مشمولات

Saturday, 22 December 2012

Islamic Education System in respect of Islamic Life System


اسلامی نظام حیات اور اسلامی نظام تعلیم
چند معروضات

        اسلام ایک مکمل، ہمہ گیر، عالمگیر اور ابدی نظام حیات ہے۔ یعنی دیگر مذاہب کی طرح محض اسطور نہیں ہے کہ چند ما بعد الطیعات ہستیوں پر مبہم یقین رکھتے ہوئے چند رسوم عبادت انجام دے دئے جائیں بلکہ اس کی تعلیمات انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو ان تمام تصورات و اعمال کے ساتھ شامل ہیں جو ابتدا سے پیدا ہوتے رہے ہیں اور انسانی تاریخ کی انتہا تک پیدا ہوتے رہیں گے۔ زندگی کا کوئی واقعہ خواہ وہ زندگی کے کسی شعبہ سے متعلق ہو مثبت یا منفی انداز میں اسلامی دائرہ تصور سے باہر نہیں ہے۔
        انسانی زندگی ازل سے مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ ترقی کے ساتھ انسانی زندگی کے سامنے نت نئے مسائل و تصورات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اب انسانی زندگی بے حد متنوع ہونے کے باعث اعمال و تصورات کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف شعبوں میں منقسم ہو چکی ہے۔ ہر شعبہ کے اپنے جداگانہ تصورات ہیں ۔ ان تصورات کے اپنے مسائل اور حل ہیں۔ نسل انسانی کے مختلف گروہ اپنے عقائد و تصورات، تہذیب و ثقافت،جغرافیائی حالات و ماحول ،عصری تقاضوں اور طلب کے اعتبار کے ہر شعبہ میں اپنا منفرد تصور رکھتے ہیں اور اس کے مطابق اس شعبہ کے مسائل سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ زندگی کے یہ شعبے مختلف انسانی طبقات وگر وہ کے لیے مختلف حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض شعبے بعض کے لیے ناگزیر ہیں تو بعض کے لیے متبادل کی حیثیت رکھتے ہیں اور بعض سب کے لیے یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔ شاید باید کسی شعبہ کو چھوڑ کر یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ یہ شعبہ زندگی کے لیے عبث اور بے کار ہے۔ ان کی عدم موجودگی میں کسی بھی طبقہ کی زندگی پر کوئی خاص اثر مرتب نہیں ہوگا۔ بعض شعبے ایسے ہیں جو موجودہ استعمال کی صورت میں اسلام کی نظر میں عبث اور بے کار ٹھہرتے ہیں لیکن ان کی تکنیک اور طریقہ کو بھی استعمال کرکے اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کا کام لیا جاسکتا ہے۔
        چونکہ اسلام ایک نظام حیات ہے اس لیے وہ کسی بھی شعبہ حیات سے بے تعلق نہیں رہ سکتا ہے۔ اسلام کی تکمیل تقریباً 633 ء میں ہو گئی۔ اس وقت انسانی زندگی محدود اور بڑی حد تک سادہ تھی۔ زندگی کے جو محدود شعبے موجود تھے ان کے مسائل بھی محدود تھے۔ خود انسانی آبادی بہت محدود تھی۔ لیکن اس وقت بھی جو محدود شعبے اور محدود مسائل تھے، وہ اپنے وقت میں پیچیدہ ، نئے اور ترقی یافتہ تھے، اسلام نے نہ صرف ان کا ایک واضح، قطعی اور تشفی بخش حل پیش کیا بلکہ انہیں عمل میں لاکر ان کی جامعیت بھی واضح کردی۔ لیکن وہ تعلیمات جو اس وقت کے مخصوص مسائل کے حل میں کامیاب ہوئیں ان میں ایسے اصول بھی موجود تھے جو آج کے اور آنے والے دنوں کے لا محدود مسائل کو حل کرسکیں۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے ترقی کی تواسلامی تعلیمات نے ان تمام مسائل کو حل کیا جو زمانے کے ساتھ وجود پذیر ہوئے۔ حالانکہ مسلمانوں کی ترقی کے ساتھ انسانی زندگی کی رفتار نہایت تیز ہو گئی۔ نئی بستیاں آباد ہوئیں، نئی نئی دریافتیں اور نئی نئی ایجادیں ہوئیں۔ نئی ضرورتوں نے نئے نئے مسائل کو جنم دیا۔ ان تمام مسائل کے حل کے لیے اسلامی تعلیمات سے اصول اخذ کئے جاتے رہے ۔تمام پیش آمدہ مسائل پران اصولوں کا اطلاق کر کے کار آمد حل نکالے گئے۔یہ عمل مسلمانوں کی ترقی تک جاری رہا۔ اس طرح جب تک مسلمان ترقی پر رہے ہر دور کو ان کے تمام مسائل کا حل اسلام نے بحسن و خوبی پیش کیا۔ نئے مسائل پر اسلامی اصولوں کے انطباق سے جہاں مزید ترقی کی راہیں استوار ہوئیں وہیں ایک صالح معاشرہ اور صالح ریاست کی تشکیل ہوئی اور امن و شانتی کو فروغ واستحکام حاصل ہوا۔ اسلامی اصولوں کا انطباق انسانیت کے لیے خیر و برکت اور سکون و راحت کا ذریعہ بنا۔
        ان ادوار میں تعلیمی اداروں میں علم علم مطلق سمجھاجاتا تھا۔ علم کی تقسیم مذہبی اور عصری خانے میں نہیں ہوئی تھی۔بلکہ زندگی اپنی تمام تر وسعتوں کے ساتھ مذہب کے سانچے ہی میں ڈھلتی تھی، اس لیے مذہبی اور عصری خانہ کی تقسیم ہی بے معنی تھی۔ بعد کے ادوار میں جب ترقی و ایجادات اور نئی دریافتوں کے ساتھ علم کی شاخیں بڑھتی چلی گئیں تو اسپشلائزیشن کی بنیاد پڑ گئی۔ساتھ ہی مسلم سلاطین نئے علاقے فتح کرتے چلے گئے جن میں مختلف قومیں اپنے مذہب پر عمل پیرا رہیں ، ان کے ذہین اور تیز افراد کا حکومت میں عہدے حاصل کرنے کے علاوہ اسلامی تعلیم میں ان کی دلچسپی پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی اسلام لائے بغیر اس کا جواز پیدا ہوتا ہے، نیز مروجہ علوم روز بروز کی تحقیق سے اتنی وسعت اختیار کرتے چلے گئے کہ بیک وقت کسی طالب علم کے لیے ان سب کا احاطہ کر لینا ممکن بھی نہیں تھا ۔ اس وقت بھی جن مسلمانوں کی وابستگی صرف مذہبی علوم سے رہی وہ نئے علوم سے ایسے بیگانہ نہیں رہے کہ عصری مسائل و موضوعات ان کی سمجھ سے بالا تر ہوں یا مخصوص شعبہ سے وابستگی کی وجہ سے انہوں نے دوسرے موضوعات کو ایسا غیر ضروری سمجھا کہ اس کے مبادیات کی طرف التفات ہی نہ کریں۔جب مسلمانوں کی ترقی رک گئی تو دوسری قومیں اپنی علمی ترقی ، جستجو، نئی تحقیقات اورعسکری صلاحیتوں کی بنیاد پرمسلمانوں پر غالب آتی چلی گئیں اور مسلمان ہر طرف سے پسپا ہونے لگے ۔ انہوں نے نئی تحقیق سے رشتہ توڑ لیا تو ان کی علمی ترقی بھی رک گئی اور وہ ہر طرح سے مغلوب ہوتے چلے گئے۔ اس مغلوبیت کے بعد انہوں نے تصوف کو اپنا لیا۔ اس کی وجہ سے زندگی کی جد و جہد سے بیزاری بھی آنے لگی۔ رفتہ رفتہ نئے مسائل سے احتراز کے باعث اسلامی تعلیمات عقائد و عبادات کی معلومات تک محدود ہونے لگیں۔ جو اصول اس وقت کے مسائل کے لیے مستخرج ہوئے تھے انہی اصولوں پر نئے مسائل محصور ہوتے چلے گئے۔نئے نئے مسائل کے لیے نئے اصول فرع نہیں ہوئے۔ اس طرح اسلامی تعلیمات کا رشتہ نئے موضوعات سے کٹتا چلا گیا۔ پھرایسے تعلیمی ادارے جو مذہبی تعلیم کے لیے قائم کئے گئے ان میں جو کتابیں شامل کی گئیں وہ انہی گزشتہ اصولوں اور مسائل پر مشتمل تھیں۔دوسری طرف مسلمانوں میں ایسا تصور بھی چلا آیا کہ اب اجتہاد کی راہیں مسدود ہیں۔ علمائے سلف کے بعد کسی زیادتی کا امکان نہیں ہے اور نہ ہی آنے والی نسلوں کے علما میں یہ علمی لیاقت ہے کہ وہ اجتہاد کو راہ دیں۔ ان سب کا بہت برا اثر اسلامی نظام تعلیم پر بھی پڑا۔اسلامی نظام تعلیم محدود ہو کر رہ گیا۔ اس کے نصاب میں وہ تنوع نہیں آسکا جو عہد بہ عہد خود زندگی کے اندر پیدا ہوتا رہا۔
        اس وقت ہندوستان میں اسلامی تعلیمات کی تدریس کے لیے مدارس کا جو نظام رائج ہے اس کے نصاب میں بنیادی طور پر قرآن و حدیث، تفسیر، فقہ اور عربی ادب شامل ہیں۔ قرآن و حدیث ہی شریعت کی اساس اور بنیادی ماخذات ہیں جن میں وہ تمام اصول اور حل مضمر ہیں جو اب تک پیدا ہوئے ہیں یا ہوتے رہیں گے۔
        نصاب میں سب سے اہم موضوع فقہ ہے ۔کیوں کہ تمام تر مسائل کے حل کی تلاش ،قرآن اورر احادیث و آثار سے نئے اصولوں کا استنباط واستخراج کا عمل اسی میں انجام پاتا ہے اور اسی کے ذریعہ نئے مسائل پر اسلامی اصولوں کا انطباق ہوتا ہے۔ ہندوستان کے پس منظر میں مدارس اسلامیہ کے نصاب میں شامل فقہوں کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں جو کتابیں شامل ہیں ان کی تدوین تقریباساتویں اور آٹھویں صدی ہجری کے درمیان ہوئی ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ کتابیں بڑی حد تک جامع ہیں۔ ان میں ایسے اصول موجود ہیں جن کو نئے مسائل کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان پانچ چھ صدیوں کے دوران دنیا میں عظیم تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں نوعیت کے اعتبار سے بھی ہیں اور کمیت و کیفیت کے اعتبار سے بھی۔ ظاہر ہے کہ ان کتابوں میں جو مسائل اور اصول ہیں وہ ان مسائل کے لیے جن کی نوعیت میں فرق نہیں ، کار آ مد ہوں گے۔ لیکن جو مسائل نوعیت کے اعتبار سے جدا گانہ ہیں ان کو گزشتہ اصولوں سے کیسے دیکھا جاسکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اس وقت نصاب میں جو فقہیں رائج ہیں ان کے ابواب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زندگی کی وسعتوں کا احاطہ نہیں کرتے ہیں۔
        یہاں چند ایسے مسائل کا ذکر کیا جاتا ہے جو اگر مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کے سامنے رکھ دئے جائیں تو بیشتر طلبہ ان کے سمجھنے سے بھی عاری نظر آئیں گے ۔ ان کا حل تو کجا؟ مثلاً:
        اقتصادیات کے نوع بہ نوع مسائل :اسلام کی نظر میں معاشیات کا بنیادی نظریہ، معاشیات کے بنیادی مسائل، دولت کی تقسیم، دولت کا بنیادی نظریہ، ملازمین کے مسائل، بینکنگ کے مسائل، وغیرہ
       سیاست کے مسائل:اسلام کی نظر میں ریاست کی تشکیل کے عناصر، ریاست کے حکمراں کا انتخاب اس کے فرائض، ریاست کے عوام کے مسائل اور ریاست کی ذمہ داریاں، ریاست کا بنیادی نظریہ، غیر اسلامی ریاست میں مسلمانوں کے مسائل ، جمہوری ممالک میں مسلمانوں کے مسائل، زکوة اور Tax کے مسائل ،حکمراں کے فرائض و اختیارات، کیا مسلمان حکمراں (یا اسلامی ریاست کی قانون ساز کمیٹی )کو احکام میں جزوی ترمیم کا اختیار حاصل ہے یا نہیں؟ اور وہ ترمیم کب تک اور کہاں تک قابل عمل ہوگی؟
        سماجی اور عائلی نظام کے مسائل:سماج کی بنیاد، سماج کی تشکیل، سماج میں یگانگت اور امن و شانتی کا قیام، سماجی فلاح و بہبود،تہذیب و ثقافت کے مختلف مسائل اور خواتین کی ملازمت کا مسئلہ ۔
        سائنس کی ترقی سے طب کے میدان میں عظیم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ سے ڈھیر سارے ایسے مسائل ہیں جن سے ایک زندہ شریعت بیگانہ نہیں رہ سکتی ہے۔ مثلاً:عضویاتی تبدیلی کا مسئلہ ،DNA Testسے پیدا ہونے والے مسائلUltrasonographyکے ذریعہ پیدا ہونے والے مسائل، Colon کا مسئلہ ، ٹسٹ ٹیوب بے بی کا مسئلہ اور بہت سے مسائل جو طب سے غیر معمولی شغف کے بعد معلوم ہوسکتے ہیں۔
        یہ چند مسائل مشتے از نمونہ خروارے کے طور پر ہیں ۔ ورنہ ایسے لا تعداد جدید مسائل ہیں جو اسلامی درسیات میں شامل نہیں ہیں۔
        دوسری بات یہ ہے کہ دنیا میں جو تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں تو اصطلاحوں میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔ ان کتابوں میں جو اصطلاحیں استعمال کی گئیں ہیں موجودہ اصطلاحات سے ان میں مطابقت موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ بہت سے مسائل کو سمجھ کر بھی زندگی کے متعلقہ شعبوں پر ان کا انطباق نہیں کرسکتے۔
        اس نظام تعلیم کا ایک المیاتی پہلو یہ ہے کہ نصاب میں عقائد و عبادات کے علاوہ مخصوص ابواب مثلا سماجی مسائل کے لیے کتاب النکاح اور معاشی مسائل کے لیے کتاب البیوع جیسے چند ابواب ہی شامل کیے گئے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ خود تدریس میں ان ابواب پر وہ Stress نہیں ہوتا ہے جو عقائد وعبادات کے باب میں ہے۔ اس باعث طلبہ کی توجہ ان قدیم و جدید اہم موضوعات کی طرف نہیں ہو پاتی ہے جن کا تعلق سماجی و معاشی مسائل ہے اورنہ ہی طلبہ اس زاویہ سے سوچ پاتے ہیں۔ تدریس کا طریقہ یہ ہے کہ بجائے فن کی تعلیم اور طلبہ میں فن کی مہارت اور دسترس پیدا کرنے کے محض عبارت فہمی پر زور ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ طلبہ ان مسائل کے علاوہ ،جن کا تعلق مدرَّسہ عبارت سے نہیں ہے ،سمجھنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔ چہ جائیکہ وہ ان کے حل پر قادر ہوں۔ خود کتابوں کا نقص یہ ہے کہ ان کی عبارتیں انتہائی گنجلک اور پیچیدہ ہیں ۔کیوںکہ اس زمانے میں زبان دانی میں مہارت دکھانے کے لیے ایسی عبارتیں لکھی جاتی تھیں جن میں وضاحت اور قطعیت کی بجائے ابہام اور معنوی تہ داری ہو۔ یہ زمانہ منطق اور علم کلام کا تھا، اس لیے ان کتابوں میں انہی علوم کی اصطلاحات بھی استعمال کی گئیں ہیں اور اب زیادہ تر مدارس نے ان علوم کو نصاب سے خارج کردیا ہے۔ اب ان علوم سے لاعلمی کا نتیجہ مطلوبہ علوم پر پڑتا ہے اور طلبہ عبارت کو بخوبی سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ جب کہ جدید نظام تعلیم میں ایسی کتابیں پسند کی جاتی ہیں اور تدریس کے لیے بہتر سمجھی جاتی ہیں جن میں وضاحت اور قطعیت ہو اور طلبہ کے لیے سریع الفہم ہوں۔
        اسلامی تعلیمات کا بنیادی ماخذ علم قرآن اور علم حدیث ہے۔ مدارس میں قران کی تعلیم دینے کا جو طریقہ رائج ہے اس سے بھی قرآن فہمی کی صلاحیت پیدا نہیں ہوسکتی ہے۔ نصاب میں ایک یا دو پارے ترجمہ کے لیے شامل ہیں اور چند منتخب سورتوں کی تفسیر پڑھائی جاتی ہے۔ اس میں ایسی کوشش نہیں ہوتی ہے کہ طلبہ ترجمہ اور تفسیر پر قادر ہوسکیں اور قرآنی علوم کی تحقیق کرسکیں۔ اصول تفسیر بھی نصاب میں برائے نام ہی شامل ہے ۔ اس کی تدریس اس طور پر نہیں ہوتی کہ طلبہ میں علم قرآن کا فہم پیدا ہو۔ ادھر حدیثوں پر توجہ ضرور دی گئی ہے۔ حدیث کی امہات کتابوں کی تشکیل بجا طور پر اس طرح کی گئی ہے کہ وہ زندگی کے اکثر شعبوں کا احاطہ کریں۔ لیکن ایک تو یہ کہ نصاب میں حدیث کی اتنی کتابیں شامل کی گئیں ہیں کہ موجودہ تعلیمی مراحل میں ان کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مدارس میں حدیث کی دوسرے درجوں کی کتابیں کسی طرح ترجمہ کرادی جاتی ہیں اور اول درجے کی کتابوں کا محض دور ہ ہوتا ہے ۔ پھر جہاں ان کتابوں کا ترجمہ کرایا بھی جاتا وہاں کا طریقہ تدریس ایسا نہیں ہے کہ طلبہ جزئیات سے واقف ہوسکیں۔ اگر جزئیات پر نظر رکھیں گے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ ان کا مکمل احاطہ کیا جاسکے۔ زیادہ ترمدارس میں حدیث کی کتابیں محض برکت کے لیے پڑھائی جاتی ہیں۔
        ان طویل معروضات کا مقصد یہ ہے کہ اگراسلام صرف عقائد وعبادات اور اخلاقیات کا نام نہیں بلکہ ایک نظام حیات ہے اور بجا طور پر ہے ، اس میں شک الحاد اور انکار کفر ہے ، تو ہندوستان میں اس نظام حیات کی تعلیم کے لیے جو درس گاہیں ہیں ،یعنی مدارس اسلامیہ ان کے نصاب سے ہر گز یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ اسلام ایک نظام حیات ہے۔
        لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کا سد باب ممکن ہے ؟
        موجودہ وقت میں ہندوستان میں جو نظام تعلیم رائج ہے اس میں ان حل ڈھونڈنا اور اس نصاب کو بالکل Uptodateکرلینا تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ چلا جاسکے بہت مشکل نظرآتا ہے۔ کیوں کہ اس کے لیے مرکزیت اور اپنا نظام تعلیم چاہیے جو مسلمانوں کے نصب العین سے ہم آہنگ ہو ۔ مدارس کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ بہت سے علوم جو ابتدائی سطح پر ایک مسلمان طالب علم کو پڑھ لینا چاہیے وہ بھی مدارس میں ثانوی سطح تک پڑھانا پڑتا ہے۔ جہاں تک مرکزیت کا تعلق ہے تو یہ ہندوستانی مسلمانوں کا بڑا المیہ ہے کہ اب تک تعلیم کے سلسلہ میں بھی دیگر امور کی طرح ان میں مرکزیت قائم نہیں ہوسکی ہے۔ اس کی کئی وجہیں ہیں ۔ ایک بڑی وجہ مسلکی اختلاف ہے اور اس اختلاف کی وجہ سے ان کا تعلیمی نصب العین اور طریقہ کار بھی الگ ہوگیا ہے۔ پھر بھی اس کا امکان تھا۔ مگر مسلکی بنیاد پر بھی یہ مرکزیت قائم نہیں کرسکے ۔ ہر درس گاہ اپنے طور پر اپنا نصاب تیار کرتی ہے ۔ اس کا اپنا مستقل نظام ہوتا ہے۔ تعلیمی مرحلہ، تعلیمی سال اور طریقہ تدریس میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ عام طور پر انہیں ماہرین تعلیم کی سرپرستی بھی حاصل نہیں ہوتی ہے۔ تعلیم کے سلسلہ میں وہ کوئی نظریہ قائم نہیں کرپاتے ہیں۔ حتی کہ ان کے سامنے اسلام کا تعلیمی نصب العین بھی بالکل واضح نہیں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سے نکلنے والے طلبہ کی علمی لیاقت بس واجبی سی ہوتی ہے۔وہ عوام کی عادات واطوار کی اصلاح کے لیے اخلاقیات کی سطحی تعلیم، عقائد وعبادات کے لیے موٹے موٹے احکام کی معلومات اور اگر انہیں کسی مدرسہ میں پڑھانا پڑے تو شامل نصاب کتابوں کی عبارت فہمی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
        ابھی کچھ دنوں قبل حکومت کی جانب سے مرکزی مدرسہ بورڈ کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ چونکہ اس کے پیچھے جو مقصد کار فرما تھا اس سے ہندوستان میں مدارس کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے ۔ حکومت ان مدارس سے بھی کلرک، چپراسی اور حکومت چلانے کے لیے کارندے چاہتے تھے۔ اس لیے پورے ہندوستان کے علما نے بیک زبان اس تجویز کو مسترد کردیا۔ یہ استرداد بالکل بجا۔ لیکن تعلیم میں مرکزیت کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
         مسلمان حکومت سے اس تجویز کے بالمقابل اپنی یہ تجویز رکھ سکتے تھے کہ ان کو ایسے خود مختار مرکزی ادارے کے قیام کی اجازت ہو ،جیسا کہ آئین میں اقلیات کو یہ حق حاصل بھی ہے، جس کے تحت ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلی علوم تک کے مختلف شعبے قائم کیے جاسکیں اور متعلقہ کونسلوں سے ان کی منظور ی میں حکومت پورا تعاون کرے۔ ان کا نصاب تعلیم مسلمان خود تشکیل دیں جو ان کونسلوں سے ہم آہنگ بھی ہو اور تعلیم کی تمام سطح پر دینیات کا پرچہ بحیثیت لازمی پرچہ شامل ہو۔ ان میں عقائد وعبادات، اخلاقیات، زندگی گزارنے کے لیے اسلامی احکامات ، عائلی اور خانگی زندگی کے مسائل، سماجی اور سیاسی مسائل کے سلسلے کی مرحلہ وار تعلیم دی جائے۔ ان میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کی جائے اور نہ ہی ان اداروں میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت ہو۔
        ابتدائی درجہ سے ہی نصاب اس طرح تشکیل دیا جائے کہ طلبہ مڈل سطح یا سکنڈری سطح کے بعد جس میدان کا انتخاب کرنا چاہیں ادھر جاسکیں۔ مثلا مدارس کا انتخاب کریں تو مدارس میں جانے کے بعد مدرسہ کی تعلیم کے لیے انہیں پھر سے تیار نہ کرنا پڑے جیسا کہ ابھی ہوتا ہے۔
        ان مدارس میں نصاب کی تشکیل اس طرح کی جائے کہ عہد بہ عہد پیدا ہونے والے نئے مسائل وموضوعات کا اسلامی منہج طلبہ کے سامنے واضح ہوسکے۔ عام طور پر طلبہ پیش آمدہ مسائل کو قرآن وحدیث کی روشنی میں حل کرسکیں۔ نصاب میں اسلامی تاریخ وفلسفہ ، تحریکات وتعبیرات کو بھی اس طرح شامل کیا جائے کہ طلبہ کو مسلمانوں کے عروج وزوال کے اسباب کا ادراک ہوسکے ، طلبہ میں تفکر وتدبر کی صلاحیت پیدا ہو اوران سے قوم اور قوموں کی امامت کا کام لیا جاسکے۔
        موجودہ نظام میں جدید عصری علوم کے مسائل کو طلبہ کے سامنے لانے کے لیے ایسے ورک شاپ منعقد کئے جاسکتے ہیں۔ جن میں عصر ی علوم کے کسی ایک موضوع پر اس علم کے عصری اور اسلامی نظریات کے ماہر ین کے ذریعہ توسیعی خطبات کا انتظام کیا جائے ۔ منتخبہ موضوع پر اس علم کے غیر اسلامی افکارو نظریات،اس علم کے بنیادی نظریات ومسائل کو بیان کرکے اسلام کا سچا اور صحیح نظریہ پیش کیا جائے۔اس کے بعد طلبہ کے سامنے اس علم کے جدید مسائل رکھے جائیں اور اس سلسلہ میں اسلامی تعلیمات اور اس کا صحیح حل طلبہ پیش کریں اور اس ورک کی Monitoring اس کے ماہرین کے ذریعہ کی جائے۔ مختلف مدارس الگ الگ موضوعات پرایسے ورک شاپ منعقد کرسکتے ہیں۔ ان کی بہترین ویڈیو رکارڈنگ کرلی جائے ۔ باہمی رابطہ کے ذریعہ بلا اختلاف مسالک مدارس کے درمیان ایسے ورک شاپوں کی تشہیر کی جائے تاکہ کسی ایک موضوع پر ہونے والا ورک شاپ دوسرا مدرسہ منعقد نہ کرے اور انہی ویڈیو سی ڈی سے کام چلائے ۔ اس طرح وقت اور پیسے کی بچت بھی ہوگی اور زیادہ سے زیادہ موضوعات کا احاطہ بھی ہوسکے گا۔
        اگر مسلمان مدارس کے نصاب کو داخلی طور پر Uptodate کرلیتے ہیں تو مدارس پر فرسودگی کے جو الزامات عائد کئے جاتے ہیں وہ خود فرو ہو جائیں گے، مدارس کے طلبہ میں گہری علمی صلاحیت، تحقیقی ملکہ، وسعت ذہنی، کشادہ قلبی، اور فکر و نظر پیدا ہو جائیں گے ۔ یہ طلبہ مختلف عصری علوم و موضوعات کے سلسلہ میں اسلام کا صحیح اور مسائل سے نجات دینے والا نظریہ پیش کرسکیں۔ اس طرح دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح نمائندگی ہوگی اور مدارس کے فارغ ہونے والے یہ طلبہ اپنے لیے، قوم اور ملت کے لیے اور ملک کے لیے کار آمد ہو جائیں گے۔
یہ مضمون مجلہ الہدی دربھنگہ، کے علاوہ نیپال میں شائع ہوچکا ہے

No comments: