نام کتاب: بہار میں اردو
انشائیہ نگاری
مصنف: ڈاکٹر نفاست کمالی
صفحات: ۱۹۶
قیمت: ۳۵۰
ملنے کا پتہ : معرفت انجینئر
انظر عالم، چھوٹی قاضی پورہ، محلہ کرم گنج، لہریا سرائے ، دربھنگہ
مبصر: احتشام
الحق
اردو زبان میں انشائیہ نگاری ایک قدیم نثری صنف ہے اور اس
کی ایک طویل تاریخ ہے۔ دور حاضر میں اردو زبان میں گرچہ انشائیہ نگاری کی روایت کم ہوئی ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ انشائیہ زبان و بیان
کا وہ لطیف اظہار ہے کہ اس کا دروازہ کبھی
بند نہیں ہوتا۔ کسی بھی افسانوی و
غیر افسانوی نثر میں یا اسی طرح صاحبان علم و فضل اور با ذوق افراد کی گفتگو اور
عام بول چال میں انشائی جملے پھوٹتے رہتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا کی
تقریبا ہر زبان میں انشائیہ نگاری کسی نہ
کسی شکل میں موجود ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا
کہ کسی بھی نثری صنف سے ایسے جملے نکالے جاسکتے ہیں جو انشائیہ کے ذیل میں
آتے ہیں اور جس کو سن کر یا پڑھ کر انسان میں لطیف احساس کی ایک رو کوند جاتی ہے اور حس مزاح
پھڑک اٹھتی ہے۔ چہرہ پر تبسم کی لکیریں پھیل جاتی ہیں اور سامع یا قاری بصیرت کے
ایک مسرت آگیں احساس سے لبریز ہوجاتا ہے۔
ایک علاحدہ صنف کی
حیثیت سے بھی بہر حال اس کی اپنی ایک
منفرد شناخت ہے جس کو ماہرین نے چند اوصاف سے ممیز کیا ہے۔ اس حوالے سے اردو میں بھی توانا سرمایہ موجود ہے۔ خواہ وہ نیرنگ خیال کی
صورت میں ہو یا سرسید کے مضامین ہوں۔ غالب
ومولانا آزاد کے خطوط ہوں، مرزا فرحت اللہ بیگ کے مضامین ہوں کہ پطرس بخاری کے انشائیے یا انجم مان پوری کا
کرایہ کی ٹمٹم، خواجہ حسن نظامی کا جھینگر کا جنازہ ، رشید احمد صدیقی کا ارہر کا
کھیت اور کرشن چندر کا رونا وغیرہ۔ اسی
طرح بہار میں بھی انشائیہ نگاری کی اپنی ایک روشن اور تابناک تاریخ ہے۔ زیر نظر
کتاب ‘‘بہار میں اردو انشائیہ نگاری’’ بہار کی اسی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔
‘‘بہار میں اردو انشائیہ نگاری’’ ڈاکٹر نفاست کمالی کی
تصنیف ہے ۔ وہ متھلا یونیورسٹی کےایم ایل ایس ایم کالج کے شعبہ اردو سے بحیثیت
اسسٹنٹ پروفیسر (گیسٹ فیکلٹی) وابستہ ہیں۔ ان کا تعلق ایک علمی گھرانے سے ہے۔ ان
کے والد پروفیسر ایم کمال الدین متھلا یونیورسٹی کے پی جی شعبہ کے مؤسس اور صدر رہ
چکے ہیں۔ صاحب کمال شخصیت ہیں۔ انشائیہ
نگاری سے بھی ان کا تعلق رہا ہے اور انشائیہ نگاری پر ان کا کام بھی موجود ہے۔خود
نوشت ‘‘چاندنی دھوپ کی’’ سمیت کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ درسیات پر بھی ان کا وافر
کام موجود ہے۔ ڈاکٹر نفاست کمالی نےاس پدرانہ روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ مصنفہ کا دعوی ہے کہ یہ کتاب انہوں نے دوران طالب
علمی لکھنی شروع کی تھی لیکن بوجوہ اب زیور طباعت سے آراستہ ہوسکی ہے۔ اس سے قبل ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ‘‘
لفظیات غزل اردو ’’ بھی شائع ہو کر لوگوں سے داد و تحسین وصول کر چکا ہے۔ وہ اپنے
والد کی دو کتابیں ‘‘ چاندنی دھوپ کی’’ اور ‘‘شعور لا شعور ’’ ترتیب دے چکی ہیں جو
