ضیائے حنا - تخلیق بھی تنقید بھی
احتشام الحق
اردو ادب میں تہنیتی شاعری کی روایت ایک قدیم اور تہذیبی
بنیادوں کے ساتھ موجود رہی ہے جس کا اظہار مختلف مواقع پر شعری اصناف کے ذریعے
ہوتا رہا ہے۔ ان میں سہرا نگاری ایک ایسی صنف ہے جو شادی بیاہ جیسے خوشگوار مواقع
پر محبت، دعاؤں، تمناؤں اور تہذیبی شعور کا اظہار کرتی ہے۔ اس صنف کو اردو شاعری
میں وہ مقام شاید کم ملا جس کی وہ مستحق تھی مگر حالیہ برسوں میں اس پر توجہ دینے
والے اہل قلم نے اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہی کوششوں میں ایک
نمایاں اور قابل قدر اضافہ ڈاکٹر عبد الودود قاسمی کی مرتب کردہ کتاب ضیائے حنا
ہے جو سہرا نگاری کی روایت، اس کے فنی پہلوؤں، تہذیبی پس منظر اور عصری تناظر کو
سمیٹتے ہوئے اردو تہنیتی ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔
یہ کتاب دراصل ڈاکٹر عبد الودود قاسمی کے فرزند ثاقب ضیاء
اور بہو حنا فاطمہ کی شادی کے موقع پر خود ان ہی کے ذریعہ ترتیب دی گئی مگر اس کی معنویت محض شخصی نہیں
بلکہ تہذیبی، ادبی اور فکری سطح پر بھی گہری ہے۔بیٹے اور بہو کے ناموں سے کتاب کے
نام کی ترکیب بھی دل کو چھوتی ہے۔ مرتب نے
اس موقع کو صرف ایک خاندانی خوشی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اردو ادب کی ایک صنف
کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنایا۔ یہی وہ شعور ہے جو اس کتاب کو عام تہنیتی مجموعوں
سے ممتاز کرتا ہے۔
ڈاکٹر عبد الودود کی شخصیت
محتاج تعارف نہیں ہے۔ وہ طویل عرصے سے اردو زبان و ادب کے زلف سنوار رہے
ہیں۔ ایک کامیاب ناظم کی حیثیت سے بھی انہوں نے اپنی جگہ بنائی ہے ۔ ساتھ ہی انہوں
نے اپنا علمی و ادبی مقام بھی بنایا ہے۔ اس سے قبل گلشن سخن، درس گاہ اسلامی – فکر
و نظر کی بستی میں، صدائے اعظم (شعری مجموعہ فاروق اعظم انصاری)، مولانا محمد سجاد
حیات اور کارنامے اور کتاب زندگی (شعری مجموعہ ، انجینئر شہاب الدین احمد) وغیرہ
کی ان کی علمی کاوشیں ہیں۔ شعر و شاعری سے
بھی ان کو شغف رہا ہے۔ سادگی، روانی، حقائق پر مبنی معلومات اور حتمیت ان کے
مضامین کا خاصہ رہا ہے۔ جیسا کہ ذکر کیا
گیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی شادی کے موقع پر موصول ہونے والے سہروں اور تہنیتی
نظموں کو شامل کرتے ہوئے مذکورہ کتاب ترتیب دی ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے
اس کتاب کی اشاعت کے لیے مشمولہ شعرا کو زحمت کلام دینے کی زحمت اٹھائی ہے۔ کتاب
کے مشمولات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اس کتاب کو ترتیب دینے کے لیے کتنی
خاک چھاننی پڑی ہوگی۔ بہرحال ان کی یہ کاوش اردو زبان میں ایک علمی سرمائے میں
اضافے کا ذریعہ بنی ہے۔
زیر نظر کتاب ضیائے
حنا 464 صفحات پر مشتمل ہے جس میں شعری تخلیقات کے ساتھ ساتھ تصاویر، نثری
تبریکات، کلاسیکی ادب کے اقتباسات اور ایک پر مغز علمی مقدمہ بھی شامل ہے۔ مقدمہ سہرا نگاری کی صنف پر
ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے جس میں امیر خسرو سے لے کر عصر حاضر تک کی
روایت کو سلیقے سے سمیٹا گیا ہے۔ مرتب کا یہ خیال کہ سہرا اردو کی قدیم ترین اصناف
میں سے ہے اور مشترکہ تہذیب کی علامت کے طور پر منظر عام پر آیا، اس کتاب کو فرقہ وارانہ حد بندیوں
سے بلند کر کے ایک ثقافتی پل بنا دیتا ہے۔ انہوں نے ہندو مسلم شادیوں میں سہرا
نگاری کی روایت کو تاریخی حوالوں اور نمونوں کے ذریعے اجاگر کیا ہے جو اردو ادب کی
وسعت اور رواداری کا مظہر ہے۔
مرتب نے مقدمے میں لکھا ہے: "اردو
میں صنف سہرا بھی قدیم ترین صنف سخن ہے،
جو امیر خسرو کے اختراعی ذہن کا کمال ہے۔ متعدد کتابوں میں گیت، لوک گیت، بنست گیت
کے ساتھ امیر خسرو کے سہرا گیت کا بھی ذکر ملتا ہے۔" ان کا یہ خیال اس
بات کی دلیل ہے کہ سہرا نگاری محض ایک شعری صنف نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب
کا آئینہ ہے۔ اسی طرح مرتب کا یہ خیال بھی "صنف سہرا مشترکہ تہذیب کی علامت کے طور پر
منظر عام پر آیا" اس کتاب کی فکری
بنیاد کو واضح اور مستحکم کرتا ہے۔ انہوں
نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ماضی میں ہندو مسلم دونوں طبقوں کی شادیوں پر سہرے
لکھے جاتے رہے ہیں اور اس کے نمونے کتاب میں بھی شامل کیے گئے ہیں۔
کتاب کی ساخت کی
باتی کی جائے تو یہ دس ابواب پر مشتمل ہے جن میں ہر باب سہرا نگاری کے ایک منفرد زاویے کو پیش کرتا ہے۔ پہلے باب "گلہائے
قلم" میں 170 سہرے اور 6 قطعات تاریخ
شامل ہیں جو تازہ تخلیقات پر مشتمل ہیں۔ دوسرا باب "برزمین غالب" ہے، جس میں غالب کی زمین میں ۱۶ سہرے تخلیق کیے گئے ہیں جن میں استاد الاساتذہ
رہبر چندن پٹوی کا سہرا بھی شامل ہے۔ یہ باب سہرا نگاری کو کلاسیکی شعری زمین سے
جوڑتا ہے اور اس کی فنی وسعت کو اجاگر کرتا ہے۔
تیسرا باب "توشیحی نظم" ہے، جو مذہبی اور تہنیتی
امتزاج کا مظہر ہے۔ چوتھا باب "غیر منقوط سہرا" ہے، جو اردو ادب میں ایک
نادر اور مشکل فن کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس میں صرف دو سہرے شامل ہیں، جو حسن
بلیاوی اور منتظم عاصی جیسے استاد فنکاروں کے زور قلم کا نتیجہ ہیں۔ غیر منقوط فن پارے اردو میں
کم یاب ہیں اور کتاب میں ان کی شمولیت اس کتاب کی فنی قدر کو بڑھاتا ہے۔
پانچواں باب "مزاحیہ سہرے" ہے، جس میں چھ سہرے
شامل ہیں۔ یہ باب سہرا نگاری میں طنز و مزاح کے رنگ اور زاویے کو شامل کر کے اس صنف کو مزید دلکش اور متنوع
بناتا ہے۔ چھٹا باب "خواتین کے سہرے" ہے، جس میں دس سہرے شامل ہیں اور
یہ تمام خواتین کی تخلیقات ہیں۔ یہ صنفی شراکت اردو ادب میں خواتین کی تخلیقی
موجودگی کو سراہنے کی ایک خوبصورت کوشش ہے۔
ساتواں باب "رباعیات" ہے، جس میں تین شاعروں کے
کلام شامل ہیں، جن میں پروفیسر ظفر کمالی جیسے رباعی ماہر کا کلام بھی شامل ہے۔
آٹھواں باب "قطعات و ماہیے" ہے، جس میں بائیس تخلیقات شامل ہیں۔ یہ
مختصر مگر اثر انگیز شعری اصناف سہرا نگاری کے دائرے کو وسعت دیتی ہیں۔ نواں باب
"رخصتی" ہے، جو جذباتی اور روایتی رنگ لیے ہوئے ہے۔ دسواں باب
"کلمات تبریک" ہے، جس میں مختلف
شخصیات کی نثری دعائیں اور مبارکبادیں شامل کی گئی ہیں۔
کتاب میں شامل تصاویر اس کی جمالیاتی قدر کو بڑھاتی ہیں اور قاری کو ایک بصری
تجربہ بھی فراہم کرتی ہیں۔ ساتھ ہی تصاویر کی شمولیت کتاب مزید یادگار بن گئی ہے۔ اس
کے علاوہ مولانا محمود حسن دیوبندی کی مناجات، مولانا احمد رضا خاں کا نعتیہ سہرا،
اور دیگر مشاہیر کی تخلیقات کو شامل کر کے مرتب نے اس کتاب کو ماضی و حال کے
درمیان ایک فکری رابطہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
مرتب نے اپنےمقدمے میں لکھا ہے کہ "سہرے خلوص و محبت
پر مبنی ہوتے ہیں" اور "دعائیہ اشعار سے لبریز ہوتے ہیں" یہ خیالات اس صنف کی روحانی اور جذباتی جہت کو
اجاگر کرتے ہیں۔ یہ محض شاعری نہیں بلکہ دل کی آواز ہے جو خوشی کے موقع پر دعاؤں،
تمناؤں اور محبتوں کا اظہار کرتی ہے۔ اسی طرح مرتب نے یہ بھی لکھا ہے:"فی
زمانہ لوگوں کی فرمائشوں پر تہنیتی کلام کی شکل میں جو 'سہرے' یا 'رخصتی نامے'
لکھے جا رہے ہیں وہ بے لوث محض خلوص و محبت کی وجہ سے ہے۔ میری نظر میں صنف سہرا
ایک ایسی مثبت صنف ہے جس میں شاعروں کی خلوص نیتی اور مثبت خیالات دعائیہ اشعار سے
لبریز ہوتے ہیں۔" مرتب ڈاکٹر عبد
الودود کا یہ خیال بھی اس بات کی تائید کرتا ہے کہ سہرا نگاری صرف ایک ادبی اظہار
نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور روحانی تجربہ بھی ہے۔
ضیائے حنا میں شامل کلاسیکی ادب کے
اقتباسات، مختلف خطوں میں سہرا نگاری کی روایت پر روشنی، اور شعری تنوع اس کتاب کو
صرف ایک تہنیتی مجموعہ نہیں بلکہ اردو ادب میں ایک حوالہ جاتی مقام عطا کرتے ہیں۔
مرتب نے ہندوستان، پاکستان، پنجاب، نیپال، شکاگو، جدہ، حیدرآباد، رامپور، اعظم
گڑھ، مالیگاؤں، مغربی بنگال اور بہار جیسے خطوں میں سہرا نگاری کی روایت کو سلیقے
سے پیش کیا ہے، جو اس کتاب کو ایک بین الاقوامی تناظر عطا کرتا ہے۔
اوپر کے اندراجات سے کتاب کے معیار و میزان کا اندازہ بھی
ہوتا ہے۔ یہ کہنےمیں کوئی حرج نہیں کہ زود شمولی کی کوشش میں بعض تخلیقات اس پائے
کی نہیں ہوسکی ہیں جس کا تقاضا اعلی شاعری
کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے
کہ کچھ لوگوں کا کلام شرما حضوری میں بھی شامل ہوگیا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ
ساتھ بڑی تعداد اس فن میں عمدگی کا درجہ رکھتی ہے
جس کے صاحب کتاب قابل مبارکباد ہیں۔ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ ڈاکٹر عبد الودود قاسمی نے
سہرا نگاری کے فن کی تاریخ مرتب کرنے میں ایک سنگ میل رکھ دیا ہے۔ جب بھی اردو
شاعری کی تاریخ میں صنف سہرا کے حوالے سے تحقیق و تدوین کا کام کیا جائے گا، ضیائے
حنا ایک لازمی حوالہ بن کر سامنے آئے
گی۔ یہ کتاب تہنیتی ادب، شعری روایت، اور تہذیبی ہم آہنگی کا ایسا درخشاں چراغ ہے
جو دیر تک روشنی دیتا رہے گا۔
مرتب کی علمی بصیرت، ادبی شعور، اور تہذیبی حساسیت کا انعکاس اس کتاب میں واضح طور پر ہوتا ہے۔
انہوں نے نہ صرف ایک والد کی حیثیت سے محبت کا اظہار کیا ہے بلکہ ایک ادیب، محقق
اور ثقافتی مؤرخ کی حیثیت سے اردو تہذیب کی خدمت بھی کی ہے جو ان کے بچوں کے لیے
غیر معمولی یادگار کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی حوالہ بن کر دیر پا اثر چھوڑے گی۔
No comments:
Post a Comment