مشمولات

Sunday, 20 May 2012

انسداد دشہت گردی کے کارفرما عوامل


انسداد دہشت گردی کے کارفرما عوامل
                                                                                                               
پسماندگی شاید ہندوستانی مسلمانوں کا مقدر بن چکی ہے۔ کیونکہ آزادی کے بعد ہی سے جس طرح سے مسلمانوں کے ساتھ برتاؤ کئے گئے ہیں ، ان سے تو یہی لگتا ہے کہ مسلمان ہندوستان میں رہیں ضرور مگر ہمیشہ پچھڑے اور دوسرے درجے کے شہری بن کر رہیں۔ ملک آزاد ہو رہا تھا تو ایسی سازش رچی گئی کہ تقسیم کا سانحہ پیش آنا فطری تھا۔ اس سے مسلمانوں کی طاقت دو لخت ہو گئی۔ چونکہ ملک کی تقسیم فرقہ وارانہ سوچ کے تحت ہوئی اس لیے ملک بھر میں فرقہ وارانہ رجحانات کو فروغ حاصل ہوا۔ اس کے نتیجے میں مسلم کش فسادات کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا۔ ملک کے جس خطہ میں بھی مسلمان معاشی طور پر مستحکم تھے ان علاقوں کو فسادات کا نشانہ بنایا گیا اور معاشی طور پر ان کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی۔ معاشی پسماندگی کے اثرات کئی محاذ پر نظر آئے ۔ سب سے پہلے تو یہ کہ وہ تعلیم میں پچھڑ گئے۔ تعلیمی پسماندگی کے نتیجہ میں سرکاری ملازمت بھی انہیں آبادی کے تناسب سے حاصل نہیں ہوسکی اور جو مسلمان مختلف نوکریوں کے اہل بھی تھے تو فرقہ وارانہ رجحان کے فروغ کی وجہ سے سلیکشن میں ان کو نظر انداز کرنے کی ہر ممکن کی کوشش کی گئی۔ ملک کے Key Postپر مسلمانوں کی تقرری سے تو خیر قصداً ہی اجتناب کیا جاتا رہا ہے۔
فرقہ وارانہ سوچ کی وجہ سے سیاسی اداروں میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی کم ہوتی چلی گئی۔ کیونکہ غیر مسلم علاقوں میں انہیں مناسب حمایت نہیں مل سکی۔ مسلم علاقوں کے لوگ فسادات کی وجہ سے منتشر ہوگئے۔ پھر جن علاقوں میں مسلمان مناسب تعداد میں رہے بھی تو ان علاقوں میں مسلمان نمائندوں کو پارٹیوں نے ٹکٹ دینے سے احتراز کیا۔یا انتخابی حلقوں کو اس طرح سے بنایا گیا کہ مسلمان ایک جگہ رہنے کے باوجود ووٹ بینک نہ بن سکیں۔ جو مسلمان نمائندے جیت کر ایوان تک پہنچے پارٹیاں ان کو یہ احساس دلاتی رہی کہ ان کی ساکھ پارٹی کے رحم وکرم پر ہے ۔ چنانچہ وہ ایوانوں میں اپنی آواز بلند نہیں کرسکے۔
چونکہ حکومت اور ملازمت میں مسلمان کم رہے اس لیے جمہوری ملک میں ان کا جو حق تھا وہ بھی انہیں پورا پورا نہیں مل پایا۔ ساتھ ہی ہر دور میں انہیں Morally Downکرنے کی کوشش بھی کی جاتی رہی۔ مثلاً حکومت ہر دس سال پر مردم شماری کراتی ہے۔ آزادی کی بعد کے دنوں میں جو مردم شماری ہوتی رہی اس میں مسلمانوں کا جو منظر نامہ پیش کیا گیا اس میں یہ دکھایا گیا کہ مسلمانوں میں بچوں کی پیدائش کی شرح آبادی کے تناسب سے زیادہ ہے ۔ اگر یہی شرح برقرار رہی تو مسلمان اکثریتی طبقہ کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ نیز فسادات کا بھی یہی تاثر دیا گیا کہ اگر ان کی نسل کشی نہیں کی گئی تو یہ اکثریتی طبقہ سے آگے بڑھ جائیں گے۔
ان سب کے باوجود مسلمانوں نے اپنی سخت جانی کا ثبوت پیش کیا۔ خلیج اور دیگر ممالک میں ملازمت کا راستہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ ملک میں چھوٹی چھوٹی تجارتوں کے ذریعہ انہوں نے اپنی اقتصادیات کو سہارا دیا۔ حالات میں تبدیلی آئی۔ ان کی زندگی قدرے بہتر ہوئی۔ تعلیم میں بھی پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے بھی آزادی اور جمہوریت کی اہمیت کو سمجھا اور اپنے حقوق کی بازیافت کی کوشش کی ۔ سرکاری ملازمتوں کی دوڑ میں بھی شامل ہوئے۔ تب مسلمانوں کو پسماندگی کی طرف دھکیلنے کی نئی تھیوری اپنائی گئی۔ صورت حال کو پلٹ دیا گیا اور ملک کے سامنے مسلمانوں کا نیا منظر نامہ پیش کیا گیا۔ سروے کے ذریعہ یہ بتایا گیا کہ ملک میں مسلمانوں کی آبادی محض ۴۱ فیصد ہے۔ یہ معاشی اور سماجی طور پر دلتوں سے بھی بدتر حالت میں ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں ان کی تعداد ۲ فیصد بھی نہیں اور سیاسی اداروں میں ان کی حصہ داری ان کی آبادی کے تناسب سے کہیں پیچھے ہے۔ شرح پیدائش میں غیر معمولی کمی آئی ہے۔
ان کے ذریعہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلمان ملک میں دفاعی صورت حال میں بھی نہیں ہیں۔ حکومت میں ان کے پاس آواز نہیں ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں بھی وہ ایسے نہیں ہیں کہ حکومت کی پالیسی کو سمجھ سکیں اور کسی طرح کا راز افشا ہو۔ دوسری طرف انہی سروے کے اندر یہ بتایا گیا ہے کہ جیل میں مسلمانوں کی تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہے۔ یعنی مسلمان جاہل، غیر مہذب، جنگجو اور سماج مخالف قوم ہے۔ اس سے ظاہر ہے مسلمانوں کے حوصلے پست ہوں گے، انہیں ہر دم اپنی کم تری کا احساس رہے گا اور وہ سمجھیں گے کہ ملک میں ان کی بقا کا دار و مدار اکثریتی طبقہ کی نظر عنایت پر ہے۔ نیز ملک میں ہندتو کے نام ہندو احیاءپرستی کی جو کوشش ہو رہی ہے اس کی نظریاتی بنیاد بھی مستحکم ہوگی۔
اب جبکہ مسلمانوں نے یہ جان لیا ہے کہ ترقی کا انحصار تعلیم اور محنت پر ہے۔ وہ تعلیم کی طرف بڑھے ہیں تو انہیں تعلیم سے روکنے کے لئے نئی ترکیب تلاشی گئی ہے ۔ یہ نئی ترکیب انسداد دہشت گردی مہم ہے۔ دہشت گردی کے نام پر نوجوان مسلم طلبہ کو ،جن کی عمریں ۸۱۔۵۲ کے درمیان ہوتی ہے دہشت گردی کا الزام لگا کر، گرفتار کرلیا جاتا ہے یا فرضی انکاؤنٹر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
معصوموں کو پکڑے جانے کے اور فرضی انکاؤنٹر کا نشانہ بنائے جانے کے بعض شواہد سے تو ایسا لگتا ہے کہ ملک کی خفیہ ایجنسیاں اس کے لیے پہلے سے سازش رچتی ہے اور ایک روڈ میپ تیار کرتی ہے جس میں ایسے لڑکوں کی فہرست ہوتی ہے جو خاص طور پر ٹیکنیکل ایجوکیشن اور اعلی تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ یہی ایجنسیاں کہیں کوئی دھماکہ کرواتی ہیں۔ پھر اس روڈ میپ کے مطابق ان لڑکوں کو تلاش کرتی ہے۔ گرفتاری کے وقت ان کے کمروں میں دھماکہ دار اشیا کے ساتھAK47وغیرہ ڈال دیتی ہے اور پھر اخباروں میں تصویروں کے ساتھ شائع کراتی ہے کہ یہ ہتھیاروں اور دھماکہ دار اشیا کے ساتھ گرفتار ہوئے۔ گرفتاری کے بعد انہیں مختلف طرح سے ذہنی اذیت دے کر اس روڈ میپ کے مطابق نام لیواتی ہے اور گرفتاری کا سلسلہ شروع کرتی ہے۔کبھی کبھی ان کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی ملتے ہیں ۔ یہ بھی شاید ایک پلاننگ کے تحت ہی ہوتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ان ایجنسیوں کے کچھ افسران کے چند ایجنٹ ہوتے ہیں جو اس روڈ میپ کے مطابق نوجوانوں کے پاس جاتے ہیں اور خود کو بہت بڑا مسلم پرست بتا کر اسلام کے نام پران کو بر گشتہ کرتے ہیں۔انہیں مشکوک قسم کا لٹرری مواد فراہم کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کا غلط مفہوم سمجھاکر ان کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔ چونکہ اس عمر میں امنگیں جوان ہوتی ہیں، برتری کے حصول کا احساس جلد پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے اور زندگی کے تلخ تجربات سے انہیں واسطہ بھی کم پڑا ہوتا ہے اس لیے بہت سے طلبہ اس میں گمراہ بھی ہوجاتے ہیں اور پھر مجوزہ چینل کی تشکیل میں یہی لوگ معاون بھی ثابت ہونے لگتے ہیں۔اب اگر یہ ایجنٹ Back میں جاکر کنٹرول کرنے لگے تو اس کے آگے کا کام گمرہی کے شکار کے یہی نوجوان کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح ایسے بہت سے طلبہ کا ،جو کئی صوبوں ، ضلعوں کے بھی ہوسکتے ہیں ایک علاقے کے بھی ہوسکتے ہیں، ایک نیٹ ورک تیار ہوجاتا ہے۔ یہ ایجنٹ ان سے فون پرگمراہ کن باتیں کرتے ہیں اور ان کی ریکارڈنگ رکھتے ہیں۔ یا ان سے دو بدوگفتگو کے درمیان اسٹنگ آپریشن کے لیے استعمال ہونے والے کیمروں جیسے چھوٹے کیمروں کے ذریعہ ویڈیو رکارڈنگ رکھی جاتی ہے۔ہوسکتا ہے یہی لوگ ان لڑکوں کو ہتھیار اور دوسری دھماکہ دار اشیا بھی فراہم کرتے ہوں۔ جب یہ نیٹ ورک پوری طرح تیار ہو جاتا ہے تو وہ شخص فرار ہو جاتا ہے اور وہ ساری رکارڈنگ ایجنسیوں کو پہنچا دی جاتی ہے۔ اس سے قبل کہ کوئی حادثہ پیش آئے یہ گرفتار کر لئے جاتے ہیں اور کبھی کبھی کوئی واقعہ بھی رونما ہوجاتا ہے۔
گرفتاری کے بعد پورا نیٹ ورک تو گرفتار ہوتا ہی ہے اس ایجنٹ کے نام پر ان کو سخت ذہنی اذیت دی جاتی ہے اور اس کی تلاشی کے نام پر نہ جانے کتنے معصوموں کو زد میں آنا پڑتا ہے۔ پھر فرار شدہ شخص کا پتہ چلانے والوں کے لیے لاکھوں میں انعام کااعلان کیا جاتا ہے۔ظاہر ہے جب آدمی ملنا ہی نہیں ہے تو مہنگے انعاموں کا اعلان کیا معنی؟ اگر ایسا ملزم گرفتار بھی ہوا تو انہی کے کسی فرد کے ذریعہ تاکہ انعام کے مستحق بھی یہی ہوں۔ یہ ملزم بھی جو ایجنٹ کا کام انجام دیتا ہے محض لالچ میں پھنس کر خفیہ ایجنسیوں کا کام کرتا ہے اور کوئی کامیابی نہ مل سکی تو ایک دن خود ہی ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ چونکہ مجوزہ افراد اس کی جو ٹیلیفون پر گفتگو ہوتی ہے وہ Tracing ذریعہ رکارڈ ہو کر ایجنسیوں کے افسران کے پاس پہنچتی رہتی ہیں ۔ اس طرح اگر کوئی دام میں نہ آیا تو یہ اپنی گفتگو رکارڈ کراکے ہمہ دم تو تیار ہی بیٹھے ہیں۔
یہ باتیں کوئی واضح نہیں ہیں اور نہ اب تک کھل کر سامنے آئی ہیں ۔ سوائے اس کے کہ مالیگاؤں اور مکہ مسجد بم دھماکوں جیسے معاملوں میں گرفتار مسلم نوجوانی کی بے گناہی عدالت میں ثابت ہو چکی ہے۔ اوراقبالیہ بیان کے ساتھ ایک دوسرے نیٹ ورک کا پتہ چلا ہے جو مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی سازش رچتا ہے اور ملک میں دہشت گردانہ واقعات کو انجام دیتا ہے اور پھر برق بے چارے مسلمانوں پر ہی گرتی ہے۔
 اگر یہ باتیں درست نہیں ہیں تو غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب جب ایسے معاملات سامنے آتے ہیں یہ ایجنسیاں دعوی کرتی ہیں کہ کوئی شخص جو پاکستانی تھا ان تمام لوگوں کو گمراہ کررہا تھا؟انہیں یہی شخص ہتھیار بھی فراہم کرتا تھا۔ یہ ایجنسیاں یہ بھی کہتی ہیں کہ یہ پورا نیٹ ورک چھ ماہ ، سال بھر یا دو سال سے چل رہا تھا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ پاکستانی ملک میں آیا کیسے؟ اور آیا توبروقت اس کی اطلاع ان ایجنسیوں کو کیوں نہیں ہوئی؟ ملک میں ہتھیار کس طرح در آمد ہوئے؟ اور جیسے ہی یہ ملک سے فرار ہوا اس کی اطلاع ان کوکیسے مل گئی ؟ آخر اتنی مدت میں جب وہ ملک میں رہ رہا تھا اس کی اطلاع انہیں کیوں نہیں ہوپائی؟ یا اگر اس طرح کا نیٹ ورک تیار کرنے والا ملک ہی کا تھا تو ابتدا ہی میں اس کی اطلاع انہیں کیوں نہیں ملی؟ کبھی کبھی یہ ایجنسیاں ان لوگوں سے ہونے والی گفتگو کی رکارڈنگ بھی بطور ثبوت پیش کرتی ہے۔ ایسی ایک دو رکارڈنگ نہیں ہوتی بلکہ دس بیس کی تعداد میں ہوتی ہیں ۔ آخر پہلے ہی رکارڈ پر کوئی کاروائی کیوں نہیں ہوتی ہے؟ کیا اس وقت یہ سورہے تھے؟ یا جان بوجھ کر نظر انداز کررہے تھے؟
ان سب حالات پر غور کرنے سے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی بات ضرور ہے اور ان کے دل میں کوئی چور ضرور چھپا ہے؟ اور یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس سے جہاں دنیا بھر میں مسلمانوں کی شبیہ بگڑے گی وہیں ان کی معاشی پسماندگی کا سبب بھی بنے گی اور یہ تاثر جائے گا کہ مسلمان تعلیم کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ وہ اعلی تعلیم کا استعمال تعمیر کے بجائے تخریب کے لیے کرتے ہیں۔ اس سے دوسری خرابی یہ آئے گی کہ اعلی تعلیمی ادارے اپنے یہاں مسلمان طلبہ کا داخلہ لینے سے انکار کریں گے ۔ اس طرح مسلمان ٹیکنیکل ایجوکیشن اور اعلی تعلیم وغیرہ سے محروم رہ جائیں گے۔ خود واقعات کی کثرت کی وجہ سے مسلمان والدین اپنے بچوں کو اعلی تعلیم یا ٹیکنیکل ایجوکیشن میں بھیجنے سے پرہیز کرنے لگیں گے۔
        یہاں یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ پہلے فسادات کے ذریعہ مسلمانوں کو معاشی پسماندگی سے دوچار کرنے کی جو سازش رچی گئی تھی اس سے انہیں کم از کم ہر مذہب کے سلجھے ہوئے لوگوں کی ہمدردی حاصل ہو جاتی تھی۔ لیکن اس سازش میں ہر کوئی ان سے نفرت کرتا ہے حتی کہ سیدھے سادے اپنے لوگ بھی اس کاروائی کو بالکل صحیح سمجھنے لگتے ہیں۔ نوبت تو یہ بھی آتی ہے کہ وکلا ان کا کیس لینے سے انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ استغاثہ کا حق ہر شہری کو حاصل ہے۔
٭٭٭
نوٹ: یہ مضمون قومی تنظیم، فاروقی تنظیم، اور سہ روزہ دعوت میں شائع ہوچکا ہے

No comments: