کام آئے گا جنوں، سختیٔ زنجیر نہ دیکھ
تعلیم ایک ایسا
عمل ہے جس سے قوموں کا مستقبل طے ہوتا ہے۔ جس قوم کو جیسا مستقبل چاہیے وہ اپنا تعلیمی
لائحہ عمل اسی کے مطابق طے کرتی ہے۔ ہر چند کہ تعلیم کا مقصد پیسہ کا کمانا نہیں ہے
لیکن دور حاضر میں بنیادی طور پر ایسی تعلیم پر زور ہے جس سے زیادہ سے زیادہ پیسے کمائے
جاسکیں۔ جب تعلیم کا مقصد پیسہ کمانا ہوگیا تو اس کے حصول کا طریقہ بھی مہنگا ہوگیاہے۔
ایسے میں مسلمان
جنہوں نے دنیا کو تعلیم کے حصول کا مقصد بھی سمجھایا عجیب صورتحال سے دو چار ہیں۔ ایک
بڑا طبقہ ہوا کے رخ پر بہتا ہوا ایسی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ
پیسے کمائے جاسکیں۔ ان کے یہاں بھی ایسے ہی تعلیمی ادارے قائم ہوئے جو اپنے بچوں کو
زیادہ سے زیادہ سے پیسے کمانے کے لائق بناسکیں اور خود بھی ان سے زیادہ سے زیادہ پیسے
کماسکیں۔
ہوا کے اس رخ
پر بہنے کے سبب تعلیم کا اصل مقصد ان سے فوت ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے یہاں بھی تعلیم
میں انسانیت سازی کے عمل کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی ہے۔ بچے کو پیسے کمانے کی مشین
بنانے کا عمل جاری ہے۔ ا س سوچ کا منفی نتیجہ یہ بھی ہے کہ ایسے ادارے خود بھی والدین
کا استحصال کرتے ہیں اور ان کے یہاں پڑھ کر نکلنے والے بچے بھی اخلاقی تعلیم سے عاری
ہوجاتے ہیں اور بڑے ہوکر زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کی غرض سے اپنے حدود کے لوگوں کا
استحصال کرنے سے نہیں چوکتے۔دیگر تعلیمی اداروں کی طرح ان کے یہاں بھی تعلیمی عمل میں
مورلیٹی (اخلاقیات) کا دعوی تو ضرور کیا جاتا ہے لیکن بچے کی عملی زندگی میں یہ ناپید
ہوتا ہے۔ وہ تمام خرابیاں جو دیگر تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں میں پائی جاتی
ہیں ان کے یہاں سے پڑھنے اور پڑھ کر نکلنے والے بچوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کے
باوجود کچھ ادارے ایسے ہیں جوکئی طرح کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اپنا تعلیمی لائحہ
عمل ایسا رکھنا چاہتے ہیں کہ ایک طرف وہ انسان کو اشرف المخلوقات بھی بنائیں اور اس
کو بھی ملحوظ خاطر رکھے ہوئے ہیں کہ زمانے کے جو تقاضے ہیں ان کے یہاں تعلیم حاصل کرنے
والے طلبہ اس میں پیچھے نہ رہ جائیں۔
”درس گاہ اسلامی
“ایسے ہی چند تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے جس کے سامنے تعلیم کا مقصد بھی واضح ہے اور
دور حاضر کے تقاضوں پر بھی اس کی نظر ہے۔
فی زماننا تعلیم
کو تجارت بنانے کا نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ امیر اور غریب میں امتیاز کی لکیریں اور
بھی موٹی ہوگئیں۔ اچھی اور معیاری تعلیم غریب اور معاشی طور پر کمزور طبقات کی رسائی
سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ درس گاہ اسلامی نے درمیانی اور ان کمزور طبقات کو اپنے ہدف
میں شامل رکھا ہے جو معاشی کمزوری کے سبب معیاری تعلیمی اداروں سے دور ہوگئے ہیں۔
مبارکباد کے مستحق ہیں درس گاہ کے منتظمین کہ وہ
محدود ترین وسائل کے باوجود ہوس پرستی کے اس دور میں مضبوط قوت ارادی کے ساتھ کھڑے
ہیں اور متوسط و کمزور طبقات کے درمیان معیاری تعلیم کو عام کرنے کی حتی الامکان کوشش
کر رہے ہیں۔
”درس گاہ اسلامی“
محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک تحریک ہے۔ تحریک انسان کو توانائی بخشتی
ہے۔ مشکل سے مشکل ترین کام بھی تحریکی جوش و جذبے میں بہ خوبی انجام پاجاتے ہیں۔ اپنے
اسی جوش وجذبے کے ساتھ درس گاہ نے اپنے سماج میں تعلیم کی روشنی کو جس طرح عام کیا
ہے اس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔لیکن یہ بھی ایک تلخؒ حقیقت ہے کہ بڑی سے بڑی تحریکیں
فراموشی کی شکار ہوگئیں اس لیے کہ ان کی خدمات کو ضبط تحریر میں نہیں لایا گیااوراس
طرح ان کی نسلیں اپنے اسلاف کی خدمات سے نا آشنا ہوگئیں۔
درس گاہ کے منتظمین
اور کتاب کے مرتبین اس بات کے لیے بھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ اس تحریکی ادارے
کی خدمات کو فراموشی سے بچانے کے لیے کاغذی پیرہن عطا کر رہے ہیں۔ یہ صرف خدمات کو
محفوظ کرنے کا وسیلہ نہیں ہوگا بلکہ امید کی جاتی ہے کہ اس سے سماج کے فکر مند اور
حساس طبقہ کو ترغیب اور توانائی ملے گی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی کوششوں سے
درمیانی اور متوسط طبقے کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کا ایسا ادارہ فراہم کرسکیں جس
میںانسان کو انسانیت کا سبق سکھانے کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں پر کھرا اترنے والے قابل
افراد بھی تیار کئے جائیں۔
دور حاضر کی
چکا چوند روشنی نے جس طرح لوگوں کی نظروں کو خیرہ کردیا ہے اس سے ایسے تعلیمی اداروں
کے تئیں سماج کا رویہ بڑا افسوسناک ہے۔ مگر اس سے ایسے تعلیمی اداروں کے منتظمین کو
مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یقینا جس کے مقاصد عظیم ہوتے ہیں ان کی مشکلات زیادہ
اور راہیں دشوار ہوتی ہیں۔ ایسے وقت میں ثبات قدمی اور صبر وسکون کامظاہرہ کرنے کی
ضرورت ہے۔ ممکن ہے کہ ایسی کوششوں کے اثرات حال میں نظر نہ آئیں لیکن مستقبل میں اس
کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ منتظمین کے لیے میرا پیغام بس یہی ہے بقول شاعر:
کام
آئے گا، جنوں سختیٔ زنجیر نہ دیکھ
خود کو گر دیکھنا ہے گردشِ تقدیر نہ دیکھ
گاہے کردیتی ہے کچھ دور بھی مقصد سے یہی
خواب سے پہلے کبھی خواب کی تعبیر نہ دیکھ
عقلِ عیّار کو شرمندئہ وحشت کردے
برسرِ دار مچل کاہشِ تعذیر نہ دیکھ
تیشہ برداروں سے ہر دَور کی تاریخ بنی
کاوشیں دیکھ، کبھی حاصلِ تدبیر نہ دیکھ
عصرِ حاضر کے تقاضوں کو پسِ پشت نہ ڈال
شاعرِ شعلہ صفت! شبنمی تحریر نہ دیکھ
قوّتِ بازو پہ، رکھ عزمِ مصمّم پہ نظر
سعیٔ پیہم کے سوا نسخۂ تسخیر نہ دیکھ
منتظر آج بھی کچھ تازہ افق ہیں طرزی
کوچۂ شوق میں آ، درد کی تفسیر نہ دیکھ
٭٭٭
خود کو گر دیکھنا ہے گردشِ تقدیر نہ دیکھ
گاہے کردیتی ہے کچھ دور بھی مقصد سے یہی
خواب سے پہلے کبھی خواب کی تعبیر نہ دیکھ
عقلِ عیّار کو شرمندئہ وحشت کردے
برسرِ دار مچل کاہشِ تعذیر نہ دیکھ
تیشہ برداروں سے ہر دَور کی تاریخ بنی
کاوشیں دیکھ، کبھی حاصلِ تدبیر نہ دیکھ
عصرِ حاضر کے تقاضوں کو پسِ پشت نہ ڈال
شاعرِ شعلہ صفت! شبنمی تحریر نہ دیکھ
قوّتِ بازو پہ، رکھ عزمِ مصمّم پہ نظر
سعیٔ پیہم کے سوا نسخۂ تسخیر نہ دیکھ
منتظر آج بھی کچھ تازہ افق ہیں طرزی
کوچۂ شوق میں آ، درد کی تفسیر نہ دیکھ
٭٭٭
No comments:
Post a Comment