بہار قانون ساز کونسل کے انتخابی نتائج
اورہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل
پارلیامانی انتخاب سے عین قبل
لیکن انتخابی سرگرمیوں کے دوران بہار قانون ساز کونسل کے گریجویٹ اور اساتذہ انتخابی
حلقوں کی ۸ سیٹوں پر ہونے والے انتخاب کے نتائج ریاست میں سیاسی پارٹیوں کے لیے
انتباہ ثابت ہورہے ہیں تو وہیں ان سے عوام کو بھی اپنے ووٹ کے تئیں حساس اور باشعور
ہونے کا سبق مل رہا ہے۔ گوکہ اس انتخاب میں ووٹروں کی تعداد مخصوص اور محدود ہوتی ہے
لیکن ظاہر ہے کہ اس کے رائے دہندگان کی شبیہ باشعور اور دانشوانہ سمجھی جاتی ہے اور
اس کے رائے دہندگان میں کچھ محدود تو کچھ وسیع پیمانے پر دوسرے لوگوں کو متاثر کرنے
کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔مزید برآں اس کا حلقہ کئی اضلاع پارلیامانی حلقوں پر مشتمل
ہوتا ہے۔ ان حوالوں سے اس کے اثرات وسیع پیمانے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس وقت ملک بھر میں
جو انتخابی پیش منظر ہے اس میں دو طرح کے آئیڈیالوجی کام کر رہی ہےں جنہیں سیکولرز
م اور فرقہ پرستی سے تعبیر کیا جانا چاہے۔ جو پارٹیاں میدان میں اتر رہی ہیں ان میں
ایک طرف بی جے پی اور اس کی حامی پارٹیاں ہیں جو اپنی فرقہ پرستی کی وجہ سے مقبولیت
حاصل کر رہی ہیں۔ حالانکہ وہ وقفہ وقفہ سے مسلمانوں کو راغب کرنے کے لیے اپنی فرقہ
پرستی کی تاویلات بھی پیش کرتی رہتی ہے تو دوسری طرف جو پارٹیاں ہیں بظاہر وہ سب کی
سب سیکولرزم کے حوالہ سے ہی خود کو عوام کے سامنے پیش کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں موجودہ
نتائج پر نظر ڈالی جائے تودیکھا جاسکتا ہے کہ ۸ میں
سے۶ سیٹیں سیکولر کھاتے میں آئی ہیں گرچہ ان میں سے ۱ آزاد امیدوار ہے لیکن چونکہ یہ اینٹی بے جی پی ہے اس لیے اسے بھی سیکولر
خانہ میں ہی رکھا جانا چاہیے۔ جبکہ دو پر بھاجپا نے بھی کامیابی حاصل کی ہے جن میں
پٹنہ اساتذہ حلقہ سے نول کشور یادو ہیں تو کوسی سے این کے یادو ہیں ۔ جبکہ دربھنگہ
سے گریجویٹ اور اساتذہ دونوں پر کانگریس ۔راجد اتحاد کے ڈاکٹر دلیپ کمار چودھری اور
ڈاکٹر مدن موہن جھا کامیا ب ہوئے ۔ اسی طرح پٹنہ گریجویٹ سے جد یو کے نیرج سنگھ نے
کامیا بی حاصل کی ہے تو بھاکپا کے امیدواروں میں ترہت اساتذہ حلقہ سے سنجے کمار سنگھ
اور سارن سے کیدار ناتھ نے فتح پائی ہے اور ترہت گریجویٹ سے دیویش چندر ٹھاکر نے بطور
آزاد امیدوار جیت حاصل کی ہے۔ ان میں پٹنہ سے کامیاب نول کشور ایسے ہیں جنہوں نے کچھ
دنوں قبل ٹکٹ کے لیے راجد سے بغاوت کر کے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اسی طرح
کوسی سے جیتنے والے بی جے امیدوار کے بارے میں بھی یہی کہا جارہا ہے کہ انہیں راجد
کے کیڈر ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔نتیجہ کے اس تناظر میں یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ پورے ملک
میں مودی کی جس لہر کی بات کی جارہی ہے عام انتخاب سے متصل بہار قانون ساز کونسل کے
اس انتخاب میںاس کے اثرات کیوں نہیں دکھائی دیئے اور انہیں صرف دو سیٹوں پر ہی جیت
حاصل کیوں ہوسکی جبکہ ان دونوں سیٹوں پر راجد ووٹروں کی لاشعوری اور عدم حساسیت بھی
اثر انداز ہوئی ہے۔اس انتخاب میں یہ بھی دیکھا گیا ہے پانچ سیٹوں پر بی جے پی تیسرے
مقام تک ہی پہنچ سکی ہے۔
ان سیٹوں پر قسمت آزمائی کر رہے
امیدواروں کو بی جے پی اور سیکولر خانہ میں رکھ کر ہر سیٹوں پر دیئے گئے ووٹوںکا جائزہ
لیا جائے تو سیکولر ووٹوں کے مقابلہ میں بی جے پی حامی ووٹوں کی تعداد قابل اعتنا بھی
نہیں ہے۔ کیونکہ ماسوا بی جے پی تمام امیدواروں کو ملاکر جو ووٹ ہیں وہ سب کے سب اینٹی
بی جے پی سمجھے جانے چاہئیں جو کہیں امیدواروں کے ذاتی تعلقات تو کہیں دیگر عامل کی
کارفرمائی کی وجہ سے سیکولرزم کی بقا کے لیے ووٹوں کے صحیح استعمال سے بے توجہی اور
عدم حساسیت کی وجہ سے منتشر ہوگئے ہیں لیکن بنیادی طور پر وہ سیکولر حامی ہی ہیں۔ اس
سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگرسیکولر ووٹر سیاسی شعور اور بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے
حق رائے دہی کا استعمال کریں تو فرقہ پرست جماعت اب بھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ
وہ سر اٹھاسکے۔ حالانکہ یہ بھی المیہ ہی ہے کہ عام طور پر سیکولر ووٹوں میں جو انتشار
ہے فرقہ پرست حامی ووٹروں میں وہ انتشار نہیں پایا جاتا ہے۔
یہ وقت مسلمانوں کے لیے ہوشیار رہنے کا ہے کیونکہ اس نتیجہ کے بعد فرقہ
پرست جماعتیں اپنے سیاسی منشور پر نظر ثانی کریں گی اور سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرنے
کی سازش پوری طرح رچیں گی۔ ایسی حالت میں عوام کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ کس طرح
اپنے ووٹوں کو تقسیم سے روک پاتے ہیں۔ یہاں یہ بھی قابل نظر ہے کہ بہار کی ۰۴ پارلیامانی سیٹوں میں ۸ پر مسلمان فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں فرقہ
پرست جماعتیں چاہیں گی کہ مسلمانوں کے ووٹ بکھر جائیں ۔ ان میں دربھنگہ اور مدھوبنی
ایسے پارلیامانی حلقے ہیں جہاں مسلم ووٹوں کو بکھراؤ سے بچانا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔اسی طرح ملک کے
دیگر حلقوں میں بھی جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیںفرقہ پرست پارٹیاں ان کے
ووٹوں کو انتشار کا شکار بناکر جیت کا راستہ ہموا کرنے کی کوشش کریں گی ۔ ماضی میں
مسلمانوں کا جو رویہ رہا ہے اس میں یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ان کی یہ گندی سیاست کامیاب
نہیں ہوسکے گی۔ ایسے میں مسلمانوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اتحاد کا ثبوت دیتے ہیں یا
منتشر ہوکر فرقہ پرستی کو سر اٹھانے کا موقع دیتے ہیں۔ مسلم ووٹوں میں اتحاد کے لیے
سب سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ مقامی لیڈران سے ہوشیار رہیں اور الزام تراشی اور ذات پات
کی سیاست سے بالاتر ہوکر سوچیں۔ ذاتی اور وقتی مفاد کی جگہ جمہوری اور دائمی مفاد کو
ترجیح دیں۔ عام طور پر مقامی لیڈران وقتی اور ذاتی مفاد کے لیے عوام کے ووٹوں کا سودا
کر بیٹھتے ہیں۔ انہیں یہ جاننا چاہیے کہ اس سے ان کی اہمیت گھٹ جاتی ہے اور انہیں لیڈران
ہمیشہ چند سکوں میں تولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے اگر وہ ووٹ کو کاسٹ کرانے کی صلاحیت
رکھتے ہیں تو انہیں بڑے مفاد کو ترجیح دینی چاہیے ۔ اس سے ان کی اہمیت میں بھی اضافہ
ہوگا اور لیڈران کو ان کی طاقت بھی احساس ہوسکے گا۔
اس انتخاب کے نتائج کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ دربھنگہ میںگریجویٹ
حلقہ میں ۳ ہزار سے زائد اور اساتذہ حلقہ میں تقریبا ۰۵۵ ووٹ
رد ہوگئے۔دیگر حلقوں میں بھی اسی طرح کے کچھ اعداد وشمار ہیں۔ پارلیمانی انتخاب ہو
یا اسمبلی انتخاب اور اسی طرح پنچایت اور بلدیہ انتخابات ہر ایک میں قابل لحاظ ووٹ
رد ہوتے رہتے ہیں۔ رد ہونے کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔ ہمارے ملک میں ناخواندہ لوگوں
کی ایسی بڑی تعداد ہے جو ووٹ کے طریقہ سے ناواقف ہے ۔ اس لیے حق رائے دہی میں غلطی
ہوجاتی ہے ۔ سن رسیدہ لوگوں کو بھی کچھ دقتیں پیش آتی ہیں۔ مگر ان کے برخلاف قانون
ساز کونسل کے انتخاب میں جو ووٹر ہوتے ہیں وہ گریجویٹ اساتذہ اور اعلی تعلیم یافتہ
ہی ہوتے ہیں۔ اس میںاس تعداد میںووٹوں کا خراب ہوجانا ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا ہمارے
گریجویٹ میں یہ شعور نہیں ہے کہ وہ اپنے حق رائے دہی کو مناسب طریقہ سے استعمال کرسکیں
تاکہ ان کا انتخاب فیصلہ کن ہو۔ اس سے ہماری ریاست اور ملک کی تعلیمی صورتحال پر بھی
سوالیہ نشان اٹھتا ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام اپنے اساتذہ اور اپنے شہریوں کو گریجویٹ
سطح تک کی تعلیم دینے کے بعد بھی ان میں اتنا شعور پیدا نہیں کرپاتا کہ ووٹنگ کے عمل
کو درست طریقہ سے انجام دے سکیں ۔یہ نتیجہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جب ہمارے
یہاں ایسے گریجویٹ ووٹر ہوں گے تو ان سے اچھے اور لائق نمائندوں کی انتخاب کی توقع
کس طرح کی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ پہلی مرتبہ اس انتخاب میں نوٹا (ان میں سے کوئی نہیں)
کا بھی آپشن تھا جس میں گریجویٹ حلقہ سے تقریبا ۰۵۱ اور
اساتذہ میں ۱ لوگوں نے اس کا بھی استعمال کرتے ہوئے موجودہ امیدواروں کی نفی بھی
کی۔ باشعور عوام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا بہت سوچ سمجھ کر کیا ہوگا تو کیا ایسے
لوگ کوئی متبادل بھی دے سکیں گے جو ان کی امیدوں پر کھڑا اترسکیں۔
اس انتخاب میں بڑے پیمانے پر
بدعنوانی کا معاملہ لوگوں کے سننے میں آیا ہے۔کہا جارہا ہے کہ کئی حلقوں میں ووٹوں
کی زبردست خرید وفروخت ہوئی ہے۔ ووٹوں کی خرید وفروخت کا معاملہ بھی ہر انتخاب میں
سننے میں آتا ہے۔ شراب کی بوتلیںاور روپے کی تھیلیاں انتخاب سے قبل کی رات میں بڑے
پیمانے پر تقسیم ہوتی ہیںاور ان سے متاثر ہوکر جمہوریت کی تقدیر چند سکوں میں لکھ دی
جاتی ہے۔ پارلیامانی اسمبلی، پنچایت اور بلدیہ انتخابات میں غریبوں ، کم پڑھے لکھے
یا ناخواندہ لوگوں کو ان چیزوں سے راغب کرلینے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن باشعور
ووٹروں کے درمیان ان کے ذریعہ رغبت پیدا ہوجانا بہت بڑا سوال ہے۔حالانکہ اس وقت دنیا
بھر میں صارفیت اور مادیت کا جس طرح دور دورہ ہے کہ اس میں یہ باتیں بڑی عجیب بھی نہیں
ہیں۔ خود عوامی نمائندے عوام کو جس طرح سے ٹھگتے رہتے ہیں اس میں ووٹروں کا وقتی مفاد
کو ترجیح دینا غلط نہیں لگتا۔لیکن یہ بات ہمیں نہیں فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس کا
بنیادی سبب ہماری زندگی سے اخلاقی اقدار کا زوال ہی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے تعلیمی
نظام پریہاںبھی سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام آدرش وادی (مثالی) انسان
پیدا کرنے سے عاجز ہوچکا ہے۔ پڑھے لکھے لوگوں کو بھی اتنا شعور نہیں بخشتا کہ وہ بک
کر حق رائے دہی نہ کریں جبکہ اساتذہ تو ہمارے مستقبل کے معمار ہیں اور وہ ہمارے نئے
پودوں کو سیراب کر رہے ہیں ۔ تب ایسے اساتذہ جو خود بک سکتے ہیں ان کے پڑھائے بچوں
سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ حالانکہ بکنے والوں کی جو دلیلیں ہوتی ہیں وہ وقتی طور پر
بھی سوچنے پر مجبور بھی کردیتی ہے تاہم اس کے پیچھے اقدار کی گراوٹ ہی ایک اہم سبب
مانا جارہا ہے۔ہماری حکومتیں نصاب تعلیم میں جنسی تعلیم کا شگوفہ تو چھوڑ سکتی ہے لیکن
تعلیم کے ہر شعبہ میں اور ہر سطح تک اقدار کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے کوئی ٹھوس
لائحہ عمل طے نہیں کرسکتی ہے۔ حالانکہ اقدار زندگی میں نافذ العمل تبھی ہوسکتی ہیں
جب کوئی نہ کوئی مذہب کسی ماورائی قوت کے سامنے جوابدہی کا احساس پیدا کرسکے۔ عام طور
پر یہ بات مشاہدہ کی جاسکتی ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں مرنے کے بعد جوابدہی کا احساس
ہر مذہب کے ماننے والوں میں کمزور ہوگیا ہے جو بدعنوانی کا بنیادی سبب ہے۔
بدعنوانی کی اس بہتی گنگا میں دیگر طبقوں کے ساتھ مسلمانوں کا بھی ایک
طبقہ ہاتھ دھولیتا ہے جو انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔ دیگر طبقوں کے لیے جواز کی صورتیں
ہوں یا نہ ہوں مسلمانوں کے لیے تو کسی بھی صورت میں یہ جائز نہیں ہوسکتا۔ گوکہ مسلمانوں
نے اب تک اس ملک میں وفاداری کے بہت ثبوت دیئے ہیں اس کے باوجود انہیں جن امتحانات
سے گزرنا پڑا ہے وہ جگ ظاہر ہے اور اب یہ سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ لیکن ہمیں تسلیم
کرنا چاہیے کہ یہ ملک مسلمانوں کی اپنی ملکیت ہے اور ساری دنیا چوری پر آمادہ ہو تو
گھر کا مالک بھی اس میں شریک ہوجائے یہ کسی طرح طور سے روا نہیں ہوسکتا ۔ہمیں کسی بھی
صورت میں حوصلہ نہیں کھونا ہے اور اب بھی یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم اس ملک کے سچے شہری
ہیں اور ہم ہی جمہوریت کے امین اور محافظ ہیں۔ہمیں اس طرح کی بدعنوانیوں سے بچتے ہوئے
اور پارٹیوں کی اوچھی سیاست سے اوپر اٹھ کر سیکولر اور اچھے نمائندوں کا انتخاب کرنا
ہے۔ جہاں کہیںحالات ایسے ہوں کہ کسی نہ کسی دشمن کا انتخاب کرنا ہو تو دو بڑے دشمن
میں کم ترین کا انتخاب کرنا ہے جس کا ملک کے ہر صوبہ اور علاقہ میں سامنا ہے۔
بلا سے کچھ ہو ہم احساں اپنی خو نہ چھوڑیں
گے
ہمیشہ بے وفاؤں سے ملیں گے با وفا ہوکر
٭٭٭