مشمولات

Friday, 27 July 2018

بازار میں اردو کی تدریسی کتابوں کی دستیابی کے لیے اس کا ڈیمانڈ بڑھانا ضروری



بازار میں اردو  کی تدریسی کتابوں کی دستیابی کے لیے اس کا ڈیمانڈ بڑھانا ضروری
سرکاری اسکولوں کے درجہ اول تا درجہ ہشتم  کی کتابیں بازار میں دستیاب تو ہوگئی ہیں لیکن ایک بار پھر اردو کتابیں نظر انداز کردی گئی ہیں جس سے اردو پڑھنے والوں بچوں کا بڑا نقصان ہونا طے ہے۔ مجموعی طور پر یہ اردو زبان اور اردو داں آبادی کا بھی بڑا نقصان ہے۔ گزشتہ سال تک جب محکمہ تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں کتابیں فراہم کرائی جاتی تھیں اردو کتابوں کے ساتھ سوتیلا رویہ صاف نظر آتا تھا۔ کتابیں اگر فراہم بھی کرائی جاتی تھیں تو آدھی ادھوری۔ اب جبکہ کھلے بازارمیں کتاب دستیاب کرانے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے تب بھی اردو کی کتابیں اب تک بازار میں نہیں آسکی ہیں جو انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ پتہ چلا ہے کہ ابھی اردو کی کتابیں شائع نہیں ہوئی ہیں جبکہ سنسکرت سمیت تمام مضامین کی کتابیں شائع ہو کر بازار میں دستیاب ہیں۔ یہ اردو کے ساتھ کھلا تعصب ہے۔ حالانکہ بعض جگہوں سے ایسی خبر بھی ہے کہ اردو کتابیں وہاں دستیاب ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ اچھی بات ہے لیکن بیشتر اضلاع میں کتابیں عام کتابوں کی طرح نہیں مل رہی ہیں۔ ایسے میں اردو والوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت اور فروغ کے لیے آگے آئیں اور  ڈٹ کر ایسے حالات کا مقابلہ کریں۔
 سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ بچوں اور ان کے والدین میں اردو کے تئیں بیداری پیدا کی جائے اور انہیں کہا جائے کہ وہ بازار میں دکانوں پر جہاں سرکاری اسکولوں کی کتابیں فروخت ہو رہی ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اردو کتابیں ابھی بازار میں نہیں آئی ہیں خریدنے ضرور جائیں۔ اس سے ڈیمانڈ بڑھے گا  اور پبلشر اردو کتاب شائع کرنے اور دکاندار بیچنے پر مجبور ہوں گے۔ مزید اردو تنظیموں اور سرپرستوں کی یونین کی جانب سے محکمہ تعلیم اور حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ جس طرح دیگر کتابیں بازار میں آچکی ہیں اسی طرح اردو  کی کتابیں بھی فورا بازار میں دستیاب کرائی جائیں اور یہ سوال بھی کیا جائے کہ آخر اردو کے ساتھ ایسا رویہ کیوں برتا گیا ہے کہ ساری کتابیں آچکی ہیں اور اردو کو چھوڑ دیا گیا ہے؟
خیال رہے کہ یہ صرف اردو مضمون کی بات ہو رہی ہے۔ اردو میڈیم کی کتابوں کا تو بازار میں کوئی پتہ ہی نہیں ہے اور حکومت نے جو طریقہ اختیار کیا ہے اور خود  اردو والوں کا  اپنا  جو رویہ ہے کہنا چاہیے کہ اس سے بہار میں اردو میڈیم ختم ہی ہوگیا ہے۔اب اردو اسکول برائے نام رہ گئے ہیں۔ اس میں بھی ایک ہی ضلع میں ایسے سیکڑوں اردو اسکول مل جائیں گے جن کو اپنا نام بھی اردو میں لکھا ہوا نصیب نہیں ہے۔ افسوس تو وہاں کی اردو آبادی پر ہے جس کو اس زیاں کا احساس تک نہیں ہے۔ اب  شاید باید ہی کوئی اسکول ہو جہاں اردو میڈیم میں سارے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اب اگر اردو مضمون کی کتابیں بھی بازار میں نہیں ہوں گی تو  آنے والے دنوں میں سرکاری اسکولوں میں اردو کا کیا حال  ہوگا اس کو سمجھا جاسکتا ہے۔
اردو اساتذہ سے بھی مؤدبانہ اپیل ہے کہ وہ خود بھی کتابوں کی دکانوں پر اردو کتابیں خریدنے جائیں اور دکانداروں سے بات کریں کہ وہ اردو کتابیں منگوائیں۔ ممکن ہو تو بچوں سے بات کر کے خود ہی اردو کتابیں لا کر دستیاب کرائیں۔ اس ضمن میں عام اردو آبادی میں دانشورں، حساس، سماج کے ذمہ دار افران اور ائمہ مساجد کہ وہ لوگوں میں اردو کے تئیں بیداری لانے کے لیے سرگرم ہوں۔ سرکاری اسکولوں میں پڑھ رہے بچوں کے والدین اور سرپرستوں کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ اردو کتابیں خریدنے بازار جائیں اور جب اردو کتاب بازار میں دستیاب ہوجائے تو لازمی طور پر خریدیں۔ کیونکہ جب ڈیمانڈ بڑھے گا تو تجارتی منفعت کے مد نظر بھی پبلشر اردو کتابیں شائع کریں گے اور دکانوں میں فروخت بھی ہوگی۔کیونکہ تعصب خواہ کتنا بھی ہو تجارتی مفاد کے آگے وہ ماند پڑجاتا ہے۔ سماج کے ذمہ دار اور ہوش مند افراد جو شہر اور قصبات میں جاتے رہتے ہیں ایسے ماحول میں جب تک اردو کتابیں بازار میں نہیں آتی ہیں  ڈیمانڈ بڑھانے کے لیے بھی اردو کتابوں کے بارے میں بک اسٹالوں پر دریافت کریں یا خریدنے جائیں۔ ا س سے ڈیمانڈ میں اضافہ ہوگا اور ان شاء اللہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
سرکاری اسکولوں کے بارے میں یہ شکایت عام ہے کہ وہاں تعلیم نہیں ہوتی ہے اور اسی ضمن میں اردو کی تعلیم کا بھی حال ہے۔ اس میں کسی حد تک سچائی بھی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا ماحول پیدا کرنے کے لیے والدین اور سرپرستوں کو بیدار ہونا ہوگا اور انہیں بیدار ہونا بھی چاہیے کیونکہ یہ ان کی مستقبل کی تعمیر کا مسئلہ ہے۔ جس طرح وظیفہ اور پوشاک کی رقم نہیں ملنے پر وہ اسکول انتظامیہ سے محاسبہ کرتے ہیں اسی طرح تعلیم اور تدریس کے لیے بھی اسکول انتظامیہ سے مہذب اور احسن  طریقہ پر محاسبہ کا ماحول بنائیں اور ان بچوں کی تعلیمی پیش رفت پر ثبوت کے ساتھ محاسبہ کریں کہ ان کے بچوں کی پڑھائی نہیں ہو رہی ہے۔ اتنے دنوں سے انہیں اسکول کی جانب سے کوئی سبق نہیں ملا ہے۔ اسی طرح اگر اردو کی پڑھائی نہیں ہو رہی ہے تو  اسکول انتظامیہ اور اردو استاذ سے مہذب انداز مین محاسبہ کریں کہ اسکول میں اردو استاذ موجود ہونے کے باوجود اس کی پڑھائی کیوں نہیں ہو رہی ہے؟ اس کام کے لیے سماج کے ذمہ  دار افراد کی ذمہ داری زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس کام کے لیے تیار کریں اور انہیں بتائیں کہ وہ اردو پڑھانے کے لیے اسکول سے بات چیت کرتے رہیں۔ اس سے اسکول انتظامیہ پر دباؤ بنے گا تو اسکول انتظامیہ اور اردو اساتذہ کو بھی اردو پڑھانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔سرکاری اسکولوں میں ہر ماہ کے پہلے سنیچر کو والدین - اساتذہ میٹنگ تعلیمی پروگرام کا حصہ ہے جو اکثر جگہوں پر عمل میں نہیں ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے اسکول میں ہر ماہ کے پہلے سنیچر کو اسکول سے کوئی اطلاع نہیں ملنے کے باوجود اسکول جائیں اور اسکول انتظامیہ سے اس میٹنگ کے بارے میں سوال کریں۔ اپنے بچوں کے اساتذہ سے مل کر ان کی تعلیمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کریں۔ اگر وہاں اردو کی تعلیم نہیں ہو رہی ہے تو اس کے بارے میں سوال کرنا ہرگز نہ بھولیں۔
کتابوں کے لیے گرچہ حکومت کی جانب سے کتابوں کی قیمت فراہم کرائی جا رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے اسکولوں کو جو رقم ملتی ہے اس میں زیادہ امکان یہ رہتا ہے کہ سارے بچوں کو رقم نہیں مل سکے۔ اس کے لیے بھی لوگوں کو بیدار رہنا چاہیے اور حکومت سے محاسبہ اور مطالبہ جاری رکھنا چاہیے۔ ساتھ ہی خوشحال لوگوں کو چاہیے کہ اپنے معاشرہ میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایسے غریب بچوں کو جن کو حکومت کی جانب سے رقم نہیں مل سکی ہے کتابیں خرید کر عطیہ کرنے کا ماحول بنائیں۔ یہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ بھی ہوگا اور آپ کے سماج  میں تعلیم کی روشنی بھی پھیلے گی۔ ساتھ ہی جب کتابیں عطیہ کی جائیں گی تو ایسے بچوں سے ا س کی تعلیمی پیش رفت کے بارے میں پوچھ گچھ کا بھی ماحول پیدا ہوگا اور بچوں میں جواہدہی کا احساس پیدا ہوگا ۔ان شاء اللہ اس کے بھی کچھ نہ کچھ اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ عام طور پر لوگوں میں اپنے بچوں کی تعلیم اور ترقی پر ہی توجہ رہتی ہے۔ حالانکہ کوئی بھی سماج چند افراد اور گھروں  کے تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ہونے سے تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ نہیں کہلاتا ہے بلکہ جب مجموعی طور پر کسی سماج میں تعلیم اور ترقی عام  ہوتی ہے تب جا کر کسی گاؤں، محلہ اور سماج کو تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ گاؤں، محلہ اور سماج کا نام دیا جاتا ہے۔ اس لیے ایسے لوگ جن کی نظر میں تعلیم اور ترقی کی اہمیت واضح ہے اگر وہ خود کو تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ سماج کا حصہ کہلانا چاہتے ہیں تو اپنے ساتھ ساتھ پورے سماج کی تعلیم اور ترقی کی کوشش کریں۔
***

No comments: