مشمولات

Wednesday, 27 August 2025

پروفیسر صفدر امام قادری کی صدارت

 

پروفیسر صفدر امام قادری کی صدارت


قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ذریعہ پٹنہ میں22-24  اگست 2025 کو   ہونے والے سیمینارمیں پروفیسر صفدر امام قادری نے ایک مجلس کی صدارت کی۔ اس صدارت میں انہوں نے جو اظہار خیال کیا اس سلسلے میں مجھے ایک واٹس ایپ میسیج موصول ہوا جس میں ان کی صدارت کو "دھجی اڑانے" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس بات سے مجھے شدید اختلاف ہے۔ اس رائے زنی پر میری ناقص رائے کچھ اس طرح ہے:                 
پروفیسر صفدر امام قادری نے ایک نشست کی صدارت فرماتے ہوئے پیش کردہ مقالوں اور تبصروں پر عالمانہ گفتگو کی۔ علمی مجلسوں کے صدر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مجلس میں پیش کردہ علمی گفتگو پر نظر رکھے اور جب اس کو صدارتی کلمات کے لیے دعوت دی جائے تو وہ ان پر عالمانہ انداز میں تبصرہ کرے۔ یہ صرف اس مقالہ نگار یا علمی بحث کرنے والوں پر رد عمل نہیں ہوتا بلکہ وہاں موجود سامعین کی رہنمائی بھی ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ مقالہ نگار یا باحث اپنی گفتگو میں کوئی علمی سہو کر گیا ہو۔ چونکہ سامعین ہر سطح کے ہوتے ہیں اس لیے بعض سامع ان کے خیالات سے گمراہ ہو سکتے ہیں یا ان کی معلومات میں غلط بات بیٹھ سکتی ہے۔ ایسے میں صدر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس کی اصلاح کرے۔ جہاں طلبہ اور اسکالر بیٹھے ہوں وہاں نہ صرف خیالات سے بلکہ پیشکش کے طریقوں پر بھی اختلاف کیا جاسکتا ہے یا کوئی مفید علمی مشورہ دیا جاسکتا ہے اور دیا جانا چاہیے۔  صدر کی باتوں کو "دھجی اڑانے" سے تعبیر کرنا یہ ایک قسم کی شر انگیزی اور فتنہ پروری ہے۔

 گرچہ بعض اوقات اپنی محبوب شخصیت کے علمی قد کو بڑھا چڑھا کر پیش  کرنے یا ان کی دھاک جمانے کے لیے اس طرح کے فقرے استعمال کیے جاتے ہیں  لیکن حقیقت میں ایسے فقرے صدر کی  بدنامی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ بلکہ صدر کو بدنام کرنے کی یہ ایک سازش ہوتی ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا ہے کہ کسی صدر نے کسی مجلس میں  جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ تنقید یا اختلاف رائے سے بالاتر ہے۔ لیکن اس طرح کے فقرے استعمال  نہیں  کرنا چاہیے۔ اگر ان کی رائے سے  کسی کو اختلاف ہو تو بعد میں یا اگر موقع ہو اور ماحول میں نا خوشگواری کی فضا پیدا ہونے کا خطرہ نہ ہو  تو اسی مجلس میں مہذب، شائستہ ، مدلل، منطقی اور علمی انداز میں تردید کی جاسکتی ہے۔ چونکہ صدر کے بعد کسی اور کے اظہار خیال کی روایت نہیں رہی ہے ۔ اس لیے یہ کام اسٹیج سے نہیں کیا جانا چاہیے۔

 علمی دنیا میں اختلاف رائے علمی نشاط اور بیداری کا مظہر ہے اور یہ ہوتے رہنا چاہیے۔ ورنہ علمی جمود کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو  تو کسی علمی مجلس کے انعقاد کا جواز بھی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اختلاف رائے اور تردید کے وقت علمی اسلوب اور شائستگی برقرار رہنی چاہیے ۔ کسی پر ایسا جارح تبصرہ نہیں کرنا چاہیے جس سے کسی کی تذلیل ہو یا اس کی عزت نفس کے خلاف  بات ہو۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگ بڑے نازک ہوتے ہیں۔ علمی مجالس میں بشمول صدر اگر  ان کی رائے سے کوئی اختلاف کرتا ہے تو وہ اس کو اپنی عزت نفس یا علمی شان  کے خلاف سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن یہ بات عزت نفس کے خلاف تھی یا نہیں تھی اس کا اندازہ عام لوگوں کو بخوبی ہوتا ہے۔

Tuesday, 26 August 2025

Hindustani Bachcon ka Khab Wiksit Bharat ke Tanazur men

 

 

سیشن: بچوں کے خوابوں کا ہندوستان: قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ کے تناظر میں

 

 

میں سب سے پہلے قومی کونسل کے ڈائرکٹر جناب شمس اقبال صاحب اور ان کی پوری ٹیم کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ جیسے مبتدی کو اس علمی اور اہم سیمینار میں لب کشائی کا موقع دیا ۔  موجودہ ڈائرکٹر کی یہ کوشش  اور یہ پہل یقیناً قابل ستائش ہے کہ ماہرین کے ساتھ ساتھ مبتدیوں کو جگہ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی ہے اور ان کو مستقبل کے لیے تیار ہونے کا موقع دیا ہے۔

ساتھ ہی کونسل انتظامیہ اس بات کے لیے بھی پوری اردو آبادی کے شکریہ کی مستحق ہے کہ انہوں نے  سیاسی اور نظریاتی اختلافات سے بالا تر ہو کر ایک ایسے موضوع پر  اہل علم و نظر کو دعوت فکر و عمل دی ہے  جس سے نہ صرف اس ملک کا بلکہ ملک کے شہری ہونے کے ناطے ہر ایک فرد کا مستقبل وابستہ ہے۔ ۲۰۴۷ میں ہمارا ملک آزادی کے سو سال پورے کر ے گا۔ سو سال پورے ہونے پر ایک ترقی یافتہ ملک کا خواب دیکھتے ہوئے ایک منصوبہ بندی کی گئی ہے اور منصوبہ بندی کے اس دستاویز کو "وکست بھارت ۲۰۴۷" کا نام دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ دعوی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ مذکورہ دستاویز تنقید سے بالا تر ہے لیکن  ایک خواب کو بنیاد ضرور دیتا ہے۔  

خواب مستقبل میں سنہری زندگی کا وہ تصور ہے جو کسی بھی انسان کی زندگی کو آسان، پائیدار اور مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ اعلی  طرز حیات کو اختیار کرنے کا حامل بناتا ہے جس میں ایک پر وقار ، شائستہ اور آسائش سے بھری زندگی کا تصور شامل ہے جس میں امن و سکون اور مسرت وشادمانی  کی فراوانی ہو۔ ہر فرد کو یکساں تعلیم اور صحت کی خدمات حاصل کرنے کے مواقع میسر ہوں۔ تعلیم وہ جو اس کو اعلی فکر و نظر کا حامل بنائے۔ زندگی جینے کے لیے  بلا امتیاز ہر فرد کو ملک کے  وسائل سے مستفید ہونے  کے  منصفانہ مواقع فراہم کرے۔

کونسل انتظامیہ اور اس کے ڈائرکٹر نے اردو آبادی کے اہل علم و نظر  کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ علمی اور عملی انداز میں اس دستاویز کا مشاہدہ کریں اور اس کے تمام منصوبوں اور نکات کا  تجزیہ کرتے ہوئے وہ راہیں تلاش کریں  جن   کو اختیار کرکے  یہ طبقہ بھی ملک کی دیگر آبادی کی طرح اپنی ترقی کی راہ ہموار کر سکے۔  ان منصوبہ جات  کے مطابق جو ترقیاتی امور انجام دئیے جانے ہیں اس میں کوئی طبقہ  پیچھے نہ رہے  اور ترقی  کا جو فائدہ حاصل ہونا اس میں ہماری آبادی  بھی پیچھے نہ رہ جائے۔ گویا:

یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی

جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

 جیسا کہ میں نے  کہا کہ وکست بھارت ۲۰۴۷ ایک ترقیاتی منصوبہ ہے۔ حالانکہ یہ کوئی جادو کی چھڑی ہے ایسا بھی نہیں ہے۔  کئی نکات ایسے  ہیں جن میں اختلاف کی گنجائش اور جن پر سوالات قائم کئے جاسکتے ہیں اور کیا بھی جانا چاہیے کیونکہ یہی زندہ قوموں کی نشانی ہے۔  لیکن  اس حقیقت سے اغماض نہیں برتا جاسکتا کہ اس حکمت عملی کی بنیاد پر ملک میں جو ترقیاتی کام انجام پائیں گے اردو آبادی نے  اس پر  سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور اس سے خود علاحدہ رکھا تو ظاہر ہے کہ یہ  اردو آبادی کا ایک نقصان ہوگا اور مجموعی طور پر یہ ملک کا نقصان ہوگا کہ ملک کا کوئی طبقہ یا کوئی شہری  ترقی  کی عام دھارا سے الگ ہوجائے تو  اس سے ملک کاترقیاتی منصوبہ اور خواب پورا نہیں ہوسکتا ہے۔  یہاں بہت تفصیل سے گفتگو کی گنجائش نہیں ہے۔ فاضل مقالہ نگاروں نے بہت سے اہم پہلو کو اپنی گفتگو میں اجالا بھی ہے لیکن  وکست بھارت ۲۰۴۷ کے  دستاویز   کی فہرست پر اگر ہم سرسری نظر ڈالیں تو ہم پاتے ہیں کہ اس میں وہ منصوبے شامل ہیں جو ملک کے شہری کو ترقی  کا خواب پورا کرنے کے مواقع دیتے ہیں۔ جیسے  مواقع کی مساوی دستیابی، عالمی رجحان، معاشی نظام، علمی معاشیات، حکومت اور مفاد عامہ، ڈیجیٹل معاشیات، سبز معاشیات، ہندوستان بطور تمدنی قوت،  روز گار پیدا کرنے والوں کو آزادی فراہم کرنے والا منصوبہ بند نظریہ ،تعلیم اور ہنر کا فروغ، شہری ترقی، زمین اور ریئل اسٹیٹ، زراعت اور دیہی علاقہ جات، ٹرانسپورٹ اور توانائی اور جرائم اور نظام عدلیہ جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ان کے ذیلی نکات ہیں جو ان کی وضاحت کرتے ہیں اور طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو  یہ وہ نکات ہیں جو ملک کے ہر شہری کو مثبت انداز میں  متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس حیثیت  سے یہ ایک اچھی پہل ہے کہ ہم اس کو ایک Opportunity کے  طور پر لیتے ہوئے اپنی ترقی  کا ایک جامع منصوبہ تیار کریں۔  چنانچہ رواں سیشن کا موضوع ہندوستانی بچوں کا خواب یا بچوں کے خوابوں کا ہندوستان : قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ کے تناظر میں باہم مربوط ہے۔  فی الحال وقت اجازت نہیں دیتا کہ ان تمام نکات کو زیر بحث لایا جائے۔ مارے فاضل مقالہ نگاروں نے متعلقہ موضوع سے متعلق مختلف نکات پر انتہائی خوبصورت انداز میں روشنی ڈالی ہے   اور قومی تعلیمی پالیسی کے تناظر میں ۲۰۴۷ کے ترقی یافتہ ہندوستان  میں بچوں کے خوابوں کے ہندوستان کی ایک واضح تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

چونکہ بچوں کے خواب کی پہلی بنیاد تعلیم ہے اور تعلیم ہی تمام تر ترقی کی کلید ہے۔ اس لیے اس گفتگو کو تعلیم پر مرکوز رکھنا چاہیے۔پہلے سیشن میں جناب ڈاکٹر عطا عابدی صاحب نے ادب اور حب الوطنی ، جناب ظفر کمالی صاحب نے قومی تعلیمی مسائل اور جناب شکیل کاکوی نے مادری زبان کے حوالے سے گفتگو کی۔ وکست بھارت کے دستاویز کی شق ۵ میں  بھی تعلیم کے امور کو   تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

۱ء۵ میں تعلیم کے سلسلے میں  کہا گیا ہے کہ

ہندوستان میں آبادیاتی فائدوں  کے سلسلے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور اس کو یقینی بنانے کی ضرورت کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس کو حقیقت میں تبدیل کیا جائے۔ اس کے لیے بنیادی تعلیم (عملی خواندگی اور عدد شماری) اور روزگار   کے ہنر  پر قومی سطح پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ دستاویز کی یہ شق تعلیم، ڈیجیٹل ٹیچر، روزگار اور ہنر ملازمت، وسائل محنت اور  اجرت   اور بے روزگاری،  اجرت میں اضافہ،  دیہی روزگار اور اجرت، نوجوان روزگار اور تلاش ملازمت، خواندہ وسائل محنت کی دستیابی، ڈیجیٹل اسکل، نالج اسٹیک  کے علاوہ ۵ء۱۰ کی شق میں تعلیم اور فروغ  ہنر جیسے موضوعات پر مبنی ہے۔  سیمینار کے موضوع کا دوسرا اہم حصہ قومی تعلیمی پالیسی ہے۔  ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ کو ایک ذریعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔  اب مذکورہ پالیسی کے دستاویز کے تعارف کو ذرا  ملاحظہ کریں:

" ۲۰۱۵ میں بھارت کے ذریعہ ۲۰۳۰ کے لیے اپنائے گئے پائدار ترقی کے ایجنڈے میں شامل ہدف ۴ میں ؛جس میں عالمی تعلیمی ترقی کا ذکر ہے؛ بھارت کی کوشش ہے کہ ۲۰۳۰ تک داخلی اور مساویانہ معیاری تعلیم اور سب کے لیے تا حیات حصول علم کے مواقع کے فروغ کو یقینی بنائے۔ "

مزید یہ کہا گیا ہے :

"ہمار ا مقصد ۲۰۴۰ تک بھارت میں ایسا بے مثال تعلیمی نظام قائم کرنا ہے جو قطع نظر سماجی یا اقتصادی پس منظر ایک طالب علم کو اعلی معیار کی تعلیم منصفانہ طور پر فراہم کرے۔ "

یہ دعوے کس حد تک کامیاب ہوں گے اس پر میں   اپنی رائے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں کہ اگر ان سے چشم پوشی کی گئی تو ۲۰۴۷ کے مزعومہ  ترقی یافتہ ملک میں ہمارا مرتبہ کیا ہوگا اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بہر حال قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ بھی ایک وسیع دستاویز ہے جس میں تعلیمی ترقی کے منصوبے درج ہیں۔

 یہاں اس بحث ان میں سب کی وضاحت نہیں کی جاسکتی ہے اس لیے اجمالی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰  کاغذ پر  کشیدہ خطوط کی وہ تصویر ہے جس میں اگر رنگ بھر گیا یا تصویر میں جان پڑگئی تو ہمارا ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوگا یا اس سے قریب تر ہوگا۔

مذکورہ دستاویز کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں   ہمارے ملک میں تعلیم  کا وہ اعلی معیار ہوگا جس کا فائدہ اٹھا کر تخلیقی ذہن کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے غیر ممالک کی طرف ہجرت نہ کرنی پڑے گی۔گویا برین ڈرین جو ہمارے ملک کا ایک بڑا المیہ ہے وہ ختم ہوگا اور ہماری تخلیقیت اور توانائی کا فائدہ دوسری قوموں کو برآمد نہیں ہوگا بلکہ اس ملک کے باشندے خود اس سے مستفیض ہوں گے۔  اسی طرح کسی شخص کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے دیگر ممالک کا سفر کرنے کی مجبوری نہ ہوگی۔ بچوں میں وہ ذہن پیدا ہوگا جو منفرد اور منطقی انداز میں سوچ سکیں اور چیزوں کو نہ صرف  اپنے انداز سے دیکھ سکیں بلکہ بے خوف ہو کر اس کا اظہار بھی کرسکیں۔ تعلیم کے ذریعہ طلبہ میں وہ تحمل کی صلاحیت پیدا ہوگی جو ملک کے ہر شہری کو ان کے  حدود میں تسلیم کرے گا اور ان کی آزادی کے ساتھ کوئی  دست درازی نہیں کرے گا جس سے وہ تنوع جو اس ملک کی شناخت ہے اور ہزاروں سال  اور ملک میں آ کر بس جانے والی متعدد قوموں کی کوشش سے پیدا ہوا ہے اس کے بقا کی ضمانت مل سکے گی۔   اس سے ہمارا  ملک امن کا گہوارہ بن سکے گا۔

مذکورہ تعلیمی پالیسی کے دستاویز میں   اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر شہری اپنے اندر بھارتی ہونے کا احساس کرسکے۔ ایسا کہا جاسکتا ہے کہ  مذکورہ منصوبہ بندی کی روشنی میں تعلیم کو اس نہج پر عام کرنے کی کوشش کی جائے گی بچوں کے خوابوں کے ہندوستان میں ملک کے ہر شہری کو بلا امتیاز بھارتی ہونے  کا  احساس اور اس پر بجا طور پر فخر  اس طرح ہوگا کہ اس کی اپنی تہذیبی، مذہبی، اعتقادی  یا کسی بھی طرح کی شناخت مسخ نہ ہو۔  دستاویز میں سرکاری اور نجی اداروں کے معیار کو ہم پلہ لانے کی کوشش کا بھی ذکر ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک میں تعلیم کی  تقسیم میں مساوات پیدا ہوگی اور کوئی بچہ مالی تنگی کی وجہ سے  تمام تر اہلیت کے باوجود کسی مخصوص علم یا ہنر سیکھنے سے معذور نہیں ہوگا اور نہ ہی مالی تنگی کسی بچے کو ترک تعلیم پر مجبور کر سکے گی۔  

مذکورہ دستاویز کے ۱۱ء۴ سے لے کر ۲۲ء۴ تک  میں کثیر لسانی روایت اور زبان کی قوت کے حوالے سے تفصیل بحث کی گئی ہے جس میں ہر بچے کو اپنی مادری اور علاقائی زبانوں کو پڑھنے، ان میں تعلیمی مواد حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اور اس کے فائدے بھی بتائے گئے ہیں۔  

ہم سب جانتے ہیں کہ انسان  اپنے کام کاج کے لحاظ سے خواہ کوئی زبان بولے لیکن  نیند، خواب اور اضطراری حالت میں وہ اپنی مادری زبان بولتا ہے۔ ہر شخص  خواب مادری زبان میں دیکھتا ہے۔ اس دستاویز کی رو سے ہم امید کرتے ہیں کہ ملک کے ہر شہری کو خواہ وہ ہندوستان کی کسی بھی مادری زبان سے تعلق رکھتا ہو اس کو اس کی مادری زبان میں وہ تمام تر وسائل دستیاب ہوں  گے  جن کی مدد  سے وہ اپنی مادری زبان میں خواب دیکھ سکے گا  اور اس کو بلا امتیاز وہ وسائل حاصل ہوں گے  جن سے  وہ  مادری زبان میں دیکھے گئے اپنے خوابوں کو  پورا کرسکے اور اس ملک کی ترقی میں اس شراکت ہوسکے۔ خوابوں کو  پورا کرنے کے لیے  اسے کوئی قربانی نہ دینی پڑے ۔ خواہ یہ قربانی زبان کی ہو یا تہذیب  کی ہو یا اعتقاد کی ہو۔

امید ہے کہ ترقی یافتہ ہندوستان ۲۰۴۷ میں ہر شہری کو کھانا، کپڑا اور مکان ہی نہیں، تعلیم، صحت ، وقار ، عزت ، زبان، تہذیب، ثقافت ، تاریخی وراثت  اور اعتقاد کو محفوظ رکھنے کی آزادی، انصاف اور نسل، ذات، مذہب، جنس اور علاقہ جیسے تمام تعصبات سے آزادی   اور مساوات حاصل ہوگی۔ ہمارے ماحولیات کو تحفظ ملے گا  جس سے یہ زمین اور فضائیں نوع انسانی کے لیے محفوظ آرام گاہ ہوں گی۔ اور ثقافتی تنوع  کو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا بھر پور موقع حاصل ہوگا۔  ہمارا ملک امن کا  سچا گہوارہ ہوگا اور  ہر شہری امن اور خوش حالی کی فضا میں سانس لے گا۔

انہی باتوں کے ساتھ میں اپنی بات کو ختم کرتا ہوں۔ ایک بار پھر کونسل انتظامیہ کا شکریہ !

شریک بحث

احتشام الحق