دہشت گردی کی سیاست اور سیاست کی دہشت گردی
اس وقت پورے ملک میں
مسلمان بطور خاص دہشت گردی کی سیاست کے شکار ہیں اور یہ سیاست بھیانک ہو کر خود
دہشت گردی کی صورت اختیار کرچکی ہے جس سے ہندوستانی مسلمان اپنے نوجوانوں کے تئیں
ہراساں اور خوف زدہ رہنے لگے ہیں۔ کیونکہ اس سیاست کی دہشت گردی نے ہمارے نوجوانوں
کو ملک کی دولت میں اضافہ کرنے، اپنی معاشی حالت میں سدھار لا کر اچھی اور معیاری
زندگی گزارنے ، خود اعلی تعلیم یافتہ ہونے اور اپنی آنے والی نسلوں کو اعلی تعلیم
یافتہ بنانے سے دور کردیا ہے۔ زندگی کا جو وقت ان کے اسٹیبلشمنٹ کا تھا وہ جیل کی
کال کوٹھریوں میں اکارت جارہا ہے اور ان کے ماں باپ اور بال بچے مفلسی اور بد حالی
کے شکار ہوتے جا رہے ہیں اس میں اگر اضافہ ہوتا رہا تو چند گھرانوں کے بجائے پوری
امت متاثر ہوگی۔اگر اس پر بر وقت قابو نہیں پایا گیا کہ وہ دن بھی دور نہیں کہ لوگ
ایسا اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ لیں گے لیکن اس وقت ان کا احساس اور شعور مردہ ہو
چکا ہوگا۔ اس وقت وہ ایک سسٹم کا حصہ ہوچکے ہوں گے اور جس کے خلاف ان کے دل کی
آواز بھی نہیں اٹھے گی۔ وہ ذلیل ہوں گے مگر اس ذلت کو اپنا فریضہ سمجھیں گے۔
دہشت
گردی کی یہ سیاست سیاست نہیں جنگ ہے۔ اس جنگ کے لیے سیاسی قلا باز دہشت گردی کرتے
بھی ہیں اور دہشت کراتے بھی ہیں ۔ عدالتوں میں مسلمانوں کی بے گناہی کا ثبوت اس کی
واضح مثالیں ہیں۔ کیونکہ یہ بے قصور مسلمان جن واقعات میں ماخوذ ہوئے تھے وہاں
دہشت گردانہ واقعہ تو وقوع پذیر ہوا تھا اور بغیر شواہد وثبوت کے منظم سازش کے تحت
قانوں کے رکھوالوں کا ہاتھ بے قصوروں کی جانب بڑھااور قصور وار بے داغ بچ گئے یا
بچالیے گئے تو آخر اس کے اصل دہشت گرد تھے کون جو ملک کے اتنے مضبوط سیاسی
وانتظامی نظام کے بعد بچ گئے یا بچالئے گئے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان کے سروں پر
انہی سیاسی قلابازوں کے دست شفقت رہے ہیں۔ وزارت داخلہ کے سابق انڈر سکریٹری
آر وی ایس منی کا ۱۴ جولائی ۲۰۱۳ کو دیا گیا بیان کہ پارلیامنٹ اور ممبئی پر بم دھماکہ دہشت گردی
کے خلاف قانون کو مضبوط شکل دینے کے لیے اس وقت کی حکومتوں نے کرایا تھا اس
دعوی کو مزید پختگی بخشتا ہے۔ اور کبھی حالات کو اس رخ پر لے جانے کی کوشش
کرتے ہیں کہ متاثرین دہشت گردی پر آمادہ ہوجائیں۔کچھ عجب نہیں کہ جب سیاسی دہشت
گردی کا یہ سلسلہ طویل ہوجائے اور مسلم نوجوان اسی طرح دہشت گردی کی سیاست کے شکار
ہوتے رہے تو ان کی آنے والی نسلیں اس ظلم کے خلاف جو راستہ اختیار کریں وہ دہشت
گردی کا ہو۔دنیا بھر کے انقلابوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ظلم کے خلاف ہمیشہ تشدد
کا راستہ ہی اختیار کیا گیا ہے۔ خود ہمارے ملک میں جو انتہا پسند تنظیمیں ہیں؛
جنہیں دہشت گردی چھوڑ کر دوسرے نام دیئے گئے ہیں؛ کیونکہ دہشت گردی کی علامت
مسلمانوں کی لیے مخصوص کردی گئی ہے یا کی جارہی ہے؛ وہ اس لیے پر تشدد ہیں کہ
انہیں یہ احساس ہے کہ ان کے خلاف مظالم روا رکھے گئے ہیں۔جب بھی ایسا ہوا ہے وہ
ملک کے لیے بہتر رہا ہے نہ انسانیت کے لیے۔ آئندہ بھی اگر ایسا ہوا ؛ جس کی محرک
سیاست کی دہشت گردی ہوگی؛ تو نہ ملک کے لیے بہتر ہوگا نہ انسانیت کے لئے۔
رمضان کا مہینہ عالم اسلام کے لیے با برکت مہینہ ہے۔ اس
مہینہ میں اللہ تعالی اپنے رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور اپنے بندوں کی دعائیں
دوسرے مہینوں سے زیادہ سنتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس مہینہ میں اپنے ان
مظلوم بھائیوں کی رہائی کے لیے دعا ئیں کریں۔ ہمارے جو بچے سیاست اور انتظامیہ کی
سیاست کا شکار ہو کر زندگی کے اچھے دنوں کو جیل میں ضائع کرنے پر مجبور ہیں وہ اور
ان کے اہل خانہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ہم ان کی بھلائی اور خیر کے لیے دعائیں
کریں اور ان کی حمایت کے لیے آگے بڑھیں۔ ہم اپنے آس پاس اگر ایسے افراد کو پاتے
ہیں جن کی زندگیاں اس طرح تباہ ہورہی ہیں اور ان کے گھر والے مجبور ہیں تو ہم ان
کی مدد کریں تاکہ وہ بہتر زندگی گزار سکیں اور اپنے بیٹے یا باپ کی رہائی کے لیے
بہتر قانونی امداد حاصل کرسکیں جس سے ان کی رہائی ممکن ہوسکے۔
ہمارے
جو بچے ناحق پکڑے جارہے ہیں ان سب کی باعزت رہائی ضرور ہوگی مگر اس وقت تک ان کے
زندگی کے بہتر دن گزر چکے ہوں گے۔ ہماری سیاست یہی کر رہی ہے کہ وہ ترقی پذیر مسلم
نوجوانوں کے اچھے دنوں کا ناکارہ کردیں تاکہ انہیں اٹھنے اور کھڑا ہونے کا موقع
نہیں مل سکے۔ کیونکہ جب مسلمان معاشی سطح پر کمزور ہوں گے تو تعلیمی سطح پر بھی
پیچھے ہوجائیں گے اور پھر اس کا مزید اثر ان کی معاشیات پر ہوگا۔ اس کے نتیجہ میں
وہ سیاست میں بھی پچھڑتے چلیں جائیں گے۔ان سب کے نتیجہ میں سماجی پسماندگی ان کا
مقدر ہوگا او ر پھر اس سے نکلنے کے لیے کئی نسلیں جد وجہد کریں گی تب جاکر کہیں ان
کے ماتھے سے پسماندگی کا داغ مٹ پائے گا۔ ہمارے ملک کا ایک اکثریتی طبقہ اصل میں
یہی چاہتا ہے کہ سیاست میں ان کے متوازی کوئی کھڑا نہیں ہوسکے اور حکومت پر ہمیشہ
ان کی ہی بالا دستی قائم رہے۔
دوسری
جانب حالات نے اب کروٹ لی ہے اور سیاسی بالا دست طبقوں نے شودر اور اس طرح کے ذلیل
ناموں اور پیشوں سے وابستہ کر کے جن مخصوص قوموں اور طبقوں کو ہمیشہ اپنا رہین منت
رکھا تھا، جن کی زندگی بالا دست طبقوں کے رحم و کرم کی محتاج رہی تھی؛ وہ اب جاگ
چکی ہیں اور انہوں نے بالا دست طبقوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا سیکھ
لیا ہے۔ ایسی حالت میں بالا دست طبقوں کو مزدوری اور چھوٹے طبقوں کی ضرورت کو پورا
کرنے کے لیے ایک طبقہ کی ضرورت ہر حال میں باقی ہے ؛اور پچھلی ذلیل کردہ قوموں کو
کچلنا اب ناممکن ہے؛ یہ طبقہ تبھی ظہور پذیر ہوسکتا ہے جب وہ مستقل طور سے سماجی
پسماندگی کا پوری طرح شکار ہو، وہ اپنی زندگی کی بقا کے لیے بالا دست قوموں سے رحم
و کرم کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو۔ بالا دست طبقے کی ایک بڑی منصوبہ بندی یہ بھی
ہے کہ اس طرح کا طبقہ مسلمانوں سے پیدا کیا جائے۔اس فکر کی ایک نفسیاتی توجیہ یہ
بھی ہے کہ ماضی میں ہندوستان میں مسلمان حکمراں طبقہ بن کر رہا ہے اور ان کی یہ
سوچ بھی ہے کہ یہ حکمراں طبقہ باہر سے آکر ملک پر قابض ہوا تھا۔ اس لیے وہ
مسلمانوں کو اب پسماندہ دیکھنے کی خواہش رکھنے کے ساتھ انہیں کسی بھی حال میں
سیاسی سطح پر ابھرنے دینا نہیں چاہتے ہیں۔اس میں کسی پارٹی کی قید نہیں ہے۔اس
معاملے میں سب کی فکر ایک ہے اور سب کے سب اسی نظام کے حصے ہیں۔ اس فکر میں انہیں
دنیا بھرکے سیاسی بالا دست قوموں کی معاونت بھی حاصل ہے۔ کیونکہ انہوں نے دیکھا ہے
کہ ماضی میں مسلمان ایک متحرک قوم رہی ہے اور جہاں گئی ہے وہاں اپنی حکمرانی اور
اثر اندازی کی قوت دکھائی ہے۔ان کے پاس اسلحہ کی قوت سے زیادہ دلوں کے مسخر کرنے
اور جیتنے کی قوت ہے۔ ان کی آنکھوں میں کوئی جادو ہے جس سے کسی کو نظر بھر کے دیکھ
لیے تو وہ اپنی متاع جاں لٹانے کو تیار ہو بیٹھتا ہے۔ انہوں نے دیکھا ہے کہ بڑے
بڑے حکومت کے تختے مسلمانوں کی دلبری کے سامنے گھٹنے ٹیک گئے ہیں۔ اس لیے انہیں یہ
احساس ہے کہ اگر یہ قوم پھر جاگ گئی، علم کی دولت اور اقتصادی استحکام انہیں حاصل
ہوگیا تو سیاسی بالا دستوں کی حکومتوں کے مضبوط تختے مسلمانوں کے سامنے روئی کے
گالوں طرح اڑنے لگیں گے۔
ہمارے
پکڑے ہوئے نوجوان مظلوم ہیں۔ مسلمانوں کو ان کے تئیں تمام امتیازات و اختلافات سے
اوپر اٹھ کر ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔ ان کی گرفتار ی محض چند افراد کی
گرفتاری نہیں بلکہ پوری امت کو نفسیاتی طور پر کمزور کرنے کی سیاست ہے اور
مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کو ہندوستان کی تعلیمی، معاشی اور سیاسی سطح پر ابھرنے
سے روکنا ہے۔اس لیے تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ان مظلوموں کی حمایت کریں اور رمضان
میں ان کے لیے دعائیں کریں۔
یہ سیاسی قلاباز اپنی دہشت گردی سے مسلم نوجوانوں کو فکر ،
علم ، ہنر اور توانائی کی قوت سے محروم کردینا چاہتے ہیں تاکہ آج ان میں سے جو
قوموں کی امامت کا ہنر اور صلاحیت رکھتے ہیں وہ جب لوٹ کر آئیں تب وہ اس لائق
ہوجائیں کہ مزدوروں کی صف میں مشین کے کی طرح اپنے کام انجام دیئے جائیں۔ آج جو
پائلٹ بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ کل رکشے اور ٹھیلے کھینچنے کے لائق ہوجائیں
اور ان میں سے جو لوگوں کو روشنی دکھانے کا کام کر سکتے ہیں وہ لوٹ کر آئیں تو ان
کی آنکھیں اتنی بجھ چکی ہوں کہ وہ خود روشنی کے رنگوں کو بھی نہیں پہچان سکیں اور
ان کے روزینہ کا انحصار انہی بالا دست طبقوں کی عنایت پر ہو۔تاکہ آج جس طرح گذشتہ
پسماندہ قوموں کو تحفظات ومراعات کا احساس دلا کر ان کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے
اسی طرح مسلمان بھی بالکل کمزور اور ذلیل ہوجائیں گے تب وہ مسلمانوں کو دو کوڑیوں
کا تحفظ دے کر حکومتوں میں اپنی نسل در نسل کی بقا کا راستہ ہموار کرتے رہیں ۔
اس
لیے مسلمان حالات کو سمجھیں اور اپنے پکڑے ہوئے نوجوانوں کو گرداب میں پھنسی کشتی
کے حوالہ نہ کریں بلکہ ان کی رہائی اور اس سلسلہ کو روکنے کے لی اپنی انتھک کوششیں
صرف کریں۔ اس کو فرد کا نہیں پوری امت کا مسئلہ سمجھیں۔