مشمولات

Friday, 5 September 2025

اظہار خیال بموقع فروغ اردو سیمینار

 

سب سے پہلے میں منتظمین کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے یہ اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع عنایت فرمایا۔

محکمہ راج بھاشا کی جانب سے ایک بار پھر   پرشکوہ  انداز میں اور  پورے اہتمام کے ساتھ یہ ورکشاپ منعقد کیا جا رہا ہے اس کے لیے   بھی  میں حکومت بہار، ضلع انتظامیہ، ضلع راج بھاشا سیل کے ذمہ داران کو مبارکباد دیتا ہوں اور اردو آبادی کی جانب سے ان کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں۔

ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی
درد بے چارہ پریشاں ہے کہاں سے نکلے

یہاں کئی ماہرین نے مختلف زاویوں سے اردو کو در پیش مسائل پر روشنی ڈالی ہے اور کچھ لوگ اور بھی ڈالیں گے۔ اس لیے میں زیادہ وقت لینا مناسب نہیں سمجھتا۔ حالات گرچہ مشکل ہیں لیکن امکان کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے۔ ہمیں اس امکان کے دروازہ کے باہر سے تماشائی بننے کے بجائے اندر داخل ہو کر معرکہ بیم  ورجا کو سر کرنا ہے۔

اس پروگرام کا انعقاد خود بھی اہل اردو کے لیے ایک مثبت پیغام ہے اور اس بڑی تعداد میں آپ سب کی موجودگی آپ کی زندگی اور بیداری کا ثبوت ہے۔ یہ پروگرام ہر سال منعقد ہوتا ہے کہ ہمارے لیے کرنے کا یہ کام ہے کہ ہم اس کو کس طرح اور کس حد تک  مفید اور سود مند بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

جیسا کہ کہا گیا کہ ہر سال یہ پروگرام منعقد ہوتا ہے اور ہر سال اس اسٹیج سے ماہرین اس اسٹیج سے حکومت اور محکموں کے لیے کچھ تجاویز پیش کرتے ہیں، خود اردو عوام اور اردو ملازمین سے درد مندانہ اپیل  کی جاتی ہے۔ اتنے برسوں کے پروگرام کے بعد یہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں اس پروگرام  میں پیش کی گئی  گزشتہ تجاویز پر کی گئی کارروائیوں کا جائزہ لیں۔ گزشتہ برس جو تجاویز پیش کی گئیں کیا وہ پوری ہوگئیں اور اگر نہیں تو دشواری کہاں ہے اور اسے کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔

ہمیں اپنا بھی محاسبہ کرنا چاہیے کہ اردو کے تئیں ہمارے اپنے رویے میں کتنی تبدیلی آئی ہے۔

کیا اس پروگرام کے نتیجے میں اردو عوام نے سرکاری دفاتر میں کام کرانے کےلیے اپنی درخواستیں اردو میں دینا شروع کیں یا نہیں جیسا کہ ہر سال ماہرین  یہ بتاتے ہیں کہ سرکار نے جو اردو ملازمین بحال کئے ہیں اہل اردو ان سے کام نہیں لیتے۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک بار پھر با صلاحیت اور جوان ٹیم کو حکومت بہار نے بحیثیت مترجم بحال کیا ہے۔ ہمیں ان سے کام لینا چاہیے۔

اگر لوگوں نے درخواستیں دینی شروع کر دی ہیں تو ہمیں حق ہے کہ ہم خوش ہوں  اور اگر نہیں تو یہ جلسہ تعزیتی جلسے سے زیادہ معنی نہیں رکھتا۔

کیا سرکاری اسکولوں میں جہاں اردو داں طبقہ کے بچے موجود تھے لیکن اردو اساتذہ موجود نہیں تھے وہاں اردو اساتذہ کی تقرری کر دی گئی ہے اور وہاں اردو تعلیم بھی شروع ہوگئی ہے۔ جہاں پہلے اردو اساتذہ تھے لیکن تدریس میں کوتاہی تھی کیا  وہ دور ہوگئی ہے۔

کیا ایسی بیداری آئی ہے کہ جہاں اساتذہ تھے لیکن تعلیم نہیں ہو رہی تھی وہاں کے مقامی لوگوں نے اپنے بچوں کو اردو تعلیم دلانے کے لیے اسکول انتظامیہ پر  جمہوری طریقہ سے دباؤ بنایا اور اسکول میں اردو کی تعلیم ہونے لگی۔

ذرا ذاتی سطح پر بھی جائزہ لیں کہ ہم نے  کتنی کوشش کی کہ اپنے گھروں میں ہم اردو بول چال اور اردو پڑھنے کا ماحول بنائیں۔ ہم بازار سے سودا سلف لینے کے لئے بنایا جانے والا پرزہ اگر کسی دوسری زبان میں بناتے تھے تو کیا ہم اس پروگرام کے نتیجے میں اردو میں بنانے لگے۔

اگر ہمارے اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں آئی ہے تو

روئیے زار زار کیا کیجئے ہائے ہائے کیوں؟

میں اساتذہ سے ایک اپیل کر کے اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں کہ

ہم اسکولوں میں اردو پڑھانے کا ماحول سازگار کریں۔ یہ ممکن ہے کہ وہاں اساتذہ کی کمی ہو جس کی وجہ سے ہم سے اردو کا کام لینے میں کوتاہی برتی جا رہی ہو لیکن چونکہ بحیثیت مسلمان ہم  دوہری جوابدہی کے ذمہ دار ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ سارے کام کو  بخوبی انجام دیتے ہوئے اردو پڑھنے پڑھانے کا ماحول بنائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اردو پڑھنے پڑھانے کے معاملے میں عوام میں ہی کوتاہی ہے  لیکن ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہماری حیثیت قائد اور قائد ساز کی ہے۔ جہاں عوام کی نگاہ نہیں پہنچ پا رہی ہے ہمیں ان کو وہ راہ دکھانی ہے۔ اس کے لیے ہمیں بہت سی قربانیاں دینی ہوں گی۔

اب آن لائن تدریس کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ہمیں اپنی تدریس کو آن لائن بنانے کی طرف توجہ دینی چاہیے تاکہ جن اسکولوں میں اردو اساتذہ نہیں ہے وہاں کے بچے بھی ہماری صلاحیت سے فیضیاب ہوسکیں۔

انہی باتوں کے ساتھ میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔

No comments: