مشمولات

Thursday, 27 June 2013

Mobile Mania

موبائل مینیا
                                                                                                                                                                                                                               
                ہر جوان کے ساتھ ایک’’ جوانہ‘‘کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔حالانکہ اب چولی ہے نہ دامن۔ لیکن تو قع ہے کہ جلد ہی دونوں لوٹ آئیں گے البتہ اپنی اپنی جگہیں بدل لیں گے۔ جس کو دامن ہوناچاہیے اس کو صرف چولی ہوگی اور جس کو چولی ہونی چاہیے اس کو صرف دامن ہوگا(اگر شرٹ کی چاک کے نیچے کی چار انگلیوں کو دامن کہا جاسکے)۔اور یہ چولی والے چولے بدل بدل کے پاکدامنوں کے دامن کو اتنی مرتبہ داغدار کریں گے کہ بچی عقل کی کچی کے تن نازک پر دامن کم داغ زیادہ ہوں گے۔اتنا کہ ہمہ تن داغ داغ شد۔ حالانکہ ظالم مردوں نے تو انہیں دفتروں اور بازاروں میں دھکے دے دے کر ان کی نزاکت پہلے ہی چھین لی ہے اور وہ کل تک جن ذمہ داریوں سے آزاد تھیں اب ان کابھی پابند بنا دیا ہے۔ خیر میں کہہ رہا تھا کہ ادھر جوانی نے سر ابھارا ادھر ایک دیوانی کی تلاش شروع ہوگئی۔ کسی نیک ساعت میں جوان کے دل سے نکلنے والی لہر(Wave) نکلی اور کسی دیوانی کے دل کے ٹرانسسٹر سے جاٹکرائی کہ عشق کی ریڈیو بج اٹھی اور پھر دیوانہ وار دونوں ایک دوسرے پر مر مٹے۔ جوانی اور دیوانی کی تلاش کب اور کس نے کی یہ تو وثوق کے ساتھ نہیں بتایا جاسکتا تاہم ہر دور میں دونوں کے درمیان رابطہ ہوتا رہا ہے۔ لیکن بقدر ترقی و ایجادات دونوں کے درمیان کنکشن کی الگ الگ تکنیکیںاستعمال ہوتی رہی ہیں۔
                اساطیر سے اتنا تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے لیے کبھی کبوتر کی خدمات بھی لی جاتی رہی ہے۔ ’’جا کبوتر جا‘‘ ۔ یہ بھی معلوم ہے کہ جب جب دیوانی اپنا سینہ خالی خالی اور دل اڑا ہوا محسوس کرتی لب بام پر دوڑی جا تلاش کرنے لگتی ۔ادھر جوان کے سینہ میں دودل سینے کو بوجھل بنائے دیتا تو وہ اپنا دل ہلکا کرنے دیوانی کی گلی اور محلہ کا رخ کرتا۔ نگاہیں چار ہوتیں اور دل کو دل سے راحت ہوتی۔ کبھی اس کے لیے ننھے معصوم ہاتھوں کوبھی آلود ہ کیا گیا تو کبھی اسکول اور کالجوں میں کتابوں کے تبادلہ سے دل کی بے تابیاں نقش تحریر ہوتی رہیں۔ لیکن یہ سب کچھ پرانی باتیں ہیں۔ اب کسی کے پاس اتنی فرصت کہاں کہ جوانی دیوانی کا انتظار کرے۔ ادھر زندگی کے وجود کا احساس ہوا ادھر زندگی کی پٹری پر گاڑی دوڑانے کے لیے پہیے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ حالاں کہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔سچی بات یہ ہے کہ کبھی پڑوس میں یا رشتہ داریوں میں اسکول کے احاطہ میں ؛یا اب ایک اور جگہ ہے جو زمین پر نہیں اسکرین پرہے؛ اچانک کوئی پہیہ آکر فٹ ہوگیا کہ اور اس کی ناگزیریت کا احساس ہوگیا اور یہیں سے زندگی کے وجود کا بھی احساس ہوچلا اور پھر ہوگئی زندگی کی دوڑ شروع۔ یہ اسکرین موبائل کی ہو کہ فیس بک کی۔ حالاں کہ وقت سے پہلے پہیہ فٹ ہونے اور اسے زندگی کی پٹری پر دوڑانے میں اکثرزندگی کی گاڑی کی رفتار تیز ہونے کی بجائے اور بھی سست ہوجا تی ہے بلکہ اس کو جتنا تیز دوڑا نے کی کوشش کی جاتی ہے رفتار اتنی ہی سست ہوتی جاتی ہے اور اس طرح پہلے ہی راؤنڈ میں چاروں خانے چت۔ اس کے بعد حالت یہی کہ دھوبی کا گدھا گھر کا نہ گھاٹ کا۔
                اب اس کے لیے کبوتر کی ضرورت ہے نہ لب بام پر دل لٹکانے کی کہ کبھی اس کو پانے میں پورا تن ہی تہِ بام آجائے اور پھر اس تن کی روح ہمیشہ کے لیے اس تن میں جاگزیں ہوجائے جس کے لیے وہ لب بام پر دل لٹکائے تھی ،تاکہ وہ تن دونوں جان کے ساتھ کسی اور من کو لبھانے اور پانے کی کوشش کرے اور پھر اس تن من اور دھن کو بھی ہمیشہ کے لیے پالے۔ معصوم ہاتھوں کی بات تو جانے دیں اس لیے کہ وہ خود اتنے معصوم نہیں رہے کہ ان کو اس کام کے لیے استعمال کیا جاسکے ۔ اس میں تو یہی خطرہ بنا رہے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ ذریعہ خود مقصد بن جائے۔ اگر ایسا نہ ہو ا تو یہ تو ممکن ہی ہے کہ یہ ذریعہ بڑی خوبصورتی سے اس کا Track Changeکر کے گاڑی کا رخ کسی اور جانب موڑ دے اور اس میں گاڑی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہو کہ اسے جاناکہاں تھا اور وہ پہنچ کہاں گئی۔ وہ بھی بڑی خوشی سے سوچ لیتی ہے اپنا تو کام ہے کہ جلاتے چلو چراغ۔
                بہر کیف زندگی کی گاڑی میں پہیہ چاہے جیسے فٹ ہوا ہو ؛ مستقل ہو یا وقتی یا جز وقتی؛ ایسے اب اکثر جز وقتی ہی فٹ ہوتے ہیں؛ اس کے چلا تے رہنے کے لیے پیسے ہوں نہ ہوں مگر ان پیسوں سے خریدی ہوئی ایک چھوٹی سی مشین ضرور چاہیے جس میں ڈائل کی سہولت ہو نہ ہو فاسٹ ڈائل کی سہولت ضرور ہونی چاہیے۔ کیونکہ خم آئے گا صراحی آئے گی تب جام آئے گا پر کسی کو بھروسہ نہیں رہا۔ اب یہ نام پر جان نچھاور کرنے والے دل مچلنے پر نام کی تلاش یا دس اعداد کو دبانے تک کہاں رک سکتے ہیں ۔ دل مچلا اور ایک ہی بٹن سے محبوب کی رسائی ہوجائے ۔ حالانکہ امکان ہے کہ اس کے ساتھ کے آٹھ مزید بٹن بھی کسی نہ کسی کی نذر ہی ہوں گے اور یہ تو اس دلدار کو بھی نہیں پتا کہ ان میں سے کون ایک سے نو میں زیادہ نزدیک ہے۔اگر ان میں سے کسی نے ناز وادا دکھائے تو بے چارہ جان چھڑکنے والا بھی اپنی جان پر اتنا قابو کہاں رکھتا ہے کہ وہ تیرے ہی نام کا انتظار کرے ۔ وہ تو جھٹ کہہ اٹھتا ہے تو نہیں تو اور سہی اور نہیں تو اور سہی۔
                 ڈھکے چھپے ہو کہ چوری چھپے دل لے کر دل دے کر مر مٹنے والوں نے اس مشین کے پہلے ایڈیشن کابھی استعمال کیا ہوگا ۔ مگراب چوری چھپے کی ضرورت نہیں رہی اس لیے کہ اب وہ چھوٹی سی مشین ہی چور کی طرح چھپ جاتی ہے جو لحاف کے اندر سے محبوب کے دل کو دستک دے دیتی ہے اور پارک کنارے کھڑے ہو کر دندان سبز کی مدد سے بات کیجئے سننے والوں کے لیے مجنوں کی بڑ سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ پہلے زمانے جب کوئی روڈ چلتے بولتے چلتا تھا تو وہ مجنوں ہوتا تھا یا حاضر غائب اور اب اس مشین نے مجنوں کے دماغی توازن کو بھی شبہ میں لا کھڑا دیا ہے کہ وہ بک بک کر رہا ہے یا موبائل پر کسی سے بات کر رہا ہے۔ اس میں عجیب عجیب طرح آلات ملنے لگے ہیں اور جو اس دھندے کو آسان بناتے ہیں۔ پہلے تو ایئر فون ہوتے تھے اور اب آئی فون بھی ہوگیا۔
نا مکمل

