اسلام نہیں مسلمان خطرے میں ہیں
اسلام اس دنیا میں باقی
رہنے اور پھلنے پھولنے کے لیے آیا ہے۔ یہ اپنی فنا کو مات دے کر آیا ہے۔ آب حیات سے اس
کی پرورش ہوئی ہے۔ اسلام نہ کبھی مٹے گا
اور نہ ہی وہ مٹنے کے لیے آیا ہے۔ نبی اکرم محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد نبوت
کا سلسلہ ہمیشہ لیے منقطع ہوگیا ہے۔ اب نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کسی شریعت کا
نزول ہوگا۔ شریعت محمدیہ اسلام کا فائنل ایڈیشن ہے جو قیامت کی صبح تک کے لیے ہے۔
چانچہ جب اسلام کو ہمیشہ باقی رہنا ہے تو اس پر کوئی خطرہ بھی لاحق
نہیں ہوسکتا۔ البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کے ماننے والوں پر ان کی بد
اعمالیوں کے نتیجے میں خطرات کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں
جب بھی خطرات کے بادل ان کے سروں پر چھائے ہیں اور اس کے بعد بھی انہوں نے اپنے اعمال
کی اصلاح نہیں کی تو ان کا وجود صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح
مٹا دیا گیا ۔
چونکہ
اسلام کو ہمیشہ باقی رہنا ہے اس لیے اللہ نے اپنے رسول سے یہ وعدہ بھی کیا ہے جس
طرح گزشتہ قومیں نیست و نابود ہوگئیں اس طرح یہ قوم ایک سال پوری کی پوری مٹائی نہیں جائے گی۔ ایسے میں اللہ تعالی نے جب
بھی اس مذہب کے نام نہاد دعویداروں کو اس کے کرتوت کی سزا دی ہے تو ان کی جگہ پر اپنے دین
اور شریعت کی حفاظت کے لیے دوسری قوم کو لے
آیا ہے۔
اس
وقت جو خطرات کے بادل ہیں یقین جانیے یہ اسلام اور شریعت پر نہیں بلکہ موجودہ
مسلمان قوم پر ہیں۔ اس لیے ساری تگ و دو اسلام کو بچانے کی نہیں مسلمان کو بچانے
کی ہونی چاہیے۔
جہاں تک اسلام کی بات ہے تو جب بھی ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں وہ اسلام کے لیے سنہرا دور ہوتا ہے کیونکہ اسی منافرت کے ماحول میں دوسری متنفر قوموں کے افراد کے لیے اسلامی تعلیمات کے راست مطالعہ کے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں اور ایسا ماحول پیدا ہوجاتا ہے کہ اب تک جو قوم مسلمانوں سے برسر پیکا ری وہ اسلام کی حامی و ناصر ہوجائے۔ اس طرح
جہاں تک اسلام کی بات ہے تو جب بھی ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں وہ اسلام کے لیے سنہرا دور ہوتا ہے کیونکہ اسی منافرت کے ماحول میں دوسری متنفر قوموں کے افراد کے لیے اسلامی تعلیمات کے راست مطالعہ کے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں اور ایسا ماحول پیدا ہوجاتا ہے کہ اب تک جو قوم مسلمانوں سے برسر پیکا ری وہ اسلام کی حامی و ناصر ہوجائے۔ اس طرح
رفتہ
رفتہ مسلمان قوم کے پرانے افراد اپنے کرتوت کے نتیجے میں ٹھکانے لگتے جاتے ہیں اور
دوسری قوم کے افراد ان کی جگہ لیتے رہتے ہیں جو فکر و عمل کے اعتبار سے اس سے کہیں
زیادہ توانا ہوتے ہیں۔
موجودہ
وقت میں بھی جب ہندوستان ہی نہیں ہر چہار جانب مسلمانوں پر خطرات کے بادل منڈلا
رہے ہیں اور مسلمانوں کی بد اعمالیاں اور سرکشی غالب ہوتی جا رہی ہے ۔ دین اور
شریعت سے ان کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے، اسلام اپنے بہترین دور کی طرف بڑھ رہا
ہے اور موجودہ مسلمان اپنے بدترین انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔لہذا دین کو نہیں خود
کو بچائیے۔