مشمولات

Monday, 13 February 2017

مہسول چوک سیتامڑھی جامع مسجد اہل حدیث

مہسول چوک سیتامڑھی جامع مسجد اہل حدیث
ہمدردوں سے ایک اپیل
سیتامڑھی مہسول چوک کی جامع مسجد اہل حدیث میں جو واقعہ پیش آیا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسجد کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ انسان کے ساتھ جو برائیاں پیش آتی ہیں وہ ان کی اپنی بد اعمالیوں کا نتیجہ بھی ہوتی ہیں۔ اس لیے جب انسان کو کوئی برائی پہنچے تو دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے اپنا بھی احتساب کرنا چاہئے۔ ممکن ہے اس میں اپنی بھی غلطی نظر آنے لگے۔ مسجد کے سلسلے میں بعض افراد اپنے اپنے طور پر درد مندی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان تمام لوگوں کے جذبات قابل قدر ہیں۔ لیکن ان میں بعض حضرات کی تحریروں میں جذبات اور اشتعال پایا جارہا ہے جو ناروا ہے۔ اس کو کسی طرح بھی درست نہیں کہا جاسکتا ہے۔ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا بالکل یہ دین اور انسانیت کے خلاف ہے۔
اب تقریبا تمام لوگوں کے سامنے یہ بات آشکار ہوچکی ہے کہ اس مسجد میں جو لوگ ملوث ہیں ان کا مسلک سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے مسلک کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک وقف (حاجی علی جان وقف اسٹیٹ) کی زمین پر قبضہ کر کے گھر بنالیا ہے اور اس کو بچانے کے لیے مسجد اہل حدیث کو اس وقف کی جائیداد بتانے کی سازش کر رہے ہیں تاکہ ان کا گھر بچ جائے۔ جبکہ اگر بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ مسجد اہل حدیث حاجی علی جان وقف کی جائیداد ہے تو مسجد اہل حدیث بھی ایک وقف ہے اس کی جائیداد کہاں ہیں۔
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے مذہب، دین، مسلک، ذات اور زبان کوئی چیز نہیں ہوتی ہے ۔ یہ دین ومذہب کے تاجر ہوتے ہیں جو مذہب اور مسلک کے نام پر پوری جماعت اور قوم کو رسوا و ذلیل کرتے ہیں۔ چونکہ مذہب اور مسلک وغیرہ ایسے تعصبات ہیں جن میں عوام کالانعام کا کیا کہنا اچھے اچھے لوگ پھسل جاتے ہیں۔ ذہن پر پردہ پڑجاتا ہے اور ناحق کو بھی حق بنانے کے لیے بہت سی تاویلیں پیش کرنے لگتے ہیں۔لیکن اس کا ہرگز مطلب نہیں ہے کہ ایسے ذاتی مفاد کے معاملے میں جس میں ایک شخص یا چند افراد ملوث ہیں پوری پوری جماعت کو مورد الزام ٹھہرایا جائے اور ان کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کئے جائیں۔ اس کی مذہب اجازت دیتا ہے اور نہ مسلک۔ مسلک کا سہارا لینے کی وجہ سے بعض لوگوں کی ہمدردی بھی ایسے مفاد پرستوں کو ضرور حاصل ہوگئی ہے۔ اس بنیاد پر ایسی ہمدردی دینے والے لوگوں کو بھی سب وشتم کا نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔ یہ ایک مسلمان کی بھی صفت نہیں ہے کہ وہ غصے میں کچھ بھی بولنے لگے۔ عیش میں یاد خدا نہ رہی اور طیش میں خوف خدا نہ رہا۔
مسجد کے ہمدردوں کو دلبرداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمام جماعت اور مسالک میں اہل انصاف حضرات کی بھی کمی نہیں ہے۔ مسجد کے بہی خواہوں کو چاہیے کہ وہ مسجد کے حقائق سے لوگوں کو واقف کرائیں اور جو لوگ ذاتی طور پر اس میں ملوث ان کے ذاتی مفاد کو واضح کریں۔
وہ بھی ایسے الفاظ میں نہیں جس سے انتشار کو ہوا ملے۔ الفاظ ایسے نہ استعمال کئے جائیں جن سے ان قابضوں کو لوگوں کی ہمدردی مل سکے۔جب لوگ حقائق سے واقف ہوجائیں گے تو وہ بھی آپ کی مدد کے لیے کھڑے ہوں گے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو آپ کی مسلک سے تعلق نہیں رکھتے ہیں مگر وہ اس معاملے میں ذہنی طور پر آپ کے ساتھ ہیں۔ چونکہ جن لوگوں نے معاملہ کیا ہے شریف لوگ ان سے منہ نہیں لگانا چاہتے اس لیے کھل کر سامنے نہیں آرہے ہیں۔ آپ اپنی اشتعال انگیز باتوں سے ایسے لوگوں کو بھی برانگیختہ کردیں گے۔

اس معاملے میں جب جذباتی باتوں کا اظہار کیا جائے گا تو مفاد پرست لوگ اس کا بھی ناجائز فائدہ اٹھائیں گے اور پولیس انتظامیہ کی سرپرستی حاصل کریں گے۔ ایسے بھی ہمارے ملک میں جہاں اچھے اور انصاف پسند افسران ہیں وہیں بدعنوان افسران کی بھی کمی نہیں ہے۔ پیسے پر کچھ بھی کرجاتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ موقع سے مسلم افسران تعینات ہوتے ہیں ۔یہ لوگ بھی مذہب، مسلک اور ذات قسم کے تعصبات کی بنیاد پر پشت پناہی کرکے معاملے کو ہوا دے دیتے ہیں۔ ان سب کے باوجود ایسے حالات میں صبر وتحمل کا ثبوت پیش کرنا چاہئے اور جذبات کی رو میں نہیں بہنا چاہئے۔ نہ اس جماعت کے عوام اور پوری جماعت کے ساتھ غلط الفاظ استعمال کئے جائیں اور نہ دھمکی جیسی باتیں ہونی چاہئے۔ یوں بھی مذاہب اور مسالک کا تعصب دیر سے ختم ہوتا ہے۔تمام بہی خواہان قوت برداشت کا ثبوت دیں۔ اگر اللہ نے چاہا تو اس مسجد کی بازیافت ہو جائے گی۔ اور اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے یہ مسجد نہ ملی تو بہت ممکن ہے اسی مقام پر اس سے بہتر مسجد آپ کی بن جائے اور غاصب اللہ اور بندے دونوں کے نزدیک تا حیات ذلیل ہوتا رہے۔ اس میں اہل انصاف دوسرے مسالک کے لوگ مدد کریں۔
خیال رہے کہ مولوی عبد اللہ دیورا بندھولی کے باشندے تھے۔ جب یہ اہل حدیث ہوگئے تو انہوں نے اپنے والد کو بعض خرافات سے منع کیا۔ ان کے دروازے پر تعزیے بنتے تھے۔ اس سے منع کیا۔ باپ بیٹے میں اختلافات بڑھتے چلے گئے۔ ان کے والد نے ایک دن غصے میں کہا کہ میں تمہیں عاق کردوں گا۔ انہوں نے اپنے والد سے شائستگی کے ساتھ کہا کہ آپ مجھے کیوں عاق کریں گے۔ میں خود ہی آپ کی وراثت سے دست بردار ہوتا ہوں۔مولوی عبد اللہ مولانا عبد العزیز محدث رحیم آبادی کے معتمد خاص تھے۔ ادھر  مولانا عبد العزیز محدث رحیم آبادی نے انہیں سیتامڑھی منتقل ہونے کا مشورہ دیا تاکہ ایک مرکز  قائم ہوجائے اور اس علاقے کے لوگوں کے درمیان تبلیغ کی جائے۔ مولوی عبد اللہ سیتا مڑھی منتقل ہوگئے۔ مولانا کے مشورے پر ہی انہوں نے چمڑے کا کاروبار شروع کردیا۔ اللہ نے اس تجارت میں بڑی برکت دی اور اس سے سیتا مڑھی میں بہت بڑی اراضی خریدی۔ آپ نے وہاں مہسول چوک میں مسجد بھی تعمیر کرائی جو آپ کی تولیت میں رہی۔ آپ کے بعد آپ بیٹے محمد جابر اس کے متولی ہوئے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے ابو اللیث عرف کالو بابو اس کے متولی رہے۔مولوی عبد اللہ کے ذریعہ مسجد کے قیام سے لے کر ۳؍ دسمبر ۲۰۱۶ کی عشاء کی نماز کے وقت تک اس مسجد کے  امام و مؤذن اہل حدیث رہے اور اس میں اہل حدیث طریقے کے مطابق اذان و نماز کی ادائیگی ہوتی رہی تھی۔
 کالو بڑے بے نیاز قسم کے انسان تھے۔ مولوی عبد اللہ نے سخاوت کی جو بنیاد ڈالی تھی اس کو ان کے بیٹے اور پوتے نے بھی قائم رکھا۔ آپ کا دسترخوان بڑا وسیع تھا۔ ابو اللیث صاحب کے دستر خوان پر ہمیشہ لوگ رہتے تھے۔ وہ مہمانوں کی خوب ضیافت کرتے تھے۔ انہوں نے مہمانوں کی ضیافت میں نہ جانے کتنی اراضی بیچ دی۔ الغرض ابو اللیث صاحب کو اولاد نرینہ نہیں تھی۔ انہوں نے اپنی وفات سے قبل اس کا ذمہ دار عبد المنان رومی کو بنادیا۔ گذشتہ ۳؍ دسمبر ۲۰۱۶ کو مہسول چوک باشندگان دیوبندی جماعت کے لوگوں نے رات کو اس مسجد کے امام مولوی عظیم الدین رضوی اور نائب امام مولوی کمال عمری کو زد وکوب کرتے ہوئے مسجد سے بے دخل کردیا۔ واقعے کی خبر پاکر صوبائی جمعیۃ اہل حدیث کے صدر مولانا خورشید عالم مدنی، ناظم مولانا محمد علی مدنی، دربھنگہ سے الہدیٰ کے مدیراور کالو بابو کے قریبی رشتہ دار مولانا شکیل سلفی، دار العلوم احمدیہ سلفیہ کے جوائنٹ سکریٹری اسمعیل خرم، جامعہ ابن تیمیہ کے نائب رئیس مولانا ارشد فہیم الدین سلفی وغیرہ وہاں پہنچے اور مشتعل لوگوں سے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا اور ایک وفد امارت شرعیہ کے ناظم مولانا انیس الرحمن قاسمی سے ملنے کی بات طے ہوئی تاکہ وہ امارت اپنی جماعت کے لوگوں سے بات کر کے مسجد حوالے کردے اور کسی طرح کی کوئی ہنگامہ آرائی نہیں ہو۔ مشورے کے مطابق وفد مولانا انیس الرحمن قاسمی سے ملا ۔ ایک اطلاع کے مطابق مولانا نے اپنا نمائندہ وہاں بھیجا ۔ لیکن ۳ دسمبر کی شب مسجد پر قبضہ کرنے والوے دیوبندی مسلک کے لوگوں نے ان کی بات بھی نہیں مانی۔ مولانا انیس الرحمن نے اسے مقامی معاملہ کہتے ہوئے اہل حدیثوں کے وفد کو مقامی طور پر حل کرانے کی بات کہی۔ ادھر مسجد کی بازیابی میں تاخیر ہوتا دیکھ کر ذمہ داروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور لوگوں نے علاقہ کے لوگوں کو مدد کرنے کو کہا۔۴؍ فروری کو ۲۰۱۷ لوگ وہاں جمع ہوئے اور مسجد کی بازیابی کی کوشش کی۔ لیکن مقامی لوگوں نے اسے مسلکی جنگ کا رخ دے دیا۔ اس موقع پر سیتامڑھی ڈی ڈی سی عبد الرحمن جو تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں انہوں نے بھی قابض لوگوں کی پشت پناہی کی۔
جانکاروں کا کہنا ہے کہ مسجد سے متصل سڑک کی دوسری جانب حاجی علی جان ایک وقف کی جائیداد ہے جس پر قبضہ ہوچکا ہے اور قابض لوگ اپنا گھر بنا چکے ہیں۔ قابض لوگوں نے اس زمین کو بچانے کے لیے اس مسجد کو حاجی علی جان وقف کی جائیداد بتاکر مسجد کی زمین کو متنازعہ بنادیا اور اس پر قبضہ کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔ بعد میں قابض لوگوں نے علاقہ میں جھوٹ پر مبنی پرچے بانٹ کر مسلکی بنیادوں پر لوگوں کو متحد کرتے رہے۔ تادم تحریر مسجد کی بازیابی کی کوشش جاری ہے اور قابض لوگ اس مسجد پر ناجائز قبضہ بنائے ہوئے ہیں۔ جو لوگ معاملے کو متنازعہ بنائے ہوئے وہ ایک ہی خاندان کے بتائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر لوگ وہ ہیں جو کالو بابو کے دستر خوان سے فیضیاب ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے ان کے زمانے تک یہ بات کہنے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد موقع دیکھ کر حملہ کردیا اور مسجد پر ناجائز قبضہ کرلیا۔
تادم تحریر مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔

۱۳؍ جنوری ۲۰۱۷
عاق کرنے کے واقعے کی بات مولوی عبد اللہ کی پوتی منور جہاں (بے بی) زوجہ پروفیسر منصور عمر نے راقم سے خود کہی تھی۔ 

No comments: