نام کتاب: Sunny
Songs
(A
glimpse of modern Urdu poems in English Poems)
مصنف: ڈاکٹر محمد مجتبیٰ احمد
سن اشاعت: ۲۰۰۹
قیمت: ۱۲۵
ملنے کا پتہ: مکتبہ جامعہ لمٹیڈ دہلی
مبصر : احتشام الحق
زیر
نظر کتاب ڈاکٹر محمد مجتبیٰ احمد کی ہے جو ان کے بین مضامینی تحقیقی مقالے کا ایک
جزو ہے۔ انہوں نے اپنا مقالہ متھلا یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں ‘‘جدید اردو
نظموں پر انگریزی شاعری کے اثرات: ہیئت کے تناظر میں ایک جائزہ’’ پیش کیا تھا جس پر انہیں پی ایچ ڈی کی
ڈگری بھی تفویض کی گئی۔ انہوں نے یہ مقالہ انگریزی ادب کے ماہر پروفیسر شنکرانند
پالت اور معروف استاد و ناقد پروفیسر رئیس انور رحمن کی مشترکہ نگرانی میں لکھا
تھا۔
مصنف ڈاکٹر مجتبیٰ احمد کا تعلق دربھنگہ بہار سے ہے ۔ وہ سعودی عرب کی
ایک یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد ہیں۔ اردو میں انشائیہ نگار کی حیثیت سے معروف
ہیں۔ اردو کے موقر رسالوں میں ان کی تخلیقات شائع ہوتی رہتی ہیں اور پسند کی جاتی
ہیں۔ اردو ادب کا نہ صرف ستھرا ذوق رکھتے ہیں بلکہ اردو کے ادبی ادوار اور افکار و
رجحانات کو بھی سمجھتے ہیں۔ بین مضامینی
انسلاک کے سبب وہ اردو اور انگریزی شعریات
(Poetics)سے بخوبی واقف ہیں۔ ترجمہ
نگاری کے فن پر بھی انہیں دسترس و مہارت حاصل ہے۔
مصنف نے علامہ اقبال سے لے کر حنیف
ترین تک کے چھبیس اہم اور صاحب طرز شعرا کی جدید اردو نظموں کا انتخاب کرتے ہوئے
انگریزی میں اس کا ترجمہ کیا ہے۔ ڈاکٹر مجتبیٰ احمد کا یہ انتخاب حسین، قابل توجہ
اور بہترین ہے جس سے ان کی شعر فہمی اور شعر شناسی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے اس
انتخاب کو پڑھ کر ان کی شعر شناسی اور شعریات پر درک کی داد دئیے بغیر نہیں رہا
جاسکتا ہے۔پیش لفظ اور دیباچے کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس انتخاب کی بنیاد انہوں
نے جدت پر رکھی ہے۔ انہوں نے اپنے مقدمہ لکھا ہے کہ غالب، اقبال اور چند شعرا کی
تخلیقات کا ترجمہ تو ضرور کیا گیا ہے لیکن بیشتر جدید شعرا کی تخلیقات کا اردو
ترجمہ موجود نہیں ہے۔ حالانکہ محتویات کے مطالعہ سے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی بنیاد محض جدت ہے نہ کہ شاعری کے رجحان
کے اعتبار سے جدیدیت۔ ہیئت اور اظہار کی سطح پر بھی یہ جدت واضح طور سے انتخاب کلام سے نظر آتی
ہے اور جس کا سراغ مقالہ کے عنوان سے
بھی ملتا ہے لیکن کتاب کے اندر یا دیباچے
میں ہیئت کے حوالے سے گفتگو ناپید ہے۔
انہوں نے ترجمہ کی اہمیت پر اظہار خیال ضرور کیا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ ہندوستان جیسے
بڑے کثیر لسانی سماج میں بین لسانی اور بین ثقافتی ترسیل کے لیے ترجمہ بڑا اہم
کردار ادا کرتا ہے۔
ڈاکٹر مجتبیٰ احمد کا یہ انتخاب اس
لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس سے انگریزی زبان میں اردو شاعری کا بہترین نمونہ کی
عکاسی ہوگی۔ ورنہ کئی دفعہ دیکھا جاتا ہے کہ بعض مترجمین ترجمہ کے شوق میں ایسی
کتابوں یا تخلیقات کا ترجمہ کر دیتے ہیں جس کی حیثیت خود اس کی اپنی زبان میں جس
میں وہ لکھی گئی ہوتی ہے ، مستحکم نہیں ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ درست ہے کہ ترجمہ کسی بھی مترجم
