مشمولات

Wednesday, 4 July 2018

پینٹ شرٹ ڈریس کوڈ تکثیری ثقافت کو مٹانے کی مذموم کوشش



پینٹ شرٹ ڈریس کوڈ  تکثیری ثقافت کو مٹانے کی مذموم کوشش

میڈیا میں یہ خبریں آرہی ہیں کہ یوپی مدرسہ بورڈ سے ملحقہ مدارس میں یوپی حکومت نیا ڈریس کوڈ نافذ کرنے جا رہی ہے اور اب وہاں کرتا پاجامہ یونیفارم کے طور پر پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ابھی تک کی موصولہ خبر کے مطابق نیا ڈریس کوڈ پینٹ شرٹ یا پٹھانی سوٹ ہوسکتا ہے لیکن حکومت کے اب تک کے رویہ سے قیاس یہی کیا جارہا ہے کہ پینٹ شرٹ کا ہی زیادہ امکان ہے۔ خبروں کے مطابق حکومت  کے ذریعہ ایسا فیصلہ مدارس کے طلبہ کو قومی دھارے میں لانےاور احساس کمتری سے نکالنے کے لیے  کیا جارہا ہے۔
جہاں تک یونیفارم کی بات ہے تو چونکہ یہ فیصلہ بورڈ کے ملحقہ مدارس کے لیے  کیا جارہا ہے اس لیے یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ حکومت ڈریس کوڈ کے سلسلہ میں کوئی رائے دے سکے لیکن حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ مدارس اقلیتی اداروں کے زمرہ میں آتے ہیں اور اسی حیثیت سے مدارس کے نصاب اور اسکولوں کے نصاب میں قدرے فرق بھی ہے۔ آج حکومت مدرسوں میں اسکول کا ڈریس کوڈ نافذ کرنا چاہتی ہے تو کیا کل مدرسوں کے نصاب کو بھی اسکول کے نصاب کے مطابق مکمل ڈھال دے گی حالانکہ اس کی کوشش تو مسلسل پہلے سے ہی جاری ہے اور جب نصاب بھی پوری طرح اسکول کے نصاب کے مطابق ڈھال دیا جائے تو پھر مدارس کے الگ نظام کی ضرورت ہی کیا ہوگی۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آئین نے اقلیتوں کو یہ آزادی دی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق ادارے قائم کریں اور اس کا نصاب تشکیل دیں۔ ڈریس کوڈ کا تعلق بھی تعلیمی نظام سے ہے۔ اس لیے اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جس طرح ان کو تعلیمی ادارے قائم کرنے، قومی تعلیمی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے تدریسی نصاب مرتب کرنے کی آزادی ہے اسی طرح اپنے تعلیمی نظام میں اپنی مرضی کا ڈریس کوڈ نافذ کرنے کی آزادی کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔  ہاں اگر ایسے اداروں میں کوئی ڈریس کوڈ نہ ہو یا اس سلسلہ میں بے ضابطگی پائی جاتی ہو تو حکومت یہ  زرو ڈال  سکتی ہے کہ مدارس میں بھی ڈریس کوڈ نافذ ہو اور تمام طلبہ یکساں یونیفارم اختیار کریں تاکہ طلبہ میں مساوات کا جذبہ ابھر سکے۔ لیکن حکومت کے ذریعہ اقلیتی اداروں میں ان کی مرضی کے خلاف ڈریس کوڈ کو نافذ کرنے کی کوشش کرنا جمہوریت اور آئینی آزادی کے خلاف ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
خیال رہے کہ مسلمانوں میں کرتا پاجامہ کے ساتھ ساتھ پینٹ شرٹ بھی بالکل عام ہے اور کسی بھی سطح پر پینٹ شرٹ کو ناجائز لباس کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے۔ اسکولوں میں جہاں مسلمان بچوں کی مدرسوں میں پڑھنے والوں سے بڑی تعداد پڑھتی ہے اسکول کا یونیفارم پینٹ شرٹ بلا چوں چرا زیب تن کرتی ہے اور کہیں سے بھی کوئی ایسی آواز اقلیتوں کی جانب سے نہیں اٹھائی گئی ہے کہ مسلم بچوں کو پینٹ شرٹ پہننے پر کیوں مجبور کیا گیا۔ یہ صحیح ہے کہ مدرسوں میں ہر جگہ کرتا پاجامہ ہی ڈریس کوڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ایسے میں پینٹ شرٹ کو مدرسوں میں جبرا نافذ کرنے کی کوشش کرنا اور اس کو مسئلہ بنانا کسی طرح بھی روا نہیں ہے۔ جس طرح مدرسوں  کو نصاب کی تشکیل میں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اسکولوں میں رائج نصاب کی کتابوں  کے علاوہ دیگر کتابوں کو بھی شامل کریں اسی طرح یونیفارم کے معاملہ میں انہیں اب تک  جو اختیار حاصل رہا ہے اسے چھینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
مدارس میں ڈریس کوڈ کے نفاذ کے سلسلہ میں جو دلیل دی گئی ہے  کہ اس کا مقصد وہاں پڑھنے والے بچوں کو قومی دھارے میں لانا اور احساس کمتری سے نکالنا ہے، یہ بھی سراسر احمقانہ دلیل ہے۔ کرتا پاجامہ ہندوستان کا قدیم لباس رہا ہے۔ماضی میں برادران وطن کے درمیان کرتا اور دھوتی کا رواج رہا ہے جو اب کم ہوتا جا رہا ہے اور ان کے یہاں بھی ایک بڑی تعداد کرتا پاجامہ زیب تن کرتی ہے۔ مختلف تقریبات میں بڑے شوق اور ذوق سے وہ کرتا پاجامہ پہنتے ہیں۔ بلکہ ریشمی اور مٹکا کے کرتے تو ان کے یہاں ہی پہنے جاتے ہیں۔  ملک بھر میں خاص طور پر شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے تقریبا تمام بڑے لیڈران آج بھی اور ہر دور میں کرتا پاجامہ زیب تن کرتے رہے ہیں۔ کیا یہ تمام لیڈران قومی دھارے سے الگ ہیں اور ان میں احساس کمتری پایا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہمیں سب سے پہلے ایوانوں میں نفیس قسم کے کرتے پاجامے زیب تن کئے ہوئے ان لیڈران کو احساس کمتری سے نکالنے اور انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ خود یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ جو لباس پہنتے ہیں  وہ ایک مخصوص رنگ کا ہے  جس کی رنگت میں بظاہر  اتنی نفاست پائی  بھی نہیں جاتی ہے جیسا کہ مروجہ کرتا پاجاموں میں پائی جاتی ہے۔رنگ خواہ کوئی ہو وہ کرتا اور تہ بند ہی پہنتے ہیں۔ مدارس کے طلبہ کو پینٹ شرٹ پہنانے سے قبل وہ خود پینٹ شرٹ کیوں نہیں زیب تن کرلیتے۔ وہ  ہی  نہیں  ملک بھر میں سادھوؤں سنتوں کے درمیان پینٹ شرٹ رائج نہیں ہے۔ یوگی اور مودی حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک بھر میں پھیلے سادھوؤں سنتوں کا ورکشاپ کراکر ان کی کونسلنگ کرائیں کہ وہ ان کپڑوں میں پسماندہ نظر آتے ہیں اور اس کے پیچھے ان کی پسماندہ ذہنیت کام کر رہی ہے۔ وہ اس احساس کمتری سے نکل کر قومی دھارے سے منسلک ہوں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو تب مدارس یا ملک کے کسی طبقہ  کو ڈریس کوڈ نافذ کرنے کا حکم نامہ جاری کریں۔ اگر بفرض محال یہ ممکن بھی ہوجاتا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی ذہنیت رکھنے والے لوگ دشمنی میں ایسا کرنے بھی آمادہ ہوجائیں  اور اپنے مروجہ لباس کو چھوڑ کر پینٹ شرٹ پہن کر بابو بن جائیں تب بھی ہم اس بات کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے ہیں حکومت کی جانب سے آئینی اختیارات کو چھینا جائے اور اس کی جگہ ایک مخصوص قسم کا ڈریس کوڈ نافذ کیا جائے۔ کیونکہ اس سے ہمارے ملک کی روایت اور تکثیری ثقافت والی شناخت مجروح ہوگی وہیں شخصی آزادی بھی مجروح ہوگی اور ہم ان دونوں سے دست بردار ہونے کو کسی طرح تیار نہیں ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لباس کے سلسلہ میں ہمارا قومی دھارا پینٹ شرٹ ہے؟ آخر اس ملک میں کیا صدیوں سے یہی پینٹ شرٹ رائج رہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی بھی شخص اس ملک میں پینٹ شرٹ کے رواج کو ڈیڑھ دو سو سال سے اوپر نہیں لے جائے گا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں ہمارے بیشتر مجاہدین آزادی جو اس ملک کے تمام مذاہب اور ذات سے تعلق رکھنے والے تھے بیشتر کرتا پاجامہ اور شیروانی زیب تن کرتے تھے۔ اگر پینٹ شرٹ اس ملک کا قومی دھارا ہوتا تو ہمارے لیڈران اور مجاہدین آزادی بھلا کرتا پاجامہ اور شیروانی کیونکر زیب تن کرتے؟جنگ آزادی کے درمیان جس سودیشی کپڑے کی تحریک چلائی گئی تھی کیا اس سے مردوں کے لیے کرتے نہیں سلائے جاتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ مرکز اور یوپی میں برسر اقتدار حکومت جو آر ایس ایس کا سیاسی ونگ ہے وہ ملک میں مسلمانوں کی دشمنی میں اتنی اندھی ہوگئی ہے کہ اس نے اس ملک کی روایتوں کو بھی مٹانے کی مہم چھیڑ دی ہے  جس کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کرتا جو ایک سودیشی لباس ہے وہ اس کو ختم کرکے  ملک ایک روایت کو مٹانا چاہتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے اس سلسلہ میں تمام مذاہب کے اور ذات کے لوگوں کو یوپی حکومت کے خلاف آواز بلند کرنی چاہے۔ کیونکہ اس پر روک نہیں لگائی گئی تو اس ملک میں شخصی آزاد ی پوری طرح سے خطرہ میں پڑجائے گی اور پہننے کھانے، رہنے سہنے اور زندگی کے دیگر طریقے جن کا تعلق شخصی آزادی سے خطرہ میں پڑ جائے گی اور ہر چیز حکومت سے پوچھ کر کرنا ہوگا۔
ان سب سے اہم بات یہ ہے کہ بی جے پی  جو ترقی اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعروں کے ساتھ اقتدرا میں آئی تھی اب جبکہ اپنی پانچ سالہ میعاد کو پورا کرنے تک ملک میں ترقی لانے، سب کو ساتھ لے کر چلنے اور سب کا وکاس کرنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے ۲۰۱۹ کے انتخاب کے لیے پولرائزیشن کے ایشوز عوام میں شدت سے اچھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہی ایجنڈوں میں سے ایک ایجنڈا مدرسوں کا یونیفارم کرتا پاجامہ نہیں پینٹ شرٹ ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس سیاسی ایشو کا مقابلہ ہم کس طرح کرتے ہیں۔
بی جے پی جس طرح نان ایشو کو ایشو بنارہی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ملک میں ترقی کا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہ گیا ہے۔ اب صرف طرز زندگی کے کچھ ایشوز باقی رہ گئے ہیں جن کے ختم ہوتے ہی ہمارا ملک ترقی یافتہ ہوجائے گا۔ حالانکہ دنیا کی ترقی جس رفتار سے جاری ہے اگر ہم اس کے ساتھ ساتھ نہیں چل سکے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا ملک ترقی میں مزید پیچھے ہوجائے گا۔
***

No comments: