مشمولات

Sunday, 14 January 2018

زبانِ خلق کو نقارۂ خدا کہیے



زبانِ خلق کو نقارۂ خدا کہیے

استاذ محترم مولانا محمد طاہر ندوی  سلفی ثم مدنی  کی موت کو اس حدیث کے بالکل مصداق  قرار دیا جاسکتا ہے:’’من سلك طريقاً يلتمس فيه علماً سهل الله له به طريقاً إلى الجنة‘‘ (جو علم کی راہ میں چلتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے جنت کی راہ آسان کردیتا ہے)۔ وہ ۸ اکتوبر ۲۰۱۷ کی صبح تقریباساڑھے دس بجے دارا لعلوم احمدیہ سلفیہ میں معمول کے مطابق طلبہ کو درس دینے جارہے تھے کہ کلاس روم کے پاس غش کھا کر گرگئے اورراہی جنت  ہوئے۔ مولانا  جامعہ اسلامیہ مدینہ سے فراغت کے بعد ۱۹۸۳ میں دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں بحیثیت استاذ  اور مبلغ  و داعی آئے اور موت تک  اس سے وابستہ رہے۔ حالانکہ وہ۲۰۱۶ کی ابتدا میں  ہی ملازمت سے سبکدوش ہوگئے تھے لیکن انہوں نے رضاکارانہ طور پر دار العلوم سے خود کو وابستہ رکھا اور چند مضامین کی تعلیم دیتے رہے۔
ان کے جنازہ میں دور دور سے ان کے شاگردوں، احباب اور علاقہ کے افراد نے شرکت کی اور ملک و بیرن ملک میں  پھیلے ان کے شاگردوں اور احباب نے ان کی موت پر تعزیت اور اظہار افسوس کیا۔ اس موقع پر ہر شخص ان کی خوبیوں کا معترف تھا۔ وہ حضرات بھی ان کی خوبیوں اور اوصاف کا برملا اعتراف کر رہے تھے جن سے زندگی میں کبھی نا چاقی ہوئی ہو۔سب ان کے انتقال پر ایک بڑے نقصان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کر رہے تھے۔ لوگوں کا یہ اعتراف ان شاء اللہ اللہ رب العزت کے بہتر فیصلے کا اشارہ ہے:
بجا کہے جسے عالَم اسے بجا کہئے
زبانِ خلق کو نقارۂ خدا کہئے
مولانامحمد طاہر سلفیؒ  ہمارے قرابت دار تھے۔ ان کی سسرال ہمارے خاندان میں تھی ۔وہ محمد اختر صاحب مرحوم کے داماد تھے جن سے شاید ہمارے دادا حافظ نور الحقؒ کی قربت رہی تھی۔مولانا  بتاتے تھے کہ  میرے دادا ؒ ان کو بہت عزیز رکھتے تھے اور مولانا بھی ان کی عزت کرتے تھے۔اس رشتہ اور تعلق کو انہوں نے راقم کے  ساتھ بھی ہمیشہ روا رکھا۔ وہ دوران تعلیم بہتر سے بہتر تعلیمی مظاہرہ کرنے کی ترغیب مجھے دیتے رہتے تھے۔ ان کا یہ عمل طلبہ کے لیے عام تھا۔ وہ اکثر طالب علم کو اس کے گاؤں، علاقہ اور رشتہ داروں کے کارناموں کا حوالہ دے کر بہتر سے بہتر  اور اعلی تعلیم حاصل  کرنے کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔ وہ طلبہ کی وضع و قطع پر بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔
مولانا طاہر سلفیؒ بڑی  خوبیوں کے مالک تھے۔ وہ ایک مشفق اور با صلاحیت استاد تھے۔  راقم  نے ان سے جماعت ثانیہ میں بلوغ المرام، دو تین جماعتوں میں ترجمہ قرآن اور جماعت سادسہ میں تفسیر جلالین کا درس لیا  ہے۔ ان کا طرز تدریس بہت ہی نرالا تھا۔ وہ اپنے درس اور سبق کو مشکل نہیں بناتے تھے اور طلبہ کو آسان سے  مشکل کی طرف لے جاتے تھے۔ عام طور پر عربی کتابوں میں قواعد کی جو پیچیدگی ہوتی ہے وہ ان کے دروس میں نہیں پائی جاتی تھی۔ طلبہ کی ذہنی سطح اور علمی لیاقت کے مطابق درس میں کلام کرتے تھے۔ بلوغ المرام، ترجمہ قرآن کی تدریس ہو یا تفسیر جلالین کا درس وہ ان کا ترجمہ سادہ زبان  اور قابل فہم  ورواں اسلوب میں کرتے تھے۔ عام طور پر ان کے کلاس میں اگر طالب علم موجود ہو تو  اس کو یاد رکھنے کے لیے دوبارہ مطالعہ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ وہ تقریبا دو دہائی سے ان کتابوں کو پڑھاتے آ رہے تھے لیکن ہر روز کلاس میں آنے سے قبل سبق کا مطالعہ کر کے درس دیا کرتے تھے۔ وہ اپنے کام کے بڑے پابند تھے۔ آخری وقت میں سانس پھولتی تھی اس کے باوجود وہ مفوضہ دروس کو بلا ناغہ انجام دیتے تھے۔
مولانا رحمہ اللہ کبھی کبھی انچارج پرنسپل بھی ہوا کرتے تھے۔ جب وہ انچارج ہوا کرتے تھےتو طلبہ میں اس بات کی خوشی ہوتی تھی کہ اس جمعرات کو اسے چھٹی مل جائےگی۔ عام طور پر وہ بچوں کو چھٹی دینے میں بخل سے کام نہیں لیتے تھے البتہ یہ ہدایت کرتے تھے کہ جمعہ کی شام تک لوٹ آنا۔ یہ طلبہ کے ساتھ ان کی شفقت عامہ کا پہلو تھا تاکہ طلبہ اپنے والدین سے مل سکیں۔
مولانا طاہر صاحب طلبہ کے زبان و بیان کی درستگی  پر خاص توجہ دیتے تھے۔ تذکیر و تانیث،تلفظ یا پھر قواعد کی خامیوں کی برملا گرفت کر کے ان کی اصلاح کرتے تھے۔ راقم الحروف درجہ ثامنہ کا طالب علم تھا۔ طلبہ کی انجمن نادی الاصلاح کے اراکین کا انتخاب ہونا تھا۔ اس کی نظامت کی ذمہ داری ساتھیوں نے راقم کو دے دی۔ راقم نے تمہیدی بیان میں کہا کہ ’’انبیاؤں کی آمد سلسلہ بند ہوگیا‘‘انہوں نے اسی وقت اصلاح کی کہ انبیاء خود ہی  نبی کی جمع ہے۔اس طرح اکثر مواقع پر وہ طلبہ کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی اصلاح کرتے رہتے تھے۔مولانا بتاتے تھے کہ انہوں نے اپنی طالبعلمی کے دور میں مولاناآزاد کا خوب مطالعہ کیا ہےجس سے زبان وبیان کی اصلاح میں بڑا فائدہ ہوا۔وہ طلبہ کو بھی مولانا آزاد کی کتابیں مطالعہ کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔ مولانا طاہر سلفی ؒ واقعتا اچھی زبان بولتے تھے۔ غالبا اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو کہ انہیں کچھ سال لکھنؤ میں بھی  بغرض تعلیم رہنے کا موقع ملا۔ حالانکہ ان کی زبان پر ثقالت ذرا بھی نہیں تھی۔ بڑی سادہ اور رواں گفتگو کرتے تھے۔ گفتگو کے ساتھ ساتھ زندگی میں بھی بڑی سادگی تھی۔ تکلف اور تصنع ان کو چھوکر بھی نہیں گز رے تھے۔ طبیعت میں ہلکا سا مزاح کا عنصر بھی تھا لیکن شخصیت میں ہلکا پن ذرا نہیں تھا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ  ان کی شخصیت میں مومنانہ شان اور عالمانہ رعب پایا جاتا تھا۔
                مولانا طاہر سلفیؒ بڑے مہمان نواز انسان تھے۔ دار العلوم احمدیہ سلفیہ میں کوئی بھی جانا انجانا آجائے تو وہ اس کو کھانے پر ضرور مدعو کرتے تھے۔ رمضان المبارک میں جب مدرسہ میں چھٹی ہوجاتی ہے وہ افطار کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ وہ پورے رمضان میں دس پندرہ افراد کے افطار کا انتظام دار العلوم کی جامع مسجد میں اپنی جانب سے کئے رہتے تھے  اور اس کو مسجد میں موجود تمام افراد میں تقسیم بھی کرتے تھے۔
مولانا طاہر سلفی کی علمی و دینی خدمات میں ایک بڑی خدمت دار العلوم کی جامع مسجد کی امامت بھی ہے۔ انہوں نے دار العلوم احمدیہ سلفیہ کے سابق پرنسپل مولانا حافظ عبد الخالق سلفیؒ کے بعدعمر کے آخری پڑاؤ تک پنج وقتہ نماز کی امامت بلا معاوضہ کی۔ موسم خواہ کیسا بھی ہو اگر وہ دربھنگہ میں موجود ہوتے تو نماز سے قبل وہ مسجد پہنچ جاتے۔ فجر میں سب سے پہلے وہی آتے تھے اور عموما فجر کی اذان بھی وہی دیتے تھے۔ اذان کے بعد ہاسٹل میں جاکر طلبہ کو بیدار کرنا ان کا مشغلہ تھا۔ اس کے لیے بھی وہ کوئی اجرت نہیں لیتے تھے۔ سخت ترین سردی اور موسلا دھار بارش میں بھی ان کے معمول میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ مجھے ایسا اندازہ ہے کہ دار العلوم کی جامع مسجد میں اپنی باری کے علاوہ دوسرے علما کی مشغولیت میں ان کی باری میں بھی خطبہ جمعہ دیا کرتے تھے۔ جمعہ کا خطبہ دینے میں ان کو کوئی تردد نہیں ہوتا تھا۔ وہ ہر وقت اس کے لیے تیار رہا کرتے تھے۔  اپنے خطبے میں وہ معاشرتی خرابیوں کو پوری حوصلہ مندی سے ابھارتے تھے اور لوگوں کو اس سے باز رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ نما ز میں کوتاہی، رسم شادی، بارات، جہیز، ٹی وی اور موبائل کے لہو و لعب کے برے نتائج وغیرہ ان کے خطبوں کے اہم موضوع ہوا کرتے تھے۔ ’’رسم شادی عمل مشرکانہ اس میں باراتی ہو یا کھانا‘‘ اور ’’زندگی بے بندگی شرمندگی‘‘ کچھ ایسے جملے  ہیں جو بہت دنوں تک ان کا خطبہ سننے والوں کے ذہنوں میں محفوظ رہیں گے۔

مختصر یہ کہ مولانا طاہر سلفی (رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ)مختلف خوبیوں کے مالک تھے۔ ان کی موت سے نہ صرف دار العلوم بلکہ اس علاقے میں  ملت کا ایک بڑا نقصان ہوا ہے۔ اللہ تعالی غریق رحمت کرے۔ آمین!