حاصل مطالعہ
اندنوں اسکول مارننگ ہے۔ دوپہر سے دیر شب تک اچھا خاصا وقت
رہتا ہے۔ارادہ ہوا کہ اس مارننگ کی مدت میں ایک کتاب لازمی طور پر پڑھ لی جائے۔
خالی اوقات میں موبائل کی لت کو کم کرنے کے لیے اس سے اچھا کوئی مشغلہ ہو بھی نہیں
سکتا ۔ گزشتہ کچھ دنوں سے خواہش رہتی ہے
کہ کوئی خود نوشت یا آپ بیتی پڑھی جائے۔ آپ بیتیوں میں مجھے لگتا ہے کہ زندگی کو قریب سے سمجھنے کا جتنا موقع ملتا ہے
وہ دوسری کتابوں میں کم ہے۔ مصنف اگر بڑبولے پن کا شکار نہیں ہے تو حقیقی زندگی کا
انعکاس ہوتا ہے۔ ایسی کتابوں سے گردش زمانہ
کو انگیز کرنے کی تحریک اور حقائق سے
آنکھیں ملانے کا حوصلہ ملتا ہے۔ آزار اور دشوار ترین حالات میں دوسروں کی ثبات قدمی ، حوصلہ مندی و منصوبہ بندی اور عمل پیہم کو دیکھ کر مشکل حالات کے لیے انسان
خود کو تیار کرتا ہے۔ ان کتابوں سے اپنے تئیں ایک امید جاگتی رہتی ہے۔
لہذا کتاب کی دکان میں جا کر نگاہ دوڑائی تو اختر الایمان کی خود نوشت ‘‘اس آباد
خرابے میں’’ پر نظر پڑی۔۲۴۴ صفحات کی کتاب کی قیمت محض ۱یک سو روپے بہت سستی لگی ۔اس
میں دس فیصد کی رعایت۔ سونے پر سہاگا۔
ایم اے کے نصاب
میں اختر الایمان کی شاعری کو پڑھنے کا موقع تو ملا تھا لیکن ان کی سرگزشت
حیات سے آشنائی کم تھی یا نہ تھی۔نصاب میں
بھی جو پڑھا تھا وہ امتحان سے زیادہ کے لیے نہیں تھا۔ موقع غنیمت جان کر خرید لی۔ ساری مشغولیتوں کے
باوجود موبائل کی لت سے بچتے ہوئے چار دن
میں اختتام کو پہنچی۔ پہلے ہی دن ۲۷ ؍ اپریل
کو دوپہر سے شب تک ۱۲۲ صفحات کا احاطہ کر لیا۔ بقیہ صفحات یکم اپریل کی صبح ۷ بجے تک مکمل ہوگئے۔
کتاب کے چند ابتدائی سطور پڑھتے ہی اس میں دلچسپی کا سامان نظر آیا۔ واقعی اختر الایمان کا
بچپن جن حالات سے گزرا ہے اس پس منظر میں ان کو اس مرتبہ پر دیکھنا قاری کے لیے کم محرک نہیں
ہے۔ والد کا غیر ذمہ دارانہ رویہ، ماں کی بے بسی، خانہ بدوشی کی زندگی، پسماندہ ترین بستیوں اور نامہذب افراد کے
درمیان رہائش، اوباش اور بے راہ بچوں کی
صحبت، بکری بھینس چرانا، رہائش کی تبدیلی کے ساتھ تعلیم کا طرز بدل
جانا ، گھر سے نکلنا اور کھیتوں اور جنگلوں میں پھر، فیس نہیں ہونے کی وجہ سے گھر
سے نکلنا اور اسکول نہ پہنچااور نہ جانے کیا کیا۔ ایسے ناسازگار حالات کو موافق بنالینا کسی بھی انسان کے لیے دلچسپی
کا سامان بن سکتا ہے۔ ہمارا تعلق جس طرح کے
دیہات سے ہے، ان حالات کے درمیان
اگر کوئی پروان چڑھے تو شاید اس کا
خاک کا رزق ہوجانا طے ہے۔
حالانکہ کتاب کی ابتدا میں
مصنف کے ساتھ ہمدردی کا جو جذبہ پیدا ہوتا ہے آگے چل کر اس میں کمی آتی چلی جاتی ہے۔ کچھ
ناپسندیدہ اعمال کا ذکر انہوں نے اس کثرت سے کیا ہے کہ سلیم الطبع انسان تکدر کا شکار
ہوسکتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ وہ جیسے ہیں انہوں نے آپ بیتی میں خود کو ویسا
ہی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ کسی پردہ پوشی اور ملمع سازی سے کام نہیں لیا ہے لیکن
اس کے باوجود ایسے کچھ واقعات کا اپنے سلسلے میں یا دوسروں کے سلسلے میں بار بار اعادہ نہ کیا جاتا تب بھی نہ
تو کتاب کی تکمیل میں کوئی نقص پیدا ہوتا ہے اور نہ مصنف کی شخصیت سےمتعلق
شبیہ اتارنے میں کوئی رنگ پھیکا پڑتا۔
کتاب کا نام اور کتاب میں شامل مواد میں بڑی موزونیت
ہے۔جبکہ یہ نام انہوں نے خود نہیں دیا تھا بلکہ محمود ایاز نے خود یہ عنوان دے دیا
تھا ۔ مصنف کے پیش نظر اور بھی کئی نام تھے لیکن بعد میں یہ نام رہنے دیا گیا۔
نام سے مطابقت
رکھتے ہوئے یہ کتاب زندگی کے تضاد کو پیش
کرنے میں بہت کامیاب ہے۔یہ تضاد خود اختر الایمان کی زندگی کا ہے یا مجموعی طور پر
ان کے وقت کے سماج کا۔ اختر الایمان نے پھر پور زندگی گزاری ہے۔ زمانے کے سرد و
گرم کو خوب چکھا ہے۔ بھانت بھانت کے لوگوں سے ان کے تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ دنیا میں کیسے کیسے لوگ ہوتے ہیں۔ اندر سے
کیسے اور باہر کیسے ہوتے ہیں۔ کس طرح سے لوگ رنگ بدلتے ہیں ۔اچھے دنوں میں لوگوں
کا تعلق کیسا ہوتا ہے اور جب زندگی ہچکولے کھا رہی ہو تو انہی لوگوں کا رویہ کیا
ہوجاتا ہے۔ یہ سب اس کتاب کے مطالعہ سے سیکھنے کو ملتا ہے۔
اختر الایمان کا تعلق فلموں سے رہا
ہے۔ فلموں میں پردہ کے پیچھے کی زندگی کس طرح گزرتی ہے اور کس کس گھاٹ کا پینا
پڑتا ہے، یہ اس کتاب میں بخوبی موجود ہے۔ پردہ پر لوگ جتنا رنگین اور حسین نظر آتا
ہے ، پردہ کے پیچھے نہ تو وہ حسن ہے اور نہ ہ رنگینی۔ بھوک اور استحصال کو عیاں
کرنے والی فلموں کے پیچھے بھی بھوک اور استحصال چھپا ہوتا ہے۔ فلموں میں کام کرنے
والی خواتین کو کیا کیا قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ اس حوالے سے ان کے معاصرین جو
فلموں کے علاوہ دنیا دیگر میدانوں میں بھی شناخت رکھتے ہیں ان کو اس کتاب میں قریب
سے دیکھنے اور ان کو سمجھنے کا موقع ملتا
ہے۔
انہوں نے مختلف ممالک اور شہروں کا سفر کیا ہے۔ اختصار کے ساتھ ان
ملکوں اور شہروں کا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے جس میں فطری مناظر کی تصویر کشی، تاریخ
و ثقافت پر مختصر اور جامع روشنی ڈالی گئی ہے۔ وہاں کی مشہور شخصیات کے حوالے سے
بھی تاثرات دئیے گئے ہیں۔
چھوٹے چھوٹے جملوں میں انہوں نے زندگی کے تجربات کا نچوڑ پیش کر
دیا ہے۔ زندگی کے درمیان پیش آنے والے کئی لطیفے بھی ہیں جو گدگدانے کے ساتھ چشم
کشائی کا کام کرتے ہیں۔
اختر الایمان جدید طرز کے شاعر
ہیں۔ فلم اور اپنی شاعری کے درمیان انہوں نے کس طرح توازن قائم رکھا اس کا اندازہ
ہوتا ہے۔ مشاعروں کے حالات کو بھی بیان کیا ہے۔ مشاعرہ کی شاعری کی ادبی حیثیت پر
بھی روشنی ڈالی ہے۔
ایک بات جس کی طرف انہوں نے بعد کے
صفحات واضح اشارہ بھی کیا ہے کہ وہ کسی کی نجی زندگی میں جھانک تاک نہیں کرتے ہیں۔ایسے
افراد کے ساتھ جن کی نجی زندگی میں کچھ ہے اس کے ساتھ یہ اشارہ کر دیتے ہیں کہ ان
کی نجی زندگی سے انہیں کیا مطلب۔
اس طرح یہ کتاب ہر پیشہ سے تعلق
رکھنے والے لوگوں کے لیے قابل مطالعہ ہے۔ جملے بڑے سادہ اور آسان ہیں۔ واقعات کو
اتنے چھوٹی چھوٹی کڑیوں میں پیش کیا گیا کہ قاری میں اوب یا تھکن کا احساس نہیں
ہوتا ہے۔ زندگی میں جو بے ترتیب لف و نشر ہے یہ کتاب بھی اسی لف و نشر کا مجموعہ
ہے۔ چونکہ انہوں نے محمود ایاز کے مطالبہ
پر ان کے رسالے سوغات کے لیے سرگزشت حیات تحریر کی تھی جس قسط وار چھپی تھی۔ بعد
میں وہ بیمار پڑگئے جس کے بعد انہوں نے کتاب کو تسلسل میں پرونے اور نظر ثانی کا
زیادہ موقع نہیں ملا ۔ اس کی اہلیہ سلطانہ ایمن نے اس کو سمیٹا اور بعد میں اردو
اکادمی دہلی سے شائع ہوئی اس لیے چند واقعات کا تکرار ہے۔ اس کا احساس خود مصنف کو
بھی ہے۔
No comments:
Post a Comment