مراعات کے حصول
میں مسلمانوں کامنفی رویہ
سرکاریں جو مراعات دیتی ہیں وہ مستفیدین کے لیے
خیرات نہیں بلکہ ان کا حق ہے اور حق وہ ہوتا ہے جس کی پامالی پر مستحقین دعوی دائر
کرسکیں۔ مخصوص لوگوں کو مراعات اس لیے دیئے جاتے ہیں کہ حکومتیں یہ تسلیم کرتی ہیں
ملک کا مخصوص طبقہ یا گروہ وسائل کی قلت؍ فقدان کی وجہ سے ترقی کی دوڑ میں عام دھارا
کے لوگوں سے پیچھے رہ گیا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ملک کے شہریوں میں امتیاز اگر
زیادہ بڑھ گیا تو ملک کی ترقی کی رفتار سست رہے گی اور شہریوں کے طرز رہائش میں بڑے
تفاوت کی وجہ سے عالمی سطح پرملک کی شناخت بھی خراب ہوگی۔ اس لیے جو لوگ پیچھے رہ گئے
ہیں انہیں حکومت کی جانب سے مراعات دے کر ترقی دوڑ شامل کیا جائے تاکہ ترقی کی رفتار
میں تیزی آئے ۔ ان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہیں اور اس کی طرز حیات میں بھی بہتری آسکے۔
ہندوستان میں آزادی کے بعد مخصوص طبقوں کو نشان
زد کیا گیا کہ یہ لوگ ترقی کی رفتار میں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ اس لیے انہیں خصوصی مراعات
دی جائیںتا کہ وہ ترقی کرسکیں کیونکہ ان کی ترقی کے بغیر ملک کے شہریوں کے درمیان عدم
مساوات رہے گی جو ملک کے لیے مناسب نہیں ہوگا۔ اس میں مسلمانوں کے بھی بعض طبقے شامل
کئے گئے گرچہ ان کے ساتھ وہ انصاف نہیں ہوسکا اور انہیں اس طرح سے مراعات نہیں مل سکیں
جو دیگر مذاہب کے نشان زد طبقات کو مل سکیں ۔ حالانکہ آئین میں یہ کہا گیا کہ مذہب
کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہوگی ۔ اس کے باوجود ایک صورتحال سے دوچار دو الگ الگ
مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مراعات کی تخصیص وتقسیم میں امتیازات پیدا ہوگئے ۔
ایک مراعات میں ہندو مذہب کے طبقات شامل کر لیے گئے اور محض ذات کی وجہ سے اسلام کے
ماننے والے طبقات شامل نہیں ہوسکے۔ جیسا کہ کہا گیا کہ آئین میں شہریوں کے درمیان
مذہب کی بنیاد پر امتیازات کی نفی کی گئی ہے تاہم یہ تلخ حقیقت ہے کہ ملک میں مسلمانوں
کے ساتھ مختلف سطح پر مختلف ادوار میں اتنے امتیازات برتے گئے کہ حکومت کی تشکیل کردہ
کمیشنوں کی تحقیق کے مطابق ابھی ان کی حالت اتنی پسماندہ ہے کہ وہ ان طبقات سے بھی بدتر حالت میں ہیں جو مخصوص
مراعات کے حقدار ٹھہرے تھے۔ چنانچہ حکومت کی جانب سے ایسے گروہوں کوبڑی محدود سطح پر
مراعات دے کر ترقی کے راستہ کھولنے کی بات کہی گئی اور چند مراعات جاری بھی کی گئی
۔ تاہم یہ ہمارے ملک کی بد نصیبی رہی ہے کہ جن کے لیے مراعات جاری کی جاتی ہیں عام
طور پر وہ اس سے نابلد رہتے ہیں اور ان کا حتی الامکان فائدہ نہیں حاصل کرپاتے۔ جن
ذرائعوں سے حکومتیں مراعات کے اشتہارات دیتی ہیں وہ مستحقین کے دسترس سے باہر ہوتے
ہیں۔ البتہ رفتہ رفتہ جن طبقات کے لیے مراعات جاری کی گئیں ان کے با شعور افراد نے
اپنے طبقات کو ان مراعات کے حصول لیے بیدار کیا اور وہ ان کو پورا پورار حاصل کر رہی
ہیں۔غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) نے بھی فعال کار کردگی انجام دی ہے۔ لیکن یہ عجیب
اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے پاس اخبارات اور اس زمرہ کے وسائل کے بغیر رائے عامہ ہموار
کرنے اور پیغام رسانی کے ذرائع موجود ہونے کے باوجودانہیں ہدف کے مطابق مراعات حاصل
نہیں ہو پارہی ہیں ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ خود بھی مراعات کے تئیں حساس نہیں
ہیں اور جس پیمانے پر ان مراعات کے لیے رقم مختص کی جاتی ہیں وہ ہدف پورا نہیں ہوتا
ہے۔ ایسا بھی پڑھنے میں آیا ہے کہ رقم تک واپس ہوگئی ہے۔ مسلمانوںجو غیر سرکاری تنظیمیں
رجسٹرڈ کر رکھی ہیں ان کی کار کردگی بھی عام طور پر سست دیکھی گئی ہے اور انہیں زیادہ
تر ذاتی مفاد کے لیے ہی استعمال کیا جاتا دیکھا گیا ہے۔
اس کی کئی وجہیں ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ مستحقین
اس سے واقف ہی نہیں ہوپاتے ۔ اگر ہو بھی جاتے ہیں تو ان کے حصول میں یا تو دلچسپی نہیں
ہوتی ہے یا ان کو حاصل کرنے کے لیے جس طرح کی شرطیں رکھی گئیں ہیں ان کو پورا کرنے
کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ بعض لوگ صلاحیت رکھنے کے باوجود کوتاہی برتتے ہیں اوراس کے
حصول کے لیے دوڑ بھاگ نہیں کرنا چاہتے ۔ اگر مل گیا تو ٹھیک اور اگر نہیں ملا تو مقامی
نمائندوں، حکومت اور افسران کی شکایت کر کے جی کو خوش کرلیا اور خاموش ہوگئے۔
لیکن یہ بھی حقیت ہے کہ حق ہر دور میں آسانی
سے مستحقین کو نہیں ملا ہے۔ مستحقین نے ان کو حاصل کرنے کے لیے مشقتیں اٹھائی ہیں
۔ قانونی لڑائیاں لڑی ہیں۔ حکومت کے سامنے دھرنے دیئے اور مظاہرے کئے ہیں حتی کہ جان
کی قربانیاں بھی پیش کی ہیں ۔ اس کا واحد مقصد یہ رہا ہے کہ ان کے طبقہ کے لوگ ترقی
کریں اور خوشحال زندگی گزار سکیں ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے زیادتی کر کے اس لائق
بنادیا گیا کہ ہے کہ وہ مراعات کے ذریعہ اپنے ترقیاتی سفر کو تیز کریں ۔ اس لیے چاہے
نہ چاہے حکومتیں مختلف طرح کی مراعات دینے پر مجبور ہوئی ہیں ۔ لیکن زمین حقیقت یہ
ہے کہ مسلمان ان مراعات کو حاصل کرنے میں اتنے حساس نہیں ہیں جتنا کہ ہونا چاہیے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے چاہیے کہ ان
مراعات کے ذریعہ انہیں ترقی کے جو مواقع ملے ہیں ان کا فائدہ اٹھائیں وہ ساری مراعات
حاصل کریں جن کے وہ مستحق ہیں۔ اس میں مقامی نمائندوں کا تعاون بہت ضروری ہے۔ لیکن
اگر نہیں ملتا ہے اپنے حق کو ضائع کردینا دانشمندی نہیں ہے۔ اس کے لیے تگ دو کریں
۔ اخبارات ورسائل کے درمیان اشتہارات پر نظررکھیں۔ اس سلسلہ میں بہت بڑی ذمہ داری جن
شخصیات کی ہے وہ ہیں مسجد کے ائمہ ۔ ان کے پاس رائے عامہ ہموار کرنے کا ذریعہ ہے۔ سماج
کی فلاح وبہبود ان کی ذمہ داری ہے۔ وہ اگر ذرا بیدار رہیں اور حکومتوں کی اسکیموں سے
واقفیت رکھیں اور جب جب اس طرح کے اشتہارات آئیں تو جمعہ کے دن خطبہ کے آخر دو منٹوں
میں یا مختلف طرح دینی جلسوں اور سماج میں اٹھتے بیٹھتے اس طرح کی اسکیموں سے لوگوں
کو واقف کرادیں تو لوگ خود بھی بیدار ہونے لگیں گے۔ سماج میں خود ان ائمہ کا احترام
بڑھنے کے ساتھ ساتھ ضرورت بھی بڑھ جائے گی۔
بہت سے لوگ مذہبی پیشواؤں کا اس طرح کی چیزوں
میں پڑنا غیر مناسب سمجھتے ہیں۔خود علما بھی اس کو ناپسند کریں گے۔ لیکن سچی بات یہ
ہے کہ جو رہنما ہوتا ہے اس کی ذمہ داری ہمہ جہت ہوتی ہے ۔ اسے قوم کی فلاح کے ہر پہلو
کو نظر میں رکھنا چاہیے۔ جن کے رتبے ہیں سوا ان کی مشکل بھی سوا ہوتی ہے۔
ہمارے یہاں ایک رویہ یہ پایا جاتا ہے کہ لوگ دوسروں
کو نقصان پہنچاکر اپنا فائدہ تلاش کرتے ہیں۔ اگر آپ مستحق ہیں تو اپنے حق کے لیے ضرور
لڑیں لیکن دوسرے حق کو غصب نہیں کیا جائے ۔ حکومت اگر مراعات کم دے رہی ہے تو آپ حکومت
کے پاس اپنا استحقاق ثابت کریں اور مطالبہ جاری رکھیں حکومت کو آپ کی ضرورتیں پوری
کرنی ہوں گی۔ آپ کے علاوہ جتنے لوگ مستحق ہوں گے ان کی بھی ضرورتیں پوری ہوں گی۔
لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان مراعات
پر خود منحصر کرلینا اچھی بات نہیں ہے۔ مراعات اس لیے ہیں کہ آپ اضافی امداد کے ذریعہ
ترقی کی رفتار کو بڑھاسکیں۔ حقدار ہیں تو مراعات لیں اورمحنت اور روزگار کے حصول کے
جتنے مواقع ہوسکتے ہیں انہیں حاصل کر کے مراعات سے خود کو آزاد کرنے کا ہدف بنائیں
۔ اور یہ سوچ رکھیں کہ جو لوگ آپ سے زیادہ مراعات کے حقدار ہیں وہ مراعات لے کر اپنی
طرز رہائش کو اونچا کریں۔ کوئی قوم اسی وقت سر بلند ہوسکتی ہے جب مجموعی طور پر اس
کے افراد ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ہوں۔ دیہاتوں میں دیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ مراعات
پارہے ہیں انہوں نے محنت ومزدوری کرنا بند کردیا ہے اور انہی مراعات پر زندگی گزارنا
چاہتے ہیں۔ یہ رویہ خطرناک ہے۔ اس سے ترقی نہیں ہوسکتی ہے۔ ترقی کے لیے ضروری ہے کہ
مراعات کے محنت ومزدوری کا جو وسیلہ میسر ہو اس کو اختیار کیا جائے۔
ملک میں جو رفاہی اور فلاحی اسکیمیں ہیں اس میں
بعض مخصوص ہیں اور بعض میں اقلیت اور اکثریت طبقہ دونوں کے لوگ شامل ہیں۔ جو لوگ ان
مراعات کو حاصل کرنے کے اہل ہوں انہیں حاصل کرنا چاہیے۔ یہاں بعض سرکاری اسکیموں کے
نام بتائے جاتے ہیں۔ ان کو حاصل کرنے کے لیے بیداری ضروری ہے۔ بعض اسکیمیں ہمیشہ جارہی
رہتی ہے۔ بعض موقت ہوتی ہیں اور ان کے حصول کے تاریخوں کا اعلان ہوتا ہے۔ اہل حضرات
کو ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اس کے حصول کے لیے تگ ودو کرنی چاہیے۔ اسکیمیں
اس طرح ہیں:
نافذ العمل چند اسکیمیں:
عام آدمی بیمہ یوجنا ، بچت لیمپ یوجنا، مرکزی
حکومت ہیلتھ اسکیم، دین دیال معذورین بحالی اسکیم ، گرامین بھنڈارن یوجنا،اندرا آواس،
اندرا گاندھی ماترتیا سہیوگ یوجنا ، انٹیگریٹیڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروس، انٹیگریٹیڈ رورل
ڈیولپمنٹ پروگرام، زنانہ سرکشا یوجنا، کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ، کشور سائنس داںحوصلہ
افزا یوجنا، لائیو اسٹاک انشورنش اسکیم ، مہاتما گاندھی نیشنل دیہی روزگار گارینٹی
ایکٹ ، رکن پارلیامنٹ مقامی علاقہ ترقیاتی اسکیم ، مڈ ڈے میل اسکیم ، قومی خواندگی
مشن پروگرام ، قومی پنشن اسکیم ، قومی اسکیم برائے فلاح ماہی گیران ، قومی سروس اسکیم
، قومی سماجی تعاون اسکیم ، جمع خزانہ ترقیاتی فنڈ اسکیم ، وزیر اعظم آدرش گرام یوجنا،
وزیر اعظم گرام سڑک یوجنا، قومی زرعی ترقی یوجنا، قومی صحت بیمہ یوجنا، آر این ٹی
سی پی ، نوجوان لڑکیوں کو با اختیار بنانے کے لیے راجیو گاندھی اسکیم ، سمپوما گرامین
روزگار یوجنا، سوابھیمان، سورن جینتی گرام خود روزگار یوجنا، سوے لمبن (ان آرگنائز
سیکٹر کے مزدور کے پشن کی اسکیم) ، ادھیشا، والینٹری ڈسکلوزر آف انکم اسکیم ، قومی
دیہی روزگار مشن ، طویل العمری پنشن ، نیشنل فیملی بینیفٹ اسکیم، جن شری بیما یوجنا،
وظیفہ برائے معذورین، بے روزگاری بھتہ برائے معذورین ، بیوہ پنشن، لاڈلی ، کمزور طبقات
کے زچہ کے معالجہ کے لیے مالی تعاون، بیوہ عورتوں کے لیے مالی تعاون تاکہ وہ اپنی لڑکی
کی شادی کرسکیں اور شادی کے لیے یتیم لڑکی کو مالی تعاون، اسکیم آف بھاگیہ داری، سپلیمنٹری
تغذیہ پروگرام، کشوری شکتی یوجنا،معاشی پسماندہ طبقات کے لیے، وظیفہ؍ مالی تعاون،سماج
کے معاشی پسماندہ طبقات کے اہل(قابل) طلبہ کے لیے لال بہادر شاستری وظیفہ ، طلبہ کے
اسکول یونیفارم کے لیے سب سیڈی، ٹکسٹ بک کی مفت سپلائی ، روزگار کے لیے ایس سی ؍ ایس
ٹی ؍ او بی سی ؍ اقلیات اور معذور کو قرض ، بشمول ایس سی ؍ ایس ٹی ؍ او بی سی ؍ اقلیات
معاشی پسماندہ نوجوانوں ہنرمندانہ ٹریننگ وغیرہ ۔

No comments:
Post a Comment