پروفیسر منصور عمر بحیثیت مرتب و مدون
دبستان
بہار کی ادبی روایات کو آگے بڑھانے میں جن شعرا وادبا نے گراں قدر علی خدمات انجام
دی ہیں ان میں پروفیسر منصور عمر کا نام انتہائی ادب واحترام سے لیا جاتا ہے۔ پروفسیر
منصور عمر کا اشہب قلم ابھی دوڑ ہی رہا تھا کہ تقریبا ۵۹ سال
کی عمر میں ۲۳ اپریل۲۰۱۴ کو وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ اس غیر
طبیعی عمر میں پروفیسر منصور عمر نے بھر پور زندگی گزاری اور اپنی زندگی کے سارے انسلاکات
میں ایک معتدل انسان کی روش اختیار کی۔ وہ پیشہ سے استاد تھے تو صرف استاد ہی ہوکر
نہیں رہ گئے تھے؛ باوجودیکہ انہوں نے اپنے منصبی فریضہ میں کبھی کوتاہی نہیں برتی اور
ایک اچھے استاد بھی ثابت ہوئے؛ لیکن ساتھ ہی علمی وادبی کام بھی اعتدال کے ساتھ اور
متعدل فکر کے تحت جاری رہا۔ ادب کی ساری روایتیں، سارے رجحانات قابل قدر مگر ادب کی
توانا قدروں اور فکر کی صالحیت کو برتری۔یہ تھا ان کا نظریہ فکر وفن۔ ان کی علمی وادبی
خدمات کے کئی پہلو ہیں ۔ پروفیسر منصور عمر کا ادبی میدان شاعری اور تنقید رہا ہے۔
وہ جیسے شاعر تھے ویسے ہی اچھے تنقید نگار بھی تھے۔ انہوں نے اپنی مختصر عمر میں ۲۰ کتابیں تصنیف وتالیف کیں، ۵۰ سے زائد تحقیقی مقالات لکھے ، کم وبیش اتنے
ہی علمی تبصرے کئے اور ۱۰سے زائدکتابوں کی مقدمے اورپیش لفظ بھی تحریر کئے ۔شاعری کی تقریبا
تمام اصناف میں طبع آزمائی کی ۔ کئی طویل ترین نظمیں بہت مقبول ہوئیں۔ان کی شاعری یا
تنقید نگاری کا بنیادی وصف یقین واعتماد تھا جس کی بنا اردو زبان وادب کی جملہ روایتوں
پر مستحکم تھی۔ الغرض ان کی خدمات کی کئی جہتیں ہیں جن پر علاحدہ گفتگو کی جاسکتی ہے
لیکن اس مختصر مضمون میں پروفیسر منصور عمر کی تالیفی خدمات کی ہلکی سی جھلک پیش کی
جارہی ہے۔ ان کے تالیفی کام کی ابتدا ”اختر اورینوی- فنکار وناقد“۱۹۸۵ سے ہوتی ہے۔
اس کے بعد۱۹۸۸ میں ”بہار کے چند نامور شعرا‘ ‘ جلد اول کی اشاعت عمل میں آئی جس کی
دو سری جلد ان کی زندگی میں شائع ہوچکی ہے اور تیسری طباعت کے مرحلہ میں تھی کہ وہ
اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے علاوہ” مملکت نیپال“ ، ”طرزی اور طرزی بیان“ ،” کلیات
طالب“ اور ”بیاض فکر رعنا“ ان کی تالیفی پیشکش ہیں۔
ترتیب کاتعلق تدوین سے ہے اور بحوالہ ڈاکٹر گیان چند جین:
”اردو میں
تدوین متن سے زیادہ مقبول اصطلاح ترتیب متن ہے۔ دونوں قریب المعنی ہیں۔ ترتیب کے معنی
کسی شے کے اجزا کو مناسب تقویم وتاخیر سے رکھنا ہے۔ تدوین کے معنی متفرق اجزا کو اکھٹا
کر کے ان کی شیرازہ بندی کرنا ہے چونکہ مجتمع کرنے میں ایک ترتیب سے کام لیا جاتا ہے
اس لیے ترتیب اور تدوین میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ترتیب ایک عام لفظ ہے اور تدوین کا تعلق
کتابوں سے ہے۔ “
(تحقیق کا فن ۔ ڈاکٹر گیان چند جین ص ۳۹۸)
مرتب جو ایک مدون ہوتا ہے اور اسے تحقیقی صلاحتیں بروئے کار لانی پڑتی
ہیں کیونکہ ”تدوین تحقیق سے جدا فن نہیں ، یہ تحقیق ہی کی ایک شاخ ہے۔ اس کے لیے انہی
صلاحیتوں اور ذہنی رجحان کی ضرورت ہوتی ہے جو تحقیق کے لیے در کار ہیں“۔ (تحقیق کا
فن ۔ ڈاکٹر گیان چند جین ص ۹۹۳)
پروفیسر منصور عمر اچھے تنقید نگار ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے محقق بھی
تھے اور اچھے مدون یا مرتب بھی۔ انہوں نے کل۸ کتابیں
ترتیب دیں جن کے نام اوپر مذکور ہوئے۔ ان میں سے ایک اہم کام طالب دربھنگوی کے کلیات
کی ترتیب وتدوین ہے جسے انہوں نے ۷۰۰۲ میں ترتیب دے کر شائع کیا تھا۔ گیان چند جین
اپنی کتاب ”تحقیق کا فن“ میں لکھتے ہیں :
”منظومات
کے مدون کو مجموعے کے مختلف اصناف کی ہیئتی خصوصیات اور معنوی روایات سے واقفیت ہونی
چاہیے ۔ اس کے علاوہ عروض کی واقفیت بھی ناگزیر ہے ۔ عروضی حس کے ذریعہ وہ مصرعہ کے
غیر موزوں متن کی گرفت کر کے اس کی تصحیح کرسکے گا۔ علم قافیہ، علم بدیع اور علم تاریخ
گوئی کی واقفیت بھی مفید ثابت ہوگی ۔ تاریخ نکالنے کے مختلف طریقوں کی معلومات ہو تو
اس سے قطعات تاریخ کا متن صحیح تر لکھا جائے گا“۔
(تحقیق کا فن ۔ ڈاکٹر گیان چند جین ص۴۰۲)
طالب دربھنگوی قادر الکلام شاعر تھے اور مختلف اصناف پر قدرت رکھتے
تھے۔ بنیادی طور پروہ نعت گو شاعر تھے لیکن انہوں نے حمد، غزلیں، نظمیں، قطعات تاریخ
اور فارسی میں بھی طبع آزمائی کی جن میں سے ۴۸ صفحات
پر مشتمل نعتیہ مجموعہ ۰۹۳۱ھ میں ”نغمہ زار وفا“ کے نام سے شائع ہوا تھا۔
پروفیسر منصور عمر خود اچھے شاعر تھے اور فن شاعری پر بڑی گرفت رکھتے
تھے، قطعات تاریخ اور علم العروض کے چند گنے چنے لوگوںمیں ان کا نام آتا تھا۔ فارسی
پر بھی قدرت رکھتے تھے۔ان کے علاوہ مشرقی شعریات اور اس کی تاریخ سے کما حقہ واقف تھے۔
اس اعتبار سے بھی اس کتاب کی تدوین کا کام ان کی صلاحیتوں اور ذہن کے عین موافق تھا
جس کو بڑی حد تک انہوں نے پورا بھی کیا۔
کلیات طالب میں ایک حمد، ایک ہدیہ سلام، ۳۶ نعتیں، ۱۱۱ غزلیں ۱۹ نظمیں، ۵ تاریخی
قطعات، ۶ سہرے، ۱۰ غیر مطبوعہ نعتیں۴ مطبوعہ
اور ۶ غیر مطبوعہ فارسی کلام شامل ہیں۔ جیسا کہ مقدمہ سے ظاہر ہے کہ ۱۳۹۰ھ میں
طالب دربھنگوی کا نعتیہ مجموعہ شائع ہوا تھا جو صرف ۴۸ صفحات
پر مبنی تھا ۔ کلیات کی فہرست سے مقابلہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اس مجموعہ میں ۳۶ نعتیہ کلام اور ۴ فارسی کلام شامل تھے کیونکہ ۱۰ غیر مطبوعہ
نعتوں کو بھی اس کلیات میں جگہ دی گئی ہے اسی طرح فارسی کلام کے ساتھ مطبوعہ ”نغمہ
زار وفا“ کی صراحت موجود ہے۔
انہوں نے اپنے مقدمہ میں نعت گوئی کی فن کی نزاکت کے حوالہ سے بڑی قیمتی
گفتگو کی ہے اور کسی حد تک حمد ونعت کے باریک فرق کے درمیان خط امتیاز رکھنے کی طرف
اشارہ بھی کیا ہے اور طالب دربھنگوی نے اس کو ملحوظ رکھنے کی کوشش کی ہے اس کی بھی
وضاحت کی گئی ہے۔ ساتھ ہی طالب دربھنگوی کی شاعری میں جن مذہبی تلمیحات کا استعمال
کیا گیا ہے ان کی طرف بھی اشارے موجود ہیں۔
چونکہ اس کا تعلق تدوین متن سے ہے اس لیے کئی سوالات قائم کئے جاسکتے
ہیں جن کی تشفی مقدمہ کے مطالعہ سے نہیں ہوتی ہے۔اتنا تو قرین قیاس ہے کہ طالب دربھنگوی
کا کلام پروفیسر منصور عمر کو طالب دربھنگوی کے فرزند ارجمند پروفیسر عبد المنان طرزی
کے یہاں سے حاصل ہوا ہوگا اور انہی کی ایما پر پروفیسر منصور عمر نے اسے ترتیب بھی
دیا ہوگا ۔ تاہم مقدمہ سے اس بات کا انکشاف نہیں ہوتا ہے کہ بقیہ کلام کس صورت میں
انہیں حاصل ہوا ۔ یہ مطبوعہ تھا یا غیر مطبوعہ اور ہر دو صورت میں انہیں شاعر کا قلمی
نسخہ (آٹو گراف) یا بیاض حاصل ہوسکا یا نہیں ۔ نغمہ زار وفا ۰۹۳۱ھ میں جس کی اشاعت عمل میں آچکی
تھی، اس کا قلمی نسخہ بھی انہیں حاصل ہوا یا نہیں تاکہ اصل نسخہ اور مطبوعہ کلام میں
موازنہ کر کے تصدیق کی جاسکے کہ مطبوعہ کلام مسودہ سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے ۔ عام
طور پر مطبوعہ کلام میں کاتب سے بھی بعض غلطیاں ہوجاتی ہیں جن کا اثر منظوم کلام میں
بحر پر پڑسکتا ہے ، زبان کی فاش غلطی ہوسکتی ہے جس کا تصور شاعر کے مزاج اور پختگی
کے اعتبار سے ممکن یا نا ممکن ہے ۔مدون کی ذمہ داری ہے کہ کلام کی تدوین کے وقت اصل
نسخہ سے اس کی تصدیق کرے ۔ کتاب کے مقدمہ سے ایسا کچھ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ اس طرح
کی کوئی غلطی نظر آئی یا نہیں اور اگر آئی تو اصل کلام تک کیسے رسائی ہوئی ۔ نغمہ زار
وفا میں شامل نعت کے علاوہ غیر مطبوعہ نعت اور غیر مطبوعہ فارسی کلام کی صراحت کی گئی
ہے جبکہ غزلوں کے بارے میں ایسی کوئی صراحت موجود نہیں ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ
غزلیں غیر مطبوعہ تھیں تو کئی سوالات اور بھی قائم کئے جاسکتے ہیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر عبد
المنان طرزی کے ذریعہ بیان کردہ اپنے والد ماجد کے سوانحی کوائف سے واضح ہوتا ہے کہ
طالب دربھنگوی کی پیدائش ۱۹۱۵ میں ہوئی اور ۱۹۴۹-۵۰ میں
انہوں نے اپنا تخلص شاطر سے بدل کر طالب کرلیا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالب دربھنگوی
نے کم از کم۲۵ سے۲۸ سال کی عمر سے شاعری شروع کردی تھی اور تقریبا ۳۵ سال کی عمر میں انہوں نے اپنا تخلص بدلا تھا ۔ اس طرح اس مدت میں انہوں
اپنی شاعری میں کوئی مخصوص رنگ اختیار کر لیا تھا اور کلیات کی اشاعت ۲۰۰۷ میں عمل میں آئی جبکہ ”نغمہ زار وفا“ کی طباعت ۱۳۹۰ھ میں
ہوئی جس کی کتابت ۱۹۷۰ میں مکمل ہوچکی تھی ۔ اب سوال
یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مدت میں حضرت طالب دربھنگوی نے کیا صرف نعتیں ہی کہیں اور غزلوں
سے لا تعلق رہے۔ پھر یہ کہ انہوں نے ۱۹۴۹-۵۰میں
شاطر سے طالب تخلص بدلا لیکن کلیات میں ان کی تمام غزلوں حتی کہ نعتیہ کلام میں بھی
طالب ہی تخلص ملتا ہے ۔ مرتب نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ شاعر نے اس کلیات میں
تخلص بدلنے سے قبل کا کلام شامل کیا ہے یا نہیں یا شاعر نے اپنی سابقہ غزلوں اور نعتوں
سے بھی تخلص بدل دیا تھا جس کا امکان اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاطر اور طالب دونوں ہم
وزن الفاظ ہیں اس لیے ایسا کرنے میں کوئی پریشانی بھی نہیں ہوئی ہوگی۔ بالفرض مرتب
نے تخلص بدلے ہوئے مسودہ سے کلام کی تدوین کی توکیا انہیں کلام میں دیگر تبدیلیاں بھی
دکھائی دیں یا نہیں۔
تخلیقات کے ساتھ تاریخ دینے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ قاری کو
ادیب کے ذہنی وفکری ارتقا کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ بہ استثنائے سہرا اور تاریخی
قطعات یہ واضح نہیں ہوتا ہے کون سے کلام شاعر کی کس عمر کا ہے۔ مرتب نے بھی اس بات
کی صراحت نہیں کی ہے کہ شاعر کے مسودہ میں انہوں نے اس کو تلاش کرنے کی کوشش کی یا
نہیں ۔
مرتب ایک اچھے تنقید نگار تھے اور زبان وادب پر ان کی پوری گرفت تھی
۔ مرتب نے طالب دربھنگوی کی زبان دانی،کہاوت اور مہاوروں کے حوالہ سے مقدمہ میں گفتگو
بھی کی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ شاعر کی زبان دانی اور فن پر ان کی گرفت کا تنقیدی جائزہ
لے کر اس کی قیاس آرائی کی جاسکتی تھی کہ ان کا کون سا کلام کس زمانہ کے آس پاس کا
ہوسکتا ہے۔ اگر شاطر کے تخلص سے کلام موجود ہوتا تو ابتدائی کلام اور بعد کے کلام میں
کچھ فرق واضح ہوسکتا تھا۔
پروفیسر منصور عمر نے ۱۹۸۵ میں پروفیسر مظفر مہدی کے اشتراک سے” اختر
اورینوی - فنکاروناقد“ کے نام سے۱۳۶صفحات پر مشتمل اپنی پہلی کتاب ترتیب دی تھی ۔ یہ کتاب تحقیق اور تدوین
کے زمرہ میں شمار ہونے کے بجائے سراپا ترتیب ہے ۔لیکن جس پراجکٹ اور جس منصوبہ بندی
کی تحت یہ کتاب شائع کی گئی تھی وہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور جو کام کسی اکیڈمی
یا کمیٹی کی جانب سے کیا جانا چاہیے تھا اس کو انہوں نے محض ۲افراد کے اشتراک سے شروع کیا۔
اس کتاب کا مقصد بہار کے فنکاروںکی خدمات کو سامنے لانا ہے ۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
”کہا جاتا
ہے کہ تنقید کو بلا تفریق مذہب وملت ، علاقہ واریت ، گروہ بندی اور نظریاتی عصبیت سے
دامن بچاکر اپنے فرائض انجام دینا چاہیے ۔ لیکن کہنے دیجئے کہ اردو تنقید ان چیزوں
سے اپنے چہروں کو بے داغ نہ رکھ سکی اور نظریاتی گروہ بندی اور علاقائیت کی بری طرح
شکار رہی ہے۔ چنانچہ ہمارے ناقدین دبستان بہار کے ادیب وفنکار کی خدمات کے اعتراف سے
مسلسل صرف نظر کرتے رہے ہیں۔ حالانکہ یہ مسلم حقیقت کہ جن دنوں دہلی ولکھنؤ کے ادیب
وفن کار اردو شعروادب کے گیسو سنوارنے میں منہمک ومشغول تھے انہی دنوں بہار میں اردو
زبان وادب کی تزئین و آرائش ہورہی تھی’’۔
(پیش لفظ : اختر اورینوی - فنکار وناقد)
اس کے بعدانہوں نے مختلف مثالوں سے ثابت کیا ہے کس طرح ملک کے دیگر
خطوں کے مساوی بہار میں اردو ادب کی گراں قدر خدمات انجام دی جاتی رہی ہیں۔ اس میں
جو مضامین شامل کیے گئے ہیں وہ متنوع ہیں اور اختر اورینوی کی ادبی خدمات کے تمام گوشوں
کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس طرح اس ایک کتاب میں ان کی خدمات کو مجموعی طور پیش کر کے دبستان
بہار کی خدمات کے ایک جزو کو سامنے لایا گیا ہے ۔
پروفیسر منصور عمر کی دوسری کتاب ۱۹۸۸ میں
پروفیسر مظفر مہدی کے اشتراک سے ہی ”بہار کے چند نامور شعرا “ کے نام سے شائع ہوئی۔
اس کتاب کو آخر الذکر کتاب کی توسیع کہا جاسکتا ہے۔لکھتے ہیں:
”امر واقعہ
یہ ہے کہ بہار میں اردو شعر وادب کی تاریخ بڑی شاندار رہی ہے ۔ اردو کے دوسرے معروف
دبستانوں کی طرح سرزمین بہار نے بھی اردو شعر وادب کی جملہ اصناف کی زلف پیچاں کو سنوارنے
اور سجانے میں گراں بہا خدمات انجام دی ہے۔ بالخصوص جب ہم یہاں کے شعری سرمایہ پر نظر
ڈالتے ہیں تو بلاتکلف یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ بہار میں اردو شاعری کے مرغزارہر دور
میں بڑے ہی سر سبز وشاداب رہے ہیں خواہ اردو شاعری کا قدیم دور ہو یا ترقی پسندانہ
دور یا دور جدید ۔ لیکن ہمیں کہنے دیجئے کہ ان شعرا وادبا کے شاعرانہ کمالات ، فنکارانہ
جوہر اور بیش قیمت خدمات کے باوجود ان کی قدر شناسی میں مجرمانہ غفلت برتی جارہی ہے۔ “
(پیش لفظ : بہار کے چند نامور شعرا ۔ ج اول)
انہوں نے آخر الذکر کتاب میں
بہار کی ایک انتہائی محترم علمی وادبی شخصیت کی خدمات کا تفصیلی احاطہ کیا ہے تو اس
کتاب میں بہار کی ۱۵ منتخب ادبی شخصیات کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ ایک یا دو آدمی کے لیے
یہ ممکن بھی نہیں ہے کہ کسی علاقہ کی تمام ادبی شخصیات کا الگ الگ طور پر تفصیلی احاطہ
کرے ۔ اس کتاب میں انہوں نے جن شخصیتوں کو شامل کیا ہے ان پر ایسے مضامین پیش کئے گئے
ہیں جن میں کسی ایک پہلو پر روشنی ڈالنے کی بجائے ان کی کل شعری خدمات کا مجموعی احاطہ
کیا گیا ہے ۔ چونکہ اس کتاب کے نام میں ہی شعرا کی تخصیص کردی گئی ہے اس لیے اس میں
منتخب شخصیات کی دیگر خدمات سے صرف نظر کیا گیا ہے۔
اس کتاب کی اشاعت کے پچیس سال بعد۲۰۱۴ میں
انہوں نے اس کی توسیع کی اور ۱۹۵۰ سے قبل کے ۳۰ شعرا
کو شامل کرتے ہوئے دوسری جلد شائع کی اور اس کے فورا بعد تیسری جلد کا کام کیا جو ابھی
زیر طباعت ہے ۔ دوسری جلد کے مقدمہ کی صراحت کے مطابق اس کتاب میں ۱۹۵۰ کے بعد کے شعرا
کو جگہ دی گئی ہے۔ یہ کام پروفیسر منصور عمر اپنی زندگی میں مکمل کرچکے تھے لیکن افسوس
کہ شائع شدہ کتاب نہ دیکھ سکے اور دنیا سے چل بسے۔
ان تینوں کتابوں میں انہوں کچھ ایسے مضامین شامل کئے ہیں جو پہلے سے
لکھے ہوئے تھے تو بعض ایسے شعرا پر کوئی مبسوط اور مکمل مقالہ لکھا ہوا انہیں حاصل
