موبائل مینیا
ہر جوان کے ساتھ ایک’’ جوانہ‘‘کا چولی
دامن کا ساتھ ہے ۔حالانکہ اب چولی ہے نہ دامن۔ لیکن تو قع ہے کہ جلد ہی دونوں لوٹ آئیں
گے البتہ اپنی اپنی جگہیں بدل لیں گے۔ جس کو دامن ہوناچاہیے اس کو صرف چولی ہوگی اور
جس کو چولی ہونی چاہیے اس کو صرف دامن ہوگا(اگر شرٹ کی چاک کے نیچے کی چار انگلیوں
کو دامن کہا جاسکے)۔اور یہ چولی والے چولے بدل بدل کے پاکدامنوں کے دامن کو اتنی مرتبہ
داغدار کریں گے کہ بچی عقل کی کچی کے تن نازک پر دامن کم داغ زیادہ ہوں گے۔اتنا کہ
ہمہ تن داغ داغ شد۔ حالانکہ ظالم مردوں نے تو انہیں دفتروں اور بازاروں میں دھکے دے
دے کر ان کی نزاکت پہلے ہی چھین لی ہے اور وہ کل تک جن ذمہ داریوں سے آزاد تھیں اب
ان کابھی پابند بنا دیا ہے۔ خیر میں کہہ رہا تھا کہ ادھر جوانی نے سر ابھارا ادھر ایک
دیوانی کی تلاش شروع ہوگئی۔ کسی نیک ساعت میں جوان کے دل سے نکلنے والی لہر(Wave)
نکلی اور کسی دیوانی کے
دل کے ٹرانسسٹر سے جاٹکرائی کہ عشق کی ریڈیو بج اٹھی اور پھر دیوانہ وار دونوں ایک
دوسرے پر مر مٹے۔ جوانی اور دیوانی کی تلاش کب اور کس نے کی یہ تو وثوق کے ساتھ نہیں
بتایا جاسکتا تاہم ہر دور میں دونوں کے درمیان رابطہ ہوتا رہا ہے۔ لیکن بقدر ترقی و
ایجادات دونوں کے درمیان کنکشن کی الگ الگ تکنیکیںاستعمال ہوتی رہی ہیں۔
اساطیر سے اتنا تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے
لیے کبھی کبوتر کی خدمات بھی لی جاتی رہی ہے۔ ’’جا کبوتر جا‘‘ ۔ یہ بھی معلوم ہے کہ
جب جب دیوانی اپنا سینہ خالی خالی اور دل اڑا ہوا محسوس کرتی لب بام پر دوڑی جا تلاش
کرنے لگتی ۔ادھر جوان کے سینہ میں دودل سینے کو بوجھل بنائے دیتا تو وہ اپنا دل ہلکا
کرنے دیوانی کی گلی اور محلہ کا رخ کرتا۔ نگاہیں چار ہوتیں اور دل کو دل سے راحت ہوتی۔
کبھی اس کے لیے ننھے معصوم ہاتھوں کوبھی آلود ہ کیا گیا تو کبھی اسکول اور کالجوں
میں کتابوں کے تبادلہ سے دل کی بے تابیاں نقش تحریر ہوتی رہیں۔ لیکن یہ سب کچھ پرانی
باتیں ہیں۔ اب کسی کے پاس اتنی فرصت کہاں کہ جوانی دیوانی کا انتظار کرے۔ ادھر زندگی
کے وجود کا احساس ہوا ادھر زندگی کی پٹری پر گاڑی دوڑانے کے لیے پہیے کی ضرورت محسوس
ہوئی۔ حالاں کہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔سچی بات یہ ہے کہ کبھی پڑوس میں یا رشتہ داریوں میں
اسکول کے احاطہ میں ؛یا اب ایک اور جگہ ہے جو زمین پر نہیں اسکرین پرہے؛ اچانک کوئی
پہیہ آکر فٹ ہوگیا کہ اور اس کی ناگزیریت کا احساس ہوگیا اور یہیں سے زندگی کے وجود
کا بھی احساس ہوچلا اور پھر ہوگئی زندگی کی دوڑ شروع۔ یہ اسکرین موبائل کی ہو کہ فیس
بک کی۔ حالاں کہ وقت سے پہلے پہیہ فٹ ہونے اور اسے زندگی کی پٹری پر دوڑانے میں اکثرزندگی
کی گاڑی کی رفتار تیز ہونے کی بجائے اور بھی سست ہوجا تی ہے بلکہ اس کو جتنا تیز دوڑا
نے کی کوشش کی جاتی ہے رفتار اتنی ہی سست ہوتی جاتی ہے اور اس طرح پہلے ہی راؤنڈ میں
چاروں خانے چت۔ اس کے بعد حالت یہی کہ دھوبی کا گدھا گھر کا نہ گھاٹ کا۔
اب اس کے لیے کبوتر کی ضرورت ہے نہ لب
بام پر دل لٹکانے کی کہ کبھی اس کو پانے میں پورا تن ہی تہِ بام آجائے اور پھر اس
تن کی روح ہمیشہ کے لیے اس تن میں جاگزیں ہوجائے جس کے لیے وہ لب بام پر دل لٹکائے
تھی ،تاکہ وہ تن دونوں جان کے ساتھ کسی اور من کو لبھانے اور پانے کی کوشش کرے اور
پھر اس تن من اور دھن کو بھی ہمیشہ کے لیے پالے۔ معصوم ہاتھوں کی بات تو جانے دیں اس
لیے کہ وہ خود اتنے معصوم نہیں رہے کہ ان کو اس کام کے لیے استعمال کیا جاسکے ۔ اس
میں تو یہی خطرہ بنا رہے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ ذریعہ خود مقصد بن جائے۔ اگر ایسا نہ
ہو ا تو یہ تو ممکن ہی ہے کہ یہ ذریعہ بڑی خوبصورتی سے اس کا
Track Changeکر کے گاڑی کا رخ کسی اور
جانب موڑ دے اور اس میں گاڑی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہو کہ اسے جاناکہاں تھا اور وہ
پہنچ کہاں گئی۔ وہ بھی بڑی خوشی سے سوچ لیتی ہے اپنا تو کام ہے کہ جلاتے چلو چراغ۔
بہر کیف زندگی کی گاڑی میں پہیہ چاہے جیسے
فٹ ہوا ہو ؛ مستقل ہو یا وقتی یا جز وقتی؛ ایسے اب اکثر جز وقتی ہی فٹ ہوتے ہیں؛ اس
کے چلا تے رہنے کے لیے پیسے ہوں نہ ہوں مگر ان پیسوں سے خریدی ہوئی ایک چھوٹی سی مشین
ضرور چاہیے جس میں ڈائل کی سہولت ہو نہ ہو فاسٹ ڈائل کی سہولت ضرور ہونی چاہیے۔ کیونکہ
خم آئے گا صراحی آئے گی تب جام آئے گا پر کسی کو بھروسہ نہیں رہا۔ اب یہ نام پر
جان نچھاور کرنے والے دل مچلنے پر نام کی تلاش یا دس اعداد کو دبانے تک کہاں رک سکتے
ہیں ۔ دل مچلا اور ایک ہی بٹن سے محبوب کی رسائی ہوجائے ۔ حالانکہ امکان ہے کہ اس کے
ساتھ کے آٹھ مزید بٹن بھی کسی نہ کسی کی نذر ہی ہوں گے اور یہ تو اس دلدار کو بھی
نہیں پتا کہ ان میں سے کون ایک سے نو میں زیادہ نزدیک ہے۔اگر ان میں سے کسی نے ناز
وادا دکھائے تو بے چارہ جان چھڑکنے والا بھی اپنی جان پر اتنا قابو کہاں رکھتا ہے کہ
وہ تیرے ہی نام کا انتظار کرے ۔ وہ تو جھٹ کہہ اٹھتا ہے تو نہیں تو اور سہی اور نہیں
تو اور سہی۔
ڈھکے چھپے ہو کہ چوری چھپے دل لے کر دل دے کر مر مٹنے والوں نے
اس مشین کے پہلے ایڈیشن کابھی استعمال کیا ہوگا ۔ مگراب چوری چھپے کی ضرورت نہیں رہی
اس لیے کہ اب وہ چھوٹی سی مشین ہی چور کی طرح چھپ جاتی ہے جو لحاف کے اندر سے محبوب
کے دل کو دستک دے دیتی ہے اور پارک کنارے کھڑے ہو کر دندان سبز کی مدد سے بات کیجئے
سننے والوں کے لیے مجنوں کی بڑ سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ پہلے زمانے جب کوئی روڈ چلتے
بولتے چلتا تھا تو وہ مجنوں ہوتا تھا یا حاضر غائب اور اب اس مشین نے مجنوں کے دماغی
توازن کو بھی شبہ میں لا کھڑا دیا ہے کہ وہ بک بک کر رہا ہے یا موبائل پر کسی سے بات
کر رہا ہے۔ اس میں عجیب عجیب طرح آلات ملنے لگے ہیں اور جو اس دھندے کو آسان بناتے
ہیں۔ پہلے تو ایئر فون ہوتے تھے اور اب آئی فون بھی ہوگیا۔
نا مکمل