مشمولات

Friday, 8 March 2013

Review Writing - Technique and Opportunity

تبصرہ نگاری -تکنیک اور مواقع
                                                                                                                                                               
                دور حاضر میں تبصرہ نگاری ایک اہم ادبی صنف کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ تنقید و تبصرہ ایک دوسرے سے ملتی جلتی چیزیں ہیں۔ کسی تصنیف ، کلام یا واقعہ کے متعلق سرسری طور پر بحث و مباحثہ کے لیے جب رائے کا اظہار کیا جاتا ہے تو اسے تبصرہ کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد کسی کتاب کے جو ہر کا پتہ لگانا اور اسے اجمال یا تفصیل کے ساتھ پیش کرنا اور جو کچھ کہا جائے اس سے کتاب کی اہم ترین خصوصیتیں واضح ہو جائیں۔ ہر چند کہ تبصرہ نگاری کے لیے ادب کا طالب علم ہونا ضروری نہیں ہے البتہ ادب کے طالب علموں کے لیے زبان پر عبور ہونے کی وجہ سے بمقابلہ دیگر طلبہ زیادہ مواقع ہیں۔ لیکن یہ یاد رہنا چاہیے کہ تبصرہ نگاری میں زبان ہی سب کچھ نہیں ہے ۔ کیونکہ آج تبصرہ نگاری ادب کے احاطہ سے باہر معاشیات اور سماجیات وغیرہ کے میدان میں قدم رکھ چکی ہے۔ذیل میں تبصرہ نگاری کے میدان ، اس کی تکنیک اور اصولوں کے بارے میں چند معلومات درج کی جاتی ہیں۔ صحافت یا طباعت کی تجارت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ان اصولوں کی واقفیت بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔
                تبصروں کی تحریر میں توازن بہت ضروری ہے۔ تبصرے کا انداز دلکش اور عالمانہ ہوتا ہے اور ایک اچھے تبصرہ میں تلخی نہیں پائی جاتی ہے۔ تبصرہ نگار کو وسیع معلومات کا حامل ہونا چاہیے۔ اوسط قاری بہت سے مضامین میں اپنی واقفیت کو بہت محدود سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ مبصر کی رائے پر اعتماد کرتا ہے ۔ لہذا تبصرہ میں صرف حقائق کا بیان ہو اور افترا پردا زی سے حد درجہ پرہیز کرنا چاہیے ۔ کوشش کی جائے تبصرہ معلومات ہو اور اس کا مقصد رہبری ہو۔
                ادبی مجلّا  ت میں تبصرے کے لیے ایک گوشہ مخصوص ہوتا ہے۔ بعض مجلّات ایسے ہوتے ہیں جن میں صرف تبصرے ہی شائع ہوتے ہیں ۔ اس کے لیے وہ مختلف ادیبوں اور دانشوروں سے تبصرے لکھواتے ہیں ۔ صحافت سے دلچسپی رکھنے والوں کو تبصرے بھی لکھنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی آزادانہ طور پر بھی تبصرہ لکھنا چاہے تو لکھ سکتا ہے لیکن ایک مجلّہ کو تبصرہ دینے کے بعد دوسرے مجلّوں کے لیے اس کتاب پر تبصرہ نہیں لکھنا چاہیے۔ تبصرہ کے لیے ہمیشہ نئی کتاب کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اگر کسی پرانی کتاب پر تبصرہ لکھنا ہو تو ضروری ہے کہ یہ منفرد ہوا ور زیر نظر کتاب کو نئے تناظر میں پیش کیا جائے ۔ ایسے اپنی پسند کی کتابوں پر تبصرہ اچھا ہوتا ہے۔
