از دربھنگہ
۵ ستمبر ۲۰۲۵
مکرمی ڈاکٹر شمس
اقبال صاحب!
ڈائرکٹر قومی کونسل
برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی
السلام
علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید
ہے مزاج گرامی بخیر ہوگا۔
میں
سب سے پہلے کونسل کے زیر اہتمام پٹنہ کے باپو ٹاور میں۲۲ تا ۲۴ اگست ۲۰۲۵ کو منعقد سہ روزہ
قومی سیمینار کے انتہائی کامیاب انعقاد
پر آپ کو اور آپ کی پوری ٹیم کو مبارکباد
دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کی قیادت میں کونسل اسی طرح ترقی کی راہ پر
گامزن رہے گا۔ میں صمیم قلب سے آپ کا
شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس اہم علمی سیمینار کے پہلے سیشن میں مجھے بھی بحیثیت مباحثہ کار اظہار خیال کا موقع
دیا۔ یہ اعتراف لازم ہے کہ مذکورہ سیمینار
اپنی نوعیت کا بالکل منفرد اور جدا گانہ تھا جس میں روایتی انداز سے بالکل ہٹ کر اردو کے نئے مسائل
اور تقاضوں کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی تھی۔
پہلا سیشن مرکزی
موضوع کے تناظر میں بڑی وقعت کا حامل تھا۔
کیونکہ وکست بھارت اور نئی قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ یہ دونوں حکومت کے ایسے ڈاکیو
منٹ ہیں جن پر اب ملک کو ترقی کا سفر طے کرنا ہے۔ اس سیمینار کے ذریعہ اردو آبادی
کے اہل علم و نظر کو موقع دیا گیا کہ وہ
ان دونوں ڈاکیو منٹ کا علمی انداز
میں جائزہ لیں اور اپنی ترقی کے تمام تر
ذرائع تلاش کریں اور ملک کی دیگر آبادی سے پیچھے نہ رہیں۔ ظاہر ہے کہ جب مبسوط
جائزہ لیا جائے گا تو وہ کمزوریاں بھی واشگاف ہوں گی جو اردو آبادی کے لیے غیر
مفید ہوں یا ان
میں چھوٹ گئی ہیں ۔
ایسی صورت میں یہ چیزیں حکومت سے مکالمہ کے بعد ختم یا پوری ہوسکتی ہیں۔
اس سیمینار کے تقریبا
تمام موضوع نئی جہتوں سے منسلک تھے۔ ورنہ صورتحال یہ ہے کہ اردو زبان کے سلسلے میں ہونے والی گفتگو عمومی سطح پر ادب اور شاعری کے دائرے میں محصور ہو کر رہ جاتی ہے۔ الا ماشاء
اللہ۔ بلکہ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ اردو زبان کے ترقیاتی مسائل اب
رومانی ہو کر رہ گئے ہیں۔ میں نے اپنے کسی مضمون میں یہ لکھا تھا کہ ملک کے اردو
اداروں اور کونسلوں کو اپنی جانب سے کرائے جانے والے سیمیناروں کے کچھ حصے کو اردو زبان سے وابستہ غیر ادبی یا عمرانی اور
سائنسی علوم پر مبنی سیمیناروں کے لیے
مختص کر دینا چاہیے۔ آپ نے اس سیمینار میں ادب کے ساتھ بیشتر عمرانی اور سائنسی
علوم کو شامل کیا اور اپنی علمی اور تہذیبی وراثت کے سلسلے میں سوچنے کا موقع دیا جیسا کہ جناب اخلاق آہن صاحب
نے اپنی گفتگو میں تہذیبی وراثت اور علمی تسلسل کے سلسلے میں بڑی کار آمد گفتگو کی۔ اے آئی جیسے جدید موضوع پر ڈاکٹر عبد
الحی نے بڑی علمی گفتگو کی ۔ اردو
سیمیناروں میں ایسے موضوع اور ایسی علمی گفتگو سننے کا بہت کم موقع ملتا ہے۔
میں ایک بار پھر
امتنان و تشکر کے جذبے کے ساتھ آپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔
شکریہ!
آپ کا مخلص
احتشام الحق
دربھنگہ ، بہار
9234733379
No comments:
Post a Comment