کتاب کا نام : کتاب در کتاب
مرتب : ڈاکٹر وصی احمد شمشاد
سن اشاعت : ۲۰۲۰
صفحات : ۳۰۴
قیمت : ۳۰۰
ملنے کا پتہ : ادارہ جہان اردو رحم گنج، دربھنگہ
مبصر : احتشام الحق
ڈاکٹر وصی احمد شمشاد
کی ترتیب ‘‘کتاب در کتاب’’ موصول ہوئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ مذکورہ کتاب
میں کئی کتابیں موجود ہیں۔ در اصل یہ کتاب
‘جہان اردو’ دربھنگہ کے مدیر اور سی ایم کالج کے موجودہ پرنسپل ڈاکٹر مشتاق
احمد کے ان تبصروں کا مجموعہ ہے جو ‘جہان
اردو’ کے مختلف شماروں میں شائع ہوچکے
ہیں۔
ڈاکٹر وصی احمد شمشاد
ایل این متھلا یونیورسٹی کے پی جی شعبہ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر (گیسٹ
فیکلٹی) ہیں۔ انہوں نے متھلا یونیورسٹی سے اپنا تحقیقی کام مکمل کیا ہے۔ان کی خوش
بختی ہے جہاں سے انہوں نے کسب فیض کیا اور
پھر وہیں وہ بہت جلد ہی اپنا فیض لٹاتے ہوئے نسل سازی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
درس وتدریس سے وابستگی کے بعد انہوں نے قلم وقرطاس سے اپنا رشتہ استوار کرلیا ہے
اور گاہے گاہے علمی رسائل و جرائد میں ان کی تخلیقات بھی نظر آتی
ہیں۔ ‘‘کتاب در کتاب’’ ان کی پہلی کاوش ہے
جو جمع وترتیب ہے۔
تبصرے میں کسی کتاب پر اجمالی اور عمومی رائے قائم کی جاتی
ہے جس سے رسالے یا جرائد کے قاری کتاب سے
بخوبی واقف ہوسکیں۔ اس میں کتاب کے مشمولات اور مواد کا اجمالی خاکہ پیش
کیا جاتا ہے ساتھ ہی مصنف کا مختصر تعارف بھی ہوتا ہے۔ ایک تجربہ کار اور منجھے
ہوئے مصنف کی کتاب قاری کی نظر میں معتبر ہوتی ہے۔ تاہم ایک اچھا مبصر نئے لکھنے
والوں سے علمی دنیا کو متعارف کراتا ہے اور اس کی علمی تازہ کاری کو سامنے لاتا ہے
۔ مبصر قاری اور کتاب کے درمیان ایک رشتہ بنانے اور پل کا کام کرتا ہے۔
تبصرہ عام بول چال کی زبان میں رائے قائم کرنے
کو کہتے ہیں۔ تبصرے میں عمومی طور پر منفی رائے سے احتراز کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ
یہ ہے تبصرہ علمی وادبی عمل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اقتصادی عمل بھی ہے۔ اس کا مقصد قاری کی کتاب سے شناسائی پیدا کرنا اور کتاب کے لیے
قاری یا خریدار بنانا بھی ہے ۔ ظاہر ہے زیادہ منفی رائے ہوگی تو کتاب کے لیے
خریدار پید ا نہیں ہوسکیں گے۔ تاہم مبصر کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تبصرے سے قاری
گمراہ بھی نہ ہو ۔ کیونکہ اس طرح مبصر کی رائے سے قاری کا اعتماد مجروح ہوگا۔ ضروری
نہیں کہ ساری کتابیں سارے لوگوں کے لیے مفید و کار آمد ہو۔ اچھا تبصرہ کتاب کی نوعیت کا
تعین کرتا ہے جس سے یہ واضح ہو سکے کہ یہ کتاب کس قسم کے لوگوں کے لیے زیادہ مفید
اور کار آمد ہے۔
ڈاکٹر وصی احمد شمشاد
نے زیر نظر کتاب میں ڈاکٹر مشتاق احمد کے ایک سو تین تبصروں کو جمع کیا ہے جو جہان
اردو کے متعدد شماروں میں شائع ہوچکے ہیں۔
اس طرح یہ کتاب شائقین کو بیک وقت ایک سو
تین کتابوں سے شناسا کرتی ہے۔ اس میں جن کتابوں پر تبصرہ شامل ہے وہ کلاسیکی ادب،
شاعری،فکشن، تحقیق، تنقید، لسانیات، تہذیب ثقافت، فکر و فلسفہ، تاریخ، سیر و سوانح
، علاقائی ادب، ادب اطفال، مذہبیات ، صحافت اور اشاریہ سازی سمیت درجنوں علمی مضامین
و موضوعات پر مشتمل ہے۔ ان میں بیشتر تو
نئی کتابیں ہیں لیکن بعض قدیم کتابیں بھی ہیں جو نصابوں میں شامل ہیں۔ کچھ کتابیں ہلکی
پھلکی قسم کی ہیں تو بعض بڑی اہم اور نایاب و گراں قدر ہیں۔ مرتب نے انہیں یکجا کر کے تحقیق و تنقید
سے دلچسپی رکھنے والوں لیے زمین ہموار
کردی ہے اور جہان اردو میں ڈاکٹر مشتاق احمد کے تبصروں کا ایک اشاریہ مرتب کردیا ہے۔
مرتب نے کتاب کے آغاز میں مبصر ڈاکٹر مشتاق احمد کا اپنا مضمون ‘بقلم مصنف’ کے عنوان سے شامل کیا ہے جس میں مبصر
نے تبصرے کے فن اور اس کی نوعیت پر روشنی ڈالنے کے ساتھ
خود اپنی تبصرہ نگاری کے انداز و طریقۂ کار کو بھی ہلکے پھلکے انداز میں واضح کیا ہے۔ جبکہ
مرتب نے اپنے مقدمہ میں تبصرے کے فن پر
قدرے تفصیل سے وضاحت کے ساتھ اردو کے
مشہور تبصرہ نگاروں کے بارے میں بھی روشنی ڈالی ہے اور ساتھ ہی ڈاکٹر مشتاق احمد
کی تبصرہ نگاری پر ایک واضح اور قطعی رائے قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس سے مشمولہ تبصروں
کو سمجھنے میں آسانی ہو تی ہے۔اس طرح اس کتاب میں ایک جگہ عملی تبصرے کے ساتھ تبصرے کے بعض اصولوں کو
بھیج جمع کردیا گیا جو نو آموزوں کے لیے
بڑے کام کی چیز ہوگئی ہے۔ مزید بر آں اس کے ذریعہ ڈاکٹر مشتاق احمد کی تبصرہ نگاری
کا تجزیہ کرنے اور اس کی قدر وقیمت کا تعین کرنا بھی سہل ہوگیا ہے۔ کتاب کا انتساب
پی جی شعبہ اردو ایل این ایم کے صدر ڈاکٹر آفتاب اشرف کے نام کیا گیا ہے۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا
کہ کتاب میں مختلف نوعیت کی کتابوں پر
تبصرے شامل کئے گئے ہیں لیکن نوعیت کے
اعتبار سے کتاب میں تبصرے منتشر ہیں۔ مرتب کو چاہیے تھاکہ وہ ان مشمولہ کتابوں کی
زمرہ بندی کر کے ہر ایک زمرہ کی کتابوں کو ایک ساتھ یکجا کر دیتے تو زبان وادب کے ایسے طالب علم کے لیے بڑی مفید ہوجاتی جو تبصرہ
نگاری میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ انہیں اس سے یہ سیکھنے اور اندازہ کرنے میں آسانی ہوتی کہ کس نوعیت کی کتابوں کے تبصرے میں کن امور کو بطور خاص ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ خود مصنف کے
حسن ترتیب کا بھی انعکاس ہوتا۔ اسی طرح وہ
اگر مشمولہ ہر ایک تبصرے میں یہ صراحت بھی کردیتے کہ یہ تبصرہ ‘جہان اردو ’کے کس
شمارے میں شائع ہوا تو کتاب کی وقعت اور قدر وقیمت میں اضافہ ہوجاتا اور کتاب
حوالے کی چیز بن جاتی۔
توقع ہے کہ یہ کتاب
تبصرہ نگاری کے فن میں جہاں ایک اضافہ ہوگی وہیں زبان وادب کے طلبہ کے لیے عمومی
طور پر اور تبصرہ نگاری سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے خصوصی طور پر مفید ثابت
ہوگی۔
***
|
Ehteshamul Haque Incharge Head Master Nayee Taleem Rajkiya Buniyadi Vidyalay Majhaulia, Hayaghat, Darbhanga – 846002 shaz.bazmi@gmail.com, 9234733379 |
Bank Details: Name: Ehteshamul Haque IFSC: SBIN0002931 |
No comments:
Post a Comment