بچے
کتابوں سے+ اساتذہ تنخواہ سے + اسکول اساتذہ سے محروم
=ریاست تعلیم سے محروم
ریاست بہار میں اس وقت سرکاری اسکولوں میں پرائمری اور مڈل
سطح پر تعلیم کی جو صورتحال ہے اسے ان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے:
’’بچے
کتابوں سے محروم، اساتذہ تنخواہ سے محروم اور اسکول مناسب تعداد میں اساتذہ سے
محروم ہیں۔ ‘‘
ان تین حصوں کا حاصل جمع یہی آتا ہے کہ ریاست تعلیم سے
محروم ہے۔
محکمہ تعلیم پرائمری اور مڈل سطح تک کے بچوں کو نصابی
کتابیں مفت فراہم کرتا ہے۔ تعلیمی سیشن 18-2017 کے آٹھ ماہ بیت جانے کے باوجود محکمہ
اب تک بچوں کو کتاب دینے میں ناکام ہے۔محکمہ جو کتابیں مفت فراہم کرتا ہے وہ بازار
میں دستیاب بھی نہیں ہیں۔ اس درمیان محکمہ کے ضابطہ کے مطابق بچوں کا ماہانہ
احتساب بھی لیا گیا۔ ششماہی امتحان بھی اختتام پذیر ہو گیا۔ اس کے نتائج بھی آئے
اور محکمہ اسکولوں سے امتحان کے نتائج ، پاس ہونے اور پاس ہونے والوں میں گریڈ،
اے، بی، سی، ڈی اور ای کا فیصد اور اس کا تناسب بھی حاصل کر رہا ہے۔شاید محکمہ ان
رپورٹوں کی بنیاد پر ریاست کی تعلیمی پیش رفت کا تجزیہ بھی کرے اور اسے ایسا کرنا
بھی چاہیے۔ جس طرح کے فارمیٹ میں اس کے فیصد اور تناسب لیے جاتے ہیں ان کو بلاک ،
ضلع اور ریاست کی سطح پر اکٹھا کرنے پر خود ہی بلاک گیر، ضلع گیر اور ریاست گیر
تناسب اور پیش رفت سامنے آجائے گا۔ کتاب
کے بغیر تعلیم کیسے ہوئی؟ امتحانات کیسے ہوئے اور کتاب کے بغیر جو امتحان لیے
گئے اس کے نتائج جو بھی آئے وہ کیسے آئے اور کیونکر آئے ان کو سمجھنے کے لیے
کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔
عوام کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ان آٹھ ماہ کے اندر محکمہ
کے ذریعہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ کیے جا رہے کھلواڑ کے خلاف سرپرست یا عوام کی جو منظم
اور منصوبہ بند آواز بلند ہونی چاہیے تھی وہ کہیں سے ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ حالانکہ
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسکولی بچوں کے والدین کی یونین سڑکوں پر اتر کر مطالبات کی حمایت میں غیر معینہ
ہڑتال کا مظاہرہ کرتی اور محکمہ سے اس لا پرواہی کا جواب طلب کرتی۔
اس کے برعکس عوامی رویہ کتنا مضحکہ خیز ہے ۔حکومت بچوں کو ایک
وقت کے کھانے کے علاوہ چھ سو ، بارہ سو یا اٹھارہ سو روپے اسکالر شپ کے نام پر اور
تین سو پانچ سو یا سات سو روپے پوشاک کے
نام پر بہ لحاظ درجات رقم دیتی ہے تاکہ
تعلیم(اسکول) کی طرف بچے اور سرپرستوں کی رغبت ہوسکے۔ اسکالر شپ کے لیے محکمہ نے
پچھتر فیصد حاضری کی شرط عائد کر رکھی ہے۔( اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاستی
انتخاب کے وقت (تعلیمی سیشن 17-2016 میں)
محکمہ نے یہ شرط اٹھا لی تھی اور اسکول
میں اندراج ہر ایک بچے کو مذکورہ منصوبوں کی رقم کا فائدہ دینے کی ہدایت جاری کی
گئی تھی اور اسے عملی جامہ پہنایا بھی گیا تھا) اگر خدا نہ خواستہ کسی کا بچہ
حاضری کا فیصد پورا کرنے میں ناکام ہوگیا یا اگر اسکول انتظامیہ کی جانب سے
بھول چوک میں کسی بچے کا نام نہیں دیا جاسکا اور بچہ مذکورہ رقوم سے محروم ہوگیا تو
ایسے بچوں کے سرپرست اسکول سر پر اٹھا لیتے ہیں اور مختلف سطح سے پیروی
کرواتے ہیں کہ کسی طرح بھی انہیں یہ چند سکے مل جائیں ۔ اسی طرح رقم آنے کے بعد کسی
سبب سے اگر تقسیم میں تاخیر ہوئی تو سرپرستوں کا دباؤ اس طرح بڑھتا ہے گویا اسکول
انتظامیہ نے سارے پیسے غبن ہی کر لیے ہوں۔ اسکول انتظامیہ کو نہ جانے
کیسی کیسی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ کہیں کسی بے ایمان ٹیچر نے (جس کا بالکل
انکار بھی ممکن نہیں ہے) یہ رقم پوری یا کچھ غبن کرلی تو اس کے خلاف دھرنا مظاہرہ،
اعلی افسران کے پاس شکایت اور کئی طرح کے اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ اس بے ایمان ٹیچر کے
خلاف کارروائی ہو۔ یقینا اگر کوئی بے ایمان استاد ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف
کارروائی ہونی چاہیے اور یہ بے جا بھی نہیں ہے۔ قابل مبارکباد ہیں ایسے سرپرست جو
کم از کم زندگی کا اتنا ثبوت تو دیتے ہیں۔
مذکورہ امور کو مد نظر رکھتے ہوئے ذرا سوچئے کہ حکومت نے
چند سکے عطا کر کے ان بچوں کا نہ جانے کتنے ہزار روپے کا مستقبل ضائع کردیا ۔یہ
کہنا بھی بے جا نہیں ہوگا کہ محکمہ نے ایک وقت کے کھانے، وظیفہ اور پوشاک کی رقم کے عوض ان بچوں کے
مستقبل کو ضائع کر نے کے لیے خرید لیا ۔حسرت اس پر ہے کہ یہ سرپرست چند سکوں کے لیے تو بے چین ہو
اٹھتے ہیں اور اسکول انتظامیہ کے خلاف ہر طرح کے اقدام کرنے کو تیار رہتے ہیں لیکن
حکومت کے اس رویے کے خلاف ان کی جو آواز بلند ہونی چاہیے وہ نہیں ہوپاتی ہے۔ گویا
وہ احساس زیاں سے بھی محروم ہیں۔
اسکول میں اساتذہ کا کام پڑھانا ہے۔ یہ روزانہ کا کام ہے۔
ہر دن بچے کو آگے بڑھنا چاہیے۔ اسے اسکول میں پڑھانے کے ساتھ کچھ ہوم ورک ملنا
چاہیے۔ اساتذہ کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ یہی سرپرست جو چند سکوں کے لیے دوڑ دوڑ کر
اسکول کی مٹی کھود دیتے ہیں کبھی اسکول میں یہ شکایت لے کر نہیں آتے ہیں کہ آج
انہوں نے اپنے بچے کی کتاب یا کاپی دیکھی، اسے کوئی ہوم ورک نہیں دیا گیا یا اسے
آج کچھ نہیں پڑھا یا گیا۔ آج اور کل کی بات کو نظر انداز کردیجئے ، ہفتوں ، مہینوں بلکہ سال بھر میں اسے یہ
فرصت نہیں ملتی ہے کہ اس کے بچے نے پورے ہفتہ، مہینہ یا سال بھر میں کیا
پڑھا اور استاد نے کیا پڑھایا، وہ اس کا جائزہ لے سکے اور اسکول پہنچ کر سنجیدگی
کے ساتھ کلاس ٹیچر یا مضمون کے ٹیچر یا اسکول انتظامیہ سے بات کرسکے۔ غور طلب ہے
کہ محکمہ نے ہر ماہ کے پہلے سنیچر کو والدین –اساتذہ (Parents-Teacher) میٹنگ کے لیے مخصوص بھی
کر رکھا ہے جو صرف کاغذی کارروائی کا حصہ ہے۔زیادہ تر سرپرست تو اس سے نا واقف ہی
ہیں جنہیں خبر ہو انہیں بھی فرصت نہیں کہ وہ اس کے بارے میں بھی پوچھ سکیں کہ
میٹنگ کیوں نہیں ہوتی۔ حالانکہ اسکول جس گاؤں یا محلہ میں واقع ہے اس کے ہر سرپرست
اور ہر شخص کو یہ شکایت اور احساس ہے کہ اسکول کے ٹیچر کچھ نہیں پڑھاتے ہیں۔
آپس میں شکایت کرنے کی فرصت تو ان کے پاس ہے لیکن ان کے پاس اس کا ثبوت لے کر آنے
کی فرصت نہیں ہے کہ دیکھئے آپ کے اسکول کے استاد نے اتنے دنوں میں کتنا پڑھایا اور
کیوں نہیں پڑھایا۔
اسکولوں میں پڑھائی نہیں ہونے کا ایک سبب اساتذہ کا مناسب
تعداد میں موجود نہ ہونا بھی ہے۔ جو اساتذہ موجود ہیں ان کے پاس تعلیم کے علاوہ
کاغذی کام کو انجام دینے کے لیے بھی اتنے کام ہیں جن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے
بعد تعلیم ؍ تدریس کا وقت نہیں بچتا ہے۔ مطلب یہ کہ اسکول میں ایک کلرک کے ذمہ جتنا
کام ہوتا ہے ان کو پورا کرنا اسکول کے اساتذہ کی ہی ذمہ داری ہے۔
ریاست کے بیشتر اسکول ایسے ہیں جہاں مناسب تعداد میں اساتذہ
موجود نہیں ہیں۔ حکومت نے اب اساتذہ کی تقرری کا طریقہ یہ کر دیا ہے کہ بیسک گریڈ
میں جو تقرری ہوتی ہے انہیں درجہ اول سے درجہ پنجم تک تمام مضامین کی تعلیم
دینی ہے۔ جبکہ گریجویٹ سطح کے اساتذہ کی تقرری درجہ ششم تا ہشتم کے لیے سائنس
(ریاضی وسائنس)، سوشل اسٹڈیز، انگریزی، ہندی، اردو، سنسکرت اور فزیکل ٹیچر مضمون
کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ انہیں اپنے مضمون کو پڑھانا ہوتا ہے۔ بیشتر اسکولوں میں اس
گریڈ میں دو تین مضمون میں ہی اساتذہ بحال کئے گئے ہیں۔ اب اگر ایک ٹیچر نے میٹرک
کے بعد سوشل اسٹڈیز یا زبان و ادب کی تعلیم حاصل کی اور میٹرک کے بعد ریاضی اور
سائنس کے مضامین کو اٹھاکر نہیں دیکھا اور ایسا عملا ہوتا بھی ہے تو ان سے آٹھویں
درجہ میں ریاضی اور سائنس کی تعلیم دلوائی جائے تو ممکن ہے تدریسی خانہ پری تو
ہوجائے لیکن معیاری تعلیم کی توقع کرنا فضول ہوگا۔اسی طرح سائنس
وریاضی کے اساتذہ سے سوشل اسٹڈیز اور زبان
کی تعلیم دلوانے کا نتیجہ بھی افسوسناک ہی ہوگا۔
ہر مضمون کے اعتبار
سے سارے اساتذہ کا ہر اسکول میں فراہم نہ کرانا بچوں اور ان کے سرپرستوں کے ساتھ محکمہ کی سراسر
بے ایمانی ہے۔ سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ جس طرح چند سکوں کے لیے باؤلے بن جاتے ہیں
حکومت کی اس بے ایمانی کے خلاف بھی اتاؤلے ہوتے اور سڑکوں پر اتر کر اس کے
خلاف احتجاج درج کراتے کہ ان کے اسکول میں جن مضامین میں اساتذہ نہیں ہیں ان
میں ان کی تقرری کو یقینی بنایا جائے ۔ لیکن ایسا کہیں دیکھنے کو ملتا نہیں
ہے۔ ظاہر ہے جب بچوں کو ایک وقت کے کھانے اور چند سکوں کے لیے ہی اسکول بھیجا جاتا
ہے تو ان کو تعلیم سے اور اساتذہ سے کیا لینا دینا۔
ماہ نومبر سے حکومت نے بچوں کو ہر جمعہ کو انڈا یا پھل دینے
کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کے لیے ہدایت نامہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ محکمہ کی
ہدایت کے مطابق ہر اسکول کو ایمانداری سے اس منصوبہ کو چلانا چاہیے اور جب محکمہ
کو پیسہ دینا ہے تو اسکول انتظامیہ کو چاہیے کہ بچوں کو ان کا حق دیں۔ کئی جگہوں
پر اسکول انتظامیہ نے اب تک اس منصوبے کے تحت کھانے میں انڈے یا پھل دینے کا آغاز
نہیں کیا ہے جس کے خلاف احتجاج کی خبریں بھی پڑھنے کو ملیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ
ایسےلوگ اپنے حقوق کے لیے بیدار ہیں اور حق ماری کے خلاف ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ
یہی لوگ جو انڈے یا پھل کے نہ دینے پر برہم نظر آتے ہیں حکومت کے ذریعہ کی جارہی حق ماری جو ان چیزوں سے کہیں بڑی حق ماری ہے، کے خلاف آواز کیوں بلند نہیں کرتے؟حکومت کی جانب سے کتاب
فراہم نہ ہو اور اساتذہ پورے نہ ہوں تو کوئی بات نہیں۔ لیکن اگر کھانے
میں کمی یا نقص آجائے، اسکالر شپ یا پوشاک کی رقم بروقت نہ مل سکے یا کوئی بچہ اس سے محروم ہوجائے تو مرنے مارنےپر آمادہ ہو جاتے ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے لیے اسکول میں کھانا اور چند روپے جتنی
اہمیت رکھتے ہیں تعلیم کی اہمیت ان کی نظر میں اتنی نہیں ہے۔
حکومت اساتذہ کو بر وقت تنخواہیں نہیں دیتی۔ تین تین چار
چار مہینوں کی تنخواہیں زیر التوا رہتی ہیں۔ یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ جو
اساتذہ اسکولوں میں برسر کار ہیں وہ اسی ماہانہ تنخواہ کےلیے کام کر رہے ہیں۔
جب محکمہ بر وقت ان کی اجرت ادا نہیں کرے گا تو اساتذہ کو اپنی بنیادی
ضروریات کی تکمیل کے لیے دیگر ذرائع کو اختیار کرنا ہوگا۔ اس کا اثر تعلیم کے
معیار پڑے گا۔ سرپرستوں کی ہی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکومت کے اس رویہ کے خلاف
بھی کھڑے ہوں تاکہ ان کے بچوں کی تعلیم کا معیار اثر انداز نہ ہو۔جب اساتذہ اپنی
بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے دیگر ذرائع کو اختیار کرتے ہیں اور تعلیم متاثر
ہوتی ہے تو اس کا اثر ان کے ہی بچوں پر پڑتا ہے اور اساتذہ کا یہ مسئلہ بالواسطہ طور پر ان کا بھی مسئلہ ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ جو سرپرست خود اپنے بچوں کے
تئیں بیدار نہیں ہیں اور راست طور پر ہو رہی حق ماری کے خلاف کھڑے ہوکر آواز بلند
نہیں کرسکتے بالواسطہ طور پر ہونے والے نقصان کے خلاف آواز بلند کرنے کی فرصت کسے
ہے؟
اتنی ساری خامہ فرسائی کرنے کے بعد اچانک ذہن میں یہ بات
آئی کہ آخر یہ بات کس سے کہی جارہی ہے؟ جس سے خطاب ہے کیا ان تک یہ پیغام پہنچ
پائے گا؟ اگر اخبار میں یہ باتیں شائع ہوتی ہیں تو جو مخاطب ہے کیا وہ اس کو پڑھیں
گے ؟اور جو پڑھیں گے کیا ان کے بچے وہاں
پڑھتے ہیں جہاں کی بات کی جارہی ہے؟ اگر نہیں تو کیا جن کے بچے پڑھ رہے ہیں ان کے
بچوں کے لیے پڑھنے والے کے پاس اتنی فرصت ہے کہ وہ اس مسئلہ پر بیداری لائیں؟؟؟جواب
:نہیں! نہیں!! نہیں!!!
کیا یہ مسائل میلادوں ، جلسوں اور جمعہ کے خطبوں کا موضوع
نہیں بن سکتے؟؟؟