کی اپنی جائیداد ہے ۔ وہ اس کا جیسا چاہے استعمال کرے۔ اگر اس نے کسی ادب یا تخلیق
کا ترجمہ کرتے ہوئے اصل سے الگ کوئی ترجمہ نہیں کیا ہے تو اس پر کلام کی کوئی
گنجائش نہیں ہے ۔ یا پھر ترجمہ پر اس جہت سے گفتگو کی جاسکتی ہے کہ مترجم ترجمہ
نگاری میں کتنا کامیاب ہوا ہے؟ لیکن ادب کے
طالب علم کی توجہ اس جانب ضرور مبذول ہو
جاتی ہے کہ کوئی مترجم جس چیز کو دوسری زبان میں منتقل کر رہا ہے
وہ خود اس زبان میں جس میں وہ لکھی گئی ہے
کس مرتبہ کی حامل ہے۔ ہم جانتے ہیں ترجمہ دو
زبانوں میں پل کا کام کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی ایسی چیز کا ترجمہ کیا جائے جس کی ادبی ؍ علمی حیثیت خود اپنی اصل زبان میں مستحکم
نہ ہو تو وہ دوسری زبان میں پہنچ کر ترجمہ پڑھنے والے لوگوں کے لیے اُس زبان کی ادبی سطح کے تعین میں گمراہ کن ثابت
ہوگی۔
زیر نظر کتاب میں شامل نظمیں نہ صرف اردو ادب کا اعلی نمونہ اور ماہرین فن کے
کلام ہیں بلکہ ادب کی مختلف روایتوں، رجحان، تحریکات اور انداز فکر ونظر کی
ترجمانی کرتے ہیں۔ مزید برآں اردو زبان میں عہد بہ عہد فکر و نظر کی جو تبدیلی آئی
ہے، موضوع اور ہیئت کے لحاظ سے جو بدلاؤ آیا ہے اس کے مشمولات سے اس کی بھی عکاسی
ہے ۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ ترجمہ اردو کے فن پارے کا نمائندہ اور ترجمان
بننے میں کامیاب ہوا ہے۔
شعری و ادبی تخلیقات کے ترجمہ کی
جو مشکلات ہیں مترجم کو اس کا خوب خوب اندازہ ہے۔ اس حوالے سے رابندر ناتھ ٹیگور کی نظموں کے خود اپنے ترجمے
پر پیدا ہونے والے تنازع کا بھی ذکر مترجم نے دیباچے میں کیا ہے۔ ہر زبان میں محاورات اور ساختیات کا اپنا اپنا مزاج ہوتا ہے جس کو ترجمہ میں
برتنا کتنا مشکل ہے اس حوالے سے بھی انہوں نے گفتگو کی ہے۔ مصنف کا دیباچہ ترجمہ
نگاری کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ ان
امور اور پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے مصنف نے جدید اردو نظموں کے انتخاب کو انگریزی
کے پیراہن میں اس کو اتارنے کی کامیاب
کوشش کی ہے۔ پروفیسر وہاب اشرفی نے بھی اپنی
تقریظ میں ان کے ترجمہ کی کامیابی کا
اعتراف کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں: ‘‘کتاب کے محتویات کا مطالعہ پہلی قرأت کے بعد
مسلسل قرأتوں پر اکساتا ہے ہے۔ ترجمہ ایسا ہے کہ اس میں کوئی خاموشی کا پہلو ہے
اور نہ ہی تعطل کا اور تمام امور ایک تسلسل میں پروئے نظر آتے ہیں۔
بلا شبہ مصنف کا یہ انتخاب اوریجنل
شاعری کا انتخاب ہے اور قاری کے لیے سامان مسرت و بصیرت ہے۔ انہوں جن شعرا کا
انتخاب کیا ہے اگر ان کی تاریخ پیدائش و وفات درج کردیتے اور ان کے فکری رجحان کی
طرف مختصر اشارہ کر دیتے تو عہد بہ عہد فکر ونظر کے اختلاف کو سمجھنے اور شاعری کے
موضوعات کے ارتقا کو محسوس کرنے میں ادب کے طالب علم کو سہولت ہوتی۔
مجموعی طور پر کتاب عمدہ ہے اور
نئے آئیڈیا کے ساتھ آئی ہے۔ حالانکہ یہ کتاب ۲۰۰۹ میں ہی شائع ہوئی ہے مگر آئیڈیا
کی جدت باقی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ یہ کام
دقت طلب ہے جو ہمارے دیار میں اس زبان والوں کے درمیان عنقا ہے۔ امید کی جاتی ہے
کہ اہل علم کے درمیان یہ کتاب پسند کی جائے گی۔
No comments:
Post a Comment