زیر نظر کتاب ‘‘ ذکر تیرا بعد تیرے’’ شاعر و ادیب جناب خورشید اکرم سوزؔ اور محترمہ
نزہت جہاں قیصر (لاڈلی) کے جواں
مرگ بیٹے شکیب اکرم کے اوصاف حمیدہ اور خصائل ممیزہ کا ترجمان اور دکھ و درد کا سامان ہے۔ خورشید اکرم سوز
ایک صاحب فکر و نظر شاعر و ادیب ہونے کے ساتھ مخلص انسان ہیں۔ ان
کا تعلق ایک مذہبی، علمی اور تحریکی گھرانے سے ان کا تعلق ہے۔ ان کے والد مولانا عبد الصمد مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ میں شیخ الحدیث
تھے اور وائس پرنسپل کے عہدہ پر فائز تھے۔ جنگ آزادی ہند کی
مختلف تحریکوں سے بھی ان کا تعلق تھا۔
ظاہر ہے کہ ایسے گھرانے سے اٹھنی والی شخصیت یقینی طور پر دینی مزاج کی
حامل ہوگی سو جناب خورشید اکرم سوز میں یہ
اوصاف بخوبی موجود ہیں۔ وہ محکمہ کان کنی میں آڈیٹر ہیں لہذا صاف گوئی اور شفافیت ان کے مزاج کا
حصہ ہے۔ محترمہ نزہت جہاں قیصر بھی ایک
تعلیم یافتہ خاتون ہیں اور ان کا تعلق بھی ایک علمی گھرانے سے ہے۔
شکیب
اکرم ایسے والدین کی گود میں پلنے والے اور ایسے نیک گھرانے میں پرورش پانے والے
ایک صالح نوجوان تھے جن کو بجا طور پر
نجیب الطرفین کہا جاسکتا ہے۔ ۱۹ فروری ۲۰۲۱ کو وہ چنئی میں ایک سڑک حادثہ کے شکار
ہوئے اور ۲۷ مارچ ۲۰۲۱ کو محض ۲۳ سال کی عمرمیں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
ایسا
حادثہ جانکاہ کسی بھی والدین کے لیے قیامت
صغری سے کم نہیں ہوتا ۔ چنانچہ یہ حادثہ عظمی جناب خورشید اکرم سوزؔ اور ان کی
اہلیہ محترمہ نزہت جہاں قیصر پر بھی بجلی بن کر گزرا اور ان کی اکلوتی اولاد شکیب
اکرم ؒ اللہ کےامان میں چلی گئی۔ رحمۃ
اللہ رحمۃ واسعۃ ۔ ایسے جانکاہ صدمے کو انہوں نے صرف انگیز کیا بلکہ اللہ کے فیصلہ
پر مکمل راضی ہوئے۔ خود اپنے ہاتھوں سے میت کو غسل دیا۔ بڑے صبر و شکیب کا اظہار
کرتے ہوئے کاندھا دیا ۔ قبر میں اتارا اور سرائے فانی سے دامن رحمانی کے سپرد کر
دیا۔
یہ
جناب خورشید اکرم کے وسیع تعلقات اور شکیب اکرم کی خوش خصالی کانتیجہ تھاکہ ان کے
انتقال کے بعد ملک و بیرون ملک سے ہر طبقہ کے لوگوں نے زبانی اور تحریری طور پر
تعزیت پیش کی۔ کچھ لوگوں نے نثر میں اپنی محبت کا اظہارکیا تو کچھ لوگوں نے نظم کے
فارم میں مرثیہ خوانی کی ہے۔ اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی لوگوں نے اپنے تاثرات
کااظہار کیا۔ یہ تاثرات اس مقدار میں جمع ہوگئے کہ انہیں کتاب کی صورت دی جاسکے۔
زیر
نظرکتاب ایسے ہی مضامین، نظموں اور تاثرات
کامجموعہ ہے جس کوبڑی محبت سے شکیب اکرم کے والد جناب خورشید اکرم اور
والدہ نزہت جہاں قیصر نے ترتیب دیا ہے ۔
خورشید
اکرم کی مودت اور رحمت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اس کتاب کا
انتساب چند ان گل نا شگفتہ کے نام کیا ہے
جو بن کھلے ہی مرجھا گئے۔
No comments:
Post a Comment