پروفیسر صفدر امام قادری کی صدارت
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ذریعہ پٹنہ میں22-24 اگست 2025 کو ہونے والے سیمینارمیں
پروفیسر صفدر امام قادری نے ایک مجلس کی صدارت کی۔ اس صدارت میں انہوں نے جو اظہار
خیال کیا اس سلسلے میں مجھے ایک واٹس ایپ میسیج موصول ہوا جس میں ان کی صدارت کو
"دھجی اڑانے" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس بات سے مجھے شدید اختلاف ہے۔ اس
رائے زنی پر میری ناقص رائے کچھ اس طرح ہے:
پروفیسر صفدر امام قادری نے ایک نشست کی صدارت فرماتے ہوئے پیش کردہ مقالوں اور تبصروں
پر عالمانہ گفتگو کی۔ علمی مجلسوں کے صدر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مجلس میں پیش کردہ
علمی گفتگو پر نظر رکھے اور جب اس کو صدارتی کلمات کے لیے دعوت دی جائے تو وہ ان پر
عالمانہ انداز میں تبصرہ کرے۔ یہ صرف اس مقالہ نگار یا علمی بحث کرنے والوں پر رد عمل
نہیں ہوتا بلکہ وہاں موجود سامعین کی رہنمائی بھی ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ مقالہ نگار یا
باحث اپنی گفتگو میں کوئی علمی سہو کر گیا ہو۔ چونکہ سامعین ہر سطح کے ہوتے ہیں اس
لیے بعض سامع ان کے خیالات سے گمراہ ہو سکتے ہیں یا ان کی معلومات میں غلط بات بیٹھ
سکتی ہے۔ ایسے میں صدر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس کی اصلاح کرے۔ جہاں طلبہ اور
اسکالر بیٹھے ہوں وہاں نہ صرف خیالات سے بلکہ پیشکش کے طریقوں پر بھی اختلاف کیا
جاسکتا ہے یا کوئی مفید علمی مشورہ دیا جاسکتا ہے اور دیا جانا چاہیے۔ صدر کی باتوں کو "دھجی اڑانے" سے تعبیر
کرنا یہ ایک قسم کی شر انگیزی اور فتنہ پروری ہے۔
گرچہ بعض اوقات اپنی محبوب شخصیت کے
علمی قد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے یا ان کی دھاک جمانے کے لیے اس طرح کے فقرے استعمال کیے جاتے ہیں لیکن حقیقت میں
ایسے فقرے صدر کی بدنامی کا ذریعہ بن جاتے
ہیں۔ بلکہ صدر کو بدنام کرنے کی یہ ایک سازش ہوتی ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا ہے کہ
کسی صدر نے کسی مجلس میں جن خیالات کا اظہار
کیا ہے وہ تنقید یا اختلاف رائے سے بالاتر ہے۔ لیکن اس طرح کے فقرے استعمال نہیں کرنا
چاہیے۔ اگر ان کی رائے سے کسی کو اختلاف ہو
تو بعد میں یا اگر موقع ہو اور ماحول میں نا خوشگواری کی فضا پیدا ہونے کا خطرہ نہ
ہو تو اسی مجلس میں مہذب، شائستہ ، مدلل، منطقی
اور علمی انداز میں تردید کی جاسکتی ہے۔ چونکہ صدر کے بعد کسی اور کے اظہار خیال
کی روایت نہیں رہی ہے ۔ اس لیے یہ کام اسٹیج سے نہیں کیا جانا چاہیے۔
علمی دنیا میں اختلاف رائے علمی نشاط اور
بیداری کا مظہر ہے اور یہ ہوتے رہنا چاہیے۔ ورنہ علمی جمود کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر
ایسا نہ ہو تو کسی علمی مجلس کے انعقاد کا
جواز بھی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اختلاف رائے اور تردید کے وقت علمی
اسلوب اور شائستگی برقرار رہنی چاہیے ۔ کسی پر ایسا جارح تبصرہ نہیں کرنا چاہیے جس
سے کسی کی تذلیل ہو یا اس کی عزت نفس کے خلاف بات ہو۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگ بڑے نازک ہوتے
ہیں۔ علمی مجالس میں بشمول صدر اگر ان کی رائے
سے کوئی اختلاف کرتا ہے تو وہ اس کو اپنی عزت نفس یا علمی شان کے خلاف سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن یہ بات عزت نفس کے خلاف
تھی یا نہیں تھی اس کا اندازہ عام لوگوں کو بخوبی ہوتا ہے۔
No comments:
Post a Comment