تحریر کے چند لوازمات
تحریر یعنی لکھنا ایک فن ہے۔ کوئی بھی فن انسان مشق اور
مزاولت سے سیکھتا ہے۔ کسی فن کے تئیں طبعی میلان ہوسکتا ہے لیکن فن پر مہارت اس
وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ ہم اس کے آلات و ادوات کے استعمال کو نہ سیکھ
لیں۔ اس فن کے بہت سے جزئیات ہیں ۔ایک طالب کو ان جزئیات سے واقف ہونا چاہیے تاکہ
وہ اچھا لکھنا سیکھ سکیں۔ لیکن ہم لکھنے کے فن اور ہنر سے واقف ہوں ، اس سے پہلے
یہ جاننا ضروری ہے کہ لکھنا کیوں ضروری ہے؟
لکھنا
کیوں ضروری ہے؟
لکھنا
اس لیے ضروری ہے کہ لکھی ہوئی چیزیں محفوظ ہوتی ہیں اور آنے والے دنوں کے لیے باقی
رہ جاتی ہیں۔ اس کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ آج علم کا وہ سرمایہ جو ہمارے پاس موجود ہے یا دنیا میں کہیں بھی اور کسی بھی قوم کے پاس
کسی بھی شکل میں موجود ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ اس کو کسی نہ کسی شکل میں لکھا گیا ہے۔
علم کا یہ سرمایہ لا محدود ہے۔ یہ دنیا کروڑوں اربوں سال سے قائم ہے لیکن ہم جس دنیا
کو جانتے ہیں یا جان پائے ہیں یہ وہی دنیا ہے جس کے بارے میں لکھا ہوا پایا گیا
ہے۔ جب تک دنیا لکھنے کے فن سے ناواقف تھی ترقی کی رفتار سست تھی۔ لکھنے کے فن کی
ایجاد سے قبل لوگ دیکھ کر یا سن کر کوئی چیز
سیکھتے تھے۔ دکھا کر یا سناکر کوئی چیز سکھاتے
تھے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں اس کا دائرہ کیا ہوسکتا ہے۔
جب
ہم کچھ لکھتے ہیں تو ہمارے برسوں کے تجربات و احساسات چند الفاظ میں قید ہوجاتے ہیں
۔ ان الفاظ کو جو کوئی پڑھ اور سمجھ سکتا ہے اور جب تک اس کو پڑھا اور سمجھا
جاسکتا ہے ،اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس طرح ماضی کے انسانوں نے جن تجربات و
احساسات کو لکھ کر محفوظ کر دیا ، آنے والی نسلوں نے ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آگے
کا سفر شروع کیا۔
اربوں
کھربوں سال پرانی دنیا میں آج ہم یا دنیا کے لوگ انہی افراد ، قوم اور نسلوں کو
جان رہے ہیں جنہوں نے خود لکھا ہے یا جن کے بارے میں کچھ لکھا گیا ہے۔ جنہوں نے نہ
خود کچھ لکھا اور نہ کسی کے بارے میں لکھا اور نہ ہی ان کے بارے میں لکھا گیا وہ
انسانی حافظہ کا حصہ نہیں بن سکے۔ ہم اسلامی تاریخ میں ایسے بہت سے افراد کو جانتے
ہیں جنہوں نے اسلام کے خلاف یا اسلام کو مٹانے کے لیے کام کیا ہے۔ ہم ان کو اسی لیے
جانتے ہیں کہ ان کے بارے میں کچھ لکھا گیا ہے۔ اگر محمد ﷺ کی تاریخ اور سوانح نہیں
لکھی جاتی تو ابو جہل، ابو لہب اور اس طرح
کے دشمنان اسلام کو کون جانتا؟
دنیا
کی عظیم ترین شخصیات جن کے بارے میں تحریری صورت میں کچھ محفوظ نہیں رہا وہ زیادہ
سے زیادہ دو تین نسلوں تک حافظوں میں رہی۔ ہم خود اپنے ہی دو تین پشت اوپر کے باپ
داداؤں کو اس لیے نہیں جانتے ہیں کہ ان کے بارے میں کچھ نہیں لکھا گیا۔ انہی کے
معاصرین کئی افراد کو اس لیے جانتے ہیں کہ ان کے بارے میں لکھا گیا ہے۔
اب
جب آپ نے یہ سمجھ لیا کہ لکھنا کیوں ضروری ہے تو یہ بات سمجھنے کی ہے کہ آپ کا
لکھنا کیوں ضروری ہے۔ آج لکھنے کا فن عام ہے اور ہمارے درمیان بھی بہت سے لکھنے
والے ہیں۔ ایسے میں ہمارا لکھنا کیوں ضروری ہے؟
ہم
کیوں لکھیں؟
پہلی
بات تو یہ کہ ہم سے ٹھیک اوپر تک کے لوگوں
نے علم و دانش کا جو سرمایہ ہمارے سپرد کیا
ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے اس کو اپنے عہد سے مطابقت دے کر اس سے فائدہ
اٹھایا ہے۔ یہ مطابقت در اصل ہمارا تجربہ اور ہمارا احساس ہے۔ یہ دنیا مسلسل چل رہی
ہے۔ آپ جس عہد میں ہیں آنے والی نسل اس عہد میں نہیں ہوگی ۔ اس کا دوسرا عہد ہوگا۔
لہذا تجربات کا یہ تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے۔ لہذا ہمارا فریضہ ہے کہ ہم نے پچھلی نسلوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے
اپنا جو تجربہ کیا ہے ان کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا جائے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک
ہی ماحول میں رہتے ہوئے منفرد طبعیت کا حامل ہے ۔ علم اور عقل و خرد کی الگ الگ
سطحیں رکھتا ہے۔ ان کے پاس زندگی کے الگ الگ شعبوں میں الگ الگ تجربات ہیں۔اس نے
اپنی نظر سے دنیا کو جس طرح دیکھا اور
برتا ہے وہ دوسروں سے کچھ نہ کچھ منفرد ہے۔ ان تجربات کو ہمیں آنے والی نسلوں تک پہنچانا
ہے۔
لکھنا
کیا ہے ؟ اس کو جاننے سے پہلے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ہم کس کے لئے لکھیں؟
کس
کے لیے لکھیں؟
ظاہر ہے کہ ہم جس سماج میں جیتے ہیں اس میں بڑی
تعداد ایسی ہے جس کو زندگی کے الگ الگ میدانوں میں رہنمائی کی ضرورت ہے۔ کسی کا
کسی میدان میں تجربہ تو کسی کا کسی اور میدان میں تجربہ ہے۔ انسان تمام تجربات خود
نہیں کرسکتا ہے۔ یہ انسانی سماج کی بڑی مجبوری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بغیر جی ہی
نہیں سکتا ہے۔ اس لیے ہمارا کام ہے کہ ہم نے جو سیکھا ہے وہ اپنے سماج کے لوگوں کو
پہنچائیں۔
ہم
کیا لکھیں؟
آپ
کے پاس آنکھیں ہیں جو دیکھتی ہیں، دل ہے جو محسوس کرتا ہے ، عقل ہے جو اچھے برے کے
درمیان تمیز کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اور یہ دنیا حق و باطل کی کی معرکہ آرائی میں
مصروف ہے۔ سچ اور جھوٹ میں آنکھ مچولی جاری
ہے۔ ظالم و مظلوم کے مابین کشمکش ہے۔ آپ کی
آنکھوں نے جو دیکھا، دل نے جو محسوس کیا ضمیر اور احساس پر جو ضرب پڑی اور عقل نے
ان میں جو تمیز کی اس کو لکھئے۔
مضمون
