مشمولات

Wednesday, 28 May 2014

‘‘باتیں میر کارواں کی’’

‘‘باتیں میر کارواں کی’’
یعنی یادوں کی کہکشاں

                دنیا میں جتنی عظیم ہستیاں ہوئی ہیں ان کی عظمت اس لیے تسلیم کی گئی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالی کے ذریعہ ودیعت کی ہوئی صلاحیتوں سے خلق خدا کو فیضیاب کیا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ انسان کی ایک محدود عمر ہے اور دنیا کے اسٹیج پر اسے اسی محدود وقت میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ لیکن کسی ڈرامہ کے کردار اور ایک زندہ انسان کے کردار میں یہ بنیادی فرق ہوتا ہے کہ زندہ انسان کا کردار اسٹیج سے اتر کر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اس کے دنیا سے ختم ہوجانے کے بعد بھی اس کا اثر چلتا رہتا ہے ۔ اس کی اثر پذیری کی سطح اتنی ہوتی ہے جتنی اس نے دنیا کو فیضیاب کیا اور بعد میں اس کی جتنی بازیافت کی گئی اور آنے والی نسلوں کے لیے اسے محفوظ کیا گیا۔ مابعد تحریر دور سے دنیا میں جتنے بڑے بڑے آدمی ہوئے ہیں ان کی بازیافت ان کی سوانح عمریوں سے کی گئی ہے۔ سوانح عمری ایک ایسا آئینہ ہے جس سے اس کی زندگی اس وقت تک چلتی پھرتی اور موثر ہوتی دکھائی دیتی جب تک اس کی قرأت کا عمل جاری رہتا ہے۔ عظمت کا اظہار کئی محاذوں پر ہوتا ہے اور یہ سارے محاذ انسانیت کی تعمیر اور ترقی کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ خواہ وہ سیاست کا محاذ ہویا اخلاقیات کا۔ تعلیم کا محاذ ہو یا معاشیات کا۔ سماجیات کا میدان ہو یاسائنس وٹیکنالوجی کا ۔ وعلی ہذا القیاس۔
                تمدن اور تحریر کے علم سے آراستہ دنیا کی ہر قوم، ہر تہذیب، ہر ملک میں عظیم انسانوں کی زندگی کو محفوظ کیا گیا ہے۔ بلکہ وہ قومیں بھی جو تحریر کے علم سے نابلد تھیں اپنے اسلاف کے کارناموں کو سینہ بہ سینہ منتقل کرتی رہی ہیں اور مختلف اوقات میں اپنے پرکھوں کی عظیم روایت کا حوالہ دے کر فخر ومباہات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ ان کے بوڑھے بوڑھیاں اپنے اسلاف کے کارناموں کو کہانیوں کی شکل دے کر اپنے بچوں کو سناتے رہے ہیں تاکہ ان کے بچے بھی اپنے اسلاف کی طرح جرأت مندانہ اقدام پر قادر اور عظیم انسان بن سکیں۔ گویا کسی انسان کی عظمت کو محفوظ کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان کی آنے والی نسلیں اس روایت پر قائم رہیں اور انہیں آگے بڑھاتے رہیں۔
                اسلامی تاریخ میں محمد ﷺ سے لے کر اب تک جو بھی عظیم ہستیاں پیدا ہوئی ہیں ان کی زندگی کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں اسماءالرجال کے نام سے مسلمانوں کا وہ عظیم کارنامہ ہے جو دنیا کی کسی تہذیب یا کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ مسلمانوں میں جس قدر عظیم ہستیاں پیدا ہوئی ہیںاس تناسب سے ان کی زندگی کو محفوظ نہیں کیا جاسکا ہے اور وہ گوشہ گمنامی چلے گئے ہیں یا ان کو دوسری قوموں نے اپنا ہیرو بنانے کی کوشش کرلی ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی بہت سی عظیم ہستیاں جنہوں نے سائنس اور طب کے میدان میں تاریخی کارنامے انجام دیئے ہیں ان کے ناموں کو انگریزی املائی نظام سے اس طرح محرف کیا گیا کہ وہ ہمارے محسوس نہیں ہوتے۔ حالانکہ جو قومیں اپنے اسلاف کو یاد نہیں رکھتی ہیں ان کو مٹانابھی آسان ہوتا اور تاریخ سے تو حرف غلط کی طرح مٹادیاجاتا ہے۔
                ہندوستان میں مسلمانوں کی عظیم شخصیتیں مدارس اسلامیہ ، دینی تنظیمی اداروں، خانقاہوں اور مساجد سے بڑی تعداد میں وابستہ رہی ہیں۔ یہاں ایسی ہزارہا شخصیتیں پیدا ہوئیں جنہوں نے بڑے بڑے علاقوں کی تقدیر یںبدل ڈالیں اوراس کو خلیفة اللہ فی الارض کی ذمہ داری سمجھتے ہوئے رضائے الٰہی کی تکمیل کے خاطر بڑی بڑی خدمات کو کوتاہ وکم تر سمجھا گویا کچھ کیا نہیں۔ البتہ انہی کے رفقا یا معاصر شخصیت میں سے کسی کو توفیق ہوئی اور یہ تاڑ گئے کہ اگر ان کی خدمات کو کتابوں میں قید کرلیا جائے تو آنے والی نسلوں کے لیے یہ خدمات نشان راہ ثابت ہوں گی تو ان کی سوانح حیات یا ان کی خدمات کا جائزہ پیش کردیا۔ اس سلسلہ میں اہل مدارس کا معاشی بحران بھی اس ضمن میں اقدام کرنے میں حارج رہا جس کی وجہ سے وہ طباعت واشاعت کے مرحلہ کو بہ آسانی عبور نہیں کرسکے۔
                مدارس اور دینی اداروں سے تعلق رکھنے والی انہی شخصیتوں میں سے ایک عظیم شخصیت حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب حفظہ اللہ کی بھی ہے جن کی خدمات اور تحریکی وتعمیری زندگی کا دائرہ کم وبیش ۰۵ سالوں پر پھیلا ہواہے اور جن کا میدان کار پورا ہندوستان ہے۔ ان کی خدمات میں تدریس ، تبلیغ، تصنیف وتالیف اور تنظیم اور خدمت خلق شامل ہیں۔تحریکی وتعمیری زندگی کا اتنا طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ اب عمر کے آخری پڑاؤ پر ہیں لیکن اب تک مدارس یا دینی تنظیموں کی جانب سے ان کی خدمات کو حیطہ تحریر میں نہیں لایا گیا۔ اس کے لیے قابل مبارکباد ہیں نوجوان صحافی عارف اقبال جن کی نگاہیں تیز بیں نے اس کمی کو محسوس کیا اور نوآموزی کے احساس کے باوجود اس طرف اقدام کر کے بڑی شرح وبسط کے ساتھ ان کی زندگی کے ایک ایک پہلو کا احاطہ کر لیا۔ چنانچہ عارف اقبال نے” باتیںمیر کارواں کی “کے نام سے تقریبا ۰۰۸ صفحات پر ایک وثیقہ لکھ دیا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے نشان راہ ثابت ہوگا۔ اس کام میں مصنف عارف اقبال کو کس طرح جوئے شیر لانا ہوا ہوگا اور کن کن دشوار گزار مراحل سے گزرنا ہوگا اس کا احساس اہل نظر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بجا طور پر اپنی دشواریوں کا ذکر کیا ہے اور موجودہ دور میں بعض علمائے کرام کی روش کی شکایت بھی بجا طور پر کی ہے جو اپنے علاوہ دوسروں کو اٹھتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں خواہ اس سے ملت کا کتنا بڑا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔
                عارف اقبال کا تعلق دربھنگہ شہر سے ہے اور ابتدائی دینی تعلیم، تکمیل حفظ قرآن اورصحافت کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد صحافت کے شعبہ میں قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ اس کتاب کی تصنیف سے ان کے دینی رجحان کا پتہ چلتا ہے ۔مصنف اس نوعمری میں جس خار دار وادی میں قدم رکھ کر بہ آسانی گزر گئے ہیں وہ ان کے تابناک مستقبل کا اشاریہ ہے۔
                سوانح نگاری تاریخ اور ادب کے درمیان کی ایک چیز ہے جس میں وہ تمام باتیں لائی جاتی ہیں جو دلچسپی کا باعث ہوں اور جن سے شخصیت کی تعمیر اور اس کی مکمل تصویر بنانے میں مدد ملے۔ اس میں سطحی واقعات اور ظاہری حالات بیان کردینے سے زیادہ باطنی کیفیت ، نفسیاتی حالت، ذہنی ارتقا ، رجحانات اور خوبیاں وکمزوریاں دکھانی پڑتی ہے جس سے اس کی فطری زندگی کا عکس ظاہر ہوسکے۔ اس اعتبار سے بھی یہ کتاب انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور انہوں نے اس منزل کو پانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جس میں بڑی حد تک وہ کامیاب بھی ہوئے ہیں۔
                کتاب کی شروعات مختلف میدانوں سے تعلق رکھنے۸۳ افراد کے تاثرات سے ہوتی ہے جو مختلف عناوین کے تحت پیش کئے گئے ہیں جن سے مولانا کی مقبولیت اور ہر دلعزیزی کا اندازہ ہوتا ہے۔ کتاب کے پہلے باب میں سوالات کا گوشہ ہے جس میں مصنف نے بعض چبھتے ہوئے بھی سوالات کئے ہیں۔ اس سے مصنف کی حوصلہ مندی کا ثبوت ملتا ہے۔ ان سوالات سے چند معاملات میں امارت کے تئیں عوام کے شبہات کا ازالہ ہوتا ہے۔اس سے محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کی نظر کتنی گہری ہے وہ امارات اور دینی تنظیموں کی سرگرمیوں پر کتنی باریک نظر رکھتے ہیں۔اس سلسلہ میں عوامی رائے کیا آرہی ہے اور عوامی حلقہ میں اس سلسلہ میں کیا ہلچل ہے اس کا بھی انہیں خوب احساس ہے۔ دوسرے باب میں سوانحی خاکہ پیش کیا گیا ہے لیکن اس کی پیشکش مربوط نہیں ہوسکی ہے جس سے ان کی مجموعی زندگی کے اظہار میں قدرے ربط کی کمی نظر آتی ہے۔ تیسرے باب میں مصنف نے ان کی تدریسی زندگی بحیثیت معلم کے نام سے پیش کی ہے جس میں ان کے تدریس کا انداز، زیر تدریس کتابیں، طلبہ کے ساتھ تعلقات نامور تلامذہ وغیرہ کی معلومات دی ہے۔ یہ بڑا دلچسپ اور مربوط باب ہے اور اس میدان میں مولانا سید نظام الدین کی اس میدان کی فنکاری پر اچھی نظر ڈالی گئی ہے جو پیشہ تدریس سے وابستہ افراد کے لیے بھی بڑے کام کی چیز ہے۔ چوتھے باب کی شروعات امارت شرعیہ کے تفصیلی تعارف سے کی گئی ہے اور اس کے بعدمولانا کی امارت سے وابستگی کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یہاں پر امارت شرعیہ کی تاریخ اور اس کے میدان کار کی تفصیلات پیش کرنے کی وجہ سے مولانا کی شخصیت کی عکاسی کے تسلسل میں کمی واقع ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بہتر ہوتا کہ امارت کا تعارف کسی علاحدہ مقام پر کردیا جاتا۔ اسی باب میںامارت میں مولانا کا بحیثیت ناظم انتخاب اور اس مدت میں مولانا کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔خدمات کی تفصیل سے ملک میں رونما ہونے والے مختلف واقعات وحادثات اور ان میں مسلمانوں کی کسمپرسی کا اندازہ ہوتا ہے ۔اسی طرح پانچویں باب کی شروعات امیر اول کے انتخاب میں مولانا آزاد کی شرکت سے کیا گیا ہے اور پھر تمام امرا کے ادوار پر روشنی ڈالنے کے بعد امیر سادس کے انتخاب کا ذکر ہوتا ہے۔ یہاں بھی تسلسل ذرا کمزور ہوا ہے۔ اس کے بعد چھٹا باب خدمت خلق کے نام سے شروع ہوتا ہے۔ حالانکہ یہاں باب بدلنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ یہ مولانا کی امارتی زندگی کا حصہ ہے ۔ البتہ اس باب اس مدت میں ملک بھر کے فسادات اور دیگر ناخو شگوار واقعات کی تفصیل وتاریخ ہے ۔ اس باب کے مطالعہ سے ظاہرہوتا ہے کہ ملت اسلامیہ پرجب جب برے دن آئے ہیں تو امارت شرعیہ ان کے لیے کس طرح ڈھال بن کر کھڑی ہوئی ہے اور ان کے غم میں شریک ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے یہ بہت ہی اہم باب ہے۔ آٹھویں باب میں مولانا کی سرپرستی میں چلنے والے تقریبا ۷۱ اداروں کی تفصیل ہے ۔ اس حوالہ سے مدارس اور دینی ادارے کی اچھی تاریخ مرتب ہوگئی ہے۔ نواں اور دسواں باب مولانا نظام الدین کے ذہن وفکر اور ان کے عہد بہ عہد ارتقا کو سمجھنے کا بہت اہم ذریعہ ہے۔ اس باب میں مولانا کے زمانہ طالب علمی سے لے کر حال تک مضامین اور خطوط اکٹھا کئے گئے ہیں۔ اسی میں مولانا کے نام آئے ہوئے خطوط بھی ہیں۔ مصنف نے بڑی جانفشانی کے ساتھ نہ صرف خطوط کے مضامین جمع کئے ہیں بلکہ خطوط کے عکس بھی دیئے ہیں اور دسویں باب میں مسلم پرسنل لاءبورڈ سے شائع ہونے والے خبر نامہ کے وہ اداریے بھی مصنف نے شامل کئے ہیں جو مولانا موصوف مختلف مواقع پر لکھتے رہے ہیں۔اس طرح بکھرے ہوئے تاروں کو جمع کرکے مصنف نے ایک کہکشاں ترتیب دے دی ہے۔ اس جمع وترتیب میں مصنف کو سخت محنت کرنی پڑی ہوگی ۔ گیارہویں باب میں مولانا کے ہشت پہلو زندگی کے ایک اور رنگ کو پیش کیا گیا ہے اور یہ عقدہ کھلا ہے کہ مولانا جس طرح اچھے عالم دین ہیں ویسے ہی اچھے شاعر وادیب بھی ہیں اور اردو شاعری کے کئی اصناف پر قادر ہیں۔ آپ کی شاعری اسلامی فکر کا عمدہ نمونہ معلوم ہوتی ہے۔ بارہویں باب میں کہتی ہے خلق خدا کے تحت ایک ذیلی باب میں” رجال کار کی تلاش اور افراد سازی “کے عنوان سے مولانا کی ایسی ہنر مندی اور ان کی نگاہ دور بیں کا تذکرہ کیا گیا ہے اوران ۴۱ شخصیتوں کا تفصیل سے ذکر ہے جو محترم شخصیات ہیں اور جن کی شخصیت کی تعمیر میں مولانا کی نگاہ دور بیں اور دست شفقت کا اہم رول رہا ہے۔ ان کے علاوہ ۲۶ افراد کے مزید نام شمار کرائے گئے ہیں جن کی تعمیر مولانا کی رہین منت رہی ہے۔ ان ۴۱ اشخاص کے ذریعہ مولانا کی خوبیوں کا ذکر کر اکے اس ذیلی مضمون کو باب سے جوڑ نے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالانکہ یہ مضمون اس باب میں کھٹکتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ ۳ مضامین میں مولانا کے رفقائے امارت، اہل علم، شعرا وادبا کی نگاہ میں مولانا قدر ومنزلت کا بیان ہے۔ اس کے بعد مصنف چونکہ صحافی ہیں اس لیے اس کتاب میں اپنے پیشہ ورانہ ذوق کا ثبوت دیتے ہوئے مختلف اخباروں کے تراشے لگائے ہیں جن میں تصویروں اور خبروں کے ذریعہ مولانا کی سرگرمی ظاہر ہوتی ہے۔ حالانکہ جس طرح تصویروں عکس لگائے گئے ہیں وہ دینی ومذہبی اداروں میں غیر محمود سمجھتے جاتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ پیشہ ورانہ انہماک نے انہیں اس کا احساس نہیں ہونے دیا ہے۔
                اس طرح یہ کتاب مولانا کی شخصیت کے نقوش ابھارنے کے ساتھ ساتھ تقریبا نصف صدی سے زائد عرصہ پر محیط بہار، جھارکھنڈ اور اڑیسہ وغیرہ پر مشتمل مدارس، دینی اداروں، مذہبی تنظیموں کی مکمل تاریخ بن گئی ہے۔ جو لوگ ہندوستانی مسلمانوں کے حالات سے واقف ہونا چاہتے ہیں ان کے لیے بھی یہ کتاب اس مدت میں ہندوستانی مسلمانوں کے حالات کا مظہر بنے گی ۔ان مجموعی خصوصیات کے باعث خود مصنف کی زندگی کا یہ ناقابل فراموش کارنامہ ثابت ہوگا۔
                کتاب کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر بعض کمزوریوں کو چھوڑ دیا جائے، جو عارف اقبال کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے در آئی ہیں، تو کتاب بہت عمدہ ہے اور مولانا نظام الدین کی پوری زندگی کا احاطہ کرنے میں کامیاب ہے۔ کتاب کے مشمولات میں مولانا کے ذہن وفکراورشخصیت کی تعمیر اور عہد بہ عہد ارتقا کو سمیٹنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ کتاب بڑی حد تک دلچسپ ہے۔ بعض مشمولات کی جگہ مناسب نہیں ہونے کے وجہ سے ذوق کو گراں ضرور گزرتا ہے لیکن ایک تو مولانا کی شخصیت پر پہلی کتاب ہے اور خود مصنف نے بھی پہلی بار اس وادی میں قدم رکھا ہے اور پہلے مرحلہ میں اتنی ضخیم کتابیں لکھی ہے اس لیے توقع کی جاتی ہے بعض فر وگذاشت کو اہل ذوق نظر انداز کریں گے۔ دوسری بات یہ ہے خود امارت سے بڑی بڑی شخصیتوں کی وابستگی رہی ہے لیکن عجیب اتفاق ہے کہ ان میں مولانا پہلی شخصیت ہیں جن پر کوئی کام ہوسکا ہے اور اتنا اچھا کام ہواہے۔
                راقم نے محسوس کیا کہ مصنف نے کتاب کی تحریر میں بڑے حوصلہ سے کام لیا ہے اور مولانا کی زندگی میں پیش آنے والی بعض ایسی دشواریوں کابھی ذکر کیا ہے جو چند محترم شخصیتوں کے لیے سخت ناگواری کا باعث تو بن سکتا ہے لیکن اس کا اظہار اس لیے ضروری ہے کہ آنے والی نسلوں کو یہ باور ہوسکے کہ تنظیمی زندگی میں کن کن مراحل گزرنا اور انہیں انگیز کرنا پڑتا ہے اور کارواں کو ساتھ لے چلنے کے لیے کس کس طرح خوئے دلنوزای کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ منزل مقصود تک پہنچاجاسکے۔ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہوئے ہیں جو میر کارواں کی صلاحیت رکھنے کے باوجود خوئے دلنوازی کی کمی وجہ سے راہرو کو ساتھ لے کر نہیں چل سکے اور اس صورتحال کے مصداق بن گئے:
کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سے
کہ میر کارواں میں نہیں خوئے دلنوازی

                البتہ ایک اور کمی جو اس کتاب میں محسوس کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح عام طور پر مذہبی شخصیات پر لکھنے والوں کا قلم عقیدت مندی میں ممدوح کو انسان سے زیادہ فرشتہ بنادیا کرتا ہے اس میں عارف اقبال بھی ناکام ہوتے نظر آتے ہیں اور ممدوح کی کمزوریوں سے پردہ نہیں اٹھاسکے۔ چونکہ مولانا بھی انسان ہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے اس لیے ان کا یکسر انکار ممکن نہیں ہے۔ مصنف اس خار دار وادی سے گزرنے کا حوصلہ بھی جٹالیتے تو یہ کتاب فنی اعتبار سے اور بھی اچھی سمجھی جاتی۔ لیکن یہ ایسا مرحلہ ہے جس پر سے گزرنے میںا چھے اچھوں کی پالکی رکھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ مصنف نے ان کی کمزوریوں کا ذکر کر کے اس کی بے جا تعبیر نہیں کی ہے جو عام طور پر سوانحی کتابوں کی کمزوری ہوا کرتی ہے۔ اس طرح وہ ایک بڑے الزام سے بچ گئے ہیں جس کے لیے راقم کی بھی انہیں مبارکباد ہے۔
                امید کی جاتی ہے کہ اس کتاب سے مولانا کی شخصیت آنے والی نسلوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ان کے لیے بھی، جو مولانا کو نزدیک سے جانتے ہوئے بھی وہ سب نہیں جانتے جن کا اس کتاب میں احاطہ کیا ہے ، مولانا کو جاننے کا ذریعہ بنے گی اور اس کے علاوہ ہندوستانی مسلمانوں کی عظیم شخصیتوں کی تاریخ مرتب کرنے میں ممد ومعاون ہوگی۔ کتاب پڑھنے کے بعد اقبال کا یہ شعر مولانا پر سراپا صادق ہوتا نظر آتا ہے۔
نگہ بلند ، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہیں رخت سفر میر کارواں کے لیے

٭٭٭

No comments: