کہاں ہے انڈین مجاہدین کا سرچشمہ
پچھلی دو دہائیوں سے ہمارا ملک دہشت گردی کی لعنت
سے دوچار ہے۔ یہ دہشت گرد کون ہے اور وہ دہشت گردی پر آمادہ کیوں ہے ملک اپنے پورے
نظام کا استعمال کرنے کے باوجود کسی حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکا ہے اور اگر پہنچ بھی
گیا ہے تو کم از کم اتنا تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ حکومتیں نہ جانے کیوں اس سچائی کو
سامنے لانا چاہتیں یا اس سچائی کا سامنا نہیں کرسکتیں اس لیے اس کا رخ پھیرے ہوئی ہیں۔
اگر ہم موجودہ صورت حال میں بھی دہشت گرد پتا لگانا چاہیں تو کچھ قطعیت کے ساتھ کہنا
بے جا ہوگا۔ چونکہ ملک کی ایک تنظیم آر ایس ایس جس کے ایجنڈے میں ہندو راشٹر کا نظریہ
ایک اہم بنیاد رہا اور اس فرقہ واری نظریہ کو عملی رخ دینے کے لیے روادار طور اختیار
کرنے کے بجائے فرقہ وارانہ اور پر تشدد طریقہ اختیار کیا جاتا رہا ہے اور تنظیم اور
اس کے اراکین کئی محاذ پر دہشت گردانہ عمل میں ملوث ر ہے ہیں، جس کی ایک واضح مثال
مبلغ اہنسا موہن داس کرم چند گاندھی کے بہیمانہ قتل کا جرم بھی اسی تنظیم کے سر ہے،
اور کبھی یہ احساس نہیں ہوسکا ہے کہ تنظیم نے اسے ایک کرتوت سمجھنے کے بجائے کارنامہ
نہ سمجھا ہو، مالیگاؤں اور مکہ مسجد دھماکے بھی ان انہی کی کارستانیوں کا نتیجہ ہے،
اس لیے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ملک میں جتنی دہشت گردی ہوتی ہے ہر ایک کے پیچھے آر ایس
ایس کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم یہ بھی دعوی نہیں کرسکتے کہ کوئی مسلمان دہشت گرد
نہیں ہوسکتا یا دہشت گردانہ مزاج نہیں رکھ سکتا ۔بلاشبہ اسلام میں ناحق قتل نفس حرام
ہے (حق و ناحق کی تعیین کسی Established حکومت کے متوازی کسی فرد یا جماعت کو نہیں ہے ) اگر کوئی شخص
اسلام کے حرام کردہ امر کو حلال سمجھتا ہے تو وہ مسلمان نہیں ہے ۔ظاہر ہے ایسی صورت
میں کہا جاسکتا ہے کہ کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں ہوسکتا ۔ لیکن ایسا تو ہوہی سکتا ہے
کہ کوئی فرد یا جماعت جو مسلمانوں میں سے تعلق رکھے اور بعض سیاسی ، سماجی ونفسیاتی
وجوہ سے گمراہی کا شکار ہوجائے اور دہشت گردی کے کرے یا دہشت گردانہ مزاج رکھے۔ اگر
ایسا کرتا ہے یقیناً اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ الغرض اصل دہشت گرد کون ہے
حکومت اس راز کو افشا کرنے کی یا تو ہمت نہیں جٹا سکی ہے یا اسے عمداً دوسرا رخ دے
دیا گیا ہے۔ شروع میں ہر دہشت گردی کے پیچھے سیدھے آئی ایس آئی کا ہاتھ نظر آیا۔ اس
کے بعد درمیان میں لشکر طوئبہ ، ہوجی بھی نظر آنے لگی اور اب انڈین مجاہدین کا ۔ گو
کہ اب بھی ان کے آقا پاکستان میں ہی بتائے جاتے ہیں لیکن اس کی زد میں سارے ہندوستانی
آتے ہیں اور امتیاز ہوتا ہے تو صرف مذہب کا ۔ اس درمیان میں ایک تنظیم غیر قانونی معاملات
میں ملوث بتا کر عدالت کے ذریعہ ممنوع قرار دے دی گئی۔ مسلم میرر کی رپورٹ کے مطابق
کے اس کے چند افراد تو غیر قانونی معاملات میں ملوث ضرور پائے گئے اس کے باوجود د ان
میں سے کسی کے خلاف بھی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث رہنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا
ہے۔ الغرض گزشتہ چند سالوں سے جب کوئی دھماکہ ہوتا ہے مسلمانوں سے مشابہ ایک تنظیم
کا نام لیا جاتا ہے وہ ہے انڈین مجاہدین (آئی ایم)۔ چونکہ نام مسلمانوں سے مشابہت رکھتا
ہے اس لیے اس نام پر مسلمان ہی پکڑے جاتے ہیں۔ حیرت ہے کہ اب تک اس نام پر ہزاروں سے
زائد افراد گرفتار کئے گئے ، سینکڑوں سے محض پوچھ تاچھ ہوئی ، گرفتار شدگان میں سینکڑوں
نا کردہ گناہوں کی سزائیں کاٹ کر با عزت بری ہوئے لیکن اب تک یہ سراغ نہیں مل سکا کہ
اس سرچشمہ کہاں ہیں ؟ اس کے تانے بانے کہاں بنے جاتے ہیں؟دعوے کے ساتھ اس سے انکار
نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے کسی مسلمان کا ہاتھ نہیں ہے لیکن بعض خدشات ایسے
ہیں جو غلط بھی ہوسکتے اور یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ صحیح نہیں ہوسکتے، جن کی رو سے
یہ کہاجاسکتا ہے کہ یہ تنظیم کسی تشدد پسند تنظیم کی ذیلی شاخ ہو۔ اس سلسلہ میں جب
ہم واقعات کے تسلسل پر غور کرتے ہیں صورت حال کچھ اس طرح ظاہر ہر ہوتی ہے۔
۲۰۰۷ میں حیدر آباد کی مکہ مسجد میں اور ۲۰۰۹ میں مالیگاؤں میں دھماکے
ہوئے ۔ ان دھماکوں کے بعد اسی انڈین مجاہدین کے نام پر سینکڑوں مسلمان گرفتار ہوئے
۔ عدالت میں مقدمہ چلا ۔ مقدمہ میں یہ بات سامنے آئی کہ پکڑے گئے لوگ بے قصور ہیں
۔ دھماکوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ انڈین مجاہدین کا ہاتھ
نہیں ہے۔ ساتھ ہی کچھ ایسے نام آئے اور وہ گرفتار بھی ہوئے جو اس واقعہ کے اصل مجرم
ہیں، وہ سب کے سب دیش بھکت تنظیم آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ان کی گرفتاری
کے بعد یہ بات بھی سامنے نہیں آئی کہ چونکہ یہ لوگ کسی الگ تنظیم کے اراکین ہیں اس
لیے دھماکہ کے وقت جس انڈین مجاہدین کے ملوث ہونے کا دعوی کیا گیا تھااس میں اس کا
ہاتھ نہیں ہے۔ اب اگر انڈین مجاہدین کا بھی ہاتھ ہے اور اس واقعہ کے اصل مجرم نئے گرفتار
شدگان ہیں تو اس کا مطلب تو ضرور نکلتا ہے کہ انڈین مجاہدین یا تو نام نہاد تنظیم ہے
جس کا کوئی زمینی وجود نہیں ہے یا یہ اسی مادری تنظیم کی ذیلی شاخ ہے جس سے واقعہ کے
اصل مجرمین تعلق رکھتے ہیں۔
اس منظر نامہ کا ایک اور رخ ہے جو غلط بھی ہوسکتا
ہے اور صحیح نہیں ہے اس کا بھی دعوی نہیں کیا جاسکتا ۔ گزشتہ روز حیدر آباد کے ہی دلسکھ
نگر میں ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا جس میں 16لوگ جاں بحق ہوئے اور تقریباً 150 لوگ زخمی
ہو گئے ۔ اس واقعہ کے تقریباً ایک ماہ قبل ملک کے وزیر داخلہ نے بیان دیا کہ ملک میں
ہو رہے دہشت گردانہ حملوں کے پیچھے اسی دیش بھکت تنظیم آر ایس ایس کا ہاتھ ہے اور اس
کے خلاف اس کے پاس پختہ ثبوت ہیں۔ اس بیان کے بعد آر ایس ایس کے پالیٹکل ونگ بی جے
پی کے اراکین چراغ پا ہو گئے ۔ انہوں نے وزیر
داخلہ کے اس بیان کو دہشت گردوں (مسلمانوں) کا حمایتی قرار دیا ۔ انہوں نے اعلان کیا
مسٹر شنڈے (وزیر داخلہ ) جب تک اپنے بیان پر معافی نہیں مانگتے ہیں پارلیامنٹ نہیں
چلنے دی جائے گی۔ بالآخر مسٹر شنڈے معافی مانگ لیتے ہیں۔ معافی مانگنے کے دوسرے روز
شام کے وقت دھماکہ ہوتا ہے۔ اسی دن صبح کو مسٹر شنڈے اپنے سراغوں کی روشنی میں ریاستوں
کو چوکس کر دیتے ہیں کہ کہیں کوئی حملہ ہونے والا ہے اس کے باوجود حملہ ہوجاتا ہے۔
کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ مسٹر شنڈے کو ایسے کسی دھماکہ کی خبر ہوئی ہو تو انہوں
نے معافی مانگی ہو (جبکہ ان کے پاس ان کے بقول پہلے دعوے کے ثبوت موجود ہیں) اور معافی
مانگنے کے ساتھ ساتھ ریاستوں کو چوکس کیا ہو۔ دھماکہ ہونے گھنٹہ دو گھنٹہ کے اندر یہ
اعلان ہوتا ہے کہ اس دھماکہ کے پیچھے انڈین مجاہدین کا ہاتھ ہے ۔ حالانکہ کسی نے اس
وقت کوئی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی ہے ۔ساتھ ساتھ چند پرانے اور نئے نام مشتبہ سمجھ
کر اعلان کئے جاتے ہیں۔ سب سے مضحکہ خیز صورت حال یہ کہ ابھی چند ماہ قبل جو گزشتہ
دھماکوں کے سلسلہ میں بری ہو کر واپس آئے ان سے پوچھ تاچھ بھی شروع ہو جاتی ہے۔ اگر
ایسا ہے کہ مسٹر شنڈے کو دھماکوں کی جیسے ہی خبر ہوئی ہو انہوں نے معافی مانگ لی اور
اس کے بعد حکومتوں کو متنبہ کیا تو اس واقعہ سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انڈین
مجاہدین کا سرچشمہ کہاں ہے؟؟؟
٭٭٭
No comments:
Post a Comment