نہیں ہوسکا جن کو شامل کیا جاتا، نتیجتاً مرتبین نے ان شعرا پر ماہرین سے مضامین تحریر
کرا کر شامل کئے ۔ حالانکہ یہ وہ شعرا ہیں جن کی خدمات لائق تحسین وتعریف ہیں اور کسی
طرح بھی ان کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ یقینی طور پر یہ ایک نیا کام اور بڑا کام
تھا جس کے لیے ان کو بہت تگ ودو کرنی پڑی اور کئی مواقع پر مایوسی کا بھی سامنا کرنا
پڑا ۔ ان مضامین سے بہار اسکول کی خدمات کے سرمایہ میں یقینی طور پر اضافہ ہوا اور
بہت سے شعرا کو فراموشی سے بچالیا گیا ہے جو یقینا ان کا بڑا کارنامہ ہے۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ جس طرح شعرا کی خدمات کا احاطہ کیا گیا اسی
طرح نثر میں داستان، ناول، افسانہ، تذکرہ ، تحقیق، تنقید ، سوانح کی خدمات کو بھی پیش
کیا جاتا ۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی اکاڈمی یا کمیٹی ہی کرسکتی ہے ۔ لیکن اکیڈمیوں سے اس
کی توقع تحصیل لاحاصل ہے آج۔ خود اس کتاب کی اشاعت سے قبل مرتبین کا ارادہ تھا کہ جن
شعرا کو شامل کیا جائے ان کا سوانحی خاکہ، تنقیدی مقالہ اور نمونہ کلام پیش کیا جائے
جس کی اشاعت کے لیے بہار اردو اکیڈمی سے مالی امداد کی درخواست بھی کی گئی تھی لیکن
ناکامی کے بعد صرف تنقیدی مقالے کو شامل کرتے ہوئے انہوں نے بالآخر کتاب شائع کرنے
کی کوشش کی اور اس زمانہ میں کام شروع کیا جب کتابوں کی طباعت بڑے حوصلہ اور جرأت کی
بات تھی ۔ گرچہ یہ کام آج بھی حوصلہ کا ہی ہے تاہم پہلے کے مقابلہ میں اب بہت سی آسانیاں
ضرور میسر ہیں۔
پروفیسر منصورعمر کی ترتیبات میں ایک اہم کتاب ”طرزی اور طرز بیان“
بھی ہے جو ۲۰۰۶ میں زیور طباعت سے آراستہ ہوئی ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ
اس کتاب کا موضوع پروفیسر عبد المنان طرزی اور ان کے فکر وفن ہیں۔ اس کتاب کا تعارف
کراتے ہوئے وہ خود لکھتے ہیں:
”زیر نظر کتاب ”طرزی اور طرز بیان“ ان مقالات کا
مجموعہ ہے جو طرزی کے فکر وفن پر اردو کے ناقدوں اور دانشوروں نے قلم بند کئے ہیں۔
لہٰذا انہوں نے طرزی کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ بے حد مدلل بھی ہیں
اور متوازن بھی ۔ چنانچہ ان مقالات سے طرزی کا جو فنکارانہ نقش ابھرتا ہے ان کے متوازن
ہونے میں بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہتی “۔
(عرض مرتب: طرزی اور طرز بیان ۔ ص۴ ۱)
پھر ایک جملہ سے بڑی خوبصورتی سے اپنی ناقدانہ بصیرت کا ثبوت دیا ہے
جس سے ان کی ظرافت کا بھی اندازہ ہوتا ہے ۔ لکھتے ہیں:
”لیکن کیا
ضروری کہ آپ میری ذاتی رائے سے اتفاق کریں ہی۔ لہٰذا میں اپنی بات فارسی کے اس مقولہ
کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ ”مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید“۔ (ایضا)
اس کتاب میں انہوں نے۴۷ تنقیدی، تاثراتی، تجزیاتی مضامین اور منظوم
تاثرات شامل کئے ہیں اور ”ایسا کہاں سے لاؤں “ کے عنوان سے عرض مرتب لکھا ہے جس میں
مختصر طور پر طرزی کی شخصیت، سرگرمی، عادات واطوار، نفسیات، فکر اور فن پر روشنی ڈالی
ہے۔ اس کے مطالعہ سے پروفیسر منصور عمر کے گہرے مشاہدہ کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس مقدمہ
میں جا بجاپروفیسر منصور عمر کی ظریفانہ طبیعت کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو ان کی گفتگو
کا خاصہ تھا ۔ بعد میں اس کتاب کے مضامین سے تراش نکال
کر اور چند ایک مضامین کا اضافہ کر کے لمعات طرزی کے نام سے ایک ڈاکٹر منصور خوشتر
نے ترتیب دے کر شائع کیا۔
پروفیسر منصور عمر کی ترتیبی پیشکش میں ایک اہم نام” بیاض فکر رعنا
“ہے جو عبد المنان طرزی کے تاریخی قطعات کا مجموعہ ہے۔ شعری اصناف میں تاریخی قطعات
منفردوصف رکھتے ہیں اور اردو شاعری اس کی اپنی روایت اور اہمیت رہی ہے ۔ ماضی میں اس
پر بڑی توجہ دی جاتی تھی لیکن اب اس فن سے توجہ بھی کم ہوگئی ہے اور اس کے جاننے والے
بھی عنقا ہوتے جارہے ہیں۔ جیساکہ پروفیسر منصور عمر نے لکھا ہے کہ” اردو میں تاریخ
فن گوئی کا فن رفتہ رفتہ معدوم ہوتا جارہا ہے “ ۔ ان کا خیال ہے کہ ”بہار میں تاریخ
گوئی کی روایت بہت ہی مستحکم اور پائدار رہی ہے “۔ لیکن ”فی زمانہ جو فنکار تاریخ گوئی
میں طبع آزمائی کر رہے ہیں اور اس میں اعتبار حاصل کرچکے ہیں ان کے نام بھی انگلیوں
پر گنے جاسکتے ہیں“۔ (پیش لفظ: بیاض فکر رعنا)
فن تاریخ گوئی کے ماہرین میں خود مرتب منصور عمر کا نام بھی شامل تھا۔
اس حیثیت سے اس کتاب کی ترتیب کا کام بھی ان کے ذہن کے موافق تھا جس کا واجب حق بھی
وہی ادا کرسکتے تھے۔ عرض مرتب کی شروعات اپنے تاریخی کلام سے شروع کی ہے اور کتاب کے
نام سے سن اشاعت ۱۴۳۴ھ نکالا ہے ۔
اک ”بیاض فکر رعنا“
۱۴۳۴ھ
اک ”تلاش افتخار“
۲۰۱۳ئ
پہلے مصرعہ سے ہجری سال اشاعت ۱۴۳۴ھ اور دوسرے مصرعہ سے ۲۰۱۳ءعیسوی
سن نکالا گیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ اس تاریخ کی تخریج سے ہی شاید اس کے نام” بیاض فکر
رعنا “کا انتخاب کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کتاب کو ۱۴۳۴ھ مطابق ۲۰۱۳ میں شائع ہونا تھا لیکن بعض وجوہات کے سبب ۲۰۱۳ میں
نہ شائع ہوکر ۲۰۱۴ میں شائع ہوسکی۔
جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ یہ کتاب ان کے ذہن کے موافق ہے ، انہوں نے
عرض مرتب میں فن تاریخ گوئی کی تاریخ ، اس کے حروف یا اصطلاحی الفاظ کے بیان کردہ معانی
اوراس کی تاریخ، ہندوستان میں اس فن کی آمد اور یہاں اس فن پر لکھی جانے والی اہم کتابوں
اور بہار میں اس فن کے ماہرین پر بھر پور روشنی ڈالی ہے جس سے بہت کم ہی لوگ واقف ہوں
گے۔ اس کے بعد انہوں نے تاریخ کی تخریج کے استعمال شدہ طریقوں اور عبد المنان طرزی
کی اس فن میں مہارت اور تاریخ کی تخریج کے وہ تمام طریقے جن سے طرزی نے فائدہ اٹھایا
ہے ان سب کا بڑی باریک بینی سے مثالوں کے ساتھ جائزہ لیا ہے اور واقعی ترتیب کا حق
ادا کردیا ہے۔
پوری کتاب کو تاریخ وفیات، تاریخ مطبوعات، تاریخ شخصیات، تاریخ متفرقات
اور تاریخ شادیات کے تحت ابواب میں منقسم کرکے کل پانچ ابواب بناکر ۱۷۹ تاریخی قطعات
کو شامل کرتے ہوئے تاریخ شادیات کے علاوہ تمام قطعات کو حروف تہجی کے اعتبار سے پیش
کیا ہے جبکہ تاریخ شادیات کو تاریخ کے لحاظ سے ترتیب دیا ہے اور آخر میں بجا طور پر
یہ حکم لگاتے ہوئے عرض مرتب کو ختم کیا ہے کہ ’ ’بیاض فکر رعنا“نہ صرف طرزی کی بلکہ
فن تاریخ گوئی میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔ “
۲۰۰۸ میں پروفیسر منصور عمر
نے” مملکت نیپال“ کے نام سے بھی ایک کتاب ترتیب دی تھی جو پروفیسر مطیع الرحمن (۱) کی کتاب
ہے ۔ اس میں مملکت نیپال کے سماجی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی حالات بیان کئے گئے ہیں۔پروفیسر
منصور عمر نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ یہ کتاب اردو زبان میں اپنی نوعیت کی واحد
کتاب ہے۔
ان کے علاوہ” اختر اورینوی- فنکار وناقد “کی پشت پر دیئے گئے اشتہار
میں مؤلفین کی دیگر کتابوں میں ”بہار کے چند نامور تنقید نگار“ اور ”بہار کے چندنامور
افسانہ نگار“ زیر ترتیب دکھائے گئے ہیں ۔ لیکن پروفیسر منصور عمر نے اپنے سوانحی کوائف
میں ان کتابوں کا ذکر نہیں کیا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ بعد میں ان کتابوں سے انہوں
نے توجہ ہٹالی ۔
اس طرح پروفیسر منصور عمر نے ”بہار کے چند نامور شعرا“ کی ۳ جلدوں سمیت ۸ کتابیں ترتیب دے کر اپنی مہارت، ذوق اور حسن
انتخاب کا ثبوت پیش کیا ہے ۔ یہ کتابیں نہ صرف منصور عمر کی علمی خدمات کو پیش کرتی
ہیں بلکہ اردو ادب کے گراں قدر سرمائے میں بیش بہا اضافہ بھی ہیں جن کی وجہ سے اردو
زبان وادب کی تاریخ میں ان کام نام احترام سے لیا جاتا رہے گا۔ یہاں اس بات کا اظہار
ضروری ہے کہ انہوں نے” بہار کے چند نامور شعرا “کے عنوان سے جو کام شروع کیا تھا وہ
بہت وسیع ہے اور دبستان بہار کی تاریخ کو باوزن اور وقیع بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔
اس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ گرچہ یہ کام انہوں نے پروفیسر مظفر مہدی کے اشتراک سے
شروع کیا تھا جو امید ہے کہ آئندہ بھی اس کو آگے بڑھاتے رہیں گے ۔ لیکن یہ اپنی نوعیت
کے کام کی ایک جہت تھی۔ بہار کی علمی وادبی خدمات کی دیگر جہات کو شامل کرنے کے لیے
،جن کی طرف بھی منصور عمر کی توجہ رکھتے تھے، ضروری ہے کہ شبلی کی طرح انہیں بھی کوئی
سلیمان ملے جو اس کام کو جاری رکھ سکے۔
٭٭٭
(۱) پروفیسر مطیع الرحمن ایل این ایم یو دربھنگہ کے صدر شعبہ اردو تھے۔
انہوں نے اردو زبان میں مختلف علاقوں کے جغرافیائی پس منظر کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہاں
کی زبان وادب اور اردو زبان کے اثرات کا بڑی سطح پر جائزہ پیش کیا ہے۔