مشمولات

Thursday, 5 September 2013

عزم اور التوا

عزم اور التوا
عام طور دیکھا جاتا ہے کہ انسان جب کسی کام کے کرنے کا عزم کرتا ہے تو اس کو کل پر ملتوی کردیتا ہے اور پھر وہ کل آئندہ کل پر ملتوی ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح وہ دن یا تو آتا ہی نہیں کہ جس میں کام کی شروعات کردی گئی ہو یا اتنی دیر ہوچکی ہوتی ہے کہ اب پچھتاوے  سے ہو کیا جب چڑیا چک گئی کھیت اور نئے تقاضے اور نئے مسائل اس کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں۔ اس طرح وہ  یہ کام یا  تو کرہی نہیں پاتا یا ادھورا رہ جاتا ہے۔
اس لیے جب کوئی عزم کرو تو اس کو کل پر ملتوی نہ کرو۔ کیونکہ پتہ نہیں وہ کل تمہاری زندگی میں آئے کہ آئے۔ اگر آبھی گیا تو پتہ نہیں تمہارے لیے وہ وقت اس کام کی شروعات کے لیے مناسب ہو یا نہ ہو اور پھر تم اس کو کل پر ملتوی کردو اور یہ التوا کا سلسلہ جاری رہے حتی کہ تب تمہارے لیے یا تو اس کام کی ضرورت باقی نہ رہے اور یا وہ تمہارے لیے فائدہ مند نہ ہو ۔ یا پھر تم اس لائق نہ رہو کہ اس انجام دے سکو۔
اس لیے تم جس کا کام کا عزم کرو اگر مناسب وقت ہو تو اسی وقت شروع کردو کیونکہ کل  تم اس کو جاری رکھو گے اور کل تمہیں اس کام کو شروع کرنے کی نہیں جاری رکھنے کی پریشانی ہوگی۔ 

No comments: