منصور خوشتر کے جمال نظر کا عکاس: لمعات طرزی
”عجم زندہ کردم
بدیں پارسی“
فردوسی کا یہ مصرعہ آج بھی
اہل ایران کے لیے سرمایہ افتخار ہے اور جس طرح یہ مصرعہ سرمایہ افتخار ہے اسی طرح اس
مصرعہ کا خالق فردوسی بھی؛ اہل ایران ہی نہیں بلکہ اہل ہند کے لیے بھی اور اہل ہند
ہی کیا وہاں وہاں جہاں زندہ دلی ہے، احساس ہے ، شعور ہے ،ذوق ہے ؛ سرمایہ صد افتخار
ہے۔ فردوسی نے شاہنامہ لکھ کر اس وقت کے ایران کو آج بھی زندہ وتابندہ رکھا ہے تو ہمارے
عہد میں ہندوستان کی دور افتادہ مگر روشن زمین دربھنگہ کے بجھتے ہوئے تاروں کو بھی
تابندگی دینے کے لیے خود دربھنگہ میں ایک فردوسی پیدا ہوا جسے لوگ حافظ عبد المنان
طرزی کہتے ہیں۔ حافظ عبد المنان طرزی شاعر ہیں مگر شعرا میں امتیاز یہ ہے کہ انہوں
نے اپنی لو تیز کرنے کی بجائے بہار اور بطور خاص دربھنگہ کی سرزمین کی ادبی شمعوں کی
بجھتی ہوئی لووںکو روغن دے کر تیز وتند بنادیاہے جو بہت دنوں بعد تک بھی ٹمٹماتی رہیں
گی۔ اگر اس کا مشاہدہ کرنا ہو تو اس کے لیے ان کی کل ادبی نگارشات کی بجائے صرف رفتگاں
وقائماں، سو دیدوراں ،دیدہ وران بہار اور آہنگ غزل کا مطالعہ ومشاہدہ ہی کافی ہے۔
حافظ عبد المنان
طرزی کا ادبی سفر بہت طویل ہے۔ اس مدت میں انہوں نے بہت لکھا اور جو لکھا عمدہ ہی لکھا۔
عام طور پر زود گویوں کے یہاں فنی چابک دستی اور پختگی تو خوب محسوس ہوتی ہے مگر فکر
کی زمین پر شادابی کی کمی آنے لگتی ہے۔ عبد المنان طرزی کا معاملہ یہ ہے کہ خوب لکھتے
ہیں اور جو لکھتے ہیں سب میں فکری اعتبار سے سر سبزی وشادابی وافر طور پر موجود رہتی
ہے۔ ان کی مہارتوں اور فنی وفکری خوبیوں کو ملک بھرکے مشاہیر اور اہل نظر نے سند واعتبار
بخشا ہے جن کوزیر نظر کتاب ”لمعات طرزی“ میں دربھنگہ ٹائمس کے مدیر ، صحافی اور شاعر
ڈاکٹر منصور خوشتر نے ترتیب دے کر شائع کردیاہے۔ مذکورہ کتاب میں ملک وبیرون ملک کے
۱۳۶ مشاہیر کی آرا شامل کی گئیں ہیں جن میں امریکہ سے ۴ کناڈا سے ۲ ، لندن سے ۴، پاکستان سے ۵ ، ایران سے ایک اور ہندوستان کے ۸۴ شہروں
سے تعلق رکھنے والے۱۲۰ مشاہیر نے عبد المنان طرزی کے فکر وفن پر اپنی پسندیدگی کا اظہار
کیا ہے اوران کی شاعری کو قابل فخر کارنامہ قرار دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عبد
المنان طرزی عالمی شہرت یافتہ ہیں اور ان کا فن سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ان آرا میں ۲۱ منظوم تاثرات بھی شامل ہیں۔ عبد المنان طرزی کلاسیکل طرز کے مشہور شاعر
ہیں جنہوں نے تقریبا ۰۴ ہزار اشعار کہہ دیئے ہیں۔ بنیادی طور پر وہ
غزل کے شاعر ہیں اور غزل میں ان کی فکر کلاسیکی اندازبیان کا پیرایہ اختیار کرتے ہوئے
اپنے عہد کے مسائل کو پیش کرنے میںبھی کامیاب ہے۔ لیکن انہوں نے غزل کے علاوہ اپنی
پہچان منفرد انداز کی نظم گوئی میںبنائی ہے جس میں شعرا، ادبا اور دانشوران کی زندگی
کا منظوم تعارف پیش کیا ہے۔ رفتگاں وقائماں ( اب تو قائماں میں بھی شامل کئی حضرات
حی القائم نہیں رہے)،سو دیدوراں، دیدوران بہار، طلع البدر علینا (منظوم سیرت الرسول)
اور آہنگ غزل اس قبیل کے ان کے مشہور منظوم کارنامے ہیں۔ طرزی نستعلیق اور نفیس طبیعت
کے مالک ہیں جو ان کے لباس وپوشاک اور کھانے پینے پر بھی نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری میں
وہی نفاست اور تراش خراش موجود ہے جو ان کے پان کی گلوری کے تراش خراش میں ہے۔ الفاظ
وتراکیب کے استعمال میں وہی انتخاب ہے جو ان کی شخصیت کا خاصہ ہے اور ان کی شاعری میں
کسی شخصیت پر اظہار کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کے ساتھ خامیوں پر بھی اسی طرح اشارہ ہوتا
ہے جو ایک مرد مومن کی پہچان ہوتی ہے۔
مشاہیر نے ان
کے فکر وفن پر اپنی جو گراں قدر رائے پیش کی تھی اور جو کتابوں کے دیباچوں ، خطوط اور
غیر مطبوعہ مضامین میں بکھرے پڑے تھے ڈاکٹر منصور عمر نے ان کو طرزی اور طرز بیان نام کی کتاب دیا تھا۔ یہ کتاب طویل تھی جس کے اہم اجزا کا انتخاب کر کے ڈاکٹر منصور خوشتر نے اس کتاب میں یکجا
کرکے اپنی فکر ونظر کا بہترین ثبوت پیش کیا ہے۔ پیشکس کے انداز اور مشمولات کے
انتخاب سے منصور خوشتر کے جمال نظر کی عکاسی ہوتی ہے۔ کتاب کے مطالعہ سے واضح ہوتا
ہے کہ ڈاکٹر منصور عمر نے یہ آرا ”طرزی ایک قادر الکلام شاعر“، ”ودیا کا منظوم ساگر“
، ”مکتوبات بنام طرزی“،” قد آواراں“،” لکیر“، ”غیر مطبوعہ مقالوں“ ، ”سو دیدہ ور“،
”طرزی اور طرزی بیان“، ”آہنگ غزل“،” رفتگاں و قائماں“ اور قومی تنظیم وغیرہ کے مطالعہ
سے جمع کر کے ترتیب دیا تھا ۔ ڈاکٹر منصور خوشتر جناب طرزی کے فکر وفن پر کچھ نئے لوگوں کی آرا شامل کی ہے وہیں ایران میں طرزی کے فن پر جو اخبارات میں خبریں شائع ہوئی ہیں انہیں بھی شامل کیا ہے اور انہیں شخصیتوں کے ناموں کے ساتھ حروف تہجی کی ترتیب
سے پیش کردیا ہے۔
تجزیاتی گفتگو کے مقابلہ میں تاثرات
میں پختہ رائے نہیں ہوتی ہے۔ مرتب ڈاکٹر منصور خوشتر صحافی ہیں اور خبروں کو سونگھ
کر خبر کی تہ تک پہنچنے کا انہیں ہنر معلوم ہے۔ کتاب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان
تاثرات کو جمع کرنے میں ان کا یہ صحافتی شعوربھی ان کے خوب کام آیا ہے۔ انہوں نے مختلف
لوگوں کی آرا سے ایسی باتیں اٹھائی ہیں جن سے عبد المنان طرزی کے فکر وفن اور شاعری
کا مجموعی خاکہ سامنے آتا ہے اور مختلف اصناف شاعری میں طرزی کی انفرادیت کی عکاسی
ہوتی ہے۔گرچہ جملوں اور تراکیب کی تکمیل کا لحاظ رکھنے کی وجہ سے تکرار کی فضا بھی
پیدا ہو گئی ہے۔ البتہ کچھ باتیں ایسی بھی کہی گئی ہیں جن سے اہل نقد ونظر کو اختلاف
کا موقع مل سکتا ہے۔مثلا اردو میں ”منظوم تنقید“ کا بانی، ”منظوم مقالہ نگار“ اور”
منظوم تبصرہ نگار“ وغیرہ کچھ ایسی باتیں ہیں جن پر بنیادی قسم کے سوالات کھڑے ہوسکتے
ہیں۔
ادب کے بنیادی
