مشمولات

Thursday, 28 November 2024

دارجلنگ کی سیر کی سیر

 


’دارجلنگ کی سیر‘  کی سیر

نظام زندگی کو سمجھنے کے لیے زمین کی سیر کرنا اور تدبیر کائنات کا مشاہدہ کرنا ذی نظر انسان کی تقریبا جبلت میں شامل رہا ہے۔  یہ انسانوں کے لیے اتنا اہم  ہے کہ  قرآن نے بھی کئی مقامات پر  ’’سیروا فی الارض فانظروا‘‘  کا درس دیا ہے۔ تسخیر کائنات کی کاوش اسی مشاہدہ و معائنہ  کا نتیجہ رہا ہے۔ اپنی زمین سے نکل کر دوسرے خطہ ارض میں جانے کے بعد انسان کو  نہ صرف فطرت کی صناعی اور قدرت کی کاریگری کا معائنہ کرنے کا موقع ملتا ہے بلکہ قدرتی وسائل کو انسانی ہاتھوں نے  جس خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے اس کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ اس سے دیکھنے والوں کی فکر مہمیز ہوتی ہے۔ دیگر  خطہ ارض کے باشندوں کی بود و باش، بول چال، رہن سہن، اشیائے خورد ونوش  اور ان کا طریقہ استعمال، پہننا اوڑھنا گویا جملہ اطوار زندگی سے متعارف ہونے کا موقع بھی ملتا ہے۔ اس سے دیکھنے والوں کی طرز حیات میں تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ معیشت میں بہتری آتی ہے۔روزگار اور  اقتصادیات کے بھی نئے نئے دروازے کھلتے ہیں۔ قوموں کے ساتھ میل جول کے باعث خوب و زشت کی پرکھ ہوتی ہے اور انسان کی  فکر میں لچک اور توسع پیدا ہوتا ہے۔ الغرض ان سب سے انسان اعلی طرز زندگی کی طرف پیش رفت کرتا ہے۔

                لیکن یہ دنیا اتنی کشادہ ہے کہ راہ نوری اور جادہ پیمائی کے جدید ترین جملہ وسائل کی دستیابی کے باوجود اس عالم رنگ و بو کی دشت پیمائی کے لیے انسان کی حیثیت  اب بھی پا پیادہ کی ہے۔ لہذا اب تک کی تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے ہوئے جنہوں نے  پوری دنیا تو دور دنیا کے قابل ذکر حصوں کی زمین کو ہی اپنے پاؤ ں سے  آلودہ   کیا ہو۔ اہل نظر نے  اس کی تلافی سفرناموں اور سیر و سیاحت کی روداد سے کی ہے۔ سفر اور اس کی روداد اتنی دلچسپ ہوتی ہے کہ گمان غالب یہ ہے کہ جب تحریر کا وجود نہیں رہا  تھا  تب بھی سفر کرنے والے لوگ واپسی پر اپنی قوم اور اپنے لوگوں کے درمیان چٹخارے لے لے کر  روداد سفر بیان کرتے رہے ہوں گے اور لوگ بھی انہماک سے سنتے رہے ہوں گے۔  یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں سفرناموں کو اہمیت حاصل رہی ہے۔  دنیا تیزی سے بدلتی رہی ہے ۔ آج سے ہزاروں سال قبل کوئی خطہ جیسا رہا ہوگا اس میں اب بڑی تبدیلی آچکی ہوگی ، اس کے باوجود ہزاروں سال قبل کے سفرناموں کا آج بھی   لوگ شوق  سے مطالعہ کر کے تصور کی آنکھوں سے  سیر فی الارض کا لطف لیتے ہیں۔ ابن بطوطہ  اور البیرونی وغیرہ کا مطالعہ آج بھی بڑے شوق سے کیا جاتا ہے۔ اس وقت لوگ کس طرح سوچتے تھے، کس طرح رہتے تھے، علم و معرفت کی سطح کیا تھی، معیشت کے  کیا ذرائع تھے، خواتین کے ساتھ کیا برتاؤ ہوتا تھا، غلاموں اور باندیوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے، یہ سب چیزیں پڑھ کر لوگ بصیرت و آگہی حاصل کرتے ہیں۔

زیر نظر کتاب دارجلنگ کی سیر ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی نئی تصنیف ہے  جس کو انہوں نے سفرنامہ کا نام دیا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ انہوں نے دار جلنگ کی سیر کے بعد یہ سفر نامہ تحریر کیا ہے۔ جس طرح ان کا یہ سفر مختصر رہا ہے اسی طرح محض  اڑتالیس صفحات پر مشتمل  یہ سفر نامہ  مختصر ہے۔

زیر نظر سفرنامہ گرچہ مختصر ہے لیکن کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے بڑی گہرائی سے چیزوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ مقام مذکور میں کون کون سی جگہیں سیر کرنے کی ہیں اور کس جگہ کی کیا خصوصیات ہیں اس کو بڑی باریکی سے پیش کیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے جزویات  کو بیان کرنے  سے  کسی حد تک گریز کیا ہے لیکن جہاں بھی انہوں نے جزویات کو شامل کیا ہے بڑی خوبصورت منظر کشی کی ہے۔چنانچہ  ٹائیگر ہل کے بیان میں انہوں  نے نمود صبح کے شاعرانہ منظر کی جو خوبصورت عکاسی کی ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے گرچہ موسم کی خرابی کی وجہ سے وہ اس منظر کو دیکھنے سے محروم رہے۔

ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے ایک مقام سے دوسرے مقام کی دوری، گھومنے والی جگہوں پر کھانے پینے کی چیزوں کی دستیابی، ٹکٹ، گاڑیوں کی دستیابی، ان کا کرایہ، گھومنے کا  مناسب اور موزوں وقت وغیرہ کی طرف بہت اچھی رہنمائی کی ہے۔  سیر و سیاحت میں ایک خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ مصنف نے کفایتی سفر کیا ہےا ور پڑھنے والے اس کے ذریعہ کفایتی سفر کا منصوبہ بناسکتے ہیں۔ انہوں نے مختلف جگہوں کی تاریخی حیثیت کو بھی بتانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ان کا دوسرا سفر تھا۔ پہلے سفر اور دوسرے سفر کے درمیان جو تبدیلیاں نظر آئی ہیں ان کی طرف بھی انہوں نے اشارہ کیا ہے۔ چائے باغان کے سلسلے میں بھی ان کے جو تجربات ہیں وہ بھی اس کتاب میں موجود ہیں۔

کتاب میں زبان تکلف اور تصنع سے پاک اور بیان میں بے ساختگی اور روانی ہے۔ حالانکہ چند ایک مقامات پر وہ تکلف کی زحمت گوارا کرلیتے تو بے جا نہیں تھا۔ بالکل بول چال کی زبان میں انہوں نے یہ کتاب تحریر کی ہے۔ شاید اسی وجہ سے کتاب قاری کو ابتدا سے انتہا تک جوڑے رہتی ہے۔ انہوں نے کتاب میں کئی جگہوں کی تصویریں بھی شامل کی ہیں۔ تصویریں رنگین ہوجاتی تو شاید لطف اور بھی بڑھ جاتا۔  بہر کتاب لطف سے خالی نہیں ہے۔ مختصر ہونے کی وجہ سے ایک نشست میں پڑھی جاسکتی ہے اور دارجلنگ کی سیر کا تصور کی آنکھوں سے لطف لیا جاسکتا ہے۔  طباعت عمدہ ہے اور قیمت فی صفحہ  فوٹو اسٹیٹ سے زیادہ نہیں ہے۔