مشمولات

Friday, 5 September 2025

یاس بہاری : حیات و خدمات (تحقیقی مقالہ)

 

نام کتاب: یاس بہاری : حیات و خدمات (تحقیقی مقالہ)

مصنف: پروفیسر حافظ محمد انیس صدری

سن اشاعت : ۲۰۲۴ء

قیمت: ۱۸۰ روپے

صفحات ۱۴۴

ناشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی

ملنے کا پتہ: صدری ولا، فاضل پور، سمستی پور

مبصر: احتشام الحق

حکیم سید شاہ محمد الیاس المتخلص بہ یاس بہاری کا تعلق بہار کے معروف شعرا میں ہوتا ہے۔ وہ سلسلہ فردوسیہ  کے  اہم رکن تھے اور ان کے خانوادہ کا تعلق مشہور صوفی بزرگ حضرت شرف الدین احمد یحییٰ  منیری بہاری سے رہا ہے۔ان کے والد شاہ امین الدین مذکورہ بزرگ کی خانقاہ کے سجادہ نشیں اور ایک قادر الکلام شاعر تھے۔

یاس بہار  بیک وقت طبابت اور درس و تدریس سے وابستہ تھے۔ شعر و شاعری ان کو میراث ملی تھی۔ انہوں نے اٹھارہویں اور انیسویں صدی کا وہ زمانہ پایا تھا جس میں آزادی کی جنگ شباب پر تھی اور ملک کی آزادی کے بعد تقسیم کے سانحے سے بھی دوچار ہوا۔ یاس بہاری  کی شاعری انہی پس منظر میں فروغ پائی۔ اپنی شاعری کے منفرد لب و لہجے کے سبب وہ مقبول بھی ہوئے۔ اس وقت کے  رسائل میں ان کی چیزیں شائع ہوتی تھیں اور رسائل و جرائد کے مدیران کی جانب سے بھی ان سے کلام کا مطالبہ ہوتا تھا۔ لیکن چونکہ وہ خانقاہی اور صوفیانہ مزاج رکھتے تھے، طبیعت میں استغنا اور بے نیازی تھی   اس لیے انہوں نے کلام کو جمع کرنے اور شائع کرنے  کی توجہ خاطر خواہ توجہ نہیں دی اور ان  کے کلام کا قابل لحاظ حصہ دست برد زمانہ سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ پیشہ ورانہ زندگی میں نقل مکانی کے سبب کلام منتشر ہوگئے اور اس کا  غلط فائدہ بھی کچھ لوگوں نے اٹھایا۔

ایک عرصہ کے بعد جب مصنف پروفیسر انیس احمد صدری نے جب پی ایچ ڈی کے لیے موضوع کی تلاش کی تو اس میں ان کی نظر انتخاب اس موضوع پر ٹھہری اور انہوں نے یاس بہاری کے کلام کو جمع کرتے ہوئے ان کے حیات  اور شاعری کا تنقیدی جائزہ لیا۔ زیر نظر کتاب وہی مقالہ ہے جس کے ذریعہ پروفیسر انیس احمد صدری نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔

یہ کتاب جامعاتی تحقیق کے فارمیٹ میں ہے لیکن کتاب کے مطالعہ سے پروفیسر انیس احمد صدری کی جانفشانی تحقیق انداز فکر و نظر کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنا یہ مقالہ پروفیسر ممتاز احمد صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی کی نگرانی  میں مکمل کیا تھا اور ایک اس کے بعد ایک عرصہ تک الماری کی زینت بنی رہی۔ اب جا کر انہوں نے ا س مقالہ کو  زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔

کتاب کو پروفیسر انیس احمد صدری نے تعارف، یاس تذکرہ نگاروں کی نگاہ میں، سوانح حیات، مآخذ کلام یاس، یاس کی شاعری کا تنقیدی جائزہ، یاس بہاری کی غزل گوئی، یاس بہاری کی نظم نگاری، یاس بہاری کی مثنوی نگاری، یاس بہاری کی قصیدہ نگاری، یاس بہاری کی قطعہ نگاری، یاس بہاری بحیثیت رباعی گو شاعر اور انتخاب کلام کے تحت ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ان ابواب میں سرخی کے تحت  بحث کی ہے  اور  یاس بہاری کے کلام کا جائزہ لیا ہے اس سے پروفیسر انیس صدری کے تحقیقی و تنقیدی ذہن کا اندازہ ہوتا ہے۔

کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یاس بہاری ایک استاد شاعر تھے۔ کلام میں پختگی اور فنی مہارت موجود تھی۔ مشاعروں میں شرکت کے ساتھ مختلف رسالوں کی ادارت کا فریضہ بھی انجام دیا۔ اخبارات میں مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔ کلدستوں میں ان کی تخلیقات کی اشاعت کے علاوہ رسائل و جرائد میں ان کے کلام چھپتے رہے۔ جن رسائل میں ان کے مضامین اور ادبی تخلیقات نے جگہ پائی ہے اس میں رسالہ ندیم گیا، رسالہ اشارہ پٹنہ ، رسالہ الامین، رسالہ فطرت راجگیر، وغیرہ میں شائع ہوئیں۔ وہ  ایک غزل گو شاعر تھے لیکن کئی کامیاب اور اہم نظمیں انہوں نے یادگار چھوڑی ہیں جو قاری کو متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

یاس بہار کی شاعری میں تغزل کا حسن  اور تصوف کی آنچ موجود ہے۔ دیکھیں یہ چند اشعار            ؎

برق نگاہ جوش تجلی ہے آپ کا                    آنکھ اس کی ہے جو دیکھنے والا ہے آپ کا

ایسی ادائے شوخ قضا کو کہاں نصیب                          کہتے ہیں جس کو موت اشارہ ہے آپ کا

ہے سر محشر نوید عفو عام                            میں بھی ہوں یارب گروہ عام میں

آنکھوں سے اشارہ کرتے ہیں اک تیر وہ مارا کرتے ہیں

جو ان کا نظارہ کرتے ہیں دنیا سے سدھارا کرتے ہیں

کیا شکوۂ جور و رنج و محن ہے جب کہ تغافل ان کا چلن

ہم دل کی سناتے ہیں الجھن وہ زلف سنوار کرتے ہیں

 ان کی شاعری پر جنگ آزادی اور حب الوطنی اثرات صاف دکھائی دیتے ہیں۔ریپبلک ڈے اور دھوم سے باغ میں بھارت کے بہار آئی ہے جیسی نظمیں اس کی اہم مثالیں ہیں۔ ان نظموں میں بلا کا ترنم اور نغمگی موجود ہے:

ترانہ ہے ترنگ ہے دلوں میں اک امنگ ہے

سروس وجل ترنگ ہے کنار آب گنگ ہے

شراب لالہ رنگ ہے نوائے عود و جنگ ہے

فلک کی عقل دنگ ہے جنوں خرد میں جنگ ہے

بہار بہار ہے، نوید وصل یار ہے

یہ وقت کی پکار ہے کہ عید بادہ خوار ہے

(ریپبلک ڈے)

انتخاب کلام کے تحت مصنف نے دھوم سے باغ میں بھارت کے بہار آئی ہے، ہولی، گردش روزگار، قمر و رشک قمر، ریپبلک ڈے نظمیں ہیں۔ ایک قصیدہ ایک مثنوی، قطعہ تاریخ وفات شرر، تاریخ وفات شاد عظیم آبادی، رباعیات شامل ہیں۔ مصنف نے ذکر کیا ہے کہ وہ صاحب دیوان شاعر تھے اور انہوں نے اپنے مقالے میں جو کلام حاصل ہوسکا ہے اس کی مدد سے دیوان کو مرتب بھی کیا ہے لیکن اس میں ان کے کلام کا انتخاب پیش کیا ہے۔ اگر انہوں نے حاصل شدہ پورا  کلام شائع کردیتے تو کتاب مزید بہتر ہوجاتی ہے۔ حالانکہ انہوں نے اپنے دیباچے میں لکھا ہے کہ وہ پورا دیوان بھی شائع کرائیں گے۔

کتاب میں موجود انتخاب سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا تخلص یاس ضرور ہے لیکن ان شاعری  امنگ اور رجاء و بیم سے عبارت ہے۔ ان کی شاعری میں ولولہ اور جوش بدرجہ اتم موجود ہے اور قاری کو کسی بھی مقام پر مایوس نہیں ہونے دیتی بلکہ زندگی کو ولولہ کے ساتھ انگیز کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ کلام میں وہی فصاحت اور بلاغت موجود ہے جو قدما کا طریقہ رہا ہے۔

سوانحی خاکہ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یاس بہاری مجاہد آزادی بھی تھے اور گاندھی جی سے بھی ان کے مراسم رہے ہیں۔ اس لیے ان کے کلام میں جنگ آزادی سے متعلق موضوعات بکثرت موجود ہیں۔ وہ اچھے نثر نگار بھی تھے۔ چنانچہ انہوں نے حضرت شرف الدین یحییٰ منیری کی مشہور تصنیف مکتوبات صدی (فارسی) کا اردو ترجمہ بھی کیا تھا جو شائع بھی ہوچکی ہے۔

مختصر یہ کہ مصنف پروفیسر انیس صدری نے اس کتاب کو شائع کرکے  دبستان  عظیم آباد کے ایک اہم شاعر  کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ کتاب طلبہ اور اساتذہ میں پسند کی جائے گی۔

No comments: