مشمولات

Friday, 5 September 2025

یوم مزدور اور احترام مزدور!!!

 

یوم مزدور اور  احترام مزدور!!!

آج یکم  مئی یعنی یوم مزدور ہے۔ یوم مزدور  کے موقع پر ہم سب مزدوروں کے تئیں نیک خواہشات اور ان کی محنت اور خدمات کا اعتراف کر رہے ہیں۔احترام انسانیت کا یہ جذبہ ہر دن لائق احترام ہے۔  لیکن ہمیں یہ غور کرنے کی ضرورت کہ ہم نے کبھی کسی مزدور کے احترام میں  عملی طور پر کبھی کچھ کیا ہے؟  کیا  ہم کبھی .......

v   مزدور سے اس کی محنت اور تھکن کو دیکھتے ہوئے وقت سے قبل کام چھوڑ دینے کو کہا ہے باوجودیکہ کام باقی ہو۔

v   سڑک پار کرتے وقت ہم اگر پیدل یا سواری پر ہوں تو صرف اس لیے کہ کوئی مزدور بوجھ اٹھائے ہوا ہے (سر پر ، ٹھیلے یا رکشے پر) اس کو اپنے سے پہلے گزرنے دیا ہے۔

v   کسی بوجھ اٹھائے ہوئے مزدور نے ہم سے آگے نکلنے کی کوشش کی ہو تو اپنی سواری روک کر اطمینان سے اس کے گزرنے کا انتظار کیا ہو اور اس کے بوجھ اٹھانے کا احترام کرتے ہوئے بدکلامی سے گریز کیا ہو اور اس کے لیے دل میں نرمی پیدا کی ہے۔

v   ایسے وقت میں ان سے سخت کلامی کا اظہار کرنے والے دوسرے فرد سے بھی مزدور کی حمایت میں نصیحت اور خیر خواہی کی بات کی ہے۔

v   سب سے بڑی بات کہ ایسے وقت میں خود مزدور کے اجڈپن اور گنوار پن کو خوش دلی سے برداشت کر لیا ہے۔

v   کسی مزدور کی بوجھ اٹھانے میں مدد کی ہے۔

v   کوئی ٹھیلے والا مزدور اونچائی پر چڑھ رہا ہو یا پھر اس کو کھینچنے میں ناکام ہو رہا ہو  تو پیچھے سے دھکا دے دیا ہے تاکہ وہ آسانی سے گزر سکے۔

v   اپنے یہاں  کام کرنے ولے یا آپ کے سامنے کام کر رہے مزدور کو گرمی میں مزدور ہونے کی وجہ سے ٹھنڈا پانی یا مشروب پیش کیا ہے۔ کیا  ضرورت کے مطابق اس کے لیے پنکھے کا الگ سے انتظام کر دیا ہے۔  

v   جاڑے میں کام کرتے وقت اس کے لیے الاؤ یا ہیٹر کا انتظام کر دیا ہے،چائے یا کافی پیش کی ہے۔

v   چپل سے محروم مزدور کو اضافی طور پر چپل دے دیا ہے اور اس کے لیے کسی احسان مندی کی خواہش دل میں نہیں تھی یا  کبھی اس کے بدلے میں کام لینے کی خواہش نہ ہے۔

v   احسان مندی کی خواہش کے بغیر کوئی کپڑا یا ضرورت کا کوئی سامان دیا ہے۔

v   کام پورا ہونے پر مزدوری سے کچھ بڑھا کر دیا ہے۔

v   ایک چیز بڑی توجہ طلب ہے کہ جب آپ یا آپ کے بچے کسی مزدور یا اس کے ساتھ موجود اس کے بچے کے سامنے کوئی ایسی چیز کھا رہے ہوں جو اس کی  رسائی  یا  قوت خرید سے باہر ہے تو اس سے اس  میں محرومی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر ان کے بچوں کے اندر یہ احساس بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں آپ یا آپ کے بچے  ایسی چیز اس کے سامنے نہ کھائیں یا پھر ان کو اور ان کے بچے کو اس میں  ضرور شامل کریں۔

v   کئی کام ایسے ہوتے ہیں جو  گندے یا غلیظ سمجھے جاتے ہیں جن میں بدبو اور سڑن ہوتی ہے۔ اکثر لوگ وہاں سے گزرتے ہوئے ناک پر دستی یا ہاتھ ڈال لیتے ہیں ، تھوک پھینکتے ہیں، مزدور کا احترام یہ ہے کہ ہم اس کے سامنے  اپنے اس رویئے سے گریز کریں اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تعلیم دیں کہ وہ ایسے مزدوروں کے سامنے ایسے کسی رویے کا اظہار نہ کریں جس سے کسی انسان یا مزدور کی دل شکنی ہو تی ہو۔

وعلی ھذا القیاس

اگر یقینا آپ کے اندر ایسا جذبہ موجود ہے جو آپ کے عمل میں بھی دکھائی دیتا ہے  تو آپ محترم ہیں اور یہ حق رکھتے ہیں کہ مزدور کے احترام پر آپ اپنی بات کہیےاور اگر نہیں تو مزدوروں کے تئیں آپ کے یہ زریں خیالات محض فیشن اور دکھاوا ہیں۔ یہ جھوٹ ہے، یہ فریب ہے اور یہ مزدوروں کا مذاق ہے!!!

اگر آپ مسلمان ہیں تو سمجھ لیجئے کہ یہی اسلامی تعلیمات بھی ہیں۔کیونکہ احترام انسانیت اور اعلی انسانی اقدار اسلام کا حصہ ہے۔ 

احتشام الحق

 

 

 

No comments: