(۴)
اولاد کے حقوق
اولاد اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت
ہے۔ انسان اس دنیا میں چاہتا ہے کہ اس کی نسل باقی رہے ، بڑھے اور پھلے پھولے۔ اسلام
نسلوں کو بڑھانے اور اسے فروغ دینے کا حکم دیتا ہے۔ اسلامی تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ
ایسی عورت سے شادی کی جائے جو زیادہ بچہ دینے والی اور محبت کرنے والی ہو۔ اسلام نے
بچوں کی پیدائش کا ایک ضابطہ پیش کیا ہے اور ان سے رابطہ اور تعلق کی برقراری کے لیے
حقوق متعین کیے ہیں۔ اسلام کے نزدیک بچوں کی پیدائش کا ذریعہ شادی ہے۔ شادی کے بغیر
بچوں کی پیدائش کی نہ اجازت دیتا ہے اور نہ اس عمل کو جائز قرار دیتا ہے جو بچوں کی
پیدائش کا ذریعہ ہے۔
اسلام نے بچوں کے درج ذیل حقوق متعین کئے ہیں:
(۱) پیدائش کا حق: اسلامی تعلیمات اولاد کے قتل سے منع کرتی
ہے۔ خواہ یہ قتل قبل پیدائش ہو یا بعد۔ اس سلسلے میں دو تعلیمات ہیں۔ پہلی یہ کہ اپنی
اولاد کو افلاس کی وجہ سے قتل نہ کرو کیونکہ اللہ تمہیں بھی رزق دیتا ہے اور انہیں
بھی۔ دوسرے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جس جان کا دنیا میں آنا لکھ
دیا گیا ہے وہ آکے رہے گی۔اب جس کو نہیں پیدا ہونا ہے یا باقی نہیں رہنا ہے وہ کسی
بھی صور ت میں باقی نہیں رہے گا اور جس کو پیدا ہونا وہ پیدا ہوکے رہے گا ۔ اس میں
کوئی طاقت حارج نہیں ہوسکتی ہے تب اسقاط وغیرہ کراکے اپنے نام قتل کا جرم ثابت کرانا
کیسی عقل مندی ہے؟
(۲) رضاعت وحضانت: پیدائش کے بعد والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی
ہے کہ اس کی ہر طرح سے نگہداشت کی جائے۔ اس کی رضاعت کی جائے۔ ایام طفولیت کی ہر وہ
ذمہ داری بچہ جسے ادا کرنے سے عاجز ہے والدین اس کو ادا کریں۔ آج آزادہ روی کی ذہنیت
اتنی بار پاچکی ہے کہ اب بچوں کی پرورش وپرداخت کی پریشانی کوئی مول لینا نہیں چاہتا
ہے تو دوسری طرف مادی حرص نے مردوعورت دونوں کو دولت کمانے پر آمادہ کردیا ہے ۔ اس
کا نتیجہ ہے کہ بچوں کی پیدائش سے اجتناب کیا جاتا ہے اور اگر شوق پورا کرنے کی غرض
سے ایک دو بچے پیدا کر بھی لیں تو ان کی پرورش وپرداخت کو بوجھ سمجھاجاتا ہے۔ ملازمت
اور فیشن کی وجہ سے ان کی پرورش External Feederکے ذریعہ کی جاتی ہے
اور جیسے ہی وہ ذرا بڑے ہوئے کہ انہیں Kinder Garten
اور Pre Primaryاسکولوں کے حوالہ کردیا
جاتا ہے جہاں نہ انہیں ماں کی ممتا ملتی ہے نہ پدرانہ شفقت ۔ ممتا اور شفقت سے محروم
یہی بچے جب بڑے ہوں گے تو انہیں ماں وباپ کی قدروقیمت کا اندازہ بھی کیوں کر ہوگا؟
(۳) تربیت اور تعلیم:اسلام اولاد کی تربیت
کے لیے ان تمام وسائل کے اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے جو اولاد کی اچھی تربیت کے لیے
لازمی ہیں۔ مثلا بہترین ماں کا انتخاب اور اولاد کی صالحیت کے لیے دعائیں۔ بچہ جیسے
جیسے بڑا ہو والدین کو اس کی تربیت کرنی چاہئے ۔ بچوں کو ایسی عادتیں سکھائی جائیں
جن سے وہ ایک اچھے مسلمان ،سماج اور ریاست کے اچھے شہری اوراعلی اخلاق و کردار کے حامل
انسان بن سکیں ۔ والدین کوچاہیے کہ انہیں بساط بھر تعلیم دلائیں تاکہ ان کی فطری صلاحتیں
ابھر سکیں اور ترقی وارتقا کی وہ روایات جو انہیں ان کی پچھلی نسلوں سے ملتی آرہی ہیں
، انہیں ترقی وارتقا کی اگلی منزل پر پہنچا کر وہ اپنی آنے والی نسلوں کو دے سکیں۔
ایک والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کو دین کی پوری پوری تعلیم دلائیں ۔کم از کم بنیادی تعلیم سے لازمی طور پر
آشنا کرائیں تاکہ دین سے ان کا رشتہ قائم اور مضبوط رہے۔انہیں
اوامر ونواہی، فرائض و واجبات سے آگاہی ہو اورحلال وحرام کی تمیز ہوسکے۔
حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کے سلسلہ میں موجودہ
مسلمان لا نظریت کے شکار ہیں۔حتی کہ تعلیم یافتہ طبقوں میں بھی تعلیم کا غیر واضح اور
مبہم تصور پایا جاتا ہے۔ موجودہ مسلم سماج میں مختلف طرح کے تعلیمی رجحانات پائے جاتے
ہیں۔ ایک طبقہ میں تعلیم کا حصول دیوانگی کی حد تک پہنچا ہوا ہے تو وہیں دین وایمان
سے بیزاری اور اخلاقی اقدار سے بے پروائی بھی موجود ہے۔ ان کے ہاں تعلیم کا مقصد صرف
اور صرف دولت کا حصول ہے۔ خواہ اس کے لیے جو بھی اقدامات کرنے پڑیں۔ تو دوسرا طبقہ
اسی دولت کے حصول کے لیے تعلیم میں وقت صرف نہیں کرنا چاہتاہے ۔ ایسے لوگ تعلیم سے
سرد مہری اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بعض طبقوں کو اب بھی معاشی تنگی کی وجہ سے تعلیم کے
حصول کی آسانی دستیاب نہیں ہے۔ بعض لوگ دینی تعلیم کو فرسودہ ، غیر مفید اور عبث سمجھتے
ہیں تو اس کے بالمقابل ایک طبقہ دینی تعلیم کے علاوہ دیگر تعلیم کو تعلیم کے خانہ میں
شمار ہی نہیں کرتا ہے۔ بعض لوگ بس ایک رو میں اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرا رہے ہیں۔
نہ انہیں یہ پتا ہے کہ کیا کیا پڑھانا ہے۔ کس بچے کے لیے کون سی تعلیم موزوں ہے۔ بچے
کی اچھی تعلیم کے لیے کس طرح کے تعلیمی ادارے بہتر ہیں ۔ باضابطہ تعلیم کی شروعات کس
عمر سے ہونی چاہیے وغیرہ۔
لڑکیوں کی تعلیم کے تئیں بھی موجودہ مسلم سماج
میں عجیب متضاد رویہ پایا جاتا ہے۔ بعض لوگ اب بھی لڑکیوں کی تعلیم کے قائل نہیں ہیں
تو بعض لوگوں کے لیے مخلوط تعلیمی نظام لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مسئلہ پیدا کر رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مخلوط تعلیمی نظام دینی حمیت رکھنے والے مسلمانوں کے لیے ایک سنگین
مسئلہ ہے۔ اس جانب اگر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا تومسائل اور بھی زیادہ پر پیچ ہوتے
جائیں گے۔ لیکن یہ مسئلہ صرف لڑکیوں ہی کا نہیں لڑکوں کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے۔ بعض
لوگ اپنے لڑکوں کے لیے تو مدارس کی تعلیم کو غیر مفید سمجھتے ہیں یا انہیں اس میں وہ
Charmingنظر نہیں
آتی ہے جو عصری تعلیم میں ہے لیکن لڑکیوں کے لیے مدارس کے علاوہ تعلیم کی ضرورت کا
چنداں احساس نہیں کرتے ۔ان میں سے بعض لوگ شاید مخلوط تعلیم میں اپنے لڑکوں کی پاکدامنی
پر بزعم خود پورا یقین رکھتے ہیں یا انہیں لڑکوں کی پاکدامنی اس طرح عزیز نہیں جس طرح
لڑکیوں کی پاکدامنی۔حالانکہ لڑکوں کی عصمت بھی اسلام کی نظر میں اتنی ہی محترم ہے جتنی
کسی لڑکی کی عزت محترم ہے۔ زنا کی حرکت سرزد ہونے پر دونوں کے لیے ایک ہی سزا مقرر
کی گئی ہے۔تاہم اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ جرم زنا عورت اور اس کے خاندان
کے لیے مرد کے مقابلہ میں زیادہ باعث ننگ وعار ہے۔ اسی لیے حد زنا کی آیت میں الزانیہ
کا ذکر الزانی سے پہلے آیا ہے۔ ایک طبقہ کو تعلیمی بیداری نے تعلیم کی اہمیت سے آشنا
کیا تو ساتھ ہی اس میں منفی ذہنیت بھی پیدا کردی ہے۔ اب نہ اسے اپنی اولاد کے دین و ایمان
کے جانے کا احساس ہے نہ ہی عزت و عصمت
کی پامالی کا خوف۔ دیوثی کا یہ حال ہے کہ اسکول کے کلچرل پروگراموں میں ڈرامہ کے اسٹیج
پر اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے ذریعہ پیش کردہ حیا سوز کرداروں کا نظارہ کرتے ہیں اور
اپنی جدیدیت اور ترقی پر جی بھر کے خوش ہوتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے تعلیمی
نظام کی تشکیل خود کریںجس میں بنیادی سطح پر عصری ومذہبی تعلیم کا افتراق نہ ہو۔ ذہنی
ہم آہنگی اور ذاتی دلچسپی کے اعتبار سے ثانوی سطح سے طلبہ وطالبات کے مخصوص میدان کا
انتخاب کیا جائے۔ اسی میں ایک طبقہ ایسا بھی ہوگا جس کا رجحان دینی تعلیم کی طرف ہوگا۔
وہ اس میں مہارت پیدا کرے گا ۔ اسی طرح عصری تعلیم کے مختلف میدانوں میں بھی افراد
پیدا ہوں گے۔
عمر کی اس سطح سے جہاں سے جنسی شعور بیدار
ہونے لگتا ہے لڑکے اور لڑکیوں کے لیے علاحدہ تعلیمی نظام ہو۔ لڑکیوں کے لیے عصری تعلیم
کے ایسے گوشے جن میں ان کی فطرت سے متصادم عمل نہ ہو تعلیم کے حصول کا پورا پورا موقع
موجود ہو۔
(۵) روزگار کے لائق بنانا: اسلام معاشی استحکام کی نہ صرف حمایت کرتا ہے بلکہ
ان راستوں بھی بند کرتا ہے جو مفلسی اور معاشی تنگی کا باعث ہیں۔پھر یہ کہ حقوق کے
مسائل بھی اس بات کے متقاضی ہیں کہ انسان بساط بھر معاشی استحکام حاصل کرے۔ بیشتر حقوق
معاشی تنگی کی وجہ سے پامالی کی زد میں آجاتے ہیں۔ تعلیم کا حصول بڑی حد تک معاشی استحکام
پر منحصرہے۔انتہائی مفلسی کی حالت میں تربیت پر توجہ مرکوز رہنا سخت مشکل ہے۔ سیاسی
استحکام کا خیال بھی تعلیمی ترقی اور معاشی استحکام کے بغیر نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسلام
والدین پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ اپنی اولاد کو اس لائق بنائیں کہ وہ معاشی تگ
ودو میں کامیابی کے ساتھ حصہ لے سکیں۔ اپنی جائیداد کا کم از کم دو تہائی حصہ چھوڑ
رکھیں تاکہ اولاد کو معاشی استحکام حاصل ہو۔ موجودہ دور میں ایسی تعلیم دلائی جائے
جو بہتر روزگار کی ضامن ہے۔ اگر تجارت کرنا چاہتے ہوں تو انہیں ایسی سہولتیں فراہم
کی جائے جن سے وہ کامیاب ہوسکیں۔
یہ امر مسلمہ ہے کہ اسلام نے عورت کے معاشی
استحکام کی ذمہ دار مردوں پر رکھی ہے۔ لیکن جہاں انسان کی دین وعصمت کو خطرہ نہ ہو
تو ہر شخص کو یہ آزادی ہے کہ وہ معاشی استحکام کے وسائل کو اختیار کرے۔ موجودہ وقت
میں زندگی کے شعبوں میں جس طرح وسعت پیدا ہوئی ہے کئی گوشے خواتین کے لیے مختص ہو گئے
ہیں۔ ان میں بلا اختلاط مرد وزن ان کے لیے روزگار کے مواقع موجود ہیں۔ یہ شعبے نہ صرف
یہ کہ عورت کے لیے مناسب روز گار فراہم کرتے ہیں بلکہ ان میں اس میدان کی تربیت یافتہ
خواتین درکار ہیں۔ بعض ایسے سیکٹرہیں جن میں اس میدان کی تربیت یافتہ عورت کی کمی کی
وجہ سے مردوں سے کام لیے جاتے ہیں۔خاص طور پر تعلیم نسواں کے لیے تعلیم یافتہ اور تربیت
یافتہ خواتین اور امراض نسواں کے ماہر کی حیثیت سے خواتین ڈاکٹروں کی ضرورت سے تو انکار
کیا ہی نہیں جاسکتا ہے۔ اسی طرح کے بہت سے میدان ہیں جو صرف اس میدان میں مہارت رکھنے
والی خواتین ہی کے متقاضی ہیں۔
بعض
اوقات عورتیں معاشی تنگی کی شکار ہو جاتی ہیں۔ اس صورت میں انہیں خود ہی معاشی تگ ودو
میں حصہ لینا پڑتا ہے ۔چنانچہ جہاں لڑکوں کو روزگار ضامن تعلیم دی جائے وہیں لڑکیوں
کو بھی ایسی روزگار ضامن تعلیم دلائی جائے جو ان کی نسوانی فطرت سے متصادم بھی نہ ہواور
ایسی صورت حال پیش آنے پر ان کے لیے بہتر روزگار کا حصول ممکن ہوسکے۔ یہ نہ صرف ان
کی ذاتی ضرورت کے لیے لازمی ہے بلکہ بعض صورتوں میں اس کی حیثیت مذہبی بھی ہوجاتی ہے۔
(۶) مساوات :اسلام اولاد کے درمیان تفریق اور امتیازی
سلوک سے منع کرتا ہے۔ والدین کا یہ فرض ہے کہ بچوں کے درمیان مساوات قائم رکھیں۔ تعلیم
وتربیت ، کھانے پینے ، لباس وپوشاک گویا زندگی کی ہر ضرورت میں ان کے درمیان شریعت
کے حکم کے مطابق عدل ومساوات کے ساتھ برتاؤ کریں۔ اسلام جنس کی بنیاد پر کسی تفریق
کا قائل نہیں ہے ۔ جس طرح لڑکوں کے حقوق ہیں اسی طرح لڑکیوں کے بھی حقوق ہیں۔ ان کی
پیدائش ، رضاعت وحضانت، تربیت اور تعلیم ، روزگار اور معاشی استحکام ، شادی اور مالی
حقوق کی ادائیگی میں اسلام اسی جذبہ سے کام لینے کا حکم دیتا ہے جس کا اظہار کسی لڑکے
کے ساتھ کیا جاتا ہے۔چنانچہ ان کے نفقات، تعلیم وتربیت اور دیگر حقوق کی ادائیگی اسی
طرح ہوگی جس طرح ایک لڑکے کی ہوگی۔ والدین کی وفات کے بعد لڑکیاں بھی ان کی جائیداد
میں شریعت کے متعین کردہ حصہ کی حقدار ہوں گی۔
بیٹوں کی بیویوں اور بیٹیوں کے شوہروں کے درمیان
بھی مساوی سلوک ہونا چاہیے۔ بعض گھروں میں اسی امتیازکی وجہ سے رنجش پیدا ہوتی ہے اور
اکثر گھر کا ماحول کشیدہ رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ والدین کو جب عمر درازی
کی وجہ سے گھر کی ذمہ داریوں سے دست بردار ہونا پڑتا ہے تو انہیں بہوؤں کی ہمدردی حاصل
نہیں ہوتی ہے بلکہ ناروا سلوک سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے اور ان کی بے مہری کی شکایت
بھی بے سود ہوتی ہے۔
(۷) شادی:اسلام اولاد کو یہ اختیار دیتا ہے کہ شادی
ان کی پسند کے مطابق کی جائے۔ وہ اپنا گھر بسائیں اور اس کو فروغ دیں۔ اسلام اولاد
کی شادی کی نہ صرف ترغیب دیتا ہے بلکہ ولیوں کو حکم دیتا ہے کہ ان کی شادی کرادی جائے۔
یعنی جب وہ شادی کی خواہش کریں تو ان کی شادی کردی جائے۔ یا وہ شادی کے لائق ہوجائیں
تو ولیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان کی شادی کردیں۔ لیکن یہ مطلق اختیار نہیں ہے بلکہ
شادی کے سلسلہ میں اسلامی ضابطے کا پابند ہے۔ اسلام بے ہنگم زندگی کا قائل نہیں ہے۔
چنانچہ ہر وہ ذریعہ جو انتشار وبدامنی کا باعث ہے اس کا دروازہ بند رکھنا چاہتا ہے۔اسلام
مفاسد کے سد باب کو مصالح کے حصول پر ترجیح دیتا ہے۔ اس کا اصول ہے درءالمفاسد اولی من جلب المصالح۔
اسلام کے بارے میں یہ سمجھاجاتا ہے کہ وہ عورت
کو شادی میں پسندیدگی کا حق نہیں دیتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں جس طرح مردوں
کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کے مطابق شادی کریں اسی طرح عورتوں کو بھی یہ
حق حاصل ہے کہ ان کی شادی ان کی پسند کے مطابق کی جائے۔ البتہ باکرہ لڑکی کے لیے ولی
کی اجازت شرط ہے۔ ولی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ جس لڑکے سے چاہیں اس کی شادی کرادیں
بلکہ لڑکی سے اجازت لینا لازمی ہے۔ اگر اس کی اجازت کے بغیر شادی کی جاتی ہے اور لڑکی
اس کو پسند نہیں کرتی ہے تو یہ شادی فسخ کی جاسکتی ہے۔ اگر لڑکی کسی جگہ شادی کرنا
چاہتی ہے اور ولی کو اس کے دین وایمان سے یا معاشی صورت حال سے اطمینان نہیں ہے تو
ولی کو اختیار ہے کہ وہ اس سے روک دے۔ البتہ کسی خاص جگہ پر شادی کرنے کے لیے کسی بالغ
لڑکی کو مجبور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
البتہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا
ہے کہ بعض مسلم گھرانوں میں اس کی پاسداری نہیں ہوپاتی ہے اور بچے والدین کی خواہش
کے مطابق شادی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ان سے ایسے وقت میں اجازت لی جاتی ہے جب وہ
انکار کرنے سے عاجز ہوں۔ حالاں کہ والدین کی اس پسندیدگی کی وجہ دین و ایمان بھی نہیں
ہوتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک عورت ایک وقت
میں ایک ہی شخص کی بیوی رہ سکتی ہے۔ ایک شخص کی بیوی رہتے ہوئے اس سے کسی کو یا کسی
سے اس کو بالجبر یا بالرضا یا بالمبادلہ کسی صورت میں جنسی تمتع کا حق حاصل نہیں ہے۔
ایک وقت میں ایک مرد چار عورتوں تک سے شادی تو کرسکتا ہے لیکن بلا شادی جنسی تمتع کا
حق اسے بھی حاصل نہیں ہوگا۔اسی طرح اسلام میں جز وقتی یعنی Contract یا Bound Marriage
کا تصور کیا نہیں جاسکتا ہے۔ نہ ہی کسی مرد یا عورت کو یہ حق ہے کہ وہ
جب جب چاہیں ازدواجی رشتے میں منسلک ہوجائیں اور جب جب چاہیں اس سے الگ ہوجائیں۔ اسلام
اس جبر کا قائل بھی نہیں کہ ایک مرتبہ شادی کے بندھن میں بندھ جانے کے بعد ذہنی ہم
آہنگی یا نباہ کی صورت باقی نہیں رہنے کے باوجود دونوں اس رشتے سے الگ نہیں ہوسکتے۔
اس ذہنی اذیت سے گلوخلاصی کے لیے اسلام میں طلاق کا راستہ بھی موجود ہے۔ ایک مرتبہ
طلاق مغلظہ ہوجانے کے بعد اس عورت سے اس وقت تک شادی نہیں کی جاسکتی جب تک کہ کسی دوسرے
مردسے اس کی شادی نہ ہوجائے اور اتفاق سے وہاں بھی کسی وجہ سے طلاق ہوگئی ہو یا اس
کا شوہر انتقال کرجائے۔
شادی کا ضابطہ:
(الف) دونوں کا مخالف جنس کا ہونا:یعنی اسلام
ایک مرد کی شادی کسی عورت سے اور کسی عورت کی شادی ایک مرد ہی سے جائز قرار دیتا ہے۔
یہاں شادی کا مقصد محض جنسی تسکین ہی نہیں بلکہ افزائش نسل اور بقائے نسل بھی ہے۔ اللہ
تعالی فرماتا ہے:ٰٓیاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ
الَّذِی خَلَقَکُم مِّن نَّفسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنھَا زَو±جَھَا (اے لوگو
! ڈرو اپنے رب سے جس نے تمہیں اکیلی جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑ پیدا کیا)
اسی کے ساتھ یہ وضاحت بھی کرتا ہے : وَبَثَّ مِنھُمَا رِجَالًا کَثِیرًا وَّنِسَآء (اور ان دونوں سے پھیلادیا بہت سے مرد اور عورتوں کو)یعنی شادی ایسے
جوڑے میں ہو جو بچوں کی پیدائش کا ذریعہ ہے ، یعنی ایک مرد اور ایک عورت۔
(ب) دونوں کا مسلمان ہونا:اسلام اس کی اجازت
نہیں دیتا کہ کوئی شخص جس کو چاہے پسند کرلے اور اس سے شادی رچالے بلکہ شادی کے لیے
ضروری ہے کہ دونوں مسلمان ہوں۔قرآن اس کی وضاحت کرتا ہے:” وَلَاتَنکِحُواال مُشرِکٰتِ
حَتّٰی یُومِنَّ وَلَاَمَة’‘ مُّومِنَة’‘ خَیر’‘ مِّن مُّشرِکَةٍ وَّلَو
اَعجَبَتکُم وَ لَا تُنکِحُوا المُشرِکِینَ حَتّٰی یُومِنُوا وَ لَعَبد’‘
مُّومِن’‘ خَیر’‘ مِّن مُّشرِکٍ وَّلَو اَعجَبَ“ خواہ وہ پہلے سے مسلمان
ہوں یا محض شادی کے لیے اسلام قبول کیا ہو۔ اسلام اہل کتاب کی عورتوں سے شادی کی اجازت
دیتا ہے لیکن موجودہ صورت حال میں اس سے بھی اجتناب کیا جانا چاہیے۔
(ج) محرمات یا ان رشتوں سے ان کا تعلق نہ ہو جن سے شادی اسلام نے
حرام قرار دی ہے: اسلام
حرمت نسب کا خاص خیال رکھتا ہے۔ چند رشتوں کی وضاحت کرتا ہے جن کی حرمت کو پامال نہیں
کیا جاسکتا ہے۔ کسی شخص کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ان رشتوں میں سے کسی کو شادی کے
لیے پسند کرے۔ یا ایک وقت میں دو سگی بہنوں کو نکاح میں رکھے(ان کی وضاحت سورہ نساءکی
آیت ۲۲ اور ۳۲میں کی
گئی ہے)
(د) نکاح:اسلامی نظام میں شادی کا ذریعہ نکاح ہے۔
یعنی زوجین کا ایجاب وقبول ۔ نکاح کا بھی ایک مکمل ضابطہ ہے۔ ضروری ہے کہ نکاح کا اعلان
کیا جائے۔ اسلام چوری چھپے شادی کی اجازت نہیں دیتا ہے اس لیے دونوں جس سماج میں رہتے
ہوں اس میں شادی کا اعلان ہونا چاہیے۔ دو عادل گواہ مقرر کیے جائیں۔ مہر مقرر کی جائے۔
ولی کی اجازت ہونی چاہئے البتہ ولی کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی بچی کی شادی
اس کی پسند کے خلاف کریں ۔
موجودہ وقت میں بچوں کی شادی کے سلسلہ میں
ایک عجیب رویہ پا یا جاتا ہے۔ معاشی استحکام اور تعلیم کے نام پر شادی میں خاصی تاخیر
کی جاتی ہے۔ بلاشبہ اسلام بھی شادی کے لیے معاشی استحکام کا مخالف نہیں ہے اور اگر
کوئی شخص بیوی کا نفقہ اور لازمی ضروریات پورا کرنے کا اہل نہیں ہے تو اس پر کوئی زبردستی
نہیں ہے۔ لیکن جہاں ان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں وہاں بھی شادی میں تاخیر
کی جاتی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالی کہتا ہے کہ تم اپنے بے جوڑ لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی
کرادو۔ اگر وہ نادار ہیں تو اللہ تعالی اپنے فضل سے انہیں غنی کردے گا۔
شادی کے سلسلہ میں ایک بات اور لائق توجہ ہے کہ ہندوستان میں جو مشترکہ خاندانی نظام ہے اور اسلام میں جس طرح کے مشترکہ خاندانی نظام کا تصور ملتا ہے اس میں ایک فرق یہ ہے کہ اسلام شادی کےبعد بچوں رہائش کی ایسی آزاد اکائی دینا چاہتا ہے جس میں زوجین کو جائز طریقے سے مسرت تمام ممکنہ مواقع مل سکیں۔ یہ آزاد اکائی خواہ اس کے والدین کی جانب سے پیش کی جائیں یا اولاد خود حاصل کریں۔
شادی کے سلسلہ میں ایک بات اور لائق توجہ ہے کہ ہندوستان میں جو مشترکہ خاندانی نظام ہے اور اسلام میں جس طرح کے مشترکہ خاندانی نظام کا تصور ملتا ہے اس میں ایک فرق یہ ہے کہ اسلام شادی کےبعد بچوں رہائش کی ایسی آزاد اکائی دینا چاہتا ہے جس میں زوجین کو جائز طریقے سے مسرت تمام ممکنہ مواقع مل سکیں۔ یہ آزاد اکائی خواہ اس کے والدین کی جانب سے پیش کی جائیں یا اولاد خود حاصل کریں۔
(۸) مالی حقوق:اسلام اولاد کو بھی
کئی جہتوں سے مالی حق عطا کرتا ہے۔ والدین پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ اس کی لازمی
ضروریات پوری کی جائیں، اس
کی تعلیم وتربیت کا انتظام کیا جائے اور اسے معاشی استحکام کا ماحول فراہم کرایا جائے
ساتھ ہی والدین میں سے ہر ایک کی جائیداد اور ملکیت سے دوسرے حصہ داروں کی ادائیگی
کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان کل مال تقسیم کردیا جائے۔ البتہ لڑکے لڑکیوں کے
حصوں سے دوگنا پائیں گے۔
(۹) بہو اور داماد کے ساتھ حسن سلوک: والدین
کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لڑکے کی بیوی اور لڑکی کے شوہر کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش
آئیں۔ ان کی عزت کریں۔ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں ہونا چاہئے جس سے احترام انسانیت
پامال ہوتا ہو۔بعض گھروں میں بیٹے اور داماد ، بیٹی اور بہو کے درمیان ایسا امتیاز
برتا جاتا ہے جس سے بیٹے اور بہو میں احساس کم تری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
(۱۰) بچوں کی اولاد کے ساتھ سلوک:اپنے بچوں سے محبت
کی علامت ہے کہ ان کے بچوں کے ساتھ پیار و محبت اور شفقت کا برتاؤ رکھا جائے۔ خاص طور
پر جب کسی لڑکے یا لڑکی کا انتقال ہو جائے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں تو جہاں ان
کی خبر گیری اور تربیت و تعلیم کا انتظام کیا جائے وہیں اگر وہ اپنے بچوں کے لیے کچھ
مال چھوڑ کر نہ گیا ہو اور والدین صاحب مال ہو ں تو ایسی صورت میں ان بچوں کو قدرے
معاشی استحکام پہنچانا چاہیے۔ اسلام میں نہ صرف اس کی اجازت ہے بلکہ عین مطلوب و مقصود
بھی ہے۔ اگر چاہیں تو ایک تہائی مال سے ان کے لیے وصیت کی جاسکتی ہے۔ عام طور پر
اس فوت شدہ بیٹے کے بچوں کو محجوب سمجھ کر
بے یار مدد گار چھوڑ دیا جاتا ہے با وجودیکہ والدین صاحب ثروت ہوتے ہیں اور اس کی
دیگر اولاد پر بھی اس کے دینے کا اثر مرتب نہیں ہوتا ہے۔
برصغیر کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں جو
معاشرت رائج ہے اس میں عام طور پر بچے اپنی کمائی اپنے والدین کو دیتے ہیں اس سے جو
دولت اور جائیداد جمع ہوتی ہے اس پر والدین یا والد کا تصرف ہوتا ہے۔ بسا اوقات کوئی
شخص، جس کی کمائی سے مشترکہ دولت جمع ہوتی ہے، انتقال کر جاتا ہے اور اس مال پر جو
اس کی کمائی سے جمع ہوا ہے، والدین کا تصرف ہونے کی وجہ سے اس کی اولاد محجوب سمجھی
جاتی ہے۔ ایسے مسائل پر اہل علم کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایسی
صورت میں بیٹے کی اولاد بقدر اولی مستحق ہے کہ اس مشترکہ مال میں اس کا بھی مناسب حصہ
مقرر کیا جائے۔
اسی طرح بیٹے اور بیٹیوں کی اولاد میں بھی
کسی طرح کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں برابر کی شفقت و محبت اور ہمدردی کے حق دار
ہیں۔
٭٭٭
یہ
مضمون دارا لعلوم احمد یہ سلفیہ دربھنگہ بہار میں منعقد دو روزہ قومی سیمینار
اسلام اور حقوق کے لئے لکھا گیا اور سیمینار میں پیش کیا گیا
مضمون
کا یہ چوتھا حصہ ہے
No comments:
Post a Comment