اور انسانیت کے علم بردار افراد کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اس کے بالمقابل انصاف پسند لوگوں کی جانب سے بھی ایسی کوششیں ہوتی
رہتی ہیں کہ ملک میں ہم آہنگی اور مواخات کا ماحول بنا رہے۔ لوگ ایک دوسرے
کے حامی ومدد گار بن کر رہیں۔ کیونکہ یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ جب تک ایک خطہ میں
موجود انسانی آبادی آپس میں مل جل کر نہ رہے اور ایک دوسرے کی معاون و مدگار نہ ہو تو ترقی کے امکان ناپید
ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہی سب وجہ ہے کہ اسلام جو ایک آفاقی اور ابدی مذہب ہے اور عین فطرت انسانی ہے اس نے بھی ہم آہنگی کی اہمیت کو سمجھایا ہے۔
قرآن مقدس کی متعدد آیات اور سیرت رسول ﷺ
کے متعدد واقعات ایسے ہیں جن کے ذریعہ مخلوط آبادی ہم آہنگی اور امن وسلامتی کے
ساتھ زندگی بسر کرنے کا راستہ تلاش کرسکتی ہیں۔
آپ جانتے ہیں کہ قرآن نے
جہاں ایمان والوں کو مخاطب کیا ہے وہیں جملہ انسانیت کو یٰأیھا الناس کہہ کر بھی مخاطب کیا
ہے۔ قرآن میں ایمان والوں کا ذکر
نواسی مرتبہ آیا ہے تو بیس مرتبہ یایھا الناس کہہ کر پوری انسانیت کو مخاطب کیا گیا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ دنیا میں اختلاف اور امتیاز کی جو
بنیادیں ہیں اور جن کی شناخت بطور امتیاز
بہت بعد کے لوگوں نے کی قرآن اور رسول اکرم ﷺ
نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل ان کی
شناخت کرتے ہوئے ان امور میں واضح ہدایات اور رہنمائی کر دی ہے۔ جب محمد
رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اس وقت عالم عرب میں
وجہ امتیاز وبرتری عام طور پر قبیلہ اور خاندان،جنس، رنگ، زبان اور مال و
دولت وغیرہ ہوا کرتے تھے۔ قرآن و حدیث
میں ان سب کی وضاحت اور انکار موجود ہے۔
قبائلی امتیاز:
اللہ تعالی نےقرآن میں
خاندان اور قبائل کا ذکر کرتے ہوئے اس کا مقصد محض ایک دوسرے سے الگ شناخت قرار دیا ہے اور وجہ امتیاز تقوی اور پرہیزگاری کوبتایا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
﴿يَا
أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ
شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ
أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ (الحجرات ۱۳) .
ترجمہ: لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا
اور تمہارے خاندان اور قبیلے بنائے۔ تاکہ
ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ
پرہیزگار ہے۔ بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے۔
جنسی امتیاز:
اسلام نے جنس کو بھی امتیاز کی کوئی وجہ نہیں گردانا ہے۔ بار بار قرآن میں نساء یعنی
عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور بیشتر جگہوں
پر ان کے حقوق بتائے ہیں۔ اسلام میں عورتوں کی حیثیت اس طرح بھی تسلیم کی گئی
کہ قرآن میں النساء نام سے سورۃ نازل کی
گئی۔ اس کے علاوہ ان کے مضامین پر مبنی سورہ طلاق نازل کی گئی۔ سورہ بقرہ کی بیشتر
آیتیں خواتین کے حقوق و مراتب کو متعین کر تی ہیں اور بھی کئی سورتیں ہیں جن میں
عورتوں کی تفصیل اور احکامات موجود ہیں۔ سورہ روم میں اللہ نے انسانی جوڑے کو ایک نشانی قرار دیا۔
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا
لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ
يَتَفَكَّرُونَ٢﴾ الروم ۲۱
ترجمہ: اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اُس نے
تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ اُن کی طرف (مائل ہوکر) آرام
حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی جو لوگ غور کرتے ہیں اُن کے لئے
ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔
یہاں وجہ یہی بتائی گئی
کہ تم ان میں سکون حاصل کرو اور
اللہ نے یہ احسان بھی جتایا ہے کہ اس نے
ان کو تمہارے لیے مودت اور رحمت کا
ذریعہ بنایا ہے۔
جہاں تک قرآن کی
آیت مبارکہ الرجال قوامون علی النساء اور
وراثت میں عورت کا حصہ مرد کا نصف ہونے کا
معاملہ تو یہ واضح رہنا چاہے کہ اسلام نے
عورت کو تمام مادی ذمہ داریوں سے آزاد کر کے مرد کو اس پابند بنایا ہے۔
یہاں یہ وضاحت بھی نامناسب نہیں ہے کہ اسلامی معاشرہ عدل پر مبنی ایک ‘مرد اساس’ معاشرہ ہے۔ حالانکہ
مرد اساس معاشرے میں مرد کی جس بالا دستی
اور حاکمیت کا تصور پایا جاتا ہے اسلام اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ہے۔ اسلام میں مرد زن کے حقوق و اختیارات بالکل
واضح ہیں۔ خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے کسی بھی صورت میں دست بردار
نہیں کیا جاسکتا ہے۔
رنگ اور زبان کا امتیاز:
قرآن نے رنگ اور زبان کے فرق و اختلاف کو بھی اپنی نشانیوں
میں شمار کیا ہے اور اس کو کسی درجہ میں بھی وجہ امتیاز قرار نہیں دیا ہے۔
﴿وَمِنْ
آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ
وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ
لَآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ﴾ الروم ۲۲
ترجمہ: اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے آسمانوں
اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا۔ اہلِ دانش کے
لیے ان (باتوں) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔
خطبہ حجۃ الوداع میں -- جس کا ذکر تفصیل سے آگے آ رہا
ہے --
رسول اکرم ﷺ نے واضح طور پر اس کی نفی کرتے ہوئے کہا تھا : لا فضل لعربی علی عجمی و لالعجمی
علی عربی ولا لاحمر علی اسود ولا لاسود علی احمر۔ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر یا
کسی کالے کو گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔
اقتصادی امتیاز:
قرآن میں مال و اولاد کا ذکر بھی کئی بار آیا ہے۔ قرآن نے ان کو
اگر دنیا کے لیے زینت قرار دیا ہے تو وہیں اگر وہ اللہ کے ذکر سے غافل کر دیں تو ان کو ہلاکت کا ذریعہ بھی بتایا ہے۔ ساتھ ہی
جن کے پاس مال ودولت ہے اللہ نے اس میں سائل اور محروم کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
﴿وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾ الذاریات :۱۹
ترجمہ: اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے
(دونوں) کا حق ہوتا تھا۔
اسلام نے زکوۃ کا نظام طے کیا ہے جس میں امیروں سے مال لے کر غریبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی بار بار انفاق فی سبیل اللہ پر بھی ابھارا گیا ہے۔
اور بھی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن چونکہ اس مقالے میں رسول اکرم ﷺ کی سیرت مبارکہ
میں ہم آہنگی کے مثالی نمونوں کو تلاش کرنا ہے، اس لیے چند آیتوں پر اکتفا کیا
جاتا ہے۔ یوں تو نبی اکرم ﷺ کی پوری زندگی اور ان کا
ہر عمل مثالی اور نمونہ ہے۔ انسانیت کی ہمدردی سے عبارت ہے۔ اللہ نے خود آپ
کو رحمۃ للعالمین قرار دیا ہے۔ طوالت سے گریز کرتے ہوئے یہاں چند مثالی نمونوں کو
پیش کیا جا رہا ہے جس کو اپنا کر مخلوط آبادی پر امن زندگی گزار سکتی ہے اور پر
امن بقائے باہم کا رویہ اختیار کر سکتی ہے۔
سیرت رسول میں ہم آہنگی کی بڑی مثالیں ہمیں حلف الفضول،
میثاق مدینہ، صلح حدیبیہ اور خطبہ حجۃ
الوداع میں بطور خاص ملتی ہیں۔ان کے علاوہ بھی بہت سی ایسی مثالیں سیرت رسول میں موجود ہیں۔
حلف الفضول:
آپ ﷺ کی بعثت سرزمین عرب کے مکہ میں ہوئی۔اس وقت مکہ میں قبائلی بالا دستی
ومنافرت کا بازار اتنا گرم تھا کہ وہ برسوں سے خانہ جنگی میں مصروف تھے۔
ایک جنگ چل پڑتی تو کئی نسلیں اس کو جاری رکھتی تھیں۔ مولانا حالی نے مسدس میں اس
کا بڑا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے:
|
چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ |
|
ہر اِک لُوٹ اور مار میں تھا یگانہ |
|
فسادوں میں کٹتا تھا ان کا زمانہ |
|
نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ |
وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے
درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے
|
نہ ٹلتے تھے ہر گز جو اڑ بیٹھتے تھے |
|
سلجھتے نہ تھے جب جھگڑ بیٹھتے تھے |
|
جو دو شخص آپس میں لڑ بیٹھتے تھے |
|
تو صد ہا قبیلے بگڑ بیٹھتے
تھے |
بلند ایک ہوتا
تھا گر واں شرارا
تو اس سے بھڑک اٹھتا تھا ملک سارا
|
وہ بکر اور تغلب کی باہم لڑائی |
|
صدی جس میں آدھی انہوں نے گنوائی |
|
|
قبیلوں کی کر دی تھی جس نے صفائی |
|
تھی اک آگ ہر سُو عرب میں
لگائی |
|
نہ جھگڑا کوئی ملک و دولت کا تھا وہ
کرشمہ اک ان کی جہالت کا تھا وہ
|
کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا |
|
کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا |
|
لبِ جوٗ کہیں آنے جانے پہ جھگڑا |
|
کہیں پانی پینے پلانے پہ
جھگڑا |
یونہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں
یونہی چلتی رہتی تھی تلوار ان میں
رسول اکرم ﷺ کی عمر
جب پندرہ سال تھی مدینے کے دو قبائل کے درمیان ایک جنگ ہوئی جس کو جنگ فجارکہتے
ہیں۔ اس میں ایک طرف قریش خاندان تھا جس
سے آپ کا تعلق تھا اور اس کےحلیف بنو
کنانہ تھے۔ اس کے بالمقال قیس عیلان تھے۔ اس جنگ کو فجار(برا کام) اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں حَرم اور حرام مہینے
دونوں کی حرمت پامال ہوئی تھی۔ اسی جنگ کے بعدقبائل قریش کے درمیان ایک معاہدہ طے
ہوا جس کو حلف الفضول دنام دیا گیا۔ بقول صفی الرحمن مبارکپوری:
‘‘اس معاہدے کی روح
عصبیت کی تہہ سے اٹھنے والی جاہلی حمیت کے منافی تھی’’
(صفحہ ۱۰۸، الرحیق المختوم)
اس معاہدہ کا بھی ایک پس منظر ہے جو سیرت رسول اور تاریخ
میں موجود ہے۔ نبی اکرم ﷺ بھی اس معاہدے میں کی میٹنگ میں موجود تھے۔حالانکہ وہ اس
وقت تک منصب رسالت پر فائز نہیں ہوئے تھے۔
لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ بعثت کے بعد بھی اس عہد وپیمان کا خود کو پابند سمجھتے تھے۔ آپ
فرماتے تھے:
‘‘میں عبد اللہ بن
جدعان کے مکان پر ایسے معاہدے میں شریک تھا کہ مجھے اس کے عوض اونٹ بھی پسند نہیں
اور اگر (دورِ) اسلام میں عہد و پیمان کے لیے مجھے بلایا جاتا تو میں لبیک
کہتا’’ (ابن ہشام ۱)
ڈاکٹر حمید اللہ لکھتے ہیں:
‘‘ مکے والوں کو اس پر بجا طور سے
فخر ہوسکتا ہے کہ جس زمانے میں باقی عرب بلکہ باقی دنیا میں لاٹھی راج کا دور دورہ
تھا، اس وقت انہوں نے رضا کارانہ امداد مظلومین کے لیے اپنی جتھا بندی کی، اور
تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے رات کی بات دن ہوتے ہوتے بھلا نہ دی بلکہ ہمیشہ اس کی
لاج رکھی، زمانہ جاہلیت میں بھی اس کی دہائی سے ابو جہل وغیرہ جیسے بڑے بڑے سرغنے تھراتے تھے۔ ’’ (رسول اکرم کی سیاسی زندگی: ص ۵۳)
عہد نامہ حلف الفضول:
معاہدہ حلف الفضول میں درج ذیل معاہدہ طے پایا تھا:
1. ہم مظلوموں کا ساتھ دیں گے، خواہ وہ کسی قبیلے کے ہوں یہاں
تک کہ ان کا حق ادا کیا جائے۔
2. ملک میں ہر طرح کا امن و امان قائم کریں
گے۔
3. مسافروں کی حفاظت کریں گے۔
4. غریبوں کی امداد کرتے رہیں گے۔
5.
کسی
ظالم یا غاصب کو مکہ میں نہیں رہنے دیں گے۔
اس
کو حلف الفضول اس لیے کہتے ہیں اس معاہدہ
سے قبل مکہ میں قبیلہ جرہم کے سرداروں کے درمیان بھی ایک معاہدہ ہوا تھا اور جو
لوگ اس معاہدہ کے محرکین میں شامل تھے ان سب کا نام فضل تھا۔
۱۔
فضل بن حارث ۲۔ فضل بن وداعہ ۳۔ فضل بن فضالہ
( بحوالہ: سیرت ابن ہشام ج ۱، ص ۱۳۴)
یہاں دیکھا جاسکتا ہے کہ مذکورہ معاہدہ کی جو شقیں ہیں وہ احترام انسانیت اور ملک میں امن و امان
کے قیام کی یقین دہانی کراتے ہیں اور آج بھی قابل عمل ہیں۔ جہاں کہیں مظلوموں کی حمایت، امن و امان کے
قیام، ملک اور سماج دشمن عناصر کے خلاف
کھڑے ہونے اور انہیں پناہ نہیں دینے پر
معاہدہ ہو، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس
میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں بشرطیکہ معاہدہ انصاف پر مبنی ہو اور اس کا مقصد نفرت
انگیزی نہ ہو۔
میثاق مدینہ:
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ حلف الفضول کا
تعلق مکہ سے تھا اور یہ معاہدہ اس وقت طے پایا تھا جب آپ ﷺ رسالت کے مرتبے فائز
نہیں ہوئے تھے۔ اس کے باوجود ہمیشہ آپ نے خود کو اس کا پابند عہد سمجھا۔ جب آپ ﷺ یثرب( مدینہ)
تشریف لائے اورمسلمانوں کے درمیان ایک منظم سماج کی تشکیل کی تو انہوں نے مسلمانوں
کے لیے ۰۱ ھ میں
ایک دستور مرتب کیا۔ یہ دستور مسلمان
آبادی پر نافذ ہوتا تھا لیکن یہ واضح رہے کہ
یہ مسلمان علاقائی طور پر دو الگ الگ خطوں کے رہنے والے تھے جن میں سے مقامی آبادی کو انصار اور باہر سے آنے والی
آبادی کو مہاجر کہا جاتا تھا۔
یہاں
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دنیا میں جب کوئی
قوم یا آبادی نقل مکانی کرتی ہے اور جہاں جا کر وہ آباد ہونے کی کوشش کرتی
ہے وہاں کی زمین نوعیت کے اعتبار سے جتنی
نرم ہو آنے والی آبادی کے لیے ہیئت کے
لحاظ سے سنگلاخ ہوجاتی ہے۔ وہاں اکثر اسے
مقامی اور علاقائی عصبیت کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ دنیا کی یہ پہلی ایسی نقل مکانی
(ہجرت)تھی جو مواخات اور خیر سگالی کے
اعتبار سے بے نظیر ہے۔ یہ محض نبوی تعلیم
کا نتیجہ تھا کہ لوگوں نے نہ صرف ان کو اپنے گھر میں پناہ دی بلکہ اپنے
دلوں میں بھی ان کے لیے جگہ بنا ئی۔ گھر بار اور مال و متاع میں بھی ان کو حقیقی
بھائی کی طرح شریک اور ساجھی بنا لیا۔
یثرب
میں ایک دوسرا طبقہ بھی موجود تھا
جوعلاقائی فرق کے ساتھ مذہبی اور تہذیبی فرق بھی رکھتا تھا۔ اس فرق کے سبب وہ علاقائی نسبت کے باوجود انصار مدینہ سے بھی
مختلف تھا۔چونکہ اس وقت تک کوئی معاشرہ
مستحکم نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس مقام پر موجود تمام طبقات کے رشتے استوار نہ ہوں اور پر امن بقائے باہم
کا اصول مرتب نہ ہوجائے۔ چنانچہ اس وقت انصار و مہاجرین کے علاوہ تیسرا طبقہ
یہودیوں کا تھا۔ یہودیوں کے وہاں تین قبائل تھے جن کی آپس میں پھوٹ بھی تھی۔ ان
میں بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ شامل تھے۔ مسلمانوں کے خلاف ان کے دلوں
میں نفرت بھی پائی جاتی تھی گرچہ وہ ان سے
متحارب نہیں تھے۔ صفی الرحمن مبارکپوری
لکھتے ہیں: ‘‘یہ معاہدہ اس معاہدے کے ضمن میں ہوا تھا
جو خود مسلمانوں کے درمیان باہم طے پایا تھا۔’’ (صفحہ
۲۸۶، الرحیق المختوم)
معاہدے کی شقیں:
۱۔ بنو عوف کے یہود مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک
ہی امت ہوں گے۔ یہود اپنے دین پر عمل کرینگے اور مسلمان اپنے دین پر۔ خود ان کا
بھی یہی حق ہوگا اور ان کے غلاموں اور متعلقین کا بھی۔ اور بنو عوف کے علاوہ دوسرے یہود کے بھی یہی
حقوق ہوں گے۔
۲۔ یہود اپنے اخراجات کے ذمہ دار ہوں گے اور
مسلمان اپنے اخراجات کے۔
۳۔ اور جو طاقت اس معاہدے کے کسی فریق سے جنگ
کریگی سب اسکے خلاف آپس میں تعاون کرینگے۔
۴۔ اور اس معاہدے کے شرکا کے باہمی تعلقات خیر
خواہی، خیر اندیشی اور فائدہ رسانی کی
بنیاد پر ہونگے، گناہ پر نہیں،
۵۔ کوئی آدمی اپنے حلیف کی وجہ سے مجرم نہ
ٹھہرے گا۔
۶۔ مظلوم کی مدد کی جائیگی۔
۷۔ جب تک جنگ برپا رہیگی یہود بھی مسلمانوں کے
ساتھ خرچ برداشت کرینگے۔
۸۔ اس معاہدے کے سارے شرکاء پر مدینے میں ہنگامہ
آرائی اور کشت و خون حرام ہوگا۔
۹۔ اس معاہدے کے فریقوں میں کوئی نئی بات یا
جھگڑا پیدا ہوجائے جس میں فساد کا اندیشہ ہو تو اس کا فیصلہ اللہ عزو جل اور محمد
رسول اللہ ﷺ فرمائیں گے۔
۱۰۔ قریش اور اسکے مددگاروں کو پناہ نہیں دی جائے
گی۔
۱۱۔ جو کوئی یثرب پر دھاوا بول دے گا اس سے لڑنے
کے لیے سب باہم تعاون کرینگے اور ہر فریق اپنے اپنے اطراف کا دفاع کرے گا۔
۱۲۔ یہ معاہدہ کسی ظالم یا مجرم کے لئے آڑ نہ بنے
گا۔
‘‘اس معاہدے کے طے
ہوجانے کے بعد مدینہ اور اسکے اطراف ایک وفاقی حکومت بن گئے جس کا دار الحکومت
مدینہ تھا جس کے سربراہ رسول اللہ ﷺ تھے’’
(الرحیق المختوم: ص ۲۸۶-۲۸۷)
اس
معاہدے کے بارے میں انصاف پسند ماہرین کا
خیال ہے کہ یہ دنیا کا پہلا عالمی معاہدہ ہے جس میں اتنی تفصیل
سے امن اور بقائے باہم کا منشور
مرتب کیا گیا۔
اس
معاہدے میں مسلمان اور
غیر مسلم کو امت واحدہ قرار دیا گیا ہے۔ ہندوستان کے تناظر دیکھا جائے تو
ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں جو مخلوط آبادی
موجود ہے وہ اپنے تمام تر تشخصات اور امتیازات کے تحفظ کے ساتھ فرمان رسول کی روشنی میں بھی ایک قوم ہے۔ کسی کے تشخص کو مٹائے بغیر تمام طبقات جان و مال کی حفاظت کے ساتھ مشترک اقدار
کو اپناتے ہوئے پر امن طور سے رہ سکتے
ہیں۔ دوئم یہ کہ معاہدے میں سماج کی بنیاد
عدل و انصاف پر رکھی گئی ہے اورسوئم مواخات اور بھائی چارہ کا جذبہ موجود ہے۔ ظلم اور استحصال کا راستہ بند کیا گیا ہے۔
یہ وہ بنیادی اقدار ہیں جن کا کوئی مذہب اور طبقہ انکار نہیں کرسکتا۔
اس
حوالے سے میگنا کارٹا کا ذکر بھی ضروری ہے کیونکہ زیادہ تر ماہرین نے میگنا کارٹا
کو ہی پہلا عالمی معاہدہ تسلیم کیا ہے۔ حالانکہ تاریخی اعتبار سے یہ ۱۲۱۵ عیسوی میں مرتب کیا گیا جس میں ۶۳ شقیں
تھیں جبکہ میثاق مدینہ اس سے چھ سو سال قبل ۶۲۲ عیسوی میں مرتب کیا گیا جس میں
دونوں منشور کو ملا کر ۵۲ اور بعض روایت
کے مطابق ۵۳ شقیں تھیں۔
اس
دستور سازی کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد حمید اللہ لکھتے ہیں:
‘‘اس زمانے کی قانونی عبارت اور دستاویز نویسی کا وہ ایک
انمول نمونہ ہیں۔ اس کی اہمیت اسلامی مؤرخوں سے کہیں زیادہ یورپی عیسائیوں نے
محسوس کی۔ ولہاوزن، میولر، گریمے،
اشپرنگر، وینسنک، کائتانی، بول وغیرہ کے علاوہ ایک جرمن مؤرخ رانکے نے مختصر تاریخ
عالم لکھتے ہوئے بھی اس دستاویز کا ذکر کرنا ضروری خیال کیا ہے۔ ’’
(عہد نبوی میں نظام حکمرانی: ص ۷۷)
دوسرا فرق یہ ہے
کہ وہاں اقتدار اعلی کی جانب سے استحصال تھا جس کے خلاف رعایا کی بغاوت اور شدت تھی۔ اقتدار اعلی نے مجبور ہو کر دستور
سازی کی تھی۔ اس کی بنیادی باتیں بھی محض
اتنی تھیں:
No free man
shall be seized or imprisoned, or dispossessed or outlawed or in any way
brought to ruin: we [the king] will not go against any man nor send against
him, save by legal judgment or by the law of the land.
To no man
will we sell, or deny or delay, right or justice.
جس کا خلاصہ بس یہ ہے کہ اقتدار اعلی کسی کو بلا وجہ یرغمال یا
قید ی نہیں بنائے گا اور نہ کسی کو بے دخل کیا جائے گا، کسی انسان کو فروخت نہیں
کیا جائے اور اس کے حقوق سلب نہیں کئے جائیں گے۔
اس کے بالمقابل میثاق
مدینہ اقتدار اعلی کی جانب سے خود ہی مرتب کیا گیا اور
رعایا یا آبادی نے اقتدار اعلی کی حیثیت برضا و رغبت تسلیم کی۔ میثاق مدینہ کی دستور سازی کے وقت سے لے
کر ہر دور اور تکثیری سماج والے خطہ کے لیے بھی یہ
قابل عمل ہے۔ ملاحظہ ہو یہ اقتباس:
“The Medina Charter has set out many of
the principles essential to the peaceful functioning of a pluralistic society.
The Charter has established many important values and lessons that are really
needed today for enhancing religious pluralism and tolerance as well as finding
resolutions to inter-religious conflicts.
Through the Charter, Prophet Muhammad has
drawn upon the essence of unity, respect, tolerance, and love to combine and
create a pluralistic community. These attributes are deemed important in the
context of living in a plural society.
(Religious Pluralism and Peace: Lessons from the Medina Charter by Md bin Ali)
میثاق مدینہ بلا امتیاز مذہب و
قبائل اور جنس انسانی جان کے تحفظ،مذہبی آزادی، شہریوں کے املاک کے تحفظ، دھمکی اور حملوں سے تحفظ نیز امتیازی سلوک سے تحفظ وغیرہ کی ضمانت دیتا ہے۔
صلح حدیبیہ:
سماجی
ہم آہنگی کے ضمن میں سیرت رسول کے اندر صلح حدیبیہ کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ بظاہر یہ
صلح مسلمانوں کے لیے رسوائی اور پسپائی کا مظہر تھی لیکن اس صلح نے نہ صرف خطے میں
امن و امان کے قیام کی راہ ہموار کی بلکہ
اسلام کی حقانیت کو قائم کرنے اور لوگوں کے دلوں میں اس کے احترام کو جاگزیں کرنے
اور اس کی مقبولیت اور اثر و نفوذ کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی
دنیا کے ہر خطے میں امن اور ہم آہنگی کے
قیام کے لیے ایک ماڈل او رنمونہ بھی بن
گیا۔
واقعہ
یہ ہے کہ سن ۶ ہجری میں جب مسلمانوں کو
مدینے میں کسی قدر استحکام حاصل ہوگیا اور وہ آزادی کے ساتھ اسلام پر عمل پیرا تھے، پر بند تھا۔ خود نبی ﷺ نے بھی
عمرہ کرنے کا خواب دیکھا تھا۔ ادھر کچھ
ایسے حالات پیدا ہوگئے تھے کہ آس پاس کی
متحارب قوموں سے صلح کی ضرورت بھی محسوس ہو رہی تھی۔ چنانچہ سیاسی تدبیر اختیار
کرتے ہوئے پر امن ماحول میں اور پر امن طریقے سے آپ ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ عمرہ
کے سفر پر روانہ ہوئے۔ آپ ﷺ اور ان کے ساتھیوں کے پاس صرف سفر کا ہتھیار تھا لیکن جب اس کی خبر مکہ کے لوگوں کوہوئی تو انہوں
نے آپ کو ہر ممکن سفر سے باز رکھنے کے
کوشش کی اور مختلف حربے آزمائے گئے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں وضاحت سے
مرقوم ہیں۔ چنانچہ نبی ﷺ کا یہ سفر حدیبیہ کے مقام پر اہل مکہ کے ساتھ ایک صلح پر
منتج ہوا جس کو صلح حدیبیہ کا نام دیا گیا۔
معاہدہ حدیبیہ:
۱۔ تیرے نام سے اے اللہ
۲۔ یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبد اللہ اور
سہیل بن عمرو میں طے ہوا۔
۳۔ ان دونوں نے اس بات پر صلح کرلی ہے کہ دس سال
تک جنگ روک دی جائے جس دوران میں لوگ امن
سے رہیں۔ اور ایک دوسرے سے رکے رہیں۔
۴۔ یہ کہ محمد
کے ساتھیوں میں سے جو حج یا عمرے یا تجارت کے لیے مکہ آئے تو اس کی جان و
مال کو امان ہوگا۔ اور قریش کا جو شخص تجارت کے لیے مصر یا شام (بروایت ابو عبید
عراق یا شام) جاتے ہوئے مدینےسے گزرے تو اسے جان و مال کا امان حاصل ہوگا۔
۵۔ یہ کہ قریش کا جو شخص اپنے ولی (سرپرست) کی
اجازت کے بغیر محمد کے پاس آئے گا تو آپ ان کے سپرد کر دیں گے اور محمد کے ساتھیوں
میں جو شخص قریش کے پاس آجائے گا وہ اسے آپ کے سپرد نہیں کریں گے۔
۶۔ یہ کہ ہم میں باہم سینے ہر طرح بند رہیں گے۔
(جن میں باہر سے کوئی غداری داخل نہ ہوسکے گی) اور نہ تو خفیہ کسی دوسرے کو مدد دی
جائے گی نہ علانیہ خود خلاف عہد دغا کریں گے۔
۷۔ یہ کہ جو محمد کے معاہدے اور ذمہ داری میں
داخل ہونا چاہتا ہے وہ بھی ایسا کر سکے گا۔ اور جو قریش کے معاہدے اور ذمہ داری
میں داخل ہونا چاہتا ہے وہ بھی ایسا کر سکے گا۔
(اس پر قبائل خزاعہ نے اٹھ کر کہا کہ ہم
محمد کے معاہدے اور ذمہ داری میں شریک ہوتے ہیں۔ اور نبی بکر نے کہا کہ ہم قریش کے
معاہدے اور ذمہ داری میں شریک ہوتے ہیں۔ )
۸۔ یہ کہ تو اس سال ہمارے پاس سے واپس چلا
جائے گا اور ہمارے ہاں مکہ نہ آئے گا
البتہ سال آئندہ ہم باہر چلے جائیں گے اور تو تیرے ساتھی وہاں (مکے میں) داخل ہو
کر تین راتین ٹھہر سکیں گے۔ تیرے ساتھ سوار کا ہتھیار ہوگا۔ یعنی تلوار میان میں پڑی ہوئی۔ اس کے سوا کوئی
اور ہتھیار لے کر تو وہاں نہ آسکے گا۔
۹۔ یہ کہ قربانی کے جانور وہیں رہیں گے جہاں ہم
نے ان کو پایا (یعنی حدیبیہ میں) اور ان کو حلال کر دیا جائے گا۔ اور ان کو ہمارے
پاس (مکہ قربانی کے لیے ) نہیں لایا جائے گا اور صراحت کہ ہمارے اور تمہارے حقوق
اور واجبات برابر کے ہوں گے۔
(رسول
اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی : ص ۹۵-۹۶از ڈاکٹر محمد حمید اللہ )
اس
صلح کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن نے اس کو فتح مبین قرار دیا
ہے۔ کیونکہ اس کے بعد مسلمانوں کو امن و چین اور
راحت کی نیند نصیب ہوئی۔ بظاہر
مسلمانوں نے کسی حد تک طاقت حاصل کرنے کے باوجود توہین آمیز صلح کو قبول کیا لیکن اس کے بڑے دور رس نتائج مرتب
ہوئے۔ داخلی طور پر جو خدشات لاحق تھے اس کا دروازہ بند ہوا اور آپ ﷺ اس حیثیت میں
آگئے کہ اپنی دعوت کو عالم عرب سے باہر بھی پہنچا سکیں۔ مسلمانوں کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنے آپ کو
اقتصادی طور پر بھی مضبوط کرسکیں۔ ملاحظہ
ہو یہ اقتباس:
‘‘ حدیبیہ کی اس صلح (یا بقول قریش
‘‘شکست’’) کو قرآن مجید میں مسلمانوں کے لیے فتح مبین اور نصر عزیز کے ناموں سے
یاد کیا گیا ہے۔ ..... اس میں ذرہ بھی شبہ
نہیں رہتا کہ مسلمانوں کے لیے سخت ترین نازک زمانے میں حدیبیہ میں قریش کا اس صلح
پر آمادہ ہوجانا اسلامی سیاست خارجہ کی ایک واقعی فتح مبین اور نصر عزیز تھی۔ جس
کے باعث ان کے ہاتھ کھل گئے اور فوری خطرات سے نجات ملنے پر انہوں نے آزادی کے
ساتھ تین ہی سال میں پر امن ذرائع سے اپنی مملکت کو تقریبا دس گنا پھیلا کر پورے
جزیرہ نمائے عرب کو اپنا مطیع بنا لیا۔...... یہی وہ صلح حدیبیہ ہے جسے عہد نبوی
کی سیاست خارجہ کا شاہکار کہنا چاہیے۔
(رسول
اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی : ص ۹۶ از ڈاکٹر محمد حمید اللہ )
سیرت
رسول میں صلح حدیبیہ کا یہ واقعہ
ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے معاملات
میں تدبر اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے اور
ان کے لیے ایک درس ہے کہ وہ خود کو تعلیمی
اور اقتصادی سطح پر مضبوط کریں۔ جن اختلافی امور میں مذاکرات سے معاملہ طے ہوسکتا
ہے، جہاں تک ممکن ہو مذاکرات سے معاملے کو
حل کریں خواہ اس میں ظاہری یا فوری طور سے کچھ نقصان بھی نظر آتا ہو۔ مصالح کو
مفاسد پر ترجیح دینا یہ اسلامی اصول بھی ہے اور فطرت انسانی کا تقاضا بھی۔ بشرطیکہ اس میں ایمان اور عقیدہ کے زائل ہونے
کا خطرہ نہ ہو۔ دیگر صورت میں عدالت سے رجوع کریں اور ہر حال میں تشدد سے گریز
کریں۔
سماجی
ہم آہنگی کے ضمن میں یہاں صلح حدیبیہ کے اس واقعہ کا ذکر بھی خالی از فائدہ نہیں
کہ جب معاہدہ طے ہو گیا تو معاہدہ نامہ
کے آغاز میں بِسْمِ
اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اور محمد
رسول اللہ
لکھنے پر فریقین میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ صحابہ کرام کے اندر بھی برہمی نظر آنے لگی اور بھنویں تن گئیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ لکھتے ہیں کہ اس میں بجائے
اسلامی فارمولے کے قریشی فارمولہ باسمک اللھم
اور محمد رسول اللہ
کی بجائے محمد بن عبد اللہ
لکھا گیا۔ محمد رسول اللہ ﷺ اس پر بھی آمادہ ہوگئے۔ کیونکہ باسمک
اللہم کے
فارمولے میں کوئی شرک یا بت پرستی نہیں ہے اور محمد بن عبد اللہ کو منظور کرنے میں
مسلمانوں کا کوئی نقصان نہ تھا۔
خطبہ حجۃ الوداع:
فتح
مکہ کے بعد اسلام نے عالم عرب میں تقریبا
مکمل صورت میں اپنی جگہ بنا لی۔ دس سالہ مدنی دور میں آپ ﷺ نے دیگر ممالک کے رؤسا
اور بادشاہوں تک بھی اسلام کے پیغام
بھیجے۔ سن ۹ ہجری میں آپ ﷺ نے اسلام کے ایک اہم رکن حج کو پورا کرنے کا
اراد ہ کیا اور اس کا اعلان کرایا جس کو سن کر جوق در جوق لوگوں نے حج میں شرکت کی
اور تقریبا ایک لاکھ سے زائد کا مجمع ہوا۔
سیرت نگاروں کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار یا ایک لاکھ چوالیس ہزار افراد اکٹھا
تھے۔ حج کے موقع پ آپ ﷺ نے ایک عظیم تاریخی خطبہ دیا۔ اس خطبہ میں آپ ﷺ نے آزادی، مساوات، اقتصادیات، حقوق نسواں، آئین ودستور پر
عمل آوری جیسے عناصر کو شامل کیا۔ ملاحظہ ہو:
فرمودات خطبہ:
۱۔ سب تعریف اللہ ہی
کے لیے ہے۔ ہم اسی کی حمد کرتے ہیں۔ اسی سے مدد چاہتے ہیں اس سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی کے پاس
تو بہ کرتے ہیں اور ہم اللہ ہی کے ہاں اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی
خرابیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے تو پھر کوئی اُسے بھٹکا نہیں
سکتا، اور جسے اللہ ضلالت عطا کرے تو پھر
کوئی اس کو ہدایت پر نہیں لگا سکتا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود
نہیں۔ وہ ایک ہے اُس کا کوئی شریک نہیں۔
اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اُس کا بندہ اور رسول ہے۔
۲۔
اللہ
کے بندو! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی تاکید اور اس کی اطاعت پر پر زور طور پرآمادہ
کرتا ہوں، اور میں اسی سے ابتدا کرنا
چاہتا ہوں، جو بھلائی ہے۔
۳۔ اما بعد، لوگو! مجھ
سے سنو ! میں تمہیں بتاتا ہوں۔ کیونکہ میں
نہیں جانتا شاید اس سال کے بعد میں اس جگہ تم سے پھر نہ مل سکوں۔
۴۔ لوگو! تمہارے
خون، تمہارے مال اور تمہاری آبرو ئیں تمہارے لیے (ایک دوسرے پر) اپنے رب سے ملنے
(قیامت) تک حرام ہیں۔ ایسے ہی حرام و محترم جیسےتمہارے آج کے دن، آج کے مہینے اور
شہر کی حرمت ہے۔ ہاں کیا میں نے پہنچا دیا ؟ اے اللہ تو گواہ رہنا۔
۵۔ جس
کے پاس کوئی امانت ہو تو وہ اس کو ادا کر دے جس نے وہ اُس کے پاس امانت رکھائی۔
۶۔ خبردار!
جاہلیت کا سود گر ادیا جاتا ہے۔ البتہ تمہارے لیے راس المال پر حق ہوگا۔ نہ تم کسی
پر ظلم کرو اور نہ تم پر کوئی ظلم کیا جائے۔
اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ کوئی سود نہ رہنے پائے، اور پہلا سود جس سے میں (اس کی) ابتدا کرتا ہوں
وہ میرے اپنے چچاالعباس بن عبد المطلب کا ہے۔
۷۔ خبردار!
جاہلیت کے خون گرا دئیے جاتے ہیں اور پہلا خون جس سے میں (اس کی) ابتدا کرتا ہوں۔
وہ (میرے چچا زاد بھائی کے بیٹے) عامر بن ربیعہ بن الحارث بن عبد المطلب کا ہے۔
۸۔ خبردار! جاہلیت کے آثار و عہدے گرادئیے جاتے
ہیں۔ بجز (خانہ کعبہ کی ) رکھوالی اور (حجاج کو ) پانی پلانے کے۔
۹۔ قتل
عمد پر قصاص ہے۔ مشابہ عمد وہ ہے جس میں لٹھ اور پتھر سے موت واقع ہو۔ اس میں سو
اونٹ (خون بہا ہیں ) جو اس میں زیادتی ( کا مطالبہ ) کرے تو وہ جاہلیت والا ہے۔
ہاں، کیا میں، میں نے پہنچا دیا۔ اے اللہ تو گواہ رہنا۔
۱۰۔ اما
بعد۔ لوگو! شیطان اس سے تو مایوس ہو گیا
ہے کہ اب تمہاری اس سرزمین میں اُس کی پوجا ہو۔ لیکن وہ اس پر راضی ہے کہ اس کے
سوا دیگر ایسی باتوں میں اس کی اطاعت کی جائے جن کو تم
اپنے اعمال میں حقیر سمجھتے ہو اس لیے اپنے دین کے متعلق اس (شیطان) سے محتاط رہو۔
۱۱۔ لوگو!
سال کی کبیسہ گری کفر میں ایک زیادتی ہے۔ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ اس کے باعث
بہکائے جا رہے ہیں۔ وہ اسے ایک سال حلال کر لیتے ہیں اور اسے ایک سال حرام کر لیتے
ہیں تا کہ اس تعداد کا تکملہ کر لیں، جو
خدا نے حرام کر رکھی ہے اس طرح وہ خدا کی حرام کردہ چیز کو حلال کر لیتے ہیں۔ اور
خدا کی حلال کردہ چیز کو حرام، حقیقت میں اب زمانہ چکر لگا کر پھر اسی شکل پر آ
گیا ہے۔ جیسا کہ خدا کے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے کے دن تھا۔ بیشک مہینوں
کی تعداد اللہ کے پاس اللہ کی کتاب میں اس کے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے ہی کے
دن بارہ مہینے لکھی ہے۔ ان میں سے چار حرام ہیں۔ تین پے در پے اور ایک انتہا،
ذوالقعد ذوالحجہ اور محرم اور (قبائل ) مضر کا جب جو کہ جمادی ( آلاخرہ ) اور
شعبان کے بیچ ہے۔ کیا میں نے پہنچا دیا ؟ اے اللہ تو گواہ رہنا۔
۱۲۔ اما بعد۔
لوگو! تمہاری عورتوں کے لیے تمہارے اوپر ایک حق ہے، اور تمہارے لیے ان کے
اوپر یہ کہ تمہارے بستر کو تمہارے سوا کسی اور سے نہ روندا ئیں اور تمہارے گھروں
میں تمہاری اجازت کے بغیر کسی ایسے کو داخل نہ ہونے دیں جن کو تم نا پسند کرتے ہو،
اور کوئی برے فحش کام کا ارتکاب نہ کریں،
اگر وہ ایسا کریں تو اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے کہ تم ان پر سختی کرو۔ ان
کے ساتھ سونا بند کرو۔ یا ان کو غیر شدید ضرب پہنچاؤ۔ اگر وہ باز آجائیں اور تمہاری اطاعت کرنے لگیں
تو تم پر ان کا اچھے دستور سے
کھلانا اور پہنانا لازم ہے۔ عورتوں کے متعلق بھلائی کی تمہیں تاکید ہے کیونکہ وہ
تمہارے پاس قیدی کی سی ہوتی ہیں، اور اپنے لیے کسی چیز کی مالک نہیں ہو تیں اور تم
ان کو اللہ امانت کے طور پر لیتے اور اللہ کے بول پر ان سے تمتع اپنے لیے حلال
کرتے ہو اسی لیے عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ ان سے بھلائی کی تمہیں تاکید ہے۔
ہاں کیا میں نے پہنچا دیا ؟ اے اللہ تو گواہ رہنا۔
۱۳۔ لو گو! تمام مومن بھائی بھائی ہیں۔ کسی شخص کے لیے
اپنے بھائی کا مال حلال نہیں، بجز اس کے
کہ وہ اس کی طبعی خوشی سے ہو۔
۱۴۔ لہذا
میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ میں نے تم میں ایک ایسی
چیز چھوڑی ہے کہ جب تم اسے تھامے رہو، میرے بعد تم گمراہ نہ ہو گے۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ..... ہاں کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟ اے اللہ تو
گواہ رہنا۔
۱۵۔ لوگو تمہارا رب بھی
ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک، تم سب آدم
سے ہو۔ اور آدم مٹی سے، تم سے اللہ کے نزدیک
سب سے مکرم وہ ہے جو تم میں سب سے متقی ہو۔
کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں بجز تقوئی کے۔ ہاں کیا میں نے
پہنچا دیا؟ اے اللہ تو گواہ رہنا۔ لوگوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا تو پھر حاضر کو
چاہیے کہ غائب تک پہنچا دے۔
۱۶۔ لوگو! اللہ نے ہر وارث کے لیے ورثے میں سے اس کا
حصہ مقرر کر دیا ہے۔ اب دارث کے لیے کسی مزید وصیت کی اجازت نہیں، اور (کسی اور کے
حق میں بھی) ایک تہائی (مال) سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں۔ بچہ بستر (کے مالک) کا
ہوگا اور زانی کو پتھر ملیں گے۔ جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنے کو
منسوب کرے یا اپنے مولا (معاہداتی بھائی) کے سوا کسی اور کو مولیٰ بنائے تو اللہ
اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے اس سے (تلافی کے لیے ) کوئی خرچ اور کوئی
بدلہ قبول نہیں ہوگا۔ والسلام علیکم۔
(رسول اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی : ص ۲۹۳-۲۹۵ از ڈاکٹر محمد حمید اللہ )
ڈاکٹر
محمد حمید اللہ نے اپنی کتاب میں اس خطبہ
حجۃ الوداع کو انسانیت کا منشور اعظم قرار دیا ہے۔
اس
خطبہ میں جن حقوق کا احاطہ کیا گیا ہے ماہرین نے
اس کی زمرہ بندی کچھ اس انداز میں کی ہے:
۱۔ جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کا حق
۲۔ اولاد کے تحفظ کا حق،
۳۔ امانت کی ادائیگی کا تحفظ
۴۔ قرض کی وصولیابی کا تحفظ
۵۔ جائیداد کے تحفظ کا حق
۶۔ سود اور اقتصادی استحصال کے خاتمے کا اعلان
۷۔ پر امن زندگی
۸۔ ملکیت کے تحفظ کا حق
۹۔ منصب و عزت نفس کے تحفظ کا حق
۱۰۔ قصاص و دیت اور دیگر قانونی معاملات میں مساوات
کا حق
۱۱۔ نسلی و قبائلی تفاخر و فوقیت کے خاتمے کا
اعلان
۱۲۔ عورتوں کے حقوق کا تحفظ
۱۳۔ غلاموں کے حقوق کا تحفظ
۱۴۔ مواخات کا حق
۱۵۔ خطبہ حجۃ الوداع میں بیان کردہ حقوق کےا بدی
نفاذ کا اعلان
(بحوالہ
اسلام میں انسانی حقوق: ص ۵۸۱-۵۸۲)
اقتصادی استحصال کا
خاتمہ، جائیداد کا تحفظ، قبائل اور نسلی تفاخر کا خاتمہ، عورتوں اور دیگر مسئولین
کے حقوق کی ادائیگی، پر امن زندگی کا اختیار اور مواخاۃ وغیرہ سماجی ہم آہنگی کے قیام کے بنیادی عناصر ہیں۔
غرض یہ کہ بعثت سے قبل
اور آپ کی وفات مبارکہ تک آپ ﷺ نےعالم عرب میں
ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے کے لیے جو عملی نمونہ پیش کیا ہے اور آپ ﷺ
کے جو ارشادات حدیثوں میں موجود ہیں ان پر عمل کیا جائے تو ہندوستان میں سماجی
ہم آہنگی کے قیام کی راہیں بڑی آسانی سے ہموار ہوسکتی ہیں۔