مشمولات

Friday, 5 September 2025

دربھنگہ کی دبستانی حیثیت

 

دربھنگہ کی دبستانی حیثیت

                                                                                                                                                                     احتشام الحق

روزنامہ  پندار کے ۱۷؍ جنوری ۲۰۲۱  بروز اتوار کے شمارے میں گوشۂ ادب کے صفحے پر عارف حسن وسطوی کا ایک مضمون ‘‘منصور خوشتر : نئی صبح کا استعارہ – ایک مطالعہ ’’ نظر نواز ہوا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے جواں سال ادیب و شاعر ڈاکٹر کامران غنی صبا کی مرتبہ کتاب ‘‘منصور خوشتر : نئی صبح کا استعارہ’’ کے حوالے سے  مبسوط تبصرہ پیش کیا ہے۔ اس میں عارف حسن وسطوی  نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے  ان میں بیشتر سے قطع کلام کرتے ہوئے  میرا خیال ہے کہ ایک جگہ  پر شدید اختلاف کی گنجائش موجود ہے اور جس کی وضاحت بھی ضروری ہے تاکہ سند رہے۔ انہوں نے اپنے  مضمون میں لکھا ہے :

‘‘مجھے لکھنے میں کوئی قباحت نہیں کہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (شخص واحد) کے دم خم سے دربھنگہ شہر بھی ایک دبستان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ’’

اس جملے میں عارف حسن وسطوی نے ‘‘کوئی قباحت نہیں ’’ کا  فقرہ  استعمال نہیں کیا ہوتا تو  کہا جاسکتا تھا کہ مضمون نگار نے غیر ارادی طور پر لکھ دیا ہے۔ لیکن کوئی قباحت نہیں کا فقرہ یہ بتاتا ہے  کہ انہوں نے پوری سنجیدگی کے ساتھ یہ دعوی کیا ہے۔ حالانکہ مجھے اب بھی یقین ہے کہ عارف حسن وسطوی نے سنجیدگی کے ساتھ یہ جملہ نہیں لکھا ہے۔

اس   جملے میں دو باتیں  یا دو دعوے کیے گئے ہیں۔ ایک ‘‘۔۔۔۔۔۔ (شخص واحد)  کے دم خم سے ’’اور دوسرا  ‘‘دربھنگہ شہر بھی دبستان کی شکل اختیار کر چکا ہے’’۔ یہ دونوں دعوے قابل گرفت ہیں۔ جہاں تک دربھنگہ کے دبستان ہونے کی بات ہے تو یہ واضح رہنا چاہیے کہ دربھنگہ کو بہت عرصے سے ماہرین کے ذریعہ  ایک دبستان کی شکل کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ فی الحال میرے ذہن میں اس کا  حوالہ مستحضر نہیں ہے جس میں اس کا ذکر ہے۔ لیکن جہاں تک میرا حافظہ کام کرتا ہے میں نے کئی جگہوں پر ماہرین کی ایسی رائے دیکھی ہے اور  یہ حقیقت بھی ہے۔ کیونکہ  دربھنگہ میں ہر عہد  میں ایسے نامور  ادبا  و شعرا موجود  رہے ہیں جن کی ادبی حیثیت قومی سطح پر مسلم رہی ہے۔یہ اور بات کہ دربھنگہ کو ایک دبستان کا نام تو دے دیا گیا لیکن اس کے ادبی خط و خال پر بحث نہیں کی گئی جو اس کو دبستان کی حیثیت سے ممتاز کرتے ہیں۔ جب تک کسی خاص جغرافیائی خطے کی ادبی  کاوشوں کے امتیازی خطوط کو نمایاں نہ کیا جائے یا  اس کے امتیازی اور انفرادی اجزا کو دیگر علاقوں کی ادبی کاوشوں سے نمایاں تبدیلی کی حیثیت سے واضح نہ کیا جائے کسی دبستان کا نام دینا   مناسب نہیں ہے۔  کسی اسلوب کو ہم منفرد نام بھی اسی وقت  دیتے ہیں جب وہ اسلوب اس علاقے میں روش عام بن جائے۔  اس طور پر  یہ کہا جاسکتا ہے کہ دربھنگہ کی دبستانی حیثیت دبستان عظیم آباد کی ذیلی شاخ کے طور پر  قائم رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دبستان عظیم آباد  کو ایک مرکز کی حیثیت حاصل تھی جبکہ دربھنگہ دور افتادہ علاقہ رہا ہے۔ البتہ جغرافیائی حیثیت دربھنگہ راج کی حکومت کا قیام اس کو قدرے معتبر اور مختلف ضرور بناتا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک خاص عہد کو ذہن میں رکھ اس وقت کے شعرا و ادبا کے کلام کا جائزہ لیا جائے تو دربھنگہ کی ادبی کاوشوں میں ایک خاص رنگ ضرور نظر آئے گا۔

دربھنگہ سے اٹھنے والے  ادیب وشعرا اور دربھنگہ میں شعر وادب کی آبیاری کرنے والوں میں کئی نام بڑے اہم اور معتبر ہیں۔ ان میں  زیب النساء مخفی بنت اورنگزیب کے استاد ملا ابو الحسن  ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو مظہر امام کا تعلق دربھنگہ ہی سے تھا جن کو آزاد غزل کا بانی قرار دیا گیا ہے۔ خاندان مغلیہ کے ایک شہزادہ مہاراجا لکشمیشور سنگھ کے مصاحب  تھےجو مرزا زبیر بخش عرف زبیر گورگانی  کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔  ان کے دیوان کا نام چمنستان سخن ہے۔  دربھنگہ میں بھیکا شاہ سالانی کے احاطہ میں ان کا مقبرہ ہے۔ شیخ احمد بن شیخ ابو سعید معروف بہ ملا جیون صاحب نور الانور (  گورنر کی حیثیت دربھنگہ میں مامور تھے۔ )، ابو الخیر مظہر عالم خیر رحمانی کا تعلق دربھنگہ سے تھا جو صاحب دیوان شاعر ہیں اور ان کے تین دیوان موجود ہیں۔ یہ ماہنامہ الپنچ کے مدیر بھی تھے۔ شاد عظیم آبادی جیسے شاعر سے ان کی ادبی معرکہ آرائی رہی۔

ان کے علاوہ بھی  آپ نظر ڈالیں کہ الگ الگ وقتوں میں کیسی کیسی ادبی ہستیاں یہاں موجود رہی ہیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ دربھنگہ کی دبستانی حیثیت کا ماضی میں بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

طہٰ الہی فکر، محسن دربھنگوی، شاداں فاروقی، عاقل رحمانی، عبد الرحمن نشتر (صوفی صاحب) ، حافظ عبد الخالق جوہر،  ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی، شبنم کمالی، اویس احمد د وراں، احسان دربھنگوی، مجاز نوری، حسن امام درد، پروفیسر منصور عمر ، پروفیسر لطف الرحمن،  مولانا عبد العلیم آسی، نور الہدی نور اصلاحی، مولانا قمر اصلاحی (مدیر پروانہ) ، منظر شہاب، نواب سید سعادت علی خاں، گویاؔ اور  ظہیر ناشاد وغیرہ چند ایسے نام ہیں جو ذہن میں آگئے ہیں۔ خلیل الرحمن اعظمی کے بھائی عبد الرحمن پرواز اصلاحی بھی دربھنگہ کے دار العلوم احمدیہ سلفیہ میں ملازمت کے سلسلے میں عرصے تک رہے ہیں جو شاعری کا ستھرا ذوق رکھتے تھے اور دربھنگہ کی ادبی سرگرمیوں کا حصہ بنتے تھے۔ یہ چند نمایاں نام ہیں اور یہ عہد وار بھی نہیں ہیں۔ جیسے جیسے ذہن میں نام آتے گئے ہیں  لکھ دئے گئے  ہیں۔ انہی حضرات کے دور میں دیگر شعرا و ادبا بھی موجود تھے اور استادانہ حیثیت کے مالک تھے۔  اس کا تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

موجود ہ  دور میں بھی اگر آپ دیکھیں جہاں پروفیسر عبد المنان طرزی جیسی شخصیت موجود ہے جو نہ صرف اردو زبان بلکہ فارسی شاعری پر بھی دسترس رکھتے ہیں  اور اس کے لیے انہیں صدر ایوارڈ بھی ملا ہوا ہے۔ جدید شعرا میں جمال اویسی بھی قومی سطح پر شناخت رکھتے ہیں اور ان کی شاعری اعلیٰ ادبی معیار پر کھری اترتی ہے۔ موجودہ عہد میں عطا عابدی کی شاعری  بھی  منفرد شناخت رکھتی ہے۔ پروفیسر شاکر خلیق، استاد الشعرا رہبر چندن پٹوی، ڈاکٹر امام اعظم، ڈاکٹر مشتاق احمد، خالد عبادی کے علاوہ ایسے کئی اہم شعر ا ہیں جن کی ادبی حیثیت کا چنداں انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ عہد میں جو شعرا موجود ہیں ان میں کئی استادانہ حیثیت کے مالک ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ اور بھی ایسی شخصیتیں موجود ہیں  جو دربھنگہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ا گرچہ ان کا دائرہ عمل اس وقت دربھنگہ یا بہار نہیں ہے۔

شاعری کے علاوہ فکشن، ڈراما نگاری، حالیہ ،  تنقید، تحقیق، صحافت اور دیگر اصناف کے حوالے سے بھی ماضی سے تا ہنوز کئی معتبر نام ہیں جن کا تعلق دربھنگہ سے رہا ہے اور دربھنگہ کی دبستانی حیثیت کو سازگار بنانے میں ان کی خدمات بڑی اہم اور ناقابل فراموش ہیں۔

No comments: