نئی نسل میں اسلامی تشخص کی بقا کا مسئلہ
موجودہ وقت میں ہندستان کا جائزہ لیا جائے تو ایک بحرانی صورت حال سامنے آتی ہے۔ یہ صورت معاشی اور کسی نہ کسی طور پر سیاسی سطح پر تو ہے ہی اس کا سب سے غالب اثر اخلاقی سطح پر ہے۔ آپ زندگی کے جس شعبہ اور جس سطح کا جائزہ لیں اخلاقی انحطاط کا اثر واضح طور پر ملتا ہے۔ اس میں قوم اور جماعت کی بندش نہیں ہے۔ البتہ مسلمانوں کے اس طبقہ میں جہاں ابھی مذہب کی جڑیں ہری ہیں اس کے اثرات کم ہیں اور من حیث المجموع بھی اگر دیکھیں تو ان پر اخلاقی انحطاط کا اثر دوسری قوموں کے موازنہ میں کم ہی ملتا ہے۔ لیکن اس صورت حال میں گراوٹ ہی آتی جا رہی ہے۔ اس لیے آئندہ برسوں میں ایسی صورتوں کا باقی رہنا مشکل نظر آتا ہے، جس سے اسلامی تشخص کی بقا کا مسئلہ پیدا ہوگا۔ ہر قوم اور ہر جماعت کا حساس طبقہ اس کو محسوس کر رہا ہے۔ بسا اوقات اس کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ لیکن اس کے سدب باب کے لیے کیا اقدامات ہونے چاہئیں اس پر گفتگو کم ہوتی ہے۔
اس اخلاقی انحطاط کا اثر خاص طور پر نئی اور نوجوان نسلوں میں کچھ زیادہ ہی ہے۔ اگر ہم مسلمانوں کو ذہن میں رکھ کر اس کے اسباب کا پتہ لگائیں تو بنیادی طور پر جو چیز سامنے آتی ہے وہ مادہ پرستی اور مذہب سے دوری ہے۔ ان کے علاوہ استعماری اور صیہونی افکار نے اسلامی تہذیب و اقدار کو مسخ کرنے کے لیے جو حربے اپنائے ہیں ان میں ذرائع ابلاغ اور ترسیلی سہولیات مثلاً ٹیلی ویژن، سنیما، انٹرنیٹ اور موبائل کا منفی استعمال ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ نئی نسلوں کے ذہنوں پر بری طرح سے چھائے ہوئے ہیں۔ حیرت یہ ہے کہ اس کے مثبت استعمال کو ضرورت کا نام دے کر اس طرح مسلط کرلیا گیا ہے کہ اس کے منفی پہلوؤں سے مفر کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔
اس وقت تین نسلیں ہمارے سامنے ہیں ۔ پہلی نسل پختہ عمر والوں کی ہے ۔ دوسری وہ جو جوان ہو چکی ہے اور پختگی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تیسری وہ نئی نسل جو دس ، بارہ سال سے پچیس سے تیس سالوں کی عمر تک کی ہے۔ پہلی نسل کی صورت حال غنیمت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی ہے جس پر مذہب کے اثرات غالب تھے۔ دوسری نسل پر اس کے اثرات ہلکے ہیں۔تیسری نسل میں اس کا یکسر فقدان ملتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے اس پر مذہب کی گرفت ڈھیلی پڑی ہے۔ تو دوسری طرف نئی تہذیب کی یلغار ہے جو بیشتر جدید تعلیم کی راہ سے اس پر حملہ آور ہوئی ہے۔
اس وقت ہمارے لیے نئی نسل بہت اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ آنے والی نسلیں اسی پر منحصر ہیں۔ اگر اسے موجودہ روش پر چھوڑ دیا گیا تو آنے والی نسلیں کیسی ہوں گی اور ان پر اسلامی تہذیب و افکار کے اور عقائد کا کتنا اثر ہوگا ، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر خود ہندستان میں اسلام کا مستقبل قابل تشویش ہو جاتا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں ہندستانی مسلمانوں میں الحمد للہ خوشحالی آئی ہے اور مسلمانوں نے تعلیم کی طرف خصوصی توجہ کی ہے۔ ان میں تعلیمی گراف بڑھا ہے۔ بڑی تعداد میں مسلمان بچے عصری تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور مختلف میدانوں میں انہیں نمایاں کامیابی بھی مل رہی ہے۔ حالانکہ جو پیش رفت ہونی چاہیے وہ اب بھی کم ہے۔ آبادی کے تناسب سے مسلمان تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔ لیکن اس کا دوسرا درد انگیز پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں میں مذہب کے تئیں منفی ذہنیت پیدا ہوئی ہے۔ مذہبی تعلیم اور اسلامی تہذیب و اقدار کو فرسودہ سمجھاجانے لگا ہے۔ مخالفانہ رویہ یہ ہے کہ عصری تعلیم میں مذہبی تعلیم کی ہم آہنگی تعلیمی ترقی میں رکاوٹ سمجھا جانے لگا ہے۔ اس میں ایسے علما بھی شامل ہیں جن کو اللہ نے رزق میں وسعت عطا کر دی ہے اپنے بچوں کو نہ صرف مدارس سے دور رکھتے ہیں بلکہ مدرسہ طرز کے اسکولوں میں بھی نہیں پڑھانا چاہتے ہیں۔ اس رویہ اور ذہنیت کی وجہ سے ایسے عصری ادارے جو اسلامی تعلیم اور اسلامی تہذیب کے ساتھ عصری تعلیم کا انتظام کرتے تھے روبہ زوال ہیں ۔ نئی نسل کے سرپرستوں کا رجحان مشنری اسکولوں کی جانب ہے۔ رفتہ رفتہ نئی نسل اسلامی تہذیب سے بے گانہ ہورہی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ اپنے مذہب کے بنیادی افکار، اسلامی تاریخ کی شخصیات اور واقعات سےا تنی واقفیت بھی نہیں جتنی دوسرے مذاہب کی حقیقی اور افسانوی شخصیات وواقعات سے ہے۔ دوسری طرف غیر اسلامی درس گاہوں میں تہذیبی یلغار ہے ۔ سیکولرزم یا لادینی فکر کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش ہورہی ہے کہ مذہب انسان کو تنگ نظر اور جانب دار بناتا ہے۔
آج جو لوگ اپنے بچوں کو انگریزی اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں ان میں کچھ اسلامی غیر ت سےا ور کچھ شرما حضوری میں دنیا کی دم بہ دم بدلتی صورت حال اور لا دینی تہذیب و افکار کے رجحان سازوں کے فتنہ پرور شاخسانوں سے بے خبر کسی سادہ لوح مولوی کو رکھ کر قرآن اور اردو پڑھوالیتے ہیں۔ بلاشبہ ان کا یہ عمل مذہبی غیرت وحمیت کا ثبوت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے بچہ میں اسلامی تہذیب آجائے گی؟ مذہب کے تئیں جو والہانہ لگاؤ ہونا چاہیے محض اتنے سے عمل سے بچے میں در آئے گا؟ میرا خیال ہے نہیں ۔ کیونکہ تہذیبی عمل گرچہ واضح اور محسوس ہوتا ہے مگر اس کو اس طرح چند گھنٹوں کی روا روی میں نہیں سکھایا جاسکتا ہے۔ نہ ٹیوشن میں پڑھانے والے کو اس کی فرصت ہوتی اور نہ ہی اس میں عام طور پر اس کا فہم ہوتا ہے کہ بچے کو اسلامی تہذیب کے اجزا سے روشنا س کرائے۔
تہذیب ایک طرز معاشرت ہے جو گھر کی معاشرت میں رہ کر ہی سیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے سیکھنے میں شعور اور لاشعور دونوں کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ بلکہ تہذیب کے اکثر امور انسان پر لاشعوری طور پر ہی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ گھر کا طرز معاشرت اگر اسلامی تہذیب پر مبنی ہوگا تو بچے اس سے اثر انداز ہوں گے اور اگر گھر میں دوسری تہذیب اپنا قدم جمائے ہوئے ہوگی تو بچے کے ذہن پر اسی تہذیب کے اقدار کا اثر مرتب ہوگا۔ ساتھ ہی ایام طفولیت میں ہر عمل پر بروقت بچے کی رہنمائی اور درست عمل کی طرف نشاندہی بھی ضروری ہے۔
دوسری طرف غیر اسلامی اداروں میں جس طرح کی تہذیبی یلغار ہے اس کا تدارک بڑی بیدار مغزی سے کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اس کی طرف توجہ نہیں دی گئی تو نئی نسل میں اسلامی تشخص کی بقا کا مسئلہ سنگین ہوتا چلا جائے گا۔ مختصر طور پر چند مسائل کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ مثلا:
v اسکولوں میں Pray یا Assembly کے وقت ہاتھ جوڑ کریا ہاتھ باندھ کر کھڑا کیا جاتا ہے۔ ذہن میں ملک اور کوئی دیوی یا دیوتا ہوتا ہے۔ اسی طرح اس میں جو بول ادا کئے جاتے ہیں وہ اکثر شرکیہ ہوتے ہیں۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو ایک مسلمان کے لیے دعا کے وقت جو تصور ذہن میں ہونا چاہیے کم ازکم وہ نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی اسکول یا گھر میں اس کو بتانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
v آج معیاری تعلیم (Quality Education) پر بہت زور دیا جارہا ہے۔ اس کے لیے بڑے پیسے خرچ کئے جاتے ہیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایسے ادارے جو مذہبی تشخص کو ذہن میں رکھ کر چلائے جارہے ہیں، ایسی تعلیم دینے سے قاصر ہیں۔ بلا شبہ اس میں کچھ جزوی حقیقت بھی ہے۔ بہرحال اس طرح کی تعلیم کے لیے لوگوں کی رغبت مشنری یا دین بیزار(سیکولر) مشنری طرز کے اسکولوں کی جانب ہے۔ ملک کے بیشتر شہروں میں مشنری اسکول بھی کھلے ہوئے ہیں۔ ان میں بیشتر اسکولوں کے Badgeاور بیلٹ یا ٹائی وغیرہ کو دیکھیں تو اس طرح کی عبارت بھی لکھی ہوئی ملے گی “Love the Cross” اور اس کے سامنے صلیب بنی ہوئی ملے گی۔ اگر ایسی عبارتیں لکھی نہیں بھی ہوں تو مشنریز کے اسکول ہی اس لیے قائم کئے جاتے ہیں کہ بچوں کو ذہن میں ایسے تصورات پیدا کئے جاسکیں۔
v ہمارے ملک میں تعلیم کو سیکولرائز (لادینی) کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک انسان جس کی سرشت میں مذہب داخل ہو کہیں پر جاکر مذہب اس کے لا شعور سے غائب ہوجائے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال دیکھئے کہ چھوٹے بچوں کی کتابوں میں حروف اور ان کی آوازوں کی شناخت کے لیے تصویروں کی مدد لی جاتی ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انگریزی حرف G کی شناخت کے لیے ایک تصویردی ہوتی ہے اور وہ تصویر کسی دیوی کی ہوتی ہے۔ جیسے: G for Godحالانکہ یہ بھی درست ہے کہ ایسی مثالیں شعوری کوششوں کا نتیجہ ہی ہوتی ہیں۔
v مسلمان بچے جب اسلام کی بنیادی تعلیمات اور شعوری تربیت سے عاری ہوتے ہیں تو اپنے غیر مسلم اساتذہ کے استقبال کے لیے ‘نمستے’ اور ‘پرنام ’بولتے ہیں۔ بغیر یہ جانے ہوئے کہ ان کے معانی کیا ہیں؟ اور ان کے ادا کرنے پر ایک مسلمان کے عقیدہ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس طرح کے بہت سے امور ہیں جن سے اسلامی تہذیب و تشخص مٹ رہے ہیں۔ فلموں کے بہت سے مکالمے بھی ایسے ہوتے ہیں جن کے ادا کرنے سے ایک مسلمان کا عقیدہ مجروح ہوتا ہے۔ نوجوان نسل کے بچے مذاق میں اور تفریحا ایسے جملے بولتے رہتے ہیں۔ آخر ان کا سد باب کیسے ہوسکتا ہے؟ ایسی صورت حال میں سد باب کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے ؟ یہاں چند تجاویز دی جارہی ہیں:
v عام طور پر مسلمان خواہ کیسا ہی بے عمل کیوں نہ ہو جمعہ اور عیدین کا اہتمام کرتا ہے۔ ان کے خطبوں میں گھروں کے اندر اسلامی تہذیب کے اختیار کرنے کی تلقین ہونی چاہئے وہیں اسلامی تہذیب کے اقدار کو مفصل طور پر بتاتے ہوئے ان کا اہتمام کس طرح ممکن ہے،اس پر روشنی ڈالنی چاہیے۔
v جلسے جلوس میں اس موضوع پر یقینی طور ایک تقریر تفصیل سے ہونی چاہیے۔ اس میں غیر اسلامی تہذیبوں کو بتاتے ہوئے ہوئے مسلمان کے لیے مناسب عمل کیا ہے ، اس کی نشاندہی ہونی چاہیے۔
v ہر شہر میں مذہبی اداروں اور مذہبی انجمنوں کی جانب سے ایک اہتمام یہ کیا جائے کہ مختلف چھٹیوں میں یا اتوار کے دنوں میں ماہرین کے ذریعہ توسیعی خطبوں کا انتظام کیاجائے جن میں اسلامی تہذیب کے عناصر کی نشاندہی ہو اور یہ بتایا جائے کہ اس کو کس طرح زندگی میں جاری کیا جاسکتا ہے۔ غیر اسلامی تہذیبیں جو اسلامی تہذیب سے متصاد م ہیں اس سے مسلم بچے کیسے بچیں اور ان کو ایسے وقت میں کیا کرنا چاہیے۔ اسلامی تہذیب کی جزئیات کو وضاحت سے بیان کیا جائے۔
v اس کے علاوہ ایک بہت ضروری اقدام یہ ہونا چاہیے کہ بہت تیزی کے ساتھ بچوں کو ذہن میں رکھ اسلامی تہذیب وتاریخ کو انگریزی میں منتقل کیا جائے۔
v ابتدائی تعلیم کے لیے اسلامی عصری درس گاہیں قائم کی جائیں یا جو ادارے قائم ہیں ان کے معیار کو اعلی ترین معیاروں پر استوار کیا جائے جن میں پڑھ کر ہمارے بچے جس میدان کا انتخاب کریں اس میں دوسروں سے بہت آگے رہیں۔
v سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ اپنے گھروں میں اسلامی ماحول پیدا کیا جائے۔ بچوں کو اسلامی اقدار سکھائے جائیں۔ جیسے آنے جانے والوں کو سلام کرنا، کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ ، کوئی شخص کوئی ضرورت پوری کردے یا کچھ تحفے دے تو جزاک اللہ یا شکریہ ، کھانے پینے پر بلایا جائے اور اگر کھانے کی خواہش نہ ہو تو بارک اللہ کہنا ، کسی کے ساتھ زیادتی ہوجائے تو عفو ودرگزر چاہنا، محمد ﷺ کا نام آنے پر درود پڑھنا، اسی طرح اسلام نے اٹھنے بیٹھنے ، جاگنے سونے کے جو آداب اور اس وقت کے لیے جو ماثورہ دعائیں بتائیں ہیں ان کے اہتمام کی ترغیب دی جائے۔ محمد ﷺ کی رسالت اور ان کی اہمیت بتائی جائے اور ان سے محبت کرنا سکھایا جائے۔ اللہ اور آخرت پر یقین اور جوابدہی کا احساس دلایا جائے۔
آج کی نئی تہذیب جو مادہ پرستی ، عیش پرستی و عیش کوشی، آزادہ روی اور دکھاوے پر مشتمل ہے ہر قوم اور ہر جماعت کو اپنی فکر کا غلام بنا چکی ہے۔ نئی نسل کو بتایا جائے کہ مادہ پرستی و عیش پرستی ، آزادہ روی اور دکھاوے کے نقصانات کیا ہیں۔ ان سے کیسے بچا جائے اور اس سلسلے میں اسلام کی تعلیمات کیا ہیں، اسلام نے آپس میں ایک دوسرے پر جو حقوق متعین کیے ہیں ان کے فوائد کیا ہیں، ان کی ادائیگی سے سماج میں کونسی خوبیاں پیدا ہوں گی اور آپسی رشتوں کی استواری میں ان کی اہمیت کیا ہے، ان سے آشنا کرایا جائے۔
عام طور پر چھوٹی عمر میں کپڑوں کا لحاظ نہیں رکھا جاتا ہے۔ بچوں کو عجیب انداز کے کپڑے دئیے جاتے ہیں جن سے ستر پوشی تو کم ہوتی ہے لیکن عریانیت میں نکھار آجاتا ہے۔ لڑکیوں کو لڑکوں کے لباس پہنا دئیے جاتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ ابھی کم عمر ہے۔ حالانکہ اسی وقت سے ان کے ذہنوں پر اس کے اثرات مرتسم ہونے لگتے ہیں جن کا اثر بلوغت کے بعد بھی رہ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کوتاہ ، تنگ اور پتلے کپڑے عام ہوتے جا رہے ہیں۔ اس پر کنٹرول کی ضرورت ہے۔
v نئی ٹکنالوجی کے شر سے بچنے کے لیے موبائل اور انٹر نیٹ وغیرہ کے استعمال پر کنٹرول رکھا جائے۔ کوشش کی جائے کہ چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل نہ دئیے جائیں۔ بچے اگر کسی ساتھی یا عزیز سے موبائل پر گفتگو کریں تو انہیں تنہائی میں نہ چھوڑا جائے۔ حیرت یہ ہے کہ لڑکیاں گھروں میں گھنٹوں موبائل پر بات کرتی رہتی ہیں اور والدین کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ لڑکے یا لڑکیوں کو گھرسے باہر موبائل رکھنے کی اجازت بالکل نہیں دی جائے۔ حالانکہ موبائل ایک ضرورت تھی جس سے گفتگو اور ترسیل کی سہولت حاصل ہونی چاہیے لیکن ملٹی میڈیا موبائل کے ذریعہ اس کے مثبت استعمال کی بجائے منفی استعمال عام ہے۔ نئی نسل کے لڑکے اور لڑکیاں موبائل کا بڑا استعمال گانا سننے اور فلموں کے دیکھنے لیے ہی کر رہے ہیں۔ زندگی پر فلموں کے اثرات تو یہ ہیں کہ نئی نسل کے بچے ادا کاروں اور ادا کاراؤں کو اپنا Model Person مانتے ہیں اور اسی رنگ ڈھنگ میں خود کو اور اپنے ساتھیوں کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ گھروں میں ملٹی میڈیا موبائل نہ رکھے جائیں۔ تجارتی اغراض سے اگر رکھے بھی جائیں تو بچوں کے ہاتھوں سے ان کو بچایا جائے۔ انٹر نیٹ کا استعمال بچوں کو نہ کرنے دیا جائے اگر ضروری ہو تو ان کے سامنے گھر کا کوئی بڑا فرد موجود رہے۔ کیونکہ انٹرنیٹ جہاں علم اور وسیع معلومات کا خزانہ ہے وہیں وہ مجموعہ خباثت بھی ہے جہاں ہر قسم کی برائیاں موجود ہیں۔ دیکھنے والوں کے لیے کسی قسم کی پابندی بھی نہیں ہے۔ بلکہ اکثر اوقات کام کی چیزیں ڈھونڈنے میں تو وقت لگتا ہے لیکن نیم عریاں تصویریں اور ایسی علامتیں جو عریانیت اور فحاشی دکھانے والی ہوتی ہیں کمپیوٹر اسکرین پر آ جاتی ہیں اور اس کا لنک (Link)موجود ہوتا ہے جس پر کلک کرتے ہی وہاں پہنچ جائیے۔
یہ موجودہ اخلاقی انحطاط اور اس کے سد باب کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے چند اشارے ہیں۔ مسلمانوں کی تہذیب کو مسخ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر جس طرح کی کوششیں ہو رہی ہیں اگر اس طرح کے اقدامات سے گریز کیا گیا تو ہندستان میں اسلام کا مستقبل زوال آشنا ہوتا چلا جائے گا۔
نوٹ: تہذیب الاخلاق علی گڑھ، قومی تنظیم، مجلہ مصباح کویت میں شائع ہوچکا ہے۔
No comments:
Post a Comment