ہنگلش اور ہنگلشیا اردو
روزنامہ انقلاب بہار نے پیر ۶ نومبر ۲۰۱۷ کے اپنے اداریہ میں ’’کیسے کیسے الفاظ!‘‘ کے عنوان سےاہل اردو کے موجودہ لسانی رویہ کو موضوع سخن بنایا ہے۔ مدیر نے زبان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بجا طور پر محسوس کیا ہے کہ گھروں میں روز مرہ کے طور پر بولی جانے والی زبان کو آج ہم بھولتے جا رہے۔ اسی ضمن میں ایک طرف ہنگلش (ہندی اور انگریزی سے مخلوط زبان)کی اصطلاح رائج ہوئی ہے تو اہل اردو کا جو موجودہ لسانی رویہ ہے اس کے مطابق ہنگلشردو (ہندی، انگلش اور اردوسے مخلوط زبان) کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے اداریہ میں اس ضمن میں پیشے کے اعتبار سے کچھ الفاظ مثلا: ’بیلدار، خاکروب، جِلا کار، نان بائی، زر گر، خیاط، بھشتی، دھنیا‘تو گھروں میں استعمال ہونے والے ظروف اور دیگر اشیا کے نام کے طور پر ’مرتبان، آفتابہ، سماور، رکابی یا طشری، دست پناہ، آبخورا‘ اور مکان کے حصوں کے طور پر ’دیوان خانہ، باورچی خانہ، مہمان خانہ، صحن، طاق یا محراب، طاقچہ، دہلیز، دراز‘ تو محاوروں ، ضرب الامثال اور کہاوتوں میں’جہاں گنج وہاں رنج، آفت کا پرکالہ‘ جیسےالفاظ اور فقرے بطور مثال پیش کیے ہیں جن کی جگہ انگریز ی یا ہندی الفاظ لیتے جا رہے ہیں۔ میں نے تو ادیب و شاعر ہونے کے کئی دعویداروں کو عام گفتگو اور اردو سیمینار اور مذاکرہ میں ’سبب‘ کو’ کارن‘ کہتے ہوئے سنا ہے۔ اسی طرح کے ایسے کئی پیش پا افتادہ الفاظ ہیں جن کے لیے ہندی یا انگریزی کے الفاظ استعمال کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے لیکن لوگ بلا جھجک استعمال کرتے ہیں۔ تن آسانی سے کام لیتے ہوئے کئی ادباء و شعرا اپنے مضامین و مقالات میں بھی انگریزی کے ایسے الفاظ استعمال کرتے نظر آتے ہیں جن کے لیے اردو میں مناسب اور بر محل لفظ موجود ہے اور جس خیال کے اظہار کے لیے انگریزی کا لفظ استعمال میں لایا گیا ہوتا ہے اس خیال اور کیفیت کی پوری پوری ترجمانی اردو کے لفظ سے ہوتی ہے۔ تب بھی انگریزی کا استعمال ہو تو اس کو سوائے اردو والوں کی بے حسی کے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔
اس معاملے ایک اور خراب بات یہ پیدا ہوئی ہے کہ اب روکنے ٹوکنے کی روایت ختم ہو گئی ہے۔ ایسے کسی الفاظ، محاورے اور روزہ مرہ کے استعمال پر اگر خدا نہ خواستہ کسی نے ٹوک دیا تو ٹوکنے والی کی خیر نہیں ہے ۔ ممکن کچھ لٹھ مار قسم کے لوگ اسی وقت اس روک ٹوک پر روکنے والے کو ذلیل و رسوا کر دیں ورنہ ہمیشہ کے لیے دل میں دشمنی کا بیج پڑ ہی جاتا ہے جو کبھی بھی تناور ہوسکتا ہے۔ اب جو رجحان پیدا ہوا ہے اس میں لوگوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کی تعریف تو ڈنکے کی چوٹ یا پکی روشنائی سے کی جائے اور خامیوں کی نشاندہی کے لیے زیادہ سے زیادہ اس بات کے لیے وہ تیار ہوسکتے ہیں کہ ایسی باتوں کو ان کے کان میں سرگوشی کے انداز میں کہا جائے۔ جبکہ ہمارے متقدمین اس معاملے میں بڑے حساس ہوا کرتے ہوئے۔ بگڑی ہوئی زبان استعمال کرنے پر سخت گرفت کرتے تھے۔ اس معاملے میں کئی دلچسپ واقعات اور لطائف بھی ہماری ادبی اور لسانی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس طرح کی گرفت پر ادباء کے ادبی و لسانی معرکے تو چلتے تھے لیکن لٹھ ماری نہیں ہوتی تھی۔
اداریہ میں جن امور کی طرف نشاندہی کی گئی ہے وہ یقینا قابل تشویش اور قابل حسرت ہیں۔ ان امور کی طرف یقینا گھروں میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ محض زبان کی تبدیلی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ سارے الفاظ ہماری تہذیبی روایتوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کے امین ہیں۔ ان کا ختم ہونا ہماری تہذیبی شناخت کے مٹنے کا سبب بنےگا۔
یہ تو خیر سے گھروں اور بازاروں کی زبان ہے۔ سب سے حسرتناک بات یہ ہے کہ یہ ’’ہنگلشیا اردو‘‘ بعض اخبارات میں بھی بکثرت نظر آتی ہے۔ہندی کے جس لفظ کا اردو متبادل نہیں مل سکا تو اس کے لیے یا تو انگریزی لکھ دیا یا پھر ہو بہو اسی کو اتار دیا۔ یہ لفظ کی حد تک بار گرانی کے ساتھ لائق برداشت بھی ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی فقرے بھی ایسی ہنگلش یا ہنگلشیا اردو میں ہوتے ہیں جس سے عجیب مضحکہ خیز صورتحال پیدا ہو جاتی ہے اور سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔
افسوس کا مرحلہ یہ بھی ہے کہ اس امر میں ہمارے اندر بہت زیادہ بے حسی بھی پیدا ہوئی ہے۔ ہم ایسے الفاظ اخباروں میں دیکھتے ہیں طبع لطیف پر تو گراں گزرتا ہے لیکن اس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے ایسے اخبار میں مراسلہ لکھ کر اخبار کے مدیران کو ا س کی طرف متوجہ کیا جاتا۔
بات جب چلی ہے تو اس امر کی طرف بھی ہمیں متوجہ ہونے کی ضرورت ہے کہ جو نئی نئی اصطلاحیں رائج ہو رہی ہیں الگ الگ اخبارات میں ان کے لیے الگ الگ اصطلاحیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ بلکہ کبھی کبھی تو ایک ہی اخبار میں ایک ہی اصطلاح الگ الگ طریقہ سے دی ہوئی ہوتی ہے۔ اہل زبان کا ایماندارانہ اور اپنی زبان کے تئیں مخلصانہ حل تو یہ ہے کہ اخبارات کو چاہیے کہ ایسی اصطلاحات جو اب تک مشترکہ طور پر استعمال نہیں ہو رہی ہیں ان کی فہرست سازی کی جائے اور ایک مدت پر تمام اخبارات کو مل کر ہر نئی اصطلاح کے لیے مشترک طور پر ایک اصطلاح وضع کرناچاہیے اور پھرتمام اخبارات اس اصطلاح کو اختیار کریں۔ دوسرا طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہر اخبار اخبار کم از کم اپنے اخبار کا مشاہدہ و مطالعہ کرے اور اصطلاحات کے سلسلے میں جو بےترتیبی پائی جارہی ہے اس کی فہرست تیار کرے اور ان کی مناسب اصطلاح وضع کر کے اپنے نمائندوں کو اس سے واقف کرائے اور انہیں ہدایت دی جائے کہ فلاح ہندی یا انگریزی اصطلاح کے لیے فلاں اصطلاح استعمال کریں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زبان کی درستگی کے کے لیے وقفے وقفے سے ہر اخبار کو ورکشاپ ؍ آرینٹیشن جیسے پروگرام منعقد کرنے اور اپنے نمائندوں کی زبان کے تئیں بیدار کرتے ہوئے اچھی زبان سکھانے اور بتانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
زبان کی توجہ نہیں دلانے کے سبب اکثر جملوں میں مبتدا، خبر، عدد معدو، ممیز تمیز، موصول صلہ، تذکیر و تانیث ، فعل، فاعل اور مفعول وغیرہ میں مطابقت نہیں ہوتی ہے۔بہت سے لوگ فعل لازم اور متعدی کے فرق کو نہیں سمجھ پا رہے ہیں۔ ا ن امور کی طرف سے بے توجہی یا لا پرواہی زبان کے لیے نقصاندہ ثابت ہوگی
اخبارات میں بہت سی خبریں ترجمہ کی جاتی ہیں۔ ترجمہ یقینا زبان کے لیے تازہ خون ہے لیکن مقامی سطح پر اخبارات کے لیے جو لوگ ترجمہ کرتے ہیں طویل تجربات کے باوجود ان میں سے اکثر ہر دو زبان کی باریکی سے واقف نہیں ہوتے۔ انہیں نہیں پتہ ہوتا کہ اصطلاحیں کیسے وضع کرنی چاہئیں۔ پھر ترجمہ کے لیے ضروری ہے کہ جس زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے اس کے قواعد اور زبان کے عام مزاج کا خیال رکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں جب لفظ داخل ہوتے ہیں تو کبھی صوری اور کبھی صوتی طور پر بدل جاتے ہیں اور زبان کے مزاج پر ڈھل کر استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ اخبارات کو مقامی سطح پر کام کرنے والے افراد کے درمیان ان چیزوں کی طرف توجہ دلانے کا اقدام کرنا چاہیے۔ مقامی سطح پر جو لوگ اخبار میں کام کرتے ہیں انہیں وحید الدین سلیم کی وضع اصطلاحات کا مطالبہ میں ہمیشہ کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی فرہنگ اصطلاحات بھی ساتھ رکھنا چاہیے ۔ ہندی سے اردو، انگریزی سے اردو اور اردو سے اردو ڈکشنری تو اس پیشےکا ایک آلہ کار ہی ہے۔
زندہ زبانوں کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اس میں کھڑکیاں اور دریچے کھلے رکھے جائیں تاکہ دوسری زبانوں سے روشنی اور ہوائیں آتی رہیں۔ بلا شبہ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اگر دریچے وا نہیں رہیں گے تو زبان کا لفظی سرمایہ تنگ ہوتا چلا جائے گا۔ نئی فکر وتصورات کے بھی دروازے بند ہوجائیں گے۔ نئے افکار وخیالات کے بھر پور اظہار یا مکمل ترجمانی کے لیے ہمارے پاس جو لفظی و اصطلاحی سرمایہ ہونا چاہئے ہمیں اس سے بھی محروم ہوجانا پڑے گا اور زبان اپنے عہد کی دوسری زبانوں کے دوش بدوش نہیں چل سکے گی اور پھر زبان بقا سے عدم کی طرف بڑھتی چلی جائے گی۔ لیکن یہ بھی نظر میں رہنا چاہیے کہ دروازوں اور دریجوں سے گھر میں جو روشنی آتی ہے اس کے ساتھ گرد وغبار بھی آتے ہیں۔ ہم روشنی کو استعمال میں لاتے ہیں اور جو غبار آکر بیٹھ جاتا ہے اس کی جھاڑ پونچھ تسلسل کے ساتھ کی جاتی ہے۔ اسی طرح جو ہوائیں آتی ہیں اس میں آکسیجن کے علاوہ دیگر ہوائیں بھی ملی ہوتی ہیں۔ ہماری ناک اپنے فطری عمل سے آکسیجن کو چھانٹ کر جسم تک لے جاتی ہے جبکہ بقیہ گیس جو نقصاندہ یا غیر نقصاندہ ہی سہی لیکن ہمارے لیے کام کی نہیں ہوتی ان کو چھوڑ دیتی ہے۔
زبان میں بھی دوسری زبانوں کی روشنی اور ہوا دریجوں سے داخل ہوتی ہیں ان کا دخول محسوس اور غیر محسوس دونوں طریقے سے ہوتا ہے۔اس میں کچھ الفاظ کی حیثیت اسی گرد وغبار یا مخلوط گیس جیسی ہوتی ہے۔ اس میں جو روشنی اور آکسیجن کی حیثیت رکھتے انہیں ہم استعمال میں لاتے ہیں اور بقیہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی رکھنے اور چھوڑنے کا عمل اصلاح زبان کی تحریک سمجھی جاتی ہے۔ البتہ اصلاح زبان کی تحریک میں کبھی کبھی تشدد بھی پیدا ہوجاتا ہے جس سے زبان کو نقصان بھی ہوتا ہے۔ لیکن اصلاح زبان کی تحریک کے فوائد کا یکسر انکار ممکن نہیں ہے۔میرے خیال میں ایک زندہ زبان کو جراحی کے اس عمل سے گزرتے رہنا چاہیے۔ جو الفاظ زبان میں شامل ہوتے ہیں ان میں کچھ ایسے سہل ہوتے ہیں کہ وہ ہو بہو استعمال میں آنے لگتے ہیں اور کچھ میں صوت یا صورت کے اعتبار سے وہ سہولت موجود نہیں ہوتی ہے جو اس زبان کا عام مزاج ہوتا ہے تو غیر محسوس طور پر صوت اور صورت بدل لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے اساتذہ اور ماہرین فن اپنی زبان کے کچھ الفاظ کو واضح کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ فلاں زبان کا لفظ ہے اور اس میں اس کی اصل صورت یہ ہے۔ یہ سب لفظوں کو غیر شعوری طور پر سہل بنانے کے نتیجے میں ہی ہوتا ہے۔
No comments:
Post a Comment