اس موضوع پر لکھنا چاہیے جس پر آپ کا گہرا مطالعہ ہو اور جس کو آپ بخوبی سمجھتے
ہو۔ آپ کا جو موضوع نہیں ہے یا جس پر آپ کا گہرا مطالعہ نہیں ہے اس پر بلاوجہ قلم
اٹھانے سے باز رہنا چاہیے۔آج علم کے میدان
پھیل گئے ہیں۔ ممکن نہیں ہے کہ ہر شخص ہر موضوع میں خامہ فرسائی کر سکے۔ اگر آپ کسی
نئے موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ آپ اس میں بہت زیادہ مطالعہ کر لیں
باریکیوں کو سمجھ لیں اس کے بعد لکھیں نہیں تو آپ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ
سکتا ہے۔
کیسے
لکھیں؟
مطالعہ
کیجئے؟
لکھنے
سے پہلے پڑھنا ضروری ہے۔ آپ کو پڑھنا ہوگا اور خوب پڑھنا ہوگا۔ پڑھتے پڑھتے آپ کو
محسوس ہوگا کہ لوگوں نے کیا لکھا اور کس انداز میں لکھا ہے۔ آپ نے پانی کے گھڑے کو
دیکھا ہوگا۔ اس میں پانی بھر دیجئے اور کچھ دن چھوڑ دیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ
وقت کے بعد باہر سیلن نظر آنے لگے گی اور
ممکن ہے کہ سیلن پانی کے قطروں میں تبدیل ہوجائے۔ لکھنے کا مسئلہ در اصل ایسا ہی
ہے کہ جب آپ کے اندر علم یا معلومات ہوگی تو اس سے خود ہی علم کشید ہونے لگے گا۔ جب
آپ سو دوسو صفحات پڑھیں گے تو ایک دو صفحے کی معلومات اور نتائج آپ کے پاس ضرور
ہوں گے۔
اپنے
ماحول سے با خبر رہئے:
ہم
جہاں رہتے ہیں وہ ہر وقت اچھی بری چیزیں چلتی رہتی ہیں۔ ہم جب ان کو دیکھتے ہیں تو
ہمارے ذہن میں ان کے بارے میں ایک رائے قائم ہوتی ہے بھلے ہی ہم زبان سے اس کا
اظہار کریں یا نہ کریں۔ اگر آپ کو لگے کہ کوئی چیز اچھی ہے جو سماج و معاشرہ کے لیے مفید ہے یا کوئی چیز بری ہے
اور معاشرہ کے لیے نقصاندہ ہے تو آپ اس کو کاغذ پر اتار دیجئے۔ ٹوٹے پھوٹے الفاظ
میں ہی اتار دیجئے۔ جب آپ انہیں کاغذ پر اتاریں گے تو آپ کو اس کے پیچھے کے مقاصد
بھی نظر آنے لگیں گے۔ کوئی چیز کیوں اور کیسے برپا ہوئی جب آپ اس کو پہنچاننے لگیں
گے تو تحریر کا ایک اور وصف آپ میں آنے لگے گا۔ اگلا مرحلہ یہ ہے کہ آپ یہ سمجھنے
کی کوشش کیجئے کہ آپ کو جو کچھ نظر آیا ، اس کے فوری اور دیرپا نتائج کیا مرتب ہوں
گے۔ ایک عمومی سطح کا مضمون اس سے تیار ہوجاتا ہے۔ تو پہلی چیز یہ ہوئی کہ آپ اپنے
ماحول سے با خبر رہئے۔
کاتا
اور لے دوڑا سے بچئے:
کوئی
چیز لکھنے کے بعد چھپ جاتی ہے تو بلا شبہ مضمون نگار کو خوشی ہوتی ہے۔اسی طرح کی
خوشی جس طرح کسی خاتون کو پہلی مرتبہ ماں بننے کی خوشی ہوتی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ انسان قلم پکڑنا سیکھے اور
اس کو جگہ بھی مل جائے۔ ابتدا میں آپ اپنی بیاض بنالیں اور اس میں چیزوں کو لکھتے
رہیں۔ جب آپ لکھنے والے ہوجائیں گے اور خود اپنی ہی چیزوں کو پڑھیں گے تو اندازہ
ہوگا کہ آپ کیسا لکھتے تھے اور خود فیصلہ
