عزم اور التوا
عام طور دیکھا جاتا ہے کہ انسان جب کسی کام کے کرنے کا عزم
کرتا ہے تو اس کو کل پر ملتوی کردیتا ہے اور پھر وہ کل آئندہ کل پر ملتوی ہوتا
رہتا ہے۔ اس طرح وہ دن یا تو آتا ہی نہیں کہ جس میں کام کی شروعات کردی گئی ہو یا
اتنی دیر ہوچکی ہوتی ہے کہ اب پچھتاوے سے
ہو کیا جب چڑیا چک گئی کھیت اور نئے تقاضے اور نئے مسائل اس کو اپنے گھیرے میں لے
لیتے ہیں۔ اس طرح وہ یہ کام یا تو کرہی نہیں پاتا یا ادھورا رہ جاتا ہے۔
اس لیے جب کوئی عزم کرو تو اس کو کل پر ملتوی نہ کرو۔
کیونکہ پتہ نہیں وہ کل تمہاری زندگی میں آئے کہ آئے۔ اگر آبھی گیا تو پتہ نہیں
تمہارے لیے وہ وقت اس کام کی شروعات کے لیے مناسب ہو یا نہ ہو اور پھر تم اس کو کل
پر ملتوی کردو اور یہ التوا کا سلسلہ جاری رہے حتی کہ تب تمہارے لیے یا تو اس کام
کی ضرورت باقی نہ رہے اور یا وہ تمہارے لیے فائدہ مند نہ ہو ۔ یا پھر تم اس لائق
نہ رہو کہ اس انجام دے سکو۔
اس لیے تم جس کا کام کا عزم کرو اگر مناسب وقت ہو تو اسی
وقت شروع کردو کیونکہ کل تم اس کو جاری
رکھو گے اور کل تمہیں اس کام کو شروع کرنے کی نہیں جاری رکھنے کی پریشانی ہوگی۔
No comments:
Post a Comment