مشمولات

Wednesday, 7 October 2026

اردو کی کہانی اردو کی زبانی

ریڈیو پروگرام رنگ سخن

(ریڈیو اسکرپٹ)

اردو کی کہانی اردو کی زبانی

(تمثیلی کہانی)

براڈکاسٹ : ۰۸ اکتوبر ۲۰۲۶

زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی۔وہ  اپنے اندر صدیوں کی تہذیب، تاریخ، محبت، دکھ، خواب، تجربے اور انسانوں کی آوازیں سمیٹے ہوتی ہے۔ہندوستان کی سرزمین نے ایسی ہی ایک زبان کو جنم دیا...جس نے مختلف تہذیبوں، قوموں اور علاقوں سے مل کر ایک شناخت قائم کی اور اردو کہلائی۔

میں اردو ہوں !

آپ  میری کہانی سننا چاہتے ہیں؟

بات ۵۰۰ ق م کی ہے۔

ہندوستان میں سنسکرت علم و ادب کی ایک توانا  زبان تھی ۔ عوام مختلف پراکرتوں اور علاقائی بولیوں میں گفتگو کر رہے  تھے۔

وقت گزرتا گیا۔       پراکرتیں بدلتی رہیں۔             ان سے اپ بھرنش کی مختلف صورتیں پیدا ہوئیں...  اور پھر ہندوستان کے مختلف خطوں میں نئی نئی بولیاں جنم لینے لگیں ۔

میں ابھی دور تھی... مگر میری بنیادیں تیار ہو رہی تھیں۔

صدیاں گزریں۔

تاجر آئے، صوفی آئے، علما آئے، شاعر آئے۔اور اُن کے ساتھ مختلف زبانیں بھی آئیں۔اُن سب سے    میرا لین دین جاری رہا۔

 اس سفر میں میری ملاقات عربی وفارسی سے ہوئی۔

میں نے اُن سے بہت کچھ سیکھالیکن میں نے اپنی شناخت نہیں چھوڑی۔

میں نے اُن سے چیزوں کے نام لئے ، آوازیں لیں مگر انہیں ہندوستانی لہجے اور ہندوستانی مزاج میں ڈھال دیا کہ یہی تو میری فطرت ہے۔

اس باہمی میل جول نے ایک ایسے لسانی ماحول کو جنم دیا جس میں ہندوی، دہلوی، دکنی، ریختہ اور بالآخر اردو کی مختلف صورتیں سامنے آئیں۔          اس داستان میں ایک نام بار بار روشن ہوتا ہے۔

امیر خسرو

ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب سے بے پناہ محبت کرنے والے عظیم  شاعر۔

امیر خسرو کا نام آتے ہی ان کا یہ مشہور کلام  زبان پرچڑھ جاتا ہے۔

زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

سنا آپ  نے؟

ایک ہی کلام میں فارسی کی نزاکت بھی ہے... اور ہندوستانی بولی کی مٹھاس بھی۔ یہی وہ تہذیبی میل جول تھا جس میں میری آنے والی شخصیت کے رنگ تیار ہو رہے تھے۔

صوفیا کی خانقاہوں، عوامی میل جول اور مختلف علاقوں کی بولیوں نے اس لسانی روایت کو وسعت دی۔ خواجہ معین الدین چشتی کی صوفی روایت ہو یا پنجاب میں بابا فرید اور نانک کی انسانی مساوات کی آواز... زبان عوام کے قریب ہوتی گئی۔

میں دربار سے زیادہ دلوں میں جگہ بنانا چاہتی تھی اور میں اس میں کامیاب رہی۔

 

وقت گزرا۔

میں شمال سے اب جنوب کی طرف سفر کرنے لگی اور ایک دن دکن پہنچ گئی۔

دکن نے مجھے بہت محبت دی۔ یہاں میں نے نئی ادبی دنیا دیکھی۔ فخر دین نظامی نے مجھے کدم راؤ پدم راؤ کا تحفہ دیا ۔

یہاں مجھے قلی قطب شاہ جیسے عوامی شاعر نے سنبھالا دیا۔ مقامی زبان اور مقامی تہذیب کو شاعری کا اٹوٹ حصہ بنایا اور میں پوری طرح مقامی رنگ میں  رنگ گئی۔

پیا باج پیالا پیا جائے نا
پیا باج یک تل جیا جائے نا

دکن نے مجھے ادبی زبان بنانے میں بڑا حصہ لیا۔ اور پھر ایک شاعر دکن سے شمال کی طرف روانہ ہوا۔

ولی دکنی دلی پہنچے اور اپنے ساتھ اپنا دیوان بھی لیتے آئے۔

مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے

جسے عشق کا تیر کاری لگے
اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے

دلی کے شعرا نے دیکھا کہ جس زبان کو وہ اپنے گرد و پیش میں بولتے ہیں، اس میں بڑے شعری مضامین بھی بیان کیے جا سکتے ہیں۔

دلی میں میرا  یہ رنگ خوب چوکھا ہوا اور  اردو شاعری نے غیر معمولی عروج حاصل کیا۔

سودا آئے — انہوں نے اردو غزل کو وسعت دی اور قصیدہ و ہجو کو ایسی قوت اور بلند آہنگی عطا کی کہ اردو شاعری کا دائرہ وسیع ہوگیا۔

میر آئے — انہوں نے اردو غزل کو دل کی دھڑکن، انسانی دکھ اور داخلی کرب کی ایسی زبان دی کہ انہیں بجا طور پر خدائے سخن کہا گیا۔

ذوق آئے — انہوں نے زبان کی صفائی، محاورے کی برجستگی اور شعری نزاکت سے اردو غزل کو دہلی کی شستہ زبان کا وقار بخشا۔

مومن آئے — انہوں نے عشق، جذبات اور نازک خیالی کو ایسی دلکش زبان دی کہ اردو غزل میں رومان اور نزاکت کا ایک منفرد رنگ پیدا ہوا۔

غالب آئے — انہوں نے اردو شاعری کو فلسفیانہ فکر، تخیل کی بلندی اور نئی معنوی جہتیں دیں۔ان  کے خطوط نے اردو نثر کو ایک نئی بے تکلفی عطا کی۔ میں ان کے خطوط میں کتاب سے نکل کر انسان کے سامنے بیٹھ جاتی ہوں۔  ہنستی ہوں۔شکوہ کرتی ہوں۔ طنز کرتی ہوں۔ ٹھہاکے لگاتی ہوں اور  بلا جھجک دل کی بات کہتی ہوں۔

پھر حالات بدلے . میں نے ایک نئے شہر کا رخ کیا۔ میں پہنچی لکھنؤ

لکھنو نے مجھے ایک نئی تہذیب دی۔ یہاں میرے لہجے میں نزاکت آئی۔ محفلیں سجیں۔ مشاعرے ہوئے۔مرثیہ اپنی بلندی تک پہنچا۔

میر انیس اور مرزا دبیر نے مرثیے کو ایسی بلندی دی کہ وہ اردو ادب کی ایک عظیم صنف بن گیا۔

آتش، ناسخ اور دوسرے شعرا نے غزل کے میدان میں اپنے رنگ دکھائے۔ میں دلی کی اداسی سے نکل کر لکھنو کی تہذیبی شائستگی میں داخل ہوگئی۔

مگر میرا سفر جاری رہا۔ اب میں رام پور کی طرف بڑھ گئی۔  یہاں مجھے ریاست کی سرپرستی ملی، کتب خانوں ، شعرا  اور  ادبا نے  مجھے بہت عزت دی۔ میری ادبی روایت نے ایک اور ٹھکانہ حاصل کیا۔

میری  زندگی کا ایک نیا باب دہلی کالج بھی تھا۔

دہلی کالج میں مجھے ماسٹر رام چندر کی استاذی ملی اور اب میں شعر و شاعری کے قید سے آزاد ہوچکی تھی۔  میں سائنس ، ریاضی، فلسفہ اور جدید علوم کو نثر میں ڈھالنے لگی۔میں صرف عشق کی زبان نہیں رہی ۔ میں علم کی زبان بھی بن گئی۔

اسی بیچ سرسید نے میری انگلی تھام لی  اور  سائنٹفک سوسائٹی میں میرا داخلہ کرا دیا۔

سرسید نے مجھے نئے موضوعات دئیے۔ سائنس... تاریخ... سماج... تعلیم...اور جدید فکر۔علمی کتابوں کے ترجمے ہوئے۔ اسی دور میں حالی نے مجھے تنقید کی ایک مضبوط بنیاد عطا کی۔

میں نے جان گلکرسٹ کی سرپرستی میں  فورٹ ولیم کالج میں  اپنا دامن مزید وسیع کیا ۔ میر امن دہلوی، نہال چند لاہوری، للو لال جی، مرزا علی لطف اور رائے بینی نارائن جیسے مصنفین نے  میرے رنگ کو مزید نکھارا۔

میرے اندر ایک طاقت آچکی تھی اب میں نے  ایک نئی دنیا میں قدم رکھا۔ ۱۸۲۲ء  میں ہری ہر دت نے منشی سدا سکھ لال کی ادارت میں کلکتے سے پہلا اردو اخبار جام جہاں نما شائع کیا۔

 ۱۸۵۷ء میں  ہندوستان میں سیاسی اور سماجی طوفان برپا تھا۔ میرے  اخبارات خاموش نہیں رہے۔ حالات کی خبریں دیں۔ عوام کے جذبات کو آواز دی۔ اہل قلم کو مشکلات پیش آئیں مگر میری آواز کو مکمل طور پر خاموش نہیں کیا جا سکا۔

ملک میں آزادی کی امنگیں بڑھیں تو شعرا نے مجھے خوب گلے  لگایا ۔ وطن کی محبت میں نغمے اور ترانے گائے ۔

میرے دامن میں چکبست،  فراق گورکھپوری،  پریم چند ،کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور دیا شنکر نسیم نے جگہ لی ۔

پریم چند نے میرے لفظوں کو کسان کی جھونپڑی تک پہنچایا۔ غریب کی زندگی...عورت کا دکھ...جاگیرداری...استحصال...انسانی محرومی... سب میرے افسانوں اور ناولوں میں آنے لگے۔

اب میں صرف شاعر کی محبوبہ نہیں تھی۔میں ناول لکھ رہی تھی۔ افسانے کہہ رہی تھی۔کہانی بُن رہی تھی اور ڈرامے کھیل رہی تھی۔

ڈپٹی نظیر احمد، رتن ناتھ سرشار، مرزا ہادی رسوا، عبدالحلیم شرر، اُپندر ناتھ اشک، سعادت حسن منٹو، خواجہ احمد عباس، سجاد ظہیر، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر اور بے شمار افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں نے اردو فکشن کو نئی دنیا عطا کی۔

’’امراؤ جان ادا‘‘ ... ’’آگ کا دریا‘‘ .... ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ .... ’’ادا نسلیں‘‘ ..... جیسی تخلیقات نے جگہ  پائی۔

جامعہ عثمانیہ حیدر آباد اور اس کے دار الترجمہ نے مجھے طب اور انجینئرنگ جیسی اعلی تعلیم کے لیے تیار کیا۔

آج میں  ہندوستان   سے نکل کر برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، خلیجی ممالک، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور دنیا کے مختلف حصوں میں بولی، پڑھی اور لکھی جاتی ہوں۔

میں   صرف گھروں میں نہیں بولی جاتی  بلکہ یونیورسٹیوں  میں پڑھائی جاتی ہوں۔ اخبارات اور کتابوں میں پڑھی جاتی ہوں۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر ہوتی ہوں۔ فلموں میں گانے گاتی ہوں اور موسیقی میں تھرکتی ہوں۔

اب... انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی  میں کسی سے پیچھے نہیں ہوں۔

میرے لفظ اب کاغذ پر ہی نہیں آتے۔ اسکرین پر بھی آتے ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں اپنی جگہ بنا چکی ہوں۔

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے


Saturday, 29 August 2026

میثاق مدینہ

دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو مختلف اسباب و عوامل انسانی آبادی میں امتیاز  و تفریق کی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں۔ جنسی امتیاز، نسلی امتیاز، رنگ کا امتیاز، لسانی امتیاز، اقتصادی امتیاز، علاقائی امتیاز اور مذہبی امتیاز وغیرہ امتیازات و تفریقات کی چند نمایاں شکلیں ہیں۔ مذکورہ  امتیازات کی بھی کچھ ذیلی شکلیں ابھرتی رہتی ہیں۔ان میں جتنا زیادہ تنوع ہوتا ہے امتیاز پیدا ہونے کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ جب مذکورہ نوع میں سےکسی  نوع کا ایک فریق دوسرے فریق پراپنے تسلط اور بالا دستی کی کوشش کرنے لگتا ہے تو امتیاز  منفی رخ اختیار کرلیتا ہے۔تسلط و بالا دستی کی اس کوشش پر اگر قابو نہ پایا جائے اور پر امن  بقائے باہم کی پالیسی اختیار نہ کی جائے تو فتنہ وفسادات رونما ہونے لگتے ہیں۔ حالات مہلک و مضر ہوجاتے  ہیں۔ جس علاقہ یا خطہ میں یہ صورت برپا ہوتی ہے انتشار اور بدامنی جگہ بنانے لگتی ہے۔ امن  وامان زائل ہوجاتا ہے۔ جانی و مالی نقصانات سامنے آتے ہیں۔ ترقی کی رفتار سست ہوجاتی ہے۔ انسان  ترقی کی راہ پر چلنے کی بجائے اپنی ساری صلاحیت دفع ضرر پر صرف کرنے لگتا ہے۔

ہندوستان تکثیریت پر مبنی سماج ہے۔  یہاں رنگ و نسل، زبان و بولی، اقتصادی طبقات، منفرد خوبیوں کے ساتھ علاقہ جات،  مذاہب اور افکار ونظریات، تہذیب و ثقافت اور تمدن میں بے انتہا تنوع موجود ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ  ہندوستان  کا یہی تنوع در اصل دنیا کی مختلف قوموں کی کشش کا ذریعہ بھی بنتا رہا ہے۔ہندوستانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس ملک میں دنیا کی مختلف  قومیں مختلف ادوار میں آتی رہی ہیں۔ اُس وقت انہیں یہاں کی موجود آبادی سے مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے جو قومیں یہاں آئیں ان میں اکثر کو اس ملک کی کشش نے اپنا گرویدہ  بنا لیا۔

جب کسی فرد ؍ قبیلہ ؍ قوم  کی ایک جگہ سے دوسری جگہ عارضی یا مستقل طور  پر نقل مکانی ہوتی  ہے تو اس کے  ساتھ  محض جسم اور چند اسباب زندگی کا بوجھ  نہیں جاتا بلکہ  لباس و پوشاک، کھانا پینا، رہنا سہنا، اطوار،  زبان، بولی اور لہجہ، نشست و برخواست،  مذہب اور افکار و نظریات گویا تہذیب و تمدن کا  ہر عنصر جو انسان کی شخصیت کا جز و لا ینفک ہے اس کے  ساتھ  جاتا ہے۔ اسی کے متوازی انسان  کی شخصیت میں وہ مقناطیسی عنصر ہے کہ وہ جہاں جاتا ہے  وہاں کی تہذیب و تمدن کے  عناصر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ جیسے جیسے دوسری قومیں ہندوستان آئیں انہوں نے یہاں کی تہذیب کو متاثر کیا  تو خود بھی یہاں کے تہذیبی عناصر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔اس کے باوجود ہر ایک کا اپنا اپنا تشخص اور منفرد شناختیں واضح طور پر اس میں موجود رہیں۔ اپنے تشخص اور منفرد شناخت کی بقا کے ساتھ  اخذ وقبول کے اس عمل نے ملک کی ثقافت کو سرمایہ دار بنانے میں اہم رول ادا کیا۔  اس سے ہندوستان میں کثرت میں وحدت کا رنگ پیدا ہوا۔

آج ہندوستان میں جو قومیں؍ قبائل؍ لسانی  گروہ آباد ہیں وہ صدیوں کے میل جول سے اس طرح باہم شیر و شکر ہوچکے ہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے نہ الگ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان میں سے کسی کی تہذیب کو مٹایا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان تمام  کو ایک رنگ میں رنگنے کی کوشش کامیاب ہوسکتی ہے۔ کیونکہ آج ہم جس عہد میں جی رہے ہیں اس میں دنیا کے مختلف خطوں اور علاقوں کا ایک دوسرے سے تعامل اور رابطہ اتنا زیادہ ہے  کہ بفرض محال اگر سب کو ایک رنگ میں رنگ بھی دیا جائے تو اس پر دوسرے رنگوں کی چھینٹیں پڑنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ دوسرے یہ کہ انسان کی شخصیت میں متاثر ہونے  اور پل پل بدلنے کا عنصرموجود ہے۔ گویا یک رنگی کی یہ کوشش انسانی فطرت اور جبلت کے خلاف جنگ ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔

ان سب کے باوجود ہندوستان میں بعض عناصر کی جانب سے تہذیبی تسلط اور مذہبی بالا دستی کے لیے کی جا رہی ناروا کوششوں  نے ملک کے حساس،  غیر جانبدار اور انسانیت کے  علم بردار افراد کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کے بالمقابل انصاف پسند لوگوں کی جانب سے بھی ایسی کوششیں  ہوتی  رہتی ہیں کہ ملک میں ہم آہنگی اور مواخات کا ماحول بنا رہے۔ لوگ ایک دوسرے کے حامی ومدد گار بن کر رہیں۔ کیونکہ یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ جب تک ایک خطہ میں موجود انسانی آبادی آپس میں مل جل کر نہ رہے اور ایک دوسرے  کی معاون و مدگار نہ ہو تو ترقی کے امکان ناپید ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہی سب وجہ ہے کہ اسلام جو ایک آفاقی اور ابدی  مذہب ہے اور عین فطرت انسانی ہے  اس نے بھی ہم آہنگی کی اہمیت کو سمجھایا ہے۔ قرآن مقدس  کی متعدد آیات اور سیرت رسول ﷺ کے متعدد واقعات ایسے ہیں جن کے ذریعہ مخلوط آبادی ہم آہنگی اور امن وسلامتی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا راستہ تلاش کرسکتی ہیں۔

آپ جانتے ہیں کہ قرآن نے  جہاں ایمان والوں کو مخاطب کیا ہے وہیں جملہ انسانیت کو یٰأیھا الناس کہہ کر  بھی مخاطب کیا  ہے۔ قرآن میں ایمان والوں  کا ذکر نواسی مرتبہ آیا ہے تو بیس مرتبہ یایھا الناس کہہ کر پوری انسانیت کو مخاطب کیا گیا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ دنیا میں اختلاف اور امتیاز کی جو بنیادیں ہیں اور  جن کی شناخت بطور امتیاز بہت بعد کے لوگوں نے کی قرآن اور رسول اکرم ﷺ  نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل ان کی  شناخت کرتے ہوئے ان امور میں واضح ہدایات اور رہنمائی کر دی ہے۔ جب محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اس وقت عالم عرب میں  وجہ امتیاز وبرتری عام طور پر قبیلہ اور خاندان،جنس، رنگ، زبان اور مال و دولت وغیرہ ہوا کرتے تھے۔ قرآن  و حدیث میں  ان سب کی وضاحت اور انکار موجود ہے۔

قبائلی امتیاز:

اللہ تعالی نےقرآن میں  خاندان اور قبائل کا ذکر کرتے ہوئے اس کا مقصد محض ایک دوسرے سے  الگ شناخت قرار دیا ہے  اور وجہ امتیاز تقوی اور پرہیزگاری  کوبتایا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا  إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ  إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ (الحجرات ۱۳) .

ترجمہ: لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہارے  خاندان اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے۔

جنسی امتیاز:

اسلام نے جنس کو بھی امتیاز کی کوئی وجہ  نہیں گردانا ہے۔ بار بار قرآن میں نساء یعنی عورتوں کا ذکر کیا  گیا ہے اور بیشتر جگہوں پر ان کے حقوق بتائے ہیں۔ اسلام میں عورتوں کی حیثیت اس طرح بھی تسلیم کی گئی کہ  قرآن میں النساء نام سے سورۃ نازل کی گئی۔ اس کے علاوہ ان کے مضامین پر مبنی سورہ طلاق نازل کی گئی۔ سورہ بقرہ کی بیشتر آیتیں خواتین کے حقوق و مراتب کو متعین کر تی ہیں اور بھی کئی سورتیں ہیں جن میں عورتوں کی تفصیل اور احکامات موجود ہیں۔ سورہ روم میں اللہ نے انسانی جوڑے  کو ایک نشانی قرار دیا۔

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً  إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ٢﴾ الروم ۲۱

ترجمہ: اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ اُن کی طرف (مائل ہوکر) آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی جو لوگ غور کرتے ہیں اُن کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

یہاں  وجہ یہی  بتائی گئی  کہ تم ان میں سکون حاصل کرو اور  اللہ نے یہ احسان بھی  جتایا  ہے کہ اس نے  ان کو تمہارے لیے  مودت اور رحمت کا ذریعہ بنایا ہے۔

جہاں تک قرآن  کی آیت مبارکہ  الرجال قوامون علی النساء اور وراثت میں عورت کا حصہ مرد کا نصف  ہونے کا معاملہ  تو یہ واضح رہنا چاہے کہ اسلام نے عورت کو تمام مادی ذمہ داریوں سے آزاد کر کے مرد کو اس پابند بنایا ہے۔

یہاں یہ وضاحت بھی نامناسب نہیں ہے کہ اسلامی معاشرہ  عدل پر مبنی ایک ‘مرد اساس’ معاشرہ ہے۔ حالانکہ مرد اساس معاشرے میں مرد  کی جس بالا دستی اور حاکمیت کا تصور پایا جاتا ہے اسلام اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا  ہے۔ اسلام میں مرد زن کے حقوق و اختیارات بالکل واضح ہیں۔  خواتین کو ان  کے بنیادی حقوق سے کسی بھی صورت میں دست بردار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

رنگ اور زبان کا امتیاز:

قرآن نے رنگ اور زبان کے فرق و اختلاف کو بھی اپنی نشانیوں میں شمار کیا ہے اور اس کو کسی درجہ میں بھی وجہ امتیاز قرار نہیں دیا ہے۔

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ  إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ﴾ الروم ۲۲

ترجمہ: اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا۔ اہلِ دانش کے لیے ان (باتوں) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

خطبہ حجۃ الوداع میں -- جس کا ذکر تفصیل سے آگے آ رہا ہے  --  رسول اکرم ﷺ نے واضح طور پر اس کی نفی کرتے ہوئے کہا تھا : لا فضل لعربی علی عجمی و لالعجمی علی عربی ولا لاحمر علی اسود ولا لاسود علی احمر۔ کسی عربی کو عجمی پر،  کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر یا کسی کالے کو گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔

اقتصادی امتیاز:

قرآن میں مال و اولاد کا ذکر بھی کئی  بار آیا ہے۔ قرآن نے  ان  کو اگر دنیا کے لیے زینت قرار دیا  ہے تو وہیں  اگر وہ اللہ کے ذکر سے غافل کر دیں  تو ان کو ہلاکت کا ذریعہ بھی بتایا ہے۔ ساتھ ہی جن کے پاس مال ودولت ہے اللہ نے اس میں سائل اور محروم کا حصہ مقرر  کر دیا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾ الذاریات :۱۹

ترجمہ: اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا۔

اسلام نے زکوۃ کا نظام طے کیا ہے جس میں امیروں سے  مال لے کر غریبوں میں تقسیم  کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی  بار بار انفاق فی سبیل اللہ پر بھی  ابھارا گیا ہے۔

اور بھی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن  چونکہ اس مقالے میں رسول اکرم ﷺ کی سیرت مبارکہ میں ہم آہنگی کے مثالی نمونوں کو تلاش کرنا ہے، اس لیے چند آیتوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔  یوں تو  نبی اکرم ﷺ کی پوری زندگی  اور ان کا  ہر عمل مثالی اور نمونہ ہے۔ انسانیت کی ہمدردی سے عبارت ہے۔ اللہ نے خود آپ کو رحمۃ للعالمین قرار دیا ہے۔ طوالت سے گریز کرتے ہوئے یہاں چند مثالی نمونوں کو پیش کیا جا رہا ہے جس کو اپنا کر مخلوط آبادی پر امن زندگی گزار سکتی ہے اور پر امن بقائے باہم کا رویہ اختیار کر سکتی ہے۔

سیرت رسول میں ہم آہنگی کی بڑی مثالیں ہمیں حلف الفضول، میثاق مدینہ،  صلح حدیبیہ اور خطبہ حجۃ الوداع میں بطور خاص ملتی ہیں۔ان کے علاوہ بھی بہت سی ایسی  مثالیں سیرت رسول میں موجود ہیں۔

حلف الفضول:

آپ ﷺ کی بعثت سرزمین عرب کے  مکہ میں ہوئی۔اس وقت مکہ میں قبائلی  بالا دستی  ومنافرت کا بازار اتنا گرم تھا کہ وہ برسوں سے خانہ جنگی میں مصروف تھے۔ ایک جنگ چل پڑتی تو کئی نسلیں اس کو جاری رکھتی تھیں۔ مولانا حالی نے مسدس میں اس کا  بڑا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے:

چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ


 

ہر اِک لُوٹ اور مار میں تھا یگانہ


فسادوں میں کٹتا تھا ان کا زمانہ


 

نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ 


وہ  تھے قتل  و غارت میں چالاک ایسے

درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے 

نہ ٹلتے تھے ہر گز جو اڑ بیٹھتے تھے


 

سلجھتے نہ تھے جب جھگڑ بیٹھتے تھے


جو دو شخص آپس میں لڑ بیٹھتے تھے


 

تو صد ہا قبیلے بگڑ بیٹھتے تھے 


بلند  ایک  ہوتا  تھا  گر واں شرارا

تو اس سے بھڑک اٹھتا تھا ملک سارا

وہ بکر اور تغلب کی باہم لڑائی


 

صدی جس میں آدھی انہوں نے گنوائی


قبیلوں کی کر دی تھی جس نے صفائی


 

تھی اک آگ ہر سُو عرب میں لگائی 


 

نہ جھگڑا کوئی ملک و دولت کا تھا وہ

کرشمہ اک ان کی جہالت کا تھا وہ

کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا


 

کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا


لبِ جوٗ کہیں آنے جانے پہ جھگڑا


 

کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا 


یونہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں

یونہی چلتی رہتی تھی تلوار ان میں 

 رسول اکرم ﷺ کی عمر جب پندرہ سال تھی مدینے کے دو قبائل کے درمیان ایک جنگ ہوئی جس کو جنگ فجارکہتے ہیں۔  اس میں ایک طرف قریش خاندان تھا جس سے آپ کا تعلق تھا اور اس کےحلیف  بنو کنانہ تھے۔ اس کے بالمقال قیس عیلان تھے۔ اس جنگ کو فجار(برا کام)  اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں حَرم اور حرام مہینے دونوں کی حرمت پامال ہوئی تھی۔ اسی جنگ کے بعدقبائل قریش کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا جس کو حلف الفضول دنام دیا گیا۔ بقول صفی الرحمن مبارکپوری:

 ‘‘اس معاہدے کی روح عصبیت کی تہہ سے اٹھنے والی جاہلی حمیت کے منافی تھی’’

(صفحہ ۱۰۸، الرحیق المختوم)

اس معاہدہ کا بھی ایک پس منظر ہے جو سیرت رسول اور تاریخ میں موجود ہے۔ نبی اکرم ﷺ بھی اس معاہدے میں کی میٹنگ میں موجود تھے۔حالانکہ وہ اس وقت تک منصب رسالت  پر فائز نہیں ہوئے تھے۔ لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ بعثت کے بعد بھی  اس عہد وپیمان کا خود کو پابند سمجھتے تھے۔ آپ فرماتے تھے:

  ‘‘میں عبد اللہ بن جدعان کے مکان پر ایسے معاہدے میں شریک تھا کہ مجھے اس کے عوض اونٹ بھی پسند نہیں اور اگر (دورِ) اسلام میں عہد و پیمان کے لیے مجھے بلایا جاتا تو میں لبیک کہتا’’  (ابن ہشام ۱)

ڈاکٹر حمید اللہ لکھتے ہیں:

‘‘ مکے والوں کو اس پر بجا طور سے فخر ہوسکتا ہے کہ جس زمانے میں باقی عرب بلکہ باقی دنیا میں لاٹھی راج کا دور دورہ تھا، اس وقت انہوں نے رضا کارانہ امداد مظلومین کے لیے اپنی جتھا بندی کی، اور تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے رات کی بات دن ہوتے ہوتے بھلا نہ دی بلکہ ہمیشہ اس کی لاج رکھی، زمانہ جاہلیت میں بھی اس کی دہائی سے ابو جہل وغیرہ جیسے  بڑے بڑے سرغنے تھراتے تھے۔ ’’  (رسول اکرم کی سیاسی زندگی: ص ۵۳)

عہد نامہ حلف الفضول:

معاہدہ حلف الفضول میں درج ذیل معاہدہ طے پایا تھا:

1.  ہم مظلوموں  کا ساتھ دیں گے، خواہ وہ کسی قبیلے کے ہوں یہاں تک کہ ان کا حق ادا کیا جائے۔

2.   ملک میں ہر طرح کا امن و امان قائم کریں گے۔

3.  مسافروں کی حفاظت کریں گے۔

4.   غریبوں کی امداد کرتے رہیں گے۔

5.  کسی ظالم یا غاصب کو مکہ میں نہیں رہنے دیں گے۔

اس کو حلف الفضول اس لیے کہتے ہیں  اس معاہدہ سے قبل مکہ میں قبیلہ جرہم کے سرداروں کے درمیان بھی ایک معاہدہ ہوا تھا اور جو لوگ اس معاہدہ کے محرکین میں شامل تھے ان سب کا نام فضل تھا۔

۱۔ فضل بن حارث            ۲۔ فضل بن وداعہ                   ۳۔ فضل بن فضالہ

( بحوالہ: سیرت ابن ہشام ج ۱،  ص ۱۳۴)

یہاں دیکھا جاسکتا ہے کہ مذکورہ معاہدہ کی جو شقیں ہیں  وہ احترام انسانیت اور ملک میں  امن و امان  کے قیام کی یقین دہانی کراتے ہیں اور آج بھی قابل عمل ہیں۔  جہاں کہیں مظلوموں کی حمایت، امن و امان کے قیام،  ملک اور سماج دشمن عناصر کے خلاف کھڑے ہونے اور انہیں پناہ نہیں دینے  پر معاہدہ ہو،  مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں بشرطیکہ معاہدہ انصاف پر مبنی ہو اور اس کا مقصد نفرت انگیزی نہ ہو۔



میثاق مدینہ:

      جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ حلف الفضول کا تعلق مکہ سے تھا اور یہ معاہدہ اس وقت طے پایا تھا جب آپ ﷺ رسالت کے مرتبے فائز نہیں ہوئے تھے۔ اس کے باوجود ہمیشہ آپ نے خود کو اس  کا پابند عہد سمجھا۔ جب آپ ﷺ یثرب( مدینہ) تشریف لائے اورمسلمانوں کے درمیان ایک منظم سماج کی تشکیل کی تو انہوں نے مسلمانوں کے لیے  ۰۱  ؁ھ  میں ایک دستور  مرتب کیا۔ یہ دستور مسلمان آبادی  پر نافذ ہوتا تھا لیکن یہ  واضح رہے کہ  یہ مسلمان علاقائی طور پر دو الگ الگ خطوں کے رہنے والے تھے جن میں سے  مقامی آبادی کو انصار اور باہر سے آنے والی آبادی کو مہاجر کہا جاتا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دنیا میں جب کوئی  قوم یا آبادی نقل مکانی کرتی ہے اور جہاں جا کر وہ آباد ہونے کی کوشش کرتی ہے  وہاں کی زمین نوعیت کے اعتبار سے جتنی نرم ہو آنے والی آبادی کے  لیے ہیئت کے لحاظ سے سنگلاخ ہوجاتی ہے۔ وہاں اکثر  اسے مقامی اور علاقائی عصبیت کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ دنیا کی یہ پہلی ایسی نقل مکانی (ہجرت)تھی  جو مواخات اور خیر سگالی کے اعتبار سے بے نظیر ہے۔ یہ محض نبوی تعلیم  کا نتیجہ تھا کہ لوگوں نے نہ صرف ان کو اپنے گھر میں پناہ دی بلکہ اپنے دلوں میں بھی ان کے لیے جگہ بنا ئی۔ گھر بار اور مال و متاع میں بھی ان کو حقیقی بھائی کی طرح شریک اور ساجھی بنا لیا۔

یثرب میں ایک دوسرا طبقہ بھی موجود تھا  جوعلاقائی فرق کے ساتھ مذہبی اور تہذیبی فرق بھی رکھتا تھا۔  اس فرق کے سبب وہ  علاقائی نسبت کے باوجود انصار مدینہ سے بھی مختلف تھا۔چونکہ  اس وقت تک کوئی معاشرہ مستحکم نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس مقام پر موجود تمام طبقات  کے رشتے استوار نہ ہوں اور پر امن بقائے باہم کا اصول مرتب نہ ہوجائے۔ چنانچہ اس وقت انصار و مہاجرین کے علاوہ تیسرا طبقہ یہودیوں  کا تھا۔ یہودیوں کے وہاں  تین قبائل تھے جن کی آپس میں پھوٹ بھی تھی۔ ان میں بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ شامل تھے۔ مسلمانوں کے خلاف ان کے دلوں میں نفرت بھی  پائی جاتی تھی گرچہ وہ ان سے متحارب نہیں تھے۔  صفی الرحمن مبارکپوری لکھتے ہیں: ‘‘یہ معاہدہ اس معاہدے کے ضمن میں ہوا تھا جو خود مسلمانوں کے درمیان باہم طے پایا تھا۔’’                          (صفحہ ۲۸۶،  الرحیق المختوم)

معاہدے کی شقیں:

۱۔       بنو عوف کے یہود مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک ہی امت ہوں گے۔ یہود اپنے دین پر عمل کرینگے اور مسلمان اپنے دین پر۔ خود ان کا بھی یہی حق ہوگا اور ان کے غلاموں اور متعلقین کا بھی۔  اور بنو عوف کے علاوہ دوسرے یہود کے بھی یہی حقوق ہوں گے۔

۲۔     یہود اپنے اخراجات کے ذمہ دار ہوں گے اور مسلمان اپنے اخراجات کے۔

۳۔      اور جو طاقت اس معاہدے کے کسی فریق سے جنگ کریگی سب اسکے خلاف آپس میں تعاون کرینگے۔

۴۔      اور اس معاہدے کے شرکا کے باہمی تعلقات خیر خواہی،  خیر اندیشی اور فائدہ رسانی کی بنیاد پر ہونگے، گناہ پر نہیں،

۵۔     کوئی آدمی اپنے حلیف کی وجہ سے مجرم نہ ٹھہرے گا۔

۶۔      مظلوم کی مدد کی جائیگی۔

۷۔     جب تک جنگ برپا رہیگی یہود بھی مسلمانوں کے ساتھ خرچ برداشت کرینگے۔

۸۔      اس معاہدے کے سارے شرکاء پر مدینے میں ہنگامہ آرائی اور کشت و خون حرام ہوگا۔

۹۔     اس معاہدے کے فریقوں میں کوئی نئی بات یا جھگڑا پیدا ہوجائے جس میں فساد کا اندیشہ ہو تو اس کا فیصلہ اللہ عزو جل اور محمد رسول اللہ ﷺ فرمائیں گے۔

۱۰۔    قریش اور اسکے مددگاروں کو پناہ نہیں دی جائے گی۔

۱۱۔     جو کوئی یثرب پر دھاوا بول دے گا اس سے لڑنے کے لیے سب باہم تعاون کرینگے اور ہر فریق اپنے اپنے اطراف کا دفاع کرے گا۔

۱۲۔    یہ معاہدہ کسی ظالم یا مجرم کے لئے آڑ نہ بنے گا۔

      ‘‘اس معاہدے کے طے ہوجانے کے بعد مدینہ اور اسکے اطراف ایک وفاقی حکومت بن گئے جس کا دار الحکومت مدینہ تھا جس کے سربراہ رسول اللہ ﷺ تھے’’        (الرحیق المختوم: ص ۲۸۶-۲۸۷)

اس معاہدے کے بارے میں انصاف پسند  ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دنیا کا پہلا عالمی معاہدہ ہے جس میں اتنی  تفصیل  سے امن اور بقائے باہم  کا منشور مرتب کیا گیا۔ 

اس معاہدے  میں مسلمان  اور  غیر مسلم کو امت واحدہ قرار دیا گیا ہے۔ ہندوستان کے تناظر دیکھا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں جو  مخلوط آبادی موجود ہے وہ اپنے تمام تر تشخصات اور امتیازات کے تحفظ کے ساتھ فرمان رسول  کی روشنی میں بھی ایک  قوم ہے۔ کسی کے تشخص کو مٹائے بغیر تمام  طبقات جان و مال کی حفاظت کے ساتھ مشترک اقدار کو اپناتے ہوئے  پر امن طور سے رہ سکتے ہیں۔ دوئم یہ کہ معاہدے میں سماج  کی بنیاد عدل و انصاف پر رکھی گئی  ہے اورسوئم  مواخات اور بھائی چارہ کا جذبہ موجود  ہے۔ ظلم اور استحصال کا راستہ بند کیا گیا ہے۔ یہ وہ بنیادی اقدار ہیں جن کا کوئی مذہب اور طبقہ انکار نہیں کرسکتا۔

اس حوالے سے میگنا کارٹا کا ذکر بھی ضروری ہے کیونکہ زیادہ تر ماہرین نے میگنا کارٹا کو ہی پہلا عالمی معاہدہ تسلیم کیا ہے۔ حالانکہ تاریخی اعتبار سے یہ  ۱۲۱۵ عیسوی میں مرتب کیا گیا جس میں ۶۳ شقیں تھیں جبکہ میثاق مدینہ اس سے چھ سو سال قبل ۶۲۲ عیسوی میں مرتب کیا گیا جس میں دونوں منشور کو ملا کر ۵۲  اور بعض روایت کے مطابق ۵۳ شقیں تھیں۔

اس دستور سازی کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد حمید اللہ لکھتے ہیں:

‘‘اس زمانے کی قانونی عبارت اور دستاویز نویسی کا وہ ایک انمول نمونہ ہیں۔ اس کی اہمیت اسلامی مؤرخوں سے کہیں زیادہ یورپی عیسائیوں نے محسوس کی۔  ولہاوزن، میولر، گریمے، اشپرنگر، وینسنک، کائتانی، بول وغیرہ کے علاوہ ایک جرمن مؤرخ رانکے نے مختصر تاریخ عالم لکھتے ہوئے بھی اس دستاویز کا ذکر کرنا ضروری خیال کیا ہے۔ ’’     

(عہد نبوی میں نظام حکمرانی: ص ۷۷)

 دوسرا فرق یہ ہے کہ وہاں اقتدار اعلی کی جانب سے استحصال تھا جس کے خلاف رعایا کی بغاوت  اور شدت تھی۔ اقتدار اعلی نے مجبور ہو کر دستور سازی کی تھی۔ اس کی بنیادی باتیں  بھی محض اتنی تھیں:

No free man shall be seized or imprisoned, or dispossessed or outlawed or in any way brought to ruin: we [the king] will not go against any man nor send against him, save by legal judgment or by the law of the land.

To no man will we sell, or deny or delay, right or justice.

جس کا خلاصہ بس یہ  ہے کہ اقتدار اعلی کسی کو بلا وجہ یرغمال یا قید ی نہیں بنائے گا اور نہ کسی کو بے دخل کیا جائے گا، کسی انسان کو فروخت نہیں کیا جائے اور اس کے حقوق سلب نہیں کئے جائیں گے۔

اس کے بالمقابل میثاق مدینہ اقتدار اعلی کی جانب سے خود ہی مرتب کیا  گیا  اور رعایا یا آبادی نے اقتدار اعلی کی حیثیت برضا و رغبت تسلیم کی۔  میثاق مدینہ کی دستور سازی کے وقت سے لے کر  ہر دور  اور تکثیری سماج والے خطہ کے لیے  بھی یہ  قابل عمل ہے۔ ملاحظہ ہو یہ اقتباس:

“The Medina Charter has set out many of the principles essential to the peaceful functioning of a pluralistic society. The Charter has established many important values and lessons that are really needed today for enhancing religious pluralism and tolerance as well as finding resolutions to inter-religious conflicts.

Through the Charter, Prophet Muhammad has drawn upon the essence of unity,