                بعض ادبی  مجلّے تبصرہ کا کام تفویض کرتے وقت ایک ہدایت نامہ بھی ارسال کرتے ہیں جس میں تبصرہ کے اندر الفاظ کی تعداد اور تبصرہ کی پیش کش کے انداز وغیرہ کی ہدایت دی جاتی ہے ۔ ہوسکتا ہے اسی کے ساتھ تبصرہ کی ایک نمونہ کاپی بھی منسلک ہو۔ اگر ایسا ہو تو مبصر کو ان ہدایات کا لحاظ کرتے ہوئے تبصرہ لکھنا چاہیے ۔ تبصرہ کے لیے مجلّوں کو کتاب کی دو کاپیاں موصول ہوتی ہیں۔ ایک کاپی مبصر کو دی جاتی ہے ۔ تبصرہ کے بعد مبصر یہ کتاب اپنے پاس محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ اگر کسی وجہ سے مجلّہ کی ہدایت ہو کہ تبصرہ کے بعد کتاب واپس کردی جائے تو مبصر اخلاقی تقاضا کا لحاظ کرتے ہوئے کتاب واپس کردے۔ اگر مبصر کو مجوزہ کتاب موصول نہیں ہوئی ہے تو جتنا جلد ممکن ہو حاصل کرنا چاہیے ۔ مبصر کے لیے وقت کی پابندی لازمی ہے۔ لازمی طور پر مجلّہ کو متعینہ وقت میں اپنا تبصرہ ارسال کردینا چاہیے، تاکہ مجوزہ شمارہ میں اس کو شامل کیا جاسکے۔ تاخیر کی صورت میں مواد کی تکمیل میں ایڈیٹر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں تبصرہ نگار کی شخصیت اس کی نظر میں مجروح ہو جاتی ہے اور آئندہ اسے یہ کام تفویض کرنے وہ میں احتیاط برتتا ہے۔
                تبصرہ کی اشاعت اس بات پر مبنی ہے کہ اس میں کتاب کی بنیادی بحث کا خاکہ پیش کیا گیا ہو اور کتاب کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ کیا گیا ہو۔ بہتر ہوگا کہ یہ وضاحت بھی کردی جائے کہ یہ کتاب کس طرح کے لوگوں کے لیے زیادہ کار آمد ہے۔ اس کے باوجود مجلّہ کو تبصرہ میں ترمیم یا عدم اشاعت کا پورا اختیار ہوتا ہے۔
                تبصرہ کی بنیادی شرط کتاب کا راست اور ذاتی مطالعہ ہے ۔ اگر کتاب نہیں پڑھی جائے گی تو کتاب کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ ممکن نہیں ہوگا اور تبصرہ میں غیر درست معلومات بیان ہوسکتی ہیں جو مبصر کے لیے مناسب نہیں ہے ۔ کیوں کہ تبصرہ لکھتے ہوئے وہ ایک ذمہ دار شخص ہوتا ہے ۔ تبصرہ لکھنے والے کو نہایت باریک بینی کے ساتھ کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ دوران مطالعہ ذہن میں ابھرنے والے ضروری نکات کتاب کے حاشیے پر بطور یاد داشت قلم بند کر لینا چاہیے تاکہ تبصرہ لکھتے وقت کوئی ضروری نکتہ چھوٹ نہ جائے۔ تبصرہ لکھنے سے قبل چند بنیادی اور لازمی امور کی طرف توجہ دینا بھی ضروری ہے۔
                تبصرہ میں اس کی وضاحت ضروری ہے کہ کتاب کا موضوع کیا ہے؟ ساتھ ہی اگر مصنف کتاب لکھنے کا کوئی خاص مقصد رکھتا ہے تو تبصرہ میں اس کی وضاحت بھی کرنی چاہیے ۔ مقصد کے حصول کے لیے کتاب کے نام ، تمہید اور تعارف کا بغور جائزہ لیا جائے۔ موضوع کے انتخاب میں کوئی خاص پس منظر کار فرما ہوا کرتا ہے جو مصنف یا ادیب کو اختیار پر مجبور کرتا ہے۔
کتاب کا نام: کتاب کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ کتاب کا نام تجویز کرنے کی بھی کوئی مخصوص وجہ ہوا کرتی ہے۔ مبصر کو غور کرنا چاہیے کہ کتاب کا نام موزوں ہے یا غیر موزوں ؟ لیکن اس کا تعین پوری کتاب کے مطالعے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔ بعض اوقات کتاب کے ابتدائی مباحث میں نام کے تعلق سے ابہام پایا جاتا ہے۔ اسی طرح کتاب کے نام سے غلط تاثر بالکل قائم نہیں ہونا چاہیے۔ کبھی کبھی کتاب کا نام دیکھ کر قاری بہت سی امیدیں وابستہ کر لیتا ہے لیکن کتاب میں محض اس کی جھلک ہی دکھائی دیتی ہے ۔ مبصر کو اس پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔
                کتاب کے متن سے گزرتے ہوئے مبصر کو احساس ہوتا ہے کہ کتاب کس انداز کی ہے اور کس رنگ میں لکھی گئی ہے۔ اس کی تشخیص کے لیے مباحث کے عناوین اور ذیلی سرخیوں پر غور کرنا چاہیے۔ دوران مطالعہ کتاب کے مرکزی خیالات پر بھی نظر رہنی چاہیے۔ مصنف چند مخصوص الفاظ یا اصطلاحوں کا استعمال کرتا ہے جن سے اس کے نظریات کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایک اچھی کتاب کے اندر نظریات میں داخلی ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور ایک اچھے مصنف کا نظریہ بتدریج اور منطقی طور پر ارتقا پاتا ہے۔ اچھے مصنف کے خیالات میں تضاد نہیں پایا جاتا ہے۔ خیالات میں تضاد سے مصنف کی خود اعتمادی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے اور یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ اخاذ طبیعت کا مالک نہیں ہے۔ ایسے بہت سے مصنف زیر بحث معاملہ میں کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ پاتے ہیں اور دوسروں کے فیصلہ پر انحصار کرتے ہیں۔ مبصر کو ان کی گرفت کرنی چاہیے۔
                اس کے بعد ان مباحث کا جائزہ لینا ضروری ہے جن کو اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ مبصر کی نظر اس پر رہنی چاہیے کہ مصنف کی فکر سطحی ہے یا عالمانہ۔ اس کے نظریات کس طور پر ارتقا پذیر ہوئے ہیں۔ پھر ان متعلقہ مباحث پر بھی غور کرنا چاہیے جو اس کتاب میں بیان نہیں ہوسکے ہیں۔ مصنف کا یہ طرز عمل کسی خاص مقصد کے پیش نظر بھی ہوسکتا ہے ۔ مبصر کو اس سے دلچسپی ہونی چاہیے کہ اس نے ایسا عمداً کیا ہے یا یہ فرو گذاشت کسی سہو کا نتیجہ ہے۔ ممکن ہے مصنف تعصب سے کام لے رہا ہو۔ اس فرو گذاشت سے کتاب میں اگر کوئی نقص پیدا ہوا ہو تو مبصر کو اس کا اظہار کرنا چاہیے۔ شاید توجہ مبذول ہونے پر اگلے ایڈیشن میں مصنف یہ کمی پوری کردے۔
                اگر کتاب دوبارہ شائع ہوئی ہے تو مبصر کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس ایڈیشن میں کوئی اضافہ ہوا ہے یا نہیں؟ یہ اضافہ کس قسم کا ہے ۔ اس اضافہ سے کتاب میں کیا خوبی پیدا ہو گئی ہے۔
                اگر کتاب کا تعلق ادب سے نہیں ہے تو اس فن کے بنیادی اور ثانوی ذرائع کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھنا چاہیے کہ مصنف نے ان ذرائع سے استفادہ کیا ہے یا نہیں؟ بنیادی ذرائع سے کام لیتے ہوئے اس نے اس میں کیا کوئی جدت پیدا کی ہے؟ اسی طرح ثانوی ذرائع سے اس نے کس طور پر استفادہ کیا ہے ؟ متعلقہ ثانوی ذرائع کا تنقیدی جائزہ لینا چاہیے۔ مبصر کے لیے ضروری ہے کہ وہ متعلقہ فن کی تاریخ ، قوانین و ضوابط اور جدید ارتقا سے ضروری واقفیت رکھے ۔ کتاب میں کوئی Special Featureمثلاً نقشہ جات اور تصاویر وغیرہ ہوں تو اس کی جانب اشارہ کرنا چاہیے۔ اس سے کتاب کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔
                شعری مجموعہ کا تبصرہ کرتے وقت اس میں شامل مختلف اصناف کا ذکر کرنا چاہیے ۔ تبصرہ کرتے وقت غور کرنا چاہیے کہ اس زبان کی شاعری کی مانوس بحروں یا میٹر س میں کتنی کو شاعر نے اس مجموعے میں استعمال کیا ہے۔ مختلف اصناف میں طبع آزمائی اور مختلف بحروں کا استعمال شاعر کے قادرالکلامی پر دلالت کرتا ہے۔ مبصر کو علم عروض اور علم بیان کے ساتھ زبان کا باریک علم رکھنا ضروری ہے۔روزہ مردہ، محاوروں اور زبان وبیان کی غلطیوں پر گرفت زبان وادب کی کتابوں کے تبصرہ میں نہایت ضروری ہے۔ یہ بھی قابل توجہ ہے کہ شاعر کے خیالات اپنے ہیں یا مستعار۔ اس کے تخیل میں بلند پروازی ہے یا عامیانہ پن؟ شاعر کے تجربات وسیع ہیں یا نہیں؟ تجربات میں صداقت اور اصلیت پائی جاتی ہے یا نہیں؟ مضامین پیش پا افتادہ ہیں یا جدید اس کا انحصار ادیب کے تجربات اور مطالعہ ومشاہدہ پر مبنی ہے۔ نظر میں رکھنا چاہیے کہ اس کے ہاں جذبات کی شاعری ہے یا تصورات کی؟ جذبہ میں صداقت ہے یا نہیں؟ اس کی شاعری فوری اپیل کی شاعری ہے یا قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور بصیرت بخشتی ہے۔ اس کی شاعری میں داخلیت اور خارجیت ، غم دوراںاور غم جاناں کا بیان اور ان کے درمیان امتزاج پیدا ہوا ہے یا نہیں؟ ادبی کتابوں پر تبصرہ کرتے وقت اس ادب کے مختلف ادبی تصورات وتحریکات اور تعبیرات مثلا اردو میں کلاسیکیت ، ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت تجریدیت وغیرہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کے ادبی رویہ کا جائزہ لینا چاہیے۔ لیکن یہ قطعی ضروری نہیں کہ ان ادبی تصورات کے چوکھٹے میں مقید ہوکر ہی ادیب اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ تبصرہ میں اس پر بھی نظر رکھی جاتی ہے کہ ادیب روایات کا پاسدار ہے یا اس سے منحرف ؟ عمدہ انحرافی رنگ میں جدت آمیزی کا غلبہ ہوتا ہے اور اچھی شاعری میں روایت سے انحراف کے باوجود اس کا رشتہ اس سے گہرا اور مضبوط ہوتا ہے۔ تبصرہ میں یہ بھی تلاش کرنا چاہیے کہ شاعر نے اپنی شاعری میں عصری حسیات کو جگہ دی ہے یا اس کا رجحان رومانیت کی جانب ہے ؟ اگر شاعری کا موضوع حسن وعشق ہے تو اس میں پاکبازی ہے یا ابتذال وسوقیانہ پن؟ محبوب کا تصور اس کے ہاں زمینی ہے یا ماورائی؟ اس کے عشقیہ جذبات میں کس حد تک صداقت پائی جاتی ہے؟ اس کے خیالات میں حوصلہ او رولولہ کی بانگ ہے یا اس کا طبعی میلان حرمان ویاس کی طرف ہے؟ بیان میں شگفتگی  ورعنائی ہے یا مشکل پسندی اور ثقالت؟ تخیل کی تازگی اور فرسودگی بھی قابل نظر امر ہے۔ زیر نظر کتا ب میں سنجیدہ شاعری ہے یا مزاحیہ اس کی طرف بھی اشارہ کرنا چاہیے۔شعری نوعیت مثلا پابند، آزاد اور نثری نظم وغیرہ کا اشارہ بھی ہونا چاہیے۔ موضوع کے ساتھ ساتھ مصنف یا ادیب کے ادبی رجحان کا جائزہ بھی لیا جانا ضروری ہے۔ مبصر کو نظر رکھنی چاہیے کہ اس کا رجحان ادب برائے ادب ہے یا ادب برائے زندگی ؟اسی طرح اگر ادب کے مروجہ پیٹرن سے الگ کوئی نیا تجربہ کیا گیا ہے تو اس کے روشن یا تاریک امکانات کی نشاندہی کی جانی چاہیے۔