ان کی نفاست اور حسن نظر کی عکاس ہیں۔ اس طرح تصنیف و تالیف کے کاموں میں وہ اچھا
خاصا تجربہ رکھتی ہیں۔
اس کتاب کو انہوں نے جامعاتی تحقیق کی طرز پر تصنیف کیا ہے
اور اس وقت جبکہ یک موضوعی کتابوں کا سلسلہ کم ہوا ہے انہوں نے ایک موضوع پر بسیط
مطالعہ پیش کیا ہے جو ان کی علمی شیفتگی کا مظہر ہے۔
اس کتاب کو انہوں نے کل چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے باب میں انہوں نے
انشائیہ کی تعریف پر بحث کی ہے اور تمام تر فلسفیانہ موشگافیوں اور ماہرین کی آرا
سے باب کو مستند کرنے کی کوشش کی ہے۔
دوسرے باب میں انہوں نے انشائیہ کو ایک علاحدہ صنف کی حیثیت سے بھی تلاش کرنے کی
کوشش کی ہے اور اس میں مختلف ماہرین کے آرا سے
اپنے دعووں کو مدلل کیا ہے۔ تیسرا باب
بہار میں ابتدائی انشائیہ نگاری کی بحث کو سامنے لاتا ہے جس میں علامہ شوق نیموی کی کتاب یادگار
وطن مطبوعہ ۱۸۹۴ میں انشاء نگاری کےواضح ابتدائی نقوش تلاش کرنے میں وہ کامیاب ہوئی ہیں۔حالانکہ اس سے قبل کے بعض ادبی رسالوں اور کتابوں میں بھی دھندلی
دھندلی تصویریں انہوں نے تلاش کی ہیں۔ ا ن
کے بعد ان کی نظر‘‘ خیابان بے خزاں’’ از حاجی سید محمد مرتضی مطبوعہ ۱۹۳۱ پر
ٹھہرتی ہے۔ سید اکبر علی قاصد کے انشائیوں
کے مجموعہ ‘‘ترنگ’’ مطبوعہ ۱۹۳۱ میں وہ انشائیوں کے بھر پور نقوش تلاش کرنے میں
کامیاب ہوئی ہیں۔ چوتھے باب ‘‘بہار کے اردو انشائیہ نگار’’ کو انہوں نے ۱۹۳۵ سے
۱۹۶۰ تک محدود رکھا ہے اور اس ضمن میں پہلا نام جمیل مظہری کا تلاش کیا ہے۔ اس باب
میں انجم مان پوری، سید اکبر علی قاصد، سید محمد حسنین عظیم آبادی، ڈاکٹر سید نذر
امام، احمد جمال پاشا (آبائی وطن محلہ مغل پورہ عظیم آباد)، شین مظفر پوری، ہاشم
عظیم آبادی، اطہر شیر، نظیر صدیقی وغیرہ کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ باب پنجم بہار
میں اردو انشائیہ (۱۹۹۰ تک ) ہے۔ اس میں ناوک حمزہ پوری، ایم کمال الدین، اعجاز
علی ارشد، نعمان ہاشمی، شفیع مشہدی، تمنا مظفر پوری، مناظر عاشق ہرگانوی، مسرور
آروی، ڈاکٹر محمد مظاہر الحق، قیام نیّر، کوثر اعظم، خورشید جہاں، طارق جمیلی،
سرور جمال، شبّر امام، مجتبیٰ احمد، متین عمادی، سید محمد جلیل، ظفر چکدینوی وغیرہ
کو شامل کیا ہے۔ ان دونوں ابواب میں انہوں نے جن کو انشائیہ نگار شمار کیا ہے ان
پر بھر پور مضمون تحریر کیا ہے۔
انشائیہ نگار کے تعارف اور ان کے انشائیوں کے خد وخال کو پیش کرتے ہوئے اپنی ایک
رائے پیش کی ہے۔یہ ان کے علمی اعتماد کو واشگاف کرتا ہے۔ چھٹے اور آخری باب میں
انہوں نے اجمالی جائزہ پیش کیا ہے۔
کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنفہ نے بڑی محنت اور
عرق ریزی سے اس کتاب کی تصنیف و تالیف کا کام کیا ہے۔ گو جا بجا ان سے اختلاف رائے
کے امکان کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ طلبہ اور صاحب ذوق افراد کے لیے یہ کتاب
بہترین ہے ۔طباعت عمدہ ہے۔ گیٹ اپ بھی اچھا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ کتاب علمی حلقوں میں پسند
کی جائے گی۔
***
No comments:
Post a Comment