نظریات مقدمات میں یہ بات شامل ہے کہ تنقید بخیہ گری کا نام ہے ۔ یہ احساس نہیں ادراک
ہے ۔ وضاحت اور قطعیت اس کا جز و لاینفک ہے جبکہ اعلی اور عمدہ شاعری میں ابہام اس
کا جوہر اصلی ہے جس کے بغیر معنوی تہ داری پیدا نہیں ہوسکتی ۔ شاعری میں وضاحت اور
قطعیت موجود ہو تو قاری سے معنی خلق کرنے کا اختیار چھنتا ہوا نظر آتا ہے۔ اب اگر طرزی
کو منظوم تنقید نگار کہہ دیا جائے تو ایسی صورت میں ان سے اچھی شاعری کا وصف مسلوب
ہوجائے گا ۔ اسی طرح تبصرہ میں بھی ایک واضح رائے کا آنا ضروری ہے۔ اس کے باوجود تبصرہ
ہلکی پھلکی قسم کی چیز ہوتی ہے اس لیے منظوم تبصرہ کی بڑی حد تک گنجائش ہے۔ البتہ منظوم
مقالہ میں اختلاف کی گنجائش بڑھ جاتی ہے۔ عام طور پر مقالہ کو نثر کی قسم سے سمجھا
جاتا رہا ہے ۔ مضمون اور مقالہ میں فرق ہے۔مقالہ میں مقالہ نگار کواپنے دعوی یا تلاش
کو ”مقال“ ”اقوال“ کے ذریعہ مستند بنانا پڑتاہے۔ ظاہر ہے کہ شاعری کی اپنی حدیں ہیں
اور نثر کا اپنا نظام ہے۔ اب درج کیا جانے والا اقتباس یا قول اگر منظو م ہو تو ٹھیک
ہے کہ اسی بحر میں اشعار کہہ کر منظوم مقالہ لکھ لینا آسان ہوسکتا ہے لیکن نثری قول
کے لیے قول کو نظم کرنا ہوگا اور نظم کرنے کے لیے بعض تبدیلی وتحریف سے کام لینا ہوگا
جس میں قول کے معانی میں تبدیلی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ استدلال کے لیے کسی قول میں
ہیر پھیر علمی دیانت داری کے خلاف ہے۔ پھر یہ کہ شعر میں قاری کو معنی پیدا کرنے کا
اختیار ہوگا جو معنی اس معنی سے الگ ہوسکتا ہے جس سے شاعر کی مراد ہے ۔ اس طرح کسی
مقالہ میں جو قطعیت ہونی چا ہیے وہ نہیں ہوسکتی ہے۔ اسی طرح خاکوں کی بھی اپنی کچھ
شرطیں ہیں۔ اگر یہ شرطیں شاعری میں پوری ہوجاتی ہیں تو یہ اردو زبان کی ایک ایجاد ہوگی
اور اس کا امکان بھی موجود ہے۔
مرتب کو چاہیے
کہ اس پر اپنی رائے پیش کرتے تاکہ اس سلسلہ میں ان کی رائے واضح ہوسکے۔ مشمولات کی
پیشکش سے تو ایسا پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں اور اگر واقعہ یہ ہے
کہ ان کی شاعری میں یہ خوبیاں موجود ہیں تو ان کو تحقیق کے ذریعہ سامنے لانے کی ضرورت
ہے تاکہ اردو زبان کا شاعرانہ علمی وقار بلند ہو۔
یوں تو اس کتاب
کے جو بھی تاثراتی مشمولات ہیں وہ مختلف میدانوں کے ماہرین اور ”مستند ہے میرا فرمایا
ہوا“ جیسی شخصیتوں کے ہیں۔ تاہم طرزی کے فکر پرافتخار اجمل شاہین، تقی عابدی، انور
سدید، ابوذر عثمانی، انیس صدری، جمال اویسی، رضوان الحق، گوپی چند نارنگ، پروفیسر لطف
الرحمن، ڈاکٹر ہمایوں اشرف وغیرہ نے اچھی روشنی ڈالی ہے اور ان کی فنکارانہ مہارت کی
توجیہ پیش کی ہے۔ رضوان الحق نے طرزی کی شاعری کے بارے میں لکھا ہے کہ نام اور تخلص
سے معنویت پیدا کی گئی ہے ۔ ہم وزن الفاظ کے انتخاب سے کردار کی تعمیر کا کام لیا گیا
ہے۔ مرتب اگر اس کی مثال پیش کردیتے تو مزہ دوبالا ہوجاتا ۔قابل ذکر بات ایک اور نظر
آئی کہ اس علاقائی تعصب کے زمانہ میںرفتگاں قائماں کے حوالہ سے انور سدید کی یہ تحریر
بڑا اعتراف ہے کہ ایسی کتاب پاکستان میں نہیں لکھی گئی ۔
دوران مطالعہ
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تاثرات پیش کرتے ہوئے کچھ دانشوران وفور جذبات پر قابو نہیں
رکھ سکے ہیں ایسا کچھ لکھ گئے ہیں جو طرزی کے لیے اچھی بات ہوسکتی ہے لیکن اس کا مفہوم
مخالف کچھ اور معنی بھی پیدا کردیتا ہے۔ فخر الدین عارفی کے بارے میں ان کے محبان کے
حلقہ میں دانشوری کا احساس قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے ان پر تملق کا الزام ظلم صریح
تعبیر کیاجائے گا لیکن اب کا یہ کہہ دینا کہ” بہار میں ان (طرزی) کے جیسا دوسرا کوئی
بڑاعالم اور دانشور موجود نہیں ہے“ یہ قول محال ہے۔ مگر اگر یہ واقعہ ہے تو اہل بہار
کو اس پر سنجیدہ ہوجانا چاہیے کیونکہ اب علم اور دانشوری کا حلقہ بہت وسیع ہوچکا ہے
اورایسا محسوس ہوتا ہے کہ طرزی اپنے تمام تر کارناموں کے باوجود اس ذمہ داری کو قبول
نہیں کرسکیں گے۔
لمعات طرزی کے
صفحہ ۷۷ سے ۸۸ تک جناب طرزی کی کتاب قد آوراں کی رونمائی
اور ان کے فکر وفن پر فارسی میں ایران کے مختلف شہروں کے حوالہ سے غالبا اخبار ات کی
خبریں شامل کی گئی ہیں جن کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ”زبان یار من ترکی ومن
ترکی نمی دانم“۔ کتاب کے آخر میں طرزی کی چند یاد گار تصویریں ہیں جو مرتب کے ذوق کا
پتہ دیتی ہیں۔
اس کے علاوہ
کتاب کا پیش لفظ اردو زبان میں تصنیف وتالیف کے قطب الاقطاب مناظر عاشق ہرگانوی نے
لکھا ہے اور بڑا پیارا عنوان لگایا ہے کہ” تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں“۔اس میں انہوں
نے بے لاگ ولگاؤ جناب طرزی کے فکرو فن کی عکاسی کی ہے۔ البتہ مرتب کے تعارف کے ساتھ
پتہ نہیں کیوں انہوں نے صحافی اور شاعر سے پہلے رفتار شکن کا سابقہ لگادیا ہے۔ ڈاکٹر
منصور خوشتر اچھے صحافی اور اچھے شاعر ہیں۔ وہ گذشتہ کئی برسوں سے دربھنگہ ٹائمس (جو
انہی کی ایجاد ہے) کی ادارت کے ساتھ قومی تنظیم کے دربھنگہ زونل آفس کی ذمہ داری اٹھائے
ہوئے ہیں اور انہوں نے صحافت اس زمانہ سے کی ہے جب لڑکے بالوں کے کھیل کھیلنے کی عمر
ہوتی ہے مگر ان کی صحافت یا شاعری میں روایت یا رفتار سے علاحدہ کوئی راہ یا رفتار
نظر نہیں آتی ہے۔
ایک مشورہ جو
مرتب کو اس کتاب کے مطالعہ کے بعد دیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب میںطرزی کی کن
کن کتابوں پر تاثرات پیش کئے گئے ہیں اور وہ کتابیں کب کب شائع ہوئیں ہیں اس کی تفصیل
علاحدہ طور پر دی جانی چاہیے تھی اور دوسرا یہ کہ انہوں نے بڑی محنت سے کتاب ترتیب
دی اور مختلف تاثرات کے ساتھ ضروری نوٹ بھی لگائے لیکن شاید شوق طباعت کی جلد بازی
میں کتاب کا مقدمہ جو شامل اشاعت نہیں ہوسکا ہے اگر اس کتاب کی اگلی اشاعت کا موقع
ہو (جو ضرور ہوگا) تو لازما شامل کریں تاکہ کتاب کی قدر وقیمت میں واقعی اضافہ ہو۔
٭٭٭