مصنف کا پس منظر:    تبصرہ میں مصنف کے پس منظر کا جائزہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بطور خاص اگر کتاب کا تعلق تخلیقی کاموں مثلا فکشن، شاعری اور ڈرامے وغیرہ سے ہو۔ پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے مصنف کی نسل ، قومیت اور خاندان سے دلچسپی رکھنا چاہیے۔ ساتھ ہی اس عہد کے ان سماجی ، ثقافتی ،مذہبی اور سیاسی ماحول کو بھی نظر میں رکھنا چاہیے جن میں اس کی پرورش ہوئی اور اس کے افکار وخیالات متاثر ہوئے ہیں۔ مصنف کی سیاسی ، سماجی ، ادبی اور مذہبی وابستگی کے پیش نظراس کی تعلیمی لیاقت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہیں یہ پتہ چلتا ہے کہ موجودہ کام پر ان عوامل کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اگر صاحب کتاب اس سے قبل بھی کتاب لکھ چکا ہے تو اس سے اس کا کیا تعلق ہے۔ اس کا ذکر قاری کے لیے مفید ہوتا ہے۔ تجربہ کار مصنف کی کتابیں پسند کی جاتی ہیں۔ صاحب کتاب کے پس منظر کا جائزہ مبصر کے لیے رائے قائم کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتا ہے اور شعری رویہ کے ارتقا میں تو یہ کار آمد عامل ہے۔
تبصرہ کا خاکہ:              کتاب کے مطالعہ اور تفہیم نیز مصنف کے پس منظر کے جائزہ کے بعد تبصرہ کا خاکہ تیار کرنا چاہیے۔ تبصرہ کی ابتدا میں چند بنیادی معلومات دینا لازمی ہے۔
                نام کتاب:                       مصنف:                       ملنے کا پتہ:                      ناشر:                       
                ایڈیشن:                        صفحات :                      قیمت:
                ان معلومات کے اندراج کے بعد تبصرہ کا پہلا مسودہ تیار کرنا چاہیے۔ تبصرہ کا مضمون تمہید ، ارتقا اور خاتمہ پر مشتمل ہونا چاہیے۔
تمہید: موثر تمہید قاری کی توجہ فورا اپنی جانب مبذول کرلیتا ہے۔ جملہ کی ابتدا ”زیر نظر کتاب“ جیسے بے لطف فقرے کی بجائے ایسی مختصر سی تمہید سے کرنا چاہیے جو کتاب اور صاحب کتاب سے وابستہ ہو۔ گرچہ اس سے قبل کتاب اور صاحب کتاب کے نام درج کیے جا چکے ہیں تاہم تمہید میں بھی انہیں شامل کرنا چاہیے۔ اس سے قاری اور مضمون کے درمیان ایک رشتہ استوار ہوجاتا ہے اور قاری خود کو مبصر کے ہمراہ محسوس کرتا ہے۔
                تمہید ہی میں کتا ب کے مرکزی خیال کو پیش کر دینا چاہیے۔ ساتھ ہی تبصرہ ایسا ہونا چاہیے کہ قاری کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ کتاب کا انتخاب کیوں کرے ۔ اسی طرح کتاب کے نوع کا تعین بھی ابتدا ہی میں ہوتا ہے اور یہ بھی اسی جگہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ کتاب کس انداز کی ہے۔ معماتی ہے ، مہماتی ہے یا رومانی؟ اس کتا ب میں کس طرز کو اپنایا گیا ہے؟ مبصر کی نظر میںاس کتاب کا اسلوب پسندیدہ یا ناپسندیدہ کیوں ہے ؟ کتاب دلچسپ ہے یا نہیں؟ کیا کتاب اپنے مقصد میں کامیاب ہے؟ مصنف کے خیالات کیاہیں؟ ان امور پر غور کرنے کے بعد ہی مبصر کو آگے بڑھنا چاہیے۔ اچھے مصنف کے بیان میں وضاحت اور قطعیت ہوتی ہے۔ بیان میں ابہام اور پیچیدگی پیدا ہونے سے قاری کا ذہن بھی الجھ جاتا ہے ۔ نتیجتاًوہ پوری کتا ب کا مطالعہ نہیں کرپاتا۔ مزید برآں کتاب پر خرچ ہونے والی رقم پر افسوس ظاہر کرتا ہے۔
ارتقا:اچھے تبصرہ میں کتا ب کی صحیح قدروقیمت متعین کی جاتی ہے اور جہاں تک ممکن ہو یہ واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مصنف کا انداز نظر کیا ہے؟ یہ وضاحت بھی ضروری ہوجاتی ہے کہ ذرائع کے اختیار وانتخاب میں مصنف کی شخصیت کا کیا اثر مرتب ہوا ہے؟ ایسا کرنے پر تبصرہ ایک مضمون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ لیکن یہ تفریق قائم رہتی ہے کہ اس میں کتاب کی کوئی بحث یا حصہ شامل نہیں کیا جاتا ۔ البتہ کسی نکتہ کو عیاں کرنے کے لیے بعض اقتباسات شامل کیے جاسکتے ہیں۔ تبصرہ میں کتابیات سے اعتنا نہیں کیاجاتا ہے۔ اچھی تصنیف اپنے فن میں ایک علمی اضافہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
خاتمہ:تبصرہ کا اختتام کتاب کی خوبیوں اور خامیوں کے تجزیہ کے ساتھ ہونا چاہیے۔ لیکن کمپوزنگ کی خامیوں جیسی معمولی فروگذاشت کو نظر انداز کردینا ہی بہتر ہے۔ خوبیوں اور خامیوں کے بیان میں اعتدال اور غیر جانب داری لازمی ہے۔ خامیوں کی نشاندہی میں سنجیدگی کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔ نہ ہی تعریف میں بے جا رطب اللسان ہونا مبصر کے لیے زیبا ہے۔ مصنف کی تضحیک مبصر کو زیب نہیں دیتی کیوں کہ مبصر کی شخصیت سنجیدہ اور پر وقار ہوتی ہے۔ یوں بھی تبصرہ کا مقصد خامیوں کا شمار ہے بھی نہیں اور نہ ہی مبصر کو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرنا چاہیے۔ خاتمہ کو تمہید میں پیش کردہ خیالات سے مربوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور تبصرہ کا اختتام منطقی ہونا چاہیے۔ کتاب کے معنوی تجزیہ کے ساتھ اس کی صوری حالت کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔ مثلا اس کا کاغذ ، حسن ترتیب اور سرورق کی جاذبیت وغیرہ ۔ ان کے جائزہ سے مصنف کے ذوق جمال کا پتہ چلتا ہے۔ تبصرہ میں اس بات کا اظہار ہونا چاہیے کہ کتاب کے تعلق سے مبصر کا احساس کیا ہے اور وہ ایسا کیوں محسوس کررہا ہے۔ اس سے تبصرہ عمیق ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ کتاب صاحب کتاب کے ذہن کی اپج ہے۔
                ایک اچھا تبصرہ مبصر کی گراں قدر رائے ہوتی ہے جس سے قاری کی رغبت کتاب سے بڑھتی ہے یا وہ اس سے باز رہتا ہے۔ مبصر کو ہمیشہ اپنی ذمہ داری ملحوظ رکھنی چاہیے۔ تبصرہ میں کتاب سے متعلق ایسی معلومات دینے سے حد درجہ پرہیز کرنا چاہیے جس سے قاری گمراہ ہوجائے ۔ اس سے مبصرکی شخصیت بھی بری طرح متاثر ہوگی اور ذمہ دار قاریوں کا اعتبار ختم ہوجائے گا۔ پھر اس کی تبصرہ کردہ بہت سی لائق کتابوں سے قاری گریز بھی کرنے لگیں گے۔
                ادبی مجلّا  ت کے لیے لکھے جانے والے تبصرے مختصر ہوا کرتے ہیں۔ لیکن بعض ضخیم کتابوں کے تبصرے طویل بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ایسے تبصرے عام طور پر کتاب کی صورت میں علاحدہ شائع ہوتے ہیں۔
ززز

No comments: