مشمولات

Tuesday, 15 March 2016

خط

از دربھنگہ                                                                                                                                                                بتاریخ: ۱۵؍ مارچ ۲۰۱۶
مکرمی!
روزنامہ پندار کے۱۵ مارچ ۲۰۱۶کے شمارے میں صفحہ نمبر ۵ پر محترم محمد جسیم احمد صاحب کا گراں قدر مضمون”بچوں کے قاتل“ پڑھنے کو ملا۔ جس سے ملت کے بچوں تئیں ان کی درد مندی کا احساس ہوا۔ مگر موصوف نے اس مضمون کے ذریعہ علمی بددیانتی سے کام لیا ہے۔ وہ بد دیانتی یہ ہے کہ یہ مضمون موصوف کا سرے سے ہے نہیں بلکہ دربھنگہ سے نکلنے والے دینی وعلمی رسالے پندرہ روزہ الہدیٰ کے مدیر شکیل احمد سلفی کا ہے اور کئی سال قبل ریاست اور ملک وبیرون ملک سے شائع ہونے والے کئی اخبارات ورسائل میں اسی عنوان سے جگہ پاچکا ہے۔ جس پر موصوف محمد جسیم احمد نے بلا استحقاق دعوی کردیا ہے۔ موصوف نے مضمون کو اپنا بنانے کے لیے درمیان میں صرف چار سطر کچھ بات بنانے کی کوشش کی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے یہ مضمون ان کا نہیں ہوجائے گا۔ اگر عنوان بدل کر بھی اس بددیانتی کا ارتکاب کرتے تو بھی یہ مضمون ان کا نہیں ہوتا۔ موصوف کو اس طرح کی علمی بددیانتی سے گریز کرنا چاہئے ۔مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے مضمون کو کمپوز کرنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی بلکہ کویت سے نکلنے والے آن لائن رسالے ماہنامہ مصباح سے ۱۵ اکتوبر ۲۰۱۲ سے کاپی کرلیا ہے۔ جس کو یو آر ایل پر دیکھا بھی جاسکتا ہے۔ http://www.misbahmagazine.com/archives/1486۔ جناب محمد جسیم احمد کو میرا مشورہ ہے کہ اگر انہیں چھپنے چھپانے کا شوق ہے تو مطالعہ کریں اور کسی پڑھی لکھی شخصیت کی صحبت اختیار کرکے قلم پکڑنے کا سلیقہ سیکھیں۔ کیونکہ اگر دوسروں کو مضمون کو اپنا بنانے کی عادت پڑگئی تو ممکن ہے کہ بزعم خود وہ اپنے آپ کو مضمون نگار سمجھنے لگیں مگر ان کی حیثیت اولاد نہ ہونے کی صورت میں دوسرے کے بچے کو گود لینے والے کی ہی رہ جائے گی اور لاکھ سر مارنے کے باوجود کسی سے مانگ کر یا چراکر ہی اولاد میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
شجاع غطریف
دربھنگہ
نوٹ: یہ خط  میرے بیٹے شجاع غطریف کے نام سے لکھا گیا ہے۔ 

Monday, 7 March 2016

خط بنام فطین اشرف

محترم فطین اشرف صدیقی صاحب                                        السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
                        امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوگا۔
                        بھی چند گھنٹوں پہلے جناب طرزی صاحب کے معرفت آپ کا پہلا مجموعہ کلام نسخہ ہائے درد دل موصول ہوا۔ مجموعے کی اشاعت پر تہِ دل سے مبارکباد قبول فرمائیں۔ جناب طرزی صاحب کی رہائش گاہ پر ایک مختصر سی شعری محفل میں آپ سے آپ کا کلام سننے کا موقع ملا تھا۔ آج پورا مجموعہ کلام نہ صرف دیکھنے کو ملا بلکہ میرے علمی سرمایہ کا حصہ بھی بنا۔ کتاب ہاتھ لگتے ہی شوق نے اسے نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔ بڑی حد تک کلام کا مطالعہ کیا اور آپ کی شاعری پر اظہار خیال کئے گئے مضامین کو بھی پڑھنے کا موقع ملا۔ کتاب کے مطالعے کے دوران ذہن میں کئی نکات آتے گئے تو میں نے اس کو تبصرے کی شکل دے دی جو ابھی حاضر ہے۔ سال ۲۰۱۵ اپنے آخری پڑاؤپر ہے اور نیا سال دستک دے رہا ہے اور میں تبصرہ لکھ کر یہ چند سطریں تحریر کرتے ہوئے آپ سے محو گفتگو ہوں۔۲۰۱۵ کی یہ میری آخری تحریر ہوگی۔
                                                                                                والسلام
                                                                                                                                    آپ کا مخلص
                                                                                                                                    احتشام الحق

                        ۳۱ دسمبر ۲۰۱۵