یہ
کہنے میں کوئی شک نہیں کہ اردو زبان کا دامن غیر ادبی علمی سرمائے سے
ہرگز خالی نہیں ہے لیکن یہ کہنا بھی بےجا نہیں ہے کہ اردو میں جو علمی سرمایہ ہے
وہ سائنسی ریاضی اور عمرانی علوم کے سلسلے میں تنگ ضرور ہے۔ ایک تعلیم یافتہ سماج
کو ترقی کے لیے ادب کے ماسوا جن علوم کی حاجت اور ضرورت ہوتی ہے موجودہ وقت میں
اردو زبان میں وہ سرمایہ کم ہے اور اس کے لکھنے کی رفتار بھی بہت سست بلکہ مایوس
کن ہے۔ حالانکہ اس حوالے سے ایک سنہری دور بھی رہا ہے۔ ماسٹر رام چند کی خدمات اس حوالے سے ناقابل
فراموش ہیں ۔ جامعہ عثمانیہ نے بھی عظیم خدمات انجام دی ہیں۔ اس دور میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے
اشاعتی پروجیکٹ میں قابل ذکر حصہ مذکورہ مضامین کا بھی موجود ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے اردو زبان
کو اپنا میڈیم بنایا ہے اس لیے وہاں بھی اردو زبان میں مختلف علوم کے تراجم کا کام جاری ہے ۔ اس کے
علاوہ ہر دور میں چند ماہرین ایسے ضرور رہے ہیں جو اپنی دلچسپی کے ساتھ سائنسی اور
عمرانی علوم کے حوالے سے کچھ نہ کچھ کام ضرور کرتے رہے ہیں۔ ان سب کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ان علوم میں جس طرح کی
لگاتار کاوشوں کی ضرورت ہوتی ہے اردو زبان میں وہ پوری نہیں ہو رہی ہے اور یہ زبان
کی ترقی کے لیے سم قاتل سے کم نہیں ہے۔ یہ ذکر بھی بے جا نہیں ہے کہ اردو میں ان
علوم کی کتابوں کا شمار ترجموں کے ذیل میں
ہی ہوتا ہے۔
انہی
کم کم ہونے والے کاموں کے درمیان کچھ چیزیں ضرور سامنے آجاتی ہیں جن سے امید کی رمق باقی رہتی ہے۔ ایسے ہی کاموں میں ایک اہم اور نمایاں کام
ہندوستانی سائنس دانوں کی حیات و خدمات پر مبنی کتاب معماران ہند ہے جو سائنسی
علوم کے ماہر پروفیسر پریم موہن مشرا کی میتھلی تصنیف بھارت بھاگیہ ودھاتا کا اردو
ترجمہ ہے۔ پروفیسر پریم موہن مشرا کا تعلق
علم کیمیا سے ہے اور وہ متھلا یونیورسٹی کے شعبہ کیمیا میں بحیثیت صدر فائز ہیں۔
کیمسٹری میں ریاست گیر سطح پر ان کی شناخت کے ساتھ میتھلی زبان سے بھی ان کی گہری وابستگی ہے۔
یہ
میتھلی سے ہندی میں بذریعہ خود مصنف اور
پھر اردو میں ترجمہ ہوئی ہے۔ اردو میں
ترجمے کی ذمہ داری ڈاکٹر عبدالرحمن ارشد نے انجام دی ہے۔
ڈاکٹر
عبدالرحمن ارشد کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے۔ وہ ایک
ہائر سکنڈری گورنمنٹ ہائی سکول میں اردو
کے معلم ہیں۔ ثانوی درجات تک ان کا مضمون
سائنس رہا ہے۔ ریاضی اور سائنس پر ان کی
گہری نظر ہے۔ ترجمے کے شعبے میں بھی وہ
کام کر چکے ہیں اور بہت اچھا تجربہ رکھتے ہیں۔ انگریزی اور ہندی دونوں زبانوں سے اردو میں اور اس کے بالمقابل ترجمہ
کرنے کے وہ اہل ہیں۔ یہ ترجمہ بھی ان کی
مہارت کی عکاسی کرتا ہے۔
زیر
نظر کتاب دراصل ہندوستانی سائنس کی تاریخ ہے۔ کتاب میں دور قدیم سے جدید عہد تک کے ۲۶ اہم ہندوستانی سائنس دانوں کی خدمات اور حیات
کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ مصنف کا مقصد میتھلی
میں لکھنے کا یہی ہے کہ مادری زبان میں تعلیم کی حوصلہ افزائی ہو۔ ساتھ ہی ہندوستانی بچے اپنے علمی سرمائے اور اپنی عظیم شخصیات سے متعارف ہوں۔ جس سے ان کے دلوں میں اپنے ملک اور اپنی تاریخ
پر فخر کا احساس ہو سکے۔ ڈاکٹر عبدالرحمن ارشد کا اردو میں کیا ہوا یہ ترجمہ مصنف
کے اس مقصد کوبلا شبہ آگے بڑھاتا ہے۔
اس
کتاب کے مطالعے سے ہندوستان میں طب، یوگا ،
ریاضی، کیمیا، قدرتی سائنس، فلکیات، جوہری
پروگرام، طبعیات، شماریات، بائیو کیمسٹری، اور زرعی سائنس وغیرہ کے میدان میں ہندوستان کی
اولیت اور نمایاں خدمات کا علم ہوتا ہے۔ ساتھ ہی سائنس دانوں نے علم کے میدان میں
جو جتن کیے ہیں اور ان کی زندگی جن اقتصادی سیاسی ، سماجی اور علمی مشکلات سے گزری
ہے اس کا اندازہ ہوتا ہے جو طالب علم کو حوصلہ بخشنے تعلیم کے حصول کی رغبت دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جن
سائنس دانوں کو اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے ان کے نام ، تاریخ پیدائش ، ان کی مہارت
کا میدان اور تاریخ وفات جیسی بنیادی چیزیں لازمی طور پر شامل کی گئی ہیں۔ جہاں تک
ممکن ہو سکا ہے سائنس دانوں کی تصویریں یا جن اداروں سے ان کی وابستگی رہی ہے ان کی
تصویریں بھی شامل کی گئی ہیں۔
ایک
بات مصنف کی جانب سے ضرور کھٹکتی ہے کہ اس تقریبا ہزار سالہ ہندوستانی سائنس کی
تاریخ میں ایسا کوئی قابل ذکر مسلم ، عیسائی یا سکھ سائنس داں نہیں ہوا جس کا ذکر
کیا جائے۔ مصنف نے اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔
مترجم
نے حرفے چند کے عنوان سے اپنے پیش لفظ میں ترجمہ نگاری اور سائنسی اور علمی ترجمے پر سیر حاصل
بحث کی ہے جس سے ترجمے پر ان کی گرفت اور ترجمے کی تکنیک سے ان کی واقفیت کا
اندازہ ہوتا ہے۔ کتاب کی طباعت انتہائی
عمدہ ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ کتاب طلبہ کے ساتھ ساتھ ذی علم افراد کے کام آئے گی۔
No comments:
Post a Comment