کرلیں گے کہ وہ اشاعت کے لائق چیز تھی یا نہیں؟ لکھنے کے لیے مشق و مزاولت بہت ضروری ہے۔ ابتدا میں ہی
پکی روشنائی سے نام چھپانے کا شوق بہت اچھا نہیں ہے۔
نقل
نویسی سے بچئے:
آپ
کا مطالعہ وسیع ہو۔ مختلف مصنفین کو پڑھیں ۔ ان کے اسلوب بیان پر غور کریں۔ ان سے
سیکھیں مگر کسی خاص مصنف کی نقل نہ کریں۔ نقل سے انسان کی اپنی شناخت قائم نہیں
ہوتی۔آپ جب لکھنے بیٹھیں تو ذہن میں جو نکتہ آئے اس کو لکھتے چلے جائیں۔ خواہ اس
کا پچھلے جملے سے ربط ہو یا نہ ہو ۔ آپ لکھ کر چھوڑ دیں۔ ایک دو دن بعد پھر پڑھیں۔
دو تین بار غور سے پڑھیں۔ پھر نئے سرے سے لکھنا شروع کریں۔ شروع کے دنوں میں آپ کو
کئی بار لکھنا پڑسکتا ہے۔اچھا مضمون نگار اشاعت سے قبل بار بار پڑھ کر اطمینان
حاصل کرتا ہے کہ اس میں کسی طرح کی خامی نہ ہو۔ عام طور پر اپنا لکھا ہوا خود
پڑھنے میں خامیاں رہ جاتی ہیں۔ اس لیے چاہیے کہ کسی دوسرے سے پڑھوا لیا کریں۔
لکھنے
کاکوئی ایک طریقہ طے نہیں ہے:
جس
طرح بات کہنے کا کوئی ایک طریقہ طے نہیں ہے، اسی طرح لکھنے کا بھی کوئی ایک طریقہ طے نہیں ہے۔ آپ کا
انفراد یہ ہے آپ جو محسوس کرتے ہیں اس کو اس انداز میں لکھئے کہ قاری پر وہی احساس
طاری ہو جائے جس کا اثر آپ پر ہے۔ انداز بیان ایسا ہو جو قاری میں اکتاہٹ پیدا نہ کرے۔ اسے محسوس ہو
کہ یہ اس کے دل کی آواز ہے۔ ع
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
انداز
تحریر میں تبدیلی:
یہ
بھی جاننا چاہیے کہ عہد بہ عہد انداز تحریر میں اجتماعی سطح پر تبدیلی آتی رہتی
ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک لمبے لمبے جملے ، مترادفات کی کثرت سے قابلیت کا اظہار ہوتا
تھا۔ لیکن اب چھوٹے چھوٹے جملے پسند کئے جاتے ہیں۔زیادہ مترادفات کا استعمال طبعیت
پر گرانی کا سبب بنتا ہے۔لیکن آپ کو الفاظ کے زیادہ سے زیادہ مترادفات معلوم ہونے
چاہیے۔ جملے وہی اچھے ہوتے جو بول چال کی زبان سے زیادہ سے زیادہ قریب ہوں۔ لیکن یہ
ایک مشکل کام ہے۔ طویل مشق کے بعد مضمون نگار اس پر عبور پاتا ہے۔
پہلے
لمبی لمبی تمہید باندھی جاتی تھی پھر مضمون نگار نفس مضمون پر آتا تھا۔ اب ایسا نہیں ہے۔ اب بہت مختصر تمہید
ہوتی ہے۔ وہ بھی ایسی کو جس تمہید کہا بھی نہیں جاسکتا۔ ایک دو چھوٹے سے جملے تمہید
کے ہوتے ہیں جو نفس مضمون سے اس طرح منسلک ہوتے ہیں کہ اس کو ہٹادیں تو بات ہی نہ
بنے۔
مضمون
کے حصے:
مضمون
کے تین حصے ہوتے ہیں ۔ تمہید نفس مضمون اور خلاصہ ۔ خلاصہ بھی مختصر ہی ہوتا ہے۔
خلاصہ پورے مضمون کا نتیجہ ہوتا ہے۔
مضمون
کی طوالت کے لحاظ سے تمہید اور خلاصہ کا حجم بڑھ گھٹ سکتا ہے۔ لیکن ہر حال میں اس
پر نظر رہنی چاہیے کہ اگر جملہ بلکہ لفظ بھی ایسا ہو کہ اس کو ہٹا دینے سے بیان میں
کوئی کمی نہ آئے تو وہ فاضل ہے اور کا ہٹا دینا ہی بہتر ہے۔جامع تحریر قاری کی
توجہ ہٹنے نہیں دیتی۔
مضمون
کی طوالت کے سلسلے میں بھی جاننا چاہیے کہ مبتدی کے لیے بڑا مضمون لکھنا مشکل ہوتا
ہے۔ پھر ایک وقت آتا کہ چھوٹا مضمون لکھنا مشکل ہوتا ہے۔ جب آدمی ماہر ہو جاتا ہے
تو اس کے مضمون کو چھوٹا بڑا کرنا آسان ہوتا ہے۔
چھوٹا مضمون بیان پر قدرت پانے کے بعد آتا ہے۔ دور حاضر میں اس کی سب سے
عمدہ مثال مولانا وحید الدین خان کے یہاں ہیں۔
آپ
آزاد نہیں ہیں:
لکھتے
وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آپ
آزاد نہیں ہیں۔ نہ ملک میں، نہ سماج میں، نہ اللہ کے نزدیک۔ یوں بھی آپ سماج میں ایک ذمہ دار فرد ہیں اور لکھتے
وقت یہ ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ لہذا جو لکھ رہے ہیں
اس کو ذمہ داری سے لکھئے جس سے کسی دل آزاری نہ ہو ۔ یا آپ کی تحریر سماج میں فتنہ
و فساد کا سبب نہ بنے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ظلم کو ظلم اور ظالم کو
ظالم نہ کہیں ۔ تحریر کی خوبی غیر جانبداری ہے۔ لیکن ایک مسلمان کے قلم کو حق کا طرف دار اور ناحق کا مخالف ہونا چاہیے۔
قلم سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام لیجئے۔ مگر جان لیجئے کہ آپ سلطان
نہیں ہیں۔ کچھ چیزیں قانون کے دائرے میں قانون کو اپنا کام کرنے دیں۔ آپ یہ کہیں
کہ حقائق کے انکشاف اور شواہد کی رو سے آپ اس نتیجے تک پہنچے ہیں۔ یا حقائق اور
دلائل کی بنیاد پر آپ ایسا سمجھتے ہیں۔ بعض امور میں حقائق کو دیکھنے کے کئی زاویے
ہوسکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ جس زاویے سے دیکھ رہے ہیں وہی زاویہ درست ہو۔ آپ جس
زاویے سے دیکھ رہے ہیں اس پر آپ کو یقین اور اعتماد تو ہو لیکن یہ اصرار نہ ہو کہ
دوسرے کا زاویہ بالکل غلط ہے۔ حالانکہ اس کا بھی امکان ہے کہ دوسرے کا زاویہ غلط
ہو۔ ایسے میں توازن کے ساتھ قلم اٹھانا پڑتا ہے۔
بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیم
بات کہنے کا سلیقہ چاہیے
اسی طرح تحریر یا تقریر میں اس بات کا خیال رہنا چاہیے کہ کسی کی دوستی یا دشمنی آپ
کو حد سے تجاوز کرنے پر مجبور نہ کرے۔
تحریر
حشو و زوائد سے پاک ہو:
تحریر
کو حشو و زوائد سے پاک ہونا چاہیے۔ جب ہم کچھ بولنا یا لکھنا چاہتے ہیں تو ہمارے
ذہن میں اس خیال ، تصور یا شئے کی ایک کیفیت بنتی ہے یا کہیے ایک تصویر ابھرتی ہے۔
اس تصویر کو رنگ دینے کے لیے ہم الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک معنی کے لیے
درجنوں الفاظ موجود ہوتے ہیں۔ تصویر میں صحیح رنگ بھرا جائے ، اس کے لیے ہم ان
درجنوں الفاظ میں سے سب سے مناسب الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اگر ہم غیر مناسب لفظ
چنیں گے تو تصویر درست نہیں ابھرے گی۔ اور ہم جو کہنا چاہتے ہیں اس میں کامیاب نہیں
