مشمولات

Tuesday, 21 November 2017

بچے کتابوں سے، اساتذہ تنخواہ سے اور اسکول اساتذہ سے محروم

بچے کتابوں سے+ اساتذہ تنخواہ سے + اسکول اساتذہ سے محروم
 =ریاست تعلیم سے محروم

ریاست بہار میں اس وقت سرکاری اسکولوں میں پرائمری اور مڈل سطح پر تعلیم کی جو صورتحال ہے اسے ان الفاظ  میں بیان کیا جاسکتا ہے:
’’بچے کتابوں سے محروم، اساتذہ تنخواہ سے محروم اور اسکول مناسب تعداد میں اساتذہ سے محروم ہیں۔ ‘‘
ان تین حصوں کا حاصل جمع یہی آتا ہے کہ ریاست تعلیم سے محروم ہے۔
محکمہ تعلیم پرائمری اور مڈل سطح تک کے بچوں کو نصابی کتابیں مفت فراہم کرتا ہے۔ تعلیمی سیشن 18-2017 کے آٹھ ماہ بیت جانے کے باوجود محکمہ اب تک بچوں کو کتاب دینے میں ناکام ہے۔محکمہ جو کتابیں مفت فراہم کرتا ہے وہ بازار میں دستیاب بھی نہیں ہیں۔ اس درمیان محکمہ کے ضابطہ کے مطابق بچوں کا ماہانہ احتساب بھی لیا گیا۔ ششماہی امتحان بھی اختتام پذیر ہو گیا۔ اس کے نتائج بھی آئے اور محکمہ اسکولوں سے امتحان کے نتائج ، پاس ہونے اور پاس ہونے والوں میں گریڈ، اے، بی، سی، ڈی اور ای کا فیصد اور اس کا تناسب بھی حاصل کر رہا ہے۔شاید محکمہ ان رپورٹوں کی بنیاد پر ریاست کی تعلیمی پیش رفت کا تجزیہ بھی کرے اور اسے ایسا کرنا بھی چاہیے۔ جس طرح کے فارمیٹ میں اس کے فیصد اور تناسب لیے جاتے ہیں ان کو بلاک ، ضلع اور ریاست کی سطح پر اکٹھا کرنے پر خود ہی بلاک گیر، ضلع گیر اور ریاست گیر تناسب اور پیش رفت سامنے آجائے گا۔  کتاب کے بغیر تعلیم کیسے ہوئی؟ امتحانات کیسے ہوئے اور کتاب کے بغیر جو امتحان لیے  گئے اس کے نتائج جو بھی آئے وہ کیسے آئے اور کیونکر آئے ان کو سمجھنے کے لیے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔
عوام کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ان آٹھ ماہ کے اندر محکمہ کے ذریعہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ کیے جا رہے کھلواڑ کے خلاف سرپرست یا عوام کی جو منظم اور منصوبہ بند آواز بلند ہونی چاہیے تھی وہ کہیں سے ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسکولی بچوں کے والدین کی یونین  سڑکوں پر اتر کر مطالبات کی حمایت میں غیر معینہ ہڑتال کا مظاہرہ کرتی اور محکمہ سے اس لا پرواہی کا جواب طلب کرتی۔
اس کے برعکس عوامی رویہ کتنا مضحکہ خیز ہے ۔حکومت بچوں کو ایک وقت کے کھانے کے علاوہ چھ سو ، بارہ سو یا اٹھارہ سو روپے اسکالر شپ کے نام پر اور تین سو پانچ سو یا سات سو روپے پوشاک کے نام پر بہ لحاظ درجات  رقم دیتی ہے تاکہ تعلیم(اسکول) کی طرف بچے اور سرپرستوں کی رغبت ہوسکے۔ اسکالر شپ کے لیے محکمہ نے پچھتر فیصد حاضری کی شرط عائد کر رکھی ہے۔( اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاستی انتخاب کے وقت  (تعلیمی سیشن 17-2016 میں) محکمہ نے  یہ شرط اٹھا لی تھی اور اسکول میں اندراج ہر ایک بچے کو مذکورہ منصوبوں کی رقم کا فائدہ دینے کی ہدایت جاری کی گئی تھی اور اسے عملی جامہ پہنایا بھی گیا تھا) اگر خدا نہ خواستہ کسی کا بچہ حاضری کا فیصد پورا کرنے میں ناکام ہوگیا  یا اگر اسکول انتظامیہ کی جانب سے بھول چوک میں کسی بچے کا نام نہیں دیا جاسکا اور بچہ مذکورہ رقوم سے محروم ہوگیا تو ایسے بچوں کے سرپرست اسکول سر پر  اٹھا لیتے ہیں اور مختلف سطح سے پیروی کرواتے ہیں کہ کسی طرح بھی انہیں یہ چند سکے مل جائیں ۔ اسی طرح رقم آنے کے بعد کسی سبب سے اگر تقسیم میں تاخیر ہوئی تو سرپرستوں کا دباؤ اس طرح بڑھتا ہے گویا اسکول انتظامیہ نے سارے پیسے  غبن ہی کر لیے ہوں۔ اسکول انتظامیہ  کو نہ جانے کیسی کیسی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ کہیں کسی بے ایمان ٹیچر نے (جس کا  بالکل انکار بھی ممکن نہیں ہے) یہ رقم پوری یا کچھ غبن کرلی تو اس کے خلاف دھرنا مظاہرہ، اعلی افسران کے پاس شکایت اور  کئی طرح کے  اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ اس بے ایمان ٹیچر کے خلاف کارروائی ہو۔ یقینا اگر کوئی بے ایمان استاد ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور یہ بے جا بھی نہیں ہے۔ قابل مبارکباد ہیں ایسے سرپرست جو کم از کم  زندگی کا اتنا ثبوت تو دیتے ہیں۔
مذکورہ امور کو مد نظر رکھتے ہوئے ذرا سوچئے کہ حکومت نے چند سکے عطا کر کے ان بچوں کا نہ جانے کتنے ہزار روپے کا مستقبل ضائع کردیا ۔یہ کہنا بھی بے جا نہیں ہوگا کہ محکمہ نے ایک وقت کے کھانے،  وظیفہ اور پوشاک کی رقم کے عوض ان بچوں کے مستقبل کو ضائع کر نے کے لیے خرید لیا ۔حسرت اس پر ہے کہ  یہ  سرپرست چند سکوں کے لیے تو بے چین ہو اٹھتے ہیں اور اسکول انتظامیہ کے خلاف ہر طرح کے اقدام کرنے کو تیار رہتے ہیں لیکن حکومت کے اس رویے کے خلاف ان کی جو آواز بلند ہونی چاہیے وہ نہیں ہوپاتی ہے۔ گویا وہ احساس زیاں سے بھی محروم ہیں۔
اسکول میں اساتذہ کا کام پڑھانا ہے۔ یہ روزانہ کا کام ہے۔ ہر دن بچے کو آگے بڑھنا چاہیے۔ اسے اسکول میں پڑھانے کے ساتھ کچھ ہوم ورک ملنا چاہیے۔ اساتذہ کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ یہی سرپرست جو چند سکوں کے لیے دوڑ دوڑ کر اسکول کی مٹی کھود دیتے ہیں کبھی اسکول میں یہ شکایت لے کر نہیں آتے ہیں کہ آج انہوں نے اپنے بچے کی کتاب یا کاپی دیکھی، اسے کوئی ہوم ورک نہیں دیا گیا یا اسے آج کچھ نہیں پڑھا یا گیا۔ آج اور کل کی بات کو نظر انداز  کردیجئے ، ہفتوں ، مہینوں بلکہ سال بھر میں اسے یہ فرصت نہیں ملتی ہے کہ اس کے  بچے نے پورے ہفتہ، مہینہ یا سال بھر میں کیا پڑھا اور استاد نے کیا پڑھایا، وہ اس کا جائزہ لے سکے اور اسکول پہنچ کر سنجیدگی کے ساتھ کلاس ٹیچر یا مضمون کے ٹیچر یا اسکول انتظامیہ سے بات کرسکے۔ غور طلب ہے کہ محکمہ نے ہر ماہ کے پہلے سنیچر کو والدین –اساتذہ (Parents-Teacher) میٹنگ کے لیے مخصوص بھی کر رکھا ہے جو صرف کاغذی کارروائی کا حصہ ہے۔زیادہ تر سرپرست تو اس سے نا واقف ہی ہیں جنہیں خبر ہو انہیں بھی فرصت نہیں کہ وہ اس کے بارے میں بھی پوچھ سکیں کہ میٹنگ کیوں نہیں ہوتی۔ حالانکہ اسکول جس گاؤں یا محلہ میں واقع ہے اس کے ہر سرپرست اور ہر شخص کو یہ شکایت اور احساس ہے کہ اسکول کے ٹیچر کچھ نہیں پڑھاتے  ہیں۔ آپس میں شکایت کرنے کی فرصت تو ان کے پاس ہے لیکن ان کے پاس اس کا ثبوت لے کر آنے کی فرصت نہیں ہے کہ دیکھئے آپ کے اسکول کے استاد نے اتنے دنوں میں کتنا پڑھایا اور کیوں نہیں پڑھایا۔
اسکولوں میں پڑھائی نہیں ہونے کا ایک سبب اساتذہ کا مناسب تعداد میں موجود نہ ہونا بھی ہے۔ جو اساتذہ موجود ہیں ان کے پاس تعلیم کے علاوہ کاغذی کام کو انجام دینے کے لیے بھی اتنے کام ہیں جن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد تعلیم ؍ تدریس کا وقت نہیں بچتا ہے۔ مطلب یہ کہ اسکول میں ایک کلرک کے ذمہ جتنا کام ہوتا ہے ان کو پورا کرنا اسکول کے اساتذہ کی ہی ذمہ داری ہے۔
ریاست کے بیشتر اسکول ایسے ہیں جہاں مناسب تعداد میں اساتذہ موجود نہیں ہیں۔ حکومت نے اب اساتذہ کی تقرری کا طریقہ یہ کر دیا ہے کہ بیسک گریڈ میں جو تقرری ہوتی ہے انہیں درجہ اول سے  درجہ پنجم تک تمام مضامین کی تعلیم دینی ہے۔ جبکہ گریجویٹ سطح کے اساتذہ کی تقرری درجہ ششم تا ہشتم کے لیے سائنس (ریاضی وسائنس)، سوشل اسٹڈیز، انگریزی، ہندی، اردو، سنسکرت اور فزیکل ٹیچر مضمون کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ انہیں اپنے مضمون کو پڑھانا ہوتا ہے۔ بیشتر اسکولوں میں اس گریڈ میں دو تین مضمون میں ہی اساتذہ بحال کئے گئے ہیں۔ اب اگر ایک ٹیچر نے میٹرک کے بعد سوشل اسٹڈیز یا زبان و ادب کی تعلیم حاصل کی اور میٹرک کے بعد ریاضی اور سائنس کے مضامین کو اٹھاکر نہیں دیکھا اور ایسا عملا ہوتا بھی ہے تو ان سے آٹھویں درجہ میں ریاضی اور سائنس کی تعلیم دلوائی جائے تو ممکن ہے تدریسی خانہ پری تو ہوجائے لیکن معیاری تعلیم کی توقع کرنا فضول ہوگا۔اسی طرح  سائنس  وریاضی کے اساتذہ سے سوشل اسٹڈیز اور زبان  کی تعلیم دلوانے کا نتیجہ بھی افسوسناک ہی ہوگا۔
 ہر مضمون کے اعتبار سے سارے اساتذہ کا ہر اسکول میں فراہم نہ کرانا  بچوں اور ان کے سرپرستوں کے ساتھ محکمہ کی سراسر بے ایمانی ہے۔ سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ جس طرح چند سکوں کے لیے باؤلے بن جاتے ہیں حکومت کی اس بے ایمانی کے خلاف بھی اتاؤلے ہوتے اور سڑکوں پر اتر کر اس کے  خلاف احتجاج درج کراتے کہ ان کے اسکول میں جن مضامین میں اساتذہ نہیں ہیں ان میں ان  کی تقرری کو یقینی بنایا جائے ۔ لیکن ایسا کہیں دیکھنے کو ملتا نہیں ہے۔ ظاہر ہے جب بچوں کو ایک وقت کے کھانے اور چند سکوں کے لیے ہی اسکول بھیجا جاتا ہے تو ان کو تعلیم سے اور اساتذہ سے کیا لینا دینا۔
ماہ نومبر سے حکومت نے بچوں کو ہر جمعہ کو انڈا یا پھل دینے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کے لیے ہدایت نامہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ محکمہ کی ہدایت کے مطابق ہر اسکول کو ایمانداری سے اس منصوبہ کو چلانا چاہیے اور جب محکمہ کو پیسہ دینا ہے تو اسکول انتظامیہ کو چاہیے کہ بچوں کو ان کا حق دیں۔ کئی جگہوں پر اسکول انتظامیہ نے اب تک اس منصوبے کے تحت کھانے میں انڈے یا پھل دینے کا آغاز نہیں کیا ہے جس کے خلاف احتجاج کی خبریں بھی پڑھنے کو ملیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ ایسےلوگ اپنے حقوق کے لیے بیدار ہیں اور حق ماری کے خلاف ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہی لوگ جو انڈے یا پھل کے نہ دینے پر برہم نظر آتے ہیں حکومت کے ذریعہ کی جارہی  حق ماری  جو ان چیزوں سے کہیں بڑی حق ماری  ہے، کے خلاف  آواز کیوں بلند نہیں کرتے؟حکومت کی جانب سے کتاب فراہم نہ ہو اور اساتذہ پورے نہ ہوں  تو کوئی بات نہیں۔ لیکن اگر کھانے میں  کمی یا نقص آجائے، اسکالر شپ یا پوشاک کی رقم بروقت نہ مل سکے یا  کوئی بچہ اس سے محروم ہوجائے  تو مرنے مارنےپر آمادہ ہو جاتے ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے لیے اسکول میں کھانا اور چند روپے جتنی  اہمیت رکھتے ہیں تعلیم کی اہمیت ان کی نظر میں اتنی نہیں ہے۔ 
حکومت اساتذہ کو بر وقت تنخواہیں نہیں دیتی۔ تین تین چار چار مہینوں کی تنخواہیں زیر التوا رہتی ہیں۔ یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ جو اساتذہ اسکولوں میں برسر کار ہیں وہ اسی ماہانہ تنخواہ کےلیے کام کر رہے ہیں۔  جب محکمہ بر وقت ان کی اجرت ادا نہیں کرے گا تو اساتذہ کو اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے دیگر ذرائع کو اختیار کرنا ہوگا۔ اس کا اثر تعلیم کے معیار پڑے گا۔ سرپرستوں کی ہی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکومت کے اس رویہ کے خلاف بھی کھڑے ہوں تاکہ ان کے بچوں کی تعلیم کا معیار اثر انداز نہ ہو۔جب اساتذہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے دیگر ذرائع کو اختیار کرتے ہیں اور تعلیم متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر ان کے ہی بچوں پر پڑتا ہے اور اساتذہ کا یہ مسئلہ  بالواسطہ طور پر ان کا بھی مسئلہ ہے۔  لیکن ظاہر ہے کہ جو سرپرست خود اپنے بچوں کے تئیں بیدار نہیں ہیں اور راست طور پر ہو رہی حق ماری کے خلاف کھڑے ہوکر آواز بلند نہیں کرسکتے بالواسطہ طور پر ہونے والے نقصان کے خلاف آواز بلند کرنے کی فرصت کسے ہے؟ 
اتنی ساری خامہ فرسائی کرنے کے بعد اچانک ذہن میں یہ بات آئی کہ آخر یہ بات کس سے کہی جارہی ہے؟ جس سے خطاب ہے کیا ان تک یہ پیغام پہنچ پائے گا؟ اگر اخبار میں یہ باتیں شائع ہوتی ہیں تو جو مخاطب ہے کیا وہ اس کو پڑھیں گے ؟اور جو پڑھیں گے کیا ان کے بچے  وہاں پڑھتے ہیں جہاں کی بات کی جارہی ہے؟ اگر نہیں تو کیا جن کے بچے پڑھ رہے ہیں ان کے بچوں کے لیے پڑھنے والے کے پاس اتنی فرصت ہے کہ وہ اس مسئلہ پر بیداری لائیں؟؟؟جواب :نہیں! نہیں!! نہیں!!!

کیا یہ مسائل میلادوں ، جلسوں اور جمعہ کے خطبوں کا موضوع نہیں بن سکتے؟؟؟

Thursday, 9 November 2017

ہنگلش اور ہنگلشیا اردو

ہنگلش اور ہنگلشیا اردو

روزنامہ انقلاب بہار نے پیر ۶ نومبر ۲۰۱۷ کے اپنے اداریہ میں ’’کیسے کیسے الفاظ!‘‘ کے عنوان سےاہل اردو کے موجودہ لسانی رویہ کو موضوع سخن بنایا ہے۔ مدیر نے زبان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بجا طور پر محسوس کیا ہے کہ گھروں میں روز مرہ کے طور پر بولی جانے والی زبان کو آج ہم بھولتے جا رہے۔ اسی ضمن میں ایک طرف ہنگلش (ہندی اور انگریزی سے مخلوط زبان)کی اصطلاح رائج ہوئی ہے تو اہل اردو کا جو موجودہ لسانی رویہ ہے اس کے مطابق ہنگلشردو (ہندی، انگلش اور اردوسے مخلوط زبان) کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے اداریہ میں اس ضمن میں پیشے کے اعتبار سے کچھ الفاظ مثلا: ’بیلدار، خاکروب، جِلا کار، نان بائی، زر گر، خیاط، بھشتی، دھنیا‘تو گھروں میں استعمال ہونے والے ظروف اور دیگر اشیا کے نام کے طور پر ’مرتبان، آفتابہ، سماور، رکابی یا طشری، دست پناہ، آبخورا‘ اور مکان کے حصوں کے طور پر ’دیوان خانہ، باورچی خانہ، مہمان خانہ، صحن، طاق یا محراب، طاقچہ، دہلیز، دراز‘ تو محاوروں ، ضرب الامثال اور کہاوتوں میں’جہاں گنج وہاں رنج، آفت کا پرکالہ‘ جیسےالفاظ اور فقرے بطور مثال پیش کیے ہیں جن کی جگہ انگریز ی یا ہندی الفاظ لیتے جا رہے ہیں۔ میں نے تو ادیب و شاعر ہونے کے کئی دعویداروں کو عام گفتگو اور اردو سیمینار اور مذاکرہ میں ’سبب‘ کو’ کارن‘ کہتے ہوئے سنا ہے۔ اسی طرح کے ایسے کئی پیش پا افتادہ الفاظ ہیں جن کے لیے ہندی یا انگریزی کے الفاظ استعمال کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے لیکن لوگ بلا جھجک استعمال کرتے ہیں۔ تن آسانی سے کام لیتے ہوئے کئی ادباء و شعرا اپنے مضامین و مقالات میں بھی انگریزی کے ایسے الفاظ استعمال کرتے نظر آتے ہیں جن کے لیے اردو میں مناسب اور بر محل لفظ موجود ہے اور جس خیال کے اظہار کے لیے انگریزی کا لفظ استعمال میں لایا گیا ہوتا ہے اس خیال اور کیفیت کی پوری پوری ترجمانی اردو کے لفظ سے ہوتی ہے۔ تب بھی انگریزی کا استعمال ہو تو اس کو سوائے اردو والوں کی بے حسی کے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔
اس معاملے ایک اور خراب بات یہ پیدا ہوئی ہے کہ اب روکنے ٹوکنے کی روایت ختم ہو گئی ہے۔ ایسے کسی الفاظ، محاورے اور روزہ مرہ کے استعمال پر اگر خدا نہ خواستہ کسی نے ٹوک دیا تو ٹوکنے والی کی خیر نہیں ہے ۔ ممکن کچھ لٹھ مار قسم کے لوگ اسی وقت اس روک ٹوک پر روکنے والے کو ذلیل و رسوا کر دیں ورنہ ہمیشہ کے لیے دل میں دشمنی کا بیج پڑ ہی جاتا ہے جو کبھی بھی تناور ہوسکتا ہے۔ اب جو رجحان پیدا ہوا ہے اس میں لوگوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کی تعریف تو ڈنکے کی چوٹ یا پکی روشنائی سے کی جائے اور خامیوں کی نشاندہی کے لیے زیادہ سے زیادہ اس بات کے لیے وہ تیار ہوسکتے ہیں کہ ایسی باتوں کو ان کے کان میں سرگوشی کے انداز میں کہا جائے۔ جبکہ ہمارے متقدمین اس معاملے میں بڑے حساس ہوا کرتے ہوئے۔ بگڑی ہوئی زبان استعمال کرنے پر سخت گرفت کرتے تھے۔ اس معاملے میں کئی دلچسپ واقعات اور لطائف بھی ہماری ادبی اور لسانی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس طرح کی گرفت پر ادباء کے ادبی و لسانی معرکے تو چلتے تھے لیکن لٹھ ماری نہیں ہوتی تھی۔
اداریہ میں جن امور کی طرف نشاندہی کی گئی ہے وہ یقینا قابل تشویش اور قابل حسرت ہیں۔ ان امور کی طرف یقینا گھروں میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ محض زبان کی تبدیلی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ سارے الفاظ ہماری تہذیبی روایتوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کے امین ہیں۔ ان کا ختم ہونا ہماری تہذیبی شناخت کے مٹنے کا سبب بنےگا۔
یہ تو خیر سے گھروں اور بازاروں کی زبان ہے۔ سب سے حسرتناک بات یہ ہے کہ یہ ’’ہنگلشیا اردو‘‘ بعض اخبارات میں بھی بکثرت نظر آتی ہے۔ہندی کے جس لفظ کا اردو متبادل نہیں مل سکا تو اس کے لیے یا تو انگریزی لکھ دیا یا پھر ہو بہو اسی کو اتار دیا۔ یہ لفظ کی حد تک بار گرانی کے ساتھ لائق برداشت بھی ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی فقرے بھی ایسی ہنگلش یا ہنگلشیا اردو میں ہوتے ہیں جس سے عجیب مضحکہ خیز صورتحال پیدا ہو جاتی ہے اور سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔
افسوس کا مرحلہ یہ بھی ہے کہ اس امر میں ہمارے اندر بہت زیادہ بے حسی بھی پیدا ہوئی ہے۔ ہم ایسے الفاظ اخباروں میں دیکھتے ہیں طبع لطیف پر تو گراں گزرتا ہے لیکن اس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے ایسے اخبار میں مراسلہ لکھ کر اخبار کے مدیران کو ا س کی طرف متوجہ کیا جاتا۔
بات جب چلی ہے تو اس امر کی طرف بھی ہمیں متوجہ ہونے کی ضرورت ہے کہ جو نئی نئی اصطلاحیں رائج ہو رہی ہیں الگ الگ اخبارات میں ان کے لیے الگ الگ اصطلاحیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ بلکہ کبھی کبھی تو ایک ہی اخبار میں ایک ہی اصطلاح الگ الگ طریقہ سے دی ہوئی ہوتی ہے۔ اہل زبان کا ایماندارانہ اور اپنی زبان کے تئیں مخلصانہ حل تو یہ ہے کہ اخبارات کو چاہیے کہ ایسی اصطلاحات جو اب تک مشترکہ طور پر استعمال نہیں ہو رہی ہیں ان کی فہرست سازی کی جائے اور ایک مدت پر تمام اخبارات کو مل کر ہر نئی اصطلاح کے لیے مشترک طور پر ایک اصطلاح وضع کرناچاہیے اور پھرتمام اخبارات اس اصطلاح کو اختیار کریں۔ دوسرا طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہر اخبار اخبار کم از کم اپنے اخبار کا مشاہدہ و مطالعہ کرے اور اصطلاحات کے سلسلے میں جو بےترتیبی پائی جارہی ہے اس کی فہرست تیار کرے اور ان کی مناسب اصطلاح وضع کر کے اپنے نمائندوں کو اس سے واقف کرائے اور انہیں ہدایت دی جائے کہ فلاح ہندی یا انگریزی اصطلاح کے لیے فلاں اصطلاح استعمال کریں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زبان کی درستگی کے کے لیے وقفے وقفے سے ہر اخبار کو ورکشاپ ؍ آرینٹیشن جیسے پروگرام منعقد کرنے اور اپنے نمائندوں کی زبان کے تئیں بیدار کرتے ہوئے اچھی زبان سکھانے اور بتانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
زبان کی توجہ نہیں دلانے کے سبب اکثر جملوں میں مبتدا، خبر، عدد معدو، ممیز تمیز، موصول صلہ، تذکیر و تانیث ، فعل، فاعل اور مفعول وغیرہ میں مطابقت نہیں ہوتی ہے۔بہت سے لوگ فعل لازم اور متعدی کے فرق کو نہیں سمجھ پا رہے ہیں۔ ا ن امور کی طرف سے بے توجہی یا لا پرواہی زبان کے لیے نقصاندہ ثابت ہوگی
اخبارات میں بہت سی خبریں ترجمہ کی جاتی ہیں۔ ترجمہ یقینا زبان کے لیے تازہ خون ہے لیکن مقامی سطح پر اخبارات کے لیے جو لوگ ترجمہ کرتے ہیں طویل تجربات کے باوجود ان میں سے اکثر ہر دو زبان کی باریکی سے واقف نہیں ہوتے۔ انہیں نہیں پتہ ہوتا کہ اصطلاحیں کیسے وضع کرنی چاہئیں۔ پھر ترجمہ کے لیے ضروری ہے کہ جس زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے اس کے قواعد اور زبان کے عام مزاج کا خیال رکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں جب لفظ داخل ہوتے ہیں تو کبھی صوری اور کبھی صوتی طور پر بدل جاتے ہیں اور زبان کے مزاج پر ڈھل کر استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ اخبارات کو مقامی سطح پر کام کرنے والے افراد کے درمیان ان چیزوں کی طرف توجہ دلانے کا اقدام کرنا چاہیے۔ مقامی سطح پر جو لوگ اخبار میں کام کرتے ہیں انہیں وحید الدین سلیم کی وضع اصطلاحات کا مطالبہ میں ہمیشہ کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی فرہنگ اصطلاحات بھی ساتھ رکھنا چاہیے ۔ ہندی سے اردو، انگریزی سے اردو اور اردو سے اردو ڈکشنری تو اس پیشےکا ایک آلہ کار ہی ہے۔
زندہ زبانوں کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اس میں کھڑکیاں اور دریچے کھلے رکھے جائیں تاکہ دوسری زبانوں سے روشنی اور ہوائیں آتی رہیں۔ بلا شبہ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اگر دریچے وا نہیں رہیں گے تو زبان کا لفظی سرمایہ تنگ ہوتا چلا جائے گا۔ نئی فکر وتصورات کے بھی دروازے بند ہوجائیں گے۔ نئے افکار وخیالات کے بھر پور اظہار یا مکمل ترجمانی کے لیے ہمارے پاس جو لفظی و اصطلاحی سرمایہ ہونا چاہئے ہمیں اس سے بھی محروم ہوجانا پڑے گا اور زبان اپنے عہد کی دوسری زبانوں کے دوش بدوش نہیں چل سکے گی اور پھر زبان بقا سے عدم کی طرف بڑھتی چلی جائے گی۔ لیکن یہ بھی نظر میں رہنا چاہیے کہ دروازوں اور دریجوں سے گھر میں جو روشنی آتی ہے اس کے ساتھ گرد وغبار بھی آتے ہیں۔ ہم روشنی کو استعمال میں لاتے ہیں اور جو غبار آکر بیٹھ جاتا ہے اس کی جھاڑ پونچھ تسلسل کے ساتھ کی جاتی ہے۔ اسی طرح جو ہوائیں آتی ہیں اس میں آکسیجن کے علاوہ دیگر ہوائیں بھی ملی ہوتی ہیں۔ ہماری ناک اپنے فطری عمل سے آکسیجن کو چھانٹ کر جسم تک لے جاتی ہے جبکہ بقیہ گیس جو نقصاندہ یا غیر نقصاندہ ہی سہی لیکن ہمارے لیے کام کی نہیں ہوتی ان کو چھوڑ دیتی ہے۔
زبان میں بھی دوسری زبانوں کی روشنی اور ہوا دریجوں سے داخل ہوتی ہیں ان کا دخول محسوس اور غیر محسوس دونوں طریقے سے ہوتا ہے۔اس میں کچھ الفاظ کی حیثیت اسی گرد وغبار یا مخلوط گیس جیسی ہوتی ہے۔ اس میں جو روشنی اور آکسیجن کی حیثیت رکھتے انہیں ہم استعمال میں لاتے ہیں اور بقیہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی رکھنے اور چھوڑنے کا عمل اصلاح زبان کی تحریک سمجھی جاتی ہے۔ البتہ اصلاح زبان کی تحریک میں کبھی کبھی تشدد بھی پیدا ہوجاتا ہے جس سے زبان کو نقصان بھی ہوتا ہے۔ لیکن اصلاح زبان کی تحریک کے فوائد کا یکسر انکار ممکن نہیں ہے۔میرے خیال میں ایک زندہ زبان کو جراحی کے اس عمل سے گزرتے رہنا چاہیے۔ جو الفاظ زبان میں شامل ہوتے ہیں ان میں کچھ ایسے سہل ہوتے ہیں کہ وہ ہو بہو استعمال میں آنے لگتے ہیں اور کچھ میں صوت یا صورت کے اعتبار سے وہ سہولت موجود نہیں ہوتی ہے جو اس زبان کا عام مزاج ہوتا ہے تو غیر محسوس طور پر صوت اور صورت بدل لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے اساتذہ اور ماہرین فن اپنی زبان کے کچھ الفاظ کو واضح کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ فلاں زبان کا لفظ ہے اور اس میں اس کی اصل صورت یہ ہے۔  یہ سب لفظوں کو غیر شعوری طور پر سہل بنانے کے نتیجے میں ہی ہوتا ہے۔