عجب چیز ھے یہ دست ھنر بھی !!!
پہلے کاٹ لئے جاتے تھے اب خرید لیے جاتے ہیں
ایک راجا تھا ۔ بہت با ذوق ۔ اچھی اچھی اور خوبصورت عمارتوں کا اسے بڑا شوق تھا۔
اس نے دنیا بھر سے ماہر کاریگر بلائے اور ان سے عمارتوں کے خاکے بنوائے۔ جنہوں نے
اچھے سے اچھا نقشہ بنا کر پیش کیا ان کو اپنے دربار میں رکھ لیا ۔ بڑی آؤ بھگت کی اور انہیں عمارت بنانے کا حکم دیا۔ عمارت میں
استعمال ہونے والے سامان فراہم کرائے اور ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مزدور بھی دیئے
گئے۔ عمارتیں تیار ہوگئیں ۔ بڑی عالیشان۔ دنیا میں انوکھی ۔ دیکھنے والے دیکھتے رہ
جاتے ۔ سارے عالم میں ان عمارتوں کی شہرت پھیل گئی۔بہت دور دورسے لوگ دیکھنے آتے
اور دیکھ کر اپنی غریبی پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتے۔ لیکن وہ زمانہ بہت پرانا تھا۔ ترقی
و ایجادات نے پر نہیں پھیلائے تھے۔ جو چیزیں استعمال میں آجاتیں وہ دوبارہ کام کے
لائق نہیں رہتیں۔ ابھی Recycle یعنی استعمال شدہ چیزوں کو شکل بدل کر دوبارہ استعمال کرنے
کی تکنیک ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ جب کوئی عمارت بن کر پوری طرح تیار ہو جاتی تو
بادشاہ اس عمارت کے اصل معمار کو بلاتا خوب انعام و اکرام سے نوازتا ۔ اس کے بال
بچوں اور گھرانوں کی ساری زندگی کے خرچے اٹھالیتا ۔ چونکہ اس معمار کے دست ہنر کا
استعمال ہو چکا
ہوتا اس لیے ان کو دنیا میں ناکارہ چھوڑ دینے کے بجائے تراشوادیتا۔ لیکن راجا تھا
انسان ۔ اسے یہ بات تکلیف دیتی کہ ایک شخص جس نے اسے اتنی خوبصورت عمارت دی، ساری
دنیا میں اس کا نام روشن کیا، اسے اس نے ہاتھوں سے محروم کردیا۔ وہ سوچتا رہا کہ
کیوں نہ ایسی ترکیب نکالی جائے کہ اس کے ہاتھ بھی
بچ جائیں اور ان کو ایسے کاموں میں لگادیا جائے کہ وہ کسی دوسرے شخص کے لیے اس طرح
کی عمارت نہ بناسکے۔ایک دن اس نے اپنے دیس کے عقل منددوں، وزیروں اورماتحتوں کو
بلایا اور ان کے سامنے اپنی تکلیف بیان کی۔ اس کے ایک وزیر با تدبیر کو ایک دن بہت
آسان ترکیب سوجھی اور اس نے Recycle کی تکنیک ایجاد کی اور استعمال شدہ چیزوں کا دوسرا کم تر
استعمال کرنے لگے۔یہ نئی تکنیک تھی دست ہنر کو کاٹنے کے بجائے خرید نے کی۔ اب کسی
ہنر مند کو اپنے نادر و نایاب فن کے اظہار کے بدلے ہاتھ کی قیمت نہیں دینی پڑتی۔اب
جب کوئی شخص اپنے نادر فن کا اظہار کرتا تو دربار میں اسے بلایا جاتا اور اس شرط
پر کہ وہ یہ کام کسی دوسرے کے لیے نہیں کرے گا اس کو زر و جواہرات میں تول دیا جاتا ۔
اس فائز المرام بہشت مقام ظل الٰہی کے اس
فلاحی سوچ کے فائدے اس زمانے میں کتنے کو ملے میں نہیں جانتا لیکن اب تو خوب ملتے
ہیں۔ جب کوئی ایسا فن کا ر پیدا ہوتا ہے دربار اس کا انتخاب کر لیتا ہے۔ چند دنوں
پہلے ہمارے ہاں ایک ہنر مند پیدا ہوئے ۔ ان کا جوہر ان کے قلم میں تھا۔بڑ ابے باک ۔ حق کا طرف دار۔ سچائی کا
مظہر۔ ان کے اس بےباک قلم نے ہر قاری کو اپنا گرویدہ بنا لیا ۔ مجبور ں ، مقہوروں
اور مظلوموں کی اس نے ایسی حمایت کی ہر شخص ان کے قلم کے در نامدار کو پڑھنے کو بے
قرار رہنے لگا۔ اچانک ایک دن ان کا سیفر کا قلم تاریخی سینچوری مارنے والے بلے کی
طرح مہنگے داموں خرید لیا گیا۔خدا کو معلوم یہ ان کے دست ہنر کا فیضان تھا یا قلم
کی کرامت تھی کہ اس کے بعد ان کا دست ہنر معمولی قلم سے اپنے جوہر کا وہ اظہار
نہیں کرسکا ۔یوں کہیے کہ مرگ ناگہانی کا
شکار ہو گیا۔
حالانکہ موجودہ دور کی بھی یہ کوئی پہلی
کہانی نہیں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کا جوہر کھلنے کا بعد اپنی قیمت وصول کرتا
ہے اور کچھ کھلنے سے پہلے پرکھ لیے جاتے ہیں اور انہیں اپنے فن کی قیمت ملنے لگتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں
جو اس لیے ہی اپنے اندر وہ جوہر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دربار کی نظر عنایت
ان پر مرکوز ہو اور انہیں ان کے فن کا بھر پور صلہ مل سکے۔ اور صلہ بھی خوب ہے کہ
پہلے فن کا اعلی اظہار ہونے پر ہاتھ کاٹ لئے جاتے تھے اور اب فن کا اظہار نہ کرنے
پر بخشش ہوتی ہے۔
لیکن آفریں صد آفریں کہ پہلے فن کار ہاتھ کٹا کر ہمیشہ کے لیے سرخرو ہو جاتا تھا اور اب ہائے بدبختی کہ ہاتھ بچا کر ابھی سرخرو ہو بھی جائے تو ہمیشہ کے لیے رو سیاہ ہو جاتا ہے۔پہلے ہاتھ کے بدلے جاودانی ملتی تھی اب دولت کے عوض
گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ پہلے کرنے کا انعام تھا اب نہ کرنے کا صلہ ہے۔ پہلے کوئی
کوئی ہوتا تھا اب بہت ہوتے ہیں۔ پہلے قوم کے لیے قابل افتخار ہوتا تھا اب باعث ننگ
و عار ہے۔
٭٭٭
No comments:
Post a Comment