Wednesday, 5 June 2013

کیوں بکتے ہیں دست ہنر


عجب چیز ھے یہ دست ھنر بھی !!!
پہلے کاٹ لئے جاتے تھے اب خرید لیے جاتے ہیں

 ایک راجا تھا ۔ بہت با ذوق ۔ اچھی اچھی اور خوبصورت عمارتوں کا اسے بڑا شوق تھا۔ اس نے دنیا بھر سے ماہر کاریگر بلائے اور ان سے عمارتوں کے خاکے بنوائے۔ جنہوں نے اچھے سے اچھا نقشہ بنا کر پیش کیا ان کو اپنے دربار میں رکھ لیا ۔ بڑی آؤ بھگت کی اور انہیں عمارت بنانے کا حکم دیا۔ عمارت میں استعمال ہونے والے سامان فراہم کرائے اور ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مزدور بھی دیئے گئے۔ عمارتیں تیار ہوگئیں ۔ بڑی عالیشان۔ دنیا میں انوکھی ۔ دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے ۔ سارے عالم میں ان عمارتوں کی شہرت پھیل گئی۔بہت دور دورسے لوگ دیکھنے آتے اور دیکھ کر اپنی غریبی پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتے۔ لیکن وہ زمانہ بہت پرانا تھا۔ ترقی و ایجادات نے پر نہیں پھیلائے تھے۔ جو چیزیں استعمال میں آجاتیں وہ دوبارہ کام کے لائق نہیں رہتیں۔ ابھی Recycle یعنی استعمال شدہ چیزوں کو شکل بدل کر دوبارہ استعمال کرنے کی تکنیک ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ جب کوئی عمارت بن کر پوری طرح تیار ہو جاتی تو بادشاہ اس عمارت کے اصل معمار کو بلاتا خوب انعام و اکرام سے نوازتا ۔ اس کے بال بچوں اور گھرانوں کی ساری زندگی کے خرچے اٹھالیتا ۔ چونکہ اس معمار کے دست ہنر کا استعمال ہو چکا ہوتا اس لیے ان کو دنیا میں ناکارہ چھوڑ دینے کے بجائے تراشوادیتا۔ لیکن راجا تھا انسان ۔ اسے یہ بات تکلیف دیتی کہ ایک شخص جس نے اسے اتنی خوبصورت عمارت دی، ساری دنیا میں اس کا نام روشن کیا، اسے اس نے ہاتھوں سے محروم کردیا۔ وہ سوچتا رہا کہ کیوں نہ ایسی ترکیب نکالی جائے کہ اس کے ہاتھ بھی بچ جائیں اور ان کو ایسے کاموں میں لگادیا جائے کہ وہ کسی دوسرے شخص کے لیے اس طرح کی عمارت نہ بناسکے۔ایک دن اس نے اپنے دیس کے عقل منددوں، وزیروں اورماتحتوں کو بلایا اور ان کے سامنے اپنی تکلیف بیان کی۔ اس کے ایک وزیر با تدبیر کو ایک دن بہت آسان ترکیب سوجھی اور اس نے Recycle کی تکنیک ایجاد کی اور استعمال شدہ چیزوں کا دوسرا کم تر استعمال کرنے لگے۔یہ نئی تکنیک تھی دست ہنر کو کاٹنے کے بجائے خرید نے کی۔ اب کسی ہنر مند کو اپنے نادر و نایاب فن کے اظہار کے بدلے ہاتھ کی قیمت نہیں دینی پڑتی۔اب جب کوئی شخص اپنے نادر فن کا اظہار کرتا تو دربار میں اسے بلایا جاتا اور اس شرط پر کہ وہ یہ کام کسی دوسرے کے لیے نہیں کرے گا اس کو زر و جواہرات میں تول دیا جاتا ۔
                اس فائز المرام بہشت مقام ظل الٰہی کے اس فلاحی سوچ کے فائدے اس زمانے میں کتنے کو ملے میں نہیں جانتا لیکن اب تو خوب ملتے ہیں۔ جب کوئی ایسا فن کا ر پیدا ہوتا ہے دربار اس کا انتخاب کر لیتا ہے۔ چند دنوں پہلے ہمارے ہاں ایک ہنر مند پیدا ہوئے ۔ ان کا جوہر ان کے قلم میں تھا۔بڑ ابے باک ۔ حق کا طرف دار۔ سچائی کا مظہر۔ ان کے اس بےباک قلم نے ہر قاری کو اپنا گرویدہ بنا لیا ۔ مجبور ں ، مقہوروں اور مظلوموں کی اس نے ایسی حمایت کی ہر شخص ان کے قلم کے در نامدار کو پڑھنے کو بے قرار رہنے لگا۔ اچانک ایک دن ان کا سیفر کا قلم تاریخی سینچوری مارنے والے بلے کی طرح مہنگے داموں خرید لیا گیا۔خدا کو معلوم یہ ان کے دست ہنر کا فیضان تھا یا قلم کی کرامت تھی کہ اس کے بعد ان کا دست ہنر معمولی قلم سے اپنے جوہر کا وہ اظہار نہیں کرسکا ۔یوں کہیے کہ مرگ  ناگہانی کا شکار ہو گیا۔
                حالانکہ موجودہ دور کی بھی یہ کوئی پہلی کہانی نہیں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کا جوہر کھلنے کا بعد اپنی قیمت وصول کرتا ہے اور کچھ کھلنے سے پہلے پرکھ لیے جاتے ہیں اور انہیں اپنے فن کی قیمت ملنے لگتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس لیے ہی اپنے اندر وہ جوہر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دربار کی نظر عنایت ان پر مرکوز ہو اور انہیں ان کے فن کا بھر پور صلہ مل سکے۔ اور صلہ بھی خوب ہے کہ پہلے فن کا اعلی اظہار ہونے پر ہاتھ کاٹ لئے جاتے تھے اور اب فن کا اظہار نہ کرنے پر بخشش ہوتی ہے۔
                لیکن آفریں صد آفریں کہ پہلے فن کار ہاتھ کٹا کر ہمیشہ کے لیے سرخرو ہو جاتا تھا اور اب ہائے بدبختی کہ ہاتھ بچا کر ابھی سرخرو ہو بھی جائے تو ہمیشہ کے لیے رو سیاہ ہو جاتا ہے۔پہلے ہاتھ کے بدلے جاودانی ملتی تھی اب دولت کے عوض گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ پہلے کرنے کا انعام تھا اب نہ کرنے کا صلہ ہے۔ پہلے کوئی کوئی ہوتا تھا اب بہت ہوتے ہیں۔ پہلے قوم کے لیے قابل افتخار ہوتا تھا اب باعث ننگ و عار ہے۔
٭٭٭