مشمولات

Saturday, 22 December 2012

Training of Journalism in Madaris


مدارس میں صحافت کی تربیت -ضرورت واہمیت

مدارس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم صحافت کاجائزہ لیتے ہیں تو مایوسی کا سامنا نہیں ہوتا ہے۔ اہل مدارس نے ابتدا ہی سے اس فن کو اپنے مشن اور مقصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ چونکہ مدارس کا بنیادی مقصد ہی دین اسلام کی حفاظت ، بقا اور اس کا فروغ رہا ہے۔ اس لیے دینی تعلیمات کی اشاعت کے لیے اہل مدارس نے جہاں درس وتدریس سے کام لیا وہیں اپنی بساط بھر کتابچے اور رسالے بھی لکھے اور شائع کیے۔ ظاہر ہے کہ جب فن طباعت کو فروغ حاصل نہیں ہوا تھا اور عام لوگوں کی رسائی وہاں تک بہ آسانی نہیں تھی تو مدارس بھی اس پریشانی کے شکار تھے۔ ایسے وقت میں دین کے فروغ کے لیے اہل مدارس نے خطابت کی صلاحیت پیدا کی ۔ لوگوں کو انفرادی طور پر دین کی تعلیم دی تو عوام کے بڑے طبقے کو خطاب کرنے کے لیے جلسوں کا انعقاد کر کے تبلیغ کا کام جاری رکھا۔ آج بھی اہل مدارس کے لیے پیغام رسانی کا بڑا ذریعہ یہی ہے۔ یہ بات بھی کسی سے مخفی نہیں ہے کہ مدارس میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ابتدا ہی سے خوشخطی کی تعلیم کا نظم بھی رہا ہے ۔ یہ ایک ایسا فن تھا جس میں اہل مدارس کے احساس جمال کا اظہار بھی ہوتا تھا اور یہ ان کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی تھا۔ مدارس میں اس فن کے عام ہونے کی وجہ سے اہل مدارس کو یہ سہولت تھی کہ ان کے پاس اچھے خاصے کاتبین موجود تھے جن کی مدد سے کتابچوں اور رسالوں کے قلمی نسخے بہ آسانی نکالے جاسکتے تھے۔ اہل مدارس نے اس سہولت کا فائدہ اٹھایا اور لوگوں کی اصلاح کے لیے کتابچے اور رسالے شائع کرتے رہے۔ ان رسالوں میں دین کی تعلیمات تو ہوتی ہی تھیں ساتھ ہی زمانے کی کروٹوں ، بطور خاص مسلمانوں کے تناظر میں شہری ، ملکی حالات وکوائف کا بیان بھی رہا کرتا تھا۔
        موجودہ وقت میں ہم مدارس پر نظر ڈالیں تو ہر بڑے مدرسے سے کوئی نہ کوئی مجلہ نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ اردوکو نظر میں رکھیں تو شاید اردو میں نکلنے والے جملہ مجلات میں مدارس سے نکلنے والے رسائل کی تعداد زیادہ ہوگی۔ ان میں ایک طرف دین کے مسائل وموضوعات کا احاطہ ہوتا ہے تو ساتھ ہی موجودہ ملکی اور بین الاقوامی مسائل وموضوعات کے عوامل ومحرکات اور عواقب ونتائج کی تشریح وتعبیر بھی ہوتی ہے۔
        مدارس سے شائع ہونے والے رسائل میں زیادہ تر مضمون نگار کا تعلق مدارس ہی سے ہوتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی مدارس سے باہر کے اسکالر اور دینی حمیت رکھنے والے دانشوران کے مضامین بھی اچھی خاصی تعداد میں شائع ہوتے ہیں بلکہ بعض مجلات تو ایسے ہیں جن میں اکثر مضمون نگار مدارس سے باہر ہی کے ہوتے ہیں۔ بعض اہل مدارس کے مضامین پر نظر ڈالنے پران میں تربیت کی کمی کھٹکتی ہے۔ صحافت کے جو امکانات ہیں اور اس سے جو کام لیے جارہے ہیں یا لیے جاسکتے ہیں اس سے بھر پور واقفیت کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ دوسری طرف مدارس میں ملک وقوم کے لیے بہترین افکار ونظریات رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں ۔ لیکن عدم تربیت یا تربیت کی کمی کی وجہ وہ اپنے خیالات کا اظہار بہترین ڈھنگ سے نہیں کرپاتے ہیں۔ اسی طرح مدارس سے نکلنے والے بعض رسائل میں صحافت کے جو عناصر ہیں ان کی پابندی نہیں پائی جاتی ہے۔ مثلا فیڈ بیک وغیرہ کی کمی ہوتی ہے اور اسی طرح جدید تکنیک کا استعمال نہیں ہوتا ہے اور یہ رسائل ماضی سے جس نہج پر کام کرتے چلے آرہے ہیں اسی پر گامزن ہیں ۔ جبکہ اب صحافت کی تکنیک میں بہت سی جدت آگئی ہے لیکن یہاں اس کا استعمال دکھائی نہیں دیتا ہے۔
        ہر چند کہ یہ دور ٹکنالوجی کا ہے ۔ ہر ملک اپنی اپنی دفاعی قوتوں کو ہر ممکن مضبوط بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے باوجود آج کی جنگ فکر کی جنگ ہے۔ اور اس کا ذریعہ صرف اور صرف میڈیا ہے۔ خواہ وہ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا ۔ چنانچہ آج کی میڈیا پر مضبوط اور سرمایہ دار طاقتوں کا تسلط ہے۔ ان کا وطیرہ یہ ہے کہ جھوٹ کو اتنی مرتبہ دہراؤکہ سچ ہوجائے۔ چنانچہ یہ طاقتیں اس طرح غالب آچکی ہیں کہ میڈیا خواہ کسی قوم یا کسی ملک کو ہو، چھوٹی اور عام خبروں کے بین السطور بھی ان کی فکریں کام کرتی رہتی ہےں۔ آج اس کے ذریعہ سپر پاور ملکوں نے ہر شخص کے ذہن ودل میں وہ بات ڈال دی ہے کہ وہ وہی سوچے جو یہ مضبوط قومیں چاہتی ہیں۔
        اس فکری یلغار میں سب سے زیادہ کسی قوم پر نشانہ ہے تو وہ مسلم قوم ہی ہے۔ بلکہ بیشتر قومیں متحد ہوکر مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنائے ہوئی ہیں۔ ایسے وقت میں اہل مدارس کے لیے صحافت کی تعلیم وتربیت کا حصول نہایت اہم اور ضروری ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ مدارس پر دین کی حفاظت اور اسلام پر پڑنے والے الزامات و اعتراضات اور فکری یلغار کے دفاع کی ذمہ داری خاص طور پر عائد ہوتی ہے۔ اس لیے اہل مدارس کو اس جانب توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔ دوسری خاص بات یہ ہے کہ مدارس نے پیغام رسانی کا بڑا ذریعہ صرف اردو زبان کو بنارکھا ہے۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگر قوموں تک اپنے پیغام پہچانے کے لیے دوسری زبانوں کو بھی ذریعہ بنایا جائے۔ کیونکہ اسلام سے متعلق جو شبہات پیدا کئے جارہے ہیں اس کے لیے دوسری زبانوں ہی کا استعمال ہورہا ہے۔
        اس وقت قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ورکنگ جرنلسٹ کی تربیت کا منصوبہ بنارہی ہے۔ اس منصوبہ میں مدارس کو شامل کیا جائے تو جہاں اردو کے فروغ کے روشن پہلو سامنے آئیں گے وہیں مدارس کے لیے بھی ایک اہم کام ہوگا اور اس طرح مدارس کے طلبہ بھی جدید معلومات کے قریب ہوں گے۔ جس طرح قومی اردو کونسل عربی کے ڈپلوما اور سرٹیفیکیٹ سطح کے کورس چلارہی ہے،یہ کورس مدارس کے طلبہ کو ذہن میں رکھ کر تیار کئے گئے ہیں ۔ ان کے بہت سے سنٹر دینی مدارس میں ہیں اور اور مدارس کے طلبہ بڑی تعداد میں مستفید ہورہے ہیں ، اسی طرح اس کورس کو بھی متعارف کیا جاسکتا ہے۔ اس سے مدارس سے نکلنے والے طلبہ کے معاش کا مسئلہ بھی حل ہوگا اور ظاہر ہے کہ اس حوالہ سے ان کا میدان اردو ہوگا تو اردو کے لیے نیک فال ہوگا۔ مدارس کے طلبہ کے لیے قومی اردو کونسل کی جانب سے اس طرح کا انتظام کرنے کی ایک تجویز کونسل کی جانب سے ملت کالج دربھنگہ میں منعقد سیمینار ” فروغ اردو -نئی حکمت عملی“ میں شکیل احمد سلفی ایڈیٹر الہدی دربھنگہ نے رکھی تھی۔
        اس کے علاوہ ملک کی بہت سی یونیورسیٹیوں میں فاصلاتی طرز پر صحافت کے کورس موجود ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس طرح کا ایک کورس مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں بھی ہے جس کا میڈیم اردو ہے اور جس میں داخلہ کی اہلیت بھی امیدوار کے لیے صرف بارہویں درجہ پاس ہونا ہے۔ ایک کورس یونیورسیٹی آف حیدرآباد میںبھی پی جی ڈپلوما سطح کا موجود ہے۔ اس میں ترجمہ کی تکنیک بھی شامل ہے۔
        البتہ ایک بات جو خاص طور پر نظر میں رکھنے کی ہے ، یہ ہے کہ ان کورسوں سے مدارس میں صحافتی تربیت کا جو مقصد ہے وہ پورا نہیں ہوسکتا ہے۔ یعنی ان کورسوں کے کرنے کے بعد مدارس کے طلبہ میں جو فکر ونظر مطلوب ہے ، وہ پورا نہیں ہوسکتا ہے۔ اور شاید ان کورسوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس مقصد کو پورا کرسکیں۔ الا یہ کہ مدارس کی سطح سے ایسا کورس تشکیل دیا جائے۔ اگر مدارس والے چاہیں تو یہ ناممکن بھی نہیں ہے۔ لیکن موجودہ کورسوں کو اختیار کرتے ہوئے اہل مدارس کو ایسی کتابیں کرانی ہوںگی جو طلبہ پر اسلام کا صحافتی نقطہ نظر واضح کرسکیں۔ یہ کتابیں اس کے ساتھ لازمی طور پر شامل ہوں۔ اس کے لیے مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی سے شائع سید عبدالسلام زینی کی کتاب”اسلامی صحافت“ سے بھی کام لیا جاسکتا ہے۔
        اس طرح کی بات کرتے ہوئے مدارس والوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس سے مدارس کا مقصد فوت ہوجائے گا اور اس کی روح نکل جائے گی۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر مدارس ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اس سے مدارس کا مقصد بالکل فوت نہیں ہوگا بلکہ اس کے مشن اور مقصد کو پر لگ جائیں گے۔
ززز
یہ مضمون اردو دنیا دہلی کے نومبر 2010 کے شمارے میں شائع ہوا۔ 

No comments: