مشمولات

Friday, 5 September 2025

بہار میں اردو انشائیہ نگاری

نام کتاب:           بہار میں اردو انشائیہ نگاری

مصنف:              ڈاکٹر نفاست کمالی

صفحات:             ۱۹۶

قیمت:                ۳۵۰

ملنے کا پتہ :           معرفت انجینئر انظر عالم، چھوٹی قاضی پورہ، محلہ کرم گنج، لہریا سرائے ، دربھنگہ

مبصر:                 احتشام الحق

اردو زبان میں انشائیہ نگاری ایک قدیم نثری صنف ہے اور اس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ دور حاضر میں اردو زبان میں  گرچہ انشائیہ نگاری کی روایت کم ہوئی  ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ انشائیہ زبان و بیان کا وہ  لطیف اظہار ہے کہ اس کا دروازہ  کبھی  بند نہیں ہوتا۔ کسی بھی  افسانوی و غیر افسانوی نثر میں یا اسی طرح صاحبان علم و فضل اور با ذوق افراد کی گفتگو اور عام بول چال میں انشائی جملے پھوٹتے رہتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تقریبا  ہر زبان میں انشائیہ نگاری کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا  کہ کسی بھی نثری صنف سے ایسے جملے نکالے جاسکتے ہیں جو انشائیہ کے ذیل میں آتے ہیں اور جس کو سن کر یا پڑھ کر انسان میں  لطیف احساس کی ایک رو کوند جاتی ہے اور حس مزاح پھڑک اٹھتی ہے۔ چہرہ پر تبسم کی لکیریں پھیل جاتی ہیں اور سامع یا قاری بصیرت کے ایک مسرت آگیں احساس سے لبریز ہوجاتا ہے۔

 ایک علاحدہ صنف کی حیثیت سے بھی بہر حال  اس کی اپنی ایک منفرد شناخت ہے جس کو ماہرین نے چند اوصاف سے ممیز کیا ہے۔  اس حوالے سے اردو میں بھی  توانا سرمایہ موجود ہے۔ خواہ وہ نیرنگ خیال کی صورت میں ہو یا  سرسید کے مضامین ہوں۔ غالب ومولانا آزاد کے خطوط ہوں، مرزا فرحت اللہ بیگ کے مضامین ہوں  کہ پطرس بخاری کے انشائیے یا انجم مان پوری کا کرایہ کی ٹمٹم، خواجہ حسن نظامی کا جھینگر کا جنازہ ، رشید احمد صدیقی کا ارہر کا کھیت اور کرشن چندر کا رونا وغیرہ۔  اسی طرح بہار میں بھی انشائیہ نگاری کی اپنی ایک روشن اور تابناک تاریخ ہے۔ زیر نظر کتاب ‘‘بہار میں اردو انشائیہ نگاری’’ بہار کی اسی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔

‘‘بہار میں اردو انشائیہ نگاری’’ ڈاکٹر نفاست کمالی کی تصنیف ہے ۔ وہ متھلا یونیورسٹی کےایم ایل ایس ایم کالج کے شعبہ اردو سے بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر (گیسٹ فیکلٹی) وابستہ ہیں۔ ان کا تعلق ایک علمی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد پروفیسر ایم کمال الدین متھلا یونیورسٹی کے پی جی شعبہ کے مؤسس اور صدر رہ چکے ہیں۔ صاحب کمال شخصیت ہیں۔  انشائیہ نگاری سے بھی ان کا تعلق رہا ہے اور انشائیہ نگاری پر ان کا کام بھی موجود ہے۔خود نوشت ‘‘چاندنی دھوپ کی’’ سمیت کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ درسیات پر بھی ان کا وافر کام موجود ہے۔  ڈاکٹر نفاست کمالی نےاس  پدرانہ روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ مصنفہ  کا دعوی ہے کہ یہ کتاب انہوں نے دوران طالب علمی لکھنی شروع کی تھی لیکن بوجوہ اب زیور طباعت سے آراستہ ہوسکی  ہے۔ اس سے قبل ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ‘‘ لفظیات غزل اردو ’’ بھی شائع ہو کر لوگوں سے داد و تحسین وصول کر چکا ہے۔ وہ اپنے والد کی دو کتابیں ‘‘ چاندنی دھوپ کی’’ اور ‘‘شعور لا شعور ’’ ترتیب دے چکی ہیں جو ان کی نفاست اور حسن نظر کی عکاس ہیں۔ اس طرح تصنیف و تالیف کے کاموں میں وہ اچھا خاصا تجربہ رکھتی ہیں۔

اس کتاب کو انہوں نے جامعاتی تحقیق کی طرز پر تصنیف کیا ہے اور اس وقت جبکہ یک موضوعی کتابوں کا سلسلہ کم ہوا ہے انہوں نے ایک موضوع پر بسیط مطالعہ پیش کیا ہے جو ان کی علمی شیفتگی کا مظہر ہے۔

             اس کتاب کو انہوں نے کل چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے باب میں انہوں نے انشائیہ کی تعریف پر بحث کی ہے اور تمام تر فلسفیانہ موشگافیوں اور ماہرین کی آرا سے باب کو  مستند کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسرے باب میں انہوں نے انشائیہ کو ایک علاحدہ صنف کی حیثیت سے بھی تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں مختلف ماہرین کے آرا سے  اپنے دعووں کو مدلل کیا ہے۔ تیسرا باب  بہار میں ابتدائی انشائیہ نگاری کی بحث کو سامنے لاتا ہے  جس میں علامہ شوق نیموی کی کتاب یادگار وطن  مطبوعہ ۱۸۹۴ میں انشاء نگاری کےواضح  ابتدائی نقوش تلاش کرنے میں وہ  کامیاب ہوئی ہیں۔حالانکہ اس سے قبل  کے بعض ادبی رسالوں اور کتابوں میں بھی دھندلی دھندلی تصویریں انہوں نے تلاش کی ہیں۔  ا ن کے بعد ان کی نظر‘‘ خیابان بے خزاں’’ از حاجی سید محمد مرتضی مطبوعہ ۱۹۳۱ پر ٹھہرتی ہے۔ سید اکبر علی قاصد  کے انشائیوں کے مجموعہ ‘‘ترنگ’’ مطبوعہ ۱۹۳۱ میں وہ انشائیوں کے بھر پور نقوش تلاش کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ چوتھے باب ‘‘بہار کے اردو انشائیہ نگار’’ کو انہوں نے ۱۹۳۵ سے ۱۹۶۰ تک محدود رکھا ہے اور اس ضمن میں پہلا نام جمیل مظہری کا تلاش کیا ہے۔ اس باب میں انجم مان پوری، سید اکبر علی قاصد، سید محمد حسنین عظیم آبادی، ڈاکٹر سید نذر امام، احمد جمال پاشا (آبائی وطن محلہ مغل پورہ عظیم آباد)، شین مظفر پوری، ہاشم عظیم آبادی، اطہر شیر، نظیر صدیقی وغیرہ کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ باب پنجم بہار میں اردو انشائیہ (۱۹۹۰ تک ) ہے۔ اس میں ناوک حمزہ پوری، ایم کمال الدین، اعجاز علی ارشد، نعمان ہاشمی، شفیع مشہدی، تمنا مظفر پوری، مناظر عاشق ہرگانوی، مسرور آروی، ڈاکٹر محمد مظاہر الحق، قیام نیّر، کوثر اعظم، خورشید جہاں، طارق جمیلی، سرور جمال، شبّر امام، مجتبیٰ احمد، متین عمادی، سید محمد جلیل، ظفر چکدینوی وغیرہ کو شامل کیا ہے۔ ان دونوں ابواب میں انہوں نے جن کو انشائیہ نگار  شمار کیا ہے ان  پر  بھر پور مضمون تحریر کیا ہے۔ انشائیہ نگار کے تعارف اور ان کے انشائیوں کے خد وخال کو پیش کرتے ہوئے اپنی ایک رائے پیش کی ہے۔یہ ان کے علمی اعتماد کو واشگاف کرتا ہے۔ چھٹے اور آخری باب میں انہوں نے اجمالی جائزہ پیش کیا ہے۔

کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنفہ نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے اس کتاب کی تصنیف و تالیف کا کام کیا ہے۔ گو جا بجا ان سے اختلاف رائے کے امکان کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ طلبہ اور صاحب ذوق افراد کے لیے یہ کتاب بہترین ہے ۔طباعت عمدہ ہے۔ گیٹ اپ بھی اچھا ہے۔  امید کی جاتی ہے کہ یہ کتاب علمی حلقوں میں پسند کی جائے گی۔

***

  


دربھنگہ کی دبستانی حیثیت

 

دربھنگہ کی دبستانی حیثیت

                                                                                                                                                                     احتشام الحق

روزنامہ  پندار کے ۱۷؍ جنوری ۲۰۲۱  بروز اتوار کے شمارے میں گوشۂ ادب کے صفحے پر عارف حسن وسطوی کا ایک مضمون ‘‘منصور خوشتر : نئی صبح کا استعارہ – ایک مطالعہ ’’ نظر نواز ہوا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے جواں سال ادیب و شاعر ڈاکٹر کامران غنی صبا کی مرتبہ کتاب ‘‘منصور خوشتر : نئی صبح کا استعارہ’’ کے حوالے سے  مبسوط تبصرہ پیش کیا ہے۔ اس میں عارف حسن وسطوی  نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے  ان میں بیشتر سے قطع کلام کرتے ہوئے  میرا خیال ہے کہ ایک جگہ  پر شدید اختلاف کی گنجائش موجود ہے اور جس کی وضاحت بھی ضروری ہے تاکہ سند رہے۔ انہوں نے اپنے  مضمون میں لکھا ہے :

‘‘مجھے لکھنے میں کوئی قباحت نہیں کہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (شخص واحد) کے دم خم سے دربھنگہ شہر بھی ایک دبستان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ’’

اس جملے میں عارف حسن وسطوی نے ‘‘کوئی قباحت نہیں ’’ کا  فقرہ  استعمال نہیں کیا ہوتا تو  کہا جاسکتا تھا کہ مضمون نگار نے غیر ارادی طور پر لکھ دیا ہے۔ لیکن کوئی قباحت نہیں کا فقرہ یہ بتاتا ہے  کہ انہوں نے پوری سنجیدگی کے ساتھ یہ دعوی کیا ہے۔ حالانکہ مجھے اب بھی یقین ہے کہ عارف حسن وسطوی نے سنجیدگی کے ساتھ یہ جملہ نہیں لکھا ہے۔

اس   جملے میں دو باتیں  یا دو دعوے کیے گئے ہیں۔ ایک ‘‘۔۔۔۔۔۔ (شخص واحد)  کے دم خم سے ’’اور دوسرا  ‘‘دربھنگہ شہر بھی دبستان کی شکل اختیار کر چکا ہے’’۔ یہ دونوں دعوے قابل گرفت ہیں۔ جہاں تک دربھنگہ کے دبستان ہونے کی بات ہے تو یہ واضح رہنا چاہیے کہ دربھنگہ کو بہت عرصے سے ماہرین کے ذریعہ  ایک دبستان کی شکل کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ فی الحال میرے ذہن میں اس کا  حوالہ مستحضر نہیں ہے جس میں اس کا ذکر ہے۔ لیکن جہاں تک میرا حافظہ کام کرتا ہے میں نے کئی جگہوں پر ماہرین کی ایسی رائے دیکھی ہے اور  یہ حقیقت بھی ہے۔ کیونکہ  دربھنگہ میں ہر عہد  میں ایسے نامور  ادبا  و شعرا موجود  رہے ہیں جن کی ادبی حیثیت قومی سطح پر مسلم رہی ہے۔یہ اور بات کہ دربھنگہ کو ایک دبستان کا نام تو دے دیا گیا لیکن اس کے ادبی خط و خال پر بحث نہیں کی گئی جو اس کو دبستان کی حیثیت سے ممتاز کرتے ہیں۔ جب تک کسی خاص جغرافیائی خطے کی ادبی  کاوشوں کے امتیازی خطوط کو نمایاں نہ کیا جائے یا  اس کے امتیازی اور انفرادی اجزا کو دیگر علاقوں کی ادبی کاوشوں سے نمایاں تبدیلی کی حیثیت سے واضح نہ کیا جائے کسی دبستان کا نام دینا   مناسب نہیں ہے۔  کسی اسلوب کو ہم منفرد نام بھی اسی وقت  دیتے ہیں جب وہ اسلوب اس علاقے میں روش عام بن جائے۔  اس طور پر  یہ کہا جاسکتا ہے کہ دربھنگہ کی دبستانی حیثیت دبستان عظیم آباد کی ذیلی شاخ کے طور پر  قائم رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دبستان عظیم آباد  کو ایک مرکز کی حیثیت حاصل تھی جبکہ دربھنگہ دور افتادہ علاقہ رہا ہے۔ البتہ جغرافیائی حیثیت دربھنگہ راج کی حکومت کا قیام اس کو قدرے معتبر اور مختلف ضرور بناتا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک خاص عہد کو ذہن میں رکھ اس وقت کے شعرا و ادبا کے کلام کا جائزہ لیا جائے تو دربھنگہ کی ادبی کاوشوں میں ایک خاص رنگ ضرور نظر آئے گا۔

دربھنگہ سے اٹھنے والے  ادیب وشعرا اور دربھنگہ میں شعر وادب کی آبیاری کرنے والوں میں کئی نام بڑے اہم اور معتبر ہیں۔ ان میں  زیب النساء مخفی بنت اورنگزیب کے استاد ملا ابو الحسن  ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو مظہر امام کا تعلق دربھنگہ ہی سے تھا جن کو آزاد غزل کا بانی قرار دیا گیا ہے۔ خاندان مغلیہ کے ایک شہزادہ مہاراجا لکشمیشور سنگھ کے مصاحب  تھےجو مرزا زبیر بخش عرف زبیر گورگانی  کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔  ان کے دیوان کا نام چمنستان سخن ہے۔  دربھنگہ میں بھیکا شاہ سالانی کے احاطہ میں ان کا مقبرہ ہے۔ شیخ احمد بن شیخ ابو سعید معروف بہ ملا جیون صاحب نور الانور (  گورنر کی حیثیت دربھنگہ میں مامور تھے۔ )، ابو الخیر مظہر عالم خیر رحمانی کا تعلق دربھنگہ سے تھا جو صاحب دیوان شاعر ہیں اور ان کے تین دیوان موجود ہیں۔ یہ ماہنامہ الپنچ کے مدیر بھی تھے۔ شاد عظیم آبادی جیسے شاعر سے ان کی ادبی معرکہ آرائی رہی۔

ان کے علاوہ بھی  آپ نظر ڈالیں کہ الگ الگ وقتوں میں کیسی کیسی ادبی ہستیاں یہاں موجود رہی ہیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ دربھنگہ کی دبستانی حیثیت کا ماضی میں بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

طہٰ الہی فکر، محسن دربھنگوی، شاداں فاروقی، عاقل رحمانی، عبد الرحمن نشتر (صوفی صاحب) ، حافظ عبد الخالق جوہر،  ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی، شبنم کمالی، اویس احمد د وراں، احسان دربھنگوی، مجاز نوری، حسن امام درد، پروفیسر منصور عمر ، پروفیسر لطف الرحمن،  مولانا عبد العلیم آسی، نور الہدی نور اصلاحی، مولانا قمر اصلاحی (مدیر پروانہ) ، منظر شہاب، نواب سید سعادت علی خاں، گویاؔ اور  ظہیر ناشاد وغیرہ چند ایسے نام ہیں جو ذہن میں آگئے ہیں۔ خلیل الرحمن اعظمی کے بھائی عبد الرحمن پرواز اصلاحی بھی دربھنگہ کے دار العلوم احمدیہ سلفیہ میں ملازمت کے سلسلے میں عرصے تک رہے ہیں جو شاعری کا ستھرا ذوق رکھتے تھے اور دربھنگہ کی ادبی سرگرمیوں کا حصہ بنتے تھے۔ یہ چند نمایاں نام ہیں اور یہ عہد وار بھی نہیں ہیں۔ جیسے جیسے ذہن میں نام آتے گئے ہیں  لکھ دئے گئے  ہیں۔ انہی حضرات کے دور میں دیگر شعرا و ادبا بھی موجود تھے اور استادانہ حیثیت کے مالک تھے۔  اس کا تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

موجود ہ  دور میں بھی اگر آپ دیکھیں جہاں پروفیسر عبد المنان طرزی جیسی شخصیت موجود ہے جو نہ صرف اردو زبان بلکہ فارسی شاعری پر بھی دسترس رکھتے ہیں  اور اس کے لیے انہیں صدر ایوارڈ بھی ملا ہوا ہے۔ جدید شعرا میں جمال اویسی بھی قومی سطح پر شناخت رکھتے ہیں اور ان کی شاعری اعلیٰ ادبی معیار پر کھری اترتی ہے۔ موجودہ عہد میں عطا عابدی کی شاعری  بھی  منفرد شناخت رکھتی ہے۔ پروفیسر شاکر خلیق، استاد الشعرا رہبر چندن پٹوی، ڈاکٹر امام اعظم، ڈاکٹر مشتاق احمد، خالد عبادی کے علاوہ ایسے کئی اہم شعر ا ہیں جن کی ادبی حیثیت کا چنداں انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ عہد میں جو شعرا موجود ہیں ان میں کئی استادانہ حیثیت کے مالک ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ اور بھی ایسی شخصیتیں موجود ہیں  جو دربھنگہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ا گرچہ ان کا دائرہ عمل اس وقت دربھنگہ یا بہار نہیں ہے۔

شاعری کے علاوہ فکشن، ڈراما نگاری، حالیہ ،  تنقید، تحقیق، صحافت اور دیگر اصناف کے حوالے سے بھی ماضی سے تا ہنوز کئی معتبر نام ہیں جن کا تعلق دربھنگہ سے رہا ہے اور دربھنگہ کی دبستانی حیثیت کو سازگار بنانے میں ان کی خدمات بڑی اہم اور ناقابل فراموش ہیں۔

اظہار خیال بموقع فروغ اردو سیمینار

 

سب سے پہلے میں منتظمین کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے یہ اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع عنایت فرمایا۔

محکمہ راج بھاشا کی جانب سے ایک بار پھر   پرشکوہ  انداز میں اور  پورے اہتمام کے ساتھ یہ ورکشاپ منعقد کیا جا رہا ہے اس کے لیے   بھی  میں حکومت بہار، ضلع انتظامیہ، ضلع راج بھاشا سیل کے ذمہ داران کو مبارکباد دیتا ہوں اور اردو آبادی کی جانب سے ان کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں۔

ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی
درد بے چارہ پریشاں ہے کہاں سے نکلے

یہاں کئی ماہرین نے مختلف زاویوں سے اردو کو در پیش مسائل پر روشنی ڈالی ہے اور کچھ لوگ اور بھی ڈالیں گے۔ اس لیے میں زیادہ وقت لینا مناسب نہیں سمجھتا۔ حالات گرچہ مشکل ہیں لیکن امکان کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے۔ ہمیں اس امکان کے دروازہ کے باہر سے تماشائی بننے کے بجائے اندر داخل ہو کر معرکہ بیم  ورجا کو سر کرنا ہے۔

اس پروگرام کا انعقاد خود بھی اہل اردو کے لیے ایک مثبت پیغام ہے اور اس بڑی تعداد میں آپ سب کی موجودگی آپ کی زندگی اور بیداری کا ثبوت ہے۔ یہ پروگرام ہر سال منعقد ہوتا ہے کہ ہمارے لیے کرنے کا یہ کام ہے کہ ہم اس کو کس طرح اور کس حد تک  مفید اور سود مند بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

جیسا کہ کہا گیا کہ ہر سال یہ پروگرام منعقد ہوتا ہے اور ہر سال اس اسٹیج سے ماہرین اس اسٹیج سے حکومت اور محکموں کے لیے کچھ تجاویز پیش کرتے ہیں، خود اردو عوام اور اردو ملازمین سے درد مندانہ اپیل  کی جاتی ہے۔ اتنے برسوں کے پروگرام کے بعد یہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں اس پروگرام  میں پیش کی گئی  گزشتہ تجاویز پر کی گئی کارروائیوں کا جائزہ لیں۔ گزشتہ برس جو تجاویز پیش کی گئیں کیا وہ پوری ہوگئیں اور اگر نہیں تو دشواری کہاں ہے اور اسے کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔

ہمیں اپنا بھی محاسبہ کرنا چاہیے کہ اردو کے تئیں ہمارے اپنے رویے میں کتنی تبدیلی آئی ہے۔

کیا اس پروگرام کے نتیجے میں اردو عوام نے سرکاری دفاتر میں کام کرانے کےلیے اپنی درخواستیں اردو میں دینا شروع کیں یا نہیں جیسا کہ ہر سال ماہرین  یہ بتاتے ہیں کہ سرکار نے جو اردو ملازمین بحال کئے ہیں اہل اردو ان سے کام نہیں لیتے۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک بار پھر با صلاحیت اور جوان ٹیم کو حکومت بہار نے بحیثیت مترجم بحال کیا ہے۔ ہمیں ان سے کام لینا چاہیے۔

اگر لوگوں نے درخواستیں دینی شروع کر دی ہیں تو ہمیں حق ہے کہ ہم خوش ہوں  اور اگر نہیں تو یہ جلسہ تعزیتی جلسے سے زیادہ معنی نہیں رکھتا۔

کیا سرکاری اسکولوں میں جہاں اردو داں طبقہ کے بچے موجود تھے لیکن اردو اساتذہ موجود نہیں تھے وہاں اردو اساتذہ کی تقرری کر دی گئی ہے اور وہاں اردو تعلیم بھی شروع ہوگئی ہے۔ جہاں پہلے اردو اساتذہ تھے لیکن تدریس میں کوتاہی تھی کیا  وہ دور ہوگئی ہے۔

کیا ایسی بیداری آئی ہے کہ جہاں اساتذہ تھے لیکن تعلیم نہیں ہو رہی تھی وہاں کے مقامی لوگوں نے اپنے بچوں کو اردو تعلیم دلانے کے لیے اسکول انتظامیہ پر  جمہوری طریقہ سے دباؤ بنایا اور اسکول میں اردو کی تعلیم ہونے لگی۔

ذرا ذاتی سطح پر بھی جائزہ لیں کہ ہم نے  کتنی کوشش کی کہ اپنے گھروں میں ہم اردو بول چال اور اردو پڑھنے کا ماحول بنائیں۔ ہم بازار سے سودا سلف لینے کے لئے بنایا جانے والا پرزہ اگر کسی دوسری زبان میں بناتے تھے تو کیا ہم اس پروگرام کے نتیجے میں اردو میں بنانے لگے۔

اگر ہمارے اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں آئی ہے تو

روئیے زار زار کیا کیجئے ہائے ہائے کیوں؟

میں اساتذہ سے ایک اپیل کر کے اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں کہ

ہم اسکولوں میں اردو پڑھانے کا ماحول سازگار کریں۔ یہ ممکن ہے کہ وہاں اساتذہ کی کمی ہو جس کی وجہ سے ہم سے اردو کا کام لینے میں کوتاہی برتی جا رہی ہو لیکن چونکہ بحیثیت مسلمان ہم  دوہری جوابدہی کے ذمہ دار ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ سارے کام کو  بخوبی انجام دیتے ہوئے اردو پڑھنے پڑھانے کا ماحول بنائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اردو پڑھنے پڑھانے کے معاملے میں عوام میں ہی کوتاہی ہے  لیکن ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہماری حیثیت قائد اور قائد ساز کی ہے۔ جہاں عوام کی نگاہ نہیں پہنچ پا رہی ہے ہمیں ان کو وہ راہ دکھانی ہے۔ اس کے لیے ہمیں بہت سی قربانیاں دینی ہوں گی۔

اب آن لائن تدریس کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ہمیں اپنی تدریس کو آن لائن بنانے کی طرف توجہ دینی چاہیے تاکہ جن اسکولوں میں اردو اساتذہ نہیں ہے وہاں کے بچے بھی ہماری صلاحیت سے فیضیاب ہوسکیں۔

انہی باتوں کے ساتھ میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔

پروفیسر شاکر خلیق کی شاعری‘‘ احساس جنوں ’’ کے تناظر میں

 

احتشام الحق

پروفیسر شاکر خلیق  کی شاعری‘‘ احساس جنوں ’’ کے تناظر میں

 

پروفیسر شاکر خلیق کا تعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے۔ ان کے والد عبد الخالق خلیق بھی شاعر و ادیب تھے اورشفیع  مسلم اسکول ، دربھنگہ میں درس وتدریس سے وابستہ تھے۔ تذکرہ آل تراب اور حاضری (سفرنامہ حج بیت اللہ) ان کی کتابیں ہیں۔ خود پروفیسر شاکر خلیق نے زمانہ طالب علمی سے ہی  بڑی متحرک اور فعال زندگی گزاری ہے۔ عظیم آباد اور بہار کے بڑے بڑے اور استاد شعرا کی صحبت انہیں حاصل رہی ہے۔ قومی سطح پر انہوں نے ملک کے  کئی نامور شعرا کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کی ہے۔ صوبہ کے کئی عظیم سیاست دانوں کو بھی انہوں نے قریب سے دیکھا ہے اور ان کے ساتھ سیاسی و سماجی  مسائل کی گتھی سلجھاتے رہے ہیں۔ ملی قیادت کرنے والے کئی مشاہیر علمائے کرام کے ساتھ بھی ان کی نشست وبرخاست رہی ہے۔مسلمانوں کے اندر ذات پات اور مسالک و مشارب کی بنیاد پر قائم تفریقات کو ختم کرنے اور ہم آہنگی پیدا کرنے  سعی بھی کرتے رہے ہیں۔ بین المذاہب خیرسگالی کے ماحول کو سازگار بنانے کے لیے بھی انہوں نے کام کیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند اور امارت شرعیہ پٹنہ بہار و اڑیسہ و جھارکھنڈ کے پلیٹ فارم سے کی جانے والی جد وجہد اور مساعی میں ان کی فعال شرکت رہی ہے۔ ریاستی سطح پر اردو کو دوسری زبان کا درجہ دلانے اور قومی سطح پر اردو فروغ دینے کی جو تحریکیں اٹھی ہیں ان کا حصہ بھی وہ بنتے رہے ہیں۔ پٹنہ ہائی کورٹ میں بحیثیت وکیل کام کرنے کا تجربہ رہا ہے۔ سی ایم کالج دربھنگہ  میں مسند تدریس پر فائز رہے ہیں اور متھلا یونیورسٹی دربھنگہ کے پی جی ڈپارٹمنٹ آف اردو میں استاد اور صدر کی حیثیت سے بھی انہوں نے اپنی شناخت قائم کی۔یونیورسٹی کے کئی انتظامی عہدوں پر بھی کام کیا ہے۔ الغرض پروفیسر شاکر خلیق علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شعبہ جات میں  اتنے سرگرم  اور فعال رہے ہیں کہ ان حوالوں سے ان کی شخصیت کا احاطہ مستقل مضامین کا متقاضی ہے۔ انہوں نے امریکہ اور دیگر کئی ممالک کا سفر بھی کیا ہے۔ اس طرح ایک کامیاب انسان کی طرح بھر پور زندگی جی ہے اور زمانے کے سرد و گرم سے آشنا ہوئے ہیں۔ زندگی کے ان تجربات نے انہیں پختہ شعور عطا کیا ہے اور ان کی شخصیت کو بالیدہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

               شعور کی یہ پختگی ، فکر کی بالیدگی اور تجربات کی فراوانی ان کی شاعری میں بھر پور نظر آتی ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کا مطالعہ قاری کو  ایک پر لطف احساس سے گزارتا ہے۔  یہ احساس  مسرت کی ترنگ  کی شکل میں ظاہر  ہونے کے ساتھ بصیرت  کی رو بھی پیدا کرتا ہے۔ قاری کو  طرب اور امنگ کا احساس کراتا ہے۔ ان کی شاعری میں مٹتی ہوئی تہذیب  کا المیہ بھی ہے  مگر  نئی زندگی اور نئے تقاضوں  کا جوش و مسرت کے ساتھ استقبال  کرنے کی تحریک دیتا  ہے۔ ان کی شاعری  قاری کو حالات سے نبرد آزما ہونا  اور آنکھ سے آنکھ ملا کر آگے بڑھنا سکھاتی ہے۔ ان کے کلام میں یہ خوبیاں جا بہ جا اور وافر  نظر آتی ہیں۔ نظم متاع جنوں کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں:

جنوں ہے اپنی پونجی اور خرد ان کا خزانہ ہے
جنوں کے راستے ہی چل کے منزل ہے ٹھکانا ہے
جنوں جب وادی پر خار میں جا پا بہ جولاں ہو
تو سرحد سے نکل کر خوبصورت شامیانہ ہے
کبھی ہے اعتراف اس کا کبھی ہے احتساب اس کا
جنوں کے حوصلے کا معترف دیکھو زمانہ ہے
متاع زندگی اپنی جنوں کے دست رس میں یوں
جنوں ہی ہے حقیقت اور خرد بس اک فسانہ ہے

پروفیسر شاکر خلیق کے کلام کے دو مجموعے اب تک شائع ہوچکے ہیں۔ پہلا مجموعہ کلام اعتراف جنوں کے نام سے ۱۹۹۴ میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک ان کا کوئی مجموعہ کلام کتابی شکل میں  شائع نہیں ہوا۔ لیکن رسائل و جرائد کی زینت بھی بنتا رہا۔ اس کی وجہ ان کا تدریسی انہماک رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ رہی کہ تدریس کے ساتھ ساتھ انتظامی امور سے بھی ان کا تعلق رہا اور سماجی وسیاسی امور میں بھی  ان کی مصروفیت رہی۔ ان کی طبیعت میں موجود استغنا اور بے نیاز ی کا عنصر اس پر مستزاد ہے۔

زیر نظر مضمون  میں پروفیسر شاکر خلیق  دوسرے مجموعہ کلام احتساب جنوں پر طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے جو کتاب ۲۰۲۱ میں منظر عام پر آئی ہے۔ احتساب جنوں پروفیسر شاکر خلیق کے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کلام کا مجموعہ ہے۔ یوں تو انہوں نے اس کتاب کو نظموں کے مجموعے کا نام دیا  ہے اور  در حقیقت نظموں کی  ایک بڑی تعداد اس میں موجود بھی ہے لیکن نظموں کے علاوہ غزلیات، قطعات اور شادیات کو بھی وافر جگہ دی  گئی ہے۔

شاعر نے اپنی کتاب کا نام زیر نظر کتاب میں موجود نظم ’’متاع جنوں ‘‘ سے  اخذ کیا ہے اور جنوں کو کار زار حیات میں متاع زندگی قرار دیا ہے۔  اس طرح یہ متاع جنوں قاری کے لیے زندگی کو انگیز کرنے کا  پیغام بن گیا ہے۔

 اس کتاب کے مشمولات کا جائزہ لینے پر ہمیں ان کی نظمیں متوجہ کرتی ہیں۔ انہوں نے اس کے مشمولات  کو دس ذیلی عناوین کے تحت تقسیم کیا ہے جن میں توشۂ آخرت، احتساب جنوں، آزاد نظمیں، گلدستہ تبریک، وفیات، بقید صنعت توشیح، غزلیات، امریکہ کی غزلیں، انگریزی، ہندی اور میتھلی کلام شامل ہیں۔

توشہ آخرت میں بشمول حمد و نعت اور مناجات اس قبیل کی  آٹھ تخلیقات ہیں۔ایک حمدیہ دوہا بھی ہے۔  مناجات ان کی ایک طویل اور پرانی نظم ہے۔ اسی نظم سے اس کتاب کی ابتدا ہوئی ہے۔ یہ ایک دل پذیر مناجات ہے جو مثنوی کے فارم میں لکھی گئی ہے۔  اس میں خدا اور بندے کے رشتے کا انعکاس ہوا ہے اور ایک خاص کیفیت میں لکھے جانے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے جس کا اظہار شاعر نے خود بھی کیا ہے۔ پوری نظم ہار کے موتی کی طرح پروئی ہوئی نظر آتی ہے۔

اس کے بعد وہ حصہ شروع ہوتا ہے جس سے کتاب معنون ہے یعنی احتساب جنوں۔  پہلی نظم الوداع ہے۔ عام طور پر یہ عنوان حزن و ملال  کے  عناصر کو اضطراری طور پر کھینچ لاتا ہےلیکن اس نظم میں بھی وہ  طرب اور ولولہ   کا موضوع لے آئے  ہیں اور اس کو بخوبی برتنے کی کوشش کی ہے۔ دیکھئے یہ دوسرا بند:

اے مرے ساقیا دور صہبا چلے
اب اٹھی ہے گھٹا جام و مینا چلے
کیف و مستی ہو مدہوش دنیا چلے
اس کے انداز ہوں یعنی سب سے جدا
الوداع الوداع الوداع الوداع

البتہ تیسرے اور آخری بند میں الوداعی کیفیت واضح ہوجاتی ہے۔

ابتدا میں کئی موضوعی نظمیں ہیں جو موضوع کے اعتبار سے قاری کو مختلف نوعیت کے  تجربات زندگی سے گزارتی ہیں۔مشورہ حسن و عشق کی واردات پر مبنی ایک نظم ہے جس میں فریقین کے لیے وصل کی کوئی صورت نہیں نکلتی تو اس مشورے پر انجام کو پہنچتی ہے:

صرف ایک یہی وعدہ آؤ آج ہم کرلیں

ایک دوسرے کو ہم اب کبھی نہ بھولیں گے

ایک دوسرے ہم بس دلوں میں پوجیں گے

تیرے ہی دم سے  بھی ان کی ایک نظم سے حسن و عشق کی واردات پر مبنی ہے۔ اس کی ابتدا میں کچھ مایوسی کی کیفیت ہے لیکن جیسے جیسے نظم کا ارتقا نظم میں رجائی کیفیت  بڑھتی جاتی ہے ۔ ملاحظہ ہو یہ بند:

تو جو میرا ہے تو دنیا کا مجھے خوف نہیں

تو بھی روٹھے گا کبھی مجھ سے یہ امید نہیں

تیری یادوں کے سہارے ہی جیا کرتا ہوں

کلفت دہر کا اب مجھ کو کوئی خوف نہیں

ہر مصیبت میں ترا نام لیا کرتا ہوں

تو ہی بس میرے لئے دہر کی تابانی ہے

ساری دنیا کی عنایات ہیں قرباں تجھ پر

تیرے ہی دم سے خیاباں میں بہار آئے گے

تیرے الطاف سے اس عالم حیوانی میں

ٹوٹتی سانس میں بھی روح پلٹ آئے گی

ہم تو جیتے ہیں فقط لطف و کرم پر تیرے

چینی جارحیت ۱۹۶۲ کے خلاف انہوں نے ترانہ ملی تحریر کیا ہے۔ اس نظم میں انہوں نے نوجوانان وطن کی حوصلہ افزائی کی ہے اور وطن کے لیے جاں نثاری کا جذبہ پیدا کرنے کی اپیل کی ہے۔

ساز شکستہ محض چار مصرعوں پر مبنی ایک مکمل نظم ہے: ملاحظہ ہو

رات پھر میں نے سنی

اپنے پڑوسی کے گھر

کرب میں ڈوبی ہوئی

ایک سسکتی آواز

چار چھوٹے چھوٹے مصرعوں میں شاعر نے جس احساس کا ذکر کیا ہے وہ شاعر کے دل کی کیفیت کو ظاہر تو کرتے ہیں ساتھ ہی شاعر کی فن پر دسترس کو بھی عیاں کرتے ہیں۔

نظموں کے عنوان سے  شاعری کی وسعت نظری کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ کتاب میں جو نظمیں ہیں ان میں خواب و خیال، چند سوال، یاد ماضی، گلہائے عقیدت  (جواہر لعل نہرو کی موت پر) پاسبانان وطن، باغبانان چمن، رقاصہ، شکستہ ساغر دل، فطرت کی بیٹی، یوم ارض، وقت کی پکار (اطالیائی صنف کیتو کی طرز پر لکھی گئی)گرونانک کی یادو، پیام مشرق، اپنا مرثیہ، قصیدہ در مدح مزدور، تحفہ عید  - بڑے بھائی کے نام، پیام تعلیم، وصیت (اپنی بیٹی زینب کےنام جس میں شوہر کے ساتھ حسن سلوک اور خوشگوار زندگی جینے کی تعلیم دی گئی ہے) ، منظر پس منظر

اس کے بعد کئی آزاد نظمیں ہیں۔ دونوں حصوں کی کئی نظمیں خاص  مواقع کے لیے بھی کہی گئی ہیں۔ کچھ موضوع کی سطح پر تو کچھ ہیئت کی سطح پر  تجربہ کے طور پر کہی گئی ہیں۔ ان دنوں حصوں کی تخلیقات تقریبا نصف صدی کو محیط ہیں۔ ان کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ پروفیسر شاکر خلیق کو نظم گوئی پر عبور حاصل ہے۔ اس میں چھوٹی سے چھوٹی نظمیں بھی ہیں اور ایک خاص طوالت  رکھنے والی نظمیں بھی ہیں۔

جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ پروفیسر شاکر خلیق  نے بین المذاہب خیرسگالی کے جذبات کو فروغ دینے میں بھی عملی طور پر سرگرمی دکھائی ہے۔ چنانچہ  زیر نظر کتاب میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حوالے سے بھی  کئی نظمیں موجود ہیں اور غزلوں کے اشعار میں بھی  اس طرح کی مثالیں موجود ہیں۔ خطاب بہ جوانان ہند، ترانہ ملی، گلہائے عقیدت، پاسبانان وطن، وقت کی پکار، گرونانک کی یاد میں، ایکتا کا سبق (گجرات کا تناظر) یہ وہ نظمیں ہیں جن میں پیام امن و محبت اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی تحریک  موجود ہے۔

وقت کی پکار اطالوی صنف کینٹو کی طرز پر لکھی گئی ہے اور حب الوطنی کے جذبہ سے معمور ہے۔

پیام مشرق امریکہ  میں منعقد ایک شعری نشست کے لیے  کہی  گئی نظم ہے جو مشرق و مغرب کے تعلق کو آشکار کرتی ہے۔ شاعر  کی نظر میں مشرق و مغرب کی تفریق اس سے زیادہ کچھ نہیں:

اس دھرتی پر رنگ برنگے پھول کھلے ہیں چاروں اور
جن کی خوشبو کی مستی سے ہم سب ہی متوالے ہیں
قدرت نے اپنے ہاتھوں سے ایکسے ایسے رنگ بھرے
جن سے دنیا جگ مگ جگ مگ اور دھرتی پر تارے ہیں
پورب ، پچھم، اتر، دکھن بس سمتوں کا کھیل ہے یہ
ایک لڑی کے سب موتی ہیں جب بکھرے ناکارے ہیں

پروفیسر شاکر خلیق کی نظموں اور کلام میں فطرت کی عکاسی بھی بھر پور موجود ہے۔ فطرت کی بیٹی اور یوم ارض اس کی بہترین مثالیں ہیں۔

               شاعر نے ایسے ٹھوس موضوعات کونظم کا جزو بناتے ہوئے  بھی اس میں  شعریت کو مجروح نہیں ہونے دیا ہے۔ شعریت کے ساتھ نغمگی، روانی  اور کیف ومستی کی فضا پائی جاتی ہے۔

اسی طرح ناسٹلجیا اور یاد ماضی  بھی ان کے کلام کے اوصاف ممیزہ ہیں نظم خواب و خیال اور یاد ماضی میں یہ ابھر کر سامنے آیا ہے لیکن دیگر کئی نظموں میں یہ چیزیں نظر آتی ہیں۔

ان کی خوبصورت قابل مطالعہ نظموں میں اپنا مرثیہ (۱۹۷۴) بھی شامل ہے۔

گلدستہ تبریک کے تحت شادیات کے علاوہ مختلف مواقع پر  منظوم مبارکبادیاں ہیں۔ وفیات کا بھی حصہ ہے جس میں جواہر لعل نہرو، راجیو گاندھی، پروفیسر مطیع الرحمن، حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، شمیم فاروقی کی رحلت پر منظوم تعزیت اور تاثرات ہیں۔ صنعت توشیح کی قید کے ساتھ جو نظمیں ہیں ان میں بیشتر وفیات سے تعلق رکھتی ہیں۔

اس کے بعد غزلیات کا حصہ ہے۔اس میں ایک درجن سے زائد وہ غزلیں بھی شامل ہیں جو انہوں نے امریکہ میں قیام کے دوران کہی ہیں۔ فارسی، میتھلی، انگریزی  اور ہندی میں بھی کلام موجود ہے۔ مشمولات میں قطعات و رباعیات بھی شامل ہیں۔

کتاب کے اخیر میں ان کی غزلوں کا مجموعہ اعتراف جنوں  کی چند غزلوں کا انگریزی ترجمہ شامل ہے جس کو محمود احمد کریمی نے کیا ہے۔

تخلیقات کے مطالعہ سے ان کی قادر الکلامی کا بھر پور اندازہ ہوتا ہے۔ موضوع اور ہیئت دونوں سطح پر ان کی حیثیت ایک استاد شاعر کی ابھرتی ہے۔یہ کتاب اہل ذوق کے لیے سامان تسکین فراہم  کرتی ہے۔عرض حال میں مصنف نے مختصر طور پر اپنے ادبی رجحان شعری برتاؤ  کی طرف اشارہ کیا ہے جس سے ان کی شاعری کی تفہیم کی راہ آسان ہوتی ہے۔

  طباعت اور کاغذ عمدہ ہیں ۔ اخیر میں تصویریں بھی شامل ہیں جن میں کچھ خانگی اور ذاتی قسم سے تعلق رکھتی ہیں تو کچھ ادب کی بڑی ہستیوں کی موجودگی سے ان کو یادگار اور تاریخی بناتی ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ  یہ کتاب علمی اور ادبی حلقوں میں پسند کی جائے گی۔

 

 

 

 

 

یوم مزدور اور احترام مزدور!!!

 

یوم مزدور اور  احترام مزدور!!!

آج یکم  مئی یعنی یوم مزدور ہے۔ یوم مزدور  کے موقع پر ہم سب مزدوروں کے تئیں نیک خواہشات اور ان کی محنت اور خدمات کا اعتراف کر رہے ہیں۔احترام انسانیت کا یہ جذبہ ہر دن لائق احترام ہے۔  لیکن ہمیں یہ غور کرنے کی ضرورت کہ ہم نے کبھی کسی مزدور کے احترام میں  عملی طور پر کبھی کچھ کیا ہے؟  کیا  ہم کبھی .......

v   مزدور سے اس کی محنت اور تھکن کو دیکھتے ہوئے وقت سے قبل کام چھوڑ دینے کو کہا ہے باوجودیکہ کام باقی ہو۔

v   سڑک پار کرتے وقت ہم اگر پیدل یا سواری پر ہوں تو صرف اس لیے کہ کوئی مزدور بوجھ اٹھائے ہوا ہے (سر پر ، ٹھیلے یا رکشے پر) اس کو اپنے سے پہلے گزرنے دیا ہے۔

v   کسی بوجھ اٹھائے ہوئے مزدور نے ہم سے آگے نکلنے کی کوشش کی ہو تو اپنی سواری روک کر اطمینان سے اس کے گزرنے کا انتظار کیا ہو اور اس کے بوجھ اٹھانے کا احترام کرتے ہوئے بدکلامی سے گریز کیا ہو اور اس کے لیے دل میں نرمی پیدا کی ہے۔

v   ایسے وقت میں ان سے سخت کلامی کا اظہار کرنے والے دوسرے فرد سے بھی مزدور کی حمایت میں نصیحت اور خیر خواہی کی بات کی ہے۔

v   سب سے بڑی بات کہ ایسے وقت میں خود مزدور کے اجڈپن اور گنوار پن کو خوش دلی سے برداشت کر لیا ہے۔

v   کسی مزدور کی بوجھ اٹھانے میں مدد کی ہے۔

v   کوئی ٹھیلے والا مزدور اونچائی پر چڑھ رہا ہو یا پھر اس کو کھینچنے میں ناکام ہو رہا ہو  تو پیچھے سے دھکا دے دیا ہے تاکہ وہ آسانی سے گزر سکے۔

v   اپنے یہاں  کام کرنے ولے یا آپ کے سامنے کام کر رہے مزدور کو گرمی میں مزدور ہونے کی وجہ سے ٹھنڈا پانی یا مشروب پیش کیا ہے۔ کیا  ضرورت کے مطابق اس کے لیے پنکھے کا الگ سے انتظام کر دیا ہے۔  

v   جاڑے میں کام کرتے وقت اس کے لیے الاؤ یا ہیٹر کا انتظام کر دیا ہے،چائے یا کافی پیش کی ہے۔

v   چپل سے محروم مزدور کو اضافی طور پر چپل دے دیا ہے اور اس کے لیے کسی احسان مندی کی خواہش دل میں نہیں تھی یا  کبھی اس کے بدلے میں کام لینے کی خواہش نہ ہے۔

v   احسان مندی کی خواہش کے بغیر کوئی کپڑا یا ضرورت کا کوئی سامان دیا ہے۔

v   کام پورا ہونے پر مزدوری سے کچھ بڑھا کر دیا ہے۔

v   ایک چیز بڑی توجہ طلب ہے کہ جب آپ یا آپ کے بچے کسی مزدور یا اس کے ساتھ موجود اس کے بچے کے سامنے کوئی ایسی چیز کھا رہے ہوں جو اس کی  رسائی  یا  قوت خرید سے باہر ہے تو اس سے اس  میں محرومی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر ان کے بچوں کے اندر یہ احساس بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں آپ یا آپ کے بچے  ایسی چیز اس کے سامنے نہ کھائیں یا پھر ان کو اور ان کے بچے کو اس میں  ضرور شامل کریں۔

v   کئی کام ایسے ہوتے ہیں جو  گندے یا غلیظ سمجھے جاتے ہیں جن میں بدبو اور سڑن ہوتی ہے۔ اکثر لوگ وہاں سے گزرتے ہوئے ناک پر دستی یا ہاتھ ڈال لیتے ہیں ، تھوک پھینکتے ہیں، مزدور کا احترام یہ ہے کہ ہم اس کے سامنے  اپنے اس رویئے سے گریز کریں اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تعلیم دیں کہ وہ ایسے مزدوروں کے سامنے ایسے کسی رویے کا اظہار نہ کریں جس سے کسی انسان یا مزدور کی دل شکنی ہو تی ہو۔

وعلی ھذا القیاس

اگر یقینا آپ کے اندر ایسا جذبہ موجود ہے جو آپ کے عمل میں بھی دکھائی دیتا ہے  تو آپ محترم ہیں اور یہ حق رکھتے ہیں کہ مزدور کے احترام پر آپ اپنی بات کہیےاور اگر نہیں تو مزدوروں کے تئیں آپ کے یہ زریں خیالات محض فیشن اور دکھاوا ہیں۔ یہ جھوٹ ہے، یہ فریب ہے اور یہ مزدوروں کا مذاق ہے!!!

اگر آپ مسلمان ہیں تو سمجھ لیجئے کہ یہی اسلامی تعلیمات بھی ہیں۔کیونکہ احترام انسانیت اور اعلی انسانی اقدار اسلام کا حصہ ہے۔ 

احتشام الحق

 

 

 

Letter to Director Urdu Directorate

 

بخدمت

               ڈائرکٹر

               ڈائرکٹوریٹ آف اردو

               محکمہ کابینہ سکریٹریٹ ، حکومت بہار

                                                                                                                        تسلیمات!

 

                آپ کی خدمت میں اپنی کتاب ’’ہر روز روزِ عید‘‘ (قومی اور بین الاقوامی سطح پر منائے جانے والے یاد گار ایام)  پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔یہ کتاب ایک ایسے موضوع پر ہے جس کا  مواد اردو زبان  میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ یہی وجہ ہے کئی اہل نظر نے اس کی پذیرائی کی ہے اور ایسے موضوعات پر لکھنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔

               رواں مالی سال میں انعامات کے لیے  ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے موضوع کی جو زمرہ بندی کی گئی ہے یہ کتاب ان میں سے کسی میں بھی شامل نہیں ہوتی ہے۔اگر اردو زبان میں سائنسی اور دیگر عمرانی علوم  کی کتابوں کو بھی انعام کے زمرہ میں رکھا جاتا تو شاید اس میں اس کو جگہ مل جاتی اور اہل نظر کے  زیر غور ہوتی۔  اس کے باوجود ڈائرکٹوریٹ کی خدمت میں بھیجی جا رہی ہے۔ اس احساس کے ساتھ کہ اگر ڈائرکٹوریٹ کا مقصد انعام کے ذریعہ ادیبوں اور فنکاروں کی مالی امداد کرنا ہے تو یہ کتاب اس میں شامل نہیں ہوگی۔

                لیکن اگر اس کا مقصداہل نظر کے ذریعہ کتابوں کی قدر وقیمت کا اندازہ کرنا، علمی کتابوں کی پذیرائی کرنا  اور انہیں فروغ دینا ہے  تو غیر مالی انعام کے طور پر ہی سہی  اس  کتاب پر غور کیا جاسکتا ہے۔

                              امید ہے کہ ڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ اس پر غور کیا جائے گا۔

                                                            شکریہ!

                                                                                                                        آپ کا مخلص

                                                                                                                        احتشام الحق

                                                                                                                        دیورا بندھولی، دربھنگہ  ۸۴۷۳۰۳

                                                                                                                        موبائل: ۹۲۳۴۷۳۳۳۷۹

نوٹ:

               ۵؍ کتابیں ماہرین کے لیے اور ایک ڈائرکٹر ڈائرکٹوریٹ کی خدمت میں بھیجی جا رہی ہیں۔