مشمولات

Friday, 27 October 2017

یوم سرسید اور قوم سرسید


یوم سرسید اور قوم سرسید

آج دنیا بھر میں یوم سرسید منایا جا رہا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ ہم اپنے اسلاف اور ان کی خدمات کو یاد کر رہے ہیں۔ اس سے ہماری نئی نسل کو بھی اپنے اسلاف سے واقف ہونے کا موقع ملے گا۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب نئی ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال سے ہماری نئی نسل ہی نہیں وہ نسل بھی جو کتابوں کے درمیان اور کتابوں کے ذریعہ بڑی ہوئی ہے   کتابوں سے بےگانہ ہوئی جا رہی ہے۔ ان حالات میں ایسے پروگرام یقیناً غنیمت ہیں جن کے ذریعہ ہم اسے بٹھا کر کچھ بھولی بسری کہانیاں سنائیں اور اسے بتاسکیں کہ ہم آج جو کچھ ہیں اس کا ماضی کیسا تھا اور کن حالات سے گزر کر ہم کو یہ منزل ملی ہے۔ وہ قومیں جو اپنی تاریخ کو انمٹ نقش اور ناقابل فراموش یاد گار بنانے کا ہنر اور اس کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں دنیائے ہستی سے  تو نابود  ہو ہی جاتی ہیں تاریخ میں بھی ان کے لیے کوئی مقام نہیں رہتا ۔ سرسید احمد خاں ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ کا ایسا سنگ میل ہے جو اگر گرد و غبار کے نیچے دب گیا تو سمجھ لیجئے کہ ہماری تاریخ بھی گرد و غبار میں لپٹ چکی ہے۔
اپنے محسنین اور اسلاف کو یاد کرنا قابل تحسین عمل ہے۔ اگر ہم اس کو تذکرہ برائے تذکرہ تک محدود رکھنا اور محض تفاخر کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں تو اس کی حیثیت صرف ’’رفت گیا اور بود تھا‘‘ یا ’’پدرم سلطان بود‘‘ کی ہوگی۔ یہ ایک سیاست، ایک تفریح ایک رسم تو ہوسکتی ہے اپنے محسن کو یاد رکھنے کا سچا جذبہ نہیں ہوسکتا ہے۔سچا جذبہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم ان اقدام اور ایسے عملوں کو اپنے مسائل کے حل کا ذریعہ بنائیں جن کے ذریعہ ان محسنان اور خادمان قوم نے اپنے وقت کے مسائل کا حل تلاش کیا۔ اس وقت اس کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے جب مسائل اور حالات ویسے ہی ہوں جیسے حالات اس محسن اور خادم کے وقت میں تھے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی جو محض ایک تاجر کی حیثیت سے یہاں آئی تھی اور پیر پھیلاتے ہوئے حاکم بن رہی تھی اس کے خلاف ۱۸۵۷ میں میرٹھ کی چھاؤنی سے اٹھنے والی مزاحمت نے ملک گیر سطح پر انگریزوں کے خلاف نفرت  و عداوت کا نہ صرف احساس کرایا بلکہ بہت مختصر مدت کے لیے ہی صحیح انگریزوں کے ہوش اڑا دئیے تھے۔ جب انگریزوں نے ان حالات کو انگیز کرنے کے بعد مضبوط حیثیت بنا لی  اور ان کی حکومت ملک پر ثابت و سالم ہو گئی  تو اس کو بغاوت کا نام دیتے ہوئے اس کا بدلہ سب سے زیادہ مسلمانوں سے لینے کی کوشش کی ۔ جبکہ تاریخ داں حضرات جانتے ہیں  کہ آزاد فضا میں سانس لینے کی اس مزاحمت میں ہندو اور مسلمان دونوں  شریک تھے۔ جب انگریزوں کے قدم ملک میں جم گئے تو کہہ لینے دیجئے کہ برادران وطن کے ایک بڑے طبقے نے مصالحت کا رویہ اختیار کر لیا۔ انگریزوں کی لائی ہوئی نئی روشنی اور جدید تعلیم کو حاصل کرتے ہوئے خود کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور جس رخ پر ہوا بہہ رہی تھی اس پر خود کو  ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے حکومت میں منصب اور قدر و منزلت کی جگہیں حاصل کرلیں۔ نشان خاطر رہے کہ اس سے قبل بھی جب مغلیہ سلطنت  اور  مسلم حکومتیں برسر  اقتدار  رہیں برادران وطن جدید اور متقاضی تعلیم کے ذریعہ حکومت کے اعلی عہدوں پر جگہ بناتے رہے تھے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا بڑا طبقہ انگریزوں کا مخالف رہا۔ مخالفت اور دشمنی کا یہ حال تھا کہ انگریز  اپنے ساتھ جو نئی روشنی، نیا علم  اور جدید ترین تحقیقات و ایجادات کی برکت لائے تھے ان کے حصول اور ان  کی تعلیم سے نہ صرف خود کو الگ رکھا بلکہ ان کو  کفر و شرک سے بھی تعبیر کیا گیا۔
سرسید جو اپنے کیریئر کے اعتبار سے کامیاب زندگی گزار رہے تھے اور کہئے کہ ’’بابو اور حاکم ‘‘ تھے، ایسے حالات میں ان کے دل کی دنیا بدل گئی اور گوشۂ عافیت میں پناہ گزیں ہونے کی بجائے مشکل پسند زندگی کو ترجیح دی اور اپنی قوم کو جو انگریزی عتاب کا نشانہ بن رہی تھی بھنور سے نکالنے کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے بیماری کی تشخیص کی اور اس کا علاج بھی تلاش کیا اور جو علاج اور دوائیں انہوں نے تلاش کیں ایک سچے ہم درد کی طرح اس کو مریض کو دینے  اور بوقت ضرورت زبردستی پلانے کی خود کوشش کی تاکہ مریض بیماری کی گرفت سے نکل سکے۔ حالانکہ جہاں وہ تھے اس میں زندگی بڑی شان کی گزر سکتی تھی۔
موجودہ حالات کا اگر ہم مشاہدہ کریں تو بہت سے امور میں یکسانیت اور مشابہت نظر آئے گی۔ سرسید نے جو خواب دیکھا تو اور جس کی تعبیر کے لیے انہوں نے اقدام کیا تھا اس کی مکمل تعبیر اب بھی ہمارے سامنے نہیں آسکی ہے۔ آج   اگر ہم یوم سرسید منا رہے ہیں تو موجودہ تناظر میں ہمیں ان ماڈل اور نمونوں کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے جن پر چل کر سرسید نے بیماری کا علاج تلاش کیا تھا اور اپنی قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن  کرنے کی مخلصانہ کوشش کی تھی۔
سرسید کا وہ عہد ایک طرح  کی بے عملی اور یاسیت کا دور تھا۔ ایک طبقہ گوشہ نشینی میں عافیت سمجھتا تھا تو دوسرا طبقہ جو صاحب ثروت تھا اپنے مستقبل سے بے نیاز عیش پرست ذہنیت میں مبتلا اور خوش تھا۔  یہ دونوں طرز عمل زندگی  کی جد و جہد سے فرار کی راہیں تھیں۔ سرسید نے بنیادی طور پر فکر و عمل کے اس جمود کو توڑنے کے لیے اقدام کیا ۔ فکر و عمل کا یہ جمود  امت مسلمہ میں دینی اور دنیاوی دونوں امور میں موجود  تھا۔ ایک طرف لوگ نئی روشنی کو کفر اور گمراہی سمجھ رہے تھے  تو مذہب بھی محض ایک رسم  بن کر رہ گیا تھا۔ ان حالات کو موافق بنانے کے لیے  سرسید نے اولا تو اہل اقتدار سے مصالحت کا رویہ اپنایا۔ کیونکہ ان سے مزاحم  ہو کر اپنی صلاحیتوں کی کسی ایک امر کی طرف مرکوز کرنا ممکن نہیں تھا۔ ساری طاقتیں دفع ضرر میں ہی صرف ہوتیں۔ دوسرے انہوں نے اپنی قوم کو سماجی ،سیاسی اور دیگر شعبوں میں بہتر بنانے کے لیے اپنی تمام تر توجہ حصول تعلیم کی طرف مبذول کر دی۔ پھر جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کو تمام تر ترقی کی کلید سمجھتے ہوئے اس کو حاصل کرنے کے لیے علمی و عملی طور پر اپنی انتھک کوششیں صرف  کردیں۔
جب انگریزی عتاب کا سامنا تھا تو  سرسید  نے انگریزوں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ اس مخالفت میں جس کو آپ بغاوت سمجھ رہے ہیں صرف مسلمان نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی تمام قومیں یکساں طور پر شامل تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ مخالفت بھی بغاوت نہیں تھی بلکہ جب انسان کے لیے عدم و بقا کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے  تو کشمکش حیات میں ایسی مزاحمت کا پیدا ہونا فطری ہے۔ یہ بغاوت در اصل وہی فطری عمل تھا جس کے ذمہ دار خود انگریز ہیں۔ اس طرح انہوں نے انگریزوں کی جانب سے جاری جارحیت کو کم کر کے اپنی قوم کی توجہ کو تعلیم کی طرف مبذول کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے ایسی جدید تعلیم کو قوم کی ترقی کا نسخہ تجویز کیا جو جدید ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی نقطہ نظر سے بھی ہم آہنگ ہو اور اعلی عہدوں پر فائز ہونے کی ترغیب دی۔ اس وقت بھلے ہی اعلی عہدوں پر فائز ہونے اور حکومت میں جگہ پانے کے فائدے لوگوں کو نہ نظر آئے ہوں لیکن آج اس کی اہمیت بخوبی سمجھی جارہی ہے۔ اس کو سول سروسیز کے نتائج اور دیگر محکموں میں مسلمانوں کے تناسب سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔
موجودہ حالات میں اہل اقتدار کا غیظ و غضب انگریزوں جیسا نہیں تو اس سے کچھ کم بھی نہیں ہے۔انگریزی اقتدار میں مسلمانوں کے لیے زندگی کی بقا کا مسئلہ تھا جبکہ موجودہ  وقت میں زندگی کی بقا کے ساتھ مذہبی، تہذیبی اور لسانی تشخص اور بقا کا بھی مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ گئو رکشا کے نام پر ہجومی تشدد نے اخلاق اور  پہلو خان وغیرہ سے مسلمانوں کے خون کو حلال کرنے کی جو کوشش شروع کی ہے وہ اب تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ پاکستان کی قومی زبان اردو بننے کے بعد سے ہندوستان میں اردو زبان حکومت اور عوامی دونوں سطح پر تعصب کا شکار ہوتی چلی گئی۔ مسلمانوں کی مذہبی اور تہذیبی شناخت کو ختم کرنے کے لیے مسلسل تحریکیں اور سازشیں چل رہی ہیں۔ایسے تمام امور میں خود مسلمان  بھی جذباتیت کا اظہار کر کے ملک میں مخالفین کی سیاست اور سازش کو کامیاب بنانے کا  موقع دیتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں بھی ہمیں سرسید کے فکر و عمل کو ماڈل  اور نمونہ بنانا چاہیے۔  یہ تو نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ہمیں صاحبان اقتدار سے مصالحت کرلینی چاہیے لیکن اس نکتے پر ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم کس طرح ان کی سازشوں کو ناکام بنا دیں اور ہمارا طرز عمل کیا ہو کہ ہم اپنی توجہ دفع ضرر کی بجائے ترقی کے ذرائع کے اختیار پر مرکوز رکھ سکیں۔
یہاں مسلمانوں کی جذباتیت کا ذکر ہوا تو اس سلسلے میں سرسید کا یہ عمل بھی قابل تقلید ہے کہ جب ولیم میور نے لائف آف محمد لکھ کر نبی ﷺ کی کردار کشی کی اور اسلام کا مذاق اڑایا تو  وہ  اس کے دفاع کے لیے اپنے حامیوں  اور سرفروشان نبی کے ساتھ سڑکوں پر نہیں اترے۔ ولیم میور کا پتلا نذر آتش نہیں کیا بلکہ نامساعد حالات ہونے کے باوجود انڈیا آفس کے کتب خانےا ور  برٹش میوزیم لائبریری سے مواد حاصل کرنے کے لیے لندن کا سفر کیا اور ’’خطبات احمدیہ ‘‘لکھ کر اس کا مدلل اور مسکت جواب دیا۔ جبکہ موجودہ وقت میں کسی فلم ، کسی رسالے ، کسی اخبار میں جب نبی ﷺ کی کردار کشی کی جاتی ہے تو ہم سڑکوں پر اتر کر احتجاج درج کراتے ہیں اوریہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نبی سے محبت کا ثبوت دے دیا اور اپنے کردار و عمل میں بھی کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
سرسید مشرقی علوم کے پروردہ تھے اور دینی علوم پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ مذہبی اور دینی امور میں بھی انہوں  نے عام ڈگر اور سوچ سے ہٹ کر کچھ رائے قائم کرلی۔دین میں عقلیت پسندی اور معتزلہ کی فکر کو جگہ دی۔ مذہبی امور میں سرسید نے جن اجتہادات کو دخل دیا ان میں سے بیشتر اسلامی امور سے اتنے مختلف تھے کہ اس پر کسی بھی جہت اور نہج سے اتفاق ممکن نہیں ہوسکا اور انہیں بطور خاص علمائے دین کے عتاب اور کفر کے فتووں کا شکار ہونا پڑا۔  تاہم اس بات کا چنداں انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سرسید  مذہبی امور میں جس فکری و عملی جمود کو توڑنے کے لیے اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتے تھے اس کی ضرورت اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ ہمیں سرسید کی فکر سے اس معاملے میں بھی سبق لینا چاہیے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ اجتہاد کا دروازہ کھولنے کے نام پر ہی نہ جانے کیوں  ہماری تیوریوں پر بل پڑنے لگتے ہیں اور وہ لوگ  بھی جو بڑی فراخدلی سے یوم سرسید منانے میں مصروف ہیں ان کی  سماعت سے اس فکر کے ٹکڑا تے ہی ان پر انقباض کی کیفیت  طاری ہونے لگتی ہے۔ بلاشبہ ہر کس و ناکس کو دینی امور میں اجتہاد کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے لیکن اس کا دروازہ اس طرح بند کرنا جیسا کہ گزشتہ کچھ صدیوں سے جاری ہے ہمارے لیے سم قاتل ہے۔
سرسید نے ۱۸۶۳ میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی  جس کے مقاصد میں ایک اہم مقصد  دنیا کے بیش قیمت اور حیات بخش علوم کو اردو میں منتقل کرنا تھا۔وہ جدید اور سائنسی علوم جو دیگر قوموں کی ترقی کا ذریعہ ہیں اہل اردو کے لیے بھی موجود ہوں۔ اس کے لیے انہوں نے ایک ٹیم تیار کر دی اور ایک بڑا کام بھی ہوا۔  ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دار الترجمہ عثمانیہ یونیورسٹی کے بعد اس نہج پر کوئی منظم کام نہیں ہوسکا ہے اور اب یہ کام تھم سا گیا ہے۔ علوم کی ترقی ہو رہی ہے، نئے افکار اور نئی تحقیقات و ایجادات جس پیمانے پر دیگر زبانوں میں جگہ بنا رہی ہیں ان کو اردو میں منتقل کرنے کی رفتاراس کا  عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ ہمارے اس رویہ سے ہماری زبان کا سوتا خشک ہو رہا ہے ۔ زبان کی ترقی بھی رک گئی ہے اور اہل اردو بھی ان علوم سے اس سطح پر مستفید نہیں ہوپارہے ہیں جیسا کہ ہونا چاہیے۔ ایسی کوتاہ دستی  کا ثبوت ایسے اہل حضرات بھی  پیش کر رہے ہیں  جن کو  یوم سرسید کے جشن  میں بالا دستی حاصل رہتی ہے۔ اہل نظر برداشت کریں تو اس رویے کو خود فریبی  اور خود غرضی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
سرسید کا نام آتے ہی سب سے پہلے ان کے جس احسان سے ہماری گردن خم ہوتی ہے وہ ان کی تعلیمی خدمات ہیں۔ بلاشبہ ہندوستانی مسلمانوں میں تعلیم کے تئیں پہلے کے مقابلے میں  بیداری ہر سطح پر آئی ہے۔ لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان تعلیم اب بھی تحریک کی صورت نہیں اختیار کر سکی ہے۔ آج بھی مسلمانوں میں  خواندگی کی شرح ملک کی شرح خواندگی سے بہت پیچھے ہے۔ دیہی علاقوں میں تو دور شہری حلقوں میں بھی مسلمانوں کے ایسے ’’سلم‘‘ علاقے مل جائیں گے جہاں کے بچے کچڑا  چننے، عبث کاموں، آوارہ گردی، تاش اور لہو و لعب میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اگر صرف شہر ی حلقے  پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے بات کی جائے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ہر وہ شہر جہاں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی ہے درجنوں پرائیویٹ اسکول مسلمانوں کے زیر انتظام ہیں۔ حکومت نے قانون حق تعلیم کے تحت ۲۵ فیصد بچوں کا داخلہ پرائیویٹ اسکولوں میں مفت کرنے کی ہدایت جاری کر رکھی ہے جس کا خرچہ حکومت کو برداشت کرنا ہے۔ لیکن ہماری ملی تنظیموں کی جانب سے  یا کسی سماجی گروپ کی جانب سے ایسی کوئی کوشش نہیں ہوسکی کہ تعلیم سے دور ایسے بچوں کو اسکول سے جوڑا جاسکے۔ چلئے پرائیویٹ اسکولوں کو نظر انداز کیجئے۔ ہماری کوئی تنظیم یا کوئی سماجی گروپ سروے کر کے یہ پتہ لگاتا کہ ان بچوں کے لیے کم از کم وہ کون سی چیز لازمی ہے جس کا انتظام ہو جائے تو وہ سرکاری اسکولوں تک پہنچ کر تعلیم کی شد بد حاصل کرسکیں۔ شہروں میں ایک بڑی تعداد سبکدوش تعلیم یافتہ حضرات کی ہوتی ہے۔ کیا یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ ہر محلےمیں ایسے لوگوں کی تنظیم یا گروپ ہو جو تعلیم سے دور بچوں کو ان بچوں کے لیے مناسب وقت کے اعتبار سے تعلیم دے سکے۔ یا جو بچے تعلیم سے تو وابستہ ہیں لیکن مالی پسماندگی کے سبب ان کو معیاری تعلیم نہیں مل  پا رہی ہے تو ان کو کوچنگ دے سکیں۔
تعلیم کے نقطہ نظر سے یہ امر بھی محل نظر ہے کہ تعلیمی بیداری آنے کے باوجود معیاری تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے بہت پیچھے ہے۔ ایک بڑا طبقہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہے۔ ملک میں ہمارے غیر دانستہ تعاون سے اردو کو مٹانے کی جوسازش چل رہی ہے وہ معلوم ہے۔ سرکاری اسکولوں میں پرائمری اور مڈل سطح سے تیزی سے اردو غائب  ہو رہی ہے۔ کم از کم بہار میں تو یہی صورتحال ہے۔ سرکاری پرائمری اور مڈل اسکولوں میں جو بچے زیر تعلیم ہیں ان کے سرپرستوں میں بہت کم تعداد ایسی ہے جو ان کی مذہبی تعلیم کا مناسب انتظام کر رہی ہو۔ اس طرح  ایسے اسکولوں میں بچے دین سے نابلد ہوتے جا رہے ہیں۔ کانونٹ اسکولوں میں بچوں کو تعلیم دلانے والوں میں کچھ لوگ تو اپنی تہذیب اور مذہب کے تئیں بیدار ہیں لیکن ایک ماڈرن طبقہ بھی ہے جس کے  لیے مذہبی تعلیم اور  تہذیب  وثقافت کا تحفظ بے معنی بن کر رہ گئے ہیں۔ اگر ان امور  پر توجہ نہیں دی گئی تو ایسے بچے جب جوان ہوں گے تو ان میں مذہبی اور تہذیبی شعور بالکل نہیں ہوگا۔  اس کے نتیجے میں  الحاد و لادینیت بہت تیزی سے پھیلے گی جس کا مداوا نہیں کیا جاسکے گا۔ اس کے سد باب کے لیے ہمیں جلد  کوئی لائحہ عمل طے کرنا  ہو گا  تاکہ وقت رہتے اس پر قابو پایا جاسکے۔  یاد رہے کہ  سرسید مسلمان طلبہ کے ایک ہاتھ میں قرآن، ایک میں سائنس اور سرپر کلمہ طیبہ کا تاج دیکھنا چاہتے تھے۔ یوم سرسید کے موقع پر ہمیں اس سمت میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔
یوم سرسید کے موقع پر  نہ صرف علی گڑھ بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں علیگ برادری موجود ہے جشن کا اہتمام کرتی ہے اور  اپنے محسن  کو یاد کرتے ہوئے اپنے احساسات کو ساجھا کرتی ہے۔ پر تکلف دعوت کا اہتمام یوم سرسید کا ایک نمایاں وصف ہے۔  مل بیٹھنے اور ساتھ کھانے پینے کی یہ تقریب یقینی طور پر علیگ برادری کے لیے ایک پر مسرت احساس ہے۔ لیکن اس دعوت کے نام پر اے ایم یو کے ساتھ دنیا بھر میں لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ہم اگر اسے ضیاع کا نام نہ بھی دیں تو اتنا تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ یہ عمل سرسید کے جذبہ و عمل کے منافی ہے۔ سرسید اگر زندہ ہوتے تو شاید ان کے لیے علیگ برادری کا یہ عمل سوہان روح ہوتا۔ یوم سرسید کے موقع پر دنیا بھر میں دعوت میں خرچ ہونے والی لاکھوں کی رقم کو قوم کی تعلیم پر خرچ کرنے کی کوئی منظم کوشش ہونی چاہیے تاکہ سرسید کی تحریک کو آگے بڑھانے میں تیزی لائی جاسکے۔
سرسید کے فکر و عمل میں اس امر کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے حالات کے رخ کو بدلنے کے لیے ایک طرف موجود وسائل کو استعمال میں لانے کی کوشش کی تو دوسری جانب نئے وسائل پیدا کرنے کی بھی عملی کوششیں کیں اور اس راہ میں انہیں جن ذلتوں اور مصائب کا سامنا ہوا   بہت کم لوگ اس کو برداشت کرسکتے تھے۔ لیکن سرسید نے ان سب کو برداشت کیا اور اسی قوت برداشت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی راہ ہموار کی۔ ہم جب اپنے مسائل کا تجزیہ کرتے ہیں تو وسائل کی کمی کا رونا رو کر اپنے جذبہ کو ٹھنڈا کرلیتے ہیں۔ ہم اگر سرسید کو یاد رکھنا چاہتے ہیں  تو ظاہر ہے کہ ہمیں بھی ایک طرف موجود وسائل سے کام لینے کا ہنر سیکھنا ہوگا تو نئے وسائل بھی پیدا کرنے ہوں گے۔ جو لوگ عام سوچ اور عام ڈگر سے ہٹ کر حالات کے رخ دیکھتے ہوئے قدم بڑھاتے ہیں انہیں پھولوں کی سیج کبھی نہیں ملتی ہے۔ ہمیشہ سنگ راہ اور مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری جانب سے جب ایسی کوششیں ہوتی ہیں تو ہم پہلے طے کرلیتے ہیں کہ ہمیں لیڈر  اور قائد تسلیم کیا جائے لیکن یہ جان لینا چاہیے کہ سرسید کو جو عزت اور قیادت ملی اس کی وجہ ان کا کردار اور مخلصانہ عمل تھا۔ اس کے باوجود انہیں تا دم حیات زبردست مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
غرض یہ کہ موجودہ تناظر میں سرسید کی زندگی، فکر اور طرز عمل  میں ہمارے لیے سیکھنے اور کرنے کے بہت سے کام ہیں۔ یوم سرسید کے موقع پر اگر ہم اپنے فکر وعمل کا تجزیہ کریں تو ہمیں اپنے اندر بہت سے تضادات ملیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یوم سرسید تو منائیں مگر ایک  ذریعہ تحریک وترغیب کے طور  پر۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تبھی ہم سرسید کے سچے بہی خواہ ہوسکتے ہیں۔  
***

Saturday, 21 October 2017

ڈاکٹر ارشد جمیل اور اظہار حیات (داستاں میری کے حوالے سے )

ڈاکٹر ارشد جمیل اور اظہار حیات

                تاریخ کوروڈیہہ ڈاکٹر ارشد جمیل کی دو جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب ہے۔ پہلی جلد کو یادوں کے چراغ، ذکر ہم نفساں، داستاں میری، کاروان شوق، زائرین حرم، سرچشمہ ہدایت، کوروڈیہہ جلوہ گاہ عارفاں ، نقشہائے دگر اور رشتوں کی تلاش جیسے ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔
                 اس کتاب کا تیسرا باب”داستاں میری“ ہے۔ نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف نے ذاتی زندگی کے احوال وکوائف کے اظہار کے لیے اس باب کو مختص کیا ہے۔ یہ باب صفحہ ۲۱۱ سے ۲۸۲ یعنی بہتر (۷۲) صفحات پر مشتمل ہے۔ تاریخ کوروڈیہہ ۲۰۱۱ میں منظر عام پر آئی ہے۔ اس وقت مصنف کی عمر تقریبا انسٹھ (۵۹) سال تھی۔ مصنف نے اپنی پیدائش سے لے کر کتاب کی اشاعت کے وقت تک کے حالات کو قلم بند کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ اس طرح ہم اس باب کو ان کی خود نوشت کا نام دے سکتے ہیں۔
                اپنی زندگی پیدائش سے لے کر کتاب مضمون کی اشاعت تک کے حالات کو ضبط تحریر میں لانے کے لیے قلم کار جو نثری پیرایہ بیان اختیار کرتا ہے وہ خود نوشت سوانح عمری کہلاتی ہے۔ حالانکہ اس کا انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اگر کسی کو ملکہ شعری پر دسترس حاصل ہو تو شعری پیرایہ بیان میں بھی خود نوشت لکھی جاسکتی ہے۔ انگریزی زبان میں خود نوشت کے لیے Autobiographyکی اصطلاح رائج رہی ہے۔ اردو میں اس کے لیے خود نوشت سوانح عمری اور آپ بیتی کی اصطلاح رائج ہے۔ البتہ ماہرین نے دونوں کے درمیان فرق قائم کیا ہے کہ آپ بیتی کے لیے پوری زندگی کا بیان ضروری نہیں ہے بلکہ محدود عرصہ میں غیر معمولی اور متاثر کن حالات وواقعات سے گذرنے اوراس سے متعلق مشاہدہ وتجربات کا بیان آپ بیتی کے ضمن میں آتا ہے۔ اس حیثیت سے آپ بیتی خود نوشت سوانح عمری کا ایک جزو قرارپاتی ہے۔ البتہ اس کا پھیلاؤ وسعت اختیار کرسکتا ہے۔ خیر ان فنی موشگافیوں سے قطع نظر خود نوشت سوانح کی تعریف پر روشنی ڈالی جاتی ہے:
اپنی زندگی کے حالات پیدائش سے لے کر اپنے وجود تک انسان خود اپنی تحریر میں لکھنے کی روایت کو فروغ دے تو اس قسم کی نثر خود نوشت سوانح عمری کہلائے گی۔
(خود نوشت ، ص۸۰۲، اردو کی شعری ونثری اصناف، مجید بیدار)
                مجید بیدار نے اپنی کتاب میں خود نوشت کی چند خصوصیات کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے :
اسے تحریر کرنے والا اپنی زندگی کے حالات بیان کرنے کے معاملہ میں پیدائش سے لے کر بچپن، لڑکپن، جوانی اور ملازمت کے علاوہ سرگرمیوں اور اولادوں کی تفصیل درج کرتا ہے۔ اس کے دوست احباب اور زندگی میں داخل ہونے والے اہم اونچ نیچ کے علاوہ نرم اور گرم رویے کی تفصیلات سے لے کر اس کے اس دنیا میں زندہ رہنے تک کے حالات اور اس کی وجوہات کا ذکر خود نوشت سوانح عمری میں ہی ممکن ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔خود نوشت سوانح عمری میں زندگی کے مختلف ادوار میں انسان سے سرزد ہونے والے کارناموں اور اس سے وابستہ شخصیات کے احوال اور واقعات کو بھی ذیلی طور پر خود نوشت سوانح عمری میں شامل کیا جاتا ہے۔
                                                                                ( خود نوشت ، ص ۰۱۲، اردو کی شعری ونثری اصناف، مجید بیدار)
انہوں نے گزشتہ خود نوشت تحریروں کی کچھ کمزوریوں کو اس طرح اجاگر کیا ہے:
               ”سرسید کے بعد ہر دور میں مصنّفین نے خود نوشست تحریروں کی طرف توجہ دی لیکن انہوں نے خاندانی کوائف اور اس دور کے حالات کے علاوہ معاصر اشخاص کے ذکر کی جانب خود نوشت تحریروںمیں توجہ نہیں دی ہے۔
                                                                                                ( خود نوشت ، ص۱۱۲، اردو کی شعری ونثری اصناف، مجید بیدار)
                یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ارشد جمیل نے خود اس باب کو خود نوشت کا نام نہیں دیا ہے۔ لہٰذا ایک بہتر خود نوشت میں جو اوصاف پائے جانے چاہئیں ان کا تقاضا مصنف سے نہیں کیا جاسکتا ہے۔تاہم انہوں نے جس طرح اپنے احوال وکوائف درج کئے ہیں اس سے ان کی کتاب کا یہ باب خود نوشت کی سرحد میں قدم رکھتا نظر آتا ہے۔ ارشد جمیل نے اپنے پیش لفظ میں داستاں میری کی جو تفصیلات اور جواز فراہم کئے ہیں ان پر ایک نظر ڈال لی جائے ۔ وہ لکھتے ہیں:
اس فہرست میں”داستاں میری“ میں راقم الحروف کے احوال وکوائف، ادارے جہاں تعلیم پائی، ان اداروں کے تذکرے، اس وقت کا ماحول اور چند مشہور اساتذہ کے مختصر حالات درج ہیں۔ اس کا دوسرا حصہ دربھنگہ میں میری مدت ملازمت پر محیط ہے۔ اس میں ان روحانی، علمی اور ادبی شخصیتوں پر میرے ذاتی تاثرات ہیں جن سے میرے تعلقات تھے یا میں ان سے متعارف تھا اور اب وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ اس میں کچھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کا تذکرہ کسی واقعہ یا شخص کے ذیل میں محض ضمنا آیا ہے اور ابھی وہ حیات سے ہیں۔
                                                                                (پیش لفظ داستاں میری ص ۰۲)
                مذکورہ بالا اولین اقتباسات کو نظر میں رکھتے ہوئے پیش لفظ میں اس باب کے تعلق سے پروفیسر ارشد جمیل کے محولہ بیان اور توضیح کو سامنے رکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ انہوں نے جن مشمولات کو ذکر کرنے کا دعوی کیا ہے ان سے ایک خود نوشت مرتب ہوتی ہے۔ لہٰذا خود نوشت کی حیثیت سے اس باب کا مطالعہ بالکل بیجا نہیں ہوگا اور کم از کم اس نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے کہ اگر مزید زندگی کے ان حصوں کو شامل کردیا جاتا جن کا ذکر نہیں ہوسکا یا جن سے گریز کیا گیا تو ایک بہتر خود نوشت سامنے آسکتی تھی۔
                اس باب کی ابتدا مصنف کی پیدائش سے ہوتی ہے۔ رسم بسم اللہ خوانی اور ابتدائی تعلیم کے بعد انتہائی اختصار کے ساتھ خاندانی پس منظر پر روشنی ڈالی گی ہے۔ چونکہ ابتدائی تعلیم ان کے چچا نے ہی دی تھی اس لیے خاندانی پس منظر کو اس طرح جوڑ دیا گیا ہے کہ اس کا احساس نہیں ہوتا ہے۔کتاب کی دوسری جلد میں والد ، والدہ اور دیگر قریبی رشتہ داروں کی تفصیلات موجود ہیں۔ اگر وہ حصے یہاں درج ہوجاتے تو داستاں میری کا باب روشن ومنور ہوجاتا۔ والدہ کا تذکرہ جس جذباتی انداز سے کیا گیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ تھوڑی تشنگی کا احساس یہ بھی ہوتا ہے کہ اس وقت کے علاقائی حالات اور پس منظر پر سرسری نظر کیوں نہیں ڈالی گئی۔ حالانکہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ اس عمر میں انسان کے مشاہدہ کا دائرہ اتنا وسیع ہوتا بھی نہیں ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم گاہوں؛مدرسہ اعزازیہ پتھنا اور محمودیہ سمریا، بھاگلپور ضلع اسکول سے میٹریکولیشن، پھر ادارہ تحقیقات عربی وفارسی (Arabic & Persian Research Institute)پٹنہ ، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ سے فاضل فارسی، فاضل اردو،ادارہ عربی وفارسی سے دکتور العلم، پٹنہ یونیورسٹی سے انٹر میڈیٹ، گریجویشن، پی جی، ڈاکٹریٹ، ایل ایل بی کی ڈگری لینے کی معلومات سن کی وضاحت کے ساتھ دی ہیں۔ تمام تفصیلات کے مطالعے سے ان کی زندگی کے ارتقا اور تعلیم کے مراحل وغیرہ کا عمومی خاکہ ذہن میں اتر جاتا ہے۔ لیکن کہنے دیا جائے کہ اس میں ان کی مکمل زندگی سامنے نہیں آتی ہے۔
                کیونکہ زندگی جس جد وجہد اور اتار چڑھاؤسے عبارت ہے مصنف نے ان کو پیش کرنے میں صرف نظر سے کام لیا ہے۔ ایک کامیاب انسان کو زندگی میں مختلف مراحل سے گذرنا پڑتا ہے۔ کبھی کامیابی قدم بوس ہوتی ہے تو کبھی زندگی کی دوڑ میں رخنے آتے ہیں۔ جس طرح ایک تیار کھیت میں بعض عوامل کے پیدا ہوجانے یا ناوقت بارش سے کھیتی غارت ہوجاتی ہے اسی طرح زندگی میں بھی کئی بار سب کچھ مساعد ہوتے ہوئے بھی عین وقت پر سب کئے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے اور موافق حالات نامساعد صورتحال میں بدل جاتے ہیں۔ کبھی کبھی مایوس کن اور نامساعد حالات میں بھی عین وقت پر حالات استوار ہوجاتے ہیں اور انسان کامیابی سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی بہت اعتماد کے ساتھ انجام دیئے جانے والا کام بے نتیجہ اور کبھی اس کے برعکس تذبذب میں کام کرتے ہوئے بھی مسرت انگیز نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔
                پھر یہ کہ لڑکپن، بچپن اور نوجوانی اور جوانی کے مراحل سے جب انسان دوچار ہوتا ہے تو اس میں کئی طرح حالات سے گذرنا پڑتا ہے۔ اس دور میں شخصیت بنتی اور بگڑتی ہے۔ بننے اور بگڑنے ، کھونے اور پانے کے کچھ اسباب وعوامل ہوتے ہیں۔
                جب یہ عناصر کسی خود نوشت میں شامل ہوتے ہیں تو وہ قارئین کے لیے تجربات بن جاتے ہیں اور ان کوکسی دوسرے کی زندگی پڑھنے کا جواز بھی ملتا ہے۔ دنیا بھر میں مختلف زبانوں میں عظیم شخصیات نے اپنی جو خود نوشتیں لکھی ہیں ان کے پڑھنے کا جواز یہی ہے کہ ان کی آپ بیتی دوسروں کی سبق آموزی کا ذریعہ ہے۔ قاری ان کے تجربات سے فائدہ اٹھاکر اپنی زندگی کو سہل بناسکتا ہے۔ ترقی کی طرف گامزن ہونے کے لیے ان راستوں اور عوامل سے گریز کرے گا جن سے دوچار ہونے کے سبب مصنف کو سب کچھ درست ہوتے ہوئے بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
                تاریخ کوروڈیہہ کے باب داستاں میری میں بھی زندگی کے ایسے واقعات کو مصنف نے پیش نہیں کیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے مدرسہ اعزازیہ کی تعلیم کے درمیان ساتھیوں کے ساتھ مدرسہ آتے جاتے وقت بچوں کی شرارتوں کے ضمن میں دو دلچسپ واقعات کا ذکر کیا ہے۔ لڑکپن اور تعلیم کی حصولیابی کے دنوں میں اس طرح کے واقعات بچوں سے سرزد ہوتے رہتے ہیں۔ بعد میں بھی ممکن ہے اس طرح کے کچھ واقعات پیش آئے ہوں۔ کالج کے زمانے میں طلبہ کے درمیان آپس میں کئی ایسے معاملات اور واقعات پیش آتے ہیں جن کا زندگی کے بننے اور بگڑنے میں رول ہوتا ہے۔ اساتذہ کی محبت اور ان کی ہمدردیاں بھی مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت کے لیے بھاگ دوڑ اور تگ ودو بھی انسان کو کرنی پڑتی ہے۔ ان سب کا بیان قارئین کے لیے بڑا دلچسپ ہوتا ہے۔ داستاں میری اس طرح کی دلچسپیوں سے خالی نظر آتی ہے۔
                ادارہ عربی وفارسی کا ذکر کرتے ہوئے ارشد جمیل نے لکھا ہے کہ ”شخصیت کی تعمیر وتشکیل میں اس ادارہ کے بڑے احسانات ہیں جو آگے چل کر برگ وبار لائے“ ۔ یہ باب بڑا منور ہوجاتا اگر اس مدت کے شخصیت کی تعمیر وتشکیل میں کار فرما اور اثر انداز عوامل کی وضاحت کردیتے اور اس وقت کے کچھ ایسے واقعات درج کردیتے جن سے مصنف کی زندگی متاثر ہوئی اور اس کے نتائج بعد کی زندگی میں کس طرح سامنے آئے۔
                خود ڈاکٹریٹ کا مرحلہ بھی ایک آپ بیتی سے کم نہیں ہوتا۔ مصنف کی دختر نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ان کے زمانے میں ان کے گاؤں میں فاضل تک کی تعلیم ہی سب سے اونچی تعلیم سمجھی جاتی تھی اور انگریزی تعلیم حاصل کرنے والوں کو اچھی نظر سے دیکھا نہیں جاتا تھا۔ مصنف نے اس روایت کو توڑکر جدید تعلیم حاصل کی اور لوگوں کے دلوں کو جیتنے اور جدید تعلیم کے تئیں پیدا شکوک وشبہات کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ ظاہر ہے اس درمیان انہیں رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہوگا۔
                ۲۱ جون ۱۹۸۳ کو مصنف رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ان کی شادی گاؤں کے ہی ایک شریف خاندان میں ہوئی۔انہوں نے بھر پور زندگی گذاری۔ چار بیٹے اور تین بیٹیوں کا تولد ہوا۔
                عام طور پر شادی کے لیے کئی جگہوں سے رشتے آتے ہیں۔ کبھی ایک ہی جگہ سے رشتہ آتا ہے اور شادی طے پاجاتی ہے۔ لڑکے اور لڑکیوں کے انتخاب میں بھی ہمارے یہاں بڑی دلچسپی کا سامان موجود ہے۔ عرصہ قبل تک شادی میں اکثر والدین کی پسند کو ہی دخل حاصل ہوتا تھا۔ لڑکے اور لڑکیاں نہ چاہتے ہوئے بھی والدین کی پسندیدگی پر اپنی خواہش کو قربان کردیتے تھے۔ بچوں کی پیدائش پر گھر خاندان میں ایک الگ سی خوشی ہوتی ہے۔ تسمیہ اور عقیقہ کی سنت کی ادائیگی وغیرہ کا بیان بھی کم دلچسپ نہیں ہوتا ہے۔
                داستاں میری شادی اور بچوں کے تولد کے ذکر سے ہی خالی ہے۔ اگر حج کے موقع پر پٹنہ کے سفر کے درمیان کا ذکر چھوڑ دیا جائے تو پتہ بھی نہیں چل پائے گا کہ انہوں نے شادی کی یا تجرد کی زندگی گذاری۔ انہوں نے دوسرے مقام پر اپنے خسر عیاض الدین مرحوم کا بڑی محبت اور احترام کے ساتھ تذکرہ کیا ہے لیکن اس میں بھی رشتے کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ یہ تذکرہ بھی اس باب کا حصہ بن سکتا تھا۔
                مصنف نے داستاں میری میں حج کا ذکر کیا ہے۔ حج کے مقدس سفر کے درمیان کئی طرح کے مراحل سے گذرنا پڑتا ہے۔ مصنف بہت اختصار سے حج کا ذکر کے گذر گئے اورسفر کی ابتدا اور واپس پہنچنے کے علاوہ اس کی روداد بیان کرنے سے گریز کیا ہے۔سفر حج میں کن حالات سے گذرنا پڑتا ہے۔ جب انسان زمین و آسمان کے درمیان معلق رہتا ہے اس وقت ایک مومن اس کو کس طرح دیکھتا ہے۔ مکہ ومدینہ پہنچنے کے بعد ایک مسلمان کے دل پر جو کیفیت گذرتی ہے اس کا بیان بھی بڑا پر کیف ہوتا ہے۔
                باب ”داستاں میری“ کے دوسرے حصے میںدربھنگہ کی ملازمت کے درمیان سے کتاب کی تحریر کے وقت تک کے حالات بیان کئے گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیش لفظ میں اس باب کے سلسلے میں لکھا ہے کہ : ”اس کا دوسرا حصہ دربھنگہ میں میری مدت ملازمت پر محیط ہے۔ اس میں ان روحانی، علمی اور ادبی شخصیتوں پر میرے ذاتی تاثرات ہیں جن سے میرے تعلقات تھے یا میں ان سے متعارف تھا اور اب وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ اس میں کچھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کا تذکرہ کسی واقعہ یا شخص کے ذیل میں محض ضمنا آیا ہے اور ابھی وہ حیات سے ہیں۔ “انہوں نے جو دعوی کیا ہے باب کے مطالعہ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ ساتھ ہی محولہ اقتباس میں مجید بیدار کے ذریعہ گذشتہ خود نوشتوں میں معاصر کے ذکر کی کمی کی جو شکایت کی گئی ہے یہ باب اس کمی سے پاک نظر آتا ہے۔ اس حصے میں دربھنگہ، پٹنہ، کوروڈیہہ اور ملک کے دیگر حصوں میں بسنے والے بہت سے مشہور معاصرین ذکر موجود ہے۔ اس باب میں ۲نومبر ۱۹۸۲ سے۲۰۱۱ تک سوائے گھریلو حالات کے وہ جن حالات سے گذرے یا جن علمی اور سماجی شخصیات سے ان کا رابطہ ہوا اور ان سے متاثر ہوئے ان کا عہد بعہد ذکر کیا گیا ہے۔جن شخصیات کا ذکر کیا ہے ان کی ملی وسماجی خدمات کا بھی اجمالی تعارف مصنف نے پیش کیا ہے۔ دربھنگہ کا بہت ہی خوبصورت اور جذباتی تعارف اس باب میں موجود ہے اور اس شہر کو شہر نگاراں کا نام انہوں دے دیا ہے۔ اس باب میں دربھنگہ کے تعلیمی اداروں ، ادبی اور سماجی سرگرمیوں کا بھی تذکرہ موجود ہے۔
                ۱۹۸۹ میں بھاگلپور کے فساد اور اس کی تباہ کاریوں، ۱۹۹۵ میں بھاگلپور اور ان کے گاؤں کے بڑے سیلاب کی زد میں آنے، ۲۰۰۴ میں دربھنگہ کے سیلاب اور ان حالات میں خلق خدا کی پریشانیوں کا ذکر بھی اسی باب میں موجود ہے۔ ان تمام حالات کا سامنا مصنف کو بھی کرنا پڑا۔ ان حالات میں ان پر جو گذری اور انہوں نے جو اقدامات کئے ان تفصیلات کو بھی پیش کیا گیاہے۔
                مذکورہ مقدمات کو پیش کرنے کے بعد یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ اگر تھوڑی وسعت اختیار کرلی گئی ہوتی تو یہ باب ایک مستقل خود نوشت کی شکل میں سامنے آتا۔لیکن یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس باب کو کتاب میں داخل کرنے کا ارادہ مصنف کا نہیں تھا ۔ پیش لفظ کی وضاحت سے پتہ چلتا ہے کہ اخیر میں اس باب کو داخل کیا گیا۔ الغرض پورے باب کے مطالعہ سے اس نتیجے تک پہنچا جاسکتا ہے جس کا اظہار میر نے اپنے اس شعر میں کیا ہے 
رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری
نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری
٭٭٭