یہ خاموشی کیوں ہے؟
یوں تو آزادی کے بعد سے ہی ہندوستانی مسلمان آزمائشوں میں ڈالے جاتے رہے ہیں اور مختلف طرح سے ان کا کردار مشکوک کیا جاتا رہا ہے۔ سیکڑوں مرتبہ مسلمانوں سے خون کی قسطیں لی گئیں ہیں، ان کی آبرو رسوا کی گئی ہے اور ان کے مال تباہ و برباد کئے گئے ہیں،ان سب کے باوجود انہوں نے خود کوہر حال میں اس ملک سے وابستہ رکھا ہے اور ہر موڑ پر اس ملک کے ساتھ اپنی بے لوث وفا داری کا ثبوت دیا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں عالمی سطح پر اسلام اور اہل اسلام کو بدنام کرنے کی جو سازشیں رچی گئی ہیں ہندوستانی مسلمان بھی اس کے شکار ہوئے ہیں۔ اس دوران ہندوستانی مسلمانوں پر سب سے بڑا جو حملہ ہوا ہے وہ دہشت گردی کا الزام ہے۔ چنانچہ اس مدت میں ملک کے مختلف گوشوں سے مسلمان اس نام پر پکڑے جاتے رہے ہیں۔ جب جب گرفتاریاں عمل میں آئیں ہیں خود قوم کے بیشتر افراد بھی اپنی ہی قوم کے ان افراد کو مجرم محسوس کرتے رہے ہیں کیونکہ اس وقت کی گرفتار کرنے والی ایجنسیوں نے میڈیا کی مدد سے جو کہانیاں گھریں اور عوام میں ان کو عام کیا ان سے بظاہر ایسا ہی لگتا تھا۔ لیکن ایک اچھا خاصا عرصہ گزر جانے اور عدلیہ میں اس کی حقیقت کے واشگاف ہونے کے بعد جب مسلمانوں کو اصل صورت حال سے آگاہی ہوئی تو انہیں ملک کی اکثریت کی سیاست سمجھ میں آئی اور انہوں نے پھر محسوس کیا کہ اس نام پر مسلمانوں کو رسوا کرنے کی ایک نا پاک سازش ہے۔ چنانچہ اب جب کہ دسیوں ایسے معاملات کے کیس عدالت میں جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں اور ان میں پکڑے گئے بے قصور مسلمان اپنے ناکردہ گناہوں کی با مشقت سزا کاٹ کر بری ہوئے ہیں، جب ایسے معاملات سامنے آتے ہیں تو مسلمانوں کی جماعتوں ،انصاف پسند ،غیر جانب دار اور حقوق انسانی کے پاسبان برادران وطن صورت حال کی تحقیق کر کے مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے گھناؤنے کھیل کھیلنے والی سرکاری ایجنسیوں کو عدلیہ میں چیلنج کرتے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ایسے سکیڑوں کیس عدالت میں زیر سماعت ہیں اور ان کا جھوٹ کھلتا جارہا اور رفتہ رفتہ ایک نہیں انیک لوگ عدلیہ سے بے قصور ثابت ہو کر با عزت بری ہو رہے۔ جب کبھی ایسا سانحہ پیش آتا ہے کہ مسلم نوجوان دہشت گردی کے الزام میں ملک کے جس کونے سے پکڑے جاتے ہیں لوگوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ماخوذ لوگ بے قصور ہیں تو میڈیا اور سماجی بیداری کے توسط سے رائے عامہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ تمام لوگ متحد ہو کر اس کی حمایت کریں تاکہ وہ با عزت بری ہوسکیں۔ چنانچہ پچھلے برس کے انہی دنوں دربھنگہ اور مدھوبنی کے کئی نوجوان ملک کے مختلف علاقوں سے پے در پے پکڑے گئے۔ اس سلسلہ میں اکثریت کے پالیسی کے حمایتی میڈیا نے سر تال بٹھا کر وہ آواز میں آواز ملائی کہ محسوس ہوا کہ پورا ملک اسی علاقے کے دہشت گردوں کی زد پر ہے اور تقریباً ملک کے ہر دہشت گردانہ حملوں میں ان ماخوذ نوجوانو کی شمولیت ہے۔ اگر انہیں پکڑا نہیں جاتا تو نہ جانے کیا کیا واقعات انجام دئیے جاتے۔ اس واقعہ سے علاقے شریف نوجوان سہم گئے، والدین کے سینوں میں دھڑکا لگ گیا اور ہر والدین کے سامنے اپنے چہیتے کا مستقبل تاریک ہوتا نظر آیا۔ خیر اس موقع پر بر وقت ارباب حل و عقد نے صورت حال کو بھانپا اور انہوں نے ایک تحریک شروع کی۔ دانشوروں نے اخباروں کے ذریعہ عوام کو حالات سے آگاہ کیا اور ماخوذ نوجوانوں کی مظلومیت کو آشکارا کیا۔ انسانی حقوق کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی کئی غیر سرکاری تنظیمیں بھی مظلومین کی داد رسی کے لیے آگے آئیں۔ اس سے عوام میں بھی بیداری آئی انہوں نے ظلم کے خلاف اپنی ہمت بلند کی اور ان کے اندر ایک جرأت مندانہ حوصلہ دیکھنے کو ملا۔کچھ دنوں سے تک یہ سب چلتا رہا لیکن پھر رفتہ رفتہ لوگوں نے خاموشی سادھ لی ہے۔ گنے چنے لوگوں کو چھوڑ کر ہر سطح پر سرد مہری کی چادر ڈالی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے یا تو یہ محسوس کر لیا ہے کہ پکڑے گئے لوگ بے قصور تھے یا انہیں ایسا لگتا ہے کہ اب گرفتاری نہیں ہوگی۔
گزشتہ دنوں ممبران پارلیامنٹ کے ایک وفد نے بھی بے قصور گرفتاریوں کے سلسلہ میں وزیر اعظم سے مل کر بات کی۔ وزیر اعظم نے انہیں یقین دلا یا کہ بے قصوروں کی گرفتاریوں کو روکنے اور ان کی رہائی کے لیے ایک مضبوط میکانزم تیار کیا جائے۔ اس سلسلہ میں وزیر اعظم نے تین مہینہ کا وقت دیا ہے۔تقریباً ایک ماہ گزرنے والے ہیں۔ دو مہینہ کے اندر کتنی کارروائی ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا اور یہ وفد کتنا بے لوث تھا یہ بھی اس مدت کے گزر جانے کے بعد ہی پتہ چل پائے گا۔ جب یہ وفد ملا تھا تو اس کی بھی اخبار میں بڑی تعریف ہوئی تھی لیکن اس کے بعد پھر ایک خاموشی چھائی ہوئی ہے۔حالانکہ محض ملنے اور بات کہنے سے بات بننے والی نہیں ہے۔ اس کے لیے لگنا ہوگا ، قربانی دینی ہوگی اور طویل لڑائی ہوگی جو عدالت سے لے کر سیاست کی گلیاروں تک لڑنی ہوگی۔ سیاست دانوں پر بہت زیادہ بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ گرچہ اس معاملہ میں ان کے خلوص پر شک نہیں کرنا چاہیے لیکن موجودہ سیاسی صورت حال میں یہ کہنے میں تامل ہے کہ یہ بے لوث تھا۔
اس سلسلہ میں ایک اچھی بات یہ دیکھنے کو ملی تھی کہ دہلی میں اس سلسلہ میں غیر معینہ مدت کے لیے چند لوگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ۔ اس موقع پر جانب دار میڈیا نے تو انہیں نظر انداز کیا ہی خو مسلمانوں کی طرف سے بھی اچھی حمایت نہیں ہوئی۔ شاید لوگ یہ سمجھ رہے ہوں کہ ان کا کوئی رشتہ دار اب تک اس حملہ کی زد میں نہیں آیا ہے تو انہیں اس سے کیا واسطہ یا پھر یہ کہ یہ ایک بات تھی جو ہوگئی۔ ہمیں اپنے کام میں لگ جانا چاہیے۔
حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ یہ آخری حملہ ہے۔ پچھلے واقعات بتاتے ہیں کہ یہ ایجنسیاں الگ الگ وقت میں ملک کے الگ الگ علاقوں کو نشانہ بناتی ہیں اور وہاں کے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرتی ہیں۔ جب تک اس علاقے کے لوگ ذرا چوکنے رہتے ہیں تو اس علاقے کو چھوڑ کر دوسرے علاقے کا رخ کرتی ہیں پھر جب کسی علاقے کے لوگ سوجاتے ہیں انہیں دوبارہ نشانہ بناتی ہیں جیساکہ اس سے کئی سال قبل اعظم گڑھ میں مسلم نوجوانون کو بے تحاشا پکڑا گیا جب ادھر کیلوگ متحرک ہوئے تو ایجنسیوں نے ادھر کا رخ چھوڑ دکر دوسری جانب چارہ تلاش کرنے لگے۔ کچھ عرصہ بعد پھر جب انہیں محسوس ہوا کہ لوگ سرد پڑ چکے ہیں پھر ایک مرتبہ منہ مارنے کی کوشش کی اور پھر دو طالب علموں کو علی گڑھ سے دبوچ لیا۔اس کے فورا بعد جنوبی علاقوں سے ۸۱ گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ چونکہ ایجنسیوں کے نشانہ پر اسلام اور مسلمان ہیں اور اس فکر کی سرپرستی امریکہ اور اسرائیل کر رہے ہیں اس لیے یہ پورے ملک میں ہونا ہے۔ اس کے لیے الگ الگ انداز کے حربے بھی اپنا ئے جاتے ہیں مثلاً کبھی تبلیغی جماعت کو نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ کبھی حملہ ہوتا ہے تو ملک کے اس وقت کے وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ چونکہ فلاں فرقہ فلاں فرقہ کے خلاف اچھی رائے نہیں رکھتا ہے اور وہ متشددقسم کے ہیں ہیں اس لیے انہوں نے ہی ایسا کیا ہے۔ اکثریتی فرقہ مسلمانوں کے داخلی انتشار اور انتشار کی وجوہات سے واقف ہیں اس لیے وہ ایسے طریقے بھی اپناتے ہیں جن کی وجہ سے مسلمان متحد نہیں ہوسکیں۔ لیکن یہ کسی فرقہ کا مسئلہ بلکہ پوری امت کا مسئلہ ہے اور اس سے اوپر انسانیت کا مسئلہ ہے۔ اس سے جمہوریت بھی متاثر ہوگی۔ اس لیے چپی سادھنے کے بجائے جاگتے رہنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہو یہ رہا ہے کہ جب کسی علاقہ میں ایسا واقعہ انجام پذیر ہوتا ہے اس علاقے کے لوگ جاگتے ہیں دوسرے علاقوں کے دانشوران بھی ان کی حمایت کرتے ہیں پھر جلد ان کا زخم بھر جاتا ہے اور وہ خواب غفلت میں چلے جاتے ہیں۔ ایسا ہی دربھنگہ اور مدھوبنی کے علاقوں میں بھی ہوا ہے۔ جب زخم ہرا تھا بہت سے لوگ کچھ کر گزرنے کا جذبہ لیے ہوئے نظر آتے تھے لیکن جلد ہی سویا ہوا دیکھا جارہا ہے۔ لوگوں نے اگر اسے فرد کا مسئلہ سمجھا ہوا ہے تو انہیں ذہن سے یہ بات نکال دینی چاہیے کب کس کی باری آئے گی کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے۔
یہ جاگنے ہی ثمرہ ہے کہ اس سے برسوں قبل ٹاڈا کے تحت قید گرفتار نوجوانوں کو جن میں کئی کو عمر قید کی سزا سنائی جاچکی تھی رہائی پاچکے ہیں۔ دلی کے عامر کو ۴۱ سال بعد رہائی ملی ہے۔ جے ٹی ایس اے کی رپورٹ ‘‘ماخوذ، مقہور اور بری’’ ایسے مظلوموں کی داستان ہے جو بے قصور ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے شکار ہوئے ہیں اور بالآخر عدلیہ نے انہیں بے قصور ثابت کیا۔ لیکن ان بے قصوروں کی وہ جوانی جو ملک کی معیشت میں اضافہ اور ان کے اپنے گھرانے کے غربت کے خاتمہ کا سبب بنتی جیل کی کال کوٹھریوں کی نذر ہوگئی اس رہائی کے باوجود دوہ آپ کی داد رسی کے محتاج ہیں۔ ابھی انہیں بھی انصاف ملنا باقی ہے اور جو لوگ اس وقت خفیہ ایجنسیوں کے شکار بنے ہوئے اور جیلوں میں اس امت کے افراد کی قوت یوں ہی ضائع ہورہی ہے انہیں باہر لانا یہ پوری امت کی ذمہ داری ہے۔
یہ جاگنے ہی ثمرہ ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے مظالم کے شکار نوجوانوں کے بارے میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے دوارکا عدالت کے فاضل جج نے شواہد کی روشنی میں اپنے تاثرات اس طرح ظاہر کئے:
’’انکاؤ نٹر کی پوری کہانی اسپیشل اسٹاف دہلی کے دفتر میں اس کے خاص مصنف انسپکٹر روندر تیاگی اور اس کے معاونین کے ذریعہ لکھی گئی ہے۔ ‘‘
ہمیں خاموشی توڑنی ہوگی اور اس وقت تک جد جہد جاری رکھنی ہوگی جب تک یہ سلسلہ بند نہیں ہو جاتا۔