ہوں گے۔ اسی طرح ہم تصویر میں بلا وجہ بہت
سے رنگ بھر دیں تو تصویر خراب ہو جائے گی۔ اس لیے مناسب اور اتنے ہی الفاظ کا
استعمال کریں جتنا ضروری ہے۔
آپ
اپنی تحریر کو پڑھیں ہر جملہ پر غور کریں کہ اگر کسی جملہ میں کسی لفظ کو کم کردینے سے اس تصویر
کو ابھارنے میں کوئی نقص پیدا نہیں ہوتا
ہے تو سمجھ لیجئے کہ وہ لفظ زیادہ۔
الفاظ
میں کفایت شعاری:
تحریر
میں لفظوں کی کفایت شعاری ضروری ہے۔ تحریر میں بھی کفایت شعاری کی وہی اہمیت ہے جو
زندگی میں روپے پیسے کے خرچ میں کفایت شعاری کی اہمیت ہے۔ اس سے آپ کا وقت بچتا ہے اور قاری کا بھی۔ میگزین اور اخبار
کی جگہ بچتی ہے۔ اور تحریر میں جامعیت پیدا ہوتی ہے۔بڑے اخبارات و رسائل میں الفاظ
کی تعداد کی پابندی ہوتی ہے۔اگر کفایت شعاری نہیں ہوگی تو آپ کو مشکل ہوگی۔
قواعد
کا لحاظ:
اچھی
اور غلطیوں سے پاک زبان قاری کی توجہ مبذول کرتی ہے۔ قواعد کی غلطی با ذوق افراد
پر گراں گزرتی ہے۔ درست املا اور قواعد کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو مضمون میں حسن
پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اسی طرح ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہیے جس سے بھونڈا پن
پیدا ہو۔ جسم کے کچھ اعضا اور اسی طرح کئی
باتیں ایسی ہیں جن کو مہذب معاشرہ میں کھلے
لفظوں میں سننا خراب سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لیے دوسرے الفاظ موجود ہیں ۔ اس طرح کے
الفاظ استعمال کرنا چاہیے۔ یا کوئی جملہ تراشنا چاہیے۔ ایک چھوٹی سی مثال سمجھئے۔ لفظ سال جو سن کے لیے استعمال ہوتا
ہے۔ اس کی جمع سالوں ہوتی ہے۔ اس لفظ اور
اردو میں برادر نسبتی کے لفظ کی جمع ایک ہی۔ اس لیے کچھ با ذوق مضمون نگار کئی
سالوں، چند سالوں کی بجائے کئی برسوں اور چند برسوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح
ایک جملے میں ایک ہی لفظ کی تکرار سے بھونڈا پن پیدا ہوتا ہے۔
علامات
رموز و اوقاف:
علامات
رموز و اوقاف کا استعمال تحریر کو با معنی اور سریع الفہم بناتا ہے۔ جبکہ رموز کا
استعمال نہیں کرنے یا غلط استعمال سے معنی خبط ہو جاتا ہے۔
فکر
میں تضاد:
مضمون
نگار کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کی فکر میں تضاد پیدا نہ ہو۔ ایک ہی
مضمون یا مقالے میں تو متضاد خیال ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن مضمون نگار کو اپنا
وقار اور اعتبار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے دیگر مضمون میں بھی بیان کی گئی
کسی فکر یا خیال سے کسی دوسرے مضمون میں تضاد پیدا نہ ہو۔ اگر تضاد کی صورت پیدا
ہوتی ہے تو مضمون نگار کو اپنے پچھلے خیال کے سلسلے میں واضح نقطہ نظر کا اظہار
