مشمولات

Friday, 5 September 2025

اردو زبان اور موجودہ صورتحال : چند گزارشات

 

اردو زبان اور موجودہ صورتحال : چند گزارشات

               موجودہ تناظر میں اگر  ہم اردو زبان کا جائزہ لیں تو مسئلہ انتہائی پیچیدہ نظر آتا ہے اور بہ آسانی ہم کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ آج اردو جن مسائل سے دو چار ہے ان میں سیاسی، سماجی، معاشی، مذہبی اور کئی طرح کے اسباب  وعوامل ہیں۔ ان تمام اسباب و عوامل کا احاطہ اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں ہے۔ مجموعی طور پر ہم نا امید تو نہیں  ہیں لیکن حالات مایوس کن  اور بڑے مایوس کن نظر آتے ہیں۔

               زبانیں چند روز میں نہیں بنتیں۔ اس کے فروغ  وارتقا میں کئی صدیاں لگتی ہیں تب جا کر کوئی واضح صورت اختیار کرتی ہے اور کبھی ایک مخصوص شکل پر جا کر نہیں رکتی۔ جب تک اس میں زندگی کی رمق رہتی ہے پیہم رواں ہر دم جواں کی صورتحال سے دو چار رہتی ہے۔ اسی طرح اس کی موت بھی چند روز میں یا ناگہانی نہیں ہوتی۔ اس کو مٹتے مٹے بھی کئی صدیاں لگ جاتی ہیں۔ اس کی رگوں میں تازہ خون کا دوران بند ہوجاتا ہے۔ نئے حالات اور نئے چیلنجز کو پورا کرنے میں ناکام ہوتی ہے اور وہ زوال کے راستہ کی مسافر بن جاتی ہے۔ موجودہ وقت میں اردو  بھی زوال پذیر صوررتحال سے دو چار ہے اور اگر اس کا مناسب سد باب نہیں کیا گیا تو ا س  کا زوال تیزی  سے ہوگا۔

ہم اردو کا جائزہ تین سطحوں پر لے سکتے ہیں

تعلیم

بول چال

اور کام کاج کی سطح

بنیادی تعلیم:              اگر ہم بنیادی تعلیم کی حیثیت سے اردو  کی تعلیم کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پرائیویٹ اداروں یا کانوینٹ میں پڑھنے والے اردو سے بڑی حد تک نابلد ہوتے  جا رہے ہیں۔ کانوینٹ میں پڑھنے والے بچوں کی ایک محدود تعداد ہی ہے جس  کے لیے گھروں پر اردو پڑھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ پرائیویٹ اداروں میں چند ادارے ضرور ہیں جہاں اردو داں بچوں کی مناسبت سے اردو کی تعلیم کا نظم کیا گیا ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ اردو کے ساتھ جو رویہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے اور خود والدین کی جانب سے اپنا یاگیا ہے اس میں بچوں کی اردو زبان سے آشنائی محض واجبی سی ہوتی ہے۔

               حکومت کے تحت چلنے والے پرائمری اور مڈل سطح کے اسکولوں کا جائزہ لیں تو ہمیں وہاں بھی بڑی مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اردو میڈیم کے سرکاری اسکولوں میں صرف اردو نام کا حصہ رہ گیا ہے۔ میڈیم کی سطح پر یہ ختم ہوچکے ہیں۔ ضلع ہی نہیں ریاست بھر میں شاید باید ہی ایسے اسکول ہیں جہاں اردو میڈیم میں تعلیم کا نظم باقی ہو۔ اس کی کئی وجہیں ہیں اردو داں  اساتذہ کی کمی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ ان سب کا نتیجہ یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں  میں پڑھنے والےاردو داں بچوں کی اردو زبان سے آشنائی واجبی بھی نہیں رہ جاتی۔

ثانوی اور اعلی ثانوی :   چونکہ بنیادی تعلیم ہی کمزور ہوتی ہے تو ثانوی سطح پر اور اعلی ثانوی سطح پر بچوں کی اردو تعلیم ادھوری اور ناقص رہ جاتی ہے۔ اکثر بنیاد کمزور ہونے کے سبب اس مرحلہ پر اردو سے یوں بھی جی چرانے لگتے ہیں۔

اعلی تعلیم: بنیادی اور ثانوی تعلیم میں کمزوری کے سبب اعلی تعلیم میں اردو کی طرف بچوں کی رغبت نہیں ہوتی ہے۔ اب تو ایسی شکایتیں بھی سننے کو ملتی ہیں کہ ایم اے اردو کی سطح پر جو بچے آر ہے ہیں وہ دوران کلاس اساتذہ کے لیکچر کو ہندی میں نوٹ کرتے ہیں۔ یہ حالت تشویشناک ہے اور اگر اس کا تدارک نہیں کیا گیا تو آنے والے دنوں میں ہمیں مزید مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

               اعلی تعلیم میں بھی اردو صرف زبان و ادب کی تعلیم میں محدود ہو کر رہ چکی ہے۔ ادھر چند سالوں سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیوسٹی نے اعلی تعلیم کا ذریعہ اردو کو بنایا ہے۔ رسمی تعلیم کے ساتھ پیشہ وارانہ تعلیم کا میڈیم بھی اردو ہے۔ بنیادی تعلیم کے لیے سی بی ایس ای کا اردو میڈیم اسکول بھی چلا  رہا ہے۔ یہ اچھی بات  ہے۔ اگر اس طرز پر کچھ کام ہو تو یقینا اس کا خاطر خواہ فائدہ نظر آئے گا لیکن ابھی اس کا حلقہ بڑا محدود ہے۔

               تعلیم کی سطح پر مدارس اردو کے لیے سب سے بہترین جگہیں ہیں جو اس کو زندہ و سلامت ہی نہیں بلکہ ترقی دینے میں اپنی انتھک کوششیں صرف کر رہے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اگر آج اردو سماج سے جڑی ہے تو اس میں اہل مدارس کی کوششیں بہت زیادہ ہیں۔یہ وہ مدارس ہیں جو نظامیہ کہلاتے ہیں۔ نظامیہ  مدارس میں اعلی تعلیم کی سطح پر  گرچہ اردو زبان و ادب کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے لیکن اول تا آخر ان کا میڈیم اردو ہوتا ہے۔ میڈیم کے ساتھ ساتھ ان کی دفتری زبان بھی اردو ہی ہوتی ہے۔ اہل مدارس کا سماج سے آج بھی رشتہ گہرا ہے۔ سماج سے رابطہ میں بھی ان کی زبان اردو ہوتی ہے۔ اس طرح سماج میں اردو کو زندہ رکھنے میں اہل مدارس کی کوششوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔

               ہندوستان میں جو کتابیں شائع ہو رہی ہیں وہ بھی بیشتر زبان و ادب میں محدود ہوتی ہیں۔ سائنس اور دیگر علوم میں کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ بھی تقریبا بند ہوچکا ہے۔ زبان و ادب سے الگ کوئی تحقیقی کتاب اردو میں سامنے نہیں آ رہی ہے۔ دوسری زبانوں کی اچھی کتابوں کا ترجمہ بھی ہوتا رہتا ہے لیکن ان کا تعلق بھی زبان وادب سے ہی ہوتا ہے۔ سائنسی تحقیقات اور دیگر سماجی علوم سے متعلق جو اعلی درجہ کی کتابیں منظر عام پر آ رہی ہیں ان کا ترجمہ نہیں ہو رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کو پڑھنے والے بھی موجود نہیں ہیں۔

               شاعری، فکشن اور تنقید کے فن  میں جو چیزیں شائع ہو رہی ہیں وہ تعداد کے اعتبار سے اطمینان بخش تو  ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ کیفیت کے اعتبار سے قابل اطمینان نہیں ہیں۔ آج نہ تو ایسی شاعری سامنے آ رہی ہے جس کو منفرد آواز کا نام دیا جاسکے اور نہ ہی کوئی معرکۃ الآرا فکشن منظر عام پر آر ہا ہے۔ تنقید بھی محض کاپی پیسٹ بن کر رہ گئی ہے۔ تحقیق کا میدان بھی بڑا مایوس کن نظر آتا ہے۔

بول چال: بلا شبہ شمالی ہند میں اردو ہمیشہ بول چال کی زبان رہی ہے اور آج بھی ہے  لیکن اس میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ بس پرانی نسلوں کے رابطہ کی زبان مکمل طور سے اردو ہے۔ اس  کے بعد کی جوان نسل مخلوط زبان کی شکار ہے اور اگر آپ بالکل نئی نسل کا مشاہدہ کریں تو اس کا ایک بڑا طبقہ ہندی زبان میں بات کرتا ہے۔ روز مرہ کے الفاظ ہندی کے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ تعلیم پر پوری طرح ہندی کا حاوی ہونا ہے اور گھروں میں بھی غفلت کا  یہ نتیجہ ہے۔

کام کاج کی سطح:          دفتری سطح سے نیچے گھر کی سطح پر بھی  کام کاج کے لیے اردو کے استعمال میں بڑی کمی آئی ہے۔ گھروں میں لوگ جس طرح ماضی میں اپنی یاد داشتیں اردو میں لکھتے تھے اس میں بھی غیر معمولی کمی آئی ہے۔ ماضی میں گھروں  میں اردو رسائل و اخبارات کثرت سے پڑھے جاتے تھے۔ خواتین کے درمیان خاتون مشرق اور دیگر تفریحی ادب کے زمرہ کے رسائل کے پڑھنے کا عام رواج تھا۔اب گھروں میں ایسے رسائل بھی نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ مذہبی کتابیں بھی جس طرح خواتین کے مطالعہ میں رہتی تھیں اب تعلیم کے عام ہونے کے باوجود ایسی کتابوں کے مطالعہ میں غیر معمولی کمی آئی ہے۔

               یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہم جب زبان کے زوال کی بات کرتے ہیں تو حکومت کے رویہ کی شکایت کرتے ہیں۔ زبانیں حکومت کے سہارے زندہ نہیں رہتی ہیں۔ حکومت کی سرپرستی میں زبان کی ترقی میں اضافہ  سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اردو کے ساتھ یہ بھی المیہ ہے کہ حکومت کی سطح پر جو انتظام ہیں اردو والے اس کا بھی فائدہ حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ حکومت نے راج بھاشا کے تحت یقینا ریاست بھر میں اردو مترجمین کا تقرر کیا ہے لیکن خود اردو والوں کی غفلت کے سبب وہ دیگر کلریکل کاموں میں لگا دئیے گئے ہیں۔ اردو اسکول کے کام تو ہندی میں ہوتے ہی ہیں اقلیت اسکول کا بیشتر کام بھی ہندی میں ہی ہوتا ہے۔

تجاویز:

               بنیادی تعلیم میں اردو کو شامل کرنے کے لیے منظم لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے محض سیمینار اور مذاکروں سے کام نہیں چلے گا کیونکہ اس طرح کے پروگرام کی رسائی صرف ان لوگوں تک ہی محدود ہوتی ہے جو اردو کے تئیں کسی طرح بیدار ہیں۔ ایسےپروگراموں میں وہی لوک شامل ہوتے ہیں جو کسی حد تک شعوری طور پر بیدار ہیں۔ ایسے پروگراموں کی خبریں بھی اردو اخبارات میں ہی بہتر جگہ پاتی ہیں اور وہ بھی انہی لوگوں کے درمیان پڑھا جاتا ہے جن کا اردو سے لگاؤ ہے۔ ہمیں سب سے پہلے ان لوگوں کے درمیان بیداری لانے کے سلسلہ میں غور کرنا ہوگا جو اردو سے غفلت کے سبب بیزار ہیں یا وسائل کی کمی سے وہ اردو سے دور  ہوگئے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ کچھ تقریبا کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کریں جہاں لوگ اردو زبان کے ہوتے ہوئے بھی اردو سے دور  ہوگئے ہیں یا جہاں پر نئی نسل اردو سے بیگانہ ہو رہی ہے جہاں وسائل کی کمی ہے وہاں وسائل دستیاب کرنے پر غور کرنا ہوگا۔ سب ضروری چیز  یہ ہے  کہ مکتبی تعلیم کو فرو غ دیا جائے اور مورنگ یا ایوننگ کلاسوں کر ہر مسجد کے ساتھ اہتمام کیا جائے جہاں دینیات کے ساتھ اردو کی تعلیم کا نظم ہوسکے۔

سرکاری  اور پرائیویٹ اسکولوں کا ایک ایماندارانہ سروے ہونا چاہیے جس میں اردو کی تدریس کی صورتحال کا پتہ چل سکے اور پھر ان اسباب وعوامل پر غور کرتے ہوئے اردو کےفروغ اور استحکام کا لائحہ طے کیا  جائے اور اس کے مطابق ایمانداری سے کام بھی ہونا چاہیے ۔ ایسے پرائیوٹ اسکول جہاں اردو داں طبقہ کے بچے زیر تعلیم ہیں اور وہاں اردو کی تعلیم نہیں ہو رہی ہے تو  ایسے والدین سے ملاقات کرکے ان کی کونسلنگ  کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو لازمی طور پر اردو پڑھائیں اور اسکولوں پر دباؤ بنائیں کہ اسکول اپنے یہاں اردو بچوں کے لیے اردو کی تعلیم کا انتظام کرے اور اس میں دانشور ذمہ دار طبقہ کو والدین کا بھر پور تعاون کرنا چاہیے۔ ایسے اسکول انتظامیہ سے ملاقات کر کے اردو کی  تعلیم پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس کو یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

               جو اسکول انتظامیہ اردو زبان کے تعلق سے بدگمان ہے ان کو بتانے کی ضرورت ہے کہ بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کے ماحول کو فروغ دینے میں اردو زبان سے کیا کام لیا جاسکتا ہے۔ اردو میں محبت اور بھائی چارہ کا جو درس ہے اور ماضی میں اردو نے قومی یکجہتی کے فروغ میں جو کردار ادا کیا اس سے باخبر کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح جنگ آزادی میں اردو نے جو کردار ادا کیا وہ بھی انہیں بتانے کی ضرورت ہے۔

               ایسے سرکاری اسکول جہاں اردو کی تعلیم نہیں ہو رہی ہے اور اردو بچے موجود ہیں اگر وہاں اردو کے ٹیچر نہیں ہیں تو ایک کمیٹی ایسی ہونی چاہیے جو محکمہ سے بات کر کے اس بات کو یقینی بنائے کہ وہاں اردو اساتذزہ تعینات ہوں۔ا گر اردو اساتذہ موجود ہیں تو ان پر محکمہ جاتی دباؤ بنایا جانا چاہیے وہ لازمی طور پر بچوں کو اردو پڑھائیں۔ ان تمام امور کے لیے والدین اور سرپرستوں میں بھی بیداری لانی ضروری ہے۔ ہمیں ایسے غافل اور بے شعور والدین اور سرپرستوں کو بیدار کرنے کے طریقہ کار پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

               راج بھاشا، بہار اردو اکیڈمی کے علاوہ ملک بھر کی مختلف اکیڈمیاں کتابوں کی اشاعت کے لیے مصنفین کو ہر سال مالی امداد دتی ہے۔ اس امداد  میں ۴۰ میں فیصد رقم ایسی کتابوں کی اشاعت کے لیے مختص کیا جانا چاہیے جو سائنس اور دیگر عمرانی علوم میں لکھی گئی ہوں۔

               تکنیک اور سائنس کے شعبہ میں ہندی زبان کو فروغ دینے کے لیے راج بھاشا گورو پرسکار دیا جاتا ہے۔ اس  کے تحت دس ہزار سے دو لاکھ روپے تک کے تیرہ انعامات دئیے جاتے ہیں۔ اول انعام دو لاکھ (200،000) دو انعام ڈیڑھ لاکھ (1،50،000)اور سوم انعام پچھتر ہزار (75،000) روپے دئیے جاتے ہیں جبکہ دس افراد کو دس دس ہزر روپے حوصلہ افزائی کے انعامات دئیے جاتے ہیں۔

               اردومیں بھی ساہتیہ اکاڈمی سمیت مختلف اکیڈمیاں اردو زبان میں گراں قدر خدمات انجام دینے کے لیے انعام و اکرام دیتی ہے۔ ہندی کی طرح اردو میں بھی سائنس اور تکنیک کے شعبہ میں کام کرنے والوں کے لیے ایسے انعامات کو خاص کرنا چاہیے  تاکہ  اردو زبان میں تکنیکی اور سائنس کے شعبہ میں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔

               اکیڈمیوں کے مالی تعاون سے ہر سال سیکڑوں  سیمینار اور سمپوزیم کرائے جاتے ہیں۔ اکیڈمیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پروگرام میں ایسے کچھ درجن بھر سیمینار کو ادب کے علاوہ سائنسی، تکنیکی، تعلیمی اور پیشہ وارانہ اور عمرانی علوم کے لیے مختص کریں۔

               اردو اخبارات کے سلسلہ میں یہ عام شکایت ہے کہ لوگ اردو  اخبارات سے دور ہو رہے ہیں۔ اس میں بڑی حد تک سچائی ہے اور اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ بڑی تشویشناک بات ہے۔ یہ اردو اخبار ہی ہیں جو اردو والوں کے ہر طرح کے مسائل کو  پوری ایمانداری سے سامنے لاتے ہیں اور حکومت کو باور کراتے ہیں۔ یقینا اردو اخبارات نہ  ہوں تو ہمارے مسائل بھی سامنے نہ آسکیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ اردو اخبارات کثرت سے خریدیں اور کثرت سے پڑھیں۔ لیکن اس کے پہلو بہ پہلو ہمیں اردو اخبارات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اخبارات کا بنیادی کام خبروں کی ترسیل ہے۔ ہم کسی بھی تیسرے درجہ کے ہندی اخبار کو سامنے رکھ کر اردو کے اخبارات کا موازنہ کریں تو ہمیں اندازہ ہوجائے گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ یہاں اخبارات کی زبان کے حوالہ سے  بھی کچھ بات کی جانی چاہیے۔ صحافت کی زبان ایک نمائندہ زبان ہوتی ہے۔ لیکن کے بیشتر اخبارات کی زبان اس کو پورا کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بیشتر نمائندوں کی تعلیم ہندی میڈیم میں ہوئی ہے اور ان کی اردو معلومات واجبی سی ہے۔ ایسے میں وہ اگر اردو کے لیے کام کرتے ہیں تو یقینا اردو زبان کے لیے ان کی بڑی خدمت ہے لیکن یہ اردو اخبارات کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے نمائندوں کی تربیت کا انتظام کریں۔ موجودہ وقت میں اردو اخبارات میں زبان کی ایسی ایسی فاش غلطیاں نظر آتی ہیں جن کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اکثر اصطلاحات ہندی میں نظر آتی ہیں۔ جبکہ ان کے لیے اردو میں اصطلاحات موجود ہیں یا اگر موجود نہیں ہیں تو زبان کے مزاج کے مطابق مناسب اصطلاح وضع کی جانی چاہئیں جو اخبارات کے ادارتی عملہ کی ذمہ داری ہے۔

               سرکاری سطح پر اردو میں کام کام کے فرغ کے لیے عام لوگوں میں بیداری لانے کی سخت ضرورت ہے اور یہ کام محض سمینار، سمپوزیم اور اخبارات ورسائل میں لکھنے سے ناممکن ہے۔ اس کے لیے ہمیں  عوام کے درمیان جا کر بیداری لانے کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔

               ہم جب بھی اردو کے سلسلہ میں بات چیت اور تبادلہ خیال کرتے ہیں یا اس کی تعلیمی صورتحال پر غور کرتے ہیں تو ہماری تان ادب کی تنگ گلیوں میں جا کر ٹوٹ جاتی ہے۔ اقبال نےا سی صورتحال کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا ہے

آتجھ کو بتاؤں تقدیر امم کیا ہے

شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر

ادب زندگی کے لیے لازمی امر ہے اور اس کے بغیر زندگی  کی تہذیب نہیں ہوسکتی۔ لیکن ترقی یافتہ زندگی کے لیے صرف ادب کافی نہیں ہے۔ ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کرنی ہے تو ہمیں اپنی زبان کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا اور دیگر سائنسی، تحقیقاتی، پیشہ وارانہ اور عمرانی علوم میں اردو کی جگہ بنانی ہوگی تبھی ہم کامیاب ہوں گے۔

 

No comments: