گم
شدہ پانی کی تلاش میں
تصنیف:
شالینی شری نواسن
ترجمہ: شکیل احمد سلفی
تبصرہ:
احتشام الحق
کہانیاں
ظاہری طور پر تو تفریح کا ذریعہ ہیں لیکن اس کا
ایک مقصد تعلیم ہے اور یہی بڑا مقصد بھی ہے۔ اس کے ذریعہ ہمیں اخلاق و اقدار کی تعلیم ملتی ہے اور اس سے
بھی زیادہ ہمیں زندگی کے تجربات حا صل ہوتے ہیں جن سے زندگی کی راہیں
ہموار ہوتی ہیں۔ عقل و شعور میں اضافہ
ہوتا ہے اور ہم منطقی طور پر چیزوں کو سمجھنے بوجھنے کے قابل بنتے ہیں۔ انسانوں
نے ہزاروں سال کے
تجربات سے جو کچھ سیکھے ہیں یہ سب ہمیں کہانیوں میں سیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن ہم جن
کہانیوں کی بات کر رہے ہیں وہ تفریح کا ذریعہ تو ہیں ہی یہ ہمیں کلاس روم میں پڑھائے جانے والے مضامین کو سمجھاتی ہیں۔ اس کے توسط سے کئی مشکل چیپٹر کو ہم بہ آسانی سمجھ جاتے ہیں ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ پڑھتے تو
ہم کہانیاں ہی ہیں لیکن کہانی کہانی میں ہمیں سبق بھی یاد ہوجاتا ہے اور ریاضی، سائنس، جغرافیہ، ماحولیات وغیرہ کے کئی
مشکل تصور (Concept) کو ہم بڑی آسانی سے سمجھ جاتے ہیں۔ چونکہ
ہم کہانیوں کی مدد سے پڑھتے ہیں تو ان کو یاد رکھنا بھی آسان ہوتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ یہ باتیں پڑھ
کر آپ کے دل میں بھی یہ خواہش ضرور پیدا ہوئی ہوگی کہ بھلا ایسی کتابیں کہاں ملیں
گی جہاں ہم کہانیاں پڑ ھ کر بھی سبق یاد کرلیں۔ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ایسی
کہانیاں ہمیں کہاں ملیں گی۔ یہ پلیٹ فارم ہے پرتھم بکس کا۔ پرتھم بکس تو کتابوں کا
ایک بڑا ذخیرہ ہے جہاں ایسی کہانیوں کی کتابیں بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن آج ہم
پرتھم بکس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر موجود شکیل احمد سلفی کی تیرہ کتابوں کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ کتابیں
انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہیں جن کو پرتھم بکس نے خود ہی خود ترجمہ کروایا ہے۔ آپ کے لیے
مزے کی بات یہ ہے کہ ان کتابوں کے حصول کے لیے آپ کو زیادہ تگ و دو بھی نہیں
کرنا ہے۔ بس آپ کو ویب پیج پر storyweaver.org لکھ کر انٹر کرنا پر جانا ہے اور ویب پیج
کھل جانے کے بعد Shakeel
Ahmad Salafiسرچ
کرنا ہے۔اس طرح ان کی ساری کہانیاں آپ کو مل جائیں گی۔
یہ کہانیاں
ہیں: پرندے کنگھی کیوں نہیں کرتے؟ گم شدہ
پانی کی تلاش میں، اور کارڈ پہنچ گیا، اور عمارت تیار ہوگئی، تتلی کی مسکراہٹ،
گوڈاون ذرا بچ کے، طلسماتی چوغہ، قدیم مخلوقات، دھرتی کیوں ڈولی؟ منگل یان: مریخ
کا ایک سفر، آٹو جو اڑ گیا، چمگادڑ کی صدائے باز گشت، ہم انہیں ’با‘ کہتے ہیں۔
یہ جتنی
کہانیاں وہ تصویروں کے ساتھ اور بول چال کے انداز میں لکھی گئی ہیں جس سے آپ کو
پڑھنے میں بھی مزہ آئے گا اور چیزوں کو یاد رکھنا بھی آسان ہوگا۔
اگر آپ
پرندے کنگھی کیوں نہیں کرتے؟ پڑھتے ہیں تو آپ پائیں گے کہ مختلف طرح بلبل، ہدہد، چمچہ بطخ مونال، مچھلی
خور الو، کوتوال، دھنیش، گدھ وغیرہ کے سروں پر کیسے بال ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض
کے پر اور سر کے بال ان کے لیے کس طرح معاون ہوتے ہیں۔
’’گم شدہ پانی کی تلاش میں‘‘
شہروں میں ختم ہوتے ہوئے پانی کے مسائل کو جاننے والی ایک کتاب ہے۔ اس میں
اس بڑے مسئلے کے حل کی طرف بھی نشاندہی ہوتی ہے۔
’’اور کارڈ پہنچ گیا ‘‘ میں یہ جاننے کا موقع ملے گا کہ پوسٹ آفس میں
مشین کس طرح کام انجام دیتا ہے۔ ہماری زندگی میں روبوٹ کا کیا کیا کام ہے۔
’’اور عمارت تیار ہوگئی‘‘
عمارت کی تعمیر کے عمل کو سمجھایا گیا ہے۔
گھر کے جو الگ الگ حصے ہیں ان کے نام کیا ہیں۔ گھر کی تعمیر میں الگ الگ
حصوں کو بنانے کے لیے کون کون سا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ نقشہ یا بلو پرنٹ کیا ہوتا ہے۔ اس طرح تعمیراتی
عمل کو سمجھنے کا پورا موقع ملتا ہے۔
’’تتلی کی مسکراہٹ ‘‘ میں ہم یہ جانتے ہیں لاروا کیا ہوتا ہے۔
لاروا سے لے کر تتلی بننے تک تتلی کن
مراحل سے گزرتی ہے۔ تتلی اپنی غذا کے حصول کے لیے پھولوں کا رس کس طرح چوستی ہے۔
’’گوڈاون ذرا بچ کے‘‘اس میں ہمیں گوڈاون پرندے کے بارے میں تفصیل
سے جاننے کا موقع ملتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس نایاب پرندے کو بچانے کے لیے
کس عمل کی ضرورت ہے ۔
’’طلسماتی چوغہ‘‘ طلسمات تو جادو کو کہتے ہیں لیکن ہماری زندگی میں
کئی ایسے کام ہیں جن کا تصور ہمارے لیے جادو جیسا ہے۔ مثلا انسان کا ایسا کپڑا
پہننا کہ وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل
ہوجائے ۔ ہے نا یہ بڑی حیرت انگیز بات ۔ لیکن آپ کو اس کتاب میں یہ سمجھنے کا موقع
ملے گا سائنس دانوں نے ایسے فیبرک تیار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جس سے انسان
لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوسکتا ہے۔ یہ کتاب آپ کو نینو فائبر کا کانسپٹ کلیئر
کرنے میں مدد کرتی ہے۔
’’قدیم مخلوقات‘‘ یہ کتاب در اصل ڈائنا سور کی مختلف قسموں کے بارے
میں ہماری معلومات میں اضافہ کرتی ہے۔ قدیم مخلوقات کس طرح دنیا سے معدوم ہوگئیں اس کو بھی اس کتاب کے ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے۔
’’دھرتی کیوں ڈولی؟ ‘‘ یہ کتاب زلزلہ کے بارے میں معلومات فراہم
کرتی ہے۔ زلزلہ کیوں آتا ہے۔ زلزلہ کو ریکٹر اسکیل پر کس طرح ناپتے ہیں۔ جب زلزلہ
آئے تو ہمیں بچنے کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے۔ یہ کتاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ
کے ایک پارٹ کو ہمارے سامنے لاتی ہے۔
’’منگل یان: مریخ کا ایک سفر‘‘ یہ کتاب مریخ کے بارے میں تفصیل سے
معلومات فراہم کرتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ زمین کے بعد مریخ ہی ایسا سیارہ پر جس
پر زندگی بسنے کے امکانات ہیں۔ یہ کتاب اس حوالے سے ساری معلومات دیتی ہے اور مریخ کا پورا کانسپٹ
کلیئر ہوجاتا ہے۔
’’آٹو جو اڑگیا‘‘ میں شہروں میں اندرون شہر ایک جگہ سے دوسری جگہ
جانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی کیا اہمیت ہے ۔ یہ کتاب ٹریفک کے مسائل کے بھی
ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔
’’چمگادڑ کی صدائے بازگشت‘‘ میں ہم چمگادڑ کی مختلف قسموں کے بارے
میں جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں ان میں سننے کا عمل کیسے انجام پاتا ہے۔
’’اسی طرح ہم انہیں با کہتے ہیں‘‘ تاریخ کا ایک ایسے چیپٹر کو
ہمارے سامنے کھولتی ہے جس میں ہم گاندھی جی کی اہلیہ کستوربا گاندھی کی زندگی کے
مختلف اور اہم پہلوؤں سے واقف ہوتے ہیں۔
جیسا کہ بتایا گیا کہ شکیل
احمد سلفی نے ان کتابوں کو انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔ شکیل احمد سلفی کا تعلق بہار
کے دربھنگہ سے ہیں۔استاد ہونے کے ساتھ وہ صحافی بھی ہیں ۔ ماہنامہ رسالہ الہدی کے
ایڈیٹر ہیں۔ وہ بچوں کے لیے بھی لکھتے رہے ہیں۔
پیشے سے وہ استاد ہیں ۔اس لیے وہ بچوں کی نفسیات سے بھی بخوبی واقف ہیں اور
ان کی ضرورتوں اور مسائل کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ اس لیے ان کتابوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں
نے بچوں کا پورا خیال رکھا ہے۔ ان کی عمر کے لحاظ سے زبان اختیار کی ہے اور کوشش کی
ہے کہ الفاظ ایسے ہوں کہ بچوں کو ڈکشنری دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے اور کتاب کا موضوع بھی بچوں کے لیے بالکل واضح
ہوجائے۔
یقینی طور پر اردو میں ایسی
کتابیں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہیں۔ ادارہ پرتھم اس کے لیے مبارکباد کا مستحق ہے کہ اس نے اردو
میں بھی ایسی کتابیں شائع کرائی ہیں وہیں مترجم شکیل احمد سلف بھی لائق مبارکباد ہیں
کہ انہوں نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا ہے جو اب اردو زبان سے مفقود ہوتے جا رہے
ہیں۔ اردو زبان میں ایسی کتابیں بہت کم آ رہی ہیں جس میں شاعری، فکشن اور
اردو کی ادبی تحقیق و تنقید سے اوپر اٹھ
کر لکھنے کی کوشش کی گئی ہو۔
بچوں کو چاہیے کہ ایسی کتابیں
پڑھیں بھی اور اس کو اپنی لائبریری کا حصہ بھی بنائیں۔
***
Ehteshamul Haque
Incharge Head Master
Higher Secondary School, Majhaulia,
Hayaghat, Darbhanga – 846002
No comments:
Post a Comment