کرنا چاہیے کہ وہاں اس سے غلطی ہوئی ہے۔ یا پھر پہلے اس کا پہلے ایسا خیال تھا لیکن کسی خاص معاملے میں حقیقت
حال کے انکشاف کے بعد اب اس کی یہ رائے ہے۔
مقالہ
نگاری کی چند باتیں:
جب آپ مقالہ لکھ رہے ہوں تو اس کی پہلے سے منصوبہ
بندی ہوتی ہے۔ مقالے میں در اصل ایک دعویٰ کیا جاتا ۔ اس کو ثابت کرنے کے لیے دلیل
لائی جاتی ہے۔ دعویٰ اور دلیل میں موافقت پیدا ہونی چاہیے۔ پھر کسی نتیجے پر پہنچ
کر فائنڈنگ پیش کی جاتی ہے۔
مقالہ
لکھنے سے قبل گہرا مطالعہ کرنا پڑتا۔ آپ کے ذہن میں جو دعوی ہے اس دعوے کی موافقت
میں جتنی دلیلیں ہیں سب کو نوٹ کرنا پڑتا ہے۔ دلیلوں کی پرائمری ریسورس اور سیکنڈری
ریسورس کو تلاش کیا جاتا ہے۔ پھر مقالہ تحریر کیا جاتا ہے۔
مقالہ
لکھنے والوں کو تحقیق کے فن پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ اردو میں
گیان چند جین کی کتاب تحقیق کا فن اور تنویر علوی کی کتاب اصول تحقیق و ترتیب متن
اچھی کتابیں ہیں۔
مطالعہ
کرتے وقت ایک مسئلہ یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آپ جس کی کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں
ممکن ہے کہ اس سے آپ کا فکری یا نظریاتی تضاد ہو۔ ایسے میں آپ کے اندر ایسی صلاحیت
ہونی چاہیے کہ آپ اس فکری یا نظریاتی تضاد کو محسوس کر سکیں اور اس سے بچ سکیں۔ لیکن
کسی نظریاتی تضاد کی وجہ سے کتاب کے مطالعے سے ہی طالب علم باز آجائے یہ اچھا رویہ
نہیں ہے۔ مطالعے کی کثرت کے ذریعہ آپ اس بات پر قابو پا جائیں گے کہ کوئی آپ کو
نظریاتی طور پر بھٹکا نہ سکے۔ لیکن کسی نظریاتی اختلاف کی وجہ سے یہ طے کر لینا
مناسب نہیں ہوگا کہ اس کی کتاب میں ہر بات غلط ہے۔ نظریاتی اختلاف کے باوجود آپ ان
کی کتابوں سے بہت سی چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔مطالعہ میں وسعت اور تنوع ہونا چاہیے۔
مختلف نوعیت کی کتابیں پڑھنی چاہیے۔ کچھ کتابیں معلومات میں اضافہ کرتی ہیں تو کچھ
شعور کو بالیدگی عطا کرتی ہیں اور زندگی کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔ کچھ کتابوں سے تاریخ
کا وجدان حاصل ہوتا ہے۔ کچھ کتابیں ہماری جمالیاتی حس کو مضبوط بناتی ہیں۔
تحریری
میں زمینی صورتحال:
آپ
جس ملک میں رہ رہے ہیں وہاں آپ کو ایک طرف تو اپنی تہذیب کے ساتھ جینا ہے دوسری
طرف اپنے برادران وطن سے اچھا تعلق قائم رکھنا ہے۔ آپ کی تحریر میں یہ توازن ہونا
چاہیے کہ اس ملک کے رہنے والے تمام لوگ اپنی اپنی تہذیبوں کی حفاظت کے ساتھ ایک
دوسرے سے ہم آہنگی بنا کر رہیں۔تحریر میں توازن ، تثبت تو ہونا چاہیے۔ تشدد نہیں
ہونا چاہیے ۔
اس
بات کا بھی دھیان رکھیں کہ اگر کسی گروہ سے آپ کا نظریاتی اختلاف ہے تو اس کے ہر
فرد کو غلط نہیں سمجھا جا سکتا ہے اگر کوئی اپنی تحریر یا تقریر سے آپ کے یا آپ کے گروہ کے خلاف غلط بیانی سے کام لے رہا ہے تو آپ
صرف اس فرد کو مورد الزام ٹھہرائیں گے نہ کہ پوری جماعت اور پورے گروہ کو۔
بیانیہ
اور پروپیگنڈا:
یہ
دور نظریاتی جنگ کا ہے۔ ایک قوم دوسری قوم
کو بدنام کرنے اور اس کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے ڈھکیلنے، اقتدار سے بے دخل کرنے کی
غرض سے اس کے خلاف ایک بیانیہ سیٹ کرتی ہے اور پروپیگنڈا کرتی ہے۔ قلم وہ ذریعہ ہے
جس سے بیانیہ اور پروپیگنڈا کا جواب دے سکتے ہیں۔ آپ کو در اصل اسی کی تیاری کرنی
ہے۔ اس کے لیے آپ کو قلم کی چالاکی کو سمجھنا ہوگا۔
صراحت
اور قطعیت:
مضمون نثر میں ہوتا ہے۔ اچھی نثر وہ ہے جس میں
جملے کی ساخت قواعد کے مطابق ہو۔ قواعد کے مطابق جملے کی ساخت ہونے سے بات واضح ہوتی ہے۔ ہر مضمون وضاحت ، قطعیت اور صراحت کا متقاضی ہوتا
ہے۔ مضمون میں ابہام تحریر کی خامی ہے۔ اس سے بچنا چاہیے۔
مثبت رویے کو اپنانا:
زندگی
میں بھی اور تحریر میں بھی آپ کا رویہ مثبت ہونا چاہیے۔ لیکن یہ بات آپ کے لیے
جاننے کی ہے کہ مثبت اور منفی کا تصور عام لوگوں میں بڑا مبہم ہے۔ زیادہ تر لوگ
اباحت پسندی کو مثبت طرز عمل سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن یہ درست طریقہ نہیں ہے۔ طبیب
یا جراح کا زخم سے مواد کو نکال باہر کرنا اس کا مریض کے ساتھ منفی سلوک نہیں
سمجھا جائے گا۔ لہذا تنقید برائے تعمیر و تحسین فکر و عمل ہونی چاہیئے نہ کہ تنقید
برائے تخریب و تنقیص۔
یہاں
تحسین سے مراد شاباشی نہیں بلکہ موضوع لہ میں ضروری اور اچھی بھلی شئے کو توافق
اور توازن کے ساتھ ابھارنا اور غیر ضروری چیزوں اور نقص کو کم کرنا یا نکالنا ہے۔
انانیت
سے باز رہنا:
تحریر
میں 'میں' کا استعمال یا زیادہ استعمال اچھا نہیں ہوتا ہے۔ اس سے انانیت پیدا ہوتی
ہے۔ میں کہتا ہوں یا میں کہنا چاہتا ہوں کی بجائے ایسا کہا جا سکتا ہے ایسا سمجھا
جا سکتا ہے، یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں وغیرہ لکھنا چاہیے۔ اگر آپ کو کوئی بات
دعوے سے کہنی ہو تو آپ کو یہ نہیں لکھنا چاہیے کہ میں دعوے کے ساتھ یہ بات کہہ
سکتا ہوں یا کہتا ہوں بلکہ اس کو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ دعوے کے ساتھ یہ بات کہی
جا سکتی ہے۔
مجہول
جملے کی معنویت:
اس
حوالے سے یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ تحریر میں مجہول جملے معنویت میں وسعت
پیدا کرتے ہیں اور آپ کے لیے بھی نکلنے کی راہ موجود رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ
بجائے ان کی جانب سے ایسا کہا گیا یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے ایسا
کہا جاتا ہے۔
یہ
چند باتیں تھیں جو ایک لکھنے والے کو جاننی چاہئیں۔
No